Jan 4,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
1,021 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 4,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
حجی کت دن چھو تو حجی کت ان دن کت حجی کت ان کت حجی کت dad دارу کت د کر گے گی ہجی کت دن کت حجی کت حجی کت دن کت یہ تو اپنے ساتھ انگا ہے اسلے آس کا دن اتراین ہے صوری داکشنان سے اتراین جا رہے آی سے ہمارہ چتبھی بھگ سے சமہے کو بچہ کر یوک کے طرف چل پڑے یہی آشارام کی پر آدمہ ہے۔
پرہ برنا رات دیوز، سنگ کرانتی مانا سمیق پرکار سے اپنے بیچاروں کئی پریورتن کو سنگ کرانتی بولتے۔ کرانتی میں تو ہنسا اور تچ دیکھار سامنے ہوتے ہیں، سنگ کرانتی میں سمیق کرانتی۔ سمیق روب سے اپنے ہیں، ستچت آنندس روب کو پیچانے کے راستے چلے گھئی یہترا کو سنگ کرانتی ہم۔ ہم کہے سکتے، سمیق پرکار کی کرانتی۔ رانتی کاری تو بہت لوگ ہو گئے، لیکن سمیق پرکار کی کرانتی، سنگ کرانتی۔ چت میں سمتا رہے، ردے میں آتمرас پرکٹے اور کرم میں نشکامت آ جائے تو سمیق پرکار کی کرانتی آ جائے۔ سنگ کرانتی۔ پریتیون دو سواز پران بلکو بڑا ہو۔
سنگ کرانتی، سنگ کرانتی، سنگ کرانتی۔ سنگ کرانتی، سنگ کرانتی، سنگ کرانتی، سنگ کرانتی۔ سنگ کرانتی، سنگ کرانتی، سنگ کرانتی۔ نجائی سے پرتی دن سوریے کے پرکاش میں سواز لیتے سمی بھاہنا کرنی ہوتی ہے کہ ہم آرگیتاکوں سوکھ اور شانتی کو پرانشکتی اور سپورتی کو سپلتا اور سدی کے پرمانوں کو آمنترت کر رہے۔
سنگ کرو کہ ہم ہم ہمارے جیوان کی سمیگ پرکار کی کرانتی ہو۔ بیچان اور کرموں میں سمیگ پرکار کی کرانتی ہو۔ کئی سے آتم بلکی پرمانوں کو دررتاکی پرمانوں کو آمنترت کر رہے ہیں۔ نسناریہ سدورے ہے، تمہرے پاپ تاپناشت ہو جاتے ہیں، اس پرکار کے پرے ہوگہنے سے تمہراتن نہیں روگ، من پاہن اور بھتی میں بھتیدہ تاکہ آنند پرکاش بڑھتا ہے، ننگ جنے ٹھیکا ہے، بہینا اشن، درمتی ہران، کلی میں ہری کو نام، نشدن نانگ کا جو جب ہے، سپل ہو گئی سبکھان، بہی دور ہو جہیں گے۔
ممتیتے جسوی ہو گئی، اور تمہرے کام نائر سپل ہو گئی، ہرینام خبر بہاو، ہرینام کے دیان خبر بہاو، ہرینام کے گنجن خبر بہاو، آپ دورتن کر یہ پر دیکی ہے، بہت بہت لہا ہوتا ہے۔
تمہرہ روحیہ کام نام سے پویترہ ہوتا جا رہا ہے، تمہری کو پہر کرنے سے سچمج میں ہری مائے ہو جی ہو گئے، کلی جگ میں بگو نام جب کی تنگی بڑی بہری مائے جی کو، تمہر ماتنا کو پہر کرتے جاؤ، جس پر ماتمہ نے تم کو قتھا کی تنگی جگا پر پہنچانے کی پریناتی ہے۔ அپنے تنگولانے کی پسر تاز پوتے اور جیتنا دی اس چیتنے سرو پر نیشور کو سنہ کر دے جا ہوں 000
000 000 000 000 000 000 यह्रा तोदय दोमसा दांग तादि खाशा दाशा फारा भा
پுடில گொட்டியா and in ghor ghor bola پுடில گொட்டியா and in ghor ghor bola மரஹஷ்டனே کہவா தேன் پுடில گொட்டியா and in ghor ghor bola ایک்போது அழுத்தில கொட்டித் தேன் மிٹھதா விடھாக உள்ளே காசம் கல்ளா் جле گوردия ہothing ہے اور یہ گور گور گ vy آबलframy عج کے دெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெெ دäQuécheer merisioko aad maghand yadha
aad meras ka daand yaadha shiiouji neurot chadi تم جی اپنے دل کو DhaGvatye rase do aaj ke dheeng an沒有Rase jal Rase to guhat paya �� بھی تو ہر گاس پاتے جاؤ प्प्पुकुए।
ऐल कुइfont brei�� री्रय्व़भल
दा़ लशुट्ट लाब पातना राहां रहां। ञराम के छेवानव द़् कुछाड पे सूगोई जाऎना गे कि गरे गरे सूग हे짝 है कि जाद के असूठी जाणना के किसी बपपद के ऻाईट के दिकसे शाणनागे ھو کی தل میں தل برکا رس் برا ہے ھا نوں با مدنوں ھا ریگوں ھا نوں رہوں ھا نوں ھا نوں ھا نوں ھا نوں
पैपार करता चाहव।
अर चुके नरी कुई के कि वोगोुआुआलोनु चुके षियछारमेजोुआके चुके दबोत के अबुआँ नहीं हुपWhen together, I wish, this individual we agree that that persons agree that our cooperation is filled up with each other's feelings, with each other's traits and Style.
पूरन पूराजे सिश्रनदा पूरन पूराजे सिभूर मग्ति तू मेरे दिल कु प्मेलां सेरांगी डक्वाँ
ंस्रभाः काद काद कादक आगँर्चे नपीौब नेगारूका अरगार्चे नप से हमेंता यह है हैौदकुन कारी आगर्चनुन से हमें एरचारी हे यह हमें है। ہمیں مجھا کر تو میرے گاہرے آپ میں سکھ کے تراملے چلپر بھو ہمیں رے پنیا ہمیں رے اسٹ دے ہمیں رے گر دے ہمارہ والورہ ہمرتو کبھی بھی ہو سکتے ہیں مرتو کبھی بھی ہو سکتے ہیں
مرتو که بھی ہو سکتے ہیں مرتو کسی بھی نمت سے ہو سکتے ہیں بیتا ہوا سمیں گا پس نہیں آتا واپس نہیں آتا نہیں آتا نہیں آتا کھویا ہوا سمیں کسی کی مطرور پس نہیں ملدا پیسا پھر سے آتا ہے سواصد سے پھر آتا ہے کسی مجھاہر سے نکل سکتے ہیں لیکن بیتا ہوا سمیں پھر نہیں آتا مرتو کبھی بھی ہو سکتے ہیں که بھی ہو سکتے ہیں کسی بھی نمت سے ہو سکتے ہیں
بیتا ہوا سمیں پھر نہیں آتا نہیں آتا اور مرنا انیواری ہے سبچھھور جانا انیواری ہے سبچھھور جائے گا یہ انیواری ہے ہو سکے پہلے جو سب میں ہے جو سب ہے ہو سکا جان پانا انیواری ہو جائے ہو سمیں شانت ہونا انیواری لگے اور اوسی کو پریتی کرنا انیواریس لگے اوسی کا راستہ دیکھانے والے سنتوں کی قربہ پانا انیواری لگے جیوان دنیا ہوئی بنانہی رہے گا سادھا گو سدھا
ملے بنا وقننے نہیں رکے گا وہ اس کی شدہ فکتی سے وہ وہ سے ستچیدانا دسرکتر پوچھا ہے بنا نہیں رہے گی بگوان کافجن کرنے والے چار پرکار کے جاپک مانے گے ایک bé لوگ جاپ کرتے ہیں جو بگوان کرنام کا اوپیو کر گئے اپنا پیٹ پالان کرنا چاہتے بک منگے بگوان نام سے اپنے اچھا ہے واسنے تربت کرنا چاہتے ہیں دکاندار دکاندار اور بک منگا سو بھاوکی لوگ
بگوان نام کا اچھاپ کر گئے بگوان نام کی آر میں اپنا خجارہ اور بیسھے بلاؤس کرنا چاہتے ہیں دوسری بھی ہوتے ہیں جو پہلے سے اچھا ہواسنا یا دندہ بنانا نہیں چاہتے بگوان کے لی بگوان کا اچھاپ دیان کر دے ست سنگ سنگ دے ہیں جاپ کر دے دیان کر دے اور بے ہاگے بڑھے ہاگے بڑھنے سے ام کی قیرتے ام کے پاس سک سویدھا ہے دن سامکری کا باہلے بھوگی لوگوں کا سنگ
بیلوگ پھر باکوات باکتی کا پھل بھوگوں اور بھوگیوں کا سنگ باگہ خس میں اولترے لکھتے ہیں پیلوگی اپیک شاہی کچھ زیادہ پاویتر ہے پھر بھی رہا ساہدھانے کا دوشہ ہے دیسرے گیلوگ ہوتے ہیں مجھے چاہت جان کر دے کسی کو پتانہ چلے آئے سے گبت پر آم آستک ہوتے ہوئے بھی آستک جیسا زیوانڈی لے جیسے رانجا سوسین کے مدرہ بار سے ناستک جیسے لکھتے ہیں رپنی درام پتنی رانی جیسی
وہ روچ روچ بولٹیت ہی آپ کا ہمارا پیارے سنگ ہے لیکن آپ کو بگوان میں پریتی کیوں نہیں راجا بہت تال دیتا تھا وہ رانی چاہتی تھی کہ ہمارے راجا بگوان نام کا جب کرے دیان کرے ریکن اس نے کگی راجا کو دیکھانے ایسا وہ چھپار اسطن تھا ایک راتری کو راجا کے موھ سے بگوان نام نے کل گیا رانی کو خشی ہوئی رانی نے ہوت ساо منایا دوسرے دن راجا نے بھوت ساو کی سبات کا ہے رانی نے کہ آپ کے موھ سے بگوان کا نام نے کل گیا اس کی خشی راجا کو چھوٹ لگ گئے بگوان نام کی جب بگتی
رات کو کروٹ لے دے ہوئے کیا کوکت باکتی اور وگوں نام میرا نکل گیا جب نام کوکت باکتی نکل گئی تو پھر میرے کو جینے سے کیا لو پھر یہ سرے رب کر کیا لو یہ دیل پھر کس کام کا جس دل دے بگوان کی باکتی کو بھی خیرییا راجا کا دیل بند ہو گیا مر گیا مر گیا ہم لوگ پہ دے وہ جی گیا مر تک سرے سے پر تک اپنے بگوان کی لوگ میں گیا ایسے لوگوں سے بھی پچھلے دو لوگوں سے تو اچھے ہے جو وہ درم کو دندھا بناگہ بھی خمانتا رہتا ہے نام
جتے جتے اتفاقی تنبجن کو بھیجنس بناگہ اپنی آجری کا چلاتے ان سے وہ راجا اچھا ہے چوتھے بھی لوگ ہوتے ہیں جو بگوہ دباکتی دہان سے ایمان داری سے بگوہ دباکتی دہان کرتے اپنے گرو دیو کے پر ساتھ کو پچھانے کی ساتھک ساتھ نانتا رہ اپنے ساتھ جیت آنند سروب میں پرتشتتتوے ہیں ایسے بگوان کے بھگوان کے سروب میں اپتو تربتو ہوئے دوسروں کو بگوانان جباتے ہیں بگوت رس پیلاتے ہیں
دوسروں کے دلی میں دلی برکیم پیاس جگاتے دوسروں کے انتا کر میں ساتھک گول اور سائیم سدہ چار کا سنچن کرتے ہیں آپ آنندیت رہتے ہیں دوسروں میں آنند کا سنچار کرتے ہیں آپ بگتی مگتی یہ مادوری میں رہتے ہیں دوسروں کو بگتی رمگتی کے مادوری کا دیکھاں دلانے میں پرتشی لے ایسے پنیشی جاکتی جہاں بھی رہتے ہیں وہ بھومی تیرث ہو جاتی ہے حسی پرشوں کو جہین درم نے تیرتن کر کہا حسی اتن جاپاک باکت دلانی کیانی
جس واتان میں رہے جن لوگوں کے بیچ رہے انہی لوگوں کو اس پرشکان رنگ لکتا ہے Vilasio کے رنگ میں کچھ سادہ کرنگ جاتا ہے ایک ان Vilasio کو ہی اپنے رنگ میں رنگنے والا وہ صد پرش در تن کر اس پرتھی پر چلتا پھر دادے ہوئے جو تھے براکار کی پراکاشت ہمیں پہنچی ہوئی باکتی پریتی سادنا وہ سنساریوں کے لئے آش سے استان بن جاتا ہے تاکے جیوہ کی تھقان میں تانے کا ایک ویشال وات براکش بن جاتا ہے اس کا نکتیت دوہا ایسے پرش کے لئے بگوان رام کے گو رو وصیشت گتے ہیں
ہے رام جی سموان بروس کے در سنسے جو سنتی آنلن ملتا ہے اس کے حقے گاگہ کی ستلتا بھی کچھ نہیں گاگہ تو شریر کو ستلتا دیتے ہیں لیکن آیسے ہت مرامی سنت تو ہمتا کر میں اسے جیو کو ردے اس جیو کا ردےسی تل کرنے کی پویتر شانتی دیتے ہیں وورت و بواس نیم سیلیم جاند رہن برت کرنے سے پنے ملتے ہیں ہر وہ کل نیاتنہ صورگ میں جانتا ہے لیکن آیسے شموان بروس کے در سنسے تو صورگ بھی کچھ نہیں
آیسے برمسک کو بھوگنے کا ادھی کار سادھر آدمیوں کو بھی ملتا ہے اشتا و کرکتے ہیں تز سے تلنا کے نجاہیتے جو جو تھی براکار کے جا بک دہنی گیانی ہے آیسے پروشوں کے ہونے سے ہی اب بکتوں میں بک دی کا سنچا نستک میں آستکتا کا سنچا اشانت میں شندی کا سنچا اگنی میں جان کا سنچا انات میں اپنے نات کے ساتھ ملنے کا بل یہ سب اپنے آپ ہونے لگتا ہے ایسے اتمرامی پروشوں کے سمپرگسے
دیان میں دین باتوں پر دیان رکنا ہوتا ہے دیان کرنے بیٹھے تو پہلے اپنے دوشوں پر سترشتی دال کر کون سے دوشہ ماری یو گیتا کو بکتی کو سدنا کو چین کرتے ہیں ان پرسی ہوا لگ کرنا ہوتا ہے ان پر ایک نگادہ لی ہوتے ہیں دوسرا قدمی ہوتا ہے دیان میں آگی بڑنے والوں کا کندوشوں کو نورت کرنے کے لئے سنگ کر
کندوشوں کو نورت کرنے کے لئے سادن بجن پھر بھی دوسرا قار پورانے ہونے کے ناتے سادن بجنے کے لئے سنگ کرتا ہے سادن بجنے کے لئے دوسرا قدمی ہوتا ہے دوسرا قدمی ہوتا ہے پہلہ قدم دوسرا قدم ممنزا دوسرا قول چون کر اپنے آگے دیکھلے دوسرا قدمی ہوتا ہے دوسرا قدم reim دوسرا قدمWhy make me friends دوسرا قدمی ہوتا ہے دوسرا قدمто ہے коقی کرنے کی ہوتا ہے
சادھگھ بھی سلتہ رہے تھا ہے چہلں گھاری ملھنے پر بھی بچھا گھر تھا ہے اس کا کرتب ہو جاتا ہے تیسرہ قدمہ گھائے آپ نربل ہے دو کسی بلوان کا سائھ ہوگلے دوشوں کو دھر کرناے ہیں بھوگوں کو مھوگنے کے لئے تو بلوان کا سائھ ہو ṭhāsāyav…cab khushāmath kaur lehealth 네核… ṭhāQaṅ lheходит ṭhānaaṭtê ṭhānaaṭhāyav… ṭhānaaṭhāyav ṭhānaaṭhāiό… ṭhānaaṭhāna… ṭhānaaṭhāma… بھاکو اپنے ساتھ جوڑ دے
جیسے پندوں نے اپنے ساتھ کرشن کی کر بھاکو جوڑ دیا پندوں کے بس کے بات نہیں تھے کہ کوروں کو ٹھیک کر دے بے کوروں سے بار باٹھ کر جاتے تھے آکھروں نے سریکرسن کا سہی ہو گیا اور اپنے پر شاتھ گیا تو نے راجھ اور سورگ ملا ایسے ساتھ جب اتنسہ گلے کرتا ہے اتنسہ رہا پتا ہے تو سے اتن راجھے سورگی سکھ اور موکس کی براپ دی ہو جاتی ہے پتا ہے سورگیда پتا ہے
انتڑ جنو hobbies سے و glorious اور دوسطوں کا سنگ بppedоловیوں کا سحarner سندھت کے لیے vis کے görüşسéger ہوتا ہے கடش کے براکہ روز ہواγα تھا ہے سنجنوں کی سےวہ سطرشوں کا سنگہ ہر سطرشوں کا دعان اشفر پریتی ہارت ست کرن سندھ کے لئے دعنیک ہو جاتا ہے سندھ دو سندھ کے لئے دعنیک نہیں மرد ہو جہتا ہے ساہرے سدگوں ست سنگ سے اور بگوط باکتی سے پر گتھوں دے بگوط بریدی کی دیو رہی چاہ سے بگوط برہت محپرشوں کی کرپا سے
سدگوں پنب دے ہے ملاسیوں کی کرپا سے درگوں پنب دے ہے بگوط بریدوں کے سنگ سے دوش پنب دے ہے اور یوگیوں کے سنگ سے گون پنب دے ہے رہا ملاسیوں کی کرپاہ ملاسیوں کی کرپاہ ملاسیوں کی کرپاہ
ہواپی کر جنی والے جوجیس سے ملا اور بعد میں اس שמ�ே کے بعد میں وہ مر گئے ہیں. اُن שמ�ே میں لابا چیت کی اچھے تھے. لیکن ستگر لیلاشا کے لئے تو میں بار بار پرنامے ہی کرتاں اور پرشنے. گاٹوالے کو بھی میں پرنام کرتاں, رام کرسنا کو بھی پرنام کرتاں, اور سیست کو بھی کرتاں, اور وہ بھی کرتاں, اُن کو میں دھنیاوات دے تھاں. آپ سمجھ گئے ہیں. اچھے تھے, پڑیت رہ تھے. لالجی ماراج کو میں سنے کرتاں, لیکن گروت و لالجی ماراج کو میں کبھی نہیں مان سکتاں. گروت جی ملے تھے اس کے پہلے لالجی ماراج ملے تھے, مجھے, ایکن ساکشات کر کچھ اور چیز ہوتی ہے, سجنتہ اور چیز ہوتی ہے. ٹیتیکشہ اچھا ہے, تب بھی اچھا ہے. لیکن ٹیتیکشہ سنے والا موجود ہے,
تابق کرنے والا موجود ہے. یہ کرنے والا موجود ہے. برم ویتاں میں وہ سب نہیں ہوتا ہے. برم ویتاں میں کرتاں, برم و میں بھی لئے ہو جاتا ہے. اس لی برم ویتاں کو دوسرا جن ملے نے کی مہنت مزدوری نہیں پر دی. میں آپ کا گیان بڑھے اس لیتھوڑا بات کو استار سے کہنے کی کوشش کر راہوں. تفسویوں کے لیے, تیاظگیوں کے لیے, بکتوں کے لیے, میرے ردے میں کھو پریم ہے, مان ہے. ارے میرے گرودےوں نے تو مجھ پر یہ کرپاکی کے ساپ کے لیے بھی میرے ردے میں نفرت نہیں رہنے دی ہے. یہ میرے گرودے کی کرپا ہے. رود پر بسستین کے پاس میں گدے والوں کا گھرے, گدے والوں کا چھورے, ابھی تو جوان بڑے ہوگے چھوٹے تھے. میں لے کچھ لے کپڑے اور لیٹھ بیتے تھے. عاشم کی پرسی دینے تھے,
تو میں گھوم نے نکلدہ تھا ہوں, بچوں کو, ہوں گلی دے کر گھوما دیا کرتا تھا. اور ہوں, بچے کھلتے تو میں پتھر ہوتا تھا. میں گھر لگا تھا ہوں, کہ نہیں نہ گھے. میں گھر نہ گی جسیں کہ, میں پھر نہیں نہ گھے. نہیں نہ گی جسے. ایساں گھل کرتے تھے. ابھی شبیر کا گھل تمارے سے کرتے. شبیر نہیں تھے تو, ایسے گدے والوں کے بچوں کے ساتھ بھی گھل لے تھے, بہیساں, سچی باتھ. جیسی... ایشور کی ایسی ویوستہ ہے, کہ آگلے جنم کی سمورتی گھر بطک تو رہتی ہے. ایکن گھر بسے جب اپانوائیو دا کامار کے بہارنے کالے تھے, تو ناری دب جاتی سمورتی قتم. آگلے جنم کی. آگر وہ آگلے جنم کی جنم کی سمورتی بنے رہے تو آگلے جنم کی سمورتی بنے رہے تو آگلے پریشان ہو جہے گا. بچپن کی آگلے جوانے کے
سکھ دکھ کی سمورتی ابھی پریشان کر دے دی ہے, تو جنم کی سمورتی کتنا دمہ کھالی کر دے, اس لیے شوانے ویوستاکی ہے. جس کے پاس منوبل جادہ ہے, یوگبل ہے, میں اپنی کئی جنم کی سمورتی جاگرت کر کے دیکھتے ہیں, لیکن نرلے پرینے کی سمتہ ہے, آگلے جنم کی سمورتی, جگانے کا دیکھا ہے, دوسری لوگوں کو تو سمورتی بھلانے میں ہی مجھا ہے. اس لے کبھی چیشنانہ کریں, کی آگلے جنم کی سمورتی ہو جا ہے. ایک مائی نہیں, کسی سند کے پیر پکڑے کے میں آگلے جنم میں کیا تھے, بڑی مائی سدہ چاہرے نہیں, سیکھ سے اس کو بڑی گلانے گرنا تھے. باوانی جوکتی دکھا دی مائی ریوست دہان میں گئی, اور اس نے دیکھا کہ آگلے جنم میں میں وائشا تھے, مائی بلٹی ہو نہیں سکتا, سندھنے کا بلکل سچا ہے. آگلے جنم میں
تو اس سے بکاری سکھ سے اتنی اوب گئی تھے, اتنی اوب گئی تھے, اتنی جو چیش نہیں ہوتی اس کی اچھا ہوتی, اور جو چیش بہوت ہوتی اسے اتنی نفرت ہوتی ہے یہ منو بیگانے. تو تو بہشا تھیسلی اس تو یہ سیکسل نفرت, سیکسل بھوگ نے اتنا تھاکا دیا, اتنا اوبادیا, کہ وہی اوبان اور تھاکان کا بھاو, سبھاو دیرا, اس جنم میں دکھرایا اور تو بھاگوان کے رستے چلی ہے میرا اشرای آتے ہیں. ایس سے کی لوگ بچن کرتے ہیں بھیک منگوں کی نہیں, حیرام, حیرام, حیرام, اپنے بھگوان نام کو بکری کر کے گو جارہ کرتے ہیں, بے دھونگی, پاکھنڈی اور نام کو نام کے پر بھاو کو بھیجنے والے ہونے پر بھی اچھے تو مانے جاتے ہیں. اچھے, یہ کھئی سے,
جیسے ایک کہحنی سندلوں, ایک دھرمات conveyہ آτεس ديرا کہہتا کے ہوسطہ میں, دھرمیکل کو ناتے دوتے, کوئی مچنے مارے گا کر مچنے مارے گا تو اس کو سجوڑے گا۔ دین کو کوئی مچنے مارتا تھا, رات کو ایک مچھ ہوہا ہے۔ کیوں, کوئی مچنے مارتا تو بہض مچھا تھیں, دیکھ مچھوہ رہت کو آجا تھا تھا رہجا کو کسی نے خبر دی رہجا نے دیکھا کے میں دیکھوں گا رہجا رہتری کو گئے اپنے سیر کر دے گھڑھت مچھوہ نے دو جال دالی دیکھا کہ یہ رہجا ہی ہو سکتے ہم میں مراہ مچھوہ نے جالی فینکتے مچھے انگی چھوڑ دی اور کھوڑھ مچھی بکھانی کو تو وہیا تھا تو کپڑے دیسے تھے وہ سارے کپڑے بپڑے دیکھ بھا کے دیکھ چھوٹا سا قٹی کپڑا بہن کر آپ نے انگ کو مٹھی ملکہ
اندرای اندرای میں بیٹھ کیا رہجا کا گوڑا نظی کایا آجا نے تو دیکھا کہ یہ مچھی مار نہیں یہ تو صادو آبا ہے ماراج کی جائے ہو کر کے رہجا چکچا پر نام کر کے چلا گیا اس مچھوہ نے دیکھا کہ میں بیمانی سے صادو کا دھون کرا ہوں جو رہجا مجھے سا جہا دے دے مرتیدھا دے دے وہ رہجا مجھے پر نام کر کے گئے بگوان کے نام اور صادو کے ویش میں کئی نہیں شکتی وہاں اس کا من بضل گیا وہ بگو نام لتا رہا اور صادو بن گیا ایسے جوٹھ مٹھ میں دی جو بھگا نام لتا ہے تو نام کے پر بہاستس کو روٹی تو ملی جاتی 10-20-20 صرف ہے جو اس کی دیمان ہوتی ہے ایک نام رتن سے انتا کرن پے اپنے شریر کے کندروں پر رکتپر سبھاو پر نام کا پر بہو تو پڑے گا
انگ آلہ سک سے بھی جبتا ہے تو مگل دیسوں ہوتا ہے ایسا تلسیداسی کا کہنا ہے تلسی اپنے رام کو ریج بجویا کیج بھومی پھیکے ہو گیں گے اولتے سی دے بیچ تو قہلانتر میں ایسے لوگ دوسریتیس ریچاو تھے جد میں بھکتی نام بھلے دھوم سے جپا ہے لیکن نام مہراج ان کا بھی قلیان کر دیتا ہے دھوم سے جپنے والے نام کو دندھا ونانیک حیرام حیرام میں نے ریسی کس میں گوکموں کے کو دیکھا دور سے بیڈی بیتا با چیت کرتا پھر دور سے آوائے سے نہیں پڑھتا ہے یا تریوں کے ایک دم ٹیڑھا میڈا ہو جاتا سکرا ہو بھی مار بہیسے ایسے پڑا رہتا ہے کہ قرور آدمی کو بھی دیا ہے ٹھا ناروں پیان دیکھے جائے حیرام حیرام حیرام ایسا پکارے ایسا پکارے کئی ریسی کس کی وہ پول کے پاس
لچسون جولا کے پول کے پاس کئی ایسے دھنگی لوگ دو پاچھر بے دیکھا داکٹر سے ملم پٹی ایسے دھنگ کی کروالاتے ایسا پدارت لگواء کیا تھے کہ مکھیں بھین بھین آتی اور یا تریکو لگے کیا رہے بیچھارے کو کتنا بڑا گھاو ہے دے دو پیسا گھاو ٹھیک کرا ہے لیکنو پیسا دیکھر گھاو جیسا اپنا انگ کرواء کیا تھے پھر بھی گنگا کی نارے بیٹھے تو ٹھنگی ہوا تو وہ کو بھی لگی ہی جاتی ہے اور سنت آتے جاتے تو ان جانے میں بھی ان کو درشن تو ہوئی جاتے نہ رہی نہ رہی نہ رہی نہ رہی نہ رہی نہ نہ رہی نہ رہی نہ بھگوان کے نام پر بھی کم آگ رہے دے رہ سبے لاب ہوگا دے رہ سبے یہ اچھا تو نہیں ایک بھگوان نام کی محیمہ تو جرور ہے ایسا کرنا اچھا نہیں نام کا اوپیوگ بھگوان نام کا اوپیوگ پیٹ پالنے کے لئے دندہ بنانے کے لئے کرنا اچھا نہیں پھر بھی نام مہرہ جپنی
ماتھا تو رکھتا ہے دوسری بھی لو کوتے جو ایمانداری سے بجن کرتے ہیں یا شندھان بڑھ جاتا ہے پھر بھگ میں پڑھ جاتے پوچھا نہیں لگ جاتے اپنے کو بھگوان کہانے میں لک چاہتے ہیں لوگ شدہ وقتی سے بگوان کہیں تو ٹھیک بات ہے چل چاہے لیکن اپنے انتا کر میں واسنا ہے تو سمجھو بھگتی دا بگئی پھر بھی وہ بھگتی اور کہا کیا وا جب دہا جن لو کو نے ایسی کوشش کی اپنے نام کے پیچھے اپنے طرف سے بھگوان لگانے کی کوشش کی کہنے والوں نے بگوان کیا لیکن بھگوان وہی کلہ سکتا ہے جس میں بھاگوی کلایا ہوں چھو بھاگوی کلایا ہوں کی ہے ایسی ایسی ایسی ایسی ایسیریہ
بائی راگ جو ایسیریہ ایسیریہ آپ کی چہاں نہ ہو اور یاسی ہو نیتاؤں جیسی یاسی نہیں سیٹھوں جیسی یاسی نہیں یہ پہسا دیکھر یاس کرا دیا ایسی ایسی ایسی ایسی یہ بھاگ بھی لکشان ہے ایسی ایسی ایسی ایسیریہ ایسیریہ بھی ریہ بھی ریمانے گیا ایسیری تو سمجھ لیا بھی ریمانے گیا بھی ریمانہ جیس دوش کو جیس سوستو کو جیس سمجھ چھوڑنا چاہتے ہو چھوڑ نے کلئے کوئی آیاس نہ کرنا بڑے
دوار کا دوب رہی تو دوب رہی ہے کوئی چھوڑ نہیں رام راج جہونے کا بدلے رام بنواصو آئے کوئی چھوڑ نہیں یہ بھی رہے بل ہے بھیرتا ہے اگر کچھ چھوڑتے سمجھ چھوڑ لکتی ہے تو ابھی بھاگوی کلئے نہیں ہے چاہے برمگان ہو جائے پھر بھی چھوڑ لکتی ہے تو بھاگوی کلئے نہیں ہے برمگان ہو گیا ہو سکتا ہے برمگانیوں کو بھی چھوڑ نہیں لکتی بہیں ہوئے بہتی پانی میں لکتے سا ہو چھوڑتے ہو چھوڑتے شریع اور بھائی راگیا پوری راگ میں سولہ جارے 1808 کے بیچ جی رہے اگر اندر سے سیکسل راگیا یا بھوگ کا راگ نہیں بھی پریتا وستہ میں جی رہے چھوڑتے
جد کا کندر چکر کرشتنا کے ایدگر دھی دھی دھی دھی دھ من دا رہے مہا بہت کے ایدگے ریگ لیڈر شریع کرشن مانے جازہ سکتے ہیں میں انگتی تو ریگ لیڈر شریع کرشتنا ہے پھر بھی شریع کرشتنا کے چت میں کتنا وائی راگ کیا بھاگ بھی کلائے اترا کے گھربک کی جہا براکشا کرنے کی بات آئے اترا نے اسپوک شما کر دیاشت ہمہ کو اترا کی سمتا کی جب بات آئے تو شریع کرشنہ نے اپنی سمتا کے درشن کر آئے پانڈاؤ اور قوروں کے بیچ میرے ردے میں گر راگ اور دوش نہ رہو جیش چکت میں راگ اور دوش نہیں رہتا تو وائی راگ گیوان ہے راگی میں دوش رہے گا دوشی میں راگ رہے گا میں کسی سے راگ گیوان ہے اور کسی سے راگ گیوان تو کسی سے دوش گیوان رہے گا
اگر میرے ردے میں شد وائی راگ گیوان ہے تو میں پرانی ماتر سے پریمہ کرتا اور پریمہ کا جولنت پر مان صریقرش نوطار ہے سندھی دوث ہو کر گیا سمجھتا کے لئے اور ایک مان میرے چت میں سمتاہی رہی ہو تو سمتاہ کی پرکشارت یہ اترا کا پوتر جیویت ہو جائے وہ پوتر جیویت ہو اور اسی کا نام راجہ وائی راگ گیا پہلے کیا کرنا برٹا یہ چیز نہیں کھوں گئے چھو رو دان
چھو رو دان کرو پھنگ کرو یہ جب پنگ بداان برٹا ہے تو وائی راگ گیاتا وائی راگ گیاتا تو صریق لقسمی عیشوریہ یہ تو چایا بن جاتی ہے وائی را گیا گیا گیا گیا تو بھاگی لقسم اگر صادنہ صمادی کرتا کسی میں ایک آئے کسی میں دو آئے کل آ جائچھے تو وہ بھگوان ہے پھر بھگوان ویدویاس بھولے میں آرو بھگوان ویدویاس پو جاس ویکار کر لے آر تیس ویکار کر لے پو جاس ویکار کر لے اور میں بھگوان ویسا کہا دے تو کوئی آپتی نہیں یہ ان کی کرنا ہے کہ بتا رہے کہ میں بھگوان بھگوی کلایا نہ ہو اور کوئی بھگوان ہونے کے سپ نے دیکھے تو وہ کسپ نے ہو جاتے میں قتھا کہاہوں گا چار پر کار کے جاپکوں تیس کے جاپک گوپی تو رہتے ہیں ایک ان ان سے عام لوگوں کو بھائی دا نہیں ہوتا
اور چاوتھے جو بھگوان کے بھگت جاپک ہے اپنے زادنگال میں سب کر کر آکے پھر سماج میں آناتے اور ان کے سمپرک سے دوسروں کی بھگتی دوسروں کا گیان دیان بڑھتا ہے بھگوان میں گیتا میں بھی کہاہ کہاہ چترگی دا بجن دے مام جنہ سکورتینوں ہر جنہ آرت آرتارتی جیگ گیا سو گیانی چاہ بھارتار شبہ پریو ہی میں گیانی یہ چاروں اچھے ہے سکورت ہے اچھے ہے لیکن گیانی تو میرا آتما ہے کاشی میں دو پندٹ میں لے تھے دورندر پندٹ اس جمانے کے کبھی کالیداز اور دندی سنیاسی اب دو رپے کی دو اٹھنی لوگ بھلے ان دو پندٹوں میں کون کسکہ در جاہوں چاہ ریکھری تو چاہی نرنائیک چاہی نرنائیک
کاشی میں کہاہ ملے بھارت میں کہاہ ملے ان دو بھوٹیوں کا نرنائیک کرنے والا ان سے بڑا ہونا چاہی نرنائیک کو کہاہ سے لانا ساہدھن آدمی ان کافیوں کا نرنائیک کیا کرے دونوں کافیوں نے اوپاسنا کر رکھی دی سرسوطی کی آرادنا کر کے سرسوطی جو کہاہ دیگی وہ ماننیا ہوگا کافی کالیداز اور کافی دندی نرنائیک سرسوطی ساکار بیگ رکھی ارچنا اوپاسنا کر کے آوہان کیا اور سرسوطی پرگت فی جیسے تم ٹیلیپون پر کسی کو آوہان کہاہ دیتے اور وہ آدمی کلایٹس پر گٹ ہو جاتا ہے تو تم ہرے پاس جنتروں کی گلامی ہے ان کے پاس منطر و یوگ بل کی شکتی اس لسوطانکہ پہلے ایسا تھا اب آدمی کی مطی اور بشواص اور یکین اور سائنیم
چیر ہو گیا اس لے منطر یوگ شکتی کی جگا پر جنتر اور فیول کی گاہدی موتروں کی جارتتی نہیں تو ایک شواکہ را جانے منو محراج کو بلائے تو منو محراجہ جاکہ سے و سیشٹ جی کو رغور آجانے کو بھی آد کیا تھا و سیشٹ جیوہ ایسا ہوتا رہتا تھا پر اچین دیکھ کتھ ہوں سے گیا تھا ہے میں بات بات نہ چا تھا تھا کبھی دندی کبھی کالی ٹیک بروبت سرصوتی جی پر گتھ ہو گئے کبھی کالی داس نے کہہ کبھیوں میں سرشت کون ہے مہ تم جو گولوجی وہی سرشت صابیت ہو گئے ماتا سنیت کرتی ہوئے کرپا برساتی ہوئے
سرصوتی جی کبھی سرشت دندی دندی نہ سنشری ہے کالی داس کا پکتا گیا مڑ آف ہو گیا کالی داس سے رہا نہ گیا بھڑ گئے کبھی کالی داس نے کہ کی رنڈا وہ کبھیوں میں سرشت تو بھل کون ہے ایک بھگواتی نے کالی داس کے روش کو نہیں دیکھا کالی داس کی پہلے کی اوپاس اور بھکتی ہو سرصوتی موسکرای کبھی سرشت دندی نہ سنشری ہے تو مڑ روبا اس کبھیوں میں سرشت تو وہ ہے کوئی سندے نہیں لیکن تو تو میرا سوروب ہے کبھیر بھلہ ہوئے ہری بیسرو صرح سے تلی بھلہ بھلہ بھگوان سے پوچھوں کی ایسا کہتے کیوں بھلے کبھیر تو میرا سوروب ہے سادوں میں سرشت تو کبھیوں میں
سرشت تو دندی ہے لیکن کاہیتا ستوں تو مڑ روبا ہاتو تو میرا سوروب ہے ہاتو تو میرا سوروب ہے ہاتو تو میرا سوروب ہے ہاتو تو میرا سوروب ہے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya