Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 24, 2026

Jan 24,2026 Saturday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog

About this episode

Jan 24,2026 Saturday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

126 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 24,2026 Saturday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 24,2026 Saturday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

Shri Guru Bhakti Yog Guru Kripa Ik Parivartan Kari Balai Jahaang Guru Kripa Vahang Vijay Aacharya Kepaavan Charon Kipuja Karni Varun Kiddipi Yadisonga Palangarni Mahisacharya Karni Guru Bhakti Yog Ke Niranthar Abhiyas Dwaram Man Ki Chanchal Vrithi Koneer Malkaram Islok Ke Aap Ki Chivan Ka Param Dehe Aur Laksh Amaratto Pradhan Karniwali Guru Kripa Praptkarna Guru Ki Seva Karte Samay Shraddha Agyapalan Aur Atma Samarpan Indino Kuyadra Kho Guru Seva Khe Adarsho Kho

Apne Ride Me Gehra Uttar Jaanidho Kusang Me Kusang Me Kusang Me Se Apne Man Kho Alakkaro Aur Jyopur Nata Khe Prati Khe Satve Taha Sarvatrik Prem Khe Kendra Aur Manush Shajati Khe Nambra Seva Khe Eise Guru Ke Paavan Jyarana mein Aap Ne Man Koolagadha Gyani Guru Ki Sehtha Se Satat At Deha Atmik Abhiaas Chary Raku Satya Sadhak Guru Bharti Yoga Khe Abhiaas Meradth Raita HOSK E UTNI Mahatra Mein Aachara Ke Prati Bharti Bhaav Jagau Tavihi Unke Sarvat Resh Rheash Ravaat Ka Suk Bhog Sarkovy پاوان کاری آچاری کے پویدھر چرنوں کو نیھارتے نیھارتے سچے آنند کی کوئی سیمانے ہی رہتے

ایک ویکشن گواو نہیں چیبن تھوڑا ہے سمیں جلدی سے سرگ چاہتا ہے مردیو کب آ جائے کوئی پتا نہیں اٹھو جاغوں تک پر تا پوربک آچاری کی سیوام میں لگ جاؤ آچاری کی سیوام میں دوب جاؤ گروپر شدھا اور اُن کے گیان کے وچنوں میں سچے بھنوں گروپکریپاہی کے والمشششے سے پرامنگلوں آتما کا آنند تو گروپرام پرہ سے ملتا ہے گروپرساد سے ملتا ہے بھدھیمتا سے یہ ہے رس پرگت نہیں ہو سکتا پوچ کر دیکھئے کسی بے گیانک کو گروپرپت کر ستششک کو جو سواد آتا ہے و سواد کیا کبھی وہو وگیان سے پرامت کر سکا ہے

آپ بڑے بڑے بے گیانک کو خوج لائے اتھو آپ بڑے سے بڑے دارشنک کو لیایا و ان سے پوچھی کہ سدگرکہ کوئی ستششے جو لطب اٹھا ہے اس مجھے کی جانکاری بھی کیا آپ کو ہے ستششے جو آنند لطتا ہے چیرم سیما پر پہنچا ہوہ بے گیانک بھی اس آنند سے پرچیت نہیں بگیانکے سوی سادھن اکترت کر کے بھی جو جو سکھ وقتی لے سکتا ہے و گروپرپت سے پرامت سکھ کے آگے نتانت تجھے ششک کے ریدے میں جو سکھ چھا جاتا ہے وہ حترائی لوگ کے کے سامراج سے بھی ملنہ سلب نہیں

اسی لیے تلسی دازی نے کہا ہے تین تک کوپن کی بھاجی بھی نہ لون تلسی ریدے رگویر ویسے تو انڈر باپلوں کون انڈر کا سکھ کیا ہے اب سراوں کے ناچ گانے میں کیا سکھ ہے ارے دیو تاؤں پر بھی آدیش چلانے کا سکھ کیا ہے جا ایک بار بھیتر کا سکھ آئے کہ یہ سمس تسکھ بھی کے پڑیاتے ہیں دیو تاؤں پر حکم چلا کر بہرمک ہو جاؤں گئے دیو تا یہ دی آدیش نہ مانے تو دوے سوگہ آتما کے آنند میں تو راگ دوےس کے لئے استانی نہیں وہاں تو نہ کوئی دیو تا ہے اور نہ ہی کوئی آگیاں دینے والا وہاں تو پرام دیو ہے پرام دیو کے ساتھ ایک گروب ہو رہے دویت کے پر دے پھٹرے ہیں

اور ادویت کا آویر بہاو ہو رہا ہے بے جانیشور مہر آج دھنے ہے جن کا سمرن کر کے ہم لوگ پویتر ہو جاتے ہیں ایسے سنت مہپروس دھنے ہیں یاد دیو ان کی دے ہے تو بھیلین ہو گئی تتھاپی ان کا بیوہار ان کی قریبا ان کی پر سنگوں کو یاد کر کر آج بھی ہزاروں لاغھولوں پاوان ہوتے یادی ایسے ہی کوئی سنت مہپروس جبنت مہلے تو پھر پوچھنا ہی کیا ان کی آگے کوئی ستششہ بن جائے تو شئیس ہی کیا رہے اور ایسیشششوں کے کارن ہی بھارت ویشش کا گرو بنا ہے وستب میں سوارتی نیتاوں کے کارن را جاہو اتواز سمراتوں کے کارن ویشوہ کے سمک بھارت کا مستک اوچا ہے ایسا نہیں ہے ستگ گرووں کے کارن

اور ستشششوں کے کارن بھارت اننات ہے سمک گر ویشو میں گروستان کو پر آبت کیے ہوئے ہیں انگلد لوہ ہے اور کوئیلے کے لئے پرسد ہے امریکہ دولار کے لئے پرسد ہے اِت لیسیل پکلا کے لئے پرسد ہے اور بھارت ادھیادمک گرووں اور سنتوں کے لئے پرسد ہے بھارت میں ستششہ پر پک کو ہوتے ہیں اور ستشش سے ہی ستگرو بن سکتے ہیں ستگرو ہی ستو پدیش کا دان کر سکتے ہیں اپودیس بیچہ نہیں جا سکتا اُس کا دان ہو سکتے ہیں اس کارل ہم ستگرووں کے رنی رہتے ہیں ستگرووں کا کرجدار رہنا ویشو کا سروادھیک دھنبان بن سے بھی بڑے بھاگے کی باتے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →