Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 3, 2026

Jan 3,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 3,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

934 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 3,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 3,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

اپنی اُنَّتِ لَوْکِ قُنَّتِ ہو چاہی اَدْدَحَمِ قُنَّتِ ہو بِناً نِسْقَامِ سِوَا کے سمبھاوی ہی نہیں ہے جنسِ سِویاتِ نپای آمانِ نان کا گاوے گُنَنِ نانِ سَبْتِ سِوَا دَرَ مَقَتْ ہو رائیِ سِوَا سَچھا اِسِ سِوَا ہونی چاہی نہیں تو آج کل تو ہماری ریل بِتنے سال سے سِوَا کر رہی ہماری بھا ٹنسپورٹ کمپنیتنے سال سے سِوَا کر رہی اب سِوَا کر رہی ہے کہ مال مالی دا کماری ہو تو تُمی جان ہو نا رہا ہے نا حری میں ریٹیر ہو گیا سرکاری سِواصے سرکاری سِواصے ریٹیرو اور بِنک بیلنس کیتنا آئے سِواصے ریٹیرو اچھوڑو سمپنی دھاکا رہے سب گتر کا دکھن بند رہے تو ٹھیکنی تو آئے گی بدبو

سِواصے چی تو وہی کر سکتے جس کا اُدِش ایشوار ہے باکی تو سِوہا کے نام پر گڑبڑی ہی گڑبڑ کرتے تو اپنے جیوان میں ایشور پر اپتی کا اُدِش بنا دے کیونکی ایشور کے سِوائے سب ناشورا ہے بیترا ہے ایک ول بھی نہیں رکتا ہے مجھ پن بیت گیا ایشور ووستا بیت گئی سب بیترا ہے تو نشور چیج کو پانے کا اُدِش بنا ہے گا تو کتنا بھی بُدِمان ہو جائے گا دکھن سے جان نہیں چھٹے گی اور نشور چیجے پاکر سکھی ہونے کی چھاک بیو کو بھی سے کوک کر مقرے گا تو برمہ جی بھی اس کی دند سے سجا سے نہیں بچا سکھتے اسی لئے آپ سکھ چاہتے ہیں پاککی بات ہے تو سکھ سروپ آتما ہے پرمہتما ہے اس کو پانے کے لئے آپ دوندہ دیت ہو گئی

نردو محابا ہو نردوند یہ سن ساری دن دوں سے کبھی شاشت سکھ نہیں ملے گا سکھائے تو آپ اس اس سکھ میں بھوکتا بن کر کو دیمت دو کھائے تو بھوکتا بن کر کو دیمت نردوند ہو جائے سمھ ہو جائے سمتا کو بڑھا ہے اپنے بھی دیارتیوںک میں یہ کن لیا ہو جرہ جرہ بات نشور جانا جرہ جرہ بات میں ہرشی تو جانا یہ سادہ رنمان کے بچوں کا تو انو کلتا میں ہرشیت نہیں پرتی کلتا میں ادوگنہ نہیں ہوتا اس کو سمت تو یو کی پر آب دیوتی اور سمت تو یو گوائے وہر میں کر سکتے پرانایاں دیان یہ سب سکھا ہو لیکن بچوں کے جیوان میں یہ گیان باردو

یہ کہ آنیتے کے ساتھ ساد گاٹھ آنیتے آتما کا نیتے پر ماتما سے سیدہ سبند تو ہم آتما ہے نیتے ہے مرنے کے بعد بھی ہم نہیں مرتے دوگھانے کے بعد بھی ہم دوگھ کو دیکھنے والے ہوتے سوگھ کو دیکھنے والے ہوتے اور گرومانتر کی مہیمہ دیان یو گشبیر میں آنے کی مہیمہ مابو کے سنیدے میں کوئی بڑیہ شبیر کریں گے کھلی بھی دیارتی بھی دیارتی رکھیں میں اس میں آنی کیوں کو پتھ للک جگہ دو پیاس جگہ تو یہاں تو کھلہ مال ہے کھلیتا سوالے چاہیں یہاں تو باتنے کے لی میں انتجار کر رہوں آجا لے جا آجا لے جا بارس ہوں نہ رہیں نہ رہیں نہ رہیں اپنے گیان کے انو سار اگر جییں گے تو بار بار دکھی ہوگے اور شاستر گیان کے بھگوط گیان اور گروکے گیان

سے جییں گے تو بار بار سوکھر دکھے صرف پر پیل اکتے ہوئے ہوں چی سیڈیوں کو سچھر کر دے گے پکی باہتے ہیں تو ایشور پر آپ دکھے بھی نہیں ہے تو ایشور پر آپ تو ایشور پر آپ دکھے بھی نہ دکھوں کا انت کو بھی کسی کا ہوئا نہیں Tha bua nae اور ہو Sata nae ایشور پر آپ دکھے بھی نہ دکھوں کا انت کسی کا ہوئا نہیں Tha bua nae ہو Sata نہیں ہے یہ بات اپنے میں بات جائیں یہ صدھانت بات جائیں ووصنگششششہ ہو جائیں کیس نے دولر کمالے کتنی اونچی پڑھڑیوں پہنچھلے لیکن دوکھوں کا ہند نہیں ہوگا کیوں کے جیوات ما شاشوط ہے سریر اور سنسار نشور ہے

نشور سے شاشوط کی پیاس نہیں بوچ سکتی حجار حجار دوکھ ہے کرور کرور جنموں میں کرور کرور ویپدائیسے ہیں لیکن ابہاگی انڈریامان اور ویکاروں کا آکرشہ جیو کو ویسرانتی سے ونچیت کر دیتا ہے بینورا گوی رپدہ جیا کی جرنی نہ جائی ہاتھ مپد کی پر آبتی کے بھی نہ جیو اتما کی جلن نہیں جائے گی سنسار تاپے تبطانام یوگو پراماوشتا ہے سنسار کے تاپوں میں تپنے والے جیو کے لئے بگوی تو یوگو پراماوشتا ہے ہے ہے آدت پڑ جاتی نے نشور کا آسرہ لینے کی اور جب بھی دوکھاتا ہے تو لوگ سمتے ہیں اس نے دوکھ دیا میری پاپ کا پھل دوکھ ہے دوکھاتا ہے تو مارے بکاس کے لیسکھ بھی آتا ہے بیکاس کے لیے

دوکھاتا ہے کہ سنسار کی نشورتا سمجھلوں اور سوکھاتا ہے کسے وا کر کے آناصکتوراو ہم دوکھ میں بھی دوبھتے سوکھ میں بھی دوبتے ہیں دوبھ نے کی آδت پڑ گیا اور گولتے کوئی دکت نہیں ہے ہاں سداتی داسگیا دل دل میں ہم کا رہ بولے کوئی دکت نہیں آرے مرکھا دکت میں جاں آرے ہے کوئی دکت نہیں کوئی دکت نہیں کوئی دکت نہیں ہے اور دل دل میں گہرا دا آرے ہے Kavina Chhote Pind Dukho Seji Se Brahma Ka Atma Ka Gyaan Ne. Vidya Arthi Kuchas Ka Lagana Hai Paso Ne Ka Likin, Andhra Me Ae Bhi Sama Deha, Ka Paso Bhai Kai Kai Degree Aapali, Likin Unko Ishwar Prapti Ki Agar Bukh Neha, To Vah Bhi Degree Aapane Ke Bhaad Bhi Kaale Dholi Karengar Narko Me Ae Jai Hind, Paso Ukar Kya Deha Khamar Lein. Oval Nombar Hai,

Oval Nombar Hai, Oval Nombar Hai, Babu Ki Krupa Saver, Babu Ki Krupa Kya Oval Nombar Hai, Babu Ki Krupa Saver, айтесь۔ … … … … … … ھ timbre mgaanit. آذந்தி کے پہلے کوئی குடும் میں رாஜیமர کے آپ دோ بھائوں کے بیچ جگ EVRA چلا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ भाओा को बुला गवा टीलकवूते ही आपके शरनो हमें। देनप्लडानाम करने होनं आप्लडानामसें भाओ है में ध्याने आबन। आतिमान के जब آग्या है ? मस्त आपा के बाओ ले हो। आपा हराजजो यहा यहा ला ला लाा ला ला ला है िो دور رتھ کو چھوڑ کر جو تھی ہوں طار کر تانج رکھر ننگے پر آیا اور پرنام کیا بلے وہاں تمہاری کر پاسے میری پکش میں نہیں رہے ہو گیا میں رہاہ بن گیا والے چل پسا لے میری کر پاسے ہے تو میری داسی کی کر پاسے میری کر پاسے تو وہ ہو رہا تھا گے بہا تھا کہ ایسے باتے کر تا کئی دکتنے ہیں بھی دکتنے ہیں رہاہ بن میں کوئی دکتنے ہیں رہاہ بن گیا بلے رہاہ بن میں آپ کی دو آسے کوئی دکتنے ہیں آئی لیکن رہاہ بنے گا

میں رہاہ ہوں پھر دکتی دکتی دکتی اچھ بٹورے گا اور کیا کرے گا میری کر پاہ ہوتا تو مہرہاہ جبن جاتا داس کا بیر چڑھ ہو گھا دو پر رہاہ جمیلے ہو آوی ناسی آوی ناسی آتما کو جان لگا یہ پالیا بلے کوئی دکتنے دکتنے دکت کی تو کھائی میں جا رہا بلے کوئی دکتنے ہیں کوئی دکتنے داستا دیا رہا ہے ملے وہاں سجم چاپ کی کرپا ہے ملے چب میری داسی کی کرپا ہے مائا کی میری کرپا ہوتی تو بھروان میں پریتے ہو جاتی راج میں کیا پریتے ہوتی ایشور کی کرپا تھا وہیں جب سنسار پھیکہ لگے اور بھاگوان نہیں پریہ لگے تو وہ سنت کی کرپا پوری اوتری نہیں تو سنسار میٹھا لگتا سنتہ جی کرپا ہے یہ تھی ہو تھی چھڑ دے ودھا کہ سنتہ جی دیا تماری دیا گیا چھپر ہے جا جا جا برضا دا کی دیا ہو امے کائے کو لڑائے مولوں کے میری دے آنہیں ہوں چھا دیا ہو

جا برضا دا کی دیا ہو جا ہی در عام ناموں بھگو باتے باستو دے پا عام ناموں بھگو باتے باستو دے پا عام ناموں بھگو باتے باستو دے پا عام ناموں بھگو باتے باستو دے پا Washington See him vakti devaayum, madhuri devaayum, momadevaayum, prabhudevaayum, guru devaayum. یہ ساب ان்ணத்தி کے சாதہ نے. Aat madhe vuru Dehu Parmatma Kaanaam Sumran Priti,

یہ سாரے ان்ணத்தி کے சாதہ نے. Raag dve shibhye shukh Irshā dve shabhbatn ke sadhan. Dharam ke dhas sadhan. Laksana adharam ke bhi dhas hai. یہ جیس نے ریسی پر ساتھ میں پڑھا ہے یا کہ سیگ میں سنائی آتو پر کر رو دھرم کے دیس لکشان, ادھرم کے بھی دھس لکشان, سنائی نے باکی کے لوگ سنڈے نہ سمجھے نہ, پتن کے دیس سادہ نے, اسے τبائی ہوتی, اُتھان کے دیس سادہ نے اسے بیڈا پاہ رو دھا, اب آپ کیس کو پکٹھے, ہم تو نوں کو پکٹھے, اسے دی بیچ میں رہتے ہیں, وانجے, بیچ میں رہتے ہیں

کے بعد بببلوگی ماگگورل رو, رہی ما رہی منا, ابھی دھس دن کے پر لے تو کرنے کے بعد پس دیا تھا پھر چوب كیوں نہیں پیٹھتے رہی. چہیسا سوجو تاکھ ہے, اُو、 ٹولشیر آس کی پتنی, رتنہ باگلینے کہہ, ہاد buta masa ki دےہمماما, τا میں اитنی پریطی, دو قدی ہٹیا کوشاری ہدیا mas, نا سے مل مطرہ, ناک میں لینٹ بھریے, موم میں تھوک بھریے, بیکٹریہ, مرے ہوئے بڑبھو بھریے, کان سے خرے نکلتے, آنک سے کیچھا نکلتے و نیچے سے مل مطر نکلتے, اور رکھا کیا ہے? پھر بھی شرید پیارہ لگتا ہے, اس چیطنے کو پریتی کرتے تو کی سبھلہ ہو جاتا ہے, میرے ہادماز کو اتنا پیار کرتے دے سے آدھا گر بھگوان کو پیار کرتے تو, ملے پھر سے ایک بار کہیں, پھر سے رتنا والی نے سنا دیا, ہادماز کی دے ہم موم میں,

تام ایتنی پریتی, آتے آدھی, آدھی جو رہم پرتی اوہ سمیٹے بھو بھیتی, ہو چلے گا ہے, لیکن یہاں تو لے دینا جانے کتنی باہ جو تا سنگا دی سنگا دی, بھر بھگو گڑ کو گڑے گڑے گڑے گڑے گڑے گڑے گڑے گڑے گڑے

ملے کرنے سے ستے میں راگ ہوگا اور ستے میں وی راگ ہوگا, ستے کی اچھا ستے سنسار کے سوکھ کی اچھا کو راگ بھولتے, اور کسی پرستیتی سے نپرت اس کو دویش بھولتے, یہ راگ دویش یہ دند ہے, اس راگ دویش کو جیتنے کے لئے بھگوان اپائی بھی بتاتے ہیں, بھگوٹ گیتا ساتھ میں دہیکا ستے سماش لوگ ہے,

سرگے یانتی پرامت پرامت پر اس میں ادبو دھن بہوت سمجھ داریز قپری چیڑے دیتا ہے بھگوان کی دور درسی تاکہ, کہتے بھرت ونش میں ادپن بھارت بھامانا گیان اور رتمانا اس میں رمان کرنے والے ہوت اور پرامت پاہا ہرتات پرستیور بکاروں کے آدین نہ ہونے والے جان میں رت رہنے والے اور پرستیوں کے بکاروں کے آدین نہ رہنے والے ہے بھارت ونش میں ادپن پرامت پا ادچا مانا راگ اور دویش سے ادپن ہونے والے دن دمو سے مویت سمپن پرانی سنسار میں مگتاکو ارتات جنم مران کو پر آبتورے ہیں

ایچا اور دویش یہ دو مدو اور قیطا راگ اور دویش پرانک کا تھا ہے کہ مدو قیطا اور آم کے دیتوں سے پریشان ہو کر دیوتا ہونے بھگوان کو پراتنا کی اور بھگوان نہ رہن مدو قیطا اور سے بھڑے مدو قیطا اور مرے نہیں مرے نہیں مرے نہیں ایک سال دو سال تین سال پاچھ سال دو سال پچھ سال دو سال پاچھ جاہر ورشتاک مدو قیطا اور سے بھگوان بڑھتے رہے وہ مرے نہیں آخر مدو قیطا اور پرسن نہ ہو گئے بولے کہ ہم دو اور تم ایک لے مدان نہیں چھوٹی اس بات پر نہ رہیں ہم پر سن نے توم پر وردان ماغلوں بولے وردان تو یہ دے دو کے تم میری ہاتھوں مرگا ہون بولے مرے گے ہم مہی

جا رس نہ ہو گئے جا رس ہو گا ہم نہیں مرے گے سونے کاراس چکنے کاراس سونے کاراس چکنے کار بھگنے کاراس جا انٹرے سائے گا وہاں تمارا جام نہیں مرساکتے جا یہ پھیکہ لگنے لگ جائے گا ہم مر جائیں گے کہ رمدی بول نہ پڑے گا تو اب سادہ نے بھگوانے بولا بولے اب تو بہی یہ مدو قیطا اونی سادہ کوکے مرے گے رہا گر دوےس جن کا ویوے ایک پکتا ہوگا تو ویوے کہا سے ملے مولے ست سنگ سے بینو ست سنگ کا بھگوانے ہوئی بھگوے کہا نومہ احسابت ہے بھگوانتون چیچے بھگوے کہا نومہ احسابت ہے ست سنگ سے بھگوی کہا پرکھا روطا جتما ست سنگ سے بھگوی کہا

پرکھا روطا او اس کی بھگوطنی نومہ احسابت نہ بلوانوں جائیں گا بینو ست سنگ کا بھگوے کہا نا ہوئی تو ست سنگ کیسے ملے گولے راما قریبا بینو سولا بنسوی بھگوان کی قربا اتو سنگت کی آہیتو کی دیا اتو اپنا پورشارت ست سنگ پورشارت کر کے دیا ہے بھگوان کی قربا ریسے کرن کرے کہ بھگوط کرپا ہوترے تو ست سنگ میگانی کی بھگ دی بھنے اتو اپنا کوئی دیا ہلو سنت کا قطالی نیا ہے کوئی کا بائٹ نہ فل کا گر نہ مارا جانا اور سنت کا ست سنگ کر نہ اور کان میں پڑ گیا ہے مپت میں مال بل جائیں اگی ہوتا تو بھگوط کرپا سے پنگ پنجا بھی نملے نہیں سنت

تاپنیوں کے پنجا کے بھی نا سنت نہیں درا نہیں جو برا گناد تو بھوئی ست سنگ بھگوانتر بھی بھوطمات کے کوئی سب کرموں سے تب ست سنگ تو ست سنگ سے بھی بےک ملتا ہے اور ہمارا راگ کیا ہے؟ اپ جگا پر راگ ہو تو بھی چلو گنیمت ہے حراغ بٹا ہوئا ہے بھیلو منگل کا راگ ویشا میں تھا اور کے بھی نا بھی کیا چینا ویشا نے دیکھا کہ اتنا بار کے پانی کو لاوں کے بھیلو منگل میری دھوپری تک پونچ گیا میری گھر تک اتنا ساحس یادمی اور ہرماس میں گھولت را ہے ویشا نے دات دیا ویشا میں جو میلو منگل کا راگ تھا

اور بگوان میں بضل گیا سورداز ویلو منگل میں سے سنت سورداز کا پر آگت ہو گیا تلسیداز کا راگ دھار پتنی نے سنا دیا ویی راگ کام راگ راگ میں بضل گیا سنت تلسیداز ایسے ہمارہ دویش بھی ایک جگہ ہوتو بھی کام چلتا ہے سیسوپال کا دویش بگوان میں تھا بگوان سے دویش کرتے کرتے بگوہ چنطن تو ہوان بگوان میں سمانے کنس کا بہی تھا بگوان کے بریتے ہمارہ جراہی سے گھرے گراہو سے درے گراہی در راگ کیا گراہودر راگ کیا گراہودر جن کا بہی ہے دویش ہے بگوان سے بہی بھی تا ہے بگوان سے دویش ہے او بگوت چنطن تو ہوتا ہے مختی تو ہوتا ہے لیکن بگوت رس کا آنم نہیں آتا لیکن جن کا

بگوان سے پریم ہوتا ہے بگوان کو اپنا ماننے سے بریتی طور اگباستے تو ان کی بود دی میں بگوت تیو گاہنے لکتا ہے بگوت سو کھانے لکتا بگوت مادوری آنے لکتا مختی تو ہوتا ہے لیکن اس رسی لجیوانت کے دارایاترا ہوتا ہے اس کا اُدھ دیکھنجیوان کے دارایاترا ہوتا ہے بگوپیوں کا بگوان میں رہاقتا یار بہوتا کرشنا کو اپنا پریتة ملاورت ماننے والیگوپیا بیتی لیکن وہیں گے جگا رہاقتا تو یہ رہاقت سبیگوپی آئی سے نہیں ہے آو بہوت بہت دیمان سائیمیں گوپیوں کا بھی کمی نہیں تھی ہر کو لو لوگ بھی رہی ہوئی بہت نہیں ہاتا ہے کرشنا کہتے ہیں کہ گوپیوں میں رے کو جار بہو سے بھی بس دی ایک شکڑے بھی کہتے

جار بہو سے لور بہو سے بھی بھی جنے والے گوپیوں کا بھی بلا ہویا کیوں کہ گوان بگوان ہے دن دیکھی مہا بہو سکھم بندھات پر مچتے ہیں یہ دن دوں سے ایجیو اتما بندھتا ہے یہ دن دوں کو چھورتے ہیں نر دن دا مقطو جاتا ہے دوراغ اور دویس یہی دن دکوپی دا کرتا ہے دوراغ رہی تو ہونے کاوبائی کیا ہے ہونے راگ رہی تو نے کاوبائی ہے کہ آپ کے پاس جو بھی وستو یکتی یو گیتا ہے اُس کا دوروپیوں کرنا چھوڑ دوں شاستر اور سماج کی ویرد ہے اُن وستوں کا اپیوگ چینتن ملن کر دوں

تو ستوپیوں کا پھنے آپ ہونے لگے گا ستوپیوں کا پھنے آپ ہونے لگے گا تو ستوپیوں کرنے گا ہونکار بھی نہیں ہے میں اچھا کرتا ہے بوراغ کرنے سے بچلے آو تو اچھا ہونے لگے بھی ماری چوردوں تو سوازتے آگے جو بھی آپ کا تن ہے من ہے دن ہے اُس کا ویارت کا ارچ چھوردوں ویارت کا سنگرہ چھوردوں ویارت کا آنکار چھوردوں اگر روپ سمدر ہے تو اس کا آنکار نہ کرو کیوں کی مئی میں میں جائے گا دن جادا ہے تو کئی دنوان چھور کر مر گئے دن کا آمن کا دن کا ستوپیوں ستوپیوں کی پر آبتیوں کیوں نا سنگرہ نا بیارت ویلاظ اپنی او اشکتا ہے نا بھی تو لیں ہر پر ہیت سری سدھارا منا ہی باہی

دوسوں کو بکتی ملے گیان ملے ستسنگ ملے باگوان کی پریتی ملے سنگ ہم ملے بیویک ملے ویراگ ملے اس میں آپ کے تن کا آمن کا دن کا جو گیتا کھو پیو گوڑا ہے دروپیوگ بچہ ہے بلاسی تا سنگرہ ویارت کا چھینتن دروپیوگ سے بچے تو چھینتا گئی کھی لوگ بولتے بم بیچھور کا دلی جائے تو سوکیوں میں آئے بیوکوی ہے دلی چھور کرکا شمیر تو سوکیوں میں پیل کل نہ سمجھے کنپورچھور کے سورت جائے آرے بیمار ہو جائے رہتوں مر جائے جلتے سمجھ رتت وارتی نیواز حایوشہ آروگے کو جادا ہے انو کل نہیں ہوتا ہے لیکھ لو جو مجرازی ہے ہوابб女 بیواد ہے اتو سورت والے مل سورت میںی پر داهوا εپسورت میں ρہتے

توiliq-NA-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea-ea رहتستان Sacheite Surat meIt , Dikhe بم بیوval elected , Rajaistani valley באہی میں Dikhe to zoo dangiר malaote cut yo میں لیکن 2-3 جرنلیشن کے بعد کلقدسا میجھو بруڑ گا ہے 2-3 جرنلیشن کے بعد تو Cowpookaowm آیشعی بم بیج میں بھن்பை میں சமுந்தரத்தாட்ட پர்த்துவு சிக்கையே, ராஜستانி, hunka generation-dhire-dhire-dhire- کம்டிம் ஓ்டேண்டாயே. ராஜستانி, میں சமுந்தரத்தாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்டாட்

پھنالگے گا... آئی سیدھیں کھا بہیں گے... راجہ بلی کو اندرا نے جیتلیا... ستروں جیویت رہے... کہیں پھر بگا وطنہ کریں... تم بلی گھیں کی سب گھے... اس کو خوچ خوچ کے اندرا تگ گھیں... دیرتا چارو طرف خوچ خوچ کے نراز ہو گئے... کہ بلی مدکتا ہی نہیں... اندرا تروب بدلنا اور وائی ویک سے منو ویک سے کہیں بھی جا سکتے تھے... لیکن نجنگل میں دکتے, نبستی میں, نراز جمین... او جاد میں آکھر بلی اتنا پر باوشالی میں رہا پرتدوندی کہا گیا... اندرا کوجی کیا ساوی... آکھر باگوان برم آجی کے باس اندرا گئے... کہ بیتاما...

دائتی راج مہا بلی... بلی مجھے نہیں دکھائی دیتا... میں نے ساری پر اتنا کی... سارے دیو تان کو گبتچروں کو... کبھی آبی باگ... کلگا دی آبی تک بلی دکھائی نہیں نے... بلی کہا ہوں گے... برم آجی نے کہا بلی بڑے مدھی مانے... اندرا گبلی مار نہیں ہوگی نہیں ہے... اندرا نے وچن دیا کے بیتاما... کہا ہے اتنا مجھے باتادوں... میں اس کو... شترو سمجھ کرناشت نہیں کروں گا... لیکن اس تیستی دیکھوں گا... برم آجی نے کہا کہ... بلی میں چنتن کرنے کی درد شکتی تھی... جیسا چنتن کریں ایسا روب دارن کر لے... ابھی بھی کئی کئی ایسی ہوگی ہے...

شر کا روب دارن کر لے تھے... دوسرا روب دارن کر لے تھے... دو دن پہلے آرامجی بھی آئے تھے... رہل جمار آج کے ششئے آج سے چالی سال پہلے... رامنوں میں کے دینوں میں... قیرتن کرتے کرتے کرتے... حنمانجی کا چنتن کیا کھو... حنمانجی آئے کیوں کہی چیتن نے دوسرا روب... میں حنمان کا ضرور پلے کرنا چنے لگے... گاروالوں نے کا دو دو کون ہو... یہ کئی تن میں مستراتری کو جب آپ نے اندیأ کروالوں نے کا چلو... باکتا ہے کسی باہوں میں... ایسے کوتا ہوگا... طالا لگا دیا... صوی طالا کھولا رامجی بای کو دیکھن گئیں گئیوں کہ مارک کٹمی تو دیکھا کہ طالا تو گا... مندہ لیکن اندر آمارہ... کٹمی کا اب...

کہاں گئے کاں گئے دیکھا تو مندر بے بیٹھ... کہاں گئے گئے گئے پتانی... بڑو دہ سے پیٹھی چالیس کلومیٹھر کے انتر پر پاوہ گڑ کے پاس میں تاج بہر عاشر میں... نارین باپورہتے ہیں... وہ میرے میترسانتے... ہماری گوبا میں... ویک بار پنارے تھے تو انگا من مو گیا تھا کہ میارے ہیں میں کیا بلے... ہم دونوں ساتھ میں رہے تھے گوبا میں قئی سبتارے تھے... اُن کے ویشے میں میں نے سُنا تھا کہ وہ شیومندھر میں شیوراتری کو پریٹی پورک نہیں شیوراتری نہیں اور کچھ تھا وہ اپنے کو پھا میں تھے اور پو جارے شیومندھر ساپ سُترا کر کے چلا گیاں τالا لگا گیاں سٹل حصوبی آکے کھولتا ہے تو دیکھتا کہ نہ رہن باپو بیٹھے میں نے اتنے بڑے سندھکو جیسے میں اپنے رے کو کوئی بند کر دے تو پھر پستہے گا جیسے وہ آشام کے دیشتا تھا تھے

اُداری نے کھولتا تو شیولیں کو آلیں گن کر کے ویٹھنا ہے اور پورے رہن میں نے کیا کیا بہمے تو رہت کو بند کیا تھا تو کوئی نہیں تھا یہ باپو کہیسے آبے چا بھیا میری پاس تو یہ بات میں نے اسے پوچھے تھے گیاں بندھر میں کیسے ہو گئے تھے تو وہ لے ہے کیا وطالے کے نے یہ بات سچی ہے وہ جوٹھ وہ لے سے سندھنی ہے نرسی میں تا کی دوشی شاہی تھے رتنا باہی اور اس کی بہیں ہوں نرسی میں تا میں بڑھا سنے کر دے تھے کوئی کاشی کے ساتھوں آ کر نرسی میں تا کو پرسید کرنا چاہتے تھے تھے یہ کا سامتے دیکھا نہ چاہتے تھے نرسی میں تا کے لیے افوہ پے دا کر دی کہ جوان جوان لڑکیوں کے ساتھ رات کو قرطم کرنا ہے تو سب کو اچھا لگے نرسی میں تا کرتنا بائی سندھری لڑکی کا عپس میں کچھ گڑا بڑی ہے

او اس جمانے میں اس بات کو تو جلدی لو کو نے پکڑ دیا اللہ ہوا آخریے نے نرسی میں تا اپنے گھر میں بجن کرے اور بارا بجے برا برات کو بارا بجے وہ خواری کنیاہوں کے ہوتھ پر بانی کا گلاز رکھ دیورتا وہ پیتے ہیں لڑکیوں کے بہی نے اور باپ نے لڑکیوں کو کو مارا پیٹا اور کمرے میں بند کر دیا رتنا بائی کو اور نرسی میں تا کو گاوں کے چورے میں گاوں کا جو اتنشش نستانے وہاں کیلتن کرنے کا دیا ہوا نرسی میں تا کیلتن کرتے کرتے جو کام رو جو تا ہے چاہے کی آدتبانی کی وہ جن کی شرر کو وشکتا پڑتی جرہ ساکنٹر سو کا سمرتی ہوئی تو وہاں جو کہدیوں کی نہیں رتنا نہیں اپنے پیتا کے کمرے میں گھر کے کمرے میں بند تھی اس کو ہا کے گروجی کو پیاصل گئے ہیں

اس نے وہیں گلاز مراہ اور بھانا سے گروجی کو پیرانے کا ہاتھ کی قریاماتر کر رہی تھیں اور لو کو نے دیکھا اس کے باہی نے باک نے دیکھا کے رتنا ہوتی نرسی میں تا کو پانی پیل آ رہیوں اللی گڑ کے طالی ہوتے تھے چٹان برکی تو کنجی میرے گجرن جب میں ہے چھوری آیدر کی سے ہاں یہ بھاگے تو دیکھا کہ وہاں میں تھی بیٹھیںوں کر رہیوں یہاں اس کا شریف پر گٹھو گیاں نرسی میں تا نے طرن تو گیاں اپنے بجن میں جو جو وہ لو چلی ہو چلی نے بے ہو جاہی رہے ہیں تو آپ کا جہندراد من ہوتا ہے وہاں شریف پر گٹھو جاتا ہے طوران جی بھی تو دو دن پیل آئے تھے لالجی مارات کے سیشتے ہیں گل گلے ہو کر دروی تھو کر گیاں رہے تھے کہ لالجی مارات نے تو شریف چھور دینا

ہوا اپی امارے گروے ہیں سے کر کے ہم اپنی بھاونہ وقت کر رہے تھے تو آپ کے من میں دراد بھاونہ جاتیے شریر وہاں ہو سکتا ہے یہ بات یوں کو اسیشت میں بھی آتی ہے کہ من کے کیے سب ہوتا ہے تو من ہی من میں ہی شریر بیٹھا ہے ہت جات میک درستی سے دیکھو موتیگ درستی سے دیکھو تو شریر میں مانے تت درستی سے دیکھو تو اکھند برمان دنائق سچدانا دپر بھو میں شریر مان اور دو کھر سکھ سورو درجن دا اور سب لہر آ رہے پور پور آ رہے لیلہ ہو رہے باکتی مارگ سے چلو چاہیں گیان مارگ سے چلو چاہیں یوں گ مارگ سے چلو بات تو گئی ہا جاتی ہے کہ پرمات مہ ست ہے چیتن ہے آنند سورو پہ ہے سبی کے سوھ دے ہیں سبی کے درستہ ساکشیات مروپ میں ہے

شریر سبی کے بدال میں والے ہیں بھی ماری اور موت کے گرہسوں نے والے ہیں شریر کو مائمان کر چسدہ جینے کی چا کرنا دکھوں کو گولانا ہے مارنے کی چا کرنا کائرتا کو گولانا ہے اپنانیش چیدر کروکے جو مرتا ہے وہ میں نہیں ہیں جو بھی مار ہوتا ہے وہ شریر میں نہیں ہیں جو چندی تو تا ہے وہ مان میں نہیں ہیں جو راگ دوش کرتی بود دی وہ میں نہیں ہیں میں تو اتماوں پرمات مقام ہو مو عوم شانتی ہو مارن دا سبی اٹھ کر یہ تھوری گھونٹ پیلو پھر پو جا پاٹ میں بھی تھوڑے چکو جاوکے سب بدال رہے تن بذل رہے من بذل رہے پر وہ بذل رہے

اندین بذل رہے رہت مذل رہے اُس کو دیکھنے والا سچدان اندساکسی میرہت مو پرمات مائے کرسے ہم اس کے عومارے عوم عوم عوم میوار کال میں بھی بار بار اس کا چند کرنے سے مان آمانی ناو کو پر آپ تو جائے گا میوار بھی آپ کا سندر ہو با کیوکمان میں دیوے ستام کا سنچار ہو گا دیوے رس کا سنچار ہو گا جو بھی برم مب بیاس کرتے ابرم مجنطن کرتے ابرم مدہن کرتے ان کے بہار دیکھ کر دو سے لوگ بھی گل گلے ہو جاتے سترپ تو بہتی واترپ تو نے لکتا ہے سامر تو بہتی وامرت میں ہوتا ہے سترتی لو کانتا ریتے مانتر دیکھ سجنوں نے لئے ہیں ان کو اٹھارا پرکار کے فائدے ہوتے ہی ہے

چاہے جانے چاہے نہ جانے کوئی اٹھارا پرکار میں کوئی فائدہ جادہ ہوتا تو کہیں کام ہوتا لیکن ہوتے ہیں اٹھارا پرکار کے فائدے جاپوک کتنا بھی سوکھا دیا آپ ایم پرس مطوک اتنا بھی دوکھا دیا بھیت جائے گا بھیت جائے گا ستچی تانن دا امر ہے اور اصدت جاد دکھوں حیسی مر رہے ابھی اپنے آپ مر رہے جیسے یہ گزرہ مر رہے حیسی دکھ بھی مر رہے سوکھ بھی مر رہے ابھی ایک ثلک کیا اس میں مرنہ حلس پوچنگ تو شبی پاست بسار ہو رہے بسار ہو رہے جیسے کیا کرئے کیا جوڑے چھوڑے چھوڑے چھوڑے چھوڑے چھوڑے سبجاتا ہے

دے ہاں گے ہاں دھانڑا رہاں جھ سرڑ کی بڑھائے کرنے کے لئے قائے کو مرے پیچھے یا بڑے میں بڑھا ہے اس کی پریٹھی کے لے ست کرم کر کے ماکی کا سمے ست جگیاسا میں ست پریٹھی میں آیا تو کارام میں بہت ہونچی بات کر دے پر مو پہلے تمہاری پریٹھی باکٹی دے تو بات میں ست کرم ہوگا میں تو ست کرم کے سے آ کے وانے کیا کیا ہو جاتا ہے کو سکی لوگ کا پدگی لوگتا ننگی لوگتا کیا کیا آیاتا ہے سلے بھگوت پیٹھی جگا ہو آپ نے کو جانو یکوں نے جو دککوں اِت نے اِت نے دو کھائے سببین پسار ہو گئے پھر بھی رہا اِت نے سو کھائے چلے گئے پھر بھی رہا وہ کون ہے مو کون ہے مطلب میں کون

پر مات ما کی پریٹھی کا اسے بھی پر مات ما پریم سر پر وہ میری ہے اور بہر بانس کے نام کا چینطن پریٹھی پایدہ کر دے گا ساہورمتی کا تاکت ہے اور دین لکش بھی رہا اِت نے ساری تے گاگ میں و اِت نے شانتی میں بیٹھے ہو اِس ادرشا مجھے لکتا کہ دنیا میں شاہید کئی ہوگا کی نہیں پوری دنیا انگوستان میں تو میں نے نہیں دیکھا اور امریکہ میں ایسا واتان سمبھا گئی نہیں پاکستان بھی میں گھوم کیا آجینڈے سوں میں گھوما وہاں تو ایسا واتان سمبھا نہیں ہے میں تو یہ کہے سکتاوں کی شاہید دنیا میں ایسا واتان ابان

جوا جادہ سنسار کو سہuzzyانتے شری کو میں ما ہندھ spaceship شری deal får کریں گاсон جو دے میںگو आपदे लुप मेरिए काँदिता है। नएह्गुप हमेंझिता होप हमें आपदृप लिएप लिएदूप होबी नपो में ऐईना हैं ये लप्दे जोडदे और में कियोटा हैं आप लिएवा है॥ تو, اپنے کو سریر میں جادہ اول جاؤ نہیں. اور سریر سے جادہ قریعہ نہیں کرو. یہاں بھی اپنے اندوستان میں بھی کہیے سے مرکلوک ہوتے. طالی بجانگتے, ٹھوک ٹھوک. وہ بھی کم نہیں ہے. پھو جا پاٹھ کریں گے تو چلا چلا کے ٹھاکہ دیں گے اپنے کو.

ہو بھگت کے بڑے بھگت کے بڑے بھگت کے بن جاتے. سریر کو دیادہ ٹھاکہ ہو نہیں. اپنا ایراستہ بھگیوں کا راستہ نہیں ہے. اور ٹیاگیوں کا راستہ نہیں ہے. اپنا تو رہا جیو گئے. جوگ میں بھی رہا ہے. نانی کا ستگروو بھیتیا دی ایسی جگتا ہے. حسن دیا. کھیلن دیا. کھاون دیا. پینن دیا. بیچ ہوئی مگت. حستے کھتے کھیلتے پینتے. مگتی کا نموکہ رہتے. آیسا بھرمگانی ستگروو بھیتیا. دی ایسی جگتا.

حسن دیا. کھلن دیا. کھاون دیا. پینن دیا. گورکنات نے کہ حسی وہ کھیل. اپنا نقجی کی باشا اپنے ہیں. گورکنات کی اپنے ہیں. لیکن سدھانتوا ہی. راجگتیا. بھرمگان کی بیتیا. اور گوی ہے. کرنے میں سرل ہے. اور بھلیس کا. امیت ہے. یہ وہ بیتیا ہے پینن. ید کے بیدان میں یہ بیتیا بھلی تو سکتے. گورے ہونکہ رہے. ہاتی چینکہ رہے. دونوں طرف کی سیناؤ کے جو دیکھ دوسرے کے پر تیشوڑ میں کھون اکھال رہے. ایسی جگا بر. سمت تو یوک کے کھر جڑا ہوئی. گیا ہونوہ. کرنے تو کرو.

نیش چای تو کرو یود دکا. لیکن ایک چاہنا کرو یود دکے بھل کی. جے کیا سار پریتی مراد ہو. ایک چاہنا کرو. جبی دکھائے تو پوچھو کس کو دکھو. دکھکی طنگے ٹھو جھے گے. چنتا ہے تو کسنتا ہے. کون چنتا کر رہے. چنتا کی طنگے ٹھو تو دکھ. کرو دائے تو دکھو کرو دائے ہے. کس کو آیا. کرو دکی طنگے ٹھو جھے گے. ہے سا رہا چھو. ہے سا بڑیا. اب یود ٹرین کے دیمی ایسی ساگنا ٹپرسیا کے سمئے پر. ایسی باتی نہیں بتاوں گا تو کام بتاوں گا. گروکوں آنے مانوی. گروکوں آنے شجانتا ہے.

اور دیکھے دیمے ہوار. کہے پریطم سنشے نہیں. پڑے نرک موجار. گروکوں منش دیکھتا ہے. اس کے دشریل کا واہر ہی طولتا ہے. گروکے گیان میں نہیں دیکھتا. تو تو نرکوں میں جائے گا. جا کے مستک گرو نہیں. سو نرنگور آجان. کہے پریطم پاتک نہیں. پروش نہیں پاشا. اس کے پر کنسا پاتک نہیں لگا. نی گروکے ہوگا. چندر بھیناجے میں جامی نہیں. کنت بھیناجے میں نار. کہے پریطم ام گرو بھینا. پرانی پشو گمار. گروکوں تنمان سوپی ہے. گروکوں تنمان سوپی ہے. گروکوں تنمان سوپیز COPRAAN семیت قChrist bhaum Bhaum Sindhu

گروکوں تنمان سوپیز بھیناجvisible گروکوں تنمان سوپی Richards و رکے کہان سنکیت کو چھے لے باز. میں دکھیوں دکھیوں, ایسا سوچنا, سیشا کوشو بھا نہیں دیتا. میں پریشانوں, پریشانوں, میں پاپیوں, میں پھلا نہ ہوں نہیں, دکھا تھا ہے جا تھا ہے, پریشانی آتی جاتی میں اس کو دیکھنے والا ہوں. یہ جان بڑی رکشا کرتا ہے. یس سے جان مائم, تبا, جان سییو کتابو.

تو مندھ رجاب, پھر مندھ رجاب کے بعد چبچا بیٹھ رہے. بھاگو نام مہیمہ آتوا بگوت استوتي پڑی. پر تباگوان ایسے ہیں, ایسے منشان تو جہی تو جوب پھر ہولا ہوں. پھر منی در اُدھر جائے, پھر بگو نام جپا گرمانتر جپا بگوت استوتي پڑی. اگر در لکتا ہے جرہ جرہ بات میں بائی لکتا ہے, تو جی مندھ رسائیں پوسطق ساتھ میں رکھوں. تین میں کئی باروس کو دیکھوروصی بھی چاروں میں, نربہ ہو جاہتا ہے. مدھیو کا بہی ستاتا ہے, منگل میں پڑوں کوئی مر گیا اُس کی یاداتی, منگل میں پڑوں اُس کو ست پڑے نام دو. مدھیو کا بہی ستاتا ہے تو ایش کر کی اور کتاب پڑ کر

اپنے آپ کی مدھیو کے ساکشی بن جاہوں. مہراج ہمارے کو تو کرجے کی موصی بات ستاتی ہے, بینک کا لون لیا اور دبا ہو گئے, کرجا بہت جر گیا ہے. پورہ نہیں ہوتا ہے, کرجا کرجا کرجا ہے, اس کرجے کی, ناغ چور میں تو ایک دو نہیں, اپنے صادق نہیں, سارے لوگ پسے ہے, کیوں کے پرچار پر سارک, ایسای ہے کہ بس مورگس لے لوگ اڑی لے لوگ, مقان لے لوگ لون پر. ایک ان پاہ ساتھ سال میں تو پیسے دمل ہو جاتے اُدھا رو, اُدھا رہلے کر پھر رو تی رو. Τُل سیداس نے ٹھیکا روکی بلی سوکی بلی ساری سے سنتاپ جو چاہے گا چاہوں پڑی تو بہت کرے گا پاپ. سادہ سوڑا جیوان دکھاوے بینا کا جیوان,

کرکہ سروالا جیوان, کرجا کر کے ٹیپٹا پر ہے نام, نین درام کرنا ہے. مقان مورگس کرا کی پھر دندھا کرتے سے مقان بیچ کر ہی دندھا کروں. لون لے کر دندھا تھو, لون لے کر شادی لون لے کر گاڑی لون لے کروں. ویدیس میں تو یہ لون اور کریڈی کرنے تو آم آدمی کو تو نوچ کے آئیسا کملہ کر دیا ہے کہ وہی گورے جانتے بچھا رہے. یہ تو اندستانی جاتے کر کر سر سے جیتے باکی وہی لوگ تو مورگس میں اور بیاج بھرنے میں اور کریڈی کرد میں کریڈیٹ لے سو جاتے. ہبت ابت پگار ملتا ہے. شکرا ہر کن کو پگار ہوتا ہے تو آڑ جاتے ہے. حکری میں آیا تھے. سنی اور رہیوہار کو پیسے لے نے نے عورات اور سموار کو بکریڈیس سے ہو جاتے. عور میری کامے. تو آئی سے عوراو کیا بھنڈ اور آئیسے

قریڈیٹ کرٹ کیا والے لے نہ کی جیس میں اپنے ہی شانتی بھا ہو جائے. چاردن کی جندگی لیکن اس کو جینے کا تریکہ بھی بات سکش مطاز سے چھایا. Guru Kula mein khaan paan aur svasti ki baathe sambhyayati. Habit to pizah khainghe, juus pyinghe, dahi wali cheese khainghe, ai skrim khainghe, bojan khainghe, pirai skrim khainghe, to tumar banhega. Aagejalke dhaizjespavar khanam, ai bhicharam ko patahini pandradhi meh dinupvas jaaruri hai. To jo tamsi khaan paan karte hai, jo papi hai ve asuri yoni meh jhan maan lehti hai. To jo adhik papi hai, boonar ko mein paathe, bhi shna pitha maane kaa. To jo sadharaan paan hai, vee pirmrtti lok mein haathe, jo sadhik hai, boon deo lok mein haathe.

To wagwaan ke khe, khe, khe, aksyukhe bakte, boon ke damne posthe. To jo tapas vi sainyami bram cheri rakte, bishma pitha maa jai se bram lok mein haathe. Haar jo tatto gyan paakar yehim muktat moona chaathe o yehim muktikanu bhaukar khe, sarir chhutne par bramma parmatna melin hoodathe. Manushakhi jai se reto te hai, jai saannische hoodta hai, jai saa purshar hoodta hai, uska nusar hoos istiti me hoodheer sabheer moon chaathe. Lekin naswar hain, pursharht naswar chich ka pursharht kare, to itcha itcha me itcha purti hoodhe to asakti banti hoodhe ne hoodhe to dukh hoodta hai. In wagwaan ko bhaane ki itcha itcha itcha ne rati ho bhakti bhanjati.

Wagwaan milte to ne hal hojathe ne to wagwaan ke chintan chintan mein milne ki pyaas kias mein bhi wagwaan ke damne posthe. Sonsar ko chaathe to batakna padtaar bhaagwan ko chaathe to mukti hoodheathe. Ise liya apni chahane bhaagwan ko rakta. Sondar tari kaya hai. Patni mile pati mile eswildri mile hei mile hei mile hei mile hei, mile tata ki maakya kya. Mujjat oapne hathma ki satth tachitantar anandtaka namha mile. Mujjat oapne hathma ki satth tachitantar anandta ka namha mile. Mujjat oapne hathma ki satth tachitantar anandtaka namha mile, Mujjat oapne hathma ki priti mile vaas. Bhajat oapne priti puur wakam dhada ami bhu diyogam pam ye namam ki antiti diyur Priti puur wak mujjat bhajta. Chaay hom ne uskod deyin dey khala, کو دیکھ رہے جان்டாی. چہے ہموں تک نہیں پونچے لیکن وہ ہمارے تک پونچے گا

کیوں کیوں سے ملنے کی اچھا جان سے اُٹھ دیوہی میکٹ پائے ہو گیا رہا. God helps those who helps themselves. Nothing is impossible, everything is possible. Try and travel be successful. I don't know how to travel. I don't know how to travel. I want to travel. Who is wondering here and there or Mouni is only for me but what for? Only for body or body? No, you are strong. I like, who is I? Your mind is eye, body is eye, who is eye?

Ask the self, who is eye? One eye boy. One eye, one eye, one eye, one eye, that you find out so much, that you have so much knowledge. The one who practices so much already, you meet not half a million. 1 Million, 2 Million. practice. You don't have 1 Million in this year, your mind will become 1 million. 1 Million, one Million, one million. کمہلے, тیلین کمہلے, افٹر دین what will be. Bittention. Waiwai. سنسار کو جیتنا چاہ ہوگے اُتنی پریشانی بڑے گی.

سنسار کا تو تو را بوت کم ما کی بگوان کو چاہو باز. پریشانی میں دی رہے گی.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →