Jan 6,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
1,421 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 6,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
नहींक वड बूरारे आगव नहीं थिभाए रहिव हो। भस सरुछ परप प मत्मात्माके सुष्रमे । तरन फुटने गताए जगत अगभ। जेगद अग बर्शब क्रा शारे एकल यप लादा अभ। मुपान पहमन्च। پہنڈا پہنڈ چاری کے گرونگوڑ پہنہ چاری نے کہا سادہ کو یہ یوگی کو دارم میں گا سمان دھی گھرابتوٹی ہے جیسے میںگ بیمہ پپانی برسہتا ہے ایسے یہ دیان کرنے سے سادہ کو بیمہ پڑھر ملاب ہوتا ہے بگوان شونے کا پاروطیجی کو بدم پوران میں کہ جیس کو بگوان نام جبتے بگوط بشانتی میلتیوں سے پوسکر کاشی گیا گنگا
آدی تیرتھوں میں جانے سے کیالا اس کا انتا کرنی بگوط تیرتھ سے پاوان ہو جاتا ہے وہ تو تیرتھوں کو تیرتھت تو دینے والا بن جاتا ہے ایدام تیرتھوں ویدام تیرتھوں برامی دیتھا مساعدنا آدمتیتھوں نجانانتیک کوتہ موجسی پریئے پریپاروطی یہ تیرتھ ہے وہ تیرتھ بڑیا ہے وہ تیرتھ بڑیا ہے لیکن انتر آدمہ کے تیرتھ میں پرویش نہیں پاتے دون کا مقدیتھے ہوگی سٹھ سکھوں کو کئے سے ملے گا واستنائے کئے سے گتے گی مہنیشان سے کئے سے چکیں گے آج کے دن بیشنہ پیتامانے اپنے شرر کا تیار کی چاکیں اُدھ رہن میں جو جاتے ہیں وہ سکل پکش کے دیوطا دن کے دیوطا اگنی کے دیوطا
سے ہوتے ہوتے برم ملوک تک کی آترا کر لیتے ہیں برم مہجی جب تک رہتے ہیں تک برم مسک پوکتے حرنت میں پر برم مہ پر ماتمہ میں لین ہوتے ہیں اور چندرالوکس کی آترا جو کرتے ہیں وہ جو دکشنائے میں جاتے ہیں یہ چندرالوک تک کی آترا کر کے پھر لیتے ہیں ایکن دونوںی ہی درماتمہوں کی بات ہے جن کو سنسار کے سکھ کی اچھا ہے وہ لیتے ہیں اور دکشنائے کی آترا میں جاتے ہیں اور جن کو سنسار کے سکھ کی اچھا نہیں ہے اور دلوک میں ارتات برم ملوک میں جاتے ویسے تو بھگوان کے باکت چاہت دکشنائے میں مرے چاہتے ہیں اور چاہت دن کو مرے چاہت دن کو مرے چاہت دن کو مرے
اور ساہدان لوک چاہت دن کو رات دن کو مرے اور ان کی اپنے دن کی گتی ہوتی رہتے ہیں یہ تو دو گتی اونطم لوکوں کی سادھن سمپنس مگت بٹجن سمپنل لوکوں کی ویشیش گتیا ہے اس میں بھی ایک واسنا رہیت اور دوسرا سنسار کی اچھا دی میں سہیت والا تبسوی دانی جو گی رہتے ہیں باکوان کا باکت چاہت دن کو رات کو کرسنائیں چندرائیں مرتیو تو سدہ ہوتی رہتے ہیں سبی بیشما کی نائیں اپنی مرتیو اچھا مرتیو کہ ویردان سے سمپنن نہیں ہے اور سبی اتنائیں تجار کر کے اُتراین کے بعد مرے اُتراین کے کہ اس بیشما جی اُتراین کا انتجار کیوں کی ہے یہ تو در مات مات ہے یہ تو اشت واسوں میں کے ایک واسوں تھے اور آجانوں دیوتا تھے
کر مج دیوتا نہیں تھے سvéس استی کے آدمی قلب کی آدمیور قلب کی本当 میرے نےlei دیوتان کو آجانوں دیوتا کرتے اور جو gesہ بلسے کے دیلوک میں جاتیوں سے کر مج دیوتا کرتے ہم کے کر م اللکہ پھول پیرو پیرو گیرای جاتے ویرد inكم اگم کو اطار ششtonится کی то کی Alaska کے دارتي پر تمارج ش�지 دا مہ Auftرounds نہیں نہ نہیں. تم وید ویدان کے جانکار ہو. حجاروں ایسٹروں کے بیچ رہے کر بھی تم نے برمچ رہلت کا پہلن کی آئے. تم نیتی کے نیپون ہو. کرتبے پر آئے ہو. بگوان کسری کرشنجیس کی پرشن سا کرتے ہیں. کرشنجین کے دہان میں مگنا ہو جاتے ہیں. ایسے بشمکھو اُتراین کی پر تک شاکیوں کرنی پڑیئے شن کا ہو سکتے ہیں.
تو اس کا سمادانی ہے کہ چھے میں نہ دیوطان کا دین ہوتا ہے. آپ کے چھے میں نے بیٹھ تب دیوطان کا ایک دین بیٹھا ہے. اور اپنے چھے میں نے بیٹھ تب دیوطان کی رہا تو دی ہے. تو اُن کو تو اپنے دیو لوگ میں جانا تھا. اب ہوتراین کے پہلے دکشنہین میں جائیں تو وہاں رات ہے. درواجے بند ہے. تو بہار پر تک شا کرنی پڑے گی. وہاں بہار پر تک شا کرنی پڑے اس کی اپکشا. دردی پری رہنسی کرشتن کے درشن ستسنگلہ بوتا رہے گا. اور شریع کے کشت کو دیکھتے ہوئے تبسیا بھی ہو جائے گی. ریشی منیو کا آنہ جانا بھی بنارے تھا تھا. اس لیے انوں نے اچھا مرتیو کا وہ پیو کر کے شرر کو رو کرکھا تھا. ویسے بھگتوں کو تتو ایتوں کو جانیوں کو اپنے اپنے سنسکار کے نوصار گتیہ ملتی رہی ہے.
بھگت گیتا کے آت میں دھے کا چو اسماش لوک ہے. آگنی رجو دی رہا شکلہ. شد مہسا اترایا نہ. تطرپ رہا دی گتشنتی برم مویدو ہو جانا. جیس مارگ میں پراکہ شروب آگنی کا ادھی پتی دیوتا. دین کا ادھی پتی دیوتا. شکلہ پکش کا ادھی پتی دیوتا. اور شرمینوں والے اتراین کا ادھی پتی دیوتا ہے. اس میں شریر چھور کر اس مارک سے گئے ہو. یہ برم مویدا. برم ملوک کو پر آبتو کر. پیچھے برم ماجی کے ساتھ برم مپرمہتما میں بلے ہو جاتے. یہاں شریر چھونے کے بعد اس کے سکش مشارر کو پراکاش کی باہل تا کیوں کے جب یہ ستھ گنا آتا ہے. پراکاش لاتا ہے. پراکاش کی باہل تا والا آدشتا تھا دیوتا.
اس کے پراکاش ایریا تقلے جاتا ہے. پھر شکلہ پکش کے ابھی مانی دیوتا. اس کو اپنی حد تک سے لے کر. اپنی حد کی آخری تک پہنچا دیتے. ایسے آگنی دیوتا. اُن کو اپنے ایلا کے تک لے جاتے. دن کے دیوتا. شکلہ پکش کے ادیح پتی دیوتا. اُدتراین کی ادیح پتی دیوتا. اپنے اپنے لوک سے ان کو پار کرا دیتے. اور پھر برم ملوک تک پہنچ جاتا ہو چیوں. برم مہجی کے نائی سارا برم مصق بوبنے کیوں سے. بوب بوبنے کی دیوتا. اُن چی ایس دیوتی. اور پنی اشن نہیں ہوتے. اور وہاں جہ برم مہجی سرشتی کا لئے ہوتا ہے.
تو اقریمیت سین جو پڑیش دیتے. تو تھوڑی بہت جو شنکایا کا چاہص ہے. پوری ہو جاتی. برم مہتمان میں بلے ہو جاتا ہے. دوسرے ہوتے جو جب تب کرتے ہیں. مکتی بھی چاہتے لیکن سنسار کے بوگ کی کچھ سکھ کی. للک جلک بھیچر گہی رہی میں چھوپی ہوئی ہے. دنوں رہترستتاک رشتنا شدمہسا اُدتراینوں. شدمہسا دکشنایوں. تترچندر مصر جو تھی ہے. یو کی پراپنی وارتتتے ہیں. جس مارق میں دوم کا ادھی پتی دیوتا ہے. راتری کا ادھی پتی دیوتا ہے. کروس نباکش کا ادھی پتی دیوتا ہے. اور چھا مینوں والے. دکشناہ ان کا ادھی پتی دیوتا ہے. شریل چھوڑنے والے کو اپنی اپنی اریعہ سے چندر لوگ میں لے جاتے ہیں. اُس مارق سے گیا ہوا یوگی سکام.
منوشہ چندر ما کی جو تھی کو پراپت ہو کر فیر. سمائبا کر حقاش مارق میں آتا ہے. اور حقاش مارق سے پھر بعد لوگ کے دوارہ ان میں آتا ہے. ان کے دوارہ پرش میں آتا رپرش کے دوارہ ناری جاتی میں جا کر گربلارا کرتا ہے. اور اُس میں بھی اگر اُس کے تکارم ساتھ نہیں دیتے تو گر بعدان سے گر کر نالیوں میں بیتا ہے کے روٹتتا ہے. پھر بیتا ہے کبھی اُس کا سنجوگ ہوتے تو شریع دارا کرتا ہے. کتنی قتنائی سے منشجن ملتا ہوگا. اور کتنہ سو بھاگے سے شدап بنبتی ہوگی اور شدالو تو کروڑو کروڑو لوگ ہیں دارتی پر. اور وہ اور وہ لوگ شدالو ہے کوئی تامسیشدہ والائے تو بوڑ تو پر اتداقی نہیں ساکی نہیں موحن مارنالہ بلا میں پستا ہے.
وہ بھی شدالو تو ہے. گیکن تامسیشدہ ہے کوئی راجسیشدہ دالو ہے. کر بلا ہو بلا یا دان دے بہیں بمشمیں ملے لیش کے لیدان کر بھک کے لیدان کر رسورگ کے لیدان پنیسے واقعیا. یہ راجسیشدہ دالو ہے. کوئی ساتویک شدالو ہوتے کے بگوان کی پریتی کے لیے ست کرم کرتے دان پن کرتے ہیں. اور اس میں بھی شدالو میں دو پر کار ہوتے کے ساکار شدالو اپنے اپنے اپنے ایشت دیو کی پریتی کے لیسے واقعیا بہجن کرتے ہیں. دوسرے نراکار برم مکی پریتی ہے. پر مات ماتت دو کی پریتی کے لیے کرتے ہیں. ایسے ساتویک شدالو ہمیں بھی دو بھی بھا گوچاتے ہیں. ایک ہوتا ہے کہ جو کچھ بھو گیں گے اور ملا ہے وہ چھوٹ جائے گا پر بھی ملے گا چھوٹ جائے گا. اچھوٹ کو ہی پانا ہے تو ترطیورا وائر آگے ہوتا ہے. بھی برم مپر ماتم میں یا ہی ساکشات کر کر کے جیمان مکتوتے ہیں.
اور جنگ کا کچھ تھوڑا بہت اننیس بیس رہتا ہے وہ ترائن مارگ سے دم کی ادش تاتا دیوتا پکش کے ادش تاتا دیوتا سورے اکی ادش تاتا دیوتا دیادی کرتے کرتے برم ملوک میں جاتے رکچھ برم مسکو بھوکے برمانج کے لوکار پھر برم ملے گا جو سامانی کیٹ پتھنگا اور نیچ جو نی کے لوک ہے تو ان کا تو جیسے کم پیٹرائیس کام ہوتا رہتا ہے سیوں کا جنگ مرن ہوتا رہتا ہے جو پاپی ہوتے ویں پھر سے ہپنے پاپ کے نوصار یہیں اسی لوگ لوگ انترمیں گا پتاکتے رہتے یہ پنگ وقتیوں کا آیا اور پنگ میں بھی دو باگ ایک دیورا بیرا گیوارے برم ملوک کو جاتے رتا رتیورا والے تو کسی لوگ میں نہیں جاتے گیانی نام پرانانہ اتکامینتی اتریہ ویلینتی جو برم مویت آجیوان مبتے اُس کا سکشمشریف پرانمیشریف
اتکرمان نہیں کرتا ہے نا سورگ میں جاتا ہے نام برم ملوک میں جاتا ہے یہیں سمسٹی میں بیسٹی بیلے ہو جاتا ہے جیسے گڑا پھٹھتا ہے تو اس کا آکاش مہاکاش میں پہل ہی ملا ملا ہے ایسے جس نے اپنات سادن بجن اور گروکر پاکہ پر ساد پاکر اپنے کو اضویت برم مجھان لیا ہے من کو انڈروں کو بڑھ دی کو دیکھنے والے میں اپنا میں بیلے کر لیا ہے ایسا گیانی کی دور لبگتی ہوتی ہے تو یہ جاندہن کو جاننے والے مہاں پر اس تھے اور ان کو اشتوہوں نے کے کارن اپنے لوگ میں جانا تھا اس لئے پر تک شانوں نے کی پاپی کو آسوریونی میں جانا پڑھتا ہے ادک پاپی کو نرک کے کنڈوں میں جانا پڑھتا ہے مدھے مالے کو مدتی لوگ میں آنا پڑھتا ہے لیکن بکتی والوں کو بلوان کے دام میں
یوگی کو برمالوگ کے چاوالوں کو برمالوگ میں اور برمالس و روب میں استیدی والوں کو یہیں برمال میں لینو جاتے تو بگوان کہتے کہ ان دونوں آربوں کو جاننے والا آرچن تم صدائیوگ میں رہو ارتات مجا آتمیوگ سے ایک آکارہو آجن مبھونان لوگہ پُنر آورتنو آرچنو مام پنتیو کونتے یا پُنر پھر پُنر گمان نہیں ہوتا ہے تو بھگوان کا جو مام ہے وہ اپنا ہی آتمام میں اس میں جس کی استیدیوگ دیوگس کو پُنر جن میں نہیں ہوتا ہے اُددس گچن تیسات بس تا مدس تیشتن تیرا آجسا جا گھنگ گنو رتس تا آدو گچن تیتا مصہ ستو گن مستیت منشپورد لوگ سرگا دی میں جاتے
رجو گنی سو بہو مستیت لوگ مرتی لوگ میں جن میں جن میں تامسی لوگ نیچ یونیوں میں جاتے تو اپنے کو تامسی کھراک سے تامسی واتامن سے کھر موسی اپنے کو بچانا چھیں راجسی کھراک سے بھی دیرے دیرے اوپرام ہوگر ساتوی کھراک بجاروچی جراجسی کھراک ہے جانتا کا کھا لیا جانتا بیٹوے جس کیسی کے بیستر پر لیٹ میں دیان بجن پرانائم کی اور ساتویتا سے اپنے چیتی کی رکشا کرتا تو ستو گن بڑے گا ستو گن بڑے گا تو گیاں کا پر کاشڈے گا آرگیتا رہگی پر سنتا رہگی دیوے جانتا دیوے سکندر میں لہلتا رہے گا منوشا کو پر شارت کر کے رجور تمگن کو جیتنا چاہی اور ستو گن بڑنا چاہی ادیق پرورتی نہیں اور ادیق بھوگ نہیں ادیق سنگر نہیں
ادیق لوگ پریچھے نہیں ادیق سے ادیق پر مات مقیناتے ہی سا رہوہر ایسے لوگ باجی جیت لیتے نجانے کتنے کتنے کرورو جنم بیتے اور نبجیو واسنا کے ویک سے کبھی منچے لوگ کو میں جاتا ہے کبھی مدیمے کبھی نیچے میں آتا جیتا ہے کسی بیجیوں میں آیو کیتا نہیں کیوں کی شور کا سناتنانشہ ہے کبھی بھی اس کی بوک جگے تو پرمپت کو پاستا ہے اور کبھی بیجیوں میں جیو کے ساتھ خطر بنا کی وستانے کبھی بھی اندروں کا میگوں کا آکرشن کا آدتے کبھی بھی کسی بھی شہیمے بیکتی میں پرستیتی میں للک جھلکا جا ہے تو گیر بھی جاتا ہے اسی لیے ماما نوصمرہ یددسوہ مجھ پر میشور کا نوصمران کرکے یدد جیسے گور کرم بھی کرو تو میرا سمران کرو تو آپ باگوت سمران بڑا دیجی
باگوت چنطن بڑا دیجی بگوت جان کو آگی رکھے اسی آپ کا منگل ہوگا پریوار کا منگل ہوگا دیش کا منگل ہوگا جاتی کا منگل ہوگا مانوتا کا منگل ہوگا بگوان ست ہے چتھ ہے اندسو روپے میری آتما ہو کر بیٹھے اور سامنے والے کی گیرائی میں بھی وہی میری پر میشور ہے وہی وائو کے روپے میں ہمارے کو سپرش لاب دیتے ہیں وہی سوگند کے روپ میں پر ٹری کے اندر ہے وہ دہرینی شکتی کے روپ میں ہے جل کے اندر ہے رسس روپ میں ہے آگنی کے اندر تیج روپ میں ہے وائو کے اندر سپرش روپ میں ہے مان کے اندر بات سلے واؤ سے اونی کی ستا ہے پیدا کے اندر انو شاسم یہ شکتی اونی کی ہے گروک کے اندر جان سو بہو پریم سو بہو
پر اپکار سو بہو میری پر بوکہ ہے شرطان میں پریدھی اس پر ماتمہ کے اس پر بہو سے ہے اس پر کار جب آپ جہان بھی مو اچھای دیکھیں سندر تا دیکھیں مدھر تا دیکھیں اس کی گہرائی میں بھاگواان کا ہی اصدیت وقان کرتا ہے کوئی بھی جڑوستوگ میں اپنی ستایا سندر نہیں ہے چیتن کی ستا سیئے کے لے چیتن کی ستا سیئے اس میں آکرش میں شکتی ہے اور چیتن کی ستا سی میری آکے دیکھتی من سوتتا ہے بود دیگران کر دی ہے تو جہا تھا اس چیتن کی پر ماتمہ کی ستا کو سمجھ کر سویکار کرے اور اس کی سمورتی کرے بھاگواان کا ہونا تو ہی ہے مرگواان کیں دور نہیں ہے باویش میں ملے سے نہیں ہے اب بھی اس سمجھ میری جیب میری سے دور ہے میری پر ماتمہ میری سے دور نہیں اور آپ سے بھی دور نہیں
آپ کا ہاتھ آپ سے دور ہے آپ کا پہر آپ سے دور ہے آپ کا ردے آپ سے دور ہے لیکن آپ کا پر بو آپ سے دور نہیں حجرہ حجور جاگنی جو دیاادی ستجوگہ ہوتھ ستا ہے دی ستا سی بھی ستا ایسے پر ماتمہ سو سائب سدا حجورے جانتتا کو دوریں جس کی واسنا سے اکھیہ چندھا گئی ہے وہ دیکھنے والی سنسار کی چی جو کو حجرہ جور دیکھتا ہے لیکن جس سے دیکھتی ہے اور بندھتی ہے وہ اس کو گائب سمجھتا ہے جس سے ساری میٹھایوں میں میٹھا سے شکر کیئے ساری ایسٹیل کے برطنوں میں اسٹیل کا ستیتو ہے مہراج نے کہ کیئے کیا ہے بیٹھا ملیوابا قطور یہ بلے پہلے کیا دیکھتا ہے بلی مہراج تمہرہ ہاتھ دیکھتا ہے نہیں بلے قطورے میں پہلے کیا دیکھتا ہے بلے گول گول قطور یہ
نہیں بیٹھے پہلے اسٹیل دیکھتا ہے بعد میں قطوری ہے ایسے سبیچی جو میں پہلے برم مپر ماتمہ کی ستا ہے بعد میں وہ بیقتی ہے پلانہ دیکھنا ہے واستو میئے ہے لیکن پچل پچل کے سبے ہوتے ہوتے مرمت جاتے کیوں کہ بہار سکھلے نے کوارے قبیر جنے کہا مینہ سکھی جانیر آگا تھا
یہ بودھی روپی مچلی وہاں سکھے جا آگا تھا جل ہے بارش کے دنوں میں نل برسات پڑھتی چھٹی چھٹی نالیا نالوں میں نالے ندیوں میں اور ندیوں سمدر میں جاتی ہے کھوب پانی جاتا ہے تو سمدر کی مچلے سمدے جہاں سے پانی آرہ مہاں کہیں جاتا پانی ہوگا بھی سمدر کی مچلے ہم ندی میں آجاتی اور آگے چلتے چلتے ندیوالی نالوں میں آجاتی اور نالیوالی مدس مچلے نالوالی چھٹی چھٹی نالیوں میں اور پوکھروں میں آجاتی اور برسات کی دہارہ بن دوتی چھٹپٹاکے پیرripی ندی میں آتے پھر مندوپی نالے میں آتے پھر اینڈریو روپی نالیوں میں آتے اور پھر سنسان روپی پوکھروں میں بس دے مكانکہ کیا ہوگہ یہ نہیں ملا تو کیا ہوگہ ہے کہ یہ نہیں ہوتا، کیا ہوگہ
quer سبhoho کے بھی آگھém تو مریحی جانہے پرمتما کا گیان نہیں ہوتا کیا ہوگہ پرمتما کی پریدی نہیں ہوگہ کیا ہوگہ ہے کہ کر وکھے ہوگی ہوگی ہوگی دیوریشی ناراجیگر میو کے دن میں پیپل کے نیچ یپانی پی کر بائھٹے ہی تھے dwit میں ہیک کا西کہ یو اک چھورا کچھ بکرے لی جا رہا تھا بجار سے ہیک بکرے نے دکاندار پاس میں گیا تھا. دکان پر چلاغماری اور مٹھ کھائے. پاس کا دکان پہلہ یوک بھاگ تھا. وائہر بھکری کا کان پھ کر کے تھاڑ داڑ. دو تین جمادی گو سے اور بھگرہ تو مٹھ تو بھا را گھے. بھا بھا بھا. نارت کے چیٹھ پر چھوٹ لگی. گم بھی رہو کر دیانست ہو گے.
اور ایک ایک نارت جی جوور سے ہس پڑے. ان کے ششت تمبر نے ہاتھ جوڑ کر پراتنا کی کے گروور آپ جیو کی بیرہ دیکھ کر گم بھی رو گھے تھے. پر دیانست ہو کر آپ ایک ایک آسے. نارت دینے کا چھوٹ ہو یہ کرمو کی گتی سنسار کی واسنا کا کھیل دیکھ کرنا سیا دی بگوان کی مائے. رپرہوچی بتا ہو تو کر پا ہو گی. بھولی یہی جو بھوڑ لگائی سگال چنسیٹ. یہ کھوڑ سیٹھ ابھی اُس کات بیٹھا مالک مد گیا. اسے سیٹھ کی دو دو دو دو گھانے. اور بجارہ مٹھی برمٹھ مٹھ کھانی سکا دو دو دو دین دین گوسے لگے. میرا مکان میرا بیٹھا میرا میرا جسے کرتا اس پر مات مکھ بھول گے تم بکرا بنا ہے. میں میرا میرا میرا.
اور وہ کان بکر کے کسائی کو تماجہ کے ترے باپ نے مٹھ ہے. تو میں دہان کیا تو دیکھا کے کسائی کا باپ بکرا نہیں ہے. اسی چھورے کا باپ ہے. اتنا سارہ دے گیا آپ نے باپ کو بجارے کو دو دو مٹھ مٹھ کانے سے. دو چار گوسے لگایا اور کسائی کو بولا کی اس کی مندی. میرا کو پہنچنی چینے تو دیری کھبر لے لنگا کسائی نے کھوڑ ساپ. یہ اس کو حلال کریں گے کل سبھا جر کو مندی آپ کے ہوں. پہنچا دی جائے گے. کهسی ہے کرم کی گتی کبتک بیٹوں کے لیے کبتک پتی پتنی اور سنسار کے لیے. ان کے لیے کرو منانے لیکن پر بھو کے ناتے کرو پر بھو کی برسنتا کے لیے کرو پر بھو کے گیان کے لیے کرو پر بھو کے مادھوڑے کے لیے کرو انتر آدموں. آدمت ربت سمانا و آدم سکاریم نووید دیتے اپنے آدمہ پر مادمہ میت رب دیلاؤ.
جو بگوان کو ساگن ساکار شو جی کو او توا وشن کو او توا. رام جی کویا اور دے کو پیتروں کو جن کو جو دیاتے گے. اپنے سادن مالور چنطن بلسے اُنی کی گتی کو پاہتے ہیں. بھوڑ پریتوں کو جو دیاتے تامسیش تدالگو بھوڑ پریتو جاتے. یکشوں کو دیانے والے یکشکی اُنیوں میں جاتے گندر اور کی نروں سے سبند رکھنے والے گندر اور کی نربنتے ہیں. اور میرہ اور ان کا کیا ہوگا سوٹھ دی سوٹھ دیاتے ہیں تو پھر وہی ہی آکھا جن ملے تھے. سنت کا بیر نے ایک کسان کو بولا کی افتمبر جرہ اپنی مومایا کمیٹا ہو. ستسنگ میں آیا کرولے وابا چھوکری کی شادی ہوتے ہی میں آجا ہوں گا. شادی ہو گئی. میں نے مہتے ورش بیتے کا بھی نے کا با جا ہو لے ابھی پوتہ آنی کی آش ہے. پوتے کا مکھڑا دیکھ کر ہوں گا.
پھر کبیر جائے بولے پوتہ بھی آگیا بولے ماراج پھر بھی تھوڑا دیکھا رہے. پھر آئیں گے ستسنگ. آکھر کبیر جی چھا کر کر ٹے کر ٹے تھا گھے کبی نے کہاں بھی تنی مومایا میں کیوں دوبیوں گلے کیا ماراج میرے بھی نہ کوئی اور ستسنگی نہیں کہ آپ میرے پیچھے کیوں پڑے ہو. کبی نے ہاتھ جوڑ لیے. چھڑھے گئے. لیکن داٹ کے سیر کی داٹ میں آششکار کبی میں پھلو سکتا ہے سنت کے ردے میں آو آدمی. پھر کسے میں پھلو اتصکتا جا کی کی دیکھیں موڑا کی شاہید مانچ ہے. کبی جی گئے دیکھا کہ وہ دا کہاں ملماراج وہ تو چلے گے ورشوں ہو گے. کبی جی نے دیان لگا کر دیکھا. وہ.. وہ لے وہ, مراہو چل کود کرتا ہے. آل میں جو ٹا ہے, چی کہیں پھرہوں گا. پھر کچھ ورشوں کے بعد ہے تو گاڑی میں جو دا تھا.
پھر دیکھا کہ وہ بک گیا ہوتا ہے, کس نے لیا وہ لے, پھر دیلی نے لیا پھر, ہوں گہنا کی چرا ہے. آכھر کبھیر نے پیچھا چالو رکھا, کسی کو تیلی نک مرہ برت تیل نے کالا رکھا, آپ دیکھا کہ اس کی پیر لتھڑا رہے ہیں بیچ دیا کا سائک اور کا سائیں نے بیس میں اللہ یا اللہ کر دیا. کبھیر جنے ساکھی بنائیں, بیل بنے حل میں جوتے, بیل بنے حل میں جوتے, لے گاڑی میں دین, تیلی کے کلو بنے پھر کا سائگا رلی, ماس قتا بوٹی بی کی, چمڑا نمڑھی نگار, جو چمڑا بکہ تمہ رہا اسے نگار بن گیا, کچھ کرم باکی بچ گے تاپے پڑ رہی مار, دندے بڑھے,
تم تالیہ نہ بڑا و تم رو کہ ہم بھی چاہت گلتی نہ کر بیٹھے, کیا کریے کیا جوڑیے تھوڑے جیون کا آج, چھوڑی چھوڑی سب جاتے ہیں دیہ گیہ دن اور آج, ہاد بڑا حریبا جن کر در میں بڑا کا چھوڑے, اکل بڑی اپنے آتما کا ہو پکار کر, جیون کا پھلے, پھر بیشمپتاما کی نہی آپ کو ٹرین کی, انتجاری کرنے کا میں نہیں مار پتاتا, حسی بو کلی بو دری بو دیا, آر نشکتی بو برم مجھان, کافی پیوے نہ کرے منا بھنگا کہیں آتمای تیس کے سنگا, وہ ہاجرا حجور جاغن دی جوڑھ, منتو جوڑی سروپپنا مول پیچھان,
جب کروز کے آرت میں لین ہو جاؤں, یوگ یکت بن جاؤں, بگوان کہتے تسے ہم سلبھم پارتا نیتے یکتس سے یوگینا, آپ نیتے یکت ہو جاؤں, اوتت بیٹت وہ یوتانے, اوتو بیٹھو لو دو لیکن بیتر سمورتی ساو دانی بنائی رکھوں, جیسے کل ٹائستریت و لوری لور کی یاد بنائی رکھتی ہے, لو بھی دھن کی یاد بنائی رکھتا ہے, بوکھا بوچن کی یاد سوابہ بھی کر لے تھا, گر بھینی کو آرت نوں میں نے کا گر بھو گئے, تو اس کی سمورتی بنی رہتی, ایسے اپنے پر مات مات سوابہوں کی سمورتی بنی رہتی ہے, جرہ جرہ بات میں جوٹھ نہ پولوں, جرہ جرہ بات میں اپنا تبائی مات کر ہو, جرہ جرہ بات میں گرکڑا ہمات, جو ہونہ ہے سو ہونہ ہے, جو پانہ ہے سو پانہ ہے,
جو خونہ ہے سو خونہ ہے, سبسوٹر بھو کے ہاتھوں ہے, نہ حق پاپ کا بوچ چاہاں, قائل کو کر, کھانے میں پینے میں ویہوار میں درمکولا ہو, سنگیمکولا ہو دیکھ رہا ہے, ہو اشتوہ سو میں سے کوہ سو نے گائی چراہی, دیکھو کی تنا کی تنا کشت کی یا ترا کنی پڑی درم درندھر کو, کتنے اُن چکوٹی کے ہاتھ ماتے, کرمو کی گتی بڑی کا ہنے, قائی کو چھوٹھ, و پتای نہیں جلتا کھم چھوٹھ بھولے جا رہے, اتی ہے اتی ہے, رہا مکرشنہ پر امانس نے کسی ستسنگیور نے پوچھا کے ماراج, کس کو بھکوان کی مموں,
پر آبتی ہو سکتے, بھولے جو وگوان کو چھائیں گے تیورتا سیوں کو ہو سکتے لیکن داکٹر کو وکیل کو اور دلال کو بھگوت پر آبتی, یہ بہت سنگ کر ایک داکٹر کا ممان حل گیا, حرام کرسپنگے وچن, داکٹر کا نام تھا درگاچر ہناغ, اس کو ناغ مہاشے بعد میں, کریں لگے لوگ, وہ گئے اپنا کلینکہ سارہ سمان, دیدالا جس کو دینا تھا, باپ نے گاکہ کی تو اپنی بریکٹیس چھوڑ دیا تو کیا ہے میں دکھ کہے گا کیا, کپڑے کیا پہرے گا نگارے گا کیا, تو اس نے کپڑے او دار کے پھیک دی ہے اور کھیں میں دکھ وکھنا, بھولے پیدادی آپ کیا گیا مان لیتا, بھولے چھوڑو چھوڑو, جو تماری مرچی کرو, اتنے لگ گئے دیان بجل میں, مدرگا چھرن,
ناغ مہاشے, کی رام кرشنے کے کاں سے سیسوں میں سے ہوں کو, میتے, پاچاس ورش میں, اور دھو دیا اتساو آتا ہے, گاگا جی کا, لوگ گاہوں سے گاگا کینا رے جاتے, ہر گو دیا اتساو مانانے کو, وہ دکشنے سوار سے اپنے گاہوں گے, تو کٹمیوں نے کہاں کیسا مور گے, لوگ تو گہر بار گاہوں چھوڑ کر, گاگا کینا رے جاتے, توگ دکشنے سوار رام кرشنگ کر, علاقہ گنگا کر کینا رہا چھوڑ کر اپنے گاہوں میں, وہ لیمان چنگا تو کتھ ہوتی گاگا, یہیں گاگا مہا آ جاہیں گاہوں میں, لوگ نہیں پیچھان پارے تھے, لیکن بھگوان اپنے بھگت کو, کہیسی چھنگا دیتے, جیسے بیشمکی کیوں گیتا پر بھگوان نے
وردان برسا دی, کہ تمہا رہایے سن, ستای رہے گا, دوارے دراما اور پرٹیشتا اور گیان کا, لوگ انوشی لنکس روڑ مانان کریں گے, پاپتاپ میٹےگے, بیشمپیتراما کا گیان, پرسنس میہے ہیں, لیکن بیشمپیتر کو جب کرسنے کہاں کے اپنیتر کو اپنیتر تو صریق کرسنے کو آجور کر بیشمجی کہتے ہیں کہ دیو, جیسے انڈرکے آگے کوئیس فرگا ورنان کرنا چاہے, ہےیسے آپ کے آگے میں دراما کروں, دراما کی آدہار بھوتا دیستان تو آپی ہو, بہنوں کی پیدا سے شریر, کا بلکشین ہو گیا ہے, جیب تالوں میں سوکی سوکی سی ہو گیا ہے اور میں آپ کے اسمائیہ لیلا کو جانتاں آپ
پرات اور برم پرانی مات رکے دیستان, میں اپڑ دیست کیا تو تبکرشننے کا محامانا بیشمجی میری کر پاسے آپ کی ساری پیدا چلی جائے گی اور آپ کی بودھی میں دیستان کیان کا سنچار ہو گیا آپ کا سوستیس سندھر ہو جائے گی اور آپ کی بودھی جا کنتھتی ہو رہی کے کارن سمورتی جو کنتھی تو گیا ساری کی ساری دیگی ہو گیا اس پر کاروہ دان دیکھر یو دیستان سہیت سری کرشنشام کو چلے گے دوسری دین آیا اور کرشننے پوچھا پیدا مان آپ کی رات دو سکھ میں بیٹی والے بہت منگل میں پر بہت بھی آپ کی منگل سوہوں میں شانتے گے
آپ مجھے درم ہست ملکوات درم کے راست سے پر قدورے بھوٹ اور بھویش اور ورطمان میرے سام میں آک ہو گیا گیا کہ شو میں راج نیتی درم نیتی اور ساڑی نیتیوں میں نی پنتا کا گیا آپ کیان تمہری کر پاسے تھا اور وہی گیان یو دیستان کو نیمت بنا کر مہا باہرت میں بیش مپرو کے نام سے ہے او سر ملے تو پڑنا پڑانا سو موت بڑا سندر دے گیا گیا نے چت بگوان میں لگ چاہے چت باوان ہو چاہے ریکہ تھا میں ریکہ گیاں میں جو ویلی بار آئے ان کو ہم سلا دے تھے کہ بگوان کا بگتی تو کروگے لیکن بگوان کا سروب جانے بھی نہ آپ کی بگتی بروطی رہے باہرت میں قدھا تھے
کہ بگتی اپنے دو بیٹوں کو لے کر رو رہے کیوں کہ بگتی تو پوسٹ ہو گئی دیرت میں لیکن گیاں اور ویر آگی تو مور چتے اس کا مطلب آپ کوئی بگتی کو سبل کرنا ہے تو اس کے گیاں اور ویر آگی کی مور چاہتا ہو جس کی بگتی کرتے ہو اس پر میں شر کا گیاں پر میں شر کی آئے کیسے ہیں گھمارے ساتھ کیسے ہیں اور سرویاں پی کیسے ہیں اور کیسے ملتے ہیں جن کو ملے ہیں انوں نے بگوان کی ستوطی کی ہے وہ ستوطی بھاگوت میں سے اور گرنتوں میں سے سنگ کلیت کر کے بگوان نام ستوطی نام کا پوسطتک چھوٹہ سبنا ہے نہ رہیں ستوطی کا جو نرنارے کا آئے ناہت مدے ہوئے اس کی ستوطی کا پوسطتک ہے وہ تھوڑا سا پڑھے اور جاہمان شانت ہو جائے تو پر نے میں نہ لگے پھر منیدر در در جائے
تھوڑا پڑھے اسے آپ کے اندر میں بگوان کی سروک کے گیان میں گتی ہوگی تو گیان پوسٹ ہوگا مقتی کے دو بیٹے گیان اور وائر آگی اور دوسرا جگت کی نشورتا دیکھئے سمشان میں دیکھئے کیا مردے کا من سے مردہ شریق کو چنتن کرنے سے کام بکار سے رکشا ہوتے اتوہ تو چامڑے بنا کے شریق کی کلپنا کرنے سے کام بکار سے رکشا ہوتے اسٹری ہے تو پروش کے شریق اور پروش ہے تو اسٹری کے شریق کو من سے چامڑے بنا کا دیکھے نہ کوپر اٹھا کر من سے دیکھے تو لیٹھ باری ہے نہ تو میں ٹھو کر مرے ہوگی بیٹھریہ کیا ہے کیا ہے کانوں سے کھرے دنکلت اور آگ سے کی جڑنکلتے نہ آگ سے لیٹھ نکلتے سب کانو با ہے موں سے
ٹھو کر کف نکلتا ہے روم کوپ سے پسی نہ گندھا نکلتا ہے اور سواصو سواصر گندھا بایوں نکلتا ہے نیچے کے انگوں سے دو بомبوں سے مل اور متر نکلتا ہے دو کھڑیہ دیا ہے کچھ آڈیہ ماس کے لوچھے درگوں سے بندے ہے اندر مل برا ہے متر برا ہے وات برا ہے پیٹھ برا ہے ککھ برا ہے ویکار برا ہے پھر بھی یہ شریر سندھر پیارا لکتا ہے تو اس پیارے کی چیتنا پر میں بلی آر جا بچے کا صندھر دیکھ کر اس کے گالوں کو پیچھت گومت بچے کے روپ میں تیرہ سندھر نکھا ہے یوتی اور یوتی اور کی روپ میں تیرہ سندھر ہے اور وہ تو میں رہتنا ہو کر بیٹھا ہے تو کسی بھی صندھر اور صندھر کی رہتنا دیکھ کر بہار مت جاؤ
اس پرام صندھر سروکہ چندھن کروں ہم آپ کو آہت جوڑ کر پرہتنا کرتے آپ کا تو منگل ہوگا آپ ہیں تو اس ور کے سناتن سروک اور آپ صدہ سکھی رہنا چاہتے اور صدہ تطوہ ہے تو آپ صدہ سکھی رہنا چاہتے کام بھی کار میں صدہ سکھ ملتا ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہے ہو ہے ہے پڑھتے بہو کی چال میں, جتنا جوٹ کا پٹ کرے گا ہوتنا من کم چورے گا روانی پر بہو ہی نوکی,
پڑھ دی پر بہو ہی نو جائے گی. چلتے پھر اس گاؤ میں جاناگ محاشے, اپنے روم میں بو جا کر رہے, ویجان کر رہے, لوگوں کے درشن کے لئے آئے. ہر جو دے کا او سر ہے اور گنگا جی, من چنگا تو کتھ ہی میں گنگا ہی کیا? لوگوں کو ویشواز نہیں ہو رہا تھا لیکن لوگ پرانگر میں بیٹھے تھے اور وہ ار جو دے کے دیواز کی باتے, اُن کے پرانگر سے ایک شیطل جل کی دارا. پھٹ چلی. ناگ محاشے ہے چہو, ناگ محاشے جہو, رام кرسن پر محنس جہو جہو, کہ کیا ہے کیا ہے لوگ درشن کو اُن مڑے, کہ کہیسا تمہرہ پر میں شور چیطنیا ہے,
کر تم شکیم, آ کر تم شکیم, انگتا کر تم شکیم, رام кرسن کو, آم لیکی چاہوی کیا ہولا چو سے تو گلے میں حرام ہوگا لیکن سیجن نہیں ہے محاشے. ناگ محاشے کو پتا چلا بولی سیجن نہیں ہے میرے گرودے ہو کو آم لا چھے اور سیجن نہیں ہے سیجن کو نہیں کیسے. تھا کر کو چھے, میری پر بوک کو آم لا چھے, تو پر کرتی کیوں نہیں دیکھ. باگے جنگ قل کی ہو. لوگ کو نا بولا کاہ بلو گیا ہے. آم لے تو قتم ہو گیا ہے. آم لیکی چیجن تو گیا ہے. بے جنگ وری ہوتا مل جا ہے. پھے برور تو ہے کہ آپ ریلان میں آم لے ورکسوں میں کیسے ہوں گے.
ملے شکڑے ہوگی کیا آگے ورکسہ بکشا دے دے تھے تو میرے لی نہیں دیں گے. انساکہ سیحن نے اپنا سوابہ او چھوڑ دیا اور گروب باگتی کے دراد باکت کو دود دونے دیا. ایسے برکسوں نے آم لے کے بھل دے دالے. طور کے آئے اور رام کرشنے گاکے دیکھو ناغ ماشے کی گروب باگتی. گروب گویند داؤںوں کڑے بول تو لیتے لیکن گروب میں گویند
کوئی کوئی دیکھا پاہتا ہے باکشہ لی. وابیل ایک لوگیا دہانا مولاگ گروب مورتی تو بکنے والے بکلے لیکن ایک لوگیا نے دہانا مولاگ گروب مورتی کا فایدہ اوٹھایا دنشہ دیا میں ارجن سے بھی آگے نکل گیا. تو اتراین دکشنے یہ سدہ بنارے تھا ہے. دن اور رات بھی سدہ بنارے تھا ہے. باستنا ساتھ بیگر آج سیتامسی والے لوگہ گا بھی سدہ ہوں نہ رہے تھا. کوئی کوئی لازت سنگ کی آدار پر ٹرے گنہا ویشرے آویدہ نیس ٹرے گنہا بھا ارجنہ گنہا ٹیت پد میں یاترا کرتا ہے جن کے بڑے بھا گیا ہوتے
ان کو ستسنگ میں روچی ہوتے اور ستے سرو بیشور کی یاترا میں پونہ تاپنے کا اپنا ارادہ درڑ رکھتے. وی پر سنسار میں بھی پلتا ہے تو اتنے دکھی نہیں ہوتے اور سپلتا ہے تو اس کو بھوگ دے نہیں. ہاں سب کی کرتے اقلی اپنی نہیں بھولتے آئی سے کوئی رلے ہوتے سدبا کی ایسے لوگ پر ٹری پر کے دیا گئے دیوتا تو کرمج دیوتا تو پھولنے کا پھل باکھر پھر گیرتا ہے لیکن ایسے لوگ تو بھاگ بھت پر آپ دیو آیا سرگ کو بھی لانک کر برملوک دکھا اور برملوک کی بھی چھا نہیں ہے تو برمس و بہا اس ریکھ رسٹ مائے ہو جاتے شیو مائے ہو جاتے برم مائے ہو جاتے برملوک دکھ برملوک دکھ بھاہ دیو آئا کی وانی ویت باہش آتو آسانس پر دکھارت بھارم بہو چھے دکھ ایسے ہو جاتے ایسے لوگوں کے لئے
ایسے برملوک دکھا کے لئے اشتاو کر سہیتا میں اشتاو کر جنگ کو کہتے تس سے تولنا کی نجائے دے او سات مساکشات کری پورش کی تولنا کی سے کر ہوگے کی جو بھی نا کی دیگے روستو بھی نا روستے روستو دکھتا دکھتا دکھتا دکھتا دکھتا دکھتا پھر بھی اندر میں اتنے ستے سو بھا میں جو قتیوڑے دکھتا آسٹری اتری بھوان جے اتری بھوان کے آکرشنوں پر بھی جائپانے علاما تو آپ بگوتستو تیپوستک نہیں ہو تو جیرور اس کوپ لینہ اور پوچھ روچ تورا پڑنا رات کو بھی تورا پڑنا من بگوان کے سو بھاو میرم جائے جس کا گیاں ہوتا ہے نے اس میں مندرم تا ہے جسے کامی کو کامی نہیں کا گیاں گیاں درشنوں گیاں تو مندرم جاتا ہے
کوئی چیوستو کا سرحنا سنتے ہوئی آچیوستو کو دیکھ تو بگوان سے اچھا کوئی کوئی اس کو جرا سنچ ہو ساری چھائوں کے مول میں بگوتستتا ہے وہ بگوتستتا ملانے والی بگوت پراتنا ہے بگوت گیاں بگوت نا رہستو تیپ اس ور کی اور گوستک پڑو بکاروں سے رکشا ہوگے یوادن پڑو سنگیم اور پوچھ بڑے گا جیبن بکاس پڑھتے پڑھتے رو جیبنی شکتکہ بکاس ہوگا جس گھر میں ستسائیتے نہیں بہو گھر سمشان ہے ایسا سوان میں بیڑے کہنان بولتے تھے کہ اپنے گھر کی دیوالوں پہلے کہتوں ستسائیتے ستسنگ دیتا ہے جو ستسنگ نہیں کرے گا وہ اسنگ جرور کرے گا جو ستس روپیش اور کو پریتے نہیں کرے گا وہ بکاری جیبن میں ہو
وہ بیل بن گیاں وہ بکرا بن گیاں را جانرگ کرکٹ بن گیاں را جہ آجگر بن گیاں وہ دیمان تو وہ بھی تھے درمات مو بھی تھے لیکن سنسار کے سوک کی واسنا نے ان کو نیچ گتی میں لے گیاں شدہلوں تو وہ لوگ بھی تھے راجسی شدہ تھے کسی میں تامسی شدہ ہوتے ناستی بھولتے ہمارے میں شدہ نہیں ہم کسی کو نہیں مانتے کسی کو نا ماننے والوں میں تو شدہ ہے کوئی پکش نہیں تو اپکش بھی اپکش ہو رہتے ہیں تو مان نہیں تو صرف نہیں ہے تو مانوں جو صرف ساتھ میں اور اس کا سندھر نام میری بھگوان تم میری سے کام فبوگے تمہ رہی نام روپی چوٹی گرونے ہمیں بکنا دی اب کہا جا ہوگے سی بگو مان سک جب ہو
صواص میں جب ہو اس کے ارتبہ لینوں مانگلوں گا روچی روچی روچی اچھی اپنے آپوتی ہے پھر تو بھدی میں نکھا رہا جاتا ہے نرنے آچھی ہوتے جو بھگوان کے سکھ میں بھگوان کے جب دیان میں لکتے تو وہ اپنے اپنے بیشانوں میں ان کی بھدی کی گاتی بھی اچھی ہوتے میں ستسن کرنے کہیں سکھنے نہیں گیا ہے آپ کوئی ٹرین닝 لینے نہیں گیا ہے اور مجھے کسی نے سکھایا بھی نہیں کہ بھی آئی سے ستسن کر پھر بھی آپ لوگ دیکھ رہے اور میری ستسن کی کئی کئی سٹے اور ویڈیو اور سائیتے لے گر کئی وقتہ لوگ میرا نام نہیں لیتے اور تھوڑا سابضل کے باشان کرتے اور ان کو بھی چینلوں میں آتا ہے رہا کے بیٹے تھے کرنکان کرتے تھے آ کے بیٹے تھے اور پھر چکے سکھے سکھ جاتے بعد میں دیرے دیرے ستسن کرنے لگے
اب تو بڑے پر سد بھی ہو گئے اور سائیتے مگوائے کرتے اور کبھی کبھی چینلوں سے دیکھ کریں اس درشنان دوسکتا کو پھنے دنگ سے کرتے ایک نہیں یہ سے تو باتے رہے ہیں مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑھا چاہے بگوان کی بات گیان کی بات فیل آیا چاہے امے کہیں سکھا نہیں گیا کھیں بیتشے پڑھنے نہیں گیا تو آپ بگوان میں ليگ جائے یہ بگوان سارے گنوں کی کھانے کوئی جیسے سارے برکشوں کی یہ ضجگری جان ہے پرتوی آئے سے پرتوی جلتے دبایا κاشتے ہوتا یکشگندر سپ کی جگری جان انسارتت تو تمہر ہاتھ میں پر مادہ ہے اُس کی شرن جاؤ کے طباز کبھی رہای ہے جگ آئے کہ بہت سے کی نمیت جن دلبانہ ایک سے ویس ہوئی نش چند
سو تیسا میں اُسی کے ساتھ ایک کا کار کرسوی اور تیسا میں اُسی کے ساتھ ایک کا کار ویہوار کے آرام میں اور انت میں اُسی کے ساتھ گوتا ماری اب کم انگل آپ کے کاری منگل میں ہو گئے آپ کے ٹھیک جگہ پیر پڑے گئے آپ کے ٹھیک مرنے ہو گئے آپ کے دکھوں کا انت ہو جاتا ہے کیوں کیوا دکھاہری ہے جیسے سوڑے کو دمک نہیں لکتی انڈرہ نہیں دیکھتا ایسے وہا دک اور شوک نہیں آپ نے کبھی میرے کو دکھی اور شوکہ طور دیکھا کیا کام کیا تمارے سے کام ہے میرے پاس چندھا کا سمان کام ہے تینشن کا مسالہ کام ہے کیا میرے پاس تمارے تو ایک دو بچے ہوں گے ایک دو دکھان ہوگی تو میرے دو حجار ہو دکھان ہے لک کو کر رو بچے
لیکن میرے کیا ہے میرے اور اس کے سب ہوا یہ ہے مسجھ سمجھنے نربھار کر دیا میرہ مجھ میں کچھ نہیں جو کچھ سوڑ تو راتج کو دیتے تی راتج میں ہو رہا کیا لگتے مو آپ کے ٹیک جگہ پر پیر پڑے گے میرہ کوئی پروگرام نہیں تھا کیا آدمے کیا ست سنگ کروں گا کیسک شے پر بھولوں گا بگو آنس مجھے ساکھ یہ جو میں بھول رہا ہوں یہ بھول نے کا میرہ کوئی یہ رہا نہیں تھا لیکن جو آرہ ہے وہ میں لاران کیا وہی تمارے پنیا اور اس کی لیلہ سب کر رہے یہ تو ایک ینت رہے بھول رہے کدھے جنے مہوچ سندر آت گئے نیرن جن بن میں ساد ہو ایک لاکے لتا ہے وہاں دریا مان دیرا میرا کچھ نہیں برمشان دی رہے تن کی کنڈی مان کا سوٹھا
حردم بگل میں رکھتا ہے شریع کو میں نہیں مانتا اور مان کے ساتھ جوڑ کر میں میرا نہیں کرتا جیسے آپ ٹھنڈے گھڑتے نے تو کنڈا اور سوٹھا رکھتے ایسیو تن کو ارمن کو کنڈا اور سوٹھا مان لیا تن کی کنڈی مان کا سوٹھا حردم بگل میں رکھتا ہے پاچھ پچی سے مل کر آئے ان کو گھڑت گلہتا ہے شریع ررمن کا اوپیو کرکھے اور شبد گنتھ کر بھگوت رس گھڑت گھڑت کے پلہتا ہے تن کا کنڈا مان کا سوٹھا حردم بگل میں رکھتا ہے پاچھ پچی سابتو تو پاچھ پچیس تو کیا باوہ حجارو حجارو کیا باوپری باوپ لاکھوں لوگ کیسے لاکھوں لاکھوں لوگ کو گھڑت کے پلہتے ایسی کنڈے میں ایسی کنڈا ہے اور ایسی مان روپی سوٹھا ہے تن کا کنڈا مان کا سوٹھا حردم بگل میں رکھتا ہے پاچھ پچی سے مل کر آئے
ان کو گھڑت پلہتا ہے نی رنجن مان میں جا انڈریان انجن مانا انڈریان کی پہنچ نہیں نی رنجن مان میں سادھ اکل آکھیلتا ہے بکھ کرناتے گاوبی آئی اس کا دود بھی لوتا ہے جب کرتے دھان کرتے پرنائم کرتے کندروں کی سدی ہو گیا رولتی اوپر پہنچی تو گاوبی آئی اس کا دود بھی لوتا ہے سوشمنہ کا دفر کلا دایا بایا کرتے بیچ کی سوشمنہ جل بکھ کرناتے گاوبی آئی اس کا دود بھی لوتا ہے ماکھن ماکھن سادھوں کی چاچھ جگت کو پیلہتا ہے تو پو چاچھ پیلہتا ہے اب شن کا ہوتے کے سادھوں تو اپکاری ہوتے دیا ہوتے مکھن لوکوں کو دینا چاہیے یہ دو سادھوں سوارتے ہو گئے مکھن مکھن سادھوں کی
چاہتے جگت کو پیلہتا ہے سپریٹہ چاہش نہیں ہے دیا ہی شودگی ان دود کی چاہش میں مکھن کے کن ہوتے سیدھا مکھن حجم نہیں ہوگا بھی مکھن والی چاہش ٹھوڑی ٹھوڑی ٹھوڑی ٹھوڑی پیتے مکھن کا چیس کا ہے گا پھر مکھن کی ٹھوڑی یاترا کروگے تو تم مکھن مکھن کھن کا نے میں بھی لگ جاؤ ہو گئے یہاں کی دوارہ مکھن کے کن آرے مکھن ماتے گاووی آئے اس کا دو دوولو ٹھا ہے مکھن مکھن سادوک ہے ردے میں جو سو کھاند گیاں مادورے ہوتو اندر انم بھگئا مکھن مکھن سادوک ہے چاہش جگت کو پیل آتا ہے مڑھا مناتے مکھن کے سمورتی نربہر کر دے سکسا کبھر جینے بھی
گندی کا حرب سوٹھے گاوپیوک کیا دنیا کبھیر کے وہاں مکھن مکھن سادوک ہے چاہش جگت کو پیل آتا ہے نی رنجن بن میں سادو اکل ہا رہتا ہے ابھی کبھی کبھی اکلے بیٹ سو سو سواز کرتے کرتے اپنے آپ آئے اکلے جانا اکلے تو ابھی اکلے بیٹھنے کا بیاس کر امیہا ستسنگ میں سے بہیں پھر موجن کر کے تو آئے پھر کمرے بے گے تو راکلے بے جو کچھ پھر دیکھا کہ اب شام کو لائم لگے گی تو گئے واتی کا میں جرہ گوم گھانے کے پھر نا بیٹھ دیکھا دے گومتے پھر تبھی اس میں اور مہا بھی اس میں یہاں بھی اسی کی چارچہ تسیام سو لبھن بارتا نتے یک تس سے یوں گینا آپ نتی اسی کی چارچہ اسی کے گانوسی کے گئے وہاں تمہا رلی بگوان سو لبھنے مزیتمیسی بات
آپ چاہتے سوکھیں اور گینات کہاہتے گیاں نے چاہتے سپلتا ہے چاہتے آنے دور گینات باکھ اس کے بنا اور کوئی پر تھی برکھا رہا جمیٹ ہے تو بھی دکھ سے انتنی ہوگا ایک پتنی کیا دس پتنی کے پتی بندیا ہوتو بھی دکھ سے انتنی ہوگا ایک ماکان کیا دس ماکان کے مالک بندیا ہوں دو کھوں سے انتنی ہوگا ایک کرسی نے دس کرسیوں گھے سوانی بندیا ہوں سو کرسیوں گھے بھی نورا گومی رہا پتددشی کی جارنی نے جائے بھگوت سک کے بنا ردے کی تپن نہیں جائے گی سک کی لالسا نہیں جائے گی او دانت اور بہلوالی کا تھا پرسی دھے میری بھی دیشی لوری کے پیچھے پڑھا
وہ لپن میں رج کریں گے چلو رہت کو یہی رہتا او اس لوری نے جب سو رہیت سو نے کو تھی رہت اپنے نقلی بہلو طارے اور دانت کی چوکتے نقلی وہ بھگا اپ دانت نقلی دیکھ کر بھگا اور بھگا بھال اصلی نقلی دیکھے بھگا اصلی بھی ہوتے تو کوپٹاکٹٹکٹٹٹٹٹٹک وہ بھی تو جھرتے اور داؤںت دیتو ٹھٹھیک کا پھر ٹھیک سکھ مل تھی۔ ہپنا کمر ٹھٹ پر گرام کر کے اپنے کو مور چت کرنا ہے۔ جرد کرنا ہے۔ قبیرا کتھ کی دوسطی دوبا جو جنجال, سنسار سکھے سا ہے, کہ مل بھی گیا تو بھی سمائش اپتی ہر آسکتا لی نہیں بھی ملا تو بھی رہ دے تھا۔ قبیرا کتھ کی دوسطی دوبا جو جنجال ری جے تو مجھاتے اور کی جے تو پیر گاتے۔ आसिले प्राभोट की प्रिती प्राभोट की दोस्टिर कर हों जान्ती
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya