Jan 26,2026 Monday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 187
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
190 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 26,2026 Monday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 187. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
ëOm sri sathguru parmaatmanenama, sriyoga vasishta maharama, nirvan prakara, sarga ek savsatiasi. Vastishri ji volehiram ji, bez Meatyag rouge جب ان کی مورتی ایسی دیکھنے لگی، جیسے کاغچ پر مورتی لکی ہوتی ہے۔
انھیں شمپون جگت جال کا گیان بل گیا۔ دیوی بھی اسی پرکار پدماثان باندھ کر برمہا جی کے نششے میں لین ہو جانے لگی۔ جب برمہا جی نیویدہ رو برمہ میں لین ہونے لگی اس سمجھ جتنے اپضراؤ تھے سب ادای ہوئی، منوش پاپ کرنے لگی۔ ایسٹریا دورا چارنی ہوگئی، سب جیوی نے دھرمہ کو تیاگ دیا۔ کامی پرش بہت ہوئی جو پر ناریوں کے ساتھ بھوک کرتے تھے
اور پرش ایسٹریا کسی کی سنگ کا نہ کرتے تھے۔ کام, کروض, لوگ, مو, راگ, دویس, بڑھ گئے اور شاستر کی مریادہ تیاگ کر لوگ, ایسٹر واضی ہوئی، ورسا بند ہوگئی اور کهرہ پڑنے لگا۔ دوسکال پڑا دوسٹجن دھن پاتھ رہونے لگے۔ دھرماتمہ اپدا بھوگنے لگے، چور چوری کرنے لگے۔ راگہ مدپان کرنے لگے۔ جیوں کو بڑی دک پر اپت ہونے لگے۔ ویتینوں طاپوں سے جلنے لگے۔
راگہوں نے نائی کو تیاگ دیا۔ نیدان جو پاپ آچار تھے، وی ادای ہوئے اور دھر میں چیپ گیا۔ اگہانی راج کرتے، پندیت گیانی تہل کرتے، دورجنوں کی مان پوجہ ہوتی، ست پندیتوں کا نیرادر ہوتا۔ جیوں کے سموی قتھے ہوئے اور پریتوی نے اپنی ست تا کو تیاگ دیا۔ کیوں کی پریتوی برمحا کے سنقل پمے تھے۔ جب انہوں نے اپنا سنقل پاکھیچا۔ تو وہ نیرجی ہو گئی اور چی تنطان نکل گئی۔ جو ایستان بھوتو کے بیچرنے کے تھے وہ کھائی کی نائی ہو گئے۔
بھوت نشت ہو گئے اور پریتوی بھی نشت ہونے لگی۔ پروت کاپنے لگی۔ بھوچال اور حاکار شب دھونے لگی۔ جیسے سرت کال میں بیل سوک کر جرجر ہو جاتی ہے۔ ویسے ہی پریتوی جرجر ہوئی۔ کیوں کی چی تنطان روب سریروں کا اور سب جگت کا کارن برم ہے۔ جو جو سنقل پر روبی چی تنطا چھن ہوتی گئی۔ تیوں تو پریتوی جرجر ہوتی گئی۔ جیسے کیسی پروس کا اردھاگ مارا جاتا ہے۔ تو وہ انگ شو ساہ ہو جاتا ہے اور فورنا اس میں نہیں رہتا۔ ویسے ہی برمہ کی سنقل پر روبی چی تنطا پریتوی سے نکلتی جاتی تھی۔
اس کارن پریتوی دکی ہوئی۔ دھول ارنے لگی اور نگر نشت ہونے لگی۔ اس پرکار اپدرا ہوئی۔ کیوں کی پریتوی کے ناس کا سمین نکت آگیا تھا۔ سمدر جو اپنی ماریادہ میں اس تھے۔ اُن ہونے بھی اپنی ماریادہ تیاغ دی۔ جیسے کامی پروش مدپان کر اپنی ماریادہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ ویسے ہی سمدر اچھلے کنارے گیر گئے اور پروت کندرہ سے نکل کر پریتوی کا ناس کرنے لگے۔ راجا اور نگر واسی بھاگنے لگے اور اُن کے پیچھتی بربرےگ سے جل چلنے لگا۔
بڑے پروت گیرنے لگے اور چکر کی نائی گھومنے لگے۔ سمدر کی لہروں سے پروت گیرتے اور اُدتے تھے۔ لہرے اُچھل کر پاتال کو گئی اور پاتال کا ناس ہونے لگا۔ بڑے رتنوں کی پروت جب گیرے۔ تو رتنوں کی ایسی چمک ہوی جیسی طارہ مندل کی ہوتی ہے۔ اسی پرکار بڑا چھوب ہونے لگا اور ترنگ اُچھل کر سوری چندرما کی مندل کو جانے لگے۔ اُن کا پرکاش جاتا رہا بڑواغنی پرگت ہوئی، تب ورون کوبیر آدی دیوطاؤ کی وحاندری، جل کی ویگ سے پروت نتکرنے لگے،
مانو پروتوں کی پنکھ لگے ہیں۔ سورگ کے کلپتروں سمدر میں گیر پڑے۔ چنتا مانی، شد اور گندھر وہ بھی گیرنے لگے۔ سمدری قتھے ہو گئے۔ جیسے گنگا، یمنا اور سراشتی ایکتر ہوتی ہے۔ ویسے ہی سمدر بھی مل کر، شبد کرنے لگے۔ اُن میں سے ایسے مچنکلے جن کی پوچھوں کے لگنے سے پروت اُژ جابی۔ کندھرہ میں جو ہاتھی تھے، ویچھیں گھارنے لگی۔ اور سوریے، چندھرمان، طارہ گرنے، شوب کو پروت توکر، سمدر میں گیرنے لگے۔ حیرام جی، اس پرکار پر لئے کے شوب سے جتنے لوگ پال تھے۔
ویسے ب سمدر کی مکھ میں آپڑے اور مچھ ان کو بھخن کر گئے۔ ترنگ آپس میں تکرانے لگی، جیسے مطوالے ہاتھی سبد کرتے ہیں۔ ویسے سٹجی بولے حیرام جی، اس ویرات روبرمانے جس کی دے سمپون جگت تھا، اپنی پران کو کھنشا۔ تب نچھتر چکر کو گھمانے والا ویو۔ اپنی مریادہ تیاگ کر چھوب کرنے لگا اور ویچھکر نشت ہونے لگے۔ کیوں کی برمحا کے سنکل پمید تھے۔ کسی کی سامر تھے نہیں کی ان کو رکھے۔ تیجو میں دیوتا جو پوان کی آدھار تھے۔ پوان کی نکلنے سے نیرادہار ہو کر،
سمدر میں گھرنے لگی، اور جیسے ویچھ کی فل گھرتے ہیں، ویسے ہی گھرنے لگی۔ جیسے سنکل پکہ ناس ہونے پر سنکل پکہ ویچھ گیرتا ہے اور جیسے پکہ فل، سمپر ویچھ سے گیرتا ہے، ویسے ہی سب گھرنے لگی۔ سمیروں کی کندرہ گیری، پوان کا بڑا چھوب اور شب دہوہ، جیسے پوان میں تل گھومتا ہے، ویسے ہی آکاش میں پوان گھومنے لگا۔ دیوتاوں کا گھر سمیروں پروت بھی گیر پڑا۔ رامج نے پوچھا ہی بھگوان۔ سمکل پروپ جوبرمہ تھا، وہتو بیرات آتما ہے، اور سب جگت اُس کی دے ہیں۔
اب بتایے بھو مندل، پاتال، اور سورگ لوگ اُس کی کون انگ ہے اور سمکل پروپ کیسے انگ ہوتے ہیں۔ سمکل پتو آکاش روپ ہوتے ہیں اور جگت پرتیک چھپینڈا کار دیکھتا ہے۔ جو جیس سے ہوتا ہے، وہ ویسا ہی ہوتا ہے۔ تو یہ جگت برمحا کی انگ کیسے ہیں؟ ویسے اشتی جی بولی حیرام جی۔ یہ جگت سے پہلی کیوال چین ماتر تھا اور اس میں جگت ناصتیتا نہ اصتیتا ہے کیوال آتماتر اپنی آپ میں اشتیت تھا جیسے آکاش اپنی آپ میں اشتیت ہے
اور ایک اور دو سبд سے رہیت ہے اس کیوال چین ماتر کا کنچن احم ہو کر اسیت ہوا ہے اس کا دریش سے سمبند ہوا اور اس کی انووہ گرحن سے جونیشتے ہوا اس کا نام بود دھی ہے جب منن ہوا اس کا نام من ہے اس من کی فورنے سے جگت دریش ہوا ہے حیرام جی شد چین ماتر میں جو چیت تھی ہے وہی برمحا کہتا ہے اس کے فورنے پر فیر جگت ہوا ہے اس سمقل پروب جگت کا وہ بیرات ہے
پرنتو آکاش روب ہے اور کچھ نہیں بنا یہ جو آکار سہیت جگت دکتا ہے سو برمسی پر سب سمقل پا آکاش روب ہے جیسی سوپن میں جگت دکتا ہے سو سب آکاش روب ہوتا ہے پرنتو ندرا دوس سے پینڈا کر بہاسیت ہواتا ہے اور آتمست commence جوا کی تیو و const exhibited حیرام جی aham jufura hai vahmithya hai, aggyaan se dhrin istit hova hai, aur asa meag darsi ko dhrin bhasit hota hai,
sokeval sankal pamatra hai aur kuch nahi bana, icse jitna jagad bhasta hai, so sab chida kaash hai, ic aur dvait kalna sab sabdhu siri, atmatat tumatra hai, me aur tum shabd koi nahi, yaha jagad unka kinsan hai, jai se suri ki kirunom e jala bhas hota hai, waise hi atma ka abhas jagad hai, sankal pakidridhata se ihadri shdhikta hai, per vastaume hai nahi, jai se sankal parup gandharvanagar aur shwapna purhote hai, waise hi ihad jagad hai,
he Ram ji, jis prakar mehne jagad kavernan kia hai, ushe jo purus meri kahe ki anusar, jo kahti o dharan karin, to uski vasana nashta ho javi, aur purvavat atma jo kahti o bhasit ho, tab jai se jagad ki, adi me atmatat tumatra tha, waise hi bhasit ho, ki, aur kuchu hua nahi ki, waal atmatat tumatra jio kahti o ishid hai, jo atma hi hai, to samaya aur karan aur nimit karan kaise ho, jagad ka uday aur naas hona asat hai, aur adweth aur anant kahna bhi theeg nahi,
jav sab shabdho ka abhao hotha hai, tab param chida kaash anubhav satta hais seis rahati hai, ishi ka nam moch hai, he Ram ji, moch ko to abh bhi samis satta haib haisit ho, hai, me shuddho ho, sab kalpana se rahit aur chida kaash ho, moch me jo vasist aham pura hai, wa pura nahi, puri ki nailagta hai, aur atma kahi kinshan hai, huwa kuch nahi, ishi tum bhi ishi prakar jag kar nirvasni kho jao, aur apne prakrit aachar ko karo atva na karo,
jo ikcha ho sokaro, parantu karne aur na karne ka sankal pamatkaro, aur param maun me ishi to hora ho, gyanmaan ko yehi anubhav hotha hai, ishi tum bhi ashi hi samjho. Hare yo, Hare yo,
Hare yo, Hare yo, Hare yo, Hare yo, Hare yo,
Hare yo, Hare yo,
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 16,2026 Wednesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 16,2026 Wednesday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Sandhya...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 16,2026 Wednesday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 15,2026 Tuesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon Shrimad Bhagwat Geeta Maha G...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya