Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 26, 2026

Jan 26,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 26,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

1,204 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 26,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 26,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

now we are listening to what is going on in any case. Rahmita &2 I hope you all will be very happy. Vaate is good in sitting inside. Gurish Alex by Thish attracts a fabulous man. Now listen to our religious정 carrot like this, kao bmita! Currently, we are listening this jaaati in important続. Maorus is there, from where will Ki Dhauram be at? applauded クizesBLEEP �트 h proces dhāna dhāna d]. d He chi stakes can speak for you.

13. 5. 6. 9. 7. 8. 8. 9. 8. 9. 10. 8. 11. 15. 10. 10. 8. وہ تو ابھی بھی کو ایک سنت تھے وہ کر کے لیکھانے تھے تھے تو رے دن پیلے ہیں کا سریشان تھے دھیر مارت یا پیل میں گھا گھا دوسرا دھیر مارا تو پانی پانی ہو گیا یہ سب ہوتا ہے را جا او دنا رہیں گے پوچھا تھا ہوں سے مصودھان دھا بھی انگا شندہ ایک آشی میں سوڑیوی گیان جانتے تھے نابی میں سے کملنگ آل کے دیکھا ہے

کی بھندگا مصدنگ آمرے تھا ام نابی سے کملنگ آل سکتے دو مصدنگ دھا بھی سے کملنگ لاؤس میں سندہیمت کروں کری انگریز پرکسہ لے نکو ہے پھول رہ تھے گولہ بھی مولے دیکھیں کیا ہے مولے گولا کر گولہ نے گولہ یہ موتیا ہے موتیا کے بندگ بعد ممانے جاؤسوں سے مندگا ایسے کیا یہ مائا ہے ایک پر کارکہ بھی دیا داز کا ٹور کے دیا کوئی بھی ماری ٹے گھو جا ہے ایسے کے بھی شریع نہیں رہے یہاں بہتے بیٹے رہے ہیں دور کے بات مات مات مات مات مات تمارے کو کیا ہے دیف کے باتانے اور کات پھر بھی کیا ہے دو راج

وہ چھانوصر روب دھارن کر سکتے ایچھانوصر روب دھارن کرتے تھے ایچھانوصر آکاش میں وہ چھانو کر سکتے تھے بے بھی نہیں رہے تو ہابیں دھار دیب قدت کر رہوں گے ان کے بھی تج اور پرتاپ بڑھے ہوئے تھے butu kaal ne, ان کا بھی سنگھار کرے گیدہ Samai ne, ان کو بھی نہیں کر دیا جیسے آپ کی جوانی کو Samai ne, نہیں کر دیا butu pan ko, Samai ne, نہیں کر دیا jawani ko, Samai ne, نہیں کر دیا butaapre ko, Samai ne, نہیں کر دیا Samai saap ko, پساکھا پر دوسلے ہیں ھاکھ کر, حدی jas din tum he, اس پریتھو اپھوبھوب کے بعد تیагنا پڑے گا اس دینتم اپنی پربالشوک کونہ دباسا کو گے اگر اس کو سچا مانتے ہو تو جب یہ تیагنا پڑے گا تو پربالشوک ہو گا

بڑا دوک ہو گا موچھے دوک نہیں ہوتا جب آسکتی کی کارن دوک ہو Τا موچھ دوکھ کی لی نہیں ہے موچھ دویشور کی سندر ویلوستا ہے پورنا چھولاٹا کی نیا. New experience, New animal. موت کی کارن دکھ نہیں ہوتا. اس کسم چھوڑ جائبہ اس کا کیا ہوگا. میں رکھا ہوگا. اب جان کی کارن دکھ ہوتا. جا مارنے تی جگ دری موری منا آنندکب مریے کبھ ملی پورو ایک پڑا مادند. اپنے آہم کو ماردو بیچار کر کے تو پوراں پوروش کوئی مل جاؤ. باکی تو یہ باہر کی موت تو بیچھا نہیں چھوڑے گی. ایسے دنگ سے مروکے موتا ہے اس کے پہلے اپنے مائے کوئی اس فرمان دواتیکس. مرو مرو سب کو کہیں مارنانا جانے کوئی ایک بار ایسا مروکے پھر مارنانا کوئی. جبتا جی ہم نے گروتتوام اتمتتوام میڑی دو پتیگو پارا ہے.

پھر موت کے سمع بہیں نہیں ہوگا. اور پھر دوارہ موت نہیں ہوگی. ہمار جیوان کو پارے. ہمار پد کو پارے. جان سے پھر گیرنا نہیں ہوتا. یادگتوانی ورطن تیتدھ دھامہ پر ممہا. جا جانے کے بعد پھر گیرنا نہیں وہ میرا پر مدام اتمتیتا. اتمسوک ہے. ابی بھی ہے ساتھ نہیں ہے. تو سرید کو ممانتیس لیلتا کیا مر جائیں گے چھوڑ جائیں. سرید تو ہم ہی نہیں. دو ہم ہی وہ سرید نہیں جو سرید ہے وہ ہم نہیں. ہاتھ میرا تو آپ ہاتھ نہیں ہوگی. صر میرا تو آپ صر نہیں ہے. من میرا آبود دی میری. دویسا پر کرتیگی دیوی چیز ہے. آپ امساک کا وپیوگ کر کے چھورنگے لیے. ابیو کر کے اپنے آپ کو پانے کی لیگر تیپی آئے.

دیو راج بیشے بھوک کی چھا چھوڑ دو. راج لکش میں کے گھمنٹ کو تیاغ دو. راج لکشنے کا گھمنٹ چھوڑ دو. سنسار سے مجھلے نہیں کی چھا چھوڑ دو. سنسار کا بھوک کرو. ابھو بھوگنا کرو. انت رات ما کہانا دلو. ایسا کرنی سے تم اپنے راج کے نشت ہو جانی پر بھی. اس کے شوک کو دہری پروبکسہ سک ہوگے. اہ اس کا دامان نہیں کرو. تو جب چھوڑ جائے گا تو دہری پروبک دکسہ سک ہوگے. ایک دن تو ایساے گا سک چھوڑ جائے گا. تو ابیسے اس کی ممتا چھوڑ دو تو پیر اس کا پیرا نہ ہو. اس کی واسنا نہ ستا ہے. اس کے چینتن میں پھر بٹکان نہ ہو. جیو ایسے کہ جیتے جی مرنی کی کلا ہو جائے. جو ٹھیک سے جیے گا مرنی کی کلا ہوگی تو پیر امر ہو جائے. دیارہ دیارہ سک میں یہ ہے.

دیارہ دیارہ دیارہ دکھمیں گا برات نہیں. گوشر نگویں گا. اپنے امر پد کو سمعیاد کرو. روک شوک بھی ماری دک کے سمعی بھی کوئی نردک نہ رہیں تطب ہے. اس کو جاندہ ہو. انڈر شوک کی سمعی شوک نہ کرو. ہرشکہ اوصر آنی پر ہرش سے پھل نہ اٹھو. اس قتو ستکلی ایک شما کرنا. اب دیار نہیں ہے. تم پر بھی کال کا کرمڈ ہو نہیں والا ہے. اب دیار نہیں سمعیت تم پر بھی گوشرے گا دو سال پہنس آد دو سال پہنس آد میں تو کھر سی چھونی بھر تیاس کلتے. ابہاں سال میں سے کتنے سال تو گوشرے گا ہے. اس سمعی تن بڑے بڑے مارتی سوٹے گا ہیں گے لیکن وہی ہار جاتے بچہ رہے. کئی امپی ہار جاتے مینسٹر ہار جاتے. سینٹرگر مینسٹر ہار جاتے. ٹرائی مینسٹر ہار جاتے.

اپنی پارٹی ہار جاتے. ہوتا رہتا ہے. اس لیے تو چنچہ لستی تھی ہے اُس پر کوئی اترانی کی جو رہت نہیں. دیو انڈر پگ بھی ایسائی. سنسار ایشور کئیس ہار کوئی بھی پہنے ایسائی. اس سمعی تم اپنے تکھے وچنوں سے مجھے چھے دیوڑھے ہو. میں شان تھو کر بیٹھا ہوں. اس لیے تم اپنے کو بہت بڑا مان رہے ہو. کن تو یاد رکھو جس کالکہ مجھ پر دھاوہ ہوا ہے. وہی تم پر بھی چڑھہی کرے گا. دیویتا ہوں کہ ایک ہجار ورش پونہ ہونے تک ہی. تمہیں انڈر ہو کر رہنا ہے. دیو انڈر تم مجھے جانتے ہو. اور میں تم کو جانتا ہوں. پھر میری سامنے لاج چھود کر اتنی دین کیوں ہاکتے ہو. جب میں راجت ہا. اس سمجھے پروشارت دکھا چکا ہوں.

اس سے تم اپنی ارچیت نہیں ہو. کیبار کے یدھوں میں تم میرا پراکرم دیکھ چکے ہو. ایک ہی درشتانت دینا کافی ہوگا. پہلے جب دیوہ سورسنگرام ہوا تھا. اس سمجھے کے بعد تمہ بھلی نہ ہوگی. میں نے ایک لے ہی سمست آدیت کیوں. ردروں, ساتھ دھیوں, وسوں, تتھا مرود گڑوں کو پر آستکیا تھا. میری ویگ سے دیوطاؤ میں بھگدڑ پڑ گئی تھے. تمہرے سیر پر بھی پر وطوں کی کتنی شکھر پھر دالے تھے. کین توی سمجھ میں کیا کر سکتا ہوں. کال کا اُلنگھن کرنہ قتھین ہے. تمہرے ہاتھ میں وضر رہنے پر بھی میں کیوہل مکھے سے مارکر تمہیں موت کے گھات ہوتار سکتا ہوں. بھگی وقتاکت رکھتا ہوں لیکن اگی ہمارے اُطرتا پانی سہنے کے دن ہے اور تم رایا بنے رہوں.

دیوندر, میری لی یہ پر آکرم دکھانے کا نہیں شما کرنے کا سمئے ہے. اسی لیے, تمہرے سب اپراد چوب چاپ سہلے تھا ہوں اور یہی وجہ ہے کی تم اپنی جوٹھی بڑائی کیا جا رہے ہو. جیسے منوشیر رسی سے کیسی پشو کو بان لیتا ہے اسی پرکار بھیں کر کال مجھے اپنے پاس میں باندے کھڑا ہے پروش کو لابھانی سکھڑک کام کروڑ جن ممران اور بندھان موکش یہ سب کال سے ہی پر آپت ہوتے ہیں. کال منا سمئے کی دہرام ہے. جو کال کے پر بھاو کو جانتا ہے và اس سے کشٹпа کر بھیں شوک نہیں کرتا کیوں کی دکھ دور کرنے مαι شوک سے کوئی صاحیتا نہیں میلتے یہی سوچ کر میں شوک نہیں کرتا ہے اِضمی ہو نی

یا نچانتا دکھ سمئے دکھی ہونے سے دکھ میٹھانے دکھار برتا ہے لیکن سمجھ personneے سےauto قپر بہQue 恪his resolute ki ki runo ifer noeme saa kung ku ng f karate te para ka پہلے اپنے چکھتا کو پر مات مہ مہ لیا کان بیہ رہوں نے لگیاں کن کی روشتی کاموں نے لگے اُس کے پہلے انڈر گیازوں کی آہ کے جگادوں بس موڑے ہو جائے گئے کہہ کو دوکھے میں رہوں کہہ کو کس کی بات دیکھتے ہو جس کی بات دیکھتے ہو بھی تو جانے والے

کون بیٹھے کون باپ کون باپ کون ساکھا کون میٹھرکون اپنا کون پر آیا کس کا بنگ بلنس ساتھ میں گیا بنگوہ لے کھڑی بیٹھا رہے چھولے کے مرضیاتے مہاہاں سے بیٹھے پوالچھا گئے کتنی دی پوالچھے پوالچھے پوالچھے سو امران کیلت بودتے تھا آپ اپنے نکھا اور روم روم کا میمہ اوٹ روالوں پھر بھی اپنے شجنت نہیں جی سکتے میری ہاوس کا میمہ ہے کار کا میمہ ہے کلا نا میمہ ہے میمہ ہے میمہ ہے انسورن سنسورن سے پھر بھی کیا ہے جب تک تک تک تک تک تک تک تک تک تک تک تک

کار کا میمہ ماراں بھی لیکن لوگ کہاں کراتے تنسورن سنسورن سنسورن ہم کم لوگوں سے لیادہ سوکیت کوئی جاروری میں ہوتا جیردہ رہاں تنسورن سنسورن سنسورن ہم نہیں جانتیس مستیس اسلام سورنستو اپنے پر مات ممیچکلے ہوا پھر بیسی بھی پر استیتی ہوگی وہ انسورن سو سمیں گیش ہو جاتا ہے جنگلوں میں بھی موسی باتوں میں یروگوں میں بھی سورن دن گیش ہو جاتا ہے سائن بھی نہیں کر نہیں پرٹے اور بیسے لیکن مدار بھی نہیں جانا پر تا سب تیار ہوگے سوج بو جاہیاتے

موسم بضلا ہے بوک کم ہو گی ہے جون پرست گھیا تو کچھ کالیں بہل تو ہا بھی لیکن کبت کریں گے کوما ہے کالیں بات لیکن مدار بھی کبتک کچھ منایں گے باکھوں گال بھی جون پرست کا چمت کالیں کالیں کالیں باکھوں چھوڑے چھوڑے پر بھی لیکھ بڑے بھی ہو گیاں لیکن کبتک کالیں بھی جل جائیں گے سپڑھیں گے سپڑھیں گے جوانی میں گئے تد بھی بھی گھوڑا پے بھی گئے کالیں بھی پسار کر رہا بس ایسا سمجھوں کے تو دکھ نہیں ہو گیا ایسا نہیں سمجھوں کے گیارہ رہی ہو گیا اور اور اور اور کائے کو ایسا کئیں سمی سے ہوتا ہے رہا مگہو رہا مگہو رہا مگہو ہوتا کو بہو پریوار کہہنا نکہ تھیر کچھوں میں سپڑھیں جو سنسہ

بلی کے اس قتھن کو سنکر انڈر کا قروض اُتر گیا ویشانتھ ہو کر بھولے تیتراج میرے ہاتھ کو ودر سے ہیت اُپر اُٹھے دیکھ کر مارنی کی اچھا سے آئی ہوئی مرتیو کا بھی دل دہل جاتا ہے پھر دوسرا کون ہے جو ویتھت نہ ہو کیون تو تمہاری بودھی تتو کو جاننے والی تتو کو سار کو جاننے والی مرتیو سے درے نہیں میں تمہے ودر لیکر مہارنے گئا ہے اور تم چوں کے کیوں کھڑے رہے گئر میرے کو یہ سنا دیا تمہاری بودھی سار تتو میں دیکھئے اسی کا چمتکہ اسی کا پر بہا ہے چمتکہ رہن نہیں ملا ہے تمہاری بودھی تمہاری بودھی تتو کو جاننے والی اور اس تھیر ہے اسی لیے تنک بھی ویچلیت نہیں ہوتی اس میں سندہ نہیں

کہ دہری کے ہی کارن تمہے گھگرہات نہیں ہوتی دہری کے کارن تمہے گرہات نہیں ہوتی اور تتو کو جانتی اور سچائی کو جانتی اسی لے تم مرتیو میں ودر لیکہ ہاتھو پر اٹھا کرتو مارے کو مارے کو آیا اور تم نے میرے کو دہری اپن اکنیش چنطنیر بھی کو کر سار بہت سمجھا دی تمہارے بودھی پر مات ماتتتو میں جان کے اس اور عدشتان میں جو مان کے چنچلتا کو بھی جانتا ہے اس چنطتا کو بھی جانتا ہے بودھی کی مانتتا کو بھی جانتا ہے اور تکشنطتا کو بھی جانتا ہے اس تکتو میں تم تکیو لیکر آتھو بھی بہت ہم چیستے گئے بلی باستو میں کال کا کوئی پریحر نہیں ہے اس کے اُلنگھان کا کوئی اپائے نہیں ہے کال سب پرانیو کے ساتھ ایک سبورتاو کرتا ہے

وہ دین رات ماز کشن کاشتا لو اور کلہ تک کہیساپ کر کے پرانی کو پیرا پنوچاتا رہتا ہے جیسے ندی میں اچاناک آئی ہوئی باڈ اپنے ویگ سے کنارے کے ویگش کو توڑ اکھاڈ کر بہا لے جاتی ہے ایسے سم ایساپ کر لے جاتا حیرام جی جب ایسے دھرمتما کو بیوے کروپی دیگتا ہے یہ بھگو آنرام کے گرودے رامجی کوک دیس دیرے ہم لوگ رامجی جیسے تو نہیں ہے لیکن رامجی کو جو اپریش ملاو اس سننے کا سواباگے تو ہمارا ہو رہے ہم حیرام جی جب ایسے دھرمتما کو بیوے کروپی دیگتا ہے اتما روپی مڈی ملتا ہے تو اس کی بڑھائی سمیرو اور سموڑ رہ اور آکاش سے بھی ادھیک ہو جاتی ہے

جب بیوےک سے سموڑ تتوکہ پرکاش ہوتا ہے تو سنسار کی توچھ بردتیوں میں نہیں دوبتا ہے حیرام جی وہ مہا شانت پد میں ستیت ہو جاتا ہے وہ چاہے اٹھ کڑا ہو یا بیٹھا رہے اُدھائ ہو اتوہ استو ہو بڑے بھوگوں میں رممن رہے اتوہ ون میں جا کر بیٹھے اتوہ مدیفان سے اُنمت ہو اور نردتے کرے اور گیا آدیک تیرتھوں میں نیواز کرے اتوہ کندراوں میں نیواز کرے شریر کو اگر چندن کا لپن کرے اتوہ کچل کے ساتھ لپیٹے دے اُس کا ابھی گیر پڑے اتوہ کلپ پرینتا کرے کنتو اس پروش کو قداشت بھی کوئی کلنک نہیں لکتا جیسے

سووان کے کو کچھر گیر لہے اتوہ مپر میں اس ورکتک سے جان لیا او چاہے سمادی کرے چاہے ایکانت میں رہے چاہے ویوار کرے چاہے یود کرے چاہے مدیفان کرے چاہے نردتے دیکھیں کے لیو اس کو ایک بہر سرچے سرو بیش اور تانوں بہنے جا کے بعد اس کو کوئی کرمہ دن نہیں ہوتا کوئی لیپ نہیں لکتا اسی بات کو گروانی نے کا برمگانی سدا میر لیپا جیسے جل میں کمل آ لیپا سمرت کو نہیں دو شکو ساہئی تلسی دا سدمی کا ایک بار ایسا پرمات مقانم بھو کرلو پھر آپ پنیپاپ میں دوب ہوگے حیرام جی یہ دی پر لائکال کا پاوان چلے اور پوش کر مگ کی ورشا ہو جائے بڑواغنی لگے اور دوادر سوریت

تپنے لگے تو بھی ایک سیک شوبہ میں بھی چلائمان نہیں ہوتے کیونکی بے سب برمس سروب جانتے ہیں جو جرہ جرہ مات میں دکھ میں چینتا میں دوب جاتے ہیں ابھی ہو ساہدہ کونے کی نام کو ساہد تک نہیں کرنے نام ساہدہ کر ساہدہ اور سنساری سنساری وہ ہوتا ہے جو ساہدنا توری بوت کرے اور سنسار کی پرستیٹیوں میں اولج ستارے اس کو سنساری بوتے اور ساہدہ کو اس کو بوتے کہ ساہدنا کا گیان مقئے ساہدنا مقئے سنسار میں تھوڑا بوتے تو سنسار کا ایک دکھ رہے تو چھوٹ نہیں ہو تو ساہدک ہے اب چھوٹ گہری ہوتے تو بھی سنساری دو بھی ایسے اوپر سے نام رکھ دیا ساہدک ساہدک

ساہدک کے لکسر وہ نہیں ہوتے جوٹ کرے کپٹ کرے جرہ جرہ بات میں بیمانی کرے پلائن واضی کرے وہ ساہدک نہیں ہو تو سنساری پلائن واضی تو سنساری سے بھی گیا بھی دا یہ شورکے رستے چلے تو درادتا سے چلے جاب کریں تو پلائن کرو کرنا حرام جی ان کا جینا ویر برتا ہو جاتا ہے وہ کہنے بھر کو چیتنے ہیں اصل میں پاشان کی شیلا سدرش ہوتے ہیں جیسے باوندر میں اڑا ہوترین ستھر نہیں ہوتا ہے ویسے ہی دے ابھیمانی کبھی بھی شانتی نہیں پتا ہے اور جین پروشوں نے آتم اناتم کا نرنے کیا ہے اور آتمہ میں آحم پرتیتی کی ہے وہا واسٹوں میں محاپوروش ہے اور اُسے میرا نمسکار ہے بگوہ نام کے

گرودے ہو کہتے جس نے پلی آتمہ پر محاپوروش ہے اس کو میرا نمسکار ہے کیا نمرتا کی مورتے دے دلاغ سالجی درتی یو کر کے سمادی کر کے دیت جانیتے دے دلاغ واسٹوں میں واسٹوں میں چون رشی ساٹھ ہیار ورستکتی پر محاپ پر محاپتی ہو جہ پھے ساٹھ ہیار ورستجی ساٹھ سالجی ساٹھ دنجی تو میجینا ساٹھ تک ہوگے یعنے شرمانان بائی سالمی چلتے شنکر اچھارے وان چتھی سالمی چلتے بے کنندمی ونجالی سالمی چلتے ورکوی دک گیتے وہ لوگ محاپر شلو درگی زیوات کے لی نائے کوش بن جاتے سر مون ایکانت

اور ایسی ونس پتے بھی ہوتے ہوگے اور ہر بیسے ہوتا ہوگے مح riesا ہے رامجی جسم اس papier Richter اس کا لیر اس کا لیر پیج بن جاتا ہے dessus و نست اس کا لیر اس کا لیر اس کو ایکانت اس کا لیر اس سے اس کا لیر اس کا لیر اس کا لیر دو کے دے دے تھے وہ بھی پر ساد ہو جاتی. ایس آتنگتگت پر بہوے پر ماتک. سو لے جناہ دے رتڑے تنگ دینا دے پاس دولی انا دی جے ملے نانگ دی ارداز. ایسے کی دولی بھی مل جائے تو نانگ جی بولتے ہم ارداز کر دے چھارکتے.

نانگ دی کتنے نمرتا کی بات بولتے. حرام جی جس نے آتنگ روپی تیرث میں سنان کیا ہے وہ آتنگ کو بھی پویتر کر دے تھا ہے. جس نے آتنگ روپی تیرث میں سنان کیا وہ آتنگ کو بھی پویتر کر دے تھا ہے. وہ تیرث راج ہے جس نے آتنگہ پر مات مکو جانا. مہر آشتہ میں سنت ہو گئے ایک ناتنگہ راج. پیتھان میں اور انگا بات کے نجی گئے. پن کے پاسے کم آئی ہے. وہ پوروکال میں نگر سیٹ کی پتنی تھی. لیکن اب بود ایسطی نہیں رئی. اس نے پرنام کر کے پراتنا کی. یہنا رہاں سنتائے تھے.

دنڈی سوامی. میں نے ان سے براتنا کی. کیا ہم پتی پتنی. تیقر چکے تھے. کیا ہم گنگا اشنان کرنے جائیں گے. چوراسی سہو برامنوں کو جی مائیں گے. سادوں کو گرے گے. چوراسی سہو نہیں تو پھر مارا چوراسی. لیکن آج میری اشتیتی ایسی ہے. کہ سمپدا پتی کے ساتھی چلے گے. پتی ہاتھتےک میں گئیں. مونی میں نے جر اور لوگ کو نے. ہم گٹھا دیکھایا. اور مجھے سمپدا کا دوکھ نہیں ہے. لیکن ایک بات کا دوکھ ہے. کہ ہم نے جو سنکل کیا تھا. چوراسی سہو برامنوں کو جی مائیں گے. چوراسی برامن بھی جی مائیں گے. ایسی میری اشتیتی نہیں ہے.

میں نک مجھوری کرتی ہوں دوڑی بوت. مجھارا کرتی ہوں. کتک کر ہے. تو اس دنی سنیاسی نے کہا کہ ایک ناط ماراز. ایک ہی ہیں. ان کو بیر بھوجن تمجی ماظ ہوگے. تو چوراسی سہو برامنوں نہیں چی م لیا. وہ تو اسوات مائیں. برمگانی سنتے. مارادہ آپ میرہ مہوجن سیکار کرو. ایک ناط نہیں کہا کہ دیکھا. تو மڑیگہ تھا میں جانتا ہوں. لیکن میں اپنے بیٹھے ہری پندیت کو وچنڈے کر بندہ ہوگا. اس نے وچنڈیا کہ میری آت سے گوجن کر ہوگے. تو بنائے گا تو ہم کتے. اس نے وچنڈر بندہ ہے. ابیں کو پائے.

تو کچھ سیدھا لیا ہو. اب پھر اس کے دوارہ بنوالوں. لِماراج میں نے اپنے ہاتھوں سے سادوں کو بنا کے کلانے کا بھی بیچ آگیا تھا. بلے تو ایسا کروں. ہم دونوں جیمتے ہوگو با بیٹھے کا دھوں بنائے گا. ہم جیمتے ہوگے تو تو کوئی بنائے ہوئی چیجے. چیٹاک سے رکھتے ہیں. وہ ناراج ہوگا پھر میں سمحلوں گا باتے. isierung. اور بیٹھ سا ہوا. دریٹنات مارا cabin با أي بتری سمحل میںше. اور ہر پندک نار آج ہوگا تو. بھیboxingraf پ still halded said ghaad h הרpstinditke faut جانتے کیxture میں جوprisingی تھی ہے. जितद यहीहु bookuRehu Kuven Oo जको टानी की परीति की दिक थ elementos पस्तے सöffशनकलजते

Teen wollte ँसकलज्छरगे ए кнопने फीडभ से भ भer a भज कलभ करों नह कैव दिस् ARM पाल स लकरों गराण शहटीogen जिता हैू यहल जरागय جنجت کروگیں تو ہم سویکار بھی نہیں کرتے ہیں لیکن جس کو اتما پرناتما کی پر آptی ہو جاتی ہے ہو اس کی مہمہ بگوان شیو جی بسشت کو کہتے ہیں تیرانی میں شو اس پرناتما میں دیان کرنے سے جگدان کرنے کا بھل ہوتا ہے سترانی میں شو اس پر میں شو اس پر میں بشانتی پانے سے بشانتی شبد میں نے بولا ہے اس میں انشتی تو نے سے باچ بھی یک گیکہ بھل ہوتا ہے ایک مہورت اس پہرہنے سے راج سویگ گیکہ بھل ہوتا ہے ایک پہر اس پرمات میں رہنے سے حشمے گیکہ بھل ہوتا ہے جن سنتوں کے درشن کر کے سنساری لوگ پویتر ہوتا ہے

جن سنتوں کی وانی سنتوں کر سنساری لوگ نشپا ہوتے وہ سنت بھی پویتر کرنے کا نشپاہ کرنے کا سامرچے اسی پرمات میں دیو سے لاتے اپنے آپ کو میرا دل دیوانا ہو گیا نہ چھیڑوں میں جہیاروں میں خود پے مستانا ہو گیا اب میری لیس ورگ کوئی مانا نہیں رکھتا دنیا کا ایش حارام دو قوڑی کی بھی مانا نہیں رکھتا اپنے آپ کے سکھ میں سنتوست ہو لاتا ہے سنک رسٹھا کہتے سنتوستا ہو ستتتم یوگی بوگی ستت سنتوست نہیں ہو ستت یہ تاتما درڈا نشچے ہو میں ارپیتا منوں بود دیو مد بکتا سمی پرییا بکتما درڈا نشچے ہو جو مجھ چیتن یس وروب سکس وروب پیش کرسے بھی باکت نہیں ہوتا اپنے میں کو میری میں ایک آکار کرنے میں جو سبال ہو گیا

آج کرتا مرکلوں کو بلتے دو بیچارہ بھگتے اور بھگت اور بیچارہ بھگت تو بیش کرسے مجھ جتے کرتے بھگت اور بیچارہ نہیں ہوتا بھگت جگت کوتھ گتھ ہے بکتو ہے جو دنیا کوتھ گئے کیسے تھا گئے کہ دنیا میں رہے دنیا کا اپیو کرے لیکن یہ سچا ہے سانا مانے ستھے میں ایک آکار ہے اس کا اپیو کر لے اس میں بھسے نہیں اس میں دوبے نہیں ویکاروں میں گئے نہیں ویکاروں کا اپیو کر لے بیٹے کو جن مدے نایتے ارام جنے دے دیا کرسن جنے دے دیا کبھی جنے دے دیا نانگ جنے دے دیا دوبے نہیں ویکاروں بھگت جگت کوتھ گتھ ہے بھگت کوتھ گئے نہ کوئی ایک بار جو بھگتتھ گئے تو اکھنڈیا گئے پھلا ہوئے ایک بار اس بکتما اپرش کےے وچنوں کو

تھگ کے اپنے بنالوں تو اکھنڈیا گئے پھلا ہوتا ہے تو تغلوں کو تو تغانے کے لیتوں مگومتے رہتے پر اچن کرتے ان کے نم بھگو اپنے نم بھنالوں نارای تمری گتی ماتی تمہی جانی نان نکداست سداقوروان ایک ہم دے رب بیس آئے تم بڑی بات مت کر تغانے سے جتنا آپ اس کے بارے میں سد بھاو کر کے اپنے دریمان پویتر کر لوبا کی پورا ورنان نہیں کر سکتے مت کرو ورنان ہر بے انت ہے کیا جانے بوک کہی سورے کیا جانے بوک کہی سورے

متینا لکھیں جو متی لکھیں متی اس کو نہیں دیکھتے لیکن جو متی کو دیکھتے دنیا بھر کی ساری متی آتھاگ جاتی ہونا سے تو رووی بدم تدھی بگنگ ہو تاہئے ھاہرے سائنٹسٹوں ھاہرے مطیوں کے ہوں کہیں ھاہرے کھوڑ کھاہر کے تھاکہ گیا ہے ہمہ لے پتانی جلتا پھر جامت سے وہاں سے ہوشڈ ہوتا بھڑڑ کا ویشہ ہوتا تو وہ کہیں ہوں کہ جب میں ہوتا وہاں مرشتروں کے کھالے کھوڑ کی جب میں ہوتا بھڑڑ کا ویشہ نہیں دن کا ویشہ ہوتا تو سکھوں کی تیجوری میں ہوتا وہ بلاوانی کا ویشہ ہوتا تو للناوں کے پر سپاکٹ میں ہوتا سارے ویشہ جس سے پرکاشی تو دیوں وہ ہے

جگت میں سارے پرکارے سوکی کو نائے تو میں جل دونی پائے درستی گیاں میں ہی کرتا پس شید برم میں جگتا ہوت حرام جی وہ صرف شاستر درستی پر بیراشتا ہے اور صرفات مہ ہو جاتا ہے صرف شاستروں سے ہوں پر کیالوں وہ میں پہن جاتا ہے اور صرفات مہ ہو جاتا ہے اتمرام سنت جین اُسی کو جین کہتے ہیں اور کالوادی اُسی کو کال کہتے ہیں سمپنو ویشو اس کو آتما صروب دکتا ہے جو چیشتا ہے برمہ ویشنوں اور اندر آدی کرتے ہیں اس کا کرتا بھی وہ اپنے کو جانتا ہے

اس کے سارے برمہ ویشتوں میں ہے اس اندر جو چیشتا کرتے ہیں جانی سمتا ہمی کر رہے اندر ما جو کے ساریشتی کر رہے ویشنوں کا پہلن کر رہے اندر ہوں کر بھی اوطام سے سنمانی دھوٹے اس کا ایسان موتا ہے بلو مط کرو ورنن ہر بے انت ایسا ہے اندر پر میشو ہم ہم حرام جی اس کے سارے دکھوں کا انت ہو جاتا ہے اور اس کو سب سکھوں کی سیمہ پراتھتا ہوتی ہے سارے سکھوں کی سیمہ سے پاہر پہن جانتا حتمدامی پرن سکھ سارے دکھوں کا انتر پرن سکھتاک پہن جاتا اسے بڑا کوئی سکھ نہیں

اسے بڑا کوئی گان نہیں اسے بڑا کوئی تیش نہیں وہاں پہن چاہتا ہے ایسا کام کرنا چی بات دریکہ چار پہنچ لات کمانی یہ تو پموم پھڑ جاتا چار پہنچ کرو رو گیا ہے چار پہنچ اربو گئے تو کیا ہو گیا وہ سمہلے کا ٹنشن پر ماتما کو پالے بس پھر جو بھی ہے چار دن کے لئے کورسی می گے تو پھرے تو کسی کئوں کے باستید پھرے پہنچ آجا ہے گیا یہ تو کورسی ہے کورسی مانا ویشا ایک پتی نہیں اس کا تو کئی پتی ہوئے پہنچ سال کے بعد اس کے پھر کوئی آئے رہا ٹین سال میں دور سال ان چی جو کا کوئی محتو نہیں رہا ہے رہا ہے میں دیریکٹر ہم

میں یہ پھر لنا میں اس سے باکھ رہے ٹیک ہے سنتوں کے بات جا کر بھی یہ کچھ را آکے بتاتے گھا میں یہ میں یہ یہ تمہاں پہنچ پہلے نہیں تھا بعد میں نہیں رہے گا تو اس کا کیا پریچے دیکھا جو پہلے تھا جو بعد میں نہیں گا اس کو جاننے کے لئے گڑھ رہا آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ

آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ بھرکி پیڑھوں کا پریچھے جانا یادنے رکنا چے. یہνے جانےwali. یہ اپنے میں thierepumat, upeokkarlobas, نیسے وردیگہ پیو کرتے. نیسے ایٹھ ہونہ, میں ساتھ ہونہ, میں باپنہ لے, سب بلھاவے میں دانلے کی چیے. آب آب آب

حیرام جی, چیٹ நیں تیجس بلوان ہیں, اون سبوں میں تطویتہ صرف отношہ ہم ہے. جیٹ நیں درٹی پیٹھے, جس بلوان یہ شاس بھی ہیں. ہن سب میں ہنچے میں ہنچچھا پڑھ پڑھ مگہنے گا ہے جیت نے بھی کوئی پڑھوں سگڑے سے سچھے باشھا ہن دے سے باکی سارے کچھے باشھا جس نے سٹھے کو جانہ وہ سچھا باشھ سٹھے پر مات نہ ہے رہا سچھے باشھا ہمھر مگہنی سندھوں دے سے دوسرے دیتاک کرتے ہیں دوسرے دیتاک کرتے ہیں سچھے باشھا اُس کے ساملے سب لگو ہو جاتے ہیں

وہ آننت جگت کے کرتا ہیں اور اپنے کو سدا کرتا جانتے ہیں ایسے آشچری پڑھ میں انوں نے بشرام پیا ہے حیرام جی جگت کے سمو ستھتہ سمان میں ستیت ہو کر انوں نے پرم بشرام پیا ہے یا آشچری ہے اور یا آشچری ہے کی آنوں سے آنوں اور مہت سے مہت ہو کر بھی وہ کہوال بشرام کو پر آبت ہوئے ہیں ایسے مکت پورشوں کو سنسار کا کوئی بھی سوک دوک ویاپ نہیں سکتا ہے کیوں کی وہ پرم ادویت شد سکتا کو پر آبت ہو کر یہ باہدری کرو یہ چیج پانے کا پک کا ہے رہتا کر نم کو کوئی سوک دوک دیگا نہ سکے مرتب یا دیگا ہے تو ہم

اب اس کی آگے بھی دیگا نہ مرتب میری ہوتی نہیں یعنوں بہت سمانی بھی ہو مرتب یا اس کی ہوتی اس سری رہ میں اس کو دیکھنے والا یہ ہاتھ ہے میں اس کو دیکھنے والا یہ میرا سی رہے ہیں یہ میرا سری رہے ہیں میرا مان میں ایسی کی مرتب ہوتی مکتو دیگ یہ رامجی ان پروشوں نے باہا بشرام کیا ہے جاہنہ جاگرت ہے نسوپن ہے جاگرتہ استاعتی جاتی سوپن آتا ہے اس کو جو جانتا ہے اسی میں وہ مہا پروش میشنانتی با ہے کلکہ جاگرت آج نہیں ہے راتریکہ سوپن آبی نہیں ہے راتریکی گیرنی دابی نہیں ہے لیکن اس کو جاندنی والے تم تو

تم کیا ہوتا تم کو پتا نہیں ہو مہا پروش پتا پر کر اس میں جگ گئے شانتی پائے یہ نہیں ہے جانا کتھی نہیں ہے جو ایماندار و بھادار ستششہیں ان کے لئے سنسار ساگر گوبتد کی نہیں ہے جیسے گائے کا کھر لنگنا کوئی بڑی باتے گیا اور جو کپٹی ہیں مییمانا ہے یا بھر یادت چورتے نہیں جب جگ ہے بک بکھ ہون کے لئے سنسار براہت مہا اُد دھیئے ساگر ہے جانا سک کے سیگی مندائس توتی مانا پمانوں کو تنکے گینای اورا کے لے جاتا ہے برمت بولتے لیکن تنکے گینای اورتے رہتے سو کتن کے گوبئے سے ہوا اوراتے رہتے نائی سے اوراتے رہتے رہتے ہوا دفع پر نی لگتے نارا ہے نارا ہے

اپنے چیدت کی رکشا کرنی چاہی اپنے انواہوں کی رکشا کرنی چاہی حرام جی وہ آکاس سے بھی سوکش میں ہیں کیونکی آتنہ ستة میں بشرام پیہا ہے وہ آتنہ ستة آکاش کو بھی ویا پر ہی ہے اور اسی کو وہ آتنہ وطجان کر اس میں ستت ہوے ہیں اس پد میں انہوں نے بشرام کیا ہے جا ہا نترکہ ہو کلے ہو, پر سوشوطی میں ستت ہوتے ہیں. ایسی درر سوشوطی ہے. نتراکھلے ہیں. پھر بھی سوشوطی منا نین. نین میں کیا ہوتا ہے. کوئی سنکل بھی کلپ نہیں ہوتا. ایسے آگہ کلی اور نیس سنکلپ نہ رہیں میں ٹکلیانا. کئیت نہیں ہوں چیواتے. رمر مارشی کلے نترا. جون کے سان نے دیکھتے وہ بھی شان تھو جاتے تھے.

جاغرت سوپنا سوشوطیون سب کو جو جانتے اس میں بیٹک جاتے ہیں. کلے نتراوں کی سماتی ہے. سادو بائی سائج سماتی بہلی. گروک رپا بہی جاتن سے دن دن آدکہ چاہلے. کبھیی جی کانوں مہو ہے. رامجی ایسی سوشوطی ہے کہ ان کا درگ اور درشب ہوا دور ہو گیا ہے. اور وہ دویچ سے رہیت ادوی طروبی شہیہ میں بشلام کرتے رہتے ہیں. رامجی بڑا آشتری ہے کہ جانی لوگ ایسے سنساروپی کمارگ کو تیاک کر. پرم پد میں بشلام پاتے ہیں. یا ہا گراھن تیاغروبی اگنی نہیں ہوتی ہے.

وستوں میں سوک سے بے ہی سوٹے ہیں. اور ان کے بھیتر ہی سدا شنتی بنی رہتی ہے. سوک سے وہی سوٹے ہیں. سوک سے وہی جیتے ہیں. سوک سے وہی مارتے ہیں. مارکی تو طرف طرف کے مارتے درگر کے مارتے ہیں. جا مارنے تی جگ درے مورے م�� آنندقاب ماری ہے قب ملے پاہی英 پوران پر آنندقابی تھی بھولتے ہیں. مرد جو دک نہیں نیتے ہیں. ہوا سکتی دکتے ہیں کہ اس کا کیا ہو گا میرا کہوں گا. کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کfore we get the critical move. We will have to die if we do so. We would Espeito but we still take action. So what if we die or not? If mindful of the suffering we die. If mindful of pain we will help change our health and also if we prevented.

Ifglich of struggles, We will die to proved our fear. There is a fear for a Living person. Let it happen. The washroom he is now. تو ایسےی مرتے, ایک سنت بیٹھے تھے اور کوئی, ادرششہ گے بھی ستتا جا رہے تھے بولے کہاں جا رہے ہو, بولے مہراج میں مرتیوں ہیں, ایک گاؤں کے لوگوں کا بہت گئے سا ہے کہ ایک ساتھ, پہی لوگوں کو ہے جے کی بھی ماری کنیمت منا کر مجھے لے جانا ہے بولے کتنی لوگ ہیں, بولے ہوں میں چاہدہ سو جتنے دن دیکھا دبا ہوں میں ہے جا پھل گیا اور لوگ مر رہے درہ درہ درہ در چاہدہ سو پندرہ سو سترہ سو ہجار ہو گئیں سنت نے دیکھا کی جوٹ کیوں بولی

تو سنکل کر کے بیٹھے گے جائے تو ہوں دیکھیں اس کو یہ وہ جا رہی تھیں تو بولے سنگ تم نے تو بولہ تھا کہ چاہدہ سو لوگوں کا پرارہ دے ساموحیک مرتیوں, چیپی رو گیا وہ کمپیا ساموحیک پرارہ دے یا تو چاہدہ سو سے تو جادہ 2 دو ایادتی رجان سے بھی جادہ مارگ ولی ماراج ہم نے تو جادہ سو مارے باکی اپنے در کے گارن پہلے مارے وہ اپنے بہی کے گارنی پہلے مارے نارہیں نارہیں نارہیں نارہیں نارہیں نارہیں نارہیں نارہ گیا ہٹر دیکھ ہو گیا گیا ہٹر ہو گرو دے و دیا کر دو مجھ پر مجھے اپنے چرن میں

رہے نے دو مجھے گیا نک کے ساگر سیسوامی یاب نرمالگا گر بھر نے دو گرو دے و دیا کر دو مجھ پر پہلے سیر پہ چایا گور اندھے راہو سیر پر چایا سو جتنایں رہا کوئی sujhat naai raha koi ye nain na mere aar jhot teree

ye nain na mere aar jhot teree naino ko bhi bhaane do moje gianne ke sa agar seswami amu nirmalega garbharane guru deh deya do moje chahetirado chahetirado chahetirado chahetirado chahetumado

mora bhi gaye do danghe doha mora bhi gaye do dob bhi gaye do chahetirado chahetirado dob bhi gaye do danghe doha ye nain nao mere aar jhot teree ye nain nao mere aar jhot teree dob bhi gaye do danghe doha ye nain nao mere aar jhot teree ye nain nao mere aar jhot teree moje bhaavasa agar se

je gianne ke sa agar seswami nirmalega tumari syaral mein tumari syaral mein tumari syaral mein jo koi aaya hao jo koi aaya hao

parvasa ekahi pal mein parvasa ekahi pal isu darpe hao bhi aaya hai isu darpe hao bhi aaya isu darpe gujara karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa

seswami nirmalega serupar aaya serupar aaya serupar aaya hao sujata naa sujata naa ye nain nao mere aar jhot teree ye nain nao mere aar jhot teree ye nain nao kodhi bahane do moje gianne ke sa seswami nirmalega

karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega ye nain nao mere aar jhot teree

ye nain nao mere aar jhot teree moje bhao sagar se karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega

karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa seswami nirmalega karne do moje gianne ke sa बन्व के सागर। मल्व कागर वर

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →