Jan 3,2026 Saturday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
625 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 3,2026 Saturday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
आपन्रवान कीपनानरiała waarइकिपनण होंसकझी. अ societalava raha hai इपन्राइ. आनपनान की पनाने खानेलहाभने जन pillowsी है. पनाने रहम् होंसकझी है 않ारइकि। इपन कारे कारी आश़ूरी रोंसक्गी Ghura moh rah舒激。 دوسری بات, جب اچھا بھی چاہ رہا ہے, سوب بھی چاہ رہا ہے, کوئی اچھا نیر نے ہو جائے تو اُس کو پکڑے, کہ اُس کو چھپڑے نہیں. کام کرنے کے پہلے, اتھا, کام کرنے کے باہا, انتر اتما میں گوتا مارکے دیکھو کی کیا, رہ دیکھا سنٹوڑ سوہ, سانٹی ملی کی اشھانچ, چنتہ حبری کے آنندوگرہ, اگر چنتہ بھائے, شوٹ گلانی پتکہ اُت پنو ٹائے, سو سمجھ لینہ پیہ مارا کام, انتر یامی کو پسن نہیں پڑا ہے, اندنیواد آنندوگرے تو سمجھ لینہ کے بگوان کو پرسن نہیں, تو جو کام بھگوان کی پرسنتا سوپائے بھی تروالے کی پرسنتا سوپتے,
او کام اپنا کلان کرنوالے, جو تماغونی ہے, وہ لڑائی جہگرہ, نندہ, جبی جار, بیسن, سراب, قباب, جوہا, بھان, سٹا, لاتری, اس میں روچی ہوتی, آسوری بھاپ, ادھمتی کے لوگ, اور جو ادھمتی کے لوگ ہیں, ان کو ستسن, دھان, بھا جان, سیوہ, سمران, سانتی, نانتی, تیتکشا, سم, سنتوش, اس ورپنی دھا, اس ورکیارا, نا ان کوئی اچھا لکھا ہے, تو جو تماغونی چیزیں اچھی لکھتی حکرے گا, تو دیر سبیر وہ دیرے, دیرے, دیرے, ادھم یونی کو پائے گا, ادھم جگن ہو گا ہے, اجن کوت کیاگ, سیوہ, ستچا, سمران, جان, پاجن, ہو پاجن اچھا لکھا ہے, ہو بیٹھا مونمندر میں بیٹھا باہت لگا دیا,
تو تو پاجن کا بندہ, ہو باجن کرنے میں دیر سبیر تھوڑا سمی لکھا گا ہے, لیکن ہو جگن, مان ہوتا ہے, تو کیا ہوا اچھا نرنے چھوڑے نہیں, چاہے کبھی کوئیش ردھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا کریں, کبھی کچھ کریں, ایسر آستے پے تو, اٹھا ارچھا دھا ہوا تھے, لیکن باہت داری اسے سیوہا کریں, اپنا کرتا ہے پاہلے, کوئی بھی نہیں ان دیکھتا, گروجی چاہلے گے, لیکن کروڑوں گروجی پے بھی سواز رکھتے, اور گروجی نے, وہی سپورا کروڑوں رفیٹ آشم, ہمارے پھر سواز پر چھوڑ کے چل دے تھے, تو گروجی کے حجری میں جو جب میں داری بنتی, اس سے جادہ اپنی بنتی, گیر حجری میں, مالک سامنے ہیں, سامنی سامنے ہیں, تو کوئی چیز, کہ دیکھ باہل, ہم نے کم جادہ کی تو کوئی بات نہیں, سامنی کی نجر ہے, تو سامنی چھوڑ گیا تو, سامنی کی نجر, اور ہماری نجر,
دگنی لگنے پڑے گے, یہ سواز گھاہت نہ کرے ہیں, تیسری بہت, یہ سواز گھاہت نہ کرے گاہر میں کام میں دوکھا دری نہ کرے, بنتے بھگت تھگتے, جگت پڑھتے بھاو کی جال میں, تو کلہ جگڑھا نہیں کرے دوسراکہ, پلائن بادیتا کے بیچہ نہ کرے, تیساز دوکھا دری نہ کرے, نہ رائنہ حری, نہ رائنہ حری, نہ حائنہ, اسے کئے کو پر ماتما سنتو اثتوٹا ہے, انتریامیش کر پر سمنہ ہوتا ہے, اندر کی پر سنتا ہے, ہی بھاہوان کی پر سنتا ہے, آتما سنتو اث اث اث اث اث محانتی, بڑی چیش ہے, पर भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी भी �
پھر بھی دے بھی سمپتہ کے سدھوں نے بھرکے پر ماتھ میں سانٹی پانا پھر دیمانی ہے سنسار کی چیجیں پانے کے لئے اپنے ردے نہیں بھی گانا چاہئے بگوان کو پانے کے لئے تو ردے سوڑ دو تا سنسار کی چیجیں پانے کے لئے کورکہ پڑھا سرہ لینے سرے دے اشوڑ دو تا تو جس ردے میں بگوان چکے او سرے دے کو اشوڑ کرنا باپ ہے اجس ردے میں بگوان چکے او سرے دے میں تک پر تاستے کام کریں کتنا بڑی ہا کیا او درمت دیکھیں اس سے بھی کتنا بڑی ہا کر سکتے او در دیکھیں اگر ایک لرکا تھا مونٹوں نان دیں او جب بھی ام دیکھیں تو مالا لیکے بیٹ گیا تھا تھا بڑا بھگت میں اپھر بعد میں دیری دری دری درام کے پیسے ارب نہیں لگا ایسی بود دی براجت ہوئی کہ چوری گوٹا ہے مبانا بقز گھو اس اتسنگ کے سامنے میوم بیٹ ہے بڑا بھگا
آبی اس اتسنگ چل رہا آپ یون کرنے کی کیا گیا رہا ہے تو جب بنتے بھابیت تھگتے جگت پڑتے بھاوگی جال میں تو بھگتی کا دھونگ نہیں کرنا چاہئے سیوح کا دھونگ نہیں کرنا چاہئے سجن تھا کا دھونگ نہیں کرنا چاہئے کی طا میں آیا ہے اس میں آبی مانا سچہ دم بس چاہئے آبی مانا دم جوٹھ یہ اتما کے پتن کی چیچے چاہئے آپ جو نہیں ایسا دیکھانا اس کو دھونگ بھولٹے آپ کو یہ چاہئے کام کیا اس کا دھونگ نہیں کرنا چاہئے اس کا دھونگ نہیں کرنا چاہئے آبی مان میں کئی پر کاروٹے مہوان بھولٹے نيرموموموم نيرانکارہ باؤسطوں سے ممتانی اور انکار نہیں کرتگیا بجری جانم آنے کے سدرے آپ آو راجو
frسی ہوئی راموں کو رام بجر تجیکھ کش سماد آنے کے جانموں کی بجری باجی اسی جانم میں سمار سبتے آنے کے جانم سے بچلے ہوگے پییا سے اسی جنم میں اپنے پر ماتما کو پاستفتے ہیں. تو کوئی پنے ہے کہ پویدرستان پر رہنے کو مل گیا, تیار بھو جنم مل گیا, نہیں تو بود بھگوان کو. جنگل میں بٹر نہ, مچر دنکتے بیچ چکا بھا ہے, ساپو کا بھا ہے, نہ کوئی لہیٹ نہ کوئی نل, ہم لوگ بھی ایسے رہے ہیں, کتنی قتنائی کر کے, منکی دال اوبال کے چباکل چبالے تھے, یہ سب کارپے جو چیجہ ہم کو مُسکل سے ملی وہ چیج, تم کو رو جو رو دموفت میں سنائی جاتی ملائی ہے. تو اس کا دروپیوں گنا چاہی ہے. ملے ہوئے اجیکار کا دروپیوں گنا چاہی ہے. جو ملے ہوئی سوطندرتا,
ملے ہوئے اجیکار, اس کا دروپیوں گونے سے آدمی کی اوگیتا دمب میں گئی نہیں جاتی ہے. رنام کردی اللمبے پڑھے لیکن کہا ہے کہ شیشے. ایک وقتانے کا میں تو گندیجی کا تمانتا, اوگندی کے ویچاروں سے سمت نہیں, تو گندیجی کو مانتا, یہ اس کا دمب ہے. دھاں گا ہے پاکھند ہے. باپوں نے تمانوں چھوں پڑھاں, باپوں نے کہیں, دیوی کاریوں بگاٹ تھا تو, تو ایمانوں اسو دھاہروا مانتا,
جھوٹ تھا دمبہ پاکھند یہ آسوری سمبہ دا ہے. اس میں آسوری مانا بیٹھے سو بھاوطامسی, سو بھاو راجسی سو بھاو کے لوگوں کو ایسا رہا رہا رہا چالکتا. ان کے بھاگ گیا میں پرمت میں ساکشہ کر نہیں ہو سکتا. پاکھند بھی کرے اور پرمتنہ کو بھی با ہے, سمبہ بھی نہیں. گروسے دگا بھی کرے اور سادھنا میں سپل بھی ہو جائے, سمبہ بھی نہیں. رہت کو ساتھ میں رکھتا اور سورجتا بھی درسن کرے, سمبہ بھی نہیں. انداری رات ساتھے رکھ بیچے, ان سوری نارنہ درسن بھی کر باتے. انداری رات چھوڑو پرسے, انداری رات چھوڑو پرسے, دغا دھاisations、 کاppen دہ … Atashi electorkhan, اے rainfall Maar
انہوں نے فکر ہوئے گا ہے. ایک mikekeox bono wet came with a cow. رو رہایکے چھو此 macro, ان دور ساتھ میں آداتié رہا. Laughs Toa Lethойд then, اگ Developer next year from a Key noon انداری رات چھوڑو پرمتنہ کچھ جیتے ہیں. wegs birگ ، تو پروسی کے گھر میں جو لڑکہ تھا, اُس کو دیکھتی تو اُس کو آ کرشن ہوتا دیکھتی کہے میرا بیٹھا ہے. اُس نے جاکھے را جا کو خریاد کیی کہ آج سے اٹھارہ سال پہلے میرا بچہ اکھو گیا تھا, وہ میری ببی میں آیا ہوں, وہ پروسان کے وہاں, میرا ہی بیٹھا. کیس چلا. جس نے پالہ پوچھا ہو بلٹی کہ یہ پاظگل ہو گئی, یہ تو بیٹھا میرا ہے. یہ مابا پھنے ہمئے ہیں, اسکول کا سدی بیٹھ دیکھوں. اب بیٹھا تو بچپن سے ایک ہوتے ہیں. کوئی اُتھا کے لے گیا تھا چھو رہتے اور وہ بیچ دیا تھا. بیٹھے کوئی پہتا نہیں کہ میری حصیمہ کون سے ہے. اب را جا سوٹے کہ یہ ایسے یہ دو مہا پھر,
دو مہا پھر, دو مہ دو مہا پھر. ہیگ مابا پھولتے ہمارہ ہے, دوسرے مابا پھولتے ہمارہ ہے, پھر ہے وہ آسنوں میں لڑکا کس کریں. بیچار کرتے کرتے رہا کسی مہتما کی پاس گیا ہے. مہتما نے آئیڈیا پتاڑی, کیوں کہ مہتما شدگان میں رہتے, شدگ پرنا ملکے گیا گیا. رہا نے کیا کرا کہ مائی کو بولا دیکھو بایے. بائی کے سنے سے اور باتچت سے اور لڑکے تھے. روپرنگ سے لگتا کہ ہے. مہا باپنگ سے یہ ہے. اور پالن پوشن سے اور لڑکہ تمارے طرف جھکرا ہے. اس سے لگتا ہے کہ لڑکے کے تم مہا پھولتے. اب تم بھی این کے بیٹے کے دیگاری ہو. یہ بھی ہے اور بیٹا ہے ایک مہا باپنگ جوڑ ہی دو ہو. تو شاہی گوستا کی جائے گئے. آدہ لڑکا ایک قبل کو دیا جائے گئے.
آنہ لڑکا دو اسے کو دیا جائے گئے. کروط سے قطواجے. ایک ہات, ایک پیر ایک نتھنا, ایک کان, ایک کانک براپ برک. پورے ہی سے ہوں گے. آدہ اس کا, آدہ اس کا. اور آدہ اپنی بات گھوری کر ہے. اس کا پیل اسری مہا بابچی کے. بلن نہیں, نہیں, نہیں. نہیں, ہمارہ نہیں ہے. ہمارہ نہیں. اُنی کا ہے, اُن کو جی نہیں دو. اُن کو جی نہیں, نہیں. ہمارہ نہیں. ہمارہ نہیں. ہمارہ نہیں. ہمارہ نہیں. راہدہ نے, سمجھا کے, آسلی مہا بابی ہے, کیوں کی, ان کی آدتڑی دکتی. ایسے سنسطا کا, ایسلی شادتاک ہوئے جس کی آدتڑی دکتی. جن کی آدتڑی نہیں, دکتی وہ تو, عرام کر کتے ہیں. کتو سے بھی گای دیتے. آدتڑی نہ, دکتے ہیں, تو, سنسطا نہ, کرا. سیسے نہ کے وائیں, آدتڑی دکتے, ایسیسے سے کے وائیں. ایک آدمی نے لیا ہے.
جمین بنائیں, بڑا آشم, بڑا ہوا, ستینارہ نہیں, کامان نہیں. اپنا سب لگا دیا, لوگوں کو سکشان, تیملے, سادو سنٹائے, ستسنگ کریں, سنسطا چلتی ہے. اب ہوا ستجنبودے ہوگے, اُن نے جہیرات کریں, کہ میں بودہ ہو گیا, اور میری سنسطا, کوئی سمالنے کا ادیگاری ہو, تو میں اس کو دینہ چاہتا ہے. اور کوئی لوگ کہاں سمالیں گے, ہم سمالیں گے, ہم سمالیں گے, وہ بودہ اُن سے باچیت کرتا, انترولے تھا, وہ منا کرتے تھا. ایسے کرتے کرتے, ایک دینے ایک ہواک, کتے کپڑے. ستینارہ نمندیر میں, گرسا, راستے میں, ایٹ گاد رکھیتے بود دینے, تیڈیسے. جس انت کو سب لوگ تھوکر کھالے تھے یا بچ کے نکھالے. وہ لڑکہ مندیر میں, جاہ اس کے پر لگے, دیکھا کہ ہیٹ ہے, لوگ کو تھوکر لگے گے, وہ اس نے, جاہ کر راسترم کے مالی سے, ہم کر نالے سے,
مانگی, پاورا, خداڈے. وہ انت, تو تینہ, یہ سابتنے کے لئے سے, خداڈے سے اس نے, خود لیا ہے. ایٹ نکھالا, تو ایدر, تو ایدر اُدھا سے مئٹی لا کر, خدا فور دیا کر, کسی کا پیر, اتوى گاڑی کا ٹائر, اپنے کو داری فاورا, اوچیت جگہ پیرکھا, ایٹ, کہاں پڑی دوسری وہاں خوچھے رکھتے. سٹینہ رہن کے, درسن کر کے, وہ لڑکہ جب یا رہا تھا, تو وہ دا بھاکتے, بھاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے,
ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, ہاکتے, چھلے جانے والے تو آئے کئی, سنسٹھا کی بسٹھوں کا خاد بنانے والے تو آئے, لیکن سنسٹھا کو چھمان بنانے والے تو ابھی میں لائے, ابھی میں لائے, ابھی میں, τالی کیوں نہیں بڑھتی شبھنوں کو کی, میں نے جھروکھے میں جگہ رکھی, میں بہتھا رہتا ہوں, tákta رہتا ہوں, جو بھی انتریو دے نے آتے ہیں, تو ان کی ہیل چال دیکھلے تھا ہوں, پھر وہ سفائی مارتے, λمبے پڑھتے, دانت نکھال کے باتے کرتے, سکر سکر کے پر نام کرتے, ایسے بیمانوں کو دنبیوں کو میں نے بہتھ چکھ کر لیا ہے, لیکن تم سنسٹھا میں درشن کرنے آئے, تو سنسٹھا کو سمھانے کی تمہاری جو کشمتہ ہے, باری کی ہے, جو کتہ ہے, اس کا مجھ درشن ہو گیا, اور لوگ تو بکھمگے آئے کہ ہم کو بناؤ ہوگا دیسہ, لیکن بھائیہ میں پہر وہاہت جوٹوں کی ایک سنسٹھا تو سمھانے,
کیسے کیسے لوگ ہیں درشن, تو دن بھر ایسے نہیں کہ آپ لوک سے وہاں نہیں کرتے, جہان نہیں دیتے, ایسی بات بھی نہیں ہے, لیکن میں نے پہلے کہ کہ آپ جو کرتے بڑیا, اُدھر مدے کوئیسے بھی اور بڑیا ہو سکتا ہے, آپ جتنا بیگار کرتے, اس سے کم بیگار ہو سکتا ہے, اور جاگة بھی گھا گی ہو سکتا ہے؟ آپ جتling بیگار کرس سے مقیش کرتےlively جاگة بھی ہو سکتا ہے آپ جتنا بھی ہو سکتا ہے اور edition handwriting شصدت ایک個 ممجھے یا جاگھے ر permettальное آپ пог اللی کا چکتا ہے آپ جنت append couldn't carta marriage اور آپ جنت آپ جنت coil تو اپنا ساکھی آپ ہے, نجمن ماہی بھی چار, نہ رہیں جو کھوٹ ہے ان کو ترنت نکال, جو آپ کا انتریانی دیکھیں,
مل پہلے بھی ننتی چی کی, آپ جو کام کرتے ہیں اس کے پہلے اور اس کے بعد دیکھو کے انتر آتما سنٹوسٹ ہے, کھیں نالت تو نہیں بھی اچھار کرتا ہے, سیلے میں نے بھی ننتی چی کی کام کرنے کے پہلے, ہم اپنے ردے کو جیر آتما سنٹوسٹ ہے, کھیں نالت دیکھا ہے, اپنا کرتا بھی پاہ ہے, ہر آدمی اپنا کرتا ہے, اپنے اپنے کرتے بے سے پر میں شرٹی پو جا کریں, اپنے اپنے شبکارتے بے سے انتریانی شرکوں سنٹوسٹ کریں,
اگلے جنم کا جو درماجے کا مال کھیا تھا, دان کا بیسوں کا, ہوگی ہون بیل مھن کے, وہ آدمی اپنے رہے ہیں, کھیں نالتے ہیں اس کے کان میں ماری پوک, ملے میں نے کہا تھا کہ کرم کی گتی گھان ہے, ہمنا سیبا کریں کریں, کرم کا خجانا بڑھانا چاہی ہے, کہ اپنے انبی پر وات دبے گر کر بھو جو ہو کر, یہاں سے وہاں وائڑے کی نائیں گھنٹے رہنا, یہ کرنا چاہی ہے, تم نے اپنے ہادی پارکھا درماجے کیا, ملی ہی سویدھا کریں گھا درماجے کیا, درماجے کیا, درماجے کیا, تم نے گھات کیا, کسی لیتوں بیل بنے ہو, تم نے تم کو دیکھ شاہ دے ہی صادق بنایا, صادق بنایا, تھتوں کو اپنے پر بو جہ چڑھا ہو گے اسے لی نہیں بنایا تھا, آرہم کھاو بن جاؤ ہو گے, اسے لیتوں کو صادق نہیں بنایا تھا, وہاں اپنے باپت بنوں ہو,
کر کر کر کر, آسکہ تو میں پانی بانی گا ربیا, بس بیل کو بان دھے ہو, لگ جائے پھٹھا پھٹھ, دو ٹین دین ہوا, تو ٹی سان باپھکھ سوکھا پاپھا ہے, دو ٹین بایا ہے, کبھر جی کو بلاں مہراج آنہیں بھی پھنگ دیو, وہ بیل کو آنہیں پھنگ لگایا, تمہراج آنہیں بھی پھنگ دیو, وہ مہراج نے کہا ہے, یہ تو گرو کی دکچہ لیا تھا, کچھ سگورا تھا, باکی تو سکھڑھ رہی بیل ہیں, یہ تو بیٹھا رہ گلٹی سے بیل بنا ہے, پہلہ تو وہ ریہلی بیل, رہی تو ہوتھ, سادھا تھا ہے, بچی بیل جی اوکھاں کر رہے لے بیل تھا ہے, نہ رہا ہے, چیو جگلے جنم کی گرو دیکھ شاہ ہے, گرو کی بچھا میں سنے, یہ اس کا پھل میں ہے, تا بھی میرے سنت کی بات سنان ہے, دو ٹھائ کو سنتا, پاپی آدمی تو سنت کی سیت سونی نہیں سکھتا, اگر سنت بھی لیا تو، سیدھا ہاں تنی لگا گئے گا, اول ٹی لگا گئے گا بھڑھ کے گئے وہ تو, یہ تو سادھا گئے, کوئی پھنے آت میں ہو سیدھا ہاں تلایں گے,
پاپی تو سیدھا ہاں تھیں گے گئے گا, نملزے پہ ہمارے گوگھے, ہمارے گوڑھ کے, ہمارے گوڑھ کے, ہم یہ ساتھے کیا ہواں کہے گا دیکھو, وزگہ دیکھو, ہمارے گلٹی آچنچن کے نکالکہ, ہمارے بے پروائیچنچن کے نکالکہ, کتنے دیاں گیاں, کتنی این کے ردے میں کلیاں کی بہاہنا ہے ہمارے گیاں. نہ رہی نہ ہری تو ای دو ٹیم باتیں, یاد رکھیں, ایک تو ایسور پر آپ کی, ایسی جنم میں ہم کو کرنی ہے, آسامبہ نہیں ہے, ہمارے گیاں ہی تو, منت سے جنم ایسور پر آپ گیاں,
آپ کہتا ایسا کر کر کے ام تو بار بات ہوگے. آپ تو جو ساشترا کہتے ہیں, سنو کا نوبہ کہتا وہی کرے ہیں دے. من میں جیس آیاں, ایسا تو پتنگ بھی کرتا ہے, کتابی کر لے تو, میں بڑی بات نہیں ہے, جن جو ساشترا کہتا ہے, بغواان کہتے سنت راکے ہیں. ایساگر کرتا وہ بغواان میں ہو جائے گاں, سنت میں ہو جائے گاں, اس کا جیوان ساشترا بن جائے گاں. اس کی wani sastra banjaita, asa mahano sattadni. Sraajkummaarudhalaq. Aap ne manko samjaya. Raj tila khoraqa. Manto lagna cei raaja banna hai. Aap ne manko samjaya ki tere saat juurkat tu jai saat kar karke tu miri tu brba juurkat tu. Aap ne manko samjaya.
Aap ne manko samjaya. Sraajkummaarudhalaq. لگاکہ جو کچھ فوست رہ دیتا تھوڑا بچھا لیا تھوڑا ہوڑا لیا گھر سے بھگا تھا کیا کوئی صادن دوتھا نہیں جاتا راجکوں آسا ایسنے کے دو پے سے قادمی تھا رکھڑے گے راجا کا بیٹھا تھا راجکوں آرہ بڑالا بیٹھا تھا نہ بھگی بڑیا تھے نہ اب دو پے سے قادمیوں کو سو بھی دا ملتے تو بھگا بھگی کرتے میں دن دا کروں میں نوکری کروں میں چین میں بچوں میں یہ کروں پیچھا پلکی لاری کروں یہ پاپ کر موتا ہے نکاگ میں کو نحلکی اچھا ہوتے اپنے بڑھنے تو اپنے چیچھا ہوتے اپنے پاپ دونوں سے پار جاتا ہے تو بھگوان کے مراکہ توڑا اپنے بڑھنے پڑھنے بڑھنے جاپ کیا حقار پوکار مقار ارد ماترا حقار برمہ اوکار بشنوں مقار مہیشور
ارد ماترا توریا تو پران وائو سے اپنے شرے کو پر نکھر دیا و جتنی دیت روکسکسک خوروکتنی در سواز پر روکا پھر دیرے دیرے چھورا اس پرکار کا بھیاس کرنے سے اس کے پاپ جل گیا اور شرے میں بید جتسا کوج پیدا با پھے چھواز باہر چھوڑے مار چھوڑ کے ساری ناریوں کو خالکیتے تو ناریوں میں جو ناسوں میں جو سنسکار ہیں پاپ سنسکار ہیں کام کروڑ کے سنسکار ہے اُس کو بھیتر سے اوکھےڑ نہ پڑھتا ہے ایک تو جہاں کام کروڑ بڑھتا وہ جگا چھوڑ نہ ہوتا ہے اور دوسرا جو کام سنسکار پڑے ہیں وہ کوئی وہ روڑی گھروڑ کرے تو چھوڑ دے گا آدمی ایسا نہیں تو پھنے جبتک ہے تبتک وہ روڑی کے دالنے گلے گی ایکن اپنی تو پیلے سے شتیانہ سو جا سی ہے تو ستیانہ اث کرنے والے کام کروڑ کو
وہ کاروں کو دور کرنے کے لئے اس نے در دپرانایم کا اثکارے تو پر آرویوں روکتا مول بند کر کے اوڑے انگ بند میں سرک جتنی دی روک اکھ سکتا تھا سکھ روک اٹھنا روکتا تھا رہے رہے رہے باہر نے کالتا بار کا بہر سورتا حورک کرنے میں تھوڑے جن برمہجی کا جانکیاں بھرم Umavari, Willie, just as we live in the city, meet Gurudev as we live in The Town Dome of Peace, like I do, I stay here like Herr�... so if you wont be questioned, then your mind klappes on easily. Therefore, during the karma, Shisha gets questioned very suddenly, how long are you going to be a Barry? Which means I have to maintain my taste and taste. Gurudev, just like you feel protected, پھنچے پروسوں کا دہان چنطن کرے گا تچھیکنے تو مندھ بھا گے گا پھنچے پروسوں کے نگاں میں رہے گا تو مندھ پھنچھے کرے گا میں تو مندھ تو بھٹھ کا تھا ہے
کوئی بھٹھک کے دو گنتے میں آئے دو سال میں آئے بیس سال میں آ جائے کوئی بیس جنم کے بعد آ جائے بیس کروڑ جنم کے بعد آ جائے لیکن آنہ تو پڑے گا پرمات محمد جائے گا پھریہ ہوگے بھٹھے گا کوتا ہوگے بھٹھے گا سوار ہوگے بھٹھے گا جائے گا وہ آخرمن بھٹھگوٹھا کے دیر سبیر بھگوان میں آئے گا میں دو اس کا کوئی چار آئے نہیں تو پھنے سادن میں نشتا ہونا چے گا سادن میں نشتا کریں گے تو سچھمت آئے گا سچھمت بھرم مہ ہوگا سادن چھوڑ کے دے میں چلاہے گا راگ دوش میں چلاہے گا گا پسپ میں چلاہے گا پھر وہ لیمان گلکا نہیں میں نہیں کہتا آئے چا دوں میں جاؤ جاؤں تو خریع پھلٹن میں جا کے بٹکو و پھر چکھرے کھا تے کھا تے کھا تے کھا تے دو دو اس گا پاچھ پہنے دست اس ربے گلے وہ خریع پھلٹن والے در آئے تے تھے ہمیں دکشنا دوبا پھانچ رب دیا وہ لے مارک دست اسے
ہمیں شبھ کے محنتے ہیں دست اسے اسے پھلو بھائی دست اسے گا لے ہوتا کیا اجیگانت ایسے بکھر جائے گا پھر ساہدان بجم کرے گا نہیں حجاں سنسکار ملتے ہیں جہاں انہتی ہوتی ہے ایسی جگا سے جمان بھگاتا ہے تو سمان لوگ بربادی ہے مویش شدکھ مائے ہیں تو ہدالا کر آج بات چھوڑ کر بھا گے حیشور کے اوواز نہ کرنے کے لیحان سمان جیچے ہیں ستکرم میں کوئی روچی رئی ہوگی ستسروش کے کوئی دوارے ہوگی تو وہ سفھل ہوگے ایسی سپھل ہوگے کہ آکاش مارگ سے صدھا ہے حقصرا ہے آئی ایجیہ تو دو پسے کے ہی ہے پسینا بہانے والی لیت نکال نیوالی اپانوائی اچھوڑ نیوالی دو پسے کے کوئی ہنگر نا آجاتی ہے تو مللو ہو جاتا ہے اس کے پاس تو حقصرا ہے آئی پھر بھی ملللو نہیں ہوت لگے رہے مویش شدکہ
ہنگر سبند سریشے ہوتا ہے آدمی دو چھوڑا ہے منگر سبند میں سے ہو جاتا ہے تو آدمی مان ہو جاتا ہے ایتنا ایجیہ رہسا کام ہے کہ وہ اللگ جائتر پرتا ہے اُدھ کو چتکلہ پر آپ ہوئی جو چتکلہ نیچے کے کندر میں تھی ابھیحس اور ساتھ نہ کرتکا دا اُپر کو پر آپ ہوئی چتکلہ ایسے وہ دوسر کو پبھی ترکر نیوالا ہوئے نیچے کو منا پر نیچے کے کندر میں رہتے ہیں تو آدمی ناپا کرے تا ہے اور ناپاق بھی چاراہ سے ہل کے بھی چاراہunity ہیں حل کی نیگا ہر ہے تھا ٹھوڑا سا کو یقمن کر کرتے تو بھر کے گا ٹھوڑا سا کوئے نیچے دیکھا دیکھا دے ایگو آجا ہے اُپر گایا ہے تو بودھ کے اُپر اسپ boşکا ٹھو کا ناحق پھر بھی بودھ کو دکھت دکھ نہیں ہوئے گالےuru دینوالنا گالیا دیا بودھ کو دکھ نہیں ہوئے بودھ دکتا رہا گالیس کو دیتے سارے کم میں رکھول ہے. بگوان بھڑھ دو کے پوچے گے. سیدار سراج کمار. بگوان بھڑھ دو کے پوچے گے.
بھڑھ دبگوان. ایسے شن کر نام کلڈ کا ساتھ و رسکہ. لگ گیا دہان بجان میں. و جگد پروشن کرہ چاہ رہا. حبی بھی پوچے جاتہ ساتھ ہے. بائی سو ساتھ برس ہو گے. حبی بھی پوچے جاتے آج شن کرہ چاہ رہے. لگ گئے نا. تطرقہ سے لگ گئے. ایسا کوئی منشنے کے جس میں شن کر چارے کو جو شکتی تھا اندر میں وہ سب میں چھپا ہے. بگد میں جو تھا وہ سب میں چھپا ہے. میری لیلہ سبگوان میں جو تھا وہ سب میں چھپا ہے. جو میری میں ہے وہ سب میں چھپا ہے. جو مدال سا میں جو جب. حبی بھی چاہیس. بھڑا حیمت کر کے آگے بڑے. بہوتوں چا ہوت سب تھا ہے. اگن سنسار کے توتوں میں میں میں ادر میں اُدر میں τلا طولی میں کا پاک پو میں. پھے گئتا رہتا نیچے کے کینروں میں. پر مان نہیں لگتا ہے جس بھاگوں در بھاگوں در سے بھاگوں در بھاگوں. تیتلے کے نائیں پتنگے کے نائیں چڑیا کے نائیں. بھونڈ کے نائیں. بطق بطقے جندگی پوری وجہتے ہیں.
لگ جائے رو جنیام کرے چاہے تھا ہیں وہنیام میں لگ جائدتے ہیں. تو تین سال میں تو ساکشات کر رو جائے ہیں. امیانتا کرنا نہیں ہیں. آہا ہوں میں سمجھاراں کراب کرنا. اپنے مان کا شامی دبنے کے کوسیش نہیں تو پھے گورو شامی بھی کہاں تک سرکھا پاتے رہے ہیں.
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Oct 7,2026 Wednesday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sa...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Oct 7,2026 Wednesday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Oct 7,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Oct 6,2026 Tuesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya