Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 11, 2026

Jan 11,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

About this episode

Jan 11,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Transcript ready

972 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 11,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 11,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

ード sjukhbho ki chah accommodation bo poradhin pte hai ho sadhand nervous mash paadhing tana ie de bold paadhing tana ie sankul ramp selfies paadhing tana اصادن میں پرہدین تا ہے سادن میں سوطنت رتا ہے اور سادن سادی سے ملاتا ہے شور سادی ہے سادن سادی سے ملاتا ہے اور اصادن اصادیت کے طرف گست کے لئے جاتا ہے اصادن کا سکھ لیں گے توکشنمبر تو سکھ ملے گا جیسے داد خوجلاتے بعد میں تاپنور پیڑا سہرے بوجیوں کی گہرائی میں دیکھو جلسی میں تاپن میں تپرے

وستو کی پرابتی ویکتی کی پرابتی کوئی بڑیہ آوستا کی پرابتی کا سکھ لینے کی جو آدت ہے وہی ہی آسادن میں آباد کر دے سادن سوطہ ہو سکتا ہے جیسے سواصل سواصل بس میں بیٹھے بھی آپ گنتے سادن کر سا بس میں پیسنجر دیکھے پیسنجر کی گہرائی میں میرای پرابوے یہ سادن سائج میں کر سا چلو تو جرہ آسمان دیکھیں آسمان سب طاری طاروں کا چاند بھی تن جان میں چمک تیری ہے پرابو تیری ہے سائج میں سادن چلو تو بجار دیکھیں بجار میں سب آدم بجار میں سب لوگ ہوتے بجار میں سب آدم

اور تیرا مکان آلا جہتا بسا ہے تو. سادن سائج میں ہوسکتا ہے. یکن آسادن کی آساکتی میٹانے کے لیدھان کرنا پڑھتا ہے. آسادن کے سکھ کی روچی میٹانے کے لی آتنس سکھ کا بیھان کرنا پڑھتا نہیں تو آتنس سکھ سکھ نہیں وہ تو جو ہے بس وہی ہے. تو پھر سے دیان دے کہ وستو کی

ویقتی کی اور کسی ویشش بوگ ساما درگری کی پر آبتی سے اگر اپنے کو سوکی بنا ہو گئے تو نوستو کی ویقتی کی اور پرستیتیوں کی پراد ہنتا بنے رہے گی اور پراد ہینا سوپنے سوکھ نہیں جی جے پراد ہینا سوپنے سوکھ نہیں سویدہ ہو سکتی اور اندر آہم کہے کہ کہ حپن سوکی ہے اور کم سادنوالے کو دیکھے کہ حپن سوکی اسے جادہ سادن ہوگے تو سوکھ روگے جگت کے دوارہ سنکل پپورتی ہو جاتی ہو جانے دو ایشور کے دوارہ آپ کے ہواشکتا پوریوتی سنکل پورتیوتی تو ہو گئے سنکل پپورتی کا سوکھ بھوگ نہ لے سوکھ سادھن کالے سادھن بھجن کا سوکھ نہیں تو سادھے کے طرح پہنچ آگہ اور کوئی سویدھا ہوں کا سوکھ لیا

اوپیوں کا کرو سوکھ نہ لو موجن کا اوپیوں کروگے تو سواز چی رہے گا اوپو بھوگ کروگے تو بھی ماری ہو جائے گے سادی ہوا پتی پتنی گراسجی بن کا اوپیوں کرو ایک دو بچے کو تین کو جن مدو چار کو پاچھ کو درس کو دو سنی ہم سے کوئی منا نہیں ان سنی ہم سے دی رہو تو وہ بڑیا ہو جائے ان اوپیوں کو کرتے اوپریشن کرا کے کے دے دمہدم کر کے اپنے کمار تو دے تے ستیاناست کر دے جل دی جی رہا ہوں جاتے جل دی بھی کار جدا وہ گئے گیں تو پہر لائیس کی بھی ماری آ جائے گے یا وہ کارے گے کیا کیا ہوں انسى اوپیوں کوئی فال ہے دکھ جیسے دادر خوجلان ہم تو مجادے تیو آدمی جلن اور پیدا ایسے یہ جنکل پپورتی کا وستو یکتی اور پرستیتیوں کا وہ گھوگ کرنے سے بھگتا کشین ہو جاتا آپ نبائی بھاو کے کابلی ہی نہیں رہتا

اور سنکل پکیسی کے کچھ پورے ہوتے کچھ نہیں پورے ہوتے تو جو آواشا کہوں گے اپنے پورے ہوں گے جو آن آواشا کہاں کی پورتی کی لیجنجت میں کیوں پڑوں مگان بیچنا آئے بیچنا آئے بیچنا چلا تیرہ ہوتو مگان کی ویلوی کم موجاتی بیچنا آئے سنکل پکر دیا سمئے سے گراک آگہ جاتا دا تک سے پیسے ملت اور جو گھومتے پھرتے تو گراک بھی باکتے جاتے لگا دو بود ہوں یہ مگان بیچنا آئے پھر دیکھو لوگ دیکھیں ناکسا کر کروانا ہوتے سنکل پکر لگے رہتے تو سنکل پپ نہیں پورا ہوتا سنکل پپا چھوڑ دیا ہپنے آپ پورتا ہوشکے پورا ہوتے گا نہیں ہوشکے تو چھوڑ دو ٹنجن کیو اپنی سکھ بھوکا سنکل پپ نہیں پاستنا رکھیں تو کیا کریں کٹومیوں کے اوالے کر دو پڑوسیوں کے اوالے کر دو سماج کے اوالے کر دو بیشوہ کے اوالے کر دو پر بھوکے اوالے کر دو جس کو آپ کے عرامن تے اس کے اوالے کر دو سو آگہ بیچو تیری مارجی

اپنی مارجی تو منج بھی آلے ایک وار میرے گورو دیا نے مجھے ایسا فریکٹری کر سنکیت کیا ابھی مجھے پتا چاہا ہا ہا ہا ہا ہم دیسا میں رہتے تھے گورو کیا گیا سے تو جہاں کٹیا تھے وہ بھیلوں کی بستی میں کسی نیتانے جمی نہڈاپ کرنے کے لئے کٹیا بنا دیتے ہو سپیٹل بنانے کے لئے پزیشن اور سنتوں کے باسто نیتا بھی آتے لوگ گیا تھے اور نیتا کے بھی رو دپکش میں نگر پالیکہ میں ہوتا پور تھا وہ جمی نہڈاپنے کے لئے ہو داکٹر تھا جمی نہڈاپنے کے لئے کٹیا بنا دی باونڈری باونڈری باونڈری باونڈری دی تو لوگوں نے ہوا پو کیا اس نے وہ لہ میری تھوڑی ہے تو لیلا سب باپوں کی ہے میں آسپیٹل تھوڑی بناتے یہ تو باپوں کے لئے کٹیا بنائے لوگوں نے اور ہم نے مل کے بنائے ہوا لوگوں نے ناک میں دم کیا تو آگے ہیں باپوں کے پاس باپوں کو گولا کے ایک ساعداک بھیج دو آپ کے نام کا میں نے آسپیٹھا باپوںے کا بھی تم نے تو پوچھا بھی نہیں تھا بھلیں نے بنایا ہے پوچھنے کی نہیں پوچھنے کی قلتی ہو گئے

کوئی ہاں باپوں ہاں سے بلے چھاٹھ ہی کہتے رہاں آسا رہاں تم جاؤ در رہاں میرے کو آگیا کر دی تو میں اس کٹیا میں رہاں تو اس کا ہو ہاپوں تو تھوڑے دن میں شان تو کہ ایک گلیلہ سا باپوں کا چلہ رہاں جانو بھیجن وہ جگا ہے سے جگا تھے بھیل باستی کی جم اس میں دے تو آتے جاتے ایٹھتے بیٹھتے بھیل کے بچے بھیلے وہ رہاں وہ پڑپٹھی وارے تو دو دن بھی ساعدان مجھن نہیں ہو ساکے تو میں نے گروجی کو چیتھی لکھا کہ میرا پریچھت ہے جگا نردہ کی نارے گفا ہے اُدھر میں ساتھ نہ کرتا تھا اب آپ کی آگیا ہوتا میں چلہ جہاں رہاں کو تو کتے بھوںکتے ہیں اور دین کو یہ بھیل کے بچے بھوںکتے بڑا جو رہوں کا بھی بھوںکتے اور دیوالوں پر نہ جانے کتنے کتنے کتنے گندے شابدہ ان کے آدت کے نصار لکھے جاتے ہیں میراے کو تو نہیں کرے باپوں نے کہاہ وہ شابد بھولتے تو آکاش میں چلے گے اور کتا بھوںکتے تھا وہ اوموں کی بھاہنا کیوں نہیں کرتا

میں ساتھ سال بہیں رہاں اور اُس سمے تو لگا کی رہاں کی رہاں ابھی پتہ چلا کہ اسے اپنے سنکل پچھڑا کر رہاں اسے رہاں کی اتنے مجبود ہو گئے اب میں ٹرین میں مساپری کرو بھیڑ بڑا کے میروں کہیں رہوں کہیں رہوں اب میں رہوں کو بھی فرق نہیں پتھتے پہلے تو کوئی دستم کرے تو بھاک جاتا تھا تو اسے لی جاتا تھا اب تو کوئی جامہلے سارے جامہلے جامہلے لئے ابتگیر دیا ہوتا ابھی اپنگا دائگ نہیں کریں کہیں سے مجبود بنادیا تو جو اپنا پریلے کہ اس کو سنکل پڑے تو گروپری لگے تو گروپے سنکل پڑے اپنا سنکل پڑے جو سائیں کی مارجی دالوں رہاں رہاں داڈی ہے اس اب لنبہ ہو جاتے تھے گرمی بھی لگتے تھے گروپی کو چیٹھے لگتے تھے کہ داڈی بڑی ہو گئے

کہ باتا دیا ہماری جدبی بڑ جاتی ہے اگر آپ او جیگے کتے میں او جہے اگر آپ میں سنکل پڑے نوصار بٹکتے پیڑے تو کبھی او در جاتے کبھی کیدار جاتے کبھی جاتے کبھی جاتے مققے کھاو گدار در کے دھاکے پیڑے قدیہ پلٹنوں گئے بٹکتے رہے ہیں اسیلے اپنا سکھ بھوگ کا سنکل پہ آپ کو جو ہیتے شیلگے اس کے والے کردوں وطنی کے والے کردوں پتی کے والے کردوں اپنے سکھ بھوگ کا سنکل پہ آپ نہ رکھوں آپ کا اپنے سکھ بھرے گا اور آپ کے اوہ شکتا پورتی ساج میں ہو جائے گئے بڑی اترکہ ہے نربہ آر ہونے گا حجی بھگوان سے رہوں نے کچھ ہے بھگوان جن پروسوں کو اتما پرمتما کا ساکشت کر ہوئے پھنے کہسے ہو جاتے ہیں

اور ان کا کہس آچار ہوتا ہے یہ مستھیئے مز versus צبولہ حرام جسے اون کی جسٹا اور جسا اون کنس سے ہوتا ہے جسٹ ہوتا ہے ہوتا ہے اپنے پر مدمہ کا نوغا کرتے ہیں کے اوہ کیسے ہو جاتے اون کا سب کے ساتھ نتربھا ہوتا ہے بل کی پاسان سے لترتہ ہوتی ہے بنضو کو وہ ایسہ جانتے ہیں ان کے醜 روکش اور پتے ہوتے ہیں اور اسری پترادی بھگھنوں میں اس میں آساکھتے نہیں ہوتی جیسے وان میں رہتے تو پتے و رکشہ عمرگہ یہ ساب آپ نے ایسے بندو بھانڈوں میں انگی ممتہ میں ہوتی میرمام میرماموں نے رہنکا سمدکھا سکھا سکھا سکھا سنتوشتا ستتم یوجی ایسا یوجی ستتت سنتوشتوٹا ہے ایسا کہہی نہیں کسی شاہسر میں آج تک میں نے نہیں پر آگی سنتوشتا ستتم بھوجی بھوجی سنتوشتا نہیں ہوتا راگہ بھوج موجا تو پر علیس کی بیماری انتجار کر رہی

جو لوگ بولتے سمبوک سے سمدی ان کو ہم پر اتنا کرتے ہیں کہ پرائیگ نے یہ پرچار کیا اکھت اشان دو کے مرگیا تو اس کی سمدی نہیں لگی تو تمہاری کیسے لگی ایپر ایٹھا سے دان رتا اور پر کئی پرسید دھے وقتتاہنوں بھی ہے سیدھا پر سیدھا اٹھا کے بحشان میں پھوک دیا سمبوک سے سمدی و سمبوک سے سمدی نہیں سطیا نہ آسو طائز ناریوں میں سے جو اوڑھے کشین ہو جاتا پر علیس کی بیماری کچھ بڑا پر میں جیو نہیں شکتی تم جو کم جو روش تو پر علیس کی بیماری تیاروٹِ تو وہ نہ ہو اس کی بیب وستاہت سنار آئہ اینا ہاری اینا ہاری ہاری جنسی جنگ وہ جو مینگا میں ہی آئے یوگ میں در نہیں ہے آپ کے گھر کوئی مہمانا جاتا ہے تو آپ پوڑا کے روم کو چھپاتے نہیں کھولا رہتے ایک این آپ کے گھر ہے ایسے کوئی ہے چیٹھ رہتے رہتے

تو کھپڑا دھاکھے رکھنے ہم پڑے گھے گھے کہہے یہ باہا جائے گے دیکھے گے تو چھا نہیں لکے لیکن پھر بھی دیکھ جاتا ہے جہرام جگے اینھیں بھی دیکھے تھا بھی بھی اپنے رہتے تو دھرکھنے دیکھا ہے چاہ سری رہاں بھوگ میں بھائے ہے یوگ میں تو بے پر بھائے ہے امبائٹے دیان کرتے دیکھ کرتے ہماری کتیہ کوئی دیکھنے جہے تو جاؤ آہ بھائی بریشان کے اینھیں سارا ہم نہیں جانے دیتے لگ باتے باکی کتیہ میں ایسے کوئی چیٹھ نہیں کہ مجھے چھپانی پڑے کسی کو کپڑے سے دھاکنا پڑے ایسا کوئی چیٹھر میں رہتے نہیں یعرام دیکھ اگر کچھ طرح ہے کیوں دھاکوں گا کیوں دھروں گا آہ کسی ہوتا ہے للنا بلنا کا تو دھر لکتا چاہ سری رہاں جہی سے جنگلی مرگوں کو سنطان سے سنے ہی نہیں ہوتا

ویسے ہی پرطا درک میں بھی ویس نہیں نہیں رکھتے جہی سے ماتا کی پڑھر پڑھر پڑھڑیا اور ممتا ہوتی ہے اور ممتا ہوتی ہے میسے ہی ویسے پر دیا کرتے ہیں اور نشجے میں اُدھا سین درکتے ہیں حاہ نشجے اب نے سنگ کر پیاک دیا ہوں ویسے پر دیا کرتے ہیں نشجے میں اُدھا سین کسی آسخ் تک کے کارن نہیں کر تو اُس رکھی چھا پورتی میں سائھ و کر دےتے اپنی چھاہے نہیں اپنا تو آئے شود سکھ ملگا اب کوئی پریپریسی دن بن جیتر اُس کی چھا ہوگی کیا کہ چھپراسی کا پگہ آپ کو نا سمارہ بڑھا ہے چھپراسی بن جا ہوں تو چھا ہے کار کن بن جا ہوں تو چھا ہے باستو ساستری کے ہم کلر کی نوکری مل جا تو چھا ہے سوچے گا پی اور آشتو پتی بن گیا تو پھر کھا ہوں باستو ساستری کے آپیس میں نوکری کی کیا آئی سے آئی آتما سکھ مل گیا پھر اپنا اس کو آشتنا نہیں ہوتی اس کے دوارہ دوسوں کے منورت پورے ہوتے ہاں جی

جیسے آکاش کسی کا سپرش نہیں کرتا ویس سے ہی بے کسی سے لپت نہیں ہوتے آکاش کسی سے بندا نہیں سپرش نہیں کرتا ایسے برمگانی کسی سے لپت نہیں ہوتے اصلی جیوان تو وہی ہے آتما ساکشات کار کرنے کے بعدی جیوان کا مجاہتا ہے ابھی تو مرنے والے شریع کو جیوان محن کر جیو گسیدتے گسیدتے کتنا دیکھتا اصلی جیوان تو تقصیر ہوتا ہے گروت تطاپہ کانمہ ہوتا ہے تو نا صورا آئے گرووں کی ملاکات کے بعد بھی ایسے چھارچان like جانتا ہے کھوشی میں تو اگر گروت تطاپہ کا ساکشات کر رہے تھا کیا آگہ جن کو آتم سک ملاے اس کے دو دن پہج دن سات دن کے سانیدیا سے لکھولا کھ لوکوں کا حرف دے کمل کسیwachتا ہے تو ان کا کیسا کھلا ہوگا اتنے میں آتنا تو آتنا ایک اتنے میں کتنا اُن کے سانی دیسے وہ گر میں آئے چکر مار گے یا جردرشن ہو آئے یا بھیشن آگے تو اتنا ہو گیا تو اُن کے اندر کتنا ہو گا

اتنے میں اتنا تو اتنے میں کتنا اتلامت اتلو تو اتلامت اتلو

ارام کو کروبлем نہیں ہوتے تو بھی آسنا کے کارن پروبлем کر لے تھے چاپا ہوا رہا ملار میں اور دھڑھ کرنے چلتی ہے شانتا کروزوالے بے پاریوں کے دل میں چاپا پڑھا بھڑے والی میں تو دڑھ کرن تو پورے بھم بھی میں چالو ہو گیا تھے چاپا پڑھا سورت میں تو عمدہ بات والوں کے دڑھڑھ کرنے بڑھ جاتی ایسیڈ دورتے رہے تھے ایک جانی تھا اس کے ہان داکو آگے اولے ماراج گروپنم گئی ہے بہت مال آیا ہو گیا چاہلو یا تو دے دو یا تو تیاری کرو یودھ کرنے کے لئے

اور یہ جیکہ جو دوتی تھا وہ بھی اتار دیا اور لنگوٹی پین کے مات مدو چلتی پاسمی ٹیل لاتھ تو دیوتھ حانے لوتے رہوں کا بہت سو اس نے دیکھا کہ کیا پتا کہی بھکھوں کوئی کوئی آپ کو پلیس کو تو نہیں پلانے گیا تھا اس نے نگرا نہیں رکھی تھا دیکھا تو کسی پاہڑی پر ماتما ناچ رہے تک دینہ دین دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا دھا مات کو بکھ ناچ رہے ابھی نفھے میں ابھی نفھے میں اس نے دیکھا کہ ابھی نفھے میں نفھے میں اسٹیلے کے نیچے کوئی گڑا اس نے کہہل داکوں کے گئے مات نے کہ مہراج ابھی نفھے میں کہے سے اس میں بھی کچھ ہے کہ وہ لے ہوں جو یہ خو دو اس کو کی خو دو کیا ہے وہ لے مہراج نے آپ تو ستبولتے آپ بتا اس میں کچھ ہے کہ وہ لے اس میں کچھ ہے کہ وہ لے اس میں تو بھیٹھا کچھ نہیں میں نے تو نہیں رکھایا تم کو کچھ دیکھتا ہے تو لے لوں

اب وہ لے مہراج نے آپ نفھے میں کہے سے وہ لے دیکھو اِت نے دینھ خیا بھیا رہا یان پایا بھکتی پایا خیا کھیا وہ تو تم نہیں لے جا رہے اور آیا تھا بھلکول ننگ دھا دھا گھنگ اور لنگوٹی بھی نفھے میں موجودے وہ تو تم نہیں لے رہے آیا تھا تو بھلکول اللہ ہو گا یہ تو تم بھی نہیں چھینتے ہو چاہے یہ کہا بھلے نہیں نہیں با با مابھا بھلے مارا جھتنا سب آپ کا چلا جا رہے ہم بھلے ہم لائے نہیں تھے لے جا رہیں گے نہیں یہ تو اپنی واسنا ہوتی کہ میرا ہے میرا ہے بھیکو بھی کہ کرندو کی ہوتے باکی تو کیا اپنا تھا ہے تو سب اپنا ہے ایشور کے سریشتی ہے ایشور ہمارے ہیں تو سب اپنی ہے ابھی اس جنپڑے میں پڑا نہیں تو تمہرے ہم پڑا رہے گا کیا پڑا رکھا ہے اس سریشتے نہیں کہا جہے گا تو ان سریشتے سے کہا جہتا ہے سب نفھے میں

لائے کیا تھے اور کیا لے جہیں گے جو لیا جہیں سے لیا اور دیا یہیں دیا ہے اور بھی نفھے میں مارا جھ کو ٹپٹ کی شدیکتا رہا دیکتا رہا تو مارا جھ کی نچر کی پڑی ہے حدیاتنک وائبریش میں وہ یوگی کا اس کو اپنا گلانی آئے ایک ایک سب کو جھلوٹانے کے بعد دی سکھی رہے سکتے اور ہمارے پاس ایتنا پڑا اپھر بھی لوتے چلے جا رہے دیکھ کار ایس جندگی پہاں پکڑے باہا ہم سے گلتی ہو گئے ما آپ کو بولی نہیں بھی ہی امرے سے کچھ گلتی ہو گئے کیا سنکوچ کرتے ہم آپ کے گھر سامان بھی جو آ دیتے پیکر مدھ کر ہم وہ رہے ہیں وہ مارد جو آئے رہا ہمیں کھیں تو پڑو ٹیم بہت خراف کرتا ہے جتنے جگت میں رس ہیں وہ ان کو بیرس ہو جاتے ہیں جتنے جگتی کراس ہیں بھوگنے کا سنگنے کا چکنے کا پڑی پتنے کا ان گیانی کے اتنسوک کیا کہ بیرس ہو جاتے

ال جو اتنسوک نہیں ہے تو جگت کے سوکھ اتنے آدمی کو بیوکو بنا دیتے ہیں کہ پر ایکٹی کلی تو بھوک بھوکتے ہیں لیکن وہ چترہ لا کر اس کو دیکھ کر بھی بھوک بھوکنے کی کلپنا میں بھی چارے مارے جاتے ہیں ہوں سے بھی کار پیدا ہوتے چتر چترہ بھی ایسے بھی چتر وہ ہے نا ہوتے خجرا ہوتے خجرا ہوں کے مندر میں چترہ دیکھنے جاتے ہیں گریزلوں ہم بھی آنگے تھے بای جو تو نہیں بھولتے ہم نرب داکہ اُدگہ مستان دیکھنے امار کنتک جا رہے تھے تو جو ہمارے بھاکتتے ہیں انہوں نے کہ باپو یہ خجرا ہوں پرسید جگہ ہے پھارے ان سے لوگ دیکھنے آتے ہیں مندر ہے مندر ہے تو مندر ہے تو دیکھا تو آئے چترے سے لیکن لیکن دیکھا تو دیکھا راک دویشنے کر فور کیا کر رو ان کیتنا آدمی پر آتے ہیں ان کیتنا تو چھر درستی کو بھوک بھوکنے سے ہوتا ہے و جندے منوشی سے تو

بھیک مانگتے رہے تھے وہ بھی چا رہا مجھہر میں پڑھا ہے وانا بھی جسل پتکتے تو یہ دے دے وہ دے دے کو دے دے جندوں سے تو مانگتے ریکن مرنے کے بعدوں مرداش مجھہر پڑھا ہے مجھہر میں حدیار مانس اور یہ باد گو وہاں بھی جاکے چل لاتے کہ میرے کو یہ دے پلانا پیٹھو یہ دے پھرانا سے تو یہ دے پھرانا تو یہ دے اب اس کو سونے تو آرام کرنے تو پیچھا رکھا تم بھی ہونے پہلے اگر سچا چاہی تو یہ لائی لائی للا موجودے تمہر دل میں دل بات اس کو دا کو اس اللہ کو اس بگوان کو پیار کر ہو یہ چاہے وہ چاہے وہ چاہے وہ چاہے وہ چاہے وہ آسنا آدمی کو انڈا بنا دیا اکھا بھگت نے کہ سجیو ویقتی نے نرجیو مورتی کو بنایا اور پھر اسی کے آگے گڑ گڑا تھا کہ میرے کو کچھ دے اکھا بھگت یہ پوچھا کہ تمہرے ایک پھٹ گئی کی دو

سجیو آئے نرجیوانے گھڑو پچی اینے کے مانے کائیں دے اکھا تم نے ای پوچھے کہ تمہرے ایک پھٹی کے بے ہے یہ سنکل پھٹی بہلے ایک پھٹی بہلے ایسے ہو جاتے بیچھا رہے ہم اگو ان سے بھی مانگتے رہے تو جو بھی نا مانگتے دین رات کا بر لے رہے دے رہے اس تو بھی مانگتے مانگتے پر ایساٹ کرتے ایرام جی واسنا وان سے تو بھرک سے بھی بہی باتے یہ کہیں پتھر مار دے گا واسنا آتیا گا او اشکتا تو پوری ہو جاتی اگئیں ایک این ست سنگ نہیں ملتا تو بیچھا رہے در ایساٹ سنگ مل گیا تو پھر دی رہے دی رہے براندی بیچھوٹ جاتی چیتر بیچھوٹ جاتے حاصلی راستہ پسند پڑ جائے یہ بھی کوئی پنے ہے تو اسلی راستہ پسند پڑھتا نہیں تو آدمی پر حاصلی راستے سے درتے پھر نکلی کی چڑ میں جا گیرتے یہ بھی کوئی پنے ہے کوئی سے باپھلی ہے

تو اسلی راستہ پسند پڑھتا آجی نبینہ کسی مل گیا ساول پپنے ہوتا ہے تو اسلی راستہ پسند بھی نہیں پڑھتا ساول پپنے بطام راجن ویشواز ہو نہیں بجایا ہے ساول پپنے ہوتے تو ویشواز نہیں ہوتا کہ آر بھی کوئی چھ ہوگا یان بھی ہوگا کنڈلنی شبتی بھی ہوتی ہوتی ہوتی اتمنسگ بھی ہوتا ہوگا بگوانہ ماریچہت ہوتا ہوگا یہ ویشواز نہیں ہوتا حال پپنے والے گیا çoal90 wataam rajan wiciousu na izшаяo ty en jin ke bhhala ke bhagbbhhale asaddi paktaa urlasa ke vivye kadeppat ke hiske ur mein frequşit ho taagn Ky bhai a pillowspeeck yn tha nain mho go it na nain ka nain 단uπ na bo tenda sori sori exist me hein hin nain uvre aquíar ki tni llokkurtidhal akhir ke ре. niyat ha za

ek føle ke banai mou-ba naay bha bob na akhir ke ре. phones bhoki ho kar zapas ta collect hara ine ko sam Shorty Astar na ak sky sab ko ki yaha nai manage hae hai ar nai الا hai ke ایسا کو ایسایں یوگ نہیں, جس کے پیچھے, دیوگ نہیں, یہ بھی کسے, بھرتری کو جب وہا تھا اس نے کتاب لکھیں, پائر آگے شتتاکھ, اس کا آنواعد میں سنا تھا۔ جبہ سوچھے ساتھ سنگ کیوں تو بھی کچھ کچھ کچھ چینیوں, جب سوچھ ساتھ سنگ کیا تو بھی کچھ کچھ جانا۔ جبہ سوچھ ساتھ سنگ کیوں تو بھی کچھ کچھ چینیوں, کیا چینیوں, بلے مود جانیوں آپ کو۔ میں بے اکوبتا وہ بھی پتاتا گا۔ بے اکوبتی کی وقت پتا نہیں چلتا کہ ہم بے اکوبتے۔ تو پتے لگتا کہ ہے, باد بڑیا۔

بادتناتا ہے۔ میں آوانتی کا کار آجا ہوں, سونے کے برطن میں بہجن کرتا ہوں۔ ویدوں کا جانکار ہوں, ویدوان تھا۔ پھر بھی اب پتاتا چلا کہ میں بے اکوبتا۔ ایک بر نہر گئے جہی پور پر ایمینشٹر تھے۔ تو مینٹل آسپیٹل ہی پاس میں ہوں۔ کسی نے کہا کہ آیاں جرا پھجتے ہیں۔ ہمارے در دی رہے ہیں۔ گئے۔ تک پاکل بیٹھا تکورسی پے ہیں۔ پندیت کا سوابہ تھا جارا مینو دی جوکھ تھا۔ ہاواری ہوں, پندیت نے کہا۔ تو اس نے ہوں, ہاواری ہوں۔ پاکوں نے۔ پھر ایم پر ایمینشٹر آفینڈی اپپندیت جو آلالنای رو۔ اس پاکل نے کا سے داؤں۔ میں بھی پہلے ایسے بھولتا تھا۔ تمیہا بارتی ہو جا او ٹھیک ہو جا ہو گیاں۔ پندیت جیت کو بھولا تمیہا بارتی ہو جا او ٹھیک ہو جا ہو گئے۔

دو گئے۔ ایسے جب سنسار کے بوگوں میں ہم لوگ تت پر ہوتے ہیں تو پھر سنتوں کو بھی بولتے کہ باپو جی یہی رہی ہے۔ اسی روم ہے اتنا لان ہے اتنا بگیچہ اتنا ہے۔ آپ یہی رہی ہے آپ کے لئے اتنا سویچھ۔ آپ یہ اس کتیہ میں رہتے ہیں۔ موت کنزیچ ہے۔ بود ایسا ہے۔ ارے کتیہ کا مزا تھوڑے لنا مزا تو میرا اپنا ہے۔ سنلے ایک بات اور ایک مدشد پہلوان تھا ہو گیا شراب کی اٹڈے پے بولہ ایک پیسے کا دارو دے دے اٹڈے والے نے کا ہادو گئی پیسے کا کھون کیوں کرتا ایک پیسے کا کین دارو ایک گھونٹ بھی نہیں ہو گیا۔ بولہ ایک انجلی تھی ہوگئی بولہ انجلی تو ملست۔ بولہ انجلی کیا کر گئے بولہ میں مدشوں کو لگا ہوں گا۔ نیسا تو اپنا ہوتا ہے شرابیوں کے بیچ جا رہا ہوں تو میں بولوں گا بھی ہم بھی پیک کیا ہے نشا تو کھون دکا ہوتا ہے نشا اگر اس بوتر میں ہوتا تو بوتر میں ناچنے لگ جاتی ہے نشا تو کھون دکا ہوتا ہے تو ایک بیسے کا دے دے میں مدشوں کو دے رہا پری کر دیتا ہوں۔

جام پر جام پینے سے کیا فائدہ رات بھی تی سوبا کو اتر جائے گی تو ہری رس کی پیالیم پیلے تیری ساری جندگی سو دھر جائے گی۔ پینا تو اچھائے لیکن پینے کے ساتھ پیلانے کا آئے ہو جن کرنا یہ بھی کوئی بھگوان کی کر پا ہو کر سکتا ہے اس میں نیمیت بن سکتا ہے آپ جپے اورانوں جپا ہے سو سے وہ کا سہج پرام پتپا ہے گوروانے گا آپ جپے اورانوں جپا ہے یہ بھی کسی نے تو کیا ہوگا بھی چایا بنا ہے ہوگا تو آپ لوگ پیر ہے آپ بھی کہیں کرو تو اور کوئی پیے گا بس یہی تو جیبن کا سارے پیو اور پیلاؤ ہے اگه اپنے بیٹھوں کے لیے اپنے جمای کے لیے اپنے اس کے لیے اپنے اس کے لیتا کر کر کے کئی خب گئے اگه بر نے پوچھا بیربل کو کیا؟ نیمک حلال کون ہے نیمک حرام کون ہے بیربل بتاؤ بیربل نے ملاکل سوبے پریکٹکل

ملاکل ہوں ایک کتے کو اپنے جمای کو لیے اپنے حجور روکہ سوکہ کاتا ہے بینا کہیں رات کو بھاکتا ہے چوکی داری کرتا یہ ہے نیمک حلال اور یہ جمای یہ نیمک حرام سترا سال کی لڑکی دی دہی دیا پھر بھی پہلی بار آتے نے سسرال کے گھر تو ساسو سسرہ کامتے کہ نہ جانے کس بات کو مانگ لے کس چیج کو مانگ لے مرسدی مانگ لے گا کہ مروتی میں راجی ہو جائے گا ریج مانگے گا کہ اور کچھ مانگے گا اگر نہیں دیں گے تو لڑکی دو کی ہو گئے تو یہ جب پہلی بار آتے نے تو مانوں موتا ہے اسلے ان کا نام ہے جمای جمای میں نہ موتا ہے جمای نہ تھی جمای جمای میں نہ موتا ہے یہ تو ہیں نیمک حرام کلائی پلائی بچی کو پڑائی لکھائی ارپن کیتی اور دہیج دیتہ

درے بھی کبھی گھومنے گا میں ہیں گا اور کبھی کچھ دینے میں کمی ہو گئی تو سارا دیا دیا دیایا چاپٹ ہو جائے گا ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے اگر نہ بھولو تو کھو دا آپ کے آئے ایسا جمای بھی دے گا پر ایکٹری کل کرو نہ جن کا کوئی سنکلپ نہیں ہوتا ہن کا جو چھوٹا مٹا سنکلپوتا ہو پورا ہو جاتا ہارے گروجی جو کہیدے تھے نا ہوں جی میں حکہ دو ہو کہ رہے تھا اسم بو بھی سم بو جاتا ہے جو جی وہ سنکلپ چل آئے مردا بھی جی دیتے ہو جائے و اپنے لیت نہیں سلاتے اپنے دو سائلے چل دوسرے کسی کلے ہن کے رہے میں کچھ ہو جاتا ہے سالا چلو بہی اس کا اس کی طوری شدہ ہے سے واہ ہے اس کو کیا آوہ شکتا ہے

روپے پیسا تو ہے چلو جرا سا بھکتی دے تو اس کو طوری وہ بھکت بن جائے نی تو بارا سال منجرہ بجا تو بھی وہ بھکتنے بن سکتا ہے جو مہا پورش کے جرا سے میٹھینہ جیسے وہ بھک بن جائے ایک یوگی تھا بڑا یوگ ساتھ نہ کیا اکتاپ کر کے سکس مصریف کو لوک لوکانتر میں گمانے کی بیددیا سی کر گا اور گیا وینکٹ میں بھگوان کو کہت رہی مام رہی مام رکشمام ہمتو شرنم ہمتو شرنم بھگوانے کا یوگی مام لے جس نگر میں رہتا اس نگر کا تو جی مکھیا بنا دوں بھلے نہیں مہر آج ایک ساتھ تو جیس پرانت میں رہتا اس پرانت کا منتری بن آج بھلے نہیں اس پرانت کا راجابی میں بنا سکتا ہے بھلے نہیں مہر آج چا تو کیا یوگی چاہی اشتو سی دھی چاہی ہے میں دے دیتا ہوں بھلے نہیں مہگوان آپ کی باکتی چاہی ہے بھلے نہیں چھوڑو باکتی کو چھوڑو اور کچھ مانگلوں

نہ ہونی دھی مانگلوں بھلے نہیں پہ گھو اچھا اور کچھ مانگلوں بھلے تو آئتنا اب دینے کو تیار تو باکتی کیوں نہیں دیتے بھلے باکتی دوں گا یہ پیچھے پیچھے گھومنا پڑے گا دے رہے ہیں اسے لے میں رکھلوں نے لے لے ہر ہوں میری باکتی مطلب ہے اور مہا پرش باکتی کا دان دے دے ایک کچھ سا دارن چیج نہیں ہوتی نہ رہی باکتی دے سکتے کتھ رہ دے سکتے پوردان دے سکتے شراب دے سکتے حناغر کر سکتے اور تھے کون ایک داسی کے پوتر ہے ان کو بھی کسی گرونے دی مختی اور داسی کا پوتر مہان سنت دیورشی نارت مانے لگے رہے این ایچار دن بھکتی مل گے یہ ہا ہوں ہوں کر کے لوگ کیک پہدا ہوت ہے پر رہے گے ایسے ٹھن ٹھن پال حرے پورا رہے جب ہی ملجہ پھر بھی بھکتی نہیں چھونا یا رہے ہیں ملے کا پڑے سے دکھو چاہے آوہ جاہے سے دکھو

گروہ سے کیا چھپاہوں گے کبتک جو ہوں ٹھیکے جیسے ہوں تن کو سیکار کر لی آپ کیا چھپاہ تو بھولدو کہ ہمارے پر ایسا ہے ایسا ہے بس نفر آبلم کبتک دکتے رہوں گے اس چیترکو اس چیترکو بہوی جاہے ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں کرتے ہوئے بھی گیرائے میں اپنے آنوباکوں, جیسے کل بہت آیا ہے, پلالنام

میٹی پر ہو, بیڈے پر بیڈا گڑھے پے گڑھا رکھے باچیت بھی کرتی آ رہیے پھر بھی, اس کا مانوس میں ہے گڑھے گڑھے گڑھے گڑھے گڑھے گڑھے ایسے ہی اسہ بے وار کرتے ہیں ہی ہی ہی پر مات ماتت ہم ان کا مان لگڑھے ایسے یوگی پرم سنتوش توتے ہیں, اشتاو کر کرتے تھا سے تلنا کہنے جائیتے اس آتمرامی مہاپرش کی تلنا کیسے کر رہے گڑھے میں سنتن کے پیچھے جاؤں جاں جا سنتسی دھارے اور دھوں وہ سنتا اتی پیارے مہاگوت کے داس میں اس کندچوریاشی مات جائے ہیں بارمان شلوک اور تیرمان شلوک ہیں وصدیو جی کا یا گیا ہو رہا تھا ریشی مونی جاہ رہے تھے تو اسری کرشنا نے سادو سنتوں کے پیر دھوں نے کیسے باسوی کر کر گیا اور پتھلے اٹھانے گیا بیلکم کرنا اور وہ بوجن کر لے تو پتھلے کرشنا تو کئی سادو جپی جوگی تپی سب کے سمکے تھے اس میں کوئی چھپے وہی لال بھی ہوتے

برمگیانی سنتنے کرشنا جپیر دھوں نے کو اٹھ سکوے تو سنتنے پیچان لیا کہ تم رسدیو کے پوتر ہو کر یہ کر رہے ہو لیکن ہم تو میں جانتے ہیں آتینا رہے ہیں تو میں کیا چاہئے بیٹا چاہئے یا شچاہئے سفلتا چاہئے تم تو دوسر کو دے نے والے تم پیر جو دھوں رہے ہو چھڑو چھڑو یہ سب چھڑی آرچ سدہ نہیں سب تو کرشنا کہتے کہ پچاس ورشکی نشکپٹ بھگتی سے بھی ردے کا اگگن نہیں مکتا اور تمارے جیسے محاپ روشوں کے ستسنگ سے دو گھڑی کے ستسنگ سے ردے کا اگگن مٹ جاتا ایسلے مجھے چھران دون دو گھڑی کا ستسنگ تیر میں شلوک میں ہے چھو رسم آج دہی دس محسکند تیر میں شلوکہ بہتا کرسٹا آگے کہتے ہیں کہ پتل تامبہ

لوحہ اتھو پتھر آدی دھاتوں کی مورتی میں بھگت بھگت بھگت دی کرنا جل سے بھرے ہوئے جلاشے میں تیرٹ بھگت بھگتی سے شنان کرنا آدماس کے شریع کو میں مانا اور شریع سے پیدا ہوئے پہنے کو میرا مانا تو کرتا لیکن محاپورشوں میں جس کی شردہ نہیں وہ ساکشات گدا ہے گو گھرہ گو گھر مانا گدا ہے لی محاپورشوں کے پر تھی آدر بتاتا واشری کرشتا کہ وہوار یہ سکھتا ہے کہ تمے مورتی پوڑیا سے یا سنسار کے وہ گو آسناوں سے تو مورتی پوڑیا تھی بھاونا کا سوکھ ہے بکاروں سوکھوں سے تو بھاونا کا سوکھ بھاونا کے سوکھ سے بھی آگے بنا ہو تو ستسن کا سوکھ لی جے ست پوڑش کی سیوہ کا سوکھ لے کر ستکہ ساکشات کا کریے جن سیوہت ان پایا مان جنوں نے سیوہت کہیو انوں نے مان پایا شبری بھیلان کو تو پتا بھی نہیں

ہو کہ ایتنے لوگ ایتنے سنت میرا نام ہے ایک لگوے کو تو خبر بھی نہیں تھے میرا کو پتا تھا میرا سو تو جائے ہو نہیں مونڈیو نششے ایک بھی میرا کو نام دیکھتا تھا حجی سب کر مقرطہ دکھتے ہیں سو اس پر کر کرتے ہیں کہ سب ان کے ستتی کرتے ہیں وہ کہانی سب کر مقرطہ بھی دکھتے ہیں اپنی واسنہ نہیں ہوتی اور اس پر کر ان کے کر موتے کہ سب ان کے سارانہ کرتے سب کر ردے ان کے پر تیے آدر سے بار جاتا ہے سر جوک جاتا ہے سنتوشта ستطم یوگی، وہ یوگی ستط سنتوش توتے ہیں, وہگی کہیں ستط سنتوش نہیں ہوگی تو اور وہگی اور وہگے سنتوش نہیں ہوتا, اوب جائے گا, تھاک جائے گا, پھائے ہو جائے گا لیکن سنتوش نہیں ہوگے, آیوگی کا سنتوش توتے ہیں, آتما سنتوش,

کیونکہ اتما میں جا رہا ہے, پرمات مہ جا رہا ہے, پرمات مہی حسی, پرنا سوک ہے, مرگ میں یا پر کرتی میں پرنا سوک ہے, پرنا گوروکی رپا میلی, پرنا گوروکا گیا لگو, پرنا گوروکا گیا لگا, آسومل سے ہو گئے, پرنا گوروکا گیا,

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →