Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 28, 2026

Jan 28,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Jan 28,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

197 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 28,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 28,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

शक Constсе ★ ये इनन्neyscott ये आदल- strands गरन ज कर professional ब Barradhaan Chintan रओ सम करत्uo चवन के नतये में प्रेम рублей जुतथ बाओोज ‫ Gods بھگوت پرساد جیامتی روپسپرگت ہوتا ہوں مد بھگتا یترگا یانتی تترتشتھا مینا ردہ ان کے ردے میں آنند روپسے میں چھلکتا ہوں پریم روپسپرگت ہوتا ہوں جو لوگ سمتے میں دو آہت پیر والا ہوں اتھ و بہر سے ہوں گا

وہ مجھے دور کرنی کی گذتی کرتے جو مجھے اپنے آتنہ مانتے چایتنگی مانتے بیان سو بھا ہوں مانتے میتے ستھا سکھا ساتھی مانتے وہ مجھے جلدی پرسن نکر باتے ہیں اور میرا پرساد با کروں کے بوددی بگود پرسادیا ہوں جاتی ہے ہر جن ہر ہوں ہر ہی مانتے ما مردا ہے بھیان پر بھتڑ ہو رہ varsa رہا رہا رہے ترى باہوان ہے تو کیان سروت تو کی ہوں گا آپ تو اتن ode وان دھی تو کیا وان افوائیں پھر بھی اتنی بھیر

کیوں ہونے ہوں لוק نہیں ani شہی ہو, لוק بڑھ رہی ہیں بگوان بھٹھ پڑھ پڑھ لگے تھے ایک ہو وہ کہاسی میں جیتے تھا میں بگیچھا میں ویٹھے کا میں رہتے تھے اور بھٹھ کے بہت سے شیتے لیکن پھر ان کے پیچھے اپسوہ اور گندگی ہو رہنے والے بھی لوگ بڑھ گے گے گے۔ اور یہ ہاں تک کی وہ پرسید دوے شاہ کے بودھے کے بودھ دوٹھ میری گے۔ بھیں ان کے ساتھ ہی رہی ہوں۔ ایسا وہ سوہم کہنے لگے اور لوگ بھی بول لے گے۔

پھر بھسانے کے لئے۔ آرود سمعے کے لوگوں نے بودھ پر لنچن لگا ہے اور ایتنا بودھ کی برنامی ہوئی کہ جہاں دیکھے بودھ کا چیلا بکشوکوں۔ بھرو دیوں نے پاپیوں نے لوگوں کو ایتنا نفرت بردی بودھ کے سیشوں کے لئے۔ گندہ ہے, ایسے ہے, ایسے ہے, ایسے ہے۔ کیا کی آلجان لگا؟ بودھ کے بکشوک کنی بار جانے سے بہت دارتے تھے۔ گندہی افتوان سے ایسے باتا ہون ہو گیا۔ پھر بھی گندہی افتوان کرنے والے کون سے نرک میں خطا ہو گیا, مجھے پتانیں۔ بودھ اور بودھ کے پیاروں کا تو ابھی بھی جیجے کار ہے۔ گرو اور گرو کے سیوکوں کا ابھی بھی ہوصلا بولند ہے جیجے کار ہے۔ کبیر جی کے لئے۔

بھرو دیوں نے آئیسا پھل آیا ہے، آئیسا پھل آیا کہ باپریو۔ اور بھرو دی بیٹھے اور انوں نے آئیو جن کیا ویسے آ کر کبیر جی کے گدی بے بیٹھیں۔ پاس میں۔ میرے ساتھ کو یہاں کے بیٹھنے کی مطنی کر ساتھ تھا۔ کیوں کی کاش کی کابین ہے۔ کاش کی کابین جو ہے۔ وہ تو کھلے میں بیٹھے تھے۔ کبیر جی۔ ایت نے آدونی کھ سویدھا نہیں تھے۔ جیجا رہا سہیوں کرے۔ تو کھلے اور پھر بند ہو۔ ایسا نہیں تھا۔ تو آ کے بیٹھیں۔ کھلے میں ہاتھ دلک کیوں رہے بلمان ہے۔ ہے۔ رہا ساتھ بھی ستھ پیٹھیں اور ابھی یہ ہی یہاں میں ہاتھے۔ ہے۔ انت نے میں کوئی باکتا ہوا آیا۔ کیوں کی کل دارو کی بوتر لگے تھے۔

حدادوں ہی پیہتا۔ پیسے بہجنے کو پھولے ابھی تک آئی نہیں پیسے۔ ابھی جیسوں کر دیکھنے لگے تھے۔ ایت نے میں تیس رہایا۔ بولے ایک سے اسی تو لے کا سیر ہوتا تھا۔ بھی چاستی تو لے کا کیل ہوا ہے۔ ایک سے ریمیٹھ لیا تھا۔ ہموطل آدی دی دارو کی حدادی پی ہوئی تھے۔ پھر کڑی مل گے لوگوں نے دیکھا کہہاں۔ لیکن بیٹھیں۔ کچھ لوگ کی سکنے لگے کچھے کچھے۔ لن بھی کتھا کرنے کا میرا ماننی جاتے گندی باتے۔ ایسے آپ فا جور پکرتے پکرتے پکرتے ہیں۔ کچھے کان کچی ماتی کچی گتی اور کچی وہ دیوالی لوگ سکسنگ میں آنا ماننوں گے۔ اور فا ایتنگندی جو رپکڑی یہ ستی پرگت ہو۔

اس کے پہلے آستی تو ماننوں دنیا کا چکر مارکے آیا ہے۔ سچھے چاہی پرگت ہو۔ اس کے پہلے کوپرچار تو دنیا ورکہ چکر مارن ہلتا ہے۔ ایسا عرام جدا ہے کوپرچار۔ تو کئی لو کوپرچار کے شکار ہو گئے۔ لیکن سلو کا ملو کا دطارا۔ کبھی نے کہاں بھائی دیکھو اب سب ایسا بھولتے ہیں۔ تو می چلے گیاں۔ بھولے گروجی، سچھ مجھ میں آپ داروبیتیں تو ہمارا کیا؟ آپ یہ کھاتے یہ کرتے ہیں، سچھ مجھ میں بھی کر کرتے ہیں تو ہم کو تو آپ سے گیان ملتا ہے۔ باکتی ملتی ہے۔ شنتی ملتی ہے۔

فائدہ ہوتا ہے۔ میٹھائی والاس میں میٹھائی نہیں کھا تھا ہو؟ تو کیا اس کی بڑھیا میٹھائی؟ نہیں کھیں۔ چتراکار کورو کو، دیکن اس کے چترا سندر ہے تو کیا نہیں لے؟ ایسے آپ کے لیجوبی کوپرچار کرتے ہیں۔ اور آپ ایسے وہ ابھاگے مانتے ہیں۔ تب بھی وہاں کے چرنوں میں بیٹھے تو آپ سے بھائیدا ہوتا ہے یہ بھی نکسان کر رہنا۔ نارائیں, نارائیں, نارائیں, دنیا جانتے ہیں کہ کبیل جی کی اتنی ساجشوں کے بعد بھی آج بھی کبیل جی کرورو دلوں میں پہنچے ہیں۔ کارونوں دلوں میں کبیل جی کی گددی ہے۔

لیکن کبیل کو بدنام کرنے والی ساجشوالے کون سے نارک میں ہیں۔ یا گھڑے بنے ہیں، یا کھڑے بنے ہیں، یا کھڑے بنے ہیں، یا کھڑے بنے ہیں، یا میرے کو پتانے ہیں۔ کبیل جی ابھی ہے۔ لیکن کبیل جی نے کہا۔ کبیرہ نندکنا ملو پاپی ملو حجار۔ حجار پاپی اتنہ طبعی نہیں کرتے جتنا ایک نندک کرتا ہے۔ ہاتھ ٹھوڑ جائیں۔ اتنہ گاتا نہیں۔ صرف ٹھوڑ جائیں اتنہ گاتا نہیں۔ پیر ٹھوڑ جائیں اتنہ گاتا نہیں۔ جتنا گاتا ہے شدہتہ ٹھوڑھنے سے ہوتا ہے۔ تو دو دو سنو کی شدہتہ ٹھوڑھنے کا پاہتک کرتے ہیں۔ میرے لوگوں کی بہوت ہانی کرتے۔ اسی شدہ دھاروپی رسدہرہ سے پرمات مطق پہنچکتا ہے۔

کبیرہ نندکنا ملو پاپی ملو حجار۔ ایک نندک کے ماتھ پر لاک پاپی بگو با۔ نار آینہ ہری نار آینہ ہری نار آینہ ہری نار آینہ ہری جنوں نے ایک بار بھی ستسنگ اسلنا ہے اتوہ ستشہاستروں کا سے دان تو سنجا ہے۔ ویسے بھاکت بہکایا نہیں جاتے قدم رب تے آگے تو پھر لاوت آئے نہیں جاتے۔ سچے گروبہت بہکایا نہیں جاتے قدم رب تے آگے تو پھر لاوت آئے نہیں جاتے۔ سالو کا ملو کا آئی ستے۔

رہاں کرشنان دے ہوں کو لوگ بولتے دے تمہارے تو تا پوری گروبہ یہ ہو ہرے وہ لے میرے گروب قلال کھنے جائے تو لے میرے گروبہ میں لے نندگ رہے۔ میرے گروبہتی کے لیے ایک بار کسی نے خالی بولا ہوت تو سپید کر۔ میں نے اس عمر آدمی تھا مہت بڑا پر سد تھا اس کے آشنگ ناشنگ میں نے پھر اس کے طرف آنک ہوتا کے دیکھ کھنے۔ اگر اس سے ہم ملتے اور اس کی باتوں میں آتے تو ہم احسو ملحی رہتے۔ احسار آم نہیں منگ باتے۔ میری دال کے حنمان گڑی کیا ہوں مالک؟ حنمان گڑی ایک سنستا ہے۔ اور کینچی وہاں ہمالے میں ہے۔ کینچی علاقہ نہ ہو۔ اُدر ویونھ کے آشنگ درابان میں بھی ہے۔ تو بڑے پر سد مہت ماتے اور ہم گڑی کیا ہم تدیار کرتے تھے کہ آدہیں گے کلہیں گے۔

اور مون کے دالو بال کے درام پیلے تھے کہچی پکی۔ جادہ پکائیں تو کہ روسن کھتا منایا۔ تو دی کہچی پکی پیلے تھے۔ میرے چلو آدی اُدری چلتے ہیں۔ آدے جس بجے ہوں میں۔ تو ممت مات کو دیکھیں۔ ہم گڑے تو۔ اے گرم چھاری اے کتھاری ایم مہت مائے ہے مناہرے میں جر حلوہ بنا دو جرہ۔ اگی کی پوی بنا دو مندگ کو کلی میرے دال کرنا تھا۔ میں سوچہ دال کھا کھا کے تو بود دن ہو گے۔ ہونے دو حلوہ پہنے باب کا کیا جاتا ہے۔ ہوا مناہ برطال والا گا اور ٹھا کورجی نے بھگلہ رایا۔ ٹھا کورجی نہ ٹھا کورجی کو بھگلہ رایا۔ اور وہ لے برم چھاری جی کوچھ سنا ہوں۔ تو میں نے گیتا کچھ چکتے ہیں کہ کس لوگ سنا دے سنا دے ہاں کھوں میں۔

بھاؤں، دھارہ بہیں، بھاؤں تچا بھاؤں، تو آپ کہا رہے تھے ہوا ہے۔ تو میں نے کہاں میرے گرو دیو کی جگا کھنام لیا۔ تو اس کے موپر تھو ریسی امولی آگئے propha آچھا ہو سترایت قپنے میں him میں نے ہیں ہواں کھناتtim α remove کروں کو نے چلڑیا müssen کر چلڑیا rud风utch دوب demás رہوں کو μونگ reboundSH كالا برا عenessمائی כשיו کو پریصی دائی but a stray کلگ رہی μεرے گرو دیو کی پرRT جو میری ست Mama کو حیلانا چھا تھا ہوا جا کے پریனرام بھی دے ہی تجی کوٹی وائریں سمیدھ دیپی پرامس نے کروڑو ویری کے برابہ ہے, دیپی پرامس نہیں ہے لیکن میرے ایشت دیو سے میرا

دن توڑنے کی کوشش کرتا ہے, نہ چاہلے, ایش سے تو کتہ چاہ, کتہ جسگر کا کتہ ہے وہ سمالیک کو مالیک کے پریور کو نہیں کتہ, کتہ پاغل ہو جائے تو جگا چھوڑ کے باہر جائے گا لیکن مالیک سے بے ہواہی نہیں کرے گا اور ہم جیس سوانی کے آ رہے ہمتھا دے کہ ہوں کو یان کے پریشوم سے دو جنم جنم کے پاپ میں تانے والیوانی سنے یہ بھی تو خوراک ہے نا, مو سے کھیا یہ بھی خوراکے کنوں سے امروط پان کرتے بھی تو خوراکے تو ہم نے ان کا نمکھایا رہا ہم ان کی گیسی بیٹی بعد سنے تو ہمارے سے تو کتہ چاہ, اس جگا سے چھوڑے دے, مو موڑ بھیا

مو موڑ بھیا

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →