Jan 29,2026 Thursday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
683 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 29,2026 Thursday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
دین دیا لکو بے نتی دین دیا لکو بے نتی سنو گریب نو آج سنو گریب نو آج دین دیا میں پوتکا پوتا دین دیا میں پوتکا پوتا دو ہی پیتا تیریلا دین دیا میں پیتا تیریلا دیا ردے سے جب تی جا ابھی ابھی بھاگواان کا گیاان
آنند مادودی انترے ہمیں دیو تا کی کرپاکہ چمتکا رگت ہو سکتا ہے چتکی شانتی وقت پر ساتھ کو بھاگوت آنند کو پرگت کر سکتے اوٹوں سے بھی نہیں کہنا ہے کنت سے بھی نہیں کہنا آج ردے پر رکھا ہوں بگوانتوں میری ہو مجھے آپ کی اوشتا ہے سنسان نہیں کہی جن موتک بٹکا ہے ما کے گھر بھوں میں پٹکا ہے پیدا کے تن سے پٹکا ما کے شریھ میں لٹکا لٹکا کر اس مائیہ میں مجھے کہی جن موتککا ہے اب ہماری پریدی تمہرہ آنند میرے
چت میں برگت ہو اور میرہ من آپ میں لگے سنسار میں من لگنے سیجیو تجھے ہو جاتا ہے لیکن آپ میں من لگنے سے سنسار میں بھی وہ سفل اور تمارے پر ساتھ سے پاوان ہو جاتا ہے ہوں ماہم آنند تمیں بگوان نے سویگار کیا ہے اس کا انبہو تم کر سکو گے جیسے پیدا ماتا ہمارہ ہاتھ پکر لے گو اُنگلی پکر لے ایسے مارے پر میں شرح انترات ملے ہونے
سویگار کرے گا تم نیس چندتا اور میر بیگتا آنند ارمادوڑی او آنے میں باوان ہو جائیں گے ہوں ماہم آنند ہے ہوں ماہم سندی آن آن ماہتوڑی او آن پر بوچی او آن بیارے جی آن آن میرے جی آن آن ماہم دا تاڑی مدوشر دی سندھوے آپ مدو میں آپ سکھ میں
آپ آنند میں آپ ساک شروب ہے یہ آپی گیسرشتی گیت پتیشتی بیل آسلے لائے اپرہو آنند دا تاڑ گیا نا ہوں کو دیزیے سیگر ساہرے دور گناوں سے دور ہوں کو کیجی لیزیے ہوں کو شرن میں بہر بہت پتکتے تھے ہوں بھنیش رانتی میں شرن میں لیجی جیسے بچہ ماکی گود میں نیش چندتا کر نند سے پوشت ہوتا ہے ایسے ہم توج میں نیش چندتا شانتا کر پو بیت رہو رہا ہوں پوشتو رہے میرے پروب ہوزی میرے دا تاڑی مارا وہلوڈا
کیا ویش شنٹی ہو گئے کیا پریٹی ہو گئے کیا مارگ بھی نمائی ماکی مدردائے آنند ہوں وہ ایست کے تیرت میں شنٹی تیرت باہر کے پوھنجلاشے میں تو شرن ہاتا لیکن ایمیے بگوطاش ہے میں تو ہمسوے امنا رہے پاو نو رہے ایک کیسا ہے جا دوس سمجھ میں نے آیا تیرے پیارنے رہو کو میں تیرا بن آیا آپ ہواستے جاؤگے بھی طریبی طرح جن مدن مان پر کے تجھرکار اور آکر شروع سے
سورکشت تو دیاؤگے ہو گئے ہو گئے رب ہوچی ہو گئے رہے جی ہو گئے تو ہماری پریٹی تو ہماری کا وشکتا کو دی میں جب خودائی دیکھی تو کافے میں شجدا کھول نکتے من کی گیہ رائی میں تیرے مندر کو دیکھا تو باہر کے مندر میں کوند مجھے ویید پران قرآن سے کیا مجھے پریم کا پاٹ پر آدے میرے سد گروب مجھے مندر موستیت جانا نہیں مجھے رب دا رسا چاکھا رہے رہا رب ہوچی ایک سادق سابن کرنے بیٹھا ایک آگتا ہوئی اور
کچھ سنائے میں دھان لگا یقش پرگت ہو گیا سادق نے کچھ تم کون ہو گلے میں ہی مگوان ہے مگوان ہو تو پرگو کیا ہا گیا ہے اُس نے کہا جہو کام دنہ کروگے کوب پیسے دنگا کوب کمائی ہوگی کوب مجھے سی جی ہوگے جاو بیٹھا تو بلے اشوار تو بنسیوالا ہوتا ہے تو میں تو آت میں گدا ہوتا ہے بلے آج کل میں نے سارو بنا ہے رب سچ مجھ میں ایشواروں کرور گیا بیسے پون پرگت ہو سکتا ہے اور دیکھ میں انتردرہ مورا ہو
یقش تو آمی چلا گیا جا سا دیکھیں اُس نے سمجھا کہ ہا ایشوار تو ملگے لیکن گروضی سے تو بات کرنے میں جس گروض میں میرے کو ایک آگر تا و بھیان کے لئے اُس صحید کیا تھا ربچن لیا تھا اُنگی کے پاس سے تو آیا تھا بگوان گروضی بگروضی بگوان ملگے بگوان ملگے تنے بگوان ملگے تو کیا بات چیٹھ ہوئیں وہ لی ہاتھ میں گداتھی اور بگوان مورے بیٹھا میں تم پر پر سنو میں کہ ہاپ سچ مجھ میں بگوان گروضی بگوان ملگے پوچھا کہ پھر گداتا کیوں یہ بلیاتھ کل میں سی رہتا تو میں نے گروضی پوچھا کہ اب جا گیا ہے پر آوضی تو اس نے کہا جا ہوں کماں کھاں موج پر کھوض دن دوں گا
گروضی نے کہاں ایشوار نہیں ہو وہ کوئی اکشو اکش ہو گا کیا کہ یا کشکو دن دینی کا سامرتے ہیں تو پوچھوانے کی لالسا ہے وہ ریشوار ہوتا تو تمہ اور تطلیان کے طرف قلیدہنے کھا شروا دیتا کہ بیٹا تو میں ست سنو ملگے میں کون ہوں دکسک کیا ہے سنسار سوپ میں ہے اُس کو جاننے والا آتمت سوپ گاپنا ہے تو میں انترات مقرس ملتا دن کماں کر چیزیں را کر سنساری بننگا آرشی رواید نہیں دیتا لیکن سنسار میں نرلے بھی سو کر جو نہ رہن کر سو بھاوے وہ
مارد چپا ہوا سو بھاو جگانی کمارک دیکھا میٹاہے کوئی اکش رکش ہوگا میشفر اپنے اپنے کے طرف لگاتا اپنی سوطن ترسطتا کے طرف جگاتا اور یہ اکشک کنریا اور دیو دیوتا سنسار کے سوک سویدہ ہوں میں کو دنجے تم کو بیول جارے میٹے تو گریجی وہ کیوں آتے ہیں مولی یہ سادنہ کرنے سے مورتی میں سے کئی چمتکار پر گت ہو لاتے اور انتر اپنے سے کئی چمتکار پر گت ہو لاتے یہ اپنو بی بھاو پانے کے پہلے یہ سب اپاستنہ کے جیوان میں
اپاستنہ کے سمئے جیوان میں آجاتے ہیں جس کو پتیو رہیش اور راپتی ہوں تھی وہ اس میں رکتا نہیں باکی کے رو ایمی پھٹ کر رکھ دیوں میں رکھ جاتے راون کے پاس میں تو اپاستنہ تھی اور سونے کی لنکا کی اپلابتی میں رکھ گیا یہ نہ کہ شبو گے پاس میں اپاستنہ کی اپاستنہ کی شکتی تھی سونے کی رنپ رو بنا لیا پھر اسی میں مجار لے میں رکھ رہا انت میں مطوار جانم کی سجام لے بیٹھا اپنے جو رکھ داتا ہے اُس کو محان کی پر آبتی نہیں ہوتی اس ریے ستسنگ اور سمتسانگی بار بار کرے تاکی قلب میں کہیں کوئی روکے نہیں کوئی توکے نہیں کوئی پاس آرے نہیں
یہ شواروں سے رو بھوتا نہ مردے شہر جنہتیشتتی آقے انتردہن ہو جائے وہ یاکشگ اندر وکنر دیوی دیوطا اتھو اپنا منکا بہا دیکنوصہ کو جو جان رہا ہے اوہ پر محطمہ بھائری روپ کنڈ اور ستروپ اگات جل نرمار تتاشدد جل سے پون مامستیت میں پر محطمہ کا آسائلے کر اسی مش نام کرو جیسے بھکت جلاشے میں گوتا مارتے آئی سے اپماشے میں بیٹی گوتا ماروں
آنندہ اور شنتی محاجماس کا یہ محاشنا تمہرے جیوان میں نشکام طالی آئے گا نردوش گیان پر گت کر دے گا سرلتا اور سترکا پر ساتھ پر گت کر دے گا بیٹو تمہرے جیوان میں مردو طالہ دے گا جاو بیٹے کمہ اوکھاو یہ یکشہ رانی کے پچک کرنے مٹاو بیٹو جاو میں تم مالدار بنا دے تو مالدار بنا گا تکہ ہو جائے گا راوان جتما بھی سونے گا سونہ مل گا تکہ راستوں نہیں ملے گا ربکہ پر کوئی نار تکی اور اپنی پتنی یہ اونے کے بعد بیر سیتا ماتا میں بھری نیدھر کرکہ مرہ تو تمہرہ صادق ہے شنتی اور دائری اور سدتے اور سائجتار بھی مہا
گند میں گوتا مار پھر پر سے بھی بھی اور بھی بھی اور جی جی اور بھی اوو انگر سرر تا انڈتتا آئنسا عقرور تا انڈری سنیم اور منکی ایک آگر تا بھی نا پر لکے بھی ساری گتے اکھولنے کے قدانے آپ تے انڈشور کے دانسے یقشتو آئیسی خود صماعہ میں اولادر آئے اور دیکھتا کوئی بندہ اپنا چلا جیسے کسی کی گاہے دیکھ چایا ہے کسی کی بکری دیکھ جایا ہے وہ ناک کے اپنے گھر چلا جا ہے آئیسی کوئی بہوان کے باگد باکتے اور یہ یقشت کرنے رئے وہ آکے اس کو آسیروا دو آسیروا دیکھے پس آئے کے بنا باکت مانہ نے گھر چاک کرنے پپنا چلا مانہ نے گھر چاک کرنے
جسے گوڑا بیٹھو بیٹھو کوئی میل گیا تو چلسنالاکسا مانہ اور گاڑی کی طوار ایسے اور سنسار میں بیٹھے آئیسے اب تجم میں گٹنا سنواتا ہوں کوئی کمائی کرنے کسی پانت سے اور پانت میں جاتے وہ اپنے چار چھے میں نہ کام دندہ نوکری کر کے بڑھلے میں پرار کے روپیلے کے جارات اس میں کاغزگی نوتے نہیں تھے چھکھے تھے چاندیادی گے تو چار چھے میں نے کے جو چھکھے میں لے اس کی کا ٹریلے کے سر پیجاراتا جنگل کے راستے سے گوجرات تو سامنے سے بالو آیا کرلندر نہیں بالو لے کے گھنے بھالو بھالو کالا کالا اور ایچ تو ایچ دو پیر کے کھڑا ہو کے پنجوں سے املا کرتا ہے اس نے سون رکھا تھا
پیردمی روشت پوچھا تھا جو بھالو آیا کھڑا ہوئا تو ایکھنے بھالو کے پنجے پکڑ لیے سون رکھا تھا تو اس کی گٹسیم پر بھالو کے پنجے لگے تو روپے کچھ گئے رہے وہ جو جتا جو جتا مروتیو کے مومے جا رہا تھا دیکھا سامنے گئتی کھڑا ہے ایسے تو آئے گا نہیں اس نے کہا دیکھو یہ بھالو جو ہے نا اس کو ہی لارا ہوں تو روپےوں کی لید کر رہا ہے دبال روپےوں کھا دبال کر رہا ہے سمجھ رہے دبال خوروپےوں کھا کر رہا ہے ایسا آلو تم نے کبھی دیکھا نہیں ہو گا آو دوستا جا ہو وہ آیا آو اس کو بھالو پکڑا ہے کھڑ تو تھوڑے روپے چھو نے باکھے چھوڑ کے بھاگا تو اس نے ہی لیا دولیا دیکھا کہ یہ تو میرے کو منوچ دے گا روپے تو روپے کیا لید کی جگا پھر روپے تو کیا نکارتا ہے تو میرے آکھیں نکارتے گا
میرے کو بھلے گنوچ دے گا ایلا تیلا تیٹھ تو کچھ نہیں ہو تک گیا ہی درو در دیکھا تو آیا آیا آیا آیا آیا آہ اس نے توسرے کو بھالا ہے دوسرے نٹیسرے کو بھالا ہے جو ہیلا آیا کہ تک گا ہے پھرے گتوسرے کو پکڑا دے گا ایسے دادہ کے دادہ نے پر دادہ کو پر دادہ نے دادہ کو پر دادہ نے پر دادہ کو پیٹا بیٹے کو پر بیٹا اپنے بیٹے کوئی سنسار روی ریچ پکا دا رہتا بورانی اب تو سمحلے ساو سوجی تک دے بیچ کوئی لائے لائے گا دادہ دی تک گا سابی لائے لائے کہ تک گا ہے اب بیٹے تو سمحلے بیٹا تو سمحلے ایس سنسار کی میا ہے اسی کو بگوان نے کہاہے دیوی ایسا گونا مہی ممہایا دورت پیا ریچ پر دلے دیں پھر جو کوئی
دون تے رہتے ہیں کہ کوئی آتے ہیں کچھ جنو کیا ایسا تم نے نہیں دیکھا رہا ہر میں نہ کوئی سنگی ساتھی ایسا جو جیوان میں ساتھ چلے ان ملوں میں رہتے ہوئے ہم اکلے چلے اکلے چلے اس کے پہلے ہم جس کے ہے اسی سو ہم نا دس ہم ناو ستگورو جوت سے جوت جدا ہو انترمے یوگو سے سوی چیتی شکتی چیتنا کو جدا ہو ستگورو جوت سے جوت جدا ہو ہم بارلکتے رے دوار پیا ہے گروجی جہت میں ہونے ہم بہیں آئے ہو میرا انتر اتیمی رمیٹا ہو انتر اتماک کے اوپر جو نا سمجی کا آگ گیاں میں وہ میٹا ہو
آتم گیاں برمگیاں کو پر کاش دگا ہو گروجی گروجی اماری سمبھا لے جو رہے دی لڑا مرہی نے دو رہونی دے جو رہی گروجی اماری سمبھا لے نا کائیں یقشے کی نرگان درہ اتوا کویں دوست گئی اللہ اور اللہ وڑی کچھ کر میں آکر ہم فیصل ہے جہیں گرو مارا انتر بھلت رو بھلت رکی لہیں مل گئی سائیں کی دیا ہوئے پسی پسا لیکن چھوڑ کے نہیں مرہیں گے کوئی حال مست کوئی مال مست کوئی توتی میں نا سوے میں کوئی خان مست پہران مست کوئی راگ رگی نہیں دوے میں کوئی اکال مست کوئی شکال مست کوئی چنچل ٹائی ہا سی میں ایک کھوڑ مستی بن اور مست سب بندے آوی دیا پاسی میں نا سمجی کی پاسی میں پسے دارے
پوڑی ایک شبہ سا راتا تو کسی کوئی ایک شنی پاس آدیتی میرے پاس سکتے ایک چن نام کا دیکھ کی آتا تھا جب ایک کند میں میں دیان سمجھ دی کو پاس نا کرتا تھا تو کھو یہ آتا تھا میرے کو بھی ہوتا کہ لگا دیس کو ایچارے کو دیان چاست کا تو اس کو دیان لگا چاست کا لگا راتی گا ایک بجگا وہ گجا راتا پو بڑی ایک سندر بڑی سندری سندری ایک که آراک کرنے جو نیگ دیان پوڑی ایک آوس کے پیروٹے تھے تو اس نے سندہ کھا دا کہ چھڑہری کے اوڑتے پیروٹے و تو پوڑی اوڑتے پیروٹے بھا را سبیا ایک ایس آئی نییا آنس کے آوڑتے می گواری سندری مریی میں گولایا مینے جگا پھر دیکھ آوس کے اوڑتے پیروٹے بیڈا پھا گا پوڑے لگے بچے گیا بھی نویت آپ کو بتایا تھا پہلے پوچھے موتہ نام کے سنتہ اپنے صورت آشتم سے ستیوی ان کے بی سنس تھا ہے
اور نریاد میں بھی ان کا آشتم ہے میں میری ان کی ملاکات بھی ہوئی تھی گانڈی جی کے او سو تندہ سے نا سنگ رہمیوں میں سے کرے کرتا بھی رہے تھے ان کے جیوان میں بھی بہت سارے سے اچمت کا ہوتے تھے لیسے اپنے جیوان میں بھی بہت سارے سے انوہ ہوئے ہوگیوں کہیے ہو تو ان کا ایک ساتی تھا یوگے شرمہ رات او یوگے شرمہ رات سنترے میں اُتریک جس کمرے میں لیٹے تو دیکھا لیٹے سام نے ایک سندر ساری سے سجیوی ملاکھا لیے وہ لے تم دیوی اس کمرے میں گھزے پر گٹوی کنس گئی ہو وہ لے ماراج میں یہاں پر سو دی کرتے کرتے مرگے تھے ماراج سمجھے کے بھوتر نہیں ہے میں نے بھی ایک بار بھوت دیکھا تھا
تو مالے تم اشکمرے میں کھا کرتے ہوگی یہیں داں توٹار ایک خاک پر میں ریکھوں بے اچھا تھا لکھتا تھا تو جہاں مرتے سمجھے جاں کی باظہنا ہوتی پھر وہی ہی رہے نہیں ہوتا ہے پرٹھو سویتا تھوارجل تتو کے بیرہ با کی تن تتو کے شریع ہوئی ہوتا ہے اُس کو پر اتبوزتے تو تم کیا کرتے ہوگلے یہاں پڑی دیتی ہوگ کیا لوگے یہ سا جسے نوٹرے میں آتا ہوں اس کو بھی محرکاتیم تو کیوں ایسا کرتے جی میں بھی محر ہو گے مرحینا پر سو دیتا دوسرے کو بھی محر دیکھتو مجھے مجھا آتا ہے آوادت پڑ گئی ہے آپ کو نہیں کروںی میرے کو تو نہیں کیا لیکن سی نوٹرے میں دیکھا کہ دوسرے جو امرے آدمیتے ہو بھی محر ہو گے تو یہ کوئی انتا دھانوں کی تو بگوان نہیں ہو جاتے تو یکس بھی انتا دھانوں سے بھوٹ پیشات بھی انتا دھانوں سے تو کبھی کوئی بھوٹ آ جائے کہ دے میں بھگوانوں تو یہ پسنے جسا نہیں بگوان کی تطفقا گئی ہمنا چاہئے
تو ایک ہوتا ہے مانا ہوا بھگوانا ہوا دوسرا ہوتا ہے واصطبک میں بھگوان جیسے کسی کوئی کرشتوں کو بانتا ہے کوئی اللہ کو بانتا ہے کوئی سا کو بانتا ہے کوئی شکو بانتا ہے کوئی کسی کو بانتا ہے مانا ہوا بھگوان بھی انتراتنا کے بلسے کرگات ہو سکتا ہے دیکن مگوان جائسے ہے ایسے اس بھی کر کرنا کہ بہت بڑی بہتڑی تو مانا ہوا بھگوان کے لیے تو نرمان ہوتا ہے مانکا چتکا لیکن واصطبک بھگوان کے لیے تو گروکہ گیاں اور گروکی کر پاوتے رکھا ہم ایسان ہوتا ہے تو کمی رکھا جیسے کون سے فٹو لے تھے جیسے فٹو لے نہ ہو جیسیں گل سے ایسا لے نہ آلک باتے لیکن جو جیسی ویسی کیویسی سویکار کرنا آلک باتے
تو إیسے ورصد سروپ ہے ایسے ور ت long سروپ ہے ایسے ور غان سروپ ہے ایسے رپنا اتمادے ہو ہے ندیہ ہے ندے ناوین رسہ ہے ندے ناوینگان ہے دینے دینے ناوم ناوم ناوام ناوامی ننننننننننننننننننننننننننن بیسا ایسے رکھے صو بھاؤ کر تتو کر آو رنoundsن کر اس لئے یو گوہ سیشت محرامہ نے کہا کہ جس کو پر مات مقرابتی کرنی ہو دین گنٹے روج عومکار کا جب کریں ایک پاہر ایک پاہر دہان کریں ایک پر شاستر بھی چارے بگت سروب کا کیا ہے اور ایک پرہے پاہر سنتکی سے واقعے شپ پر بھا ہوتی جلدی میں جلدی شرف راپ دیو جاتی تو ایشر کے بناہ ہم سنساری جی جو میں سنتوشٹر ہے جاتے روک جاتے ہیں سے دیشر راپ دی
کچھیں ہو جاتی ہے نتوہ تو اپنے کو آیو گیمانتے ہیں و آسطوں میں مننش شریر ایشر راپ دی کی او گیتا کائی ایک سرے جو ایسی لار کے یو نیوں میں یو گیتاکی برا کاشتہ پر پہنچا ہوا مانا ہوتے ہیں اس کو دو طرح کے میں میں میرے میں خرچ دالتے ہیں پھر خالی کے خالی چلے جاتے سونے کی لنکہ تک پہنچ گئے پھر آخر جا ملانالت آپ اپنے ایک سوال کرتا ہوں کہ جو آپ کو لگئے کہ سفلتا سنیش چیتے دو اور دو چاردے سی سفلتا ہے اُس ماد سے آپ پیچھے ہٹھ کرتے ہیں تو یہ بودی مانی ہے کیا؟ آپ کو لگئی سفلتا سامنے کھڑی ہے اور آپ بھولے کے میں تو نہیں ہو سکتا ہوں ایسا کو یادمی ملے گا کیا؟ دو اور دو چاردے دو اور دو کروگی تو بھیٹھے چاروں گے
ایسا جو ایک نتجانتا ہے تو بلتا کیا پتا چاروں گے کچھ ہوں گے تو او بے کفے؟ کی باتا ہے؟ دو اور دو چاروں تو وہ گنتجانتا ہے کیا پتا دو ایک سندو اور دو تین ہو جائے اور پاچھ ہو جائے کیا پتا ہے؟ تو ایسی آدمی کو کیا بھول گے؟ مرکھ ہے؟ پاگلے؟ تو سنسار میں تو سپلتا بھی پلتا کی شنکا ہے لیکن آپ ہیشور کو چاہتے ہیں تو باکی کا کام سب ہیشور اپنے گئی لہوں سے پونکر دیتا ہے سپلتا سونیش چتے ہیں سنسار میں سپلتا سونیش چت نہیں ہے تو سنسار کی سپلتا کے لئے کھالی آپ میں سپل ہو جاں اس چاہ سے آپ سپل نہیں ہو سکتے اس ویشے میں آپ کو کام کرنا پڑے گا پھر بھی سپلتا بھی پلتا جیسے آئیس کی پرکشان میں اٹوہ سیے کی پرکشان میں
سپلوں نے کے لئے سارے ویدیارتی باتی ہوتے لیکن ٹیکہ پاہ سوتے ہیں سیے کے اگسان میں تو سنسار میں سپلتا بھی پلتا سپلتا بھی پلتا اور بھی پلتا تو بھی پلتا جو سپل ہو کر بنایا آئیس و کر رکھا وہ بھی سیٹ ساؤکار ہو کر جو بنایا جو رکھا مردتی اس کو بھی بھی پل کر دیتے چاہیک نمبرکا ہو چاہئے ایوان ہو چاہی دو نمبروں دو نمبر تو دو نمبر مالے ایک نمبر بھی مردتی دو نمبر میں دکل دیتی ہے کیا کہا ہے تو سنسار میں سپلتا کے ساتھ فپلتا جونی ہے اور سپلتا میں آپ کا پورشار چاہی ہے آپ کا پر آرد چاہی ہے آپ جکے باتانے سا چاہی ہے موسم سیجنے سا چاہی ہے آپ گیوں کی سیجن میں گیوں نہیں بو تردوسری سیجن میں وہ گئے تو بھی پل ہو جا ہو گئے
لیکن بہگوان کو پانے کے لئے کسی سیجن کے گلامی نہیں بہگوان کو پانے کی چھا کروں بھی سرکار کی رہمت کی کوئی جو رہت نہیں سرکار کو چاہی تو تماری رہمت لے گا ہے تمیں سرکار کی رہمت کی جو رہت نہیں پڑے گیا بیائی پیگوں کو چاہیے تو تماری کرپا لے گا تمیں بیائی پیوں کی کرپا کی جو رہت نہیں پڑے گیا کوئی ہرام جادے را جا نوانر جی جیسوں کو ایک بار نہیں تو دوبار جل بھی دے میں ہرام جادے کون سکھائی میں کھو گئے مجھے پتا نہیں نانک تو آپ کی ہمارے دلوم میں موجود ہے ہے کہ نہیں ان جی میں بھل سکتے تو بھل گے دیکھا ہوں نانک دی گوں وہ نے کیا پر اپنے کیا تا کہ آپ میں رکھو یاد رکھا آپ نے تم کو دیکھائی نہیں تھا پھر بھی گھر میں فٹو لگی ہو گئے نانک دی نے کیا مینت کی خلی ایشور کو چاہا بس
میں نے کیا مینت کی ایشور کی چاہا پیدا کر لے باکوان آپ میں لے باکی کا کام باکوان نہیں پورا کیا تو آپ ایشور کو چاہے تو سپلتہ سونیشی تباحبان کے طرف سے۔ لیکن آپ سنسار کو چاہے تو سنسار کے طرف سے سپلتہ سونیشی تھی نہیں ہے کیوں کہ مخان کو پتا Carney نہیں ان کو ٹی کو پتا Carney کہ میرے کو چاہتا ہے کار کو پتا Carney رپائوں کو پتا Carney کہ آپ نے کو چاہتے لیکن واجن کو چاہتے تانتے ہے اמی کو پتا ہوتا ہے ساری ویواس تا اس کےجم میں ہو لاتے تو سپلتا جس میں سونیش چیت ہے اس میں کائیر تا کرنا اچسی بات نہیں ہے۔ دو اور دو چاہرہیں سونیش چیت ہے آپ بھلوگے کیا پتا پہنچ ہو جائے تین ہو جائے تو آپ کی یہ بات مجھے سرمجھ میں نہیں آتی۔ تو میں ہاتھ جوڑ کے پراتن کرتا ہوں۔ آپ اس ور کو گئے دو کے بگوان میں آپ کی پر آپ دی ہو جائے۔
ہم سنسار کی جی جو میں ہولا جرے اُس کا اُس کے بے جہاں میں آپ کی پر دی مل جائے آپ کی پر آپ دی ہو جائے۔ ابھی تو ہموں پر او پر سے بھول دے لیکن گئے رہی سے آپ بیس بکار کر سکتے۔ اتنا تو آپ بھل سکتے۔ کیا کہا لے؟ نہیں بھل سکتے۔ ایسا کر کہ آپ پندرہ مناٹ کا یہ پرے ہو کرو۔ دیکھو چالیس دن میں بگوان آپ ہوتھا کہ کتنا او پر ہوں جا دیتے۔ سپھلتا ہی سپھلتا مل سکتی ایسا نہیں بول رام سپھلتا ہی ہوتی ہے۔ اور ماغی میںنے کا شنان میں سے ہی ترٹھوں میں مہا بھارتنس کی مائی ہے۔ تو یہ ماغی میںنے کا شنان شاستر لیدور طریقے سے بتایا ہے۔ مفائی کے دو طریقے آزماء کے دیکھلے بن جا اس کا نی تو اسے اپنے مناکی دیکھلے بس۔
جو چٹانوں کو چٹکا دی اسے روانیم۔ کہتے روانگی ہوئی۔ چٹانوں کو چٹکا دے اسے روانی کہتے۔ جو دل پر نقشا کر دے اسے کہانی کہتے۔ محیم علم تم کو کی کرشمہ کئی سے ہوتا ہے۔ قولہ دے ہر پرشانی کو با آدمی کی زندگانی ہوتی ہے۔ ہری پرشانیوں کو قولت سکتے آپ آئیسی آپ کی زندگانی ہو جائے گے۔ میں نے تو کل جو لی پہ دائیتی روپے آپ ایسا کوئی چیل نہیں مانگی میں نے۔ میں نے تو کہا کہ پندرامنٹ کی آپ سادنہ کھانی کی ہا کر دوں۔ یہ ماغ میں نے کشنان آپ کو جلاشہ میں جا کر سنان کروں تو صردی کا پرسنہ ہے تنڈی کا پرسنہ ہے۔ آپ گر میں جاہا بیٹھے ہو۔
اس شانتی روپی دھان روپی ہی درس روپی اگاہت پویتھر جل میں اپشنان کروں۔ آپ وہ ہوچیج ملے گی کی آپ نے کرو رو بارجن ملیا ہوگا۔ لیکن وہ سبچی جی نشٹ ہو گئی۔ یہ چیج نشٹ نہیں ہو گئی۔ مرتکہ صرف پر پیر رکھ آپ پار ہو گئے۔ بلکھول پک کی بات ہے۔ اگر میں جوٹھ بھولوں تو پر بایئے باتا ہے۔ اور آپ کر سکتے ہو۔ کیا کرنا ہے؟ اگاہ دے بیمالے شدے ستے تو یہ درتی ردے۔ سناتبیا مانا سے دیرتے ستوں آلابیا شاشفتوں
شاشفتوں آلابیا خجانا ملے گاکوں دیرتا مشاوچوں آنرتیتوں آجوں ساتیم آردوں آئنسانسروں بھوٹانوں آنرس ستنشے ہم دمھوشم میں آب ہندی میں اس کا ارتبتاتوں آپ دہی روپی کند اور ستی روپی آگاہ دمنی رمال تتا شد جل سے پون مان سکتیرت میں سمان کرو آسن بیچا دیا آجوں گیان مدرامی بیٹھ گئے لنباس حالیا جس بگوان کو مانتیوں ریو آب جو باہی ہے بی ایسے جو اکسرن دوتے بھی مانی آتی
اتو بحاد دائیگی بہی ناشن در مدی غرن مدی کی مدیگتی سے آپ کے غلت دے نے ہوتے بھاگ دائیگی بہی ناشن در مدی غرن مدی کی مدیگتی سے آپ کے غلت دے رہنے وسبهاگ دائیگی بھو چھو چیدرر آب جا رہنے ہوتے ہو باک جائیں گے بہیں نااشنہ درمتی ہرانا کلی میں ہری کو نام نشدی نانکہ جو جا پھر سپال ہوئی زبکان سنتکا وچنڈیوٹا ہوتا ہی گا باہا ہم try کریں گے کوشش کریں گے یہ ناما دکی بات دے رہے گے نہیں لگے گا ملنم بھی لگے آفیس میں ملنی لکتا تو بھی پگھر چالو ملنی لگے تو بھی آپ کو پیمیں لگا اگر نہیں لکتا رمن لگانا چاہتے و رس آد ہے تو یہ اس میں یہ پر اگ جو تو
سے بسیدہ کر کے بیٹھویں دن جوک کے مد بیٹھوں اگو آن ہمارے ہے سری رہمارہ نہیں ہمارے گیرے نہیں لیتا سری ملگانے کے بات بھی ہم اور ہمارے پر بھو رہتے ہمو سکے سری لکی بھی ماری ہمارے بھی ماری یہ ملنم گلتے منکا دکھ ہمارہ دکھی ملنگ گلتے ہم تو چاہئی تنی ہے سری لجھے دکھ دکھ بڑھلتا ہے سکھ بڑھلتا ہے بھی ماری بڑھلتی اس کو جاننے والہمیں آبادہ لوگ اپرگا ہم پر بھو میرے پریم پیدا ہوگا پیٹی کے دو کارہ رہے ہیں جیسے پیاس لگی تو پانی پیارہ ہو رہے گا بھو گھی دوروٹی پیاری ہنے گی
پیر جل رہے تو جوتا چکھل پر پیارے ہوتا ہے اب اشکتا پیار پیدا کر دے گی ہمیں رب کی اوشکتا ہوں پیار پیدا ہو جائے گا اتھا تو رب خمارے ہیں جو تا آپ کا ہے تو کتھا کئیں پیچکاری کرتا تو پروانی ہے آپ کے جو تیپے کتھیں پیچکاری کرنے کا سوچھا اُس کی گی رہی ہے پرناتنا کو اپنے مانوں کے تو بھی پیار کا پرگتی ہو جائے گا اور پرمتنا کے بینا کچھ نہیں ملے گا تو چھوڑ جائے گا اوشکتا پر ماتنوں کے مانوں کے تو پیار پیدا ہو جائے گا اور باگان کے لیے پیار پیدا ہو گیا باکیگی جمی داری گا ہوں کیوں گی داڈی کے لیے پیار پیدا ہو گیا تو گاڈی گا پینے آئے گی مجھوڑی کرو کمہ ہو تیطلاؤ کلا کلا کے پیٹرول پر بڑی کر کے چھوڑ اس کو کلا نہ نہیں ہوتا میں کلا نہ کے لیے پیچھ بھی جبنے گا
میں نے آجم آیا گا ہے اس کو جامینا کہی جا ہوں گا یہی بیٹ کیاب کھوں گا جس کو کرا جو ایگیا آئے گا سرشتی کرتا کھوڑ لائے گا ابھی تک جندہ ہوں کھئے سے کھئے سے کلارنے والوں کے روپوں میں آیا ہوں میں جانتا کھئے سے کھئوں کو کیا پرینا کر کے ایتنا محول سنال رہا ہوں ایک ہوں اب یہ آپ سندہیں دیکھنے لیکن دنیا کے کئی دیش دیوڑے ہیں ستسن سے دنیا کے کئی دیش دیکھ رہے سنڈے کیا اس میں کسی ہوں ہوں گئتی کا آتے ہیں نہیں اسی کا آتے ہیں
ہمارا ہے تم ست سروب ہو آڈی ست ہو جو گات ست ہو آڈی دی ست ہو ہم تمہری شرنا رہے ہیں ایشان دیجل میں آپ گوتا پا رہے پھرچوں کو جلتوں پھس لات کا بھی بایدے ستلے گئی میں ہوں ساری پھسناتوں سے پار فندرہ میں ایک بیٹچا ہوا سنگی چاکے وہاں آلنز سروب ہے جیگ تجی سروب ہے جیہن سروب ہو تمہرے ہپنے تم حاجرا حاجرا
تمہری ستاتہсли مریعا کے دیکھ دی من سوجھ دائیں منسوج دائیں بڑ دی نگنے کرتی بل جاتے لیکن آپ جو کہتی ہوئے آپ ہے اپنے آپ ہر برستی دیگے محاولہ وانے توانے محاگ میں نے کی مہم بڑی بھاری ہے محاہ بارت امشا سنتروں میں محاگشنان دوپراکارکہ ہے ایک تو پنیت تیرتشتروں میں دوسرا محاگ میں نے کی ہر تیتی اور ہر جلاشہ ہے پویت رجلاشہ کو گنگا کی سدرش ماننے کی آگیا دیتا ہے تو تیرتجل مام کرشنان کرنا چاہی ہے یہ سامانی تیرت ہے دوسرا ہے آتمی
قتیرت مابارت کے نوصار بابنا مچارن کر کی شانتو گئے دہی روپ کند اور ستے روپ آگا دنی رمال ستے نشتونہ جوٹ کا پت دوکھے دری سے قدھا میں آتے تو آگ دوسرای جنمیں مگر بنا پڑھا ہے جو ستسن میں جائے لیکن ستسن کے بانے نہیں ستسن کے لئے نہیں جاتے اور کچھ وہ دی سے ہے تو پھر مگر یونی میں جانا پڑھا ہے تو ارتات دائر روپ کند اور ستے روپ آگا آگا دنی رمال تطفشد جل سے پون مانستیبت میں منیمان بگوان کے ویشانتی میں شانتونہ پرمت مقا آسرے لے کرسنان کرنا چاہی ہے ارتات پرمت مقا آسرے لے کرسا جائی سے بگوٹ سمرن میں
شانتونہ جانا چاہی ہے اسے نشکام دا ایک بڑی اُنچی وستا ہے سرلتا اُنچی وستا ہے ستبہا شنبولن کی روچی اُنچی وستا ہے مردو دا مدورتا دنیا کو آقرشت کرنے والی اشفری ستا ہے اہنچا کسی کی حد کی آہنچان کرنا آقرورتا کسی کا آئیت نہیں کرنا قرور سو بھاوکہ دیا گنا انڈریسیں ام ویشے ویکاروں سے بچنے والا سو بھاو اور منو نگرہ من کو ایک آگر کرنے والی بھگوط پر ساتھ جنیا بود دھی اُس کی نشچی طروب سے اُب لگ دیو تھی ہے جل سنگ لے مطاقتے کا میرے مدر سنتنہ رہن بابوں اور اُن کے ساتھ اُنے کہا کہ با با جیے ملے ہیں انہ
چیف مینشرت اُسی بنا سگتے ہو میرے دوست دے سنت نالگو پہمے میرے گو پہمے وہ میرے ساتھ کائی دن رہے تھے یعنی جل سنگ سیم بنے اور پھر کچھ ورشوں کے بعد سیم کے پرشن سک جل سنگ کے اور جل سنگ با با کے درشن کرتے ہوئے بات چت میں انہوں نے کہا با با آپ چاہے تو ان پر آشتو بڑی بڑا سک دے تو سی با با نے کہا کیا بات اے رہا موج میں تھے یعل سنگ کیا تھا تھا ملے تا دکر پاو تو سب کچھ اول سک دا ہے تھی کہ دیکھلے بن کے پھر اُن نی سو چاہسی چار دسم میں تارک بولنے میں شاید گلتی کر ویٹھوں چاہسی تو ہے
اب ایک کس دیسے مرے کی کیا آئی تھا اور دسمے جو میرے کو یادنی ہے وہ گیا نی جل سنگ با با کو مطاتک نے آئیتے کو جرات میں وہ تارک مل سکتے ہیں اوپیشلی دنگ سے آئیتے ای بات پتکی ہے چاہدہ سو ایسار بھی لگی تھی یہ بات بھی پتکی ہے مطاتک کے با با جگے چانوں میں بہتے اعلق سے بات چیت ہوئی تو پھر آپ کی جل سنگ سے کیا آوارتا ہوئی وہ میرے گوفا میں جب نارن با پھر انے کو آئیتے تو میں نے پوچھا تھا کہ جیسے وکیل وکیل سے کمشتر کمشتر سے Dr. Dr. سے حال چل بات پوستا ہے ایسے میں نے پوچھا کیو جل سن آئیتے راستفتی ہونے کے بعد تون میں کیا فرق لکھا ہے کیا بات چیت ہوئی تو نارن با پھنے مجھے کا ہا ہے جیسے آپ دوست دوست دوست کھلے دل بات کرتے ہیں ایسی
وایتے آپ کی نالگو پھا میں یہ بات ہوئی تھے آپ کو پتا ہے میں جوٹھ بولے سے جہر آپ پرےج کرتا ہون جوٹھ نہیں بولتا ہونے یہ تو بڑی جوٹھ ہے پرےج کرتا ہونے پھر بھی کئے نا کئیں پسلات ہوتی رہتی ہے پسلات ہوتی توٹھ کھنا ہونے کے بھی کوиваетت کرتا ہوں quandی کا بھی نہیں بورتوں 17 ہونے ڈھاؤتا ہونے ہونے یہ 我طن گئے میری میلاؤا ہوتی ہے沒ے rấtہ گnytیوںر دچی 오늘 ا Kleinیں ان سے مجھے پکا ہاived ہے Article ای نہیں ان سے پ綛چھا تو کیاacyjات و難 تو نارن باپنے کہا کہ میں نے پوچھا یلسنگ سے ایک ایسا لگ دا ہے نارن باپن گیاں کتیا میں دے با رہا ہے بے تو جلسن کیاں کھوں سے آسوں نکلے جتے میری سنت جنا وہ تھا ہوں سو آندہ دی پو ہو لے
جلسنگ کے کلاس فولو جب راشتا پتی کوئی بن جاتا ہے تو پورانے میترا بھی پچھ لگو بھی اور اس دیدار بھی کچھ کیا آ جاتے ہیں ہم باپنے تو میں پتا ہے نے کہیسے کیسے ریستے دارا بھی اپنے رستا یاد کرکھنا جگا رہے ہم باپنے نہیں بنے دی تو ریستیدار تو کیا پیچھانوالی بھی انجان ہو رہے تھے کہ اس لڑکے کو سنجاتے ماندہ تو ہے نہیں سادو بھوابوں کے بیچھے جاتا ہے کون بات کرے ہو سے جو آدمیوں پر اٹھتا ہے کسی میں تو سب کھیچ کے آاتے ہیں جلسنگ کا جو کلاس فولو تھا گیا نہیں جیس کا بیٹھا راج کوڑ میں کمشتنا رہا وہ بھی میرا تھو رہا بگت تھا تو اس نے میرے کو کہا کہ ایک دن میں راشتا پدی بہون میں جلسنگ کے ساتھ تھا تو سو گے گومنے نکلے اپنی پگری کو طارکے کنگی کی جنے لگے میں کہ کی کردے ستو سے
سردار گے سردار ہے اور چکیریٹی والے اپس پیلے وال کے لوگ دیکھ دے آفیسر کلاس وانگے دیکھ دے اور تو سی کی کر دے آرے وہ لے کی آکھانتے ہیں میں تو یہ جلوں یہ سنتو دی کر پا ہے تو اب سنتو کے کر پاکہ کھالی جلسنگ ہی بکھان کرے ایسیوات نہیں ہے بھگوان سویم کہتے ہیں ناہم بسامی وینکنٹے یوگی نام ردی نواہا مد بکتا یترگا ینتی تطرد اشتھانی نہ رہتا نارد میں وینکنٹ میں نہیں ہوتا ہے یوگیوں کا ردے لنگ جاتا ناہم لیکن میں تو جیتری بار ستے ہولتا ہے جہاں میرے باکھ اور سنت ہے وہاں میرا نیواز سمجھ نارد جہا سوریوہ پر کاش جانچندا وانچنانی جہاں سمجھ رواہت ترنگ ایسی جام باکھ
اور سنت ہے مہی میرا نیواز سمجھ ملوکوں کے ردےگ میں جان نوب سے باکتی روب سے پرمہ باکتی روب سے رس روپا اپنی مدو میں باکتی روب سے میں پرگت ہوتا سنتنگوں سائنے لکھائے کہ اس دردتی کے سبی سکھ اور سورگ کے سبی سکھ ملا کر بھی باکتردے میں جو سکھ ہوتا ہے اس کی برابری نہیں ہو سکتے تُمشید آسنمی کہا تاتھ سورگ اپورگ دھری تولا ایکانگت تولی نے پہنچے سکھ لاملی جو لاؤسہ سکھ ست سنگ مجھے دردتی کے ساری بڑی بڑی پوشتے اور بڑا بڑا پاد اور سٹیپیکٹ ملتات تبی بھی میں اتنا سکھی نہیں رہے سکتا اتنا آنندیت نہیں رہے سکتا اور میری وانی میں اتنا دم نہیں ہوتا تو ابھی ہے مرکل پک کیوات ہے اس کو دو تار کے کلوگ بھی مانے گئے
تو جہاں سند تو مرحا پروشوٹے ہیں وہاں گربروالے بھی کہیں پوچھے ہی جاتے جہاں اچھای ہوتے ہیں جہاں کالوں نہیں ہوتے ہاں گٹر لہیں بنی ہی جاتے کہا ہوتے بہت ساری آپ جانتے ہیں بگوان کو اپنا ماننے کی ایک ریتے اور دوسری بہگوان کی اوہ شکتا جس کو اپنا مانتے وہ بیارا ہوتا ہے جس کو جس کی آپ اوہ شکتا سمتے وہ بیارا ہوتا ہے پیاس لگی تو پانی پیارا لگے گئے گئے شکتا ہے ہوتھ تائیت ہے تو پر سجادہ دیارا لگے گئے بوک لگی تو روٹی پیاری لگتے سی اوہ شکتا لگنے سے وہ وصوپیاری ہوتے
اپنی ماننے سے بھی پیاری ہوتے چپل جوٹا اپنا ہے تو قدتا جرہ بھی پچھ کاری کنیوں پے کرتا فرق نہیں پرتا لیکن اپنے جوٹے پر کو کتے کی گربر بداش نہیں کرتے کیونکہ جوٹا اپنا ہے ایسے بھگوان وازتوں میں اپنے تھے ہے اور وہی رہیں گے شریع رپنا نہیں تھا ایک دن چھوننا پڑے گا قوٹی مقان دلی اپنا نہیں تھا ایک دن روانگی ہوگی شرپ نہیں دیتا ہوں سچائی اپنی بود دیمے وکسی تھو تو جو ایمان دای سے بھگوان کے راستے چلتے ہیں اُن میں بہار کا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا ماغا تیر تھے تو پچھا لکتا لیکنوں سے جادہ انتریامی پرہوں میں شانت ہونا ستی تیر تھا نرمال جل میں بہار کے تیر تھے تو اپس کا شریع گوٹا مارتا لیکن
جب دھان ومکارکا گنجن کر کے اپشان توتے تو اس کو ماناستیفت کہتے ماناستیفت میں پر مات مقا آسلے کا جو اسنان کر تا ہے اس کے جیوان میں سرلتانش کا پتا مردوطا عینزا عقرورطا اندریسنیام مانکی ایک آگر تار مدورتات سہدی میں آجاتی ہے تو یہ سدگوں سے ہی سماج آگ کرشی تو کر باپو باپو کرے اتو کبیر کبیر کرے یا کچھ بھی محبورشوں کو پرہم کرے ایوہا گوانکی دیوے گونک پرگت ہونے سے ہی ہوتا ہے کسی چال باڑی سے کوئی آپ کو مہتمامان کے آپ کے پیچھے یہ سمباؤ نہیں ہے دو چار مرک چل سکتے لیکن کتنا جن سے لاؤ کوئی
اپنو دائیس نہیں کر سکتا مرکھ نہیں منا سکتا ہے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya