Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 24, 2026

Jan 24,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Jan 24,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

354 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 24,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 24,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

य न कारूप्यान्वफ़ घोज़ लिपाई करदाग्याखे اپنے رہ دے سے جو سمبیت تھورنا نین میں سے اُٹھے ساڑے چیانا وجہے سیدر جانا ہے شاڑے ساپ بجے سورے جو گایا تھا تو دے سے دے سان ترکتو سمبیت جاتی یا گھڑی تت جاتی وہ سمبیت اس کو خورنا بھی کہتے

اس کو کلنا بھی کہتے اس کو برتی بھی کہتے اسی سورتا بھی کہتے تو جس چیتنیس رو پر میشور سے ہے سمبیت اُٹھے تو سمبیت جیتر گئی با جہاں سے اُٹھے جو گئی بہت سنسار ہے و جہاں سے اُٹھے و سچدہ رہتات تو سمبیت چیتنیس سے اُٹھے اُٹھ منا و ہبتی بانی اُٹھے میتر و ہبتی بانی اُٹھ دیش دیشان ترگے تو اُٹھ دیش دیشان ترسے لیکے اس کے مدھے میں جو بھی ہے سمبیت جہاں سے اُٹھ وہ سچدہ گھا وہ بہت پرمات گھا میری گوردے بھولتے تھے جہاں رو جسہ بھاگوان کا در سنگ کرتے

موان کی کو سمکھا کے بولتوں لیلاؤ شاہج گیتو سر پے اُٹھا کے کسوں مکھا تھا ایسا ہوتے بڑی سرالتا مڑی پیاریوانی میں بھولتے مرے گوردے برمہ بیتا نہیں بھولیں گے پیاریوانی میں دا کون مولے گا بہی ساہی مہوان کا در سنگ کرنا ہرے بہی آتوں رو جباگوان کا در سنگ کرتے میں آ مگوہ در سنگے تو مجھی نہیں سرتے میں آ مگوہ در سنگے رو جباگان در سنگ کرتے لیکن یہ وہی ہے اس کا پتانی مس جیسے سو میں کی دیکھ گڑی ہے ایرے موتی مانے جاوہ رہت بارے ہر آپ رو جسی پر رہتے ولیکن آپ کو پتانے کی تنہکھا جانے پر بیاج پے گو جارا کر جیسے اپنے گھر میں خدیانا گڑا ہو

رادمی اُدار لیکے چلائے ایسے اپنے انتر آتما میں بہوت ستا ہے آنان سوروپے گیان سوروپے ساما تیسوں ایسا بوس میں پر آئے ایکن پھر بھی ایوڑی ایوڑی میں ایسا بوس میں پر آئے ایکن پھر بھی ایوڑی میں لیکن بٹک رہے مرکھوں کی نہ ہے می نے سکی جانیر آگا آگا آگا ساموڑر کی مچلی لہیاتی ساموڑر میں لیکن بارش کے پانی لیکر ندیہ جب جاتے تو مرک مچلیہ سورتے ایسے پانی آ رہا اُدار کہی جہا ہے ہوگا تو ساموڑر کی مچلی ندیوں میں آگے آگے آگے ندیوں کی مچلی اور چھوٹی ندیوں میں آگے اور آگے برساط کی دهرہ ٹھو جاتی پڑچہ پتاکہ مر جاتا ایسے آتم آگا آگا ساموڑیت کہا دعورہ وہ آگا شک سورو پیش کر تھی

رنت کرن میں پھر نے آتی و راتی ایی رمانا اور تھی بن تھی پھر نے ٹھکے دوارہ دے کھا قان کے دوارہ سنانہ ٹھے دوارہ سنگہ جیپ کے دوارہ چکھا اس پاچھ کیا اس سے آنہنہ دیا تو ہے, لیکن وہاں سے لے لے کی ایسیادہ پڑھی کی بہاری سکھ ہے. بہار سکھ تو نہیں ہوتا ہندھو کیوں کے پرشانوں تھے. کوارا تھا پسوٹھے سادھے کریں گے میں دیستانا ہے. آپ دیکھو کیا بچا? سادھے گئی بہارے کہ آپ کلکتے میں دکان کی آہ ہوئے سا کی آہ نوں کر چا کرھا. آپ دیکھو کیا ہوا? سمجھ بے کار ہو گیا بس? ابھی دا پہا ہایا, ملا کیا? بڑی بڑی طرنوں پر ناچے تھے کہ ایسے بنے گے بے پاری بنے گے وکی بنے گے داکٹر بنے گے ایسا کریں. کائے کے لئے سوکھی ہوگلے تھے. پلے کیا پڑا? سمجھ دا آیا اور چنٹائم لی جمے دارے ملی مڑا پہ مل گیا.

every man is a god but playing the fool. سبی بہت سروپ ہے. لیکن مرکھوں کی نیلے سے بچہ آینے میں کسی بابلوں کو دیکھتا بابلوں پیارا لگتا ہے. اسے پکھنے کی کوسیس کرتا. تاکھ دا تھا. اس کے ہاتھ نہیں آتا. اور سیانی ما ہوتی ہے تو اس کا ہاتھ پکھر کرتے آپ نے صرفے رکھا دیتے کہ ایھ ہے بلو. ایسے کرتے اس کے ہاتھوں سے اپنے ایم. آلیں گن دل آ دیتے بھی. ایسے جاں بھی آپ سک پاتے تو اپنے ہی اس کے ہاتھ نہیں آتا ہے. اور اس کے ہاتھ نہیں آتا ہے. اب آپ آ کریں اے تھا نہیں تو کوسک میں. تو آپ اپنی سمبیت کو شہی طمن اپنی ممكن جاں جانسک روب سے دالتے ہیں.

تو مل میں اگر گا ہے تو شامطا ہے. 70% Rindra ke duara harfit ko enginesk Arshm eshFS Blaske pijahani cho piert pourquoi pisstki se wee og su why suske pite editor пох chau pat وہ گھرمہ کوئی syllabus Bangkokart وہ Héenixatge exactamente ان سے دُر نہ میں ان سے دُر تھا ہاتا نہیںθان ناطر ту نظر کا Abraham وہ گھان کی نجہریہ نہیں وہ بہ gewahtじゃان مِعگوت یہraf یہ بہத پری تی بہ dés ان ضم nhات جہہی و سکوٹھ کرنے کے لیے نہیں کر رہے, سکھی ہونے کے لیے,

جادہ سکھی ہونے کے لیے, بہت سکھ سکھ اور سکھ آپ کچھ نہیں چاہتے ہیں, لیکن غلط باتے کہ ہم Dr. Manna chaati, ہم وکیل بن نہ چاہتے ہیں, ہم پھلاں بن نہ چاہتے نہیں, اس کے پیچھے سبی لوگ سکھ چاہتے ہیں, ہونکہ سکھ سے ہی تمارے چاہیت, ہمارے شریر کی سکھ سروت سے ہوت پتے ہیں, اور سکھ سے اس کا پانا نوتا ہے, وہ جنادی سکھ کرتے ہو سکھا دو تھی, سکھ سے اس کا پانے, اور رہتری کو سکھ سوارک میں لین ہوتے لیکن پتا نہیں کہ اپنے سکھ میں ہی جی پاہتے ہیں, باہار سمجھتے سکھ, وہ دھیان کے دوارہ بھتی سکھ سنو ہوتے, تو آج سچھ داند پر ماتما ایک ہے, بھی چاہر اللہ گئے تو مجھا نہیں آتا, بائی بھاکے بھی چاہر آلا گئے تو اٹنا مجھا نہیں آتا تو دوست دوست دوست درём ایک بھی چاہرے کیم مشاہتا ہے تو ایک دیتے میں مجا ہوں,

عدوائت میں ایانوننا تھا ہے, عدوائتی رящیسر مرور ہے, بھتی پت می گسم بھی چاہرے تو سکھی گئے, بھی تعبطanner میں سگ بھی چاہرے تو سکھ کرتا ہے اور اسی بẩی میں بھی چاہرے تو اپنے پ boxی کھاں�� نے اچھuto معbaumwnے اپنے پڑوصی کو تو گالیان دیتے اور دوسری ویرکتی سے جا کر باتیت کر دیکھیں کیوں گلسم دی جا ہے تو سمت پہ میں ایک اٹھ پہ میں آنان تو سبے اٹھ کر چند تن کر کی کسی کے بیچارس جاروری نہیں کے سب کے بیچارے کھومان آنے گھیں اوہ شکتایا رومانیتے آنے گھیں نیکن مانا تو امی ہم سابے گھیں چاہتنے سورک میں سابے گھیں دالی آنے گھیں پتے آنے گھیں پھول آنے گھیں کے روض رکش کے مول میں راس ایک ایے ہے ہے ایسے سب سک چاہتے اور سبی کا مول سان سک سوروط ہے ایسے لیکو ایک ایسا بھی کرتا لیکن اوپر اپر سے کرتے

ماء کی سابے او دو ایسپتال کا گیان دکتے او سے کسی کے پر تیویر بھاو نہیں رہے ہیں کسی کے پر تیمناترت یا کر سنی رہے ہیں او محا پر سوڑ ہے ہا جی پورا کرتے سرانجی وہ دیو کسی ستان میں نہیں رہتا ہے وہ کہیوڑ ایک ستان میں نہیں رہتا ابھی تو سارے پر محان میں بھر پورے سارے پر محانو سی کے لنرے ایسے تمارے خوبڑے میں مبجھے ہیں ہے ایسے سارے پر محان میں پرمادنا میں او پر محان میں اپنے کو سرید مانتے سی لی بھرانتے سی سمتے کیا پن حال میں بکھے اگی کتما اپنے باتم پر مطمت میں ایکنو واپاکے کہ حال بھی اپنے میں میسارا دیش اپنے میں کال اپنے میں ایسا ہو جا پاکات میں سمیتے ایکن ہلٹا گیان مل گیا ہے

دیکھوں میں مان نامستوں کو میرا مان ایتنا میرا ہے اس میں اولج گے ایک بھولا دو جا بھولا سبسن سا مرن گیا کی Moo Ark احج وہ که یه دور جی نہیں ہے وہ تو اپنے آپایم استیت ہے هرامجی گھات گھاٹ میں بہت دیو ہے پر اگگانی کو دور باستیا ہے گاٹگت میں وہ دے ہو ہے پر مات میں دے اگانی کو دور باستیا ہے پر آبھی نے دور بھی نے مرنے کے بعد میں نے ہے سا بھی نہیں, کہیں جانے کے بعد میں نے ہے سا بھی نہیں, وہ ابھی ہاجران یرگتگت میں, but when the time of the time of the time of the time of the time, وہ نے کی کرنے ہوگوں کے سبہ ہوا ہے, وہ نے ہوں کے سنٹے وہ بھی مان نہیں سکتے, ہنگوں میں ہوتا, اسے لے ساتھ تو کو نہ ہوتا ہے, تو ساتھ تو سنجائتے گیاں,

ساتھ تو کویں سے اس کے گیاں کا, آنم کا سامر کے گاں, ویسے, سارے شرور میں آپ کی توچھ اور آپ کی چکنا ہے, پھری بھی آپ, رسمکلہ گرگال کو لگا ہوگے تو میں تھاست نہیں آئے, للالات کوچھوں پروگے, تو بھی میں تھاست نہیں دے گیاں, کان میں دال ہوگے تو بھی میں تھاست نہیں آئے, یہ ناک میں کوئی دال دے رسمکلے کی ٹیچہ سنے, تو بھی میں تھاست نہیں آئے, میں تھاست کا خلوق் کرنا ہے تو دیگت جائے ہیں, ہے جی پرمت مدھا کے آنunde کا ہنو بوکر نہ ہو تو پرمت مدھا کی پریٹی سک تو پر دھان چہی پھیم پر دھان پر مدھا کا چیتن سورن چہی سارہ سری آپ کا ہے لیکن بھو جن تو یہیں کرتے ہیں ایسا کیوں نہیں کرتے بگل سٹھٹے کرتے ہیں ہے تو آپیے, ھای روم کوپ سے توہوالے تے تے ہیں, ھای در سے بھی تو, ھای روم کوپ سے بھی تو آپ خاپ سے پیسے ہیں چھوڑتے ہیں, ھای ترسی نہ چھوڑتے ہیں, ھای آخسی جنگ لے تے ہیں

سری پر دامر کا نبکر بھی آدہتے دیکھو پھر کیامو سی باتورتے ہیں, ھای جی نام اس کے لونے ہیں روم کوپ سے جو خاص پیسٹے وہیتھ ہے, ھای نی روٹے نہیں کھاصتے ہیں ہوتا ہے کہ وہل گیان سے ہی پراتھ ہوتا ہے, ھای جی سے انگرامت ما کا گیان ہونا چاہیں جو رہت کے گیان سے راگت دویش بڑھتے ہیں, ھای ترم ہے بنے گا, ھای ترمہت میں گیان سے پرمہت میں آنہنہ بنے گا جو رہتے چھنگ ترکتنا بھی کرو بھی چھتنا بھی کرسون ہو گیا تو کسی کے لے نبکت پیدا ہو گیا تو کسی کے لیے محبت

محبت محبت میں پاس ہوئی انا پرت میں ہو کلتے ہیں کسی استان کے لیے پیار پیدا ہو گیا وہاں جا کے بات کو ہوں کسی جاکتی کے لیے پیار پیدا ہو گیا وہاں جا کے چک کو کسی جاکتی اور استان کے لینا پھت پیدا ہوگی تو بیٹھے بیٹھے جلے اگر وگوان کو سنوڑے تو کہیں جانا نہیں ہے نا جل نہ ہے اپنے آنننی صورگاں میں اس ور آکتناس جو تنتра ہوگے اپنے آپائی جانا نہیں گیادن بڑیا لیکن منظوریا ہے ارباحن کرنا پر تھی پیچر بڑیا لیکن ٹیکٹ میں لتنگیا ہوں اپیچر رکھنے کے لی پیچر رکھنے کی واصنہ بنائی رکھو اپیچر دیکھنے کے لئے آٹھے تندرست رکھو سمائے رکھو تتکچر کا سکنے ہوں اس کے بعد کھڑ درتنا رہے ہیں

لہے گاہے تو سکھ لہے کے لیتاپ کی آرے کرکے دیکھنے جا رہے ہیں تو آر آپ کو چھے سوے ہو اپنا سکھی کرکیٹروں میں کرتے بکھے تو پھر بہے ٹیکٹ دیکھ ہے اپنا سکھ دیکھے کی آرے تو کی آرے آرے ٹیکٹ کی آرے اپنی ٹیکٹ میں لیکن ٹیکہ چاہلے ہوں واصل کر رو سکھا دو سکھا دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ لیکن ایسے سکھ دیکھنے ہوں اب سکھ دیکھنے ہوں

ہنت میں بودے ہو کرکہ دیکھنے یا ہوں پرسن سے his life is full of joy but price for some his life is full of sorrow مر جا ہوں تو سکھی ہو دیکھنے لیکن بڑے صاحب مرنے میں بھی سکھنے اب جگت میں بہتکنے میں بھی سکھنے نام جی چاوڑا اب ہونوں میں گوما کئی سکھنے سکھے کے دیکھا ہے

جہاں سنٹھ کامن ٹکھ دیکھتا ہے و سمبیت پر مات مانے سکھ ناست اب ناست اب ناست دیکھا آپ نے آپ کو میرا دل دیوانا ہو گیا اب اب سرا ملے تو سکھی ہو لہوں سرگ میں جاؤں تو سکھی ہو لہوں دنیا ترکو کبہ ترک مولا مرنے کے بعد مولا کا دھا می نی چہیئے اب ہی اپنے آپ کے میز سے مولا مولا ہے اوک بارو کبہ ہے جیسے سارہ پر مامنا منا مجھتے نو سکھنٹت پرا کہا شریب ہو جو نٹت ہے آپ سب کو جاندے ہوا لہ ہے بھوب گیا پک ہے نام روب پرضھادھtone, نام روب پرضہ assisting مطינה Shot, whose face is not explaining which means drop the Buddha but that sees that who sees the Buddha is my safety

God won't tell the truth but man admits that my sticks aren't like this but my NCT made mine but we still have my NCT it's just like that the ground it's about the leveraging of protecting the Buddha کلپنے بدلتے, پھر بھی جو نہیں بدلتے, اس کو پانے میں کیا کنگیسی پر ہو, کیا دورتے? دیکھرے سا جان ملتا نہیں, اس جان کی, کوئیسی پاپ کے بلسے, اس جان کی تریتی نہیں ہو. یو بھار بھار سنتے, سلپ اپنو ٹائیس, پوچھ اپنو ٹائیس ہو کے, اسی جگت کے پیچھے مندھا کے لے دھا رہے.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →