Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 7, 2026

Jan 7,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

About this episode

Jan 7,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Transcript ready

562 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 7,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 7,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

तुप्रे फिल्संण यप्र भी दिन्ब प्रेदाफ टिल निव्रधाणा तुप्रेफिन मैं तुप्रेडि दिल भादादा में उप्रादा भ्रेड्षा हूधा नच्रे भादे हैं. आप ढे प्रेळ्प्रेगा थाभे भोई टिलेभे हैं. ایسی گھری لائے ایسا بھا ہوگنے کچھ نہیں چاہئی, کچھ بھی نہیں چاہئے جو بھی ہو جائے, یہ سریر ماتا پیدا کا دیا ہوئے ہیں, من واسناو کا ہے انتا کرν, ابھی سنتا کرν کو چھوٹ لگے اپمان ہو سریر کا کچھ کچھ کتھ جائے بیٹھ جائے میرا کیا جاتا ہے, میرا کو کچھ نہیں چاہئے, کچھ نہیں چاہئے, جیتنا گہرہی سے آپ کا نوبوں گا, اتھا سامر تھے, اتھا سک چھلکنے لگے گا, اپنے سوارک نہیں ہوتا گاؤں کا یا پروس کے کلان کے لئے بات کرتے ہیں تو آپ کے چتھ کی دھرطن ایک پرکار کیوں, اور آپ کو اسمیں مان چاہئے, پڑ چاہئے, یا کوئی اہیک لاب چاہئے تو آپ کے چتھ کی داشہ بہت نہیں چی ہوتے ہیں,

آپ گرگرانے لگتے ہیں, اور جس سمیں آدمی کے چتھ میں چھا پیدا ہوتے اس سمیں آدمی لگ ہو جاتا ہے, چھوٹا ہو جاتا ہے, اور جس سن چھاہئے اس سن اپنے کو اُنچا میں سوس کرتا ہے, گاہنی کے چاہ سدا کے لی نورت ہو گئے اس لیے گاہنی ساہ اِزتوالے سے اُنچ اِزت گاہنی کی ہوتی ہے, ہر سنسار میں اُنچاہی سے بھی اُنچا گاہنی ہوتا ہے, تو یہاں اشتا وقرمنی کرتے ہیں, کرتا سمادی ہے نہیں جس میں نہیں بکشے پہ ہے, اس تطوہ میں اس شد سوروک میں بکشے پ نہیں تو سمادی کیا کرے ہوئے, سمادی کر رہا ہے, بوجن کر رہا ہے, میں بوجن کرتا ہوں, ایسی بھانتے گاہنی کنی ہوتی ہے, میں سمادی کر رہا ہوں, ایسی بھرمنا گاہنی کنی ہوتی ہے, دھا تو کوئی نے دیا نوشے تو تین ہوں پر آ رب دتے ہوں,

تو محراجم سیوب جنگی سکھ لینگی چھا کو چھڑھے, محراجی چھا چھڑھتی نہیں, ایچھا چھڑھنے کا ایک ایپاہ ہے, سیوب جنگی سکھ لینگی چھا چھڑھے, سکھ لینگی جا بیچھا ہوں, تو وہی سکھ دوسروں کو دو, بڑھیا میں تھایا گئی, تو کہ یہ آروں کو کئی سے ملے, سندر وستر آ گئے, کہ دوسروں کو کئی سے ملے, کوئی نے آپ کا مان کر دیا, آدر کر دیا, کہ یہ آدر دوسروں کو کئی سے ملے, آپ ان کو دھنگر دو, جو سیوب جنگی جو بائیسکھ آتے ہیں, وہ اپنے گھرسے شروع کروں, بیٹھے کو پتنی, کو پریوار کو, پھر پڑوس کو پھر گاوں کو جتنے آپ کی یوںگی دبر جائے, سکھ لینگی چھا چھڑھے, سکھ دینہ شروع کروں, کہ باب جی تو پچھے آپ کا جیوان ماشوریوں, سکھ جہے ہوئے, بدا نہپی جی تو اپری پائے تو دوکھا جیوان, ایسا نہیں,

یہ گلتی ہم لوگ کوئی, آپ کو اگر جو سکھ ملتا ہوں, دوسروں کو دوگے تو آپ کے پاس دوکھ نہیں بچے گا, سکھ دینے والا سکھا داہتا ہوتا ہے, آپ کھیت میں جو فیکھوں تو جو چاوال فیکھوں تو چاوال اور بادری فیکھوں تو بادری لوگ کیا, یہ کلجب نہیں کر جو گئے, ایک ہاتھ لے اور ایک ہاتھ دے, سبھے کر اور سامھ کو لے, جائے جہے, یہ میہاں کلجب نہیں کر جو گئے, رامتیر پسوناتے یہ بھا جن, یہ کھو بھی سوناتے یہ بھا جن, یہ کھو بھی سوناتے یہ بھا جن, یہ کھو بھی سوناتے یہ بھا جن haven یہ آہت دے اور آہت دے, یہ برا سوچھو پھر دیکھ قدیل میں کیا ہوتا ہے

اور دوسروں کے لئے بلائی سوچھو دوسروں کو دے ناک کچھ بھی چاہتے تھو دوسروں کو اسھار دیکھنا شریع کر دو لوگ آپ کو اسھار دیکھنے کے لئے باب دے ہو جاے ہیں دوسروں کو بھی او کو بھی او کو بھی او کو بھی او کو بھی او کو ماہنے لگ جاے ہیں اگر بھی سواپنی دکھر کے دیکھلو. اگر, پھڑی بھی سمجھ ہے تو کسی کی مرتی سے آپ اپنی اس دہی کی مرتی کو یاد کر لی جی. کسی کے دنگشہ سے آپ کا بھی کبھی دنگشہ ہو سکتا ہے. کسی کا جوانکشن ہو گئی تو آپ کی بھی جوانکشن ہو سکتی ہے. ہوگی ہی. کسی کا بیٹا جاتا ہے کسی کا باب جاتا ہے تو آپ کا بھی کوئی کبھی نکبھی جانے والای ہے. جو کبھی نجائے وہ اس رام سے اگر تمہری ملاکات ہو جائے تو بیڈا پار ہو جائے گا. جو کبھی تمہرہ ساتھ نہ چھوڑے اس انتریامی رام کے ساتھ تمہرہ پریم ہو جائے. ری جارور نہیں کی پریم سادو کر سکتا ہے.

تیاغ سادو ہی کر سکتا ہے یہ جارور نہیں ہے. تیاغ تو گرستی ویش میں بھی کر سکتا ہے سادنا تو گرستی بھی کر سکتا ہے. چندے نہ گریبوں کے ہاظ کی بات نہیں ہے. پرمات ما کو اُنچے اُنچے پادوں سے شلوکوں سے سنٹوشت کرنا یہ انپڑ یکتیوں کے ہاظ کی بات نہیں ہے. پرمات ما کو ددیگ میسری مقحن کا بھوق் لگانہ یہ شائد سب کی ہاظ کی بات نہیں ہے

لیکن پرمات ما کو اپنے پریم کو اپنے پریم پرمات ما کو اُس نے ہکی نگھاوں سے نہارنا یہ سب کے ہاظ کی بات ہے وہ کر سکتے ہو آپ کے وش کی بات ہے پرمات ما کو اُس نے ہکارنا قتھیں بھی نہیں ہے سنساری کو اُس نے ہکاروں گے تو اُس کی اچھا ہے پرمات ما کو اُس نے ہکارا پرمات ما کو اُس نے ہ ہکاروں تو پرمات ما کو اُس نے ہکاروں تو پرمات ما کا اُس نے ہکاروں ہکاروں کا اُس mãنٹ کے ج Bolsonaro بھی مجھتے لیکن اُس کو آسان ہے پرمات ما کی سے ویکاروں کے سحد میں اگیانی کو خش کرنا آسان ہے, لیکن اس کی مانک پور کرنا کتھیں.

اگیانی کی سیوہ کرنا کتھیں نہیں, خش کرنا آسانہ اس کو پولسن لگا دواب ہی وہ خش ہو جائے گا. بھگوان کو پولسن سے خش نہیں کر سکتے, سنت کو پولسن سے خش نہیں کر سکتے, سنت اور بھگوان پریم سے پرسن ہوتے ہیں, اور مورک لوگ پولسن سے پرسن ہوتے. بھگوان پہلسن میں میں فکھنشیں. مسکاشیں. اشفر کو مسکا نہیں کiedzو کیلوب داتے مندر میں اشفر کو مسکا لگاتے, هي بھگوان تو دين دیال ہے, هي بھگوان میں کچھ نہیں. هي بگوان میں رہیتنا کر دے, میں تیری شرن ہو. میں نادان ہو, آنات ہو, هي آنات ہو ki naath tabo, تو یہ دے دے دے, بھاہر آتے کوئی کہتے ہیں انات, یہ دین تو دیکھو پھر اُس کی کیا حالت کرتے ہیں تو میسور کیاگے پولسن لگانے گئیت اور پھر جب دیکھو تو مندیروں میں, مصیدوں میں, اصراموں میں

بھکت تو گینے گنائے گنائے گے بھاکی کے ملے گے بھکھاری مندیر میں بھی جائیں گے تو یہ دے دے جو دیا ہے وہ کام ہے جو دیا ہے اس کا تنوں کیوں کیا ہے؟ تنے پھر اُسُنڈر مندیا ہے سُنڈر تندیا ہے سُنڈر آخے دیکھی دی سب جگہ اس کی مہیمہ اور گرمہ کو نہارنے کے لئے سُنڈر کان دیے سادو سنتوں کے وچن سُنڈے کے لئے سُنڈر جیوادی ہریورل کرنے کے لئے اس کا تنوں نے ستو کیوں کیا نہیں اور تو کنکڑ پتھر مانگرائے کہ یہ دے میری دیشادی ہو جا دوہ کرو سب مل کے جنگ کی ہوئی انگا کیا آلو آج؟ مجھے وید پورانکوران سے کیا مجھے پریم کا پات پڑھا دے کوئی مجھے منڈر مستید جانا نہیں مجھے سنتوں کا پیالہ پیلا دے کوئی

جہا اُچ اور نیچ کا بھیڑ نہیں جہا جات اور پات کی بات نہیں نہ ہو مندر مستید چار سے جہانا نہ ہو پوچھا نماج میں فرقوہہ بہت پریمہی پریمہ کی سرشتی ملے اب ہناو کو کھیں کہ چلوہہہہ مجھے وید پورانکوران سے کیا کوئی ملا کہے تو کیا کوئی پندٹ کہے تو کیا کوئی دنوان کوئی کوئی تو کیا بڑی بات ہو گئے کسی نے نردن بی کو آڈیا تو کیا اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس اُس

جیسیے کرشنہ, ہوں بیٹھو چھنتا کر ایس نہیں. تو میں نے براپنا کہتے کہ ہمارا 3 شرید ہے. ایک ہے شود دنیرمل شرید. وہ اور پرماتھمہ ایک ایچیج ہے. دوسرا ہے اس اچھاو کے کارن اس کی ستالے کے سپندیت ہوا اور اس کو سکش مسرر انتوہاہاک شرید کرتے. 3. انتوہاہاک سکش مسرر اندر کے سرر کی اچھا پورتی کا سادھن یہ سکی جکال شرید اس ستال شرید. ہمیں گھومنے کی اچھا ہوئی پیروں کا اپیوک ہوئا. ہم نے چکھنے کی چھاکی اندر سے اندر والے شرید میں چکھنے کی واسنائیں جو ہا کم میں لی. بولنے کی واسنائیں جیب کا اپیو کیا لینے دینے کی واسنائیں انہتوں کا اپیو کیا. یہ اپیو کرنے کے لئے سادھن پر کرتی کے بنے ہیں.

حقیقت میں یہ سادھن جو ہے شرید. یہ ہم کو ایک سادھن ملا اس طور لوگ مائماننے کی گلتی کرنے تھے. اور ایسا کنڈالا پکہ ہو گیا. ایسی ریکھا کچ گئی اس ریکھا سے بہار جان نہیں سکتی. ایسی مانیتا پکی ہوگے گوم پھر کے بہیں. گوم پھر کے بہیں. اور سادھاگر کا نوکر. لکل مارا چابوک مارا ہے. لیکن خچر اور گھڑے ایدر سے ایدر ایدر سے ایدر ایسی کنڈالیں. ایسی ہمارا مان خچر اور گھڑوں کی نہیں. دوکانتی گرے انگرے تھی دوکان نے وہ پاچھ دی گیا تو ساسو پاس ان ساسو پاس دی. وہ پاسIN وہ پاس دی چוקراپاتن. چاکراپا سے TV انگہان TV دیگی تو REDIO ایھРیڈیو ایسا چکریمان چکری چاڑی تو داستان پکھرے داستان چاڑیم پلانوں پکھر پلانوں چاڑیم پچکے گیایا مارو چھے پکھرے ایجیس سے سب پکھلا جاتایا اس یار میں اران کرنے گا بھی کھڑا سے میں نکالا. ایک چاہر کے بسرہ دیسرہ دیسرہ چاہر کے تیسہ اسلیک کا تھین ہور ہے.

استาว کر منிکہتے ہیں, اصمادہی رب اوکشے پان, ممکشورنت, تیتر آہا, نشچتیحو کلپیتم بسشن, برمی واستے محاش ہے, جس کا محاش ہے, جس کا محان آش ہے, ہم کہتے ہیں, کیوں, جی محاش ہے, یہ آدر کی باشہ ہے, سیشتا چار ہے, واسто میں محاشہ تو ہے, جس کا توچھا کوئی آشے نہیں, جس کا اس فیزکل شریر میں کوئی آشے نہیں, جس کا انت وحاک شریر میں کوئی آشے نہیں, جس کا محاش ہے ہو گیا, جسے براد آکاش کی کوئی شیمانے, آشے ہیں, جس کا کوئی شیمت نہیں, جس کی کوئی آشے کی اکروپی نہیں, آیسا جس کا آشے ہے, اُس کو بھولتے ہیں, محاشے, واسто میں محاشے قبیر ہیں, محاشے نانق ہیں, محاشے شنکرہ چاریے ہیں, محاشے للاشہ باپوں ہیں, محاشے سکرات ہیں, محاشے سمسٹ بیز ہیں, محاشے, بھڑھ پروسوں کوئی محاشے کہا جاتا ہے,

جن کا کوئی آشے نہیں, توچھ آشے نہیں, آیسا آشے ہے کہ اس میں سب آشے چھوٹے ہو جاتے ہیں, تو بھولے باپا, چھنڈاوالی میں کہتے ہیں, کرتا سمادی ہے, نہیں جس میں نہیں بکشے پہ ہے, وہ بھڑھ پروسوں گیانوانا, سک پانکلی سمادی نہیں کرتا, سمادی اُس کے چتکہ سوابہ ہو جائے کوئی باک نہیں, اُس کو بکشپ نہیں تو سمادی کیا کریں, اُس سے بندھن نہیں تو مبتی کی اچھا کیا کریں, اُس سمادی تا کے بندھن اور مبتی اِس تُل شرگہ سُکش مشرگہ کا خیل ہے, اِن دونوں خیلوں کو ستدینے والا میں سدہ سے مبتھوں, مجھے کیا مبتی اور کیا بندھیں, منا بوڑھ دھیا ہمکار جتانی نام نتشو ترجیو ہے نتدانا نہیں نتدو مبھومی نتجو نوایو

چیدانا دروپ شیوہم شیوہم چیدانا دروپ شیوہم شیوہم میں چیدانا دروپ میں پنچ بھوتک شریع نہیں میں من نہیں ہو میں بدھی نہیں ہو میں چیدت نہیں ہو میں اِن کار نہیں ہو میں چیداکاش تو یہ بھوتاکاش میں ہمارہ بہوتک شریع سر رہتا ہے چیداکاش میں ہمارہ سوكش مشر رہتا ہے ان دونوں کو رہنے کی اور جانہے کی صدتا جو دیرا ہے وہ چیداکاش اٹمہ ہے وہ اٹمہ میں ہمہ ہمہ ایسا جا�י ستد انم ہو کرتا ہے میں ہمہ ہمہ ایسا کہنے کا اٹوار کے دین, کسی پر وقت دین, لوگ اشارام کے درشن کرنے کی خوب کوشش کرتے ہیں. 3-3 گھنٹے گروپنம کو 4-4 گھنٹے لہین میں بچارے خریرے کر پھر اشارام سے ملنے کی چھا کرتے, نظیق آنے کی کوشش کرتے ہیں.

مہت سارے آپاتے ہیں اور کچھ نہیں بھی آپاتے ہیں, دھاکہ مککی کے کارن اور سمائے کے کارن. ایکن اشارام نے کبیس ہوتا نہیں کہ میں اشارام کو ملو. میں درشن کرلو جرا. ایسا بھی نہیں سوچھا کے اشارام میرے ساتھ ہیں. ہے, ہے بس. ایسے ہی جانمان نے پر ماتما سے ملنے کی اٹوہ سک سے ملنے کی کوشش نہیں کی جانلیا کے اسی کا نام وہی ہے باست ہو گئے. عبرہ آرام پانا, کام کیا باکی رہا, لگ گیا پورا نشانا, کام کیا باکی رہا, لات چوراسی کے چھک کر سے تھتا, کھولی کمار, عبرہ آرام پانا, کام کیا باکی رہا, دے کے پرارد سے ملتا ہے, سب کو سب کچھ نہ حق جب کو ریدھانا, کام کیا باکی رہا, اس مدفرش کے لئے کوئی کرتا گئے نہیں, کوئی پر اپتا گئے نہیں, اس کی ہرکریہ, ہر ادھا,

ہر حلچار, سبھا بھیکھ ہوتی ہے. اس کا کوئی توچھا آشے نے, اس کا محاشے پورا ہو گیا, کیا؟ اس محاش ہے, جانوان کو, ہم جس بہشا میں جانسا کے, وہ بہشا آسطا و کرمنی, جنوں کو کہے رہے ہیں, اور, وہ لے بابا, سندوالی کے روپ میں, اپنے ششوں کے پتیگ, پورے ہیں, حقیقت میں تو جانوان کو سمجھنے کے لئے, ہمیں بھی اس جان کی سیڈھیوں پر, چرنا ہوگا, اور جان کی سیڈھیوں, یہ بہشا ہے, سچ پوچھو, تو نہ چرنا ہے, نہ اوٹر نہ ہے, ہم سوتے کہ, ابھی شانتی نہیں,

ابھی سکھ نہیں, کل سکھ ہوگا, ابھی مگتی نہیں, بھار میں مگتی آئےگی, تو آج کو ہم نے چنٹا میں رکھ دیا, آج کو ہم نے, دکھ میں بڑھ دیا, ابھی اتنا ہے, لیکن اس سے ہم سندتش نہیں, اور کچھ ہو جیتا بھم سوگی, تو ہمارے خوشی کو ہم نے, کل پر رکھ دیا, سچ پوچھو تو, اشفر جب ہے, اور سنسار کل پر ہے, کل پر جو رہسا کے اس کا نام سنسار اور آج جو ہو اس کا نام ہے, اشفر, ابھی جو ہے اس کا نام اشفر ہے, جو بعد میں آئے گا وہ سنسار ہوگا, ابھی اس سم ہے, تمہرے ردے میں جو دھاکرا ہے, جس کی ستا, وہ اشفر ہے, اور کل جو بھٹنا گتے گی وہ سنسار ہوگا, جو بھی بات کل پر گئی, منو سنسار پے گئی, ایسلی اشفر کو پانا کل پر نہ رکھو,

ابھی تو جرہ مو چڑا کے بیٹنے دو, کل ناچ لوں گا, کل بھی نہ ناچ پاؤ گے, ابھی تو جرہ یہ لے لے دو, کل دے دوں گا, کل نہ دے پاؤ گے, ابھی جو کچھ دینہ چاہتے ہو دیا, دیا سے دے دو, کسی دینہ چاہتے ہو دے دو, رہم دینہ چاہتے ہو دے دو, انکار دینہ چاہتے ہو دے دو, چندہ دینہ چاہتے ہو دے دو, کل کس نے دیکھیں, ایک جاگی پندک سے, انکی چت میں, خوب جاگ تھا, بہار سے سکسن کرتے تھے, لے تھے تھے, دے تھے, دیکھتے تھے, لیکن اپنے چت میں, ان کو کچھ پاکر سکھی ہونے کی بھانتے نہیں تھے. اُس نے دے ہا دیاس کا جاگ کر رکھا تھا, اُس نے وہ محان جاگی تھے, پندک تھے, گرستے تھے, پندک تھے, گرستے تھے, ان بیٹے تھے, دو مجھ بچے آتھی, وہ چتروے دی, پندک,

آشتا وقرکی بھاشا کو, سمج گئے تھے گروکے اپنے اس کو, وہ آج پر ہینیر بھا رہتے تھے, کل کی کلپنہ بھی نہیں کر پاتے تھے. کل نہیں آتا تو پرسوں کہے سے آئے گی, جب آتا تو آج حکر آتا ہے, ایک سیٹھ, اس پندک کی کتھا میں جاتے جاتے, پر بھاویٹ ہوئے اور سیٹھ جیم کے سے شبنگے اور سیٹھ جی کو جب شانتی اور آنند کا آئیسا سونے لگا تو سیٹھ نے کہا کہ کرتگنہ نہیں ہو نہ چاہئے, جیس سے کچھ پانی کا پیالا بھی ملتا تھا, اس کو بھی دھنیوات دینہ پر تاہن کو بھی کچھ, بدلے میں, موکا ملے تو پانی کے چار پیالے ارپن کرنے چاہئے, پر تاہن کو بھی کچھ, بدلے میں, موکا ملے تو پانی کے چار پیالے ارپن کرنے چاہئے, تو مجھے اتنا سکھ ملائیٹنی سانتی ملی میں پندیجی کا آباری ہو, کچھ سیوہ کا موکا لے ہو, پندیجی کو کہا کہ گروجی, حکیہ کرو کوئی سیوہ, بس ملے سیوہ جو مندھر دیکھشا دیا, اس کا جب کرو,

تنساہ کی آسکنیا چھوڑو, جو میٹنے والا جو پہلے نہیں تھا اور بعد میں نہیں رہے گا وہ دن دولت ابھی بھی نہیں ہے, ایسا سمجھ کرو اس کا اوکیو کرو. پہلے تم آئے تھے تو نہیں تھا تمارے پاس, اس جنم کے پہلے یہ چیجے تمارے پاس نہیں تھے اور مانے کے بعد نہیں رہے گی تو ابھی بھی نہیں ہے, ایسا سمجھ کے سنسار میں بیرتو. اسی لیے وہ رامائن کی ساکھی پھر دورھانا پر تھا ایسا کری پاپی نہ گروپ نہیں گروپی نہ نہیں گروپی نہ نہیں گروپی نہ نہیں یادہ بھی نہ آدمان نہیں گا وہی بھی دکھورا گاہنی سماضی رہی توھنے سے ممکشو نہیں ہے, سنساری تو نہیں ہے, شاادگ بھی نہیں ہے,

جیگ گیاسو بھی نہیں ہے اور مکش کی اس کو اچھا نہیں کیوں کیوں, مکش صوروب سویم ہو گیا, اسی لیے گاہنی سماضی رہی توھنے سے ممکشو نہیں اور دویت بھرمت سے اب دویت بھرمت کے ابھاو سے بہت بھی نہیں ہے, دویت بھانا اور ایک پرماتنوں میں آنیک دیکھنے کی بھرنتی اس کی ٹڈ گئی, اس لیے اس کا بندھن بھی نہیں اس کو بندھن بھی نہیں, وہ بڑھ بھی نہیں, پرنتوں نشچے کر کے اس سب جگت کو کلپیت سماضتہ ہوا بھرم وہ وہ تستیر رہتا ہے اور بھرم وہتا بھرم روپ ہوگر سنسار میں بچرتا ہے سنسار کو سوپ نہ سماضتا ہے ہے سوپ نہ مرة مرة ا Undaal なので یہ phen ٹور ٹور

ٹور ٹور ٹور ٹور ٹور ٹور ٹور ٹور اپنے کو کیوں نہیں رکھتے ہو, اپنے کو اتما کیوں نہیں مانتے ہو, اپنے کو خوش نہ سیب کیوں نہیں مانتے ہو, اپنے کو سہو بھاگی شالی کیوں نہیں مانتے ہو کہ ایسے تپے ہوئی واتا اور میں بھی بھی تر کی شانتی پانے کا مہکہ مل رہا ہے پرمات مہمارے ہیں ہم پرمات مہکے ہیں پرمات مہکی ہو کر ہم پرمات مہ سے بیٹی جوڑے پرمات مہکی ہو کر ہم پرمات مہکا دیان کریں پرمات مہکی ہو کر ہم شنشار کا ویوار کریں دیکھیں بیوار گنوں میں ہو رہا ہیں میرا پر مات مین گنوں سے پورے سچ داندس فروب ہے ہر بھگوان کہتا کہ ترابی یہی صروب ہے

اب ہم بھگوان کی بات مانےگے مدھ دی کے مان اقمان کے سنسکاروں کو نمانےگے مان اقمان بدھ دھی کا نرنے ہے بدھ دی جن بچنوں کو معانوالا مانتی و سے معان لکتا ہے جن کو اقمانوالا مانتی و سے اقمان لکتا ہے ابھی ابھتھی کی مانیتا گھنوں کے کارن ہوتی ہے ابھتھی بدلتی رہی لیکنہ بدلنے والا میرا پرماتمہ اس کو میرا دنیواد ہیں اس کو میرا پرنام ہیں نرگن روٹی سب سے موتی اس کا بھگ لگا تھا ہے نرنجن بن میں سادھوں ایک لاکھ ہلتا ہے تنکی کنڈی منکہ سوٹا ہردم بگل میں رکھتا ہے پاچ پچی سمل کر آئے اُن کو گھوٹ پیلاتا ہے

نرنجن بن میں سادھوں ایک لاکھ ہلتا ہے انجن مانا انڈریہ جا انڈریہوں کی پہنچ نہیں انڈریوں کی پہنچ گنوں میں ہوتی ہے انڈریوں کی پہنچ پدارتھوں میں ہوتی ہے جہا انڈریوں کی پہنچ نہیں وہ نرنجن بن اپنا اتما اپنا رام نرنجن بن میں سادھوں ایک لاکھ ہلتا ہے تنکی کنڈی جیسے آپ کنڈی سے کاملتے ہیں سوٹے سے کاملتے ہیں کنڈائی گھوٹے ہیں ایسے وہ اتمگانی ان عرموالے محاپ روش اپنے سوک کے لئے کوئی عرمنے کرتے ہیں ان کے تن اور من کے دوارہ کرم ہوتے ہوئے بھی اپنے کو کرتا مان کرترشانی ہوتے تنکی کنڈی من کا سوٹا ہردم بگل میں رکھتے ہیں کبير جی کہتے نرنجن بن میں سادھوں ایک لاکھ ہلتا ہے تنکی کنڈی من کا سوٹا ہردم بگل میں رکھتا ہے

پہچ پچھ پچھی سے ملکر آئے ان کو گھوٹ پیلاتا ہے نرنجن بن میں سادھوں ایک لاکھ ہلتا ہے بکھر ماتھے گو بھی آئے اس کا دوڑ بھی لوتا ہے دعن سماضی کرتے کرتے اپر کے کندر میں جاتا ہے سوشمان ناری روپی گو بھی ہاتی ہے گو بھی ہاتی تو دوڑ دیتی ایسے سوشمان ناری کا دوارکھلتا ہے تو شانت اور نرவیشے آنند پر گتھ ہوتا ہے بکھر ماتھے گو بھی آئے اس کا دوڑ بھی لوتا ہے ماکھن ماکھن سادھوں کھائے چاچھ جگت کو پیلاتا ہے سودھسکھ ہم لگ بھانوں نہیں کر سکتے جہل نہیں سکتے ہاجم نہیں کر سکتے ہیں اسلی شبència کے تنکہ اМک سادھوں کا اولام مان لیکر وہ سکھ کی کنیا ہم پر برساتے ہیں ماکھن ماکھن سادھوں کھائے چاچھ جگت کو پیلاتا ہے نرن جنبھن میں سادھوں ایک لا کھیلتا ہے

5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5-5 Kheelta。 HS thesis We are in your화� HS thesis بھاگے ویشےوں نے ہمیں آکرشت کردیا, نشور پدارف اور سنسار کے ویحار نے

ہماری کمتی آئیش شلوٹ لی ہے یہ پرانی ماترا کے سوھرد اب میرے ار آنگن میں ترے گیان تری بگتی ترے پریم سے تری کرنہ سے میرے ار آنگن میں یہ پرکاش ہوتا جائے کی جو پہلے تھا بعد میں رہے گا اور اب بھی ہے اس کے گیان میں میں پرتشت ہونے لگوں اس اشان توستامے میری گھریام بھیتے سوک دوگ کی سندھی کے بیچ کی آوستامے میرا جتتک جائے تو ایسی دیا کرنا

جس میں یو گیش وروں کا منشان ہوتا ہے ہم اسی پرمات مات کے دھیان میں تلین ہوتے جائیں گے جس میں شکدے و محراج سرابور ہوئے تھے جس میں نام دے اکھو جاتے تھے جس میں میرا پریمہ بھگتی کے دوارہ دوب جاتے تھے جس تنیمے گو راngس تن میں ہو جاتے تھے جس ترمات مات کی پر بھگتی میں حشتا و کرمنی اور راجان جنگ تتشتت ہونے ہے میرے منتوسی میں شامت ہوتا جا

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →