Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 21, 2026

Jan 21,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

About this episode

Jan 21,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Transcript ready

756 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 21,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 21,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

بہا وہ جانتا پسا بہا وہ جانتا پسا بھا وہ بھا گتا ہا پورتا مدھ بھا گتا جن کے راگ بھائ اور کروض صرفتا نشت ہو گئے ہیں اور جو میری ہی پرائیں تتہ میری ہی آسریت رہنے والے ہیں ایسے جان روپتا پسے پویترا ہوئے بہت سے بھکت میری بھاو کو پراپت ہوئے ہیں سادق ایسا چاہیے جان کے جان ویوے ایک باہر ملتا سو ملے انتر سبسوں ایک اس شلوک کو گئے رائی سے سمجھیں گے کہ جن کے راگ بھائ اور کروض صرفتا نشت ہو گئے ہیں

اور جو میری ہی پرائیں تتہ میری ہی آسریت رہنے والے ہیں ایسے جان روپتا پسے پویترا ہوئے بہت سے بھکت میری بھاو کو پراپت ہوئے ہیں یہاں سری کرشنکہ رہے ہیں میری آسریت رہنے اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو مندر میں سری کرشنکی پرتیمہ ہے وہاں جا کر مدارنا ہے میری آسریت سری کرشنکہ مام جو ہے وہ ہی تمہاری گہرائی میں تمہارا مام ہے ارثاد کرشنکہ رہے ہیں میری آسریت مطلب تم اپنے آپ میں جہاں کرشنک میں کہ رہیں وہاں جس نے اپنا آسریت دھانا ہے ایسے جو جان یوج سے جان یوج روپی تپسے پویترا ہوئے بھاونا سے نہیں مانیتا سے نہیں یاس یا جان مائم تمہا ہے جو جان سائیوب تمہا ہے جان تم سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی تم نہیں یوج کی درستی سے ایک اگر تپ ہے

لیکن جہاں پتنجلی کا ایوگ درستن سمابت ہوتا ہے جہاں قریعیوگ سمابت ہوتا ہے وہاں سے جان یوج شروع ہوتا ہے قل وتایا تھا کہ چھے ورش قریعیوگ کی ان لگ الگ اپاسنا ہے کرتے کرتے آخر گوتم تھاکے اور جب تھاکے تھوڑا ویگ جگا تو گوتم اکلے گوتم نہ ہوئے گوتم بود ہو گئے تو پتنجلی کا ایوگ کی آترا کرتے کرتے جب کشہے پریپک کو ہو جاتے آتوات تو گیان کی قرن مل جاتی تو یہ ستھول شریر سوکشمہ شریر کارن شریر ان کے ساتھ کا سبند ویچھے د کر کے جیو اپنے سیو سو بھاو کو پالیتا یہی کرشن بھاو کو پانا ہے یہ سوکشمتا سے بات سمجھے

سی کرشنہ کریں ہیں کہ آسلت رہنے والے ہیں ایسے گیان روپت پسے پویترا ہوئے بہت سے بھگت میری بھاو کو پر آبتوے ہیں میری بھاو کو پر آبتوے مطلب جستتتوں میں جسسو میں میں جو قاتیوں ہوں اسی میں بھے پر آبتوے ہیں مجھ سے تنککہ نہیں ہوئے کوئی لہر اگر گیان یوںگ میں آگئی تو ساگر کہتا کہ میری بھاو کو پر آبتوے کیسے میری بھاو کو پر آبتو ہیں کہ وہ ساگر ہوگئے وہ جل راشی ہو گئے تو جل راشی پہلے تھیں, اسی بات کو گیتاکار نے آگے کہا, ممائی وانشو جیوالوں کے جیوہ بھوتا سناتنا ایش ور انشو جیوہ اویناشی چیطن ویملہ سہے جسوکھ راشی جو تمارا واسطویک جس کو تم جیو میں میں مانتے ہو وہ بھی چیطن ہے جر میں میں نہیں بول سکتا ہے, یہ منڈپ میں ہوں ایسا نہیں سے پتا

ایک بات میں ہوں ایسا نہیں بولے گا, پہاڑ میں ہوں ایسا نہیں بولے گا جب جب میں ہوں بولے گا تو چیطنے کی ستا سے ہی تو محراموں بولے گا جی بھی لے گی, ہیل چال تو اور جر پدارتھوں میں بھی ہوتی ہے لیکن ان کو اپنے آستیتوکہ گیان نہیں ہے ان تمہیں اپنے آستیتوکہ گیان ہے پھر آستیتوکہ گیانتھوں میں نہیں ہے تمہارے اردگر جو سادن تھوپے گئے ہیں اور جو سنسکار تھوپے گئے ہیں ان سنسکار اور سادنوں اور آستناوں کا گڑگو بل کر کے تم اپنے کو کچھ مان لیتے ہو آئے کچھ کالے سفید بال ہے آئے کچھ ہاد ماز, آئے کچھ رکھتپن آئے کچھ چنچلتا اور ایکا کرتا ہے بودی کا نرنے اور نرنے ہیں ان ساب کو ستا تم دیتے اور ملا جولا کے اس کو میں مانتے ہو لیکن جو گیان یو تپسے پویتر ہوا ہے

وہ ایسا جو سادق ہے وہ بھگوان کہتے میری بھاو کو پرپت ہوا ہے تو بھگوت بھاو کو بھگوت انو بھاو کو ہم کہیسے پرپت ہوں کون پرپت ہوتا ہے کہ ویتا راگا بھگ کرو دا جس کا راگ گیتیت ہو گیا بھگ گیتیت ہو گیا کرو د گیتیت ہو گیا بالگ کا راگ سوشوبت ہے اسلی ہو سندر سواہا نہ لکتا ہے نشچنت رہتا ہے اور اس کو دیکھر ماباپ کی تھکان بیمتی ہے سنمھر کے لئے بچے کا راگ سوشوبت راگ ہے کے لئے اس کی سہج بول چال حل چال توتلی بہشابی ماباپ کی کچھ دیر تک تھکان مٹا دیتی لیکن جن منیشوروں کا گیانی ہوگ سے بھائے راگ کرو د چلا گیا ہے ان کی بول چال سادہ کو کی جنم مرن کی تھکان

مٹانے کا سامر کرتے ویتا راگا بھائے کرو دھا من میا مام قپاش ریتا ہے جن کے راگ بھائے اور کرو دھ سروتھا نشت ہو گئے ہیں اور جو میری ہی پرائیں تتھا میری ہی آسیت رہنے والے ہیں جن کے راگ بھائے اور کرو دھ چلو ایک ایک چرن پر آیں ویتا راگا بھائے کرو دھا جن کا راگ بھائے اور کرو دھ ویتیت ہو گیا تو راگ بھائے اور کرو دھ ویتیت ہو گیا ہے تو راگ بھائے کرو دھ ہوتا کیسے راگ ہوتا ہے مٹنے والی بسطوں میں آساقتی کرنے سے راگ ہوتا ہے مٹنے والے نشور بھوگ پدارھوں کو پانے کی اچھا سے راگ ہوتا ہے

اچھا اسے بسطوں میں اس پرستیتوں میں اگر کوئی ویگنے دھا آلتا ہے تو اپنے سے چھوٹا آدمی ویگنے دھا آلتا ہے تو اس پر کرو دھا ہے اور اپنے سے کوئی بڑا آدمی ویگنے دھا آلتا ہے تو بھائے ہوتا ہے اتوا تو یہ جو دھن دھنیا مان پرٹیشتا ویبھو آدمیلا ہے وہ ہم سے چھوٹے نہ کہی چھوٹ نہ جائے اس پر کر کا اندر بھائے بنا رہتا ہے جو کرسی ملی ہے جو باوائی ملی ہے جو گھر بار ملا ہے اتوا جو یہشن بنگور دھے ملا ہے وہ کہی چلا نہ جائے اس کا بھائے بنا رہتا ہے تو راگ بھائے اور کروض کا ادگم استطان ہے نشور پدارھوں میں نشور سبندوں میں نشور دھے اندروں میں شاشت کی نائی

پریٹی کرنے کی گلتی جائے دنیا کے سارے دکھو کا ادگم استطان یہ ہے کہ پریورتنشیل پرستیتوں کو تھام نے کی گلتی کرنا اور ان پدارھوں کو آج تک کوئی تھام نہیں سکا چھائے سے چھوٹے راجہ ہو چھائے پر جا ہو چھائے صادو ہو چھائے پیر اولیا فکیر ہو چھائے اوطار ہو لیکن ایسی گھڑی آتیے کے ساروہ سوچھ چھوڑنے کی فراج سب کو پڑی ایسا دنیا میں کوئی مائکال آل پیدا نہیں ہوا کہ ملے ہوئے دھے کو ملے ہوئے دھن کو ملے ہوئی ستا کو ملے ہوئے مان کو ملے ہوئے پرستیتوں کو ملے ہو ایسا آج تک دنیا میں کوئی آیا نہیں آئے گا نہیں اور آج سکتاب نہیں ہے پھر بھی سب دھمادم کی جا رہے پھر

پھر دھمادم کی کی جا رہے کہ اگ جانین آورتم جانم اگ جان سے اگ جان دھک گیا ہے اس لئے بچارے بچارے جنتو کی نہیں بھی موحیت ہوتے اگ جانین جانتین موحنتی جنطوہ بھی طرح آگہ بھائے کروضہ منمیا ممپاشرتہ تو بھائے راگ اور کروض چلا گیا تیاجی نے دیکھا کہ سب چھٹ جائے گا چھے کروض ہوتو بھی چھٹ جائے گا تیاج آگیا سب چھٹ گیا سادھ ہو گیا نشور چیجے ناشو جائے گی اس کے پہلے چھٹ کے سادھ ہو گیا لیکن ممیا نہیں ہوئے تو مجھ میں اندر میں نہیں آئے تو پھر یاد رہے گا کہ میں نے ایک کروض چھٹ جائے میں نے 2 کروض چھٹا میں نے نمک چھٹا

چھٹا میں نے جل چھٹا میں نے فل چھٹا لیکن ممیا نہ ہوا تو تو بھی گلٹی کر لے گا. اس لیے ایک تو نشور چی جوں کی آستا چت سے ویک کو بودی سے ہٹای جائے اور دوسرا شاشتے سوروک میں پریٹی کی جائے بس دو ہی کام کر نہیں ہے تم نے کتنے سارے کام کے بچپن سے دیکھو تم کتنا پڑھے, کتنوں کی خشامت کی تم نے پھرے پھرے, ساسو کے پیرچھوے ساسروں کے پیرچھوے, مشتروں کو رجھایا اب کسنکوری جانے کے لیے گروکوری جانے کے لیے دو کام کرلو دنیا تو میری جاتی پھرے گی تم ایسے ہو جا ہوگی پھر دنیا تو میری منوطی مان کر اپنا کام کرنے لگ جائےگی تم ایسے مان ہو جا ہوگے گے والدوی کام کرنے کیا؟ ایک تو نشور بسطوں کو نشورت مان لینا ہے

جیرام جیگی اور شاشت چی جوں وہ میں روپ میں جان لینا ہے بس کو جادہ میند تھوڑے نہ رایا نا وہ نہ رایا نا نہ رایا نا رایا نا رایا شاشترا سب پر سمنا ہو جائیں گے ریشی منی تم پر پر سمنا ہو جائیں گے یقش گندھر وکنروں کو دکھا رہ جو تماری چاکری میں نہ لگ جائیں اور ان دیوطاؤ کو بھی کمپیٹیشن کرنا پڑے گا تمہارے کام کرنے کے لیے تم اتنی مان ہو جائیں کیوالی دو بات کریں بھگوان جاہتھ رہے ہیں بھگوان چاہتے تم ماتھ ہے جو بھگوان کی نگا وہ تم اپنی نگا بنالوں برمگے تاکہ انو بھو تم اپنا بنالوں اور کوئی تمارے سے بھگوان یا سندھ کچھ چیننا نہیں چاہتے اگر چیننا چاہتے ہیں تو نشور پدار تھوں میں جو بیوکو پھی سے آستہ ہو رہی ہے وہ بیوکو پھی چیننا چاہتے ہیں اور شاشت اتما بھگوان پرائے لگرائے

یہ پرائیپن چینتے اور تو بیچارے کوئی چیننا بھی نہیں چاہتے ہیں اور کوئی بھگوان یا سندھیا شاہتر تم سے چینتے ہوں تو مجھے باتا ہے میں چلونگا ساتھ میں اور تو نہیں چیننا چاہتے ہیں ستشاہترہ ہم لوکوں سے اگیان چیننا چاہتے ہیں اور اشور کے بیشے میں پرائیپن چیننا چاہتے ہیں اشور کو پرائیامان کر دورامان کر اگر بھجن کریں گے نے تو برکت نہیں آئے گی تو جمی اتنی تاکت ہے تو جوتے کو اپنا مانتا ہے بھانٹن پین کو اپنا مانتا ہے تو کیوں بھگوان کو پرائیامانتا ہے اور پھر دوکی ہو رہا ہے ارے یار منوشجنم پاکار بھی تو دوکی اور پریشان رہا تو بڑے شرم کی بات ہے دوک اور پریشانی تو ویوتا ہے جن کے مائباب مرگے مائباب تر آتما تو توی ہے پھر کیوں دوکی اور چینتے ہوتا ہے تو یہاں آج کا شلوک ہمیں سک دی رہا ہے بگود گیتاکے چوتے ادھہے کا دسما شلوک ہے

میں اپنی اور سے کچھ نہیں کہی رہا ہوں شلوک کی ویا کیا کر رہا ہوں جیرام جکی بیتر آگہ بھیا پرودہ راگ چلا جائیں جب جب دکھ ہوا ہے آپ گہی رائی سے خو جنگے دکھ کس نمیت ہوتا ہے ایمان داری سے جرگ ہوتا مارکے دیکھیں جب جب دکھ ہوتا ہے بھائے ہوتا ہے یا کروض ہاتا ہے تو کس نمیت ہاتا ہے تھوڑا سروب کر دیکھیں جب جب بھائے آئے کروض ہائے یہ دکھائے تو دیکھنا کی یہ کیوں ہوا آتا ہے اور آپ اسے سمت ہو جاتے انستاکسر کا کے چالو گاڑی میں گود گا مارلے تھے اور آپ کی پرانی آتے دے چالو گاڑی میں بیٹھیں گے لیکن ابھی تھا مو پہلے پاتیہ دیکھوں کہ یہ گاڑی کہاں جا رہے کم سے کم اپنا گاڑی کا نمبر تھے اپنے گھر میں جانے والی گاڑی

بلے کھلی ہو کوچھ ہو اسی لگی ہو لیکن تمہرے کام کی نہیں اور تمہرے گاہوں جانے والی گاڑی میں بھلے سیٹے توٹی فوتی ہو پھر بھی قود کے اسی میں بیٹھنا پر ای گاڑی میں بیٹھیں پوتانا گا میں جتی اشتی بھلے لگزری ٹائپنی نہ ہوئے سیٹو بھلے ایر کنڈیشن نہیں بیوستہ والی نہ ہوئے چتا ہے پوتانا گاں جتی گاڑی جتہمہرہ اوکیوگنی چھے پارکا گاہم لی جائتے گاڑی تمہرہ ماتے مفتما بہڑے توئے نہ کامی نہ کامی نہ نہ کامی ایو اتما کوئی نے سندے ہو تو پوچھی لے اب تمہرہ گاں کیا تمہرہ گاں وہی ہے جہاں جانے کے بعد تمہرہ ادھا پتننہ ہو جہاں جانے کے بعد تمہرہ تھاکان میٹے اپنے گھر جاؤگے تو کیا ہوگا بجار گئے ایدھر گئے ایدھر گئے ایترہ گئے ایترہ گئے تو اُدھ سا سے لیکن

بھاگے بھی اُتنا تیجی سے گھرے جیتنی راتاش پوتانوں گھرے پروٹھیو چھےڈو تمہے گمے بھی دکشن بھارتنی ایترہ کروں نپاڑنی یاترہ کروں پنچھے وٹے تھاک اُتا روانو بھی چاراو سے دوڑیا دوڑیا گھرے آو سبولو سیدپور پوچھے نمومبی والوں مومبی گھر ہمت سے نصورت والوں حولتما ہوئے مارو گھرے پروچھوی نو چھڈو تو یہ گھر واسٹوں میں تمہرہ نہیں یہ گھر تمہرے شریر کا گھرے شریر کی تھاکان میٹانا ہے تو چار دیواری میں آو اور تمہرے یہ گھر میں آو تمہرہ بھی گھرے اُس کے سیوائے اور کوئی اُپائے آج تک سفل گیا نہیں اُس کے سیوائے کوئی اُپائے آج تک سفل پل نروپ سے سفل گیا نہیں یوںک واسٹ کا پر سنگ آتا ہے کہ برمھا جینے

سرشٹی رچی اور جیوں کو راگ بھائے کرو دیچا دوش دوکھی دیکھا جیے سے دوشیار پتھروں کو کا دوکھ دیکھر کوئی اُپائے کرتا ہے اور اس کے لیے اُپائے کرتا ہے اِس سے برمھا جینے دیکھا کہ جیوں بیچانے دوکھی چلو یاگ گیا ہوں ہواہن کی پتھ دتی کا پر چار پرسار ہوتا کہ جیوں سوداہ سو آہا کر کے پرانو بائیوشود دکھر کر کے اپنے من کو تھوڑا ایکا کر کر کے یہاں بھی تھوڑا سوکھی رے اور پیا کہ اتنا کرنے کے بعد بھی وقتی کی ایک آگرتہ ہوتی اور سنسار کی چیجوں کو پکٹہ مرتدام تک چھوٹہ نہیں اور سورگ میں آتا ہے تو سورگوں کو پکٹہ نہ سورگ میں سدارے سکتا ہے نہ یہاں سدارے سکتا ہے نہ نہ رکھ میں سدارے سکتا ہے بہار کی چیجوں سے آدمی سدہ بند کے رہی نہیں سکتا اورے مجھے سرشٹی کرتا کو بھی کلپ کے انت میں روانہ ہو جانہ پڑتا ہے تو میری اتفن کی ہوئے جیوسادہ کیسے رہ سکتے ہیں ایک دم سیڑی باتے ہیں تو مراتری کو سپنا دیکھتے ہو اور سپنا میں آپ نے دیکھا

ایک صندر سو ہا ہوں نہ کم پکسے اور اس میں کئی دکانے ہے ہا ہر آج ایک ہلوائی کی بھی دکانے ہے ایک بھتو گرافر کی تمام دکانے اور دکان میں گرھاک بھی اور گرھاک پھٹو لئے وہا رہے ہیں اپنا ہے ہلوائی کی دکان پر میں ٹھائلے رہے ہے اب دیکھو کہ ان کا میتھائی لینہ یا پھٹو لیوانہ ایک تبتک جندہ ہے جب تک تم سوپنے میں ہو تمہارے سوپنے پروس تبتک جیویتے ہیں جب تک تمہاری سوپنے کی آوستہ ہے جب تم شاشوط نہیں تو تمہارا سوپنہ کیسے شاشوط اور تمہارا سوپنہ شاشوط نہیں تو وہ میتھائی کی دکانوالہ حلوائی کبتک شاشوط رہے گا اور میتھائی کی چاہت پر مومے پانی لانے والا کبتک رہے گا سمجھ رہیں بجراتی میں کہتوں تمہ سوپنو جویو انہیں سوپنہ ما آکی بجاہر دوکان کمپلاکس بھی جو تیجو آم تیم بڑو جویو انہیں کوئی میتھائی نہیں دوکانے کے مڑا ہم پانی لیوان کوئی بھوسو چاہتو ہمتے ہو چاہے

اندیسنو ہا چونے تو کتھوں کیا ہوا دی ہا چونے جاسودی تمہارو سوپنو جہے ایویری تی آتہمارا بیسنا اٹھنا آانا جانا یہ برماجی کا سوپنہ ہے تبتک اور اس میں بھی جیسے چالو سوپنے میں کئی لوگ پیدا ہو جاتے کئی مر جاتے کئی بمٹ جاتے ایسے برماجی کے چالو سوپنے میں بھی تو ہم کئی روانا ہو جاتے دیکھتنے نے چالو جگ جائی کامانگوں کا چوستیرنا رہا ہے دیکھتے دیکھتے آخوں کے دیکھتے دیکھتے جگت پسار ہو رہا ہے کہہ رہا ہے آسما یہ سما بھی کچھ نہیں رو رہی ہے شبھنا میں یہ نظارے کچھ نہیں جن کے مہلوں میں ہزاروں رن کے جلتے تھے پانوش جار اُن کی قبر پہ ہے اور نشان کچھ بھی نہیں جن کی نوبتوں سے گنجتے تھے آسما وہ کتھ بے دن ہو گے اب ہونہ ہا کچھ بھی نہیں کہہ رہا ہے آسما یہ سما بھی کچھ نہیں رہا جادی رہا جندا تھا مہاراعد

پھلوں کے پر ساتھ گو جاتی تھیں مہاراعد سڑ کے بند ہو جاتی تھے ہیں نگارے اور طوریاں کے گغن گنجاتی تھے ابھی دیکھتا سوپنہ ہو گیا ہے فلانا وائس رہا ہے فلانا سا بایا ہے فلانی لیڈیا ہے پلس بندوں پس ہو رہا ہے اب دیکھوا کہاں گیا سف سیدی سادي یہ کجوان تمارے جو یہ مہگوجراد دیکھ دا مدھم چالو یہ وقت ہے حچولاک تت ایکژہم تکژہم کایا کراکا رہا حمشی مومبی عملا پائی جی ابھی دیکھتا سوپنہ ہو گیا چاو ماؤ ساہ دھان جاکュتا ہے ہندسطان ہو ابھی دیکھتا بعد سوپنہ ہو گیا दुपनू ग॓वेचछुछुव लुए प। बहुवादूनू बहुवादूनू जिजए जिए बहूप दुभ। आसेगव ही समेगी सरेताद में सھःटरी हमलोकुदुछुग। नूगुगॉण तु येच्आ पारक तुब द्ति येच्च्च येच्च। چیشتاوں کو شاشت سمہلے کا جو آگر ہے وہی آگرہ بھائے راگ اور کروض کو جنم دیتا ہے

جیسی کرشنا جو بیت گئی سو بیت گئی تکدیر کا شکوہ کون کرے جو تیر کمان سے نکل گئی اس تیر کا پیچھا کو جو لاب ہوا سو ہو گیا جو گہتا ہو گیا سو ہو گیا جو مان مل گیا تو مل گیا اپنان ہو گیا تو ہو گیا قاہتا گوس گیا تو نکال کے نیسچن تو قاہتا کس نے رکھا اور کیوں گوسا اس کی چنتا میں مطلب اور نکال کے پھنگ دیا تو پھنگ دیا پھر قاہتا لگا تھا میں نے نکالا تھا پھنگ دیا اُدر چنتن مد کرتو ایسی ویوار میں کئی کانتے آئیں گے لگیں گے کئی بار نکلیں گے لیکن تو سمجھتا جا سمائی کی سریتا میں سب بہا جا رہا ہے اس پرکار کا جب تو بیویک درہ رکھے گا جان میں تبقے درواجے پر پہنچے گا تو تو سری کرشنا کے بھاو کو پر آفت کر لے گا جاہا سری کرشنا مستے ہیں باہی تو پہنچ جائے گا باہی اُس کا مطلب نہیں کی باہی اُس کا مطلب نہیں کی دا کر جی

سری کرشنا مستے ہیں اپنے اپنے اپنے اپنے مستے ہیں اسلی اُن کو دیکھ کر سب لوگ مستے ہیں جو اپنے اپنے نہیں ہے اُس کو دوسرے دیکھ کر مستے کیسے ہو سکتے ہیں جو خود کے گھر نہیں تو دوسروں کو خود کے گھر کیا پہنچا ہے گا مہراجز ویطر آگہ بھائی کرو دا من منا معمو پاشتے تھا سروطہ قروض جس کا نشت ہو گیا ہے اور جو میرے ہی پرائن تتا میرے ہی آسیت رہنے والے ہیں میرے پرائن مانا کتنا بھی دھان ستتا وستوے ہیں وہ سمجھتا ہے سادق یہ سب پہلے نہیں تھے جنم کے پہلے یہ بسطوں کی مالکت میری نہیں تھے اور ابھی بھی یہ مالکت نہیں کے طرف جا رہی ہے اس پرکار کا اس کا ویک انو بسطوں کا اپیوگ کرتا ہے لیکن انو بسطوں میں آسرے نہیں کرتا

بسطوں میں شاشتہ کا مہر نہیں لگا تھا جنم کے پہلے میں تھا جنم کے بعد بھی میں رہوں گا جنم کے پہلے یہ سرے نہیں تھا تو یہ سرے کی وستوں اور سبند کیسے مرنے کے بعد یہ سرے نہیں رہ گا تو اس کے سبند کہاں لیکن جنم کے پہلے اور مرنے کے بعد جو میرہ چدگنچہ ایتن نکرشناتتو آتما تھا اس کی جو سرن لیتا ہے اس کو میں مان کر اس میں جو آرام کرتا ہے تو پتی پاتا ہے اس میں پر تشتیت ہو کر پھر یا تھا یوں گے بیوار کرتا ہے وہ بھگوان کے آسری تھا ہے اچھا تو انو بسطوں میں سے ان کو سب کو چھوڑ دے میں نہ تو ان سب کو پکڑے نہ نہ چھوڑ نہ ہے نہ پکڑ نہ ہے ان کا اپیوگ کر نہ اور حکی قت میں اپیوگ کیے بنا کوئی رہے گا نہیں

اپیوگ تو کرتے ہیں لیکن آسرگتی بوددی سے کرتے ہیں آسرگتی سے کرتے ہیں شاشت وط بوددی سے کرتے ہیں تم گھر میں رہو منا نہیں لیکن گھر میں جو آسرگتی ہے تیجوری میں روپا ہے لیکن روپے ہوں میں جو آسرگتی آسرگتی بھائے دیتے نہیں تو تھوڑے روپا ہے چاہلے گئے بھائے گا ہے آگے تو آگے لائے کچھ نہیں تھے میں نے سنائی تھے کہانی کہ ایک کوئی جیوان مگت محاپوروسکے کوٹیا پر داکہ ہونے داکہ داکہ لہا انہوں نے تمہر آج ان کا جو آگیوان تھا داکہوں کا مہر آج آجاروں لوگ تمہرے باستے جاتے آج ہمارہ بارہ ہے دکشنہ لینے کا کالی ہی گروپنم بیتا ہے مہر آج جو کچھ ہے مال دے دو بولے میں کیا مال اٹھاکہ دو ایے دیکھ یہ میری اپر کی چاہدریہ

اور نیچھے کی چاہدریہ دونوں اطار دیتا ہوں یہ کوپین پر کے میں بہر دیاتا ہوں جو کچھ چاہیے تمہر اپنا سمجھ کے گتھریہ باندوں اب بابا جی تو انڈر سے جیوان مکتو تھے ویرکتت تھے وہ مال تھال تو سمیتیاں سموال تیدی بابا کے پاس تو کوڑی دمڑی نہیں پھٹی باکی جو کچھ تھا سر سمان شریڈ کی جارویات کپڑے لتے بیچھانا بیچھانا ہے کچھ بابا جی تو تیلے پے جا کر ناچھنے لگے کہ ہجی نفامہ تک دینہ دین ابھی نفے میں تک دینہ دین انوں نے جو کچھ سر سمان باننا تاپنی روچی کے نوصار دیکھا ویکھا بان دھے ایک دو بھٹلی سر دار دیکھتا ہے کہ دیکھا کہ بابا جی کہا چاہلے گے کہیں پولیس میں تنے گے دیکھا کہ وہ ٹیلے پر ناچھ رہے کہ تک دینہ دین حجی نفامہ تک دینہ دین حجی نفامہ ابھی نفے میں او دکے تو گا سر دار گیا کہ بابا جی کیا بات ہے ابھی نفے میں تو کیا یہاں ٹیلے کی نیچہ دنگا رہا ہے بولے یہ بھی خود لو نی بابا جی آپ بتا اور نفے میں کہے سے بولے آئے تھے

تو کوپین نہیں تھے لنگوٹی نہیں تھے اور اتنا تم کرور داکہ دالنے کا تیاری کرکیا ہے پھر بھی لنگوٹی تو نفے میں رہے گیاں اور خایہ پیہ وہ بھی نفے میں رہے گیاں خایہ پیہ وہ بھی نفے میں رہے گیاں انوبوکیا وہ بھی نفے میں رہے گیاں اور کوپین تو تم بھی نہیں چینوں گے بابا جی کا نردوش پرم قتاکش پڑھتے ہی وہ صردہر کا چتبضل گیا تو پھر انوچر گتریاں کھول کے وان رکھ دیے مافی مانگہ اور مافی کیا ہم نراجی نہیں ہے جو اپنے آپ اپنے ٹھیک سے راجی ہے اس پر دکت بھی راجی ہوتے اور جو اپنے آپ میں راجی نہیں ہے اس کی ممساب بھی نراجی جو جاتی اور مشتر بھی نراجی ہوتے مش اس بھی نراجی نراجی نہیں نراجی نہیں نراجی نہیں نراجی نہیں نراجی نہیں نراجی نہیں

نراجی نہیں دیکھا اپنے آپ کو میرا دل دیوانا ہو گیا نہ چھڑو مجھے یاروں میں خود پے مستانا ہو گیا ویتر آگ بھائے کرو دو منمیا ماموبا شریتا ہا بھو گیا نتبسا ہا پوتا مد مد بھاوان مد بھاوان آگتا ماجتا جن کے راگ بھائے اور قروض سروطا نشت ہو گیا ہے تو آپ سمجھ گیا ہوں گے راگ بھائے قروض کیوں ہوتا ہے نشور وستوں میں آسفتی سے راگ بھائے اور قروض ہوتا ہے یہ بس تو یہ پدو یہ عموک میرا بھنا آ رہے پولوں کی مالا آئتوا پول آیا

آ چھڑھا لیا کسی نے سویکار کر لیا اُس کو پرسانتا ہوں سنوگ لیا ناسے کا کو پرسانتا ہوں رکھ دیا تمکھم مجھا آ گیا اب یہ پول روج آتا رہے ایسا ہی بھنا رہے اور ملتا ہی رہے یہ مسیبت پیدا ہوں جی جی آ گیا تو آ گیا مل گیا تو مل گیا ہو گیا تو ہو گیا نہیں آیا وہ ٹیک سے بھوتا ہے آ درش بھوتا کا لکشن کیا ہے مود بھوتا بھگوں کی چنتا بھگوں کو سمحالنا بھگوں کو پانا اور بھگوں کے لئے پچھ پچھ کے مر جانا یہ مود بھوتا کے لکشن ہے آ درش بھوتا بھگتا اپنے آپ میں ٹرپت رہتا ہے بھگ کچھ کر آتے ہیں مہربانی کرتا ہے مہر پرٹی موجاتی تو بھگ کا اپیو کر لیتا ہے نہیں تو بے پرواہ کرتا اسی کا نام آ درش بھگتا آ درش بھگتا مانا بھگ اس کے پیچھے مندارتے ہیں

اور مود بھگتا بھگوں کے پیچھے بھاکتا ایسا نہیں کے کرسنگ کھاتے پیتے نہیں تھے رہے تمارے سے بہت بڑیا کھائے پیچھے جنک نہیں کھاتے تھے پیچھے تھے تھے تھے تھے تمارے سے بڑیا جیے ہوگے کبھر جی نہیں کھائے پیچھے آہے بہت بڑیا جیے ہوگے لیکن بے آ درش بھگتا رہے اُن کو پتا تھا کہ بھگوں کے لیے ہم نہیں بھگ ہمارے لیے ہیں سنسار کی نشورتا کے لیے میں اپنے آتمگ ہاتھ نہیں کروں گا کو پیچھ دے کر چھائے پکھر نے جاتے ہو تو چھائے کتھ نہیں جلدی تمارے آتا ہے پتا ہے پتا ہے کر کے دیکھنا اور چھائے کو پیچھ دے کر سورت کے طرح بھاکتے ہو تو چھائے تمارے پیچھے پکھ کیسا ہاتی جو سورت کے طرح بھاکتا ہے تو چھائے اُس کی انگامی نہیں ہو جاتی ہے لیکن جو چھائے کے طرح بھاکتا ہے چھائے اُس سے دور بھاکتی جاتی آہیسے ہی جو اپنے انتری کا سکھات کیا کر کے بھاہر کے چھائے جیسی پرستیٹیوں کو

تھامنا چاہتا ہے اور ان کو پکڑ رکھنا چاہتا ہے اُس بچارے کے حالة تیسے ہو جاتی

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →