Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 3, 2026

Jan 3,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Jan 3,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

462 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 3,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 3,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

ساری تپسھےوں کا شرومانی ہے سرتاج ایک آگر تھا تپسو سرویشو ایک آگر تھا پرم تپا اس ایک آگر تھا تب کی اے ہیک جگت کی ایک گتناс نہ دیکھا ایک لڑکہ تھا برامر کل میں جنمتھا لیکن بھا گیواش اسے چھمڑے کا دندہ کرنے کے لئے اور انگا باد نے اپنی ما کے ساتھ چھٹے سے مقان میں رہنا پڑا چھمڑے کا دندہ کرتا ما قتھا میں جاتی اور سٹسوں کی بہیمار گرو دکشا کی بہیمار گروب کر با کی بہیمار سونات ما کی مردت ہو بھی ما کے شرر کو اگنی ببوک ببوک کر جلارے لیکن وی چاروان اس یو اک نے دیکھا کہ آگر یہ تنکھاک ملے گا

امارا بھی وہ دن آئے گا کے شرر چل جائے گا کیا اس شرر سے کتنا سک بوگنا ہے ناک سے کتنی سبند لنگا ہی جل جائے گا کیتنا چھٹو راپن کروں گا سولا سو تیسٹ میں اس بالک کا جنمواتہ بندیل کند میں چندیری گرام اور سولا سو اٹتتر میں سپنا آیا ما تو مر گئی اور گرو کون سے دتتر گرو ماراشتر میں پوچے جاتے دتت مورتی کے سامنے بیٹھتے اور آپ میں رے گرو میرا مارگ درشن کرے دیانا مولا مگرو مورتی سارے دیانو کا مول مکھے کنجے گرو مورتی پوجا مولا مگرو پدم

ایک داک دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ بگا نام گنجن کرتے اور گرو کو دیکھ دیکھ دیکھ بگا نام گنجن کرتے گرو کو دیکھ دیکھ دیکھ دانا مولا مگرو مورتی پوجا مولا مگرو پدم منتر مولا مگرو واقع موقش مولا مگرو اسی پرکاری این نپت بیدھ دیارتے میں چمڈے کا دننا مند کر کے اس لدننا کے لئے گرو مورتی کے سامنے روج بیٹھ دنوں کر بھی رکھلی ایتے کامچل رہا تھا چمڈے کا دننا کرنے والے کو چمار بھولتی برامن گلکاتا بیچھا چمڈے کا دننا کئی سے باتان میں جیتا ہوگا پھر بھی دھیانا مولا مگرو داتتری مورتی داتتری کہو پتاچھلا کے کئیششششمے رہا دھیان کر رہے تو سوپنا دیا کے دولتہ باہا دیوگری پروات گرو پونام گرو پونام آنا

آنا سوپنے کی پرینہ ملی اور گرو پونام کے دین وہاں گیا تو سادو سند بیٹھے وہ سادو سند کچھ ایسی چیجے لیا ایتے جنگل سے کئیس کو دکھا کہ تو ساپیں تو میں داکھ ہے یہ تو پلانہ جناوہ رہے ان سب کو دالت کرھا بے میں اور بھولہ بے بنایا ان کا مال اتنے میں دتترے آئے دتترے نے اپنے کرمنولو سے پانی دا لہو اس میں کرھا بے میں تھوڑا بن گیا پر ساد سبی سادو نے کھیا لیکن یہ برامر کل میں جنمہ ہوا اس کو بلا نپٹلے تھوڑا سبچایا لیکن چرپٹنات کو دتترے نے کہا تو میں ان کو دکشا دینا

تو جن سے دکشا لینیوں بھی تو گرو ہو گئے چرپٹنات نے کہا رہے نپٹلے دیکھتا کیا ہے جو کھیا تو پتہ چلا کہ یہ تو ساپت چوہا اور کرگوش دکھ رہے تھے اییوگیوں کی مائیہ تھے باکی ہے جنگل کی دیبوہ نسپتیا ہی اور اتنا آنندہ اور اتنا دیان میں روچی ہونے لگے تو نپٹلیا اسلیوں کا نام پڑ گیا نپٹ پھر ان کو ایک چیلا میں لہ اس کا نام تھا نمی رنجن اور او چیلا بھی گرو کی آگ گیا میں بس جیسے انگت دائیس دیو کی آگ گیا میں عمر داس نے پیچھے مرکر نہیں دیکھا ایسے نرنجن نپٹھ جی کی آگ گیا کو اس وریا گیا سمجھ کر سادن بجن سے وامی لگا اب گرو نے کہا چیلا اور گرو ایک ای اتنا

دوش شریع ہے آج سے میرا نام ہوگا نپٹلی رنجن نپٹلی رنجن مانا گرو چیلا ایک نپٹلی رنجن کا مہراشتر اورنگا بات میں پر بھاو ماراشتر کے مراتا جو تھکے ہارے اورنگجب کے مسلمان اور شاشا کو سے ستائے ہوئے تھے ان کو نپٹلی رنجن کے آشیدوات سے حوصلا بلند ہوگیا اورنگجب تک بات پہنچی اور اورنگجب دلی سے نپٹلی رنجن ماراج کو کس کرنے کے لئے آگیا اس بابا کی دوائی اپنے کامے ہے سندے شابے جا گے اورنگجب آپ کے دیرار کرنے کے لئے آ رہے اورنگجب ہاتی پر تام جہم بینڈ باجو کے سات اپنے حکڑی کے سات آ رہا تھا نپٹلی رنجن بیٹھے تھے جرہ بکھار تھا کم بلوڑے بیٹھے تھے سوبے کی دوبکھا رہے تھے

مقان بنتائیں تو اس کی تھوڑی نیو نکلتے نے بہا دے دو فیٹھ اس نیو پر بیٹھے تھے جس کو پلنت بولتے دیکھا کہ رادہ کا بچھا آیا لیکن میرے درشن کو آیا ہے کہ اپنے پر درشن کرنے کو آیا ہے ہاتی پر بیٹھ کی آیا ہے اٹھوٹھر رہے تھے بکھار کو کہا کم بل میں بیٹھ تھوڑی در کے لئے کم بلوٹھار کے رکھا تو کم بل ٹھوٹھر نے لگا اور ماراج سنگ کل بل سے کم بل میں بکھار کو رکھے دیوال پے بیٹھے دیوال کو بھولا چل دیوال جب صرکی پل بل ہاتو ہاتو بھا تو بھا تو بھا ہاتی روکو ہاتی روکو ہاتی بیٹھا اُدھ رہے ماراج گستا کی محاف میں آپ کی دوہ مانگنے کو آیا تھا نی پٹنے رنجنے کا داوہ باد شاہت کا کرے تو عالم گیر ہم تو فکیر ایک نام کے آدار ہے اُس کا

کہیں نی پٹنے نی رنجن سنو عالم گیر یہ دلی دربار نہیں فکیری دربار ہے چارو دیشا مار مار کیا تین ایک کتلے آم تیک باہدر کی شیش قطوائی گروتےگ باہدر کی شیش قطوائی رامی تونے تیک باہدر کی شیش قطوائی گروگو ونسین کے بچے تھے مازن دو اُن کو دیوار میں ناہا کچھ جنائی ہے اِتنوں کی بددوہ فکیروں کی دوہ مان فکر کی رادر فکیر کو آجمائی ہے میرے کو آجمانے کے لیا ہے کہ نی پٹنے رنجن سنو عالم گیر سوامن جنے ہو جلائے کے باد میں کھنا کھائی ہے اور مجھ سے آسیرواد مارگنے کو آتا ہے نی پٹنے رنجن کی وانی سلطان جہان کون ہے موسلمان

خدا کی نہ پہچان خدا جکر چھوڑا ہے قلما پڑے بھرہ بھر ملمہ تو بھرہ اندر سو سو چھوے کھائے کے بوکہ آج دوڑا ہے کرے نمہج رو جانا روکہ رکھنا خو جانا جاکات کا لیا بو جا جگت بکھیڈا ہے کہ نی پٹنے رنجن سنو عالم گیر ناچنا تو آئے نہیں کہیں آگن تیڈا ہے اندر کو کافیر کہیں قبر کو پیر کہیں نہ عالم گیری کہیں کتاب سمرات کا جو دم گافیل ہوئے سو دم کافیر ہوئے سنو من بک مون سو ہی جان گاٹ کا قلب کو روشن کر مرشد کے مقطب امر گمایا سب تینے اپنے ساٹ کا کہ نی پٹنے رنجن سنو عالم گیر دو بی کا قتارہ

گھر کا نگات کا سات سالومر ہو گئی اتنے پاپ لیکر پھر مجھے آجمانے آیا اور دوالے نے آیا ان نی پٹنے رنجن کے یہ کرق اور ستس سے بھرے ہوئے وچن آر پار اتر جاتے تھے اور امر گجے کو نی پٹنے رنجن کی وانی خد کو ہی نہیں جب خد کی خبر کچھ ایسے کی نجر ہے یا رب گیت گائے کا اپنی بورائیوں پے اپنی نجر کر دنیا میں بورافیر دیکھنے نبائے گا دیش میں خداہ کو برولا ٹیش میں نکھو کے خدا انسان ہو کے بھی وہ ہیوان کہے ہوئے گا کہیں نی پٹنے رنجن سنالامیر دین سے بھی جاوے گا اور دنیا سے بھی جاوے گا سادو بیا سادہ نہیں

جوگی بیا جوگ نہیں ستی بیا ست نہیں جتی بیا کوئی ہے منی بیا منی بیا گیانی بیا دیانی بیا تپی بیا جپی بیا گرو اور گوصائی ہے براگی بیا تاگی نہیں جوگی بیوگی نہیں پیر بیا تھیر نہیں پیر بن کر جو تھیر نہیں ہوا اولیا بتای ہے کہیں نی پٹنے رنجن سنالامگیر دل کی سپائی کرو یہی بادشائی ہے دل کو نک کرو اور کا پر کا پر کرکے ہندو کا شوشان مد کرو دوہ توتب ہوگی تیک بادر کو مروایا گوبینسن کے بچے چنوایا بھائی کو تو مروا دیا اور باب کو تو دل میں τال دیا اور میرے سے دوہ مانگ نے آیا اندر کی سپائی کر سپائی اور دوہ مانگ نے آیا اور آتی پے جڑے آیا

تو دیہ سے نام رکھ دے پھکی رو اتاگی اور ہوتا مان کوئی روکھنے کا دم نہیں تو فکیری کا ہے کیورتی آگی کا ہے اور ایسی تو رایا کا ہے کا علم گیر کا ہے پر جا کا تو شوشان کرے اور سار سال کیومر میں بھی بھیوں پے بھیں بڑھایا ہے اور پھر کا پھکیر کو آجم آیا ہے اتنا کہر کرا ہے دوہ مانسوم گوبینسن کے مانسوم کو دیوالوں میں چنوایا ہے کہ نہیں چنوایا تھا سرنیچ ہوگیا جمین کروض نہیں لگا سو آمن جنے ہو جلا کے پر کھنہ کھا ہے کتنے ہندوں کی کتل کروائیت اور پھر میں نے سے دوہ مانکتا دوہ مانگنے کے لئے τرام جہم سے آتا ہے مہر آج آٹ دن تک اور انجب وہاں پڑا رہا اور مہر آج نے روج ستن کے وانے اس کی خوب چلای گتای وچنو کے دوارہ شد دیکھے

کہاں تو چمریکا کام کرنے والا اور کہاں دھیانا مورتی گرو مورت گیانا دھیانا مولام گرو مورتی اور دولتا باک دیو گری میں چرپتنات نے دیکھ شادي اور منتر میں لگ گیا اور چب کرتے کرتے ہر سو سے دیرگ میں گیا دیرگ سے پلوت میں گیا پھر ویکری سے پرشنتی میں پرشنتی سے پرامی اور پر آجتی جاغرت ہوئی نے پتنرنجن مہراج کا اشھن اور انگا بعد اپنے اشھن سے تین کلومیٹر کی انترپر ہے میں دیکھ کریا حلقی ابھیتنا بھیستار نہیں ہے کچھ لو کو نے جمی نہدپ کر لی ہے کسی کالج والوں نے دوسرے تیسنوں کوئی سمہلے والا نہیں ہے تو ایسا ہو جاتا ہے ویکن ابھی دیو ان کی سمہدی اور جو دیوات جلتی چیگوں میں دیکھیا ہے کہ نے قتات پر ہے کہ کلجوگ میں بگوان کے نام کی بڑی باری گروہ انگا دیو سبیشنان کرتے تھے

تو امرداز پانی بارنے لیادے دیاس ندی پر پانی بارنے جائبارش کے دن دل دل تھا پر بہت بہلے گروکہ سک پانی بارک کے دل دل کو لانکتے لانکتے پروانی تھی گروکی سے واکے آگے دل دل کیا ہوتا ہے لیکنوہ امرداز اس سمہلوں کو سے امرو امرو بولتے دباک سے جاگی را پر لبس گیا دو بھی کہ گھر میں دو بھی نے دو بھن سے پوچھا کہ اس پر بہت بہلے کو کون گرا بولے ہوگا نتانا نندھانکا ہو دو روٹی کےٹ کو رب پڑا ہے انگت دے ہو گیا پار وہ امرو ہوگا امرو لیکنو اس امرداز نے گچپ کرتیا دراک سے گرے لیکن گروک

کیر گھرے کو ایسا سمہلہ کی پانی کی بود نہ گرے سویم گرے گھرہ درٹی پے آگے لیکن سمہلے آت سے تان گھرے کو تایا معنو کچھ نہیں ہو اور وہ معی کچھ بھی بولتی ہے تو اس پر دھان نہیں دیا ہوں سے ہوشے گئے انگت دیو جی کشنان ہادی ہو گیا امرداز نجی کا ہے بیٹھے بولے بیٹھا آئی تو بارش تھے کچھ اگت ایک اگت ایک گٹھانے آلا کی امرداز کی امرو بھی کوئی کم نہیں تھے انگت دیو کی پوتری کے کا سس راتے ہو امرو بھی گے انگت دیو کی انگت فورتج یعنி امرど امر�로 امرم امرő امر امر امر ااPe ایس او

اker امر امر امر امر امر ا adviser ımı او اص extracted امر امر امر kich impacto, and every moment, every moment, every moment every moment every moment ندیوہیں دا تو پیر ہو نی سائیان دا تو ہسا ہرا ہوگا تو سبدہ سوامی ہوگا ہمہ امرو نہیں ہم ارداز تیرا نام روشان ہوگا

گرو اஙد دیو دی کرپا ہرسی نانک کی گدی کے پہلے گدیسر اஙد دی اور دوسرے بہنے امرداز سک جگت اس بات کو اچھی طرح سے جانتا گرو منتر اور گرو کرپا کیا سمجھ دیوہ؟ گرو کرپا ہی کے والمششششششہ پرم مغلم مغل تو دیوتا کر سکتے لیکن پرم مغل تو برمگانی گرو ای کر سکتے اسیلے حنمان جی کے باکت پراتنا کر دیوہ؟ جائے جائے حنمانگانگو سائی کرپا کرو گرو دیوہ کی نہیں پتاس کی نوٹلی نننے بچے میں دوگان پے گیا پتاکوں کے طرف ہوں کر دیا لال میرچ کے طرف ہوں کر دیا سوڑا کھار کے طرف ہوں کر دیا اگر کوئی دکاندہ رہے تو پتاس رپے کی چینتین چیجے اُس کو پکڑھا دے گا لیکن وہی دکانہ اگر اپنے پتاکیے تو پتاس رپے لے گا نبڑا پتاکھ رہ پکڑھا گا

نبڑچ پکڑھا گا نسوڑا کھار پکڑھا گا کیونکہ جانتا کی بچہ ہے اکل کا کچھ ہے اس کا ہیت کیس میں ہے بچ باب جانتا ہے دکاندہ تو یہ بھیت ہو آئی تو جو مانگے وہ گراک کو دے گا لیکن پتا جو مانگے وہ نہیں دیتا جس میں ہی توتا وہ دیتا ہے ایسے گرو کے لی پراتنا کی گئی جائے جائے ہنو مان گیان گو سائیں قریبا کرو گرو دے وکی نہیں دیوتا ہوں کہ جسی نہیں جسے گرو دے ہوں ہمارا جس میں ملا ہوتا ہے وہی کرتے ہیں ایسی آپ ہم پر کر پا کر دیوتا کو آپ سے کے بہلے بورے سے کوئی لنا دینہ نہیں آپ نے تب کی آپ ہو جا کیا سمرن کیا جو مانگا دیوتا نے دے دیا لیکن اگر گرو دیوتا ہے تو آپ نے جو مانگا ہوں نہیں دے گا جس سے آپ کا پرم منگل ہے گرو وہی دے گا حنمانجی کو کہا بے کر پا کرو گرو دے وکی نہیں بچا جو مانگے وہ مان دیتی جائے تو بچے کی طبعی ہو جائے گی

اچیت دے اور انوچیت سے بچا تی جائے مان بچی سے پوچھا بیٹھا تو پرائیمنیشٹر ہو جائے گی تو کیا کر بہلے میں سارے اسکلوں میں چٹی کرو آدم سبی اسکل بن کرو آدم بڑی تقلی وہ تیسکل میں جانے سے مان بچے کو نیلاتی ہے ناک دبوستی ہے سابن لگا دی کروی دواپی لاتی وہ بچے کو اچھا نہیں لکتا پھر بھی مان وہ کرتی ہے اور جو بچے کو اچھا لکتا ہے وہ بھی کرتی ہے جو بچے کو اچھا لکتا ہے کہا نہ پینا رہل دلہر پیار وہ مانگی دیا ہے اور بچے کو اچھا نہیں لکتا لیکن cycl kalk pro dijad vigp 않아 d起 wag aan h

d ہمہ رہاں வکاس چھپا ہے یہ ان்டر سے پک کا سمجھنا چھے۔ جو ہوا اچھا ہوا جو ہوراہ اچھا ہے جو ہوں گا وہ بھی اچھا ہوں گا کیوں کہ صری کی کی ہمہ رہاں نے دشمن نے بنائیں کسی بھوت پیٹھ نے راکشش نے نے بنائیں صری کی بنانے والا پرم سوھرد میرا پرمات میں ہے اسیلے پرانی ماٹر کا منگل کرنا اس کا سوابہاںک کرتے ہے، سوابہวے جے سے شرابی کا سوابہ savage اидوجر کی شرابی کرنا جوہری کا سوابہائی تو دو سنو گئے رہ دائے مہ بہت سکھ جا گا ہاتے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →