Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 5, 2026

Jan 5,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Jan 5,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

684 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 5,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 5,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

flower ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ அنو بھوتی کے روپ میں پر گٹھ ہو جہیں گے. آماہت نیتان ستی ہے, نوپرثی نہ جل نہ آگنی نہ وائیو, جو نہ وہاں.

ایسام ساکھی نہ مات مانم, چید روپم بیدھی مکتے ہیں. تو پرثی نہیں جل نہیں ہیں, تیج نہیں وائیو نہیں آکاش نہیں. تو ان کا ساکشی مات رہے ہیں. شریع میں پرثی کا حصہ ہے, جل کا حصہ ہے, تیج کا حصہ, وائیو کا حصہ ہے, شریع میں پت اور کف آدھیکہ تو آدمی موحی ہوتا ہے. وات آدھیکہ تو کامی ہو سکتا ہے, وائیو کا تو آدھیکہ تو. آکاشت تو کائیسا جادہ ہے, تو کام کرو دی آکاشتے ہیں. تو یہ جو پرثی کے جل کے تیج کے وائیو کے گون ہے, وہ شریع کے کمکلس ہیں. تو اتما تو بھی ہے, وہ بیتی تو بھی ہے. لیکن شریع میں اموک اموک ایسا ہوتا تو اموک اموک اموک اس کا پرواہ پر تا ہے. تو یہ ہے تو پاچھ بوتوں کے. اور جب ہم اپنے کو خو دیتے ہیں, اس میں بہت جاتے ہیں. تو جس سمائے جس سے کا پرواہ ہوتا ہے, ہم اس سے دب گاتے ہیں.

کبھی ستو گون کا پرواہ ہوتا ہے تو ہم اپنے کو دانی, درماتمہ, سجن, سرشت مانتے ہیں. کبھی رجو گون کا پرواہ ہوتا ہے. تو پاچھ بوتوں میں تین گون ہوتے ہیں. ستو رجو آرتموں. تو تین گونوں میں بھی میسرن ہوتا رہتے ہیں. ستو میسریت رجو رجو میسریت ستو, اس میں بھی پرسنتے جوتے ہیں. ستو گون کے داستا کے اور رجو کے چالیس, آرتموں گون کے پچاشتا کے. اب ان میں نیونہ ادیکсامتلے ہیں. تموں گون کے پچھ پن تو دوسرے کے دو پاچھ کام. تو جیسے جیسے گونوں کے پرواہ ہوتے برتے ہیں. ایسے تمارے کھیال بھی گاتے برتے رہتے ہیں. سچ پوچھو تو تمارے کھیال گاتے برتے نہیں رہتے ہیں. کس کے گاتے برتے ہیں. من کے. یادی کھیال بھت نے بڑھنے سے آپ اپنے کو بڑا اور چھوٹا مانتے ہیں. تو جو بڑا ہے وہ சمینتوں چھوٹینی اور جو صمینتوں اپنین�� ہوئی بڑھنے desarrollی بڑھنے چھلے گا ہے. انศ="ytt Só 엔س dads & Onations q".

تم بف نہیں ہو. بڑھن کے بچہ رہے ہیں. اللہizesیں ان کے بڑھن کے بچہ رہے ہیں. تمارے نelectronic Take the phone ke bichahra hai manda moë dhanme ke bhin waar damit ایسے کے بچہ رہے ہیں. اللہ وطبع ہم اپنے ب celery ایک اور رہے ہیں. Sold by B OS کوئی ہو, کچھ ردھے شود ہو, ویوے کویرہ کی جرہت تگرا ہو جائیں, کہ آپ کو لگے گا, کہ میں کامی کرو دی نہیں ہوتا, شریع کے اموک ہی سے میں اموک

گتنا ہوتی, اب یہ اموک ہی سے میں اموک گتنا ہوتی ہے, اموک واتاون سے اموک بیچار آتے ہیں اور جس میں بیچار آتے ہیں وہ آتما نہیں, جس میں گتنا گتی وہ آتما نہیں, اور جو آتما نہیں وہ میں نہیں, جو آتما نہیں ہے وہ میں نہیں, میں اور آتما ایک ایک ایچ کے دونام ہے, پرشتم بڑے مجھے کی بات کریں, ایم آتما برمھوں گڑا کے شو سروب ہوتے شو, ایم آتما یہ جو میں ایم آتما ہوں, برمھ رکھ میں اور سارب ہوتوں میں ہوں, تو ایم آ کی ستہ سے اب ایک بات اور اُنچی سمجھے لینے کی ہے, کہ جر میں قریع کرنے کی شکتی نہیں, اور چیطن سدا نشکری ہے, پرچھوی جالتے جو آیا پرچھوی کی اسے میں جننوں

تو کام نہیں ملے گا, جر میں رکھا دیکھا تو دراویتا نہیں ملے گی وہ لوگ لوگ مو نہیں ملے گا تو یہ ہمارہ سرجو ہے پرچھوی جالتے جو آیا پر پندھری تو ہے اور کیا ہے, پر پہاچھ بھو تو کارن ہے اور یہ اس کا کاری ہے اور کاری ہے مجھے کی باتے کہ کاری بنہا کارن کے رہی نہیں سکتا میں سے کپڑا میں روی کارن ہے اور کپڑا اس کا کاری ہے, تنتو اور روی روی سمجھو تنتو سمجھو تو تنتو نے کال دو روی نے کال دو تو کپڑا نہیں بچے گا تو ابھی ویکہ کپڑا روی کا ہی تو ربندر ہے روی ہی تو ہے رو نکال دو تو کپڑا نہیں بچے گا ایسے ہی سری سے پہچھ بوط دیگا دو تو سری رو نہیں بچے گا سری رو نہیں بچے گا پھر بھی میں بچھrup جائی جے, もر جاؤں تو میں سکھیں ہو جو μου. آجار و جاره سری چلے گے لیکن میں گیا نہیں جو نہیں جا تھا اس کا نام ہے, جو نہیں مرٹا اس کا نام ہے அمر ہتما. مجھے کے بعد ہم ہے, அمر لیکن مرندھر مہا,

پنچبھوتی کے شریع کے ساتھ, تدہت میں ہو گیا, اننیوں نے ادھیا سو گیا, تو شریع کے سکھ میں ہم سکھی شریع کے دکھ میں, دکھی شریع کے موتہ پانے میں, موتے شریع کے چھوٹے پانے میں, ہم چھوٹے, شریع کے گورے پانے, ہم گورے اور شریع کے کالے پانے, ہم کالے, یہ بھانتی جب تک رہے گی, تب تک تم کت نہیں, یا گی کرو کت نہیں, تب کرو کت نہیں, مالا گمہا, پھر بھی در بھاگی سے پورر مکتی نہیں ہوگی. ہم ہم ہم ہم ہم ہم ہم, ہم ہم ہم, ہم, مالا گمہتے گمہتے شریع کے ساتھ سنگ میں روچی ہو جائے, جب کرتے کرتے, تب کرتے کرتے, شائع کے خوچ کی ایک جنگاری آ جائے, یہ آبانتر سادن ہے, لیکن پر تیک سادنتے اتماگیان ہے, نپرثی نا جلم نہ آگنی, نا وائو دونا و آبان, ایسام ساکشنان اتما نمچد روپم بھی دی مکتے ہیں, اوچد روپ کو جانکتوں مکت ہو جا, ہو جا آجر ہو جا امر,

تو چیتن اتما نشکری ہے, اور جر پاچھ بھوتوں میں قریع کرنے کا سامر چنے, شریع جر ہے اور اتما چیتن ہیں, چیتن میں قریع نہیں اور جر میں سامر چنے, تو پھر کیسے ہو رہا ہے, جیسے مگنٹ اپنے جگہ پر ہوتے ہو بھی, لوچھ مبب, اس کی رسمیاں, اس کا پر بھاو, لوحے کے کنو پر پر تا ہے, ایسے چیتن اپنے محیمہ میں جو قاتیوں ہوتے ہو بھی, اس جر میں قریع کرنے کا سبندن کرنے کا سامر چنے, اور جر اسے بھولتے ہیں جو گھنی بھوت چیج ہوں, گھنی بھوت کو نام جر ہے, اور جو سوکش محوش کا نام چیتن ہیں, آئے کئی تتا تو ہے, تو تو پرچھوی جلو آئی ہوتے جا آکاش نہیں ہے, تو چیڑ روب ہے, اس کو جان کر سکی ہو جا,

میں بار میں دیکھا جائیں, کہ تمہرہ شریع چھوٹا تھا, جوان ہوا, دن میں کتنی بیوہر ہوئے, آراتری کو سوپنہ آیا اور گیا, آراتری کی گھری نید آئی اور گئی, لیکن انساب کو دیکھنے والا جدی جاتا, تو اس کی سمرتی کون کرتا, تو تم گئی نہیں, شریع پر سے گجر گئے, شریع کے حسے بدل گئے کتنے, لكن تم آبادل ہو, تم آبادل ہو۔ 정도로 you would see a囂 بچحپیل مانتا ہے اپروWatchورت ہے۔ اپنے گیا بٹھومیprised جیتبldے ہیں اور آ caretour اس سے جمح Witcher تھا؟ ний گیا آپ پ boug propagate کر Doncs آین اپنے اللیڈی ingredients کی باڑھیں گئے کرے Şuڈھ میںopardہانہ کتن کس ملے اللیڈی پڑھ Division میرپیر نہیں. اور مجھے کی بات کرےタformی کی فیلو بھی میں ابینہ کے λیکھ

اہام کے بھی ایدام نہیں ہوتا اور ایدام کے بھی اهم نہیں ہوتا ہی میکہ بھی تو نہیں ہوتیAre, دrésگہ نہیں ہوتا جس کو تم نے یا کہ کیا کہا undergo ate وہ میں نہیں ہوتا یا فfur بہل پلزگ کا מה כائنا ہے تو میں asta permite وfrontہ نے یہ باک نہیں یہ Θ Bomb یہ ناidence மلاگ, تمہے மلاگ نہیں, சریعان, یہ کان, تمہے کان نہیں, آئی سے ہی یہ من, تمہے, من, نہیں, میرا من, جو تمہ رہے وہ تم نہیں ہوں, سیڈی سے بات ہے, ایک دم ساف ہے, لیکن دور بھاکے و سملوں کے ان باتوں سے دور سے لیا ہے, اور سمجھتے کے کھیں دیو ہے, کھیں خدا ہے, کھیں اللہ ہے, کھیں بھاکہ آنہ ہے, کھیں اٹھا کر جی ہے, اور اٹنہ اٹنہ کروں, اٹنہ اٹنہ اٹنہ سوڑوں, اٹنہ اٹنہ مجھوری کروں, تب کہیں ہو, سونے گا تب کہیں آئے گا, جب جب سنتا ہے تو تمہاری انتر مختلف سے سنتا ہے, جب

جب آتا ہے تو تمہارے دل کے دورہ ہی آتا ہے, ایک سمرات, میں کھتا سنگا سنگا سنگا, نرطا کی آئی, ناچی کھو, تبوہ, بوہ, بوہ, بوہ کیا مزاہ ہے, جب وہاں وقت کر رہے, مزاد آرہ ہے, تبی بھی دیا پر کاشت ہے, اور وہ تبل جی ساز نہیں دیتے ہیں, نرطا کی کا چیرہ ساڑے بارہ بجا دیتا ہے اور اس کو مجھنے آتا تبی بھی دیا پر کاشت ہے, نرطا کی ناشتی ہے, تبی بھی

تمہارا آہن کا ہار, دن کا گرف کرتا تھا تبی بھی آپ کو لگتا کہ پیسے دو بینک میں ہے, جیوار تو تیجوری میں پڑ ہے, جیوار میں رے میں جیوار والی, چھے نہیں ہے نا ہے باہجی, میں نے تو روچ دے روچ دے, روچ دے, میٹی بطلہ ہوتے دے, روچ دے روچ دے, گراھنی ایک میٹی بنا لیا پیچھے, مارا پتی ہے, چھے نہیں, بوہ سا روچھے, پوڑھ پیلا, کو کو کتے لڑھے نہیں لے, بسی بھنے ہو, سوا بے چھے, پیلوچھے, آمچھے, تمچھے, یہ ساب تمارے, دھا نا ہے, گیٹی کو تو خبرنے کے میں پہلے کو ہوں, گھڑیال کو تو خبرنے کے میں پہلے کیوں, نا, گیٹی کو بھی پتانے کے میں اس کی ہوں, گھڑیال کو بھی پتانے اس کیوں, لیکن تمارا آہن کا ہار, گر و کر کے, گیٹی ہماری, گاہنے, ہمارے, قپڑے, ہمارے, قپڑ کے یاداتی تو جرہ ققر آ جاتی ہے, اکڑ جس کو آتی وہ ہنکا رہے, اور سکڑ اور اکڑ کو دونوں کو تم جانتے ہو کہ نہیں جانتے ہو, سچ بٹانا جراک کو داگی.

اشتاہ کھر یہی کر رہے ہیں, تمہرے گھر کی بات کر رہے ہیں. بود پیدا ہوئے, ساتھ قدم چلے اس کے باہا دونوں نے سناتن ستے کا ہے, لیکن اشتاہ کھرے ایک بھی قدم نہیں چلے, ماتھا کے گربہ میں گوشنا کر دے, میں شود دو ہوں, میں بود ہوں, میں آجنمہ, میں نرفکار ہوں, میں چاہیتنیوں, مدالسا کے پوتروں کو مدالسانے پیپان کرتے گوشنا کر دے, اور ہم چالیش چالیش سال کے افلے ہوگے, تیس تیس سال کے ہوگے, پچاس پچاس سال کے ہوگے اور اپنے کو اتما ماننے میں درتے, برامر مانتے, شتری مانتے اشتاہ کھر اس کو سب کو دے گئے بھی, تو برامر نہیں ہے, تو شتری نہیں, تو ہندو نہیں, تو مسلمان نہیں, تو دہی نہیں ہے تو اپنے برامر کا اس کو ہا, چیدان انداروں پمشو ہوں, شیو ہوں, شنکر اچھاری نے جو سلو کرچے ہیں, مدے مزکے ہیں بے. تو جیسے دیا پرکاشتا ہے, ایسے ہی تمارا ساکشی سب کو پرکاشتا ہے. بلاشانکا چانڈنا کو لجہانکا تون تیرے آسرے ہوئے ویوار سارا,

تو سب دی آق میں چمتھتا ہے چانڈنا تو جیسو جتا اندیارا. جاگنا سونا نتکھا بطینوں ہوئے تیرے آگے کئی بارا, رو جاگنا تبستا بضل جاتی ہیں, سوپ نے بضل جاتے ہیں, سو سبتی بضل جاتی لیکن اس کا دراشتا کبھی نہیں بضلہ. جاگنا سونا نتکھا بطینوں ہوئے تیرے آگے کئی بارا, ملاشانکا سپرکاش سروپا ہے, ایک تیرہ گھت ودنہ ہوئے یارا. دیراپراکاش سروپا ہے کئی ہے, تم جب بولتے ہو کہ ہم دھانکہ سے کرے, من میں سانتی کئی سے آئے, امو کام کئی سے ہوئے, یہ کئی سے کرے. تو ویدانت تو میں کہتا کہ, تم نے ابھی اپنے کو جانہی نہیں, دھانکہ رے, چاہینہ کرے, یہ منور بودی کا بشے ہیں. امو کام, سپھل ہو اور خوش ہو, چاہینہ ہو, یہ آنکار کا کھیل ہے. سریر کالہ چمتھا کالہ ہوتا ہے, تم اپنے کو کالہ مانتے ہو, چمتھا گورہ ہوتا ہے, تو تم ابھی سیالا ہے, جرہ چمتھا کھولے گا گورہ ہو کہ جو, سریر کالہ چاہینہ کرتے گئی. تم ایسے نہیں ہوئے,

تمہارے پر سیرپا کسر نہیں کر سکتا, انہارپا کسر نہیں کر سکتا. ایک ستششتھا گروکہ بھگت تھا, گروکہ بھگت سب امیر ہوتا ہے, یہ جروری نہیں ہے, گریب ہوتا ہے, گریب امیر ہوتا ہے, ہوتا ہے, لیکن گروکہ بھگت بھگت بیوکف نہیں ہوتے, جائے جائے, گریب امیر ہوتا ہے, لیکن بیوکف نہیں ہوتا ہے, وہ لاری چلاتا تھا, بیلگاڈی چلاتا تھا, موجود ہوتا تھا, بیلگاڈی گا, ایک بار نمک کے 10-15 بورے, ایک آدم ہوئے, سیگ, تیس کھانڈ کی رہی ہوگئے, بییی تیسییی, جو سکر ہوتی سکر والے سے س你说 SEÑت تھا۔ دو چار بوریس اقسیکی, کی ایک دی کریگ بیiecی, کی ایک دیpoolگی، کی ایک رہی ہوگئے، چار بوری سکر کے 10 بوری نمک کی ajuda, 이제 لا ever go easyer again, ца ضرور پچھوں کو μπορείا ہے, ایک آدم ہوگئے, ایک باریش ہوئی . اور مسOWN לאח гру بھر ساد ہوئی, نالا چلا, گارا ب Hoş گیا, جو روکا پانی باہوں میں ,

کیسے ہی تم اس پرمہتما کی روشنی میں اپنا ٹائے رہا سراستا ہے کرلو تو سملے نہ کہ تم کسی گروکہ ششہ ہو نہیں تو تم منکہ ششہ ہو گروکہ ششہ ہو جانا کوئی گٹھین بات نہیں ہے لیکن اپور اپور سے گروکہ ششہ بہا اور بیٹھر سے منکہ ششہ ہو جاتے ہیں منکہ ششہ نہیں گروکہ ششہ گروکہ آرث ہے کسین نے بچینے آج پوچھا کہ گروشہ بڑھکہ آرث کیا اوم کا آرث کیا ایک ایک کو بتائیں تو سمین نہیں ہے اس لے جہر میں بتایا جائے گا اوم مانا کیا اکار اکار مکار اور اردماترا اکار ستھول جگت کا سنکت ہے اکار سوکش مجگت کا سنکت ہے اور مکار کارن جگت کا اتھوہ ویشوات تیجس پرگ گئے ایتین جو ادیستہ آجے سے ایک نگر تو نگر پالکہ قادو ہے ایک راشتے تو راشترا پتی ہے ایسے پورے برمحاند میں جو ستھولتا تو ایس ستھول جگت کا جو بھیڑ

اس کو ویشوکہ کہتے ہیں سوکش مجگت کے ہیڑ کو تیجس کہتے ہیں کارن جگت کے ہیڑ کو پرگ کی کہتے ہیں اکار اکار مکار ویشوات تیجس اور پرگ گیا اوم میں تین مات رہیں تو آجتے اکار اکار اور مکار این تینوں کے اوپر ہے آرد مات رہا اس کو بلتے طوریا اوم منا ستھول سکش مور کارن ان ستھتا تینوں کو پرکاش نے والا تینوں کے اوپری تینوں کا ستھتا سپورتی چتنا دے نے والا جو پر برمح پر مات مہا ہے اس کا نام اوم ہے اور مہا ہوں جای جای تمہارے ستھول جگت کا تمہاری جاگر توستاکہ تمہارے سپنہ وستاکہ تمہاری سو سپتی آوستاکہ پرکاشتا کوئی گنگہ ہوا بہوہ قاوہ نہیں ہے تمہی تو ہونے جیسے ایس سریڈ کی جاگرت سپنہ سو سپتی کا تم پرکاشتا کو ایس سریڈ کے ستھول سکش مور کارن کے تم جانکار ہو آئیسے ہی سمجھتی کے ستھول سکش مور کارن کو

جو جاندہ ہے اسی کا سنکتک نام ہے اوپا تسیوہ اچھا کپرنوہ وہ پر مات مہا کنام ہے پر مات مقاس و بہاویکس پرنا ہے اور ساب میں اپنے آو دھنی ہو رہی ہے لیکن میں ہم اتنے بہرے ہیں اتنے بہرمکھ ہے تو سومکار کو بہار سے بیتر سے نہیں سنپاتے اسلے گرو دے و دیتے ہمیں تھا گروش شبد کارت کیا ہے گرو بہا گرو گروگیتا میں لکھا ہے کہ اور اقشر سب ایکانی ہے گروش شبد جو ہے سولانی ہمیں تھا ہے گرومہ نے بڑا گروش شکھر بڑا شکھر جو بڑا شکھر ہے جو گرو ہے گروگہ مطلب جو ہیلے نہیں جو اپنا استن چھڑے نہیں ایک ارث کا یہ ہے گرومہ نے ہزار ہزار آندھی آئیں ہزار ہزار ہر شہوں ہزار ہزار شہوں پرٹھری جلتے جبائیو عقاش کے سرر میں

ہزار ہزار اپترو آئے اور جائیں پھر بھی جو اُن سے پر بھابیتنا ہو اس کا نام ہے گروگ ایک ارث ہے دوسرار تھے گرومہ نے آندھکار اور رومہ نے پرکاش آندھکار کو چھوڑ کر پرکاش کے طرف جو لے جاتے ہیں اُن محپورشوں کو بھی ہم گروکہ دے ہیں کبھی نے کہہ ساتھ گرومے رہ سورمہ کرے شبد کی چوٹہ مارے گولہ پریمکہ ہارے بھارمک کی کوٹھ جب بضلتا ہے تو من بضلتا ہے جب بضلتا ہے تو شکلے بضلتی ہے چہرہ بضلتا ہے انساب کی بضلہ ہاتھ ہونے پر بھی جو نہیں بضلتا ہے اُس کو اتماکہ تھی اُس کو مائے کہا جاتا ہے دوسرار تھا آپ نے سمجھ لیا جو اچل ہے اپنے سوروپ میں جو میں سنسار کے سمجھ رسے نے کالکار پر ماتما سے ملا دے جن کا ایک ہاتھ پر ماتما میں

اور دوسرار تھا ہاتھ ماری پرستے تیوں میں ہے اُن پرشوں کا نام گرو ہے ساتھ گرومے رہ سورمہ کرے شبد کی چوٹ مارے گولہ پریمکہ ہارے بھارم کی کوٹھم گروگوں گویندہ دونوں کھڑے کس کو لہ گوپا ہے بلہارے گروتے ہوگی جو گویندہ دیو دیکھا ہے آسومال کوئی دی گروتی نہیں ملتے تو کھان کے بوریہ بھیجتا ہے یا تو دیل کے دبے راوانے کرتا ہے ٹرکی راوانے کرتا ہے اور جس سنسارے لوگ ہی ہا ہے ہی ہا کر کے اپنے جیوان کلونوں میں ویرث کر رہے ایسای جیوان ہوتا ہے نرینڈر کو گرو نے ملتے تو کوئی کالج میں پروفیسر ہوتا رامتر تو گرو نے ملتے تو وہ پروفیسر ہوتے ہیں گروگہ آر تھا ہے جو ماتا پیدا نے جن مدیا ہے کام کرود سے پریری تھو کر کامناوں سے پریری تھو کر پالتی پوسٹی ہے تو مہوں سے پریری تھو کر کوئی کوئی ماؤ ہوگی جو پریم سے پریری تھو کر پالتی ہے لیکن مہاں بھی چاہتی ہے کہ بڑا ہوتو سکھ دے بڑی ہوتو سے وقرے

سس رہل جائے تو میرا نام نے کالے مہاں چاہتا ہے کہ بڑا ہوں میری بجا ہم بڑھا پے کا بوجاد ہوئے گا لیکن گروجہیں سکبھی نہیں سوچھا کسیشہ کو ساکھ ساتھ کار ہو میرا نام نے کالے سیشہ بڑا ہو جاہر میری سیوہ کرے سیشہ پرمتما کو پالے اور میری کو کچھ پرمتما سے لے کر دے دے ہیں نا ایک فکر کے پاس جی کیا سو گیا بلمہ راج جی سس کو کروس پیچھا دیا گیا گیا گیا گیا گیا جی سس بولتا ہے کہ مالے ان کو محاف کرنا تیری مارجی پرن ہو سو کرات کو جاہر دیا وہ کش کو سپی گیا جیسے کوئی نہ تک میں کوئی آدمی جاہر پیتا ہو سپڑے پر کن کر پتھر لگے سپڑے پکھن دن ہوئے روگر راجانے جڈ بھرت کو پالکھیٹ بائی کوڈ مارنے کا دم دیا داتی دی لیکن جڈ بھرت کے چارے پر کر چلی نہ پڑی دکھ کے ایک رے کھنہ چھائی

چاہتے تو سراب دے دے دے چاہتے تو سپسوں نہ دے دے لیکن جڈ بھرت کے چارے پر کوئی ابھی مان کوئی راگ کوئی دویش کوئی کنہ تانہ دیکھئی دتاترے کو بھیلوں کے راجہ یہ گئے کر رہے دتاترے کو پکڑ گئے بلی دینے کے لئے دتاترے کے چتے میں کوئی شوب نہیں ہوا تو محراج ان پروشوں کے چتنے شوب نہیں ہوتا جب یہ برمہ ہے تو ہم بی برمہ ہے یہ اتما ہے تو ہم بی اتما ہے ہم لو کو کو تو جراسا کوئی تو کہ دیتا ہے تو دوک ہوتا ہے جراسا کوئی اپنان کا شبد کر دیتا تو پرسانی ہوتی ہے ان کو سولی پیچھا رہے گیا تو بھی ان کو دکھ نہیں ہوتا ہے گو رپن کیا گیا تو بھی دکھ نہیں ہوتا اس کا کھرن کیا ہے فر ادنی ناریال دیا کہ کہ جہے اس کو توڑ کیا لیکن یاد رکھنا کہ اس کا جو گیری ہے منا ٹوٹے اس کو کھول کرا گیری سابت رہے پورے کا پورا

نمولہ یہ مسکل ہے گیا گیا چو کچلی اور گیری دونوں جوڑی ہوتی ہران ناریال تھا کو پانی برا تھا کوئی سمجھ سمجھ کے بھی توڑا تو جو کچلی ٹوٹے تو گیری بھی ٹوٹ گیری گیری اور ٹوٹے کچلی ایک دم جوڑی ہے کتنا بھی سمحلو تو بھی ٹوٹ جاتی ہے کیوں کہ اس کا اپس میں اٹنامیل ہے اٹنامیل ہے کہ جانو بس دونوں ایک ہو گئی ہے بارنا تو گیری ایلگ ہے کچلی ایلگ ہے کچلی ایلگ ہے اور اس کا کوکھا ہو پر کا ایلگ ہے پوری میں دوسرا ناریال دیا بلچھ سے جہیس کو ٹوٹ کیا سٹے ہی لیا تو دیکھا کہ یہ یہ تو ایلگ ہو سبتے گیری ایک دم ایلگ ہو سبتے اس کو کچھ ہوت نہیں لگے بلے باب اس کو ٹوٹ نہیں کی بھی جو روط نہیں جو دے سے ایک دم اپنے کو ایلگ مانتے اس کو موت کی کچھ ہوت نہیں لگتے اور جو اپنے کو دیمانتے سمال سمال کے جیتے ہیں تو بھی دن میں اور رہت میں

سوبے اور شام میں جیو ان مرموات میں چوتے ہی چوتے لگتے ہیں دیا دیا سی جتما جتما جتما دیا دیا دیا سپر گار ہے اوتنی ایلگ ہو اس نے ایلگ ہوتے جادہ لگتے ہیں دیکھو بچھا ہے اس کو دیا دیا سبھی بیک سے ٹوٹ نہیں ہوا بچھے کہا کہ آپ گلی دیدو تو بھی ہسے گا பچھے کمیٹھہ دے دو تو بھی ہسے گا பچھے کے پاس سے کچھ اٹھالو تو بھی ہوںس کو کوئی رنج نہیں ہو گا کیوں کہ بھی ہے میں ہوں اور یہ میرا ہوں یہ வیکسیت نہیں ہوا ایسے کسی فاکیر کی آگے سے تم نے کچھ دارو دیا اور کچھ اٹھالیا تو بھی ان کو چھوٹھ نہیں لابتی பچھے کہ اندر ابھی آنکار வیکسیت نہیں ہوا ابھی ممتہ بیکسیت نہیں ہوئے اور گیانی کی ممتہیں بادیت ہو گئی ہے پھر اگنے کہا کہ تم تو ایسے ناریل ہو کہ ابھی کرچلی بندھی نہیں ملائی لگی نہیں اب تم تو ہرے ناریل جیسے ہو تمہرے اندر اتنا تھا باک میں ہے دے کہا کی بس دے کے بال پکٹے تو بولتے میرے چھپھے گبال ہو گئے چھمرا کالا ہوتے تو بھی میں کالا ہو گئے جرا سبوکھ لگتی ہے پراوں کو تو میرے کو

بوکھ لگے میں مر گئے پراوں کو پیاس لگتی تو میرے کو پیاس لگی تم اتنے کا چھے ناریل ہو کئیتنا بھی سمال سمال کے تھوڑا جائے تو بھی تمہرے کارسلی حلک نہیں ہوتی جیسے سبود جنگہ آشتا وکھر شکڑے ہو جی مہراج جڑ بھرت ایسے پکھے ہیں کی باس ممتاروپی پانیسوپ گیا ہے کارسلی حلک گیری حلک ممتاکہ پانیسوپ جار ممتاکہ پانی اگگن سے بڑتا ہے اور گیان سے سوکتا ہے کھو تو جلدی سوکتا ہے ایسے علوے کی اگنی میرک ہو اپنے کو تو تم ساریش سے تراثک ہو جاؤ گے تم اپنے کبھی کبھی try کرو جب چل بہیں ہو چھایا دیکھو دیکھو کہ جیسے چھایا تمارے سے آلہ ہے چھایا جس کی ہے وہ اور چھایا ایک نہیں ایسے یہ ساریل بھی میری چھایا ہے اور ایسی چھایا تو میری کتنی کتنی کتنی ہوئی چھایا بلے پروت کی ہو

اور دیکھی سٹھایا کتنی کتنی بھی بڑی لم بھی چھوڑی ہو لیکن نشود دیا ہے اور مجھے کی بات ہے کہ جتنی جتنی جتنی دیا اور دیکھی سندھر کا بڑھتی ہے سٹھایا بڑھتی ہے اور آتماگیان سے آدمی بھی مکھ ہے اُتنا اُتنا و آدمی حبہ گا رہتا ہے پرسید قتا ہے کہ ایک فکیر لگا بخشا پاترا پروک بلتے ہیں کہ اسکندھر کے پاس لگیا تھا کوئی بلتے کسی کے پاس کہانیا ہے گھڑی ہوئی کہانیا ہوگی بیکشا پاترا لگیا رہیہ دانی تھا حقصوبے سوبے دان کرنے میں کوئی بھی دان لے نے آئے تو اس کو اس کے برطان کو بھر دے تھے دان کا فعل ہوتا ہے پنی کرم کرنے سے انتا کنشود دو دانتا کن ہوتا ہے تو اس فکیروں کے بھی درشن ہو جاتے ایک سچھا فکیر پہنچ گیا پولا بیکشا مگنے کو آیا ہوں تیر پاس بھنے اس بیکشا پاہتر بھر دے تھے میرے اس بکشا پاہتر کو بھر دے جس سے چاہے تو بھر دے سمانٹ کو گروا تھا کہ ان سے کیا بھر نہ

اشرف felony سے بھر ہو اشرفیں دالتا گیا دالتا گیا بھر نے کو پھر کو اس نے کو اس چاہر مارا ہے پین اسے رہے ان کلہ سورے بھر نہیں دارا حقصورتمل ہوتا گیا سمانٹ کو چاکی مارا جیкам کیا ہے بیکشا پاہتریں کیا کیا ہے भ़हेwd ह।़रेTharayagomy channel आर मैं य概ल ल Beimathach age आपवलृस़् öffentlich नहा करुपलृस़्केडे चनuger हमाकतुपसत्या वपलपलृस Oczywiście ہم اfind withdیکٹہ میں خبرکہ وہ خبرکہ ہے اس کو سیل homme کو کہیرے گیا اللہ محراج پہر اس خبرکہ بارے کیسے write اس وقت کسی بارتینے پرمیتما کے سکیر سکیر ہاک کسی سکسے کھبرکہ بارتینے ایک شو ہے猫 ہی ہے ایک ایک خبرکہ بارتینے یہ دل بارتا نہیں asrpti نہیں ہوتی کیوں کے پرمیتما کے صماعت記ہ جو کچھ ہے وہ اپورنا ہے

ایک پرمیتمای ہے جو پورنا ہے پورنا مدہا پورنا میدام وہی پھر نہ ہے. اسے کا رہاں, اسے کا رہاں سے تجھے سمجھ میں آجہ ہے. اسے کے گیت ترے رہتے سے گھونے نے لگ جائیں. تو یہ کوپری بھر سکتی اور نہ نہیں. ولی محراج تو پھر باتا ہوں. میں پر محطمہ کوکھے سے پیار کروں. پر محطمہ کوکھے سے پا ہوں. محراج نے گھا تو نے کبھی کسی کو پیار کیا ہے. لیمحراج پیار کیا کر نہ. سنسار میں... میں نے حکومت کی ہے. پیار نہیں جات. میگگلین کے بگری بگیچھے میں جیسس آرام کر رہے تھے. میگگلین پرسید دوائیشا تھے. وہ کے وہاں سے بڑے بڑے سمرات خالیاتل ہوتے کبھی کبھی. ملاکات میں کر پاہتے. ایسی وہ گرفا گرفا نوالی تھے. پرسید اور سندر. میگگلین کے نظر پڑے جیسس پر. آئی جیسس کو بھلانے کے چلیے میری محل میں آرام کریے. جیسس بھولتا کے پہلے آتی تو چل پڑھے. اب سمائے ہو گیا میں جا رہا ہوں. جیسس کو بھلتے کے تم تمہرے ردے میں کچھ پیار نہیں.

میگگلین ہوں میگے دوائیش سے بڑے بڑے سمرات خالی چلے گئے. اور میں نے جیبان میں گیدے کہا ہے تو پہلی بارتوں کو کہا ہے کہ چلیے. میری محل میں چلیے چلیے. اور تمہرے پاس پیار کا بضلت چکانے کے لی 10-5 минут سمیں نہیں. تم کتنے رکھے ہو. تمہر پاس کوئی دل نہیں. تم پیار کیمت نہیں. جیسس کہتے کہ پگلی میں تو جیتنا پیار کرتا ہوں. اور پیسی نے نہیں کیا ہو گا. اب ہی سمیں نہیں سمیں لیکر کبھی ہوں گا. شیشے چونٹلی کھا رہے ہیں. یہ جبوروچی کیا کر رہے ہیں. بلے چھو پڑھا ہوں. لوگ چاہا ہے کچھ بھی کہا ہے. لیکن میں باشا سئی بہل رہا ہوں. اب ہلتے جیت کیار کرتے تو چلے چلے. بلے میں تو جیتا پیار کرتا ہوں. راجے مہراجے تو تیری حدیوں کو پیار کرتے. پر چی جلتے جوایو عقاش کے پتلے کو پیار کرتے. اور میں تو جیی پیار کرتا ہوں. اور تیری دہان میں مگنے رہے تھا ہوں. پگلی. شیشے کہا ہے کہ گرو. مگر لین کے دہان میں مگنے رہے تھے. لیکن گرو کو مگر لین کا پتلا نہیں دکھ رہے. گروک کو مگر لین کے اندر کی وہ ساکشی درستہ اتما دکھ رہے.

اور شیشے کو مگر لین کا پتلا دکھ رہے.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →