Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 23, 2026

Jan 23,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon Part 1

About this episode

Jan 23,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon Part 1

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

402 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 23,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon Part 1

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 23,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon Part 1. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

वून्ेच्याः सूपे परक्ह़ नुवे नूपे नूवे हैं। नूवि नूपे नूपे नूपे नूपे नुवि... आजा परक्हस Forgetter the upa of God, what about love in the way we ask? तुब हपे नूपे नूवे नूप में भे तूने नूवे॒ کی کتھہ میں آیا کہ بھیم آئیسا تو بیگڑ گئے کہ جویں بھیم کے طرف ہاتی چھوڑے تو بھیم ہاتی کی سون پکڑھے ہاتی کو گماگوںہ کے گماگوںہ کے بھر تو آ کر شنเیموں کے پار پھیکதے تھے ایویشن پینجی سنانی تھے جن میں جے کو تو جن میں جے کو آ کہ ایسے کے سیوں سٹھا ہے بھیم آکیر آکیر Manusie ہے دو پے روہلے اور دو پیر آکیر Πھر آکیر Manusieہ ہتی کو اتھاکے گماگوںہ کے ایسا پھینکے کے گھوڑ تو دیم کے

کہ یہ بہار پovaہ یہ سے ہو سکتاگا ایس�� stora Orange 되는 وہ مرت distintos تو Spider پیچم پہنگیں שאחMoark اوڑ Choi ٹو سند گی نارا جی سے intro بہت تکلی بھوی, بہت دکیوہ, آخر بہگوان ویدر ایسٹی کے پاس گیا, یو آپ کے ششہ ہے, اور او مجھ پر نارا جہتا بسے میرے شریب میں یہ ہوایگو ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا تو وہ لے تم نے اُن کی بات کاتی, شاہسٹر کی بات تو آشتر داکی میرمارا جی یہ انہوں نے کہا کہ آتی کو پکڑ کے پھینک دیا یہ کہی سے ہوا سکتا ہے, بل تو دی پتا نہیں, تو پوسٹا کہ میری بھت دھی میں نہیں آتا شاہسٹر کی بات تو سکتے لیکن میں سمجھو ایسا کہ ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا

تم نے تو شاہسٹر کی اور ویشمپائن کی باتی کاتی جہو ابھی ویشمپائن کو ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا ہوا لیکن جن میں جائے, سنو کچھ دنوں میں تمہرے ہاں, ایک سوڑا گر آہے گا بھورے لیکن اس میں کالا گھورا تمہے بہت اچھا لگے گا تم لینا میں لیکن لوگے لو تو لوگ لیکن اس گھورے پر بیٹ کر, تم دکشن دی شاہمت جانا لیکن تم جا ہوگے دکشن دی شاہ میں ندی کے کنار ایک سندری بیٹھی ہوگی تم اُس سے بات نہیں کرنا, لیکن کر ہوگے تم بات و پھر تم اُس کے مہومے نہیں بھاستنا لیکن بھاستوں گی اور اپنے ساتھ گھورے پے بیٹھا کلا ہوگے اور اُس کے ساتھ تم بیوہہ رچ ہوگے بیوہ نہیں رچنا میں کہتاں, لیکن تم رچ ہوگے اُ گیاس جی شود گیان میں, کیا ہونے والا ہے بھوت دوگیشے کو شود گیان میں, ہیستیٹی والا جان لیتا ہے

تم بیوہہ رچ ہوگے بیوہہ رچ ہوگے تو رچلے نہ, لیکن بھرد برامانوں کے دوارہ بیوہا کرہاں کرہ نہ, لیکن تم یواک برامگروٹ برامانوں کو بھرد برامان کئی سنت کے پاس کو یعیو جن میں جائیں گے, تو گاں میں یواک برامانوں گے چھوڑے چھا بھارے, اُن کے دوارہ اپنا بیوہا کرہاں ہوگے وہ بیوہا کر سمپن کریں گے تو اُن کو تم بھوج دوگے وہ جن کریں گے وہ سمجھ تمہاری پتنی تمہاری پتنی بھولے گی تو میں پروسوں وہ پروسے نہیں تو اچھا ہے لیکن تم اُس کو پروس نے دوگے اور ہواکہ جور کا جھوکہ آئے گا تو اُس کا دوپتہ اُڑ کر برامانوں کی پتل پر جاغے گے وہ گراما رہے ہوئے ہوئے کر کے مجاکہ کو دائیں گے تم میںان میں سے تلوار نہیں نکال نہ لیکن تم نکال ہوگے

اور برامانوں کی حد کیا کر ہوگے سرکات ہوگے اب تم بچسا کو تو بچوں تو اِس کو بھولتے ہونی ہونی تین پر کارکی ہوتے ایک تو سامانی پرارب سے ہونی ہے اُس کو آپ پروشارت کر کے τال سکتے دوسرا ہے تیورپرارب دہ اُس کو آپ کا پروشارت داکتر کی ویدی کی مدد سنتقی عشروات تالدی تیسرا ہوتا ہے تر تیورپرارب دہ اوہش شمین و بھگتی تم کوتم کر مشبہ شبہم دکینلی پیرن نل رام ایدیشت رہا رام جی جیسے کو بھی ہائیسی تا ہائیسی تا کرنا پڑا ایدیشت رکو بھی بارا ورش بن جہنا پڑا نل راجا کو دمین ٹی نل کراویو گو سایو جو نل راجا جہنا کے پنالیے تھے وہ

نلگو پامے ام نے بھی کچھ ورش بیتا ہے آبوں میں تو جو آوش شم بھاوی ہے نا وہ تو حوکی رہتی ہے سادان آدمی آوش شم بھاوی میں ٹھوڑ جاتا ہے تک جاتا ہے لیکن گیانی سن تو باکت آوش شم بھاوی شریل کی مان کی بیت جائے گا ایسے کر کے آتما آش سے ایسے اس کے پر بھاوں کو تو رہ کم چود سے پساروں نے دیتا ہے باکی تو بھل بھلوں کو آوش شم بھاوی کهی کا نہیں رکھتی آوش شم بھاوی بھاوی ٹھوڑ توم کردم کرم شمہ شمہ شمہ رہی سری کرشنجن کے سلہ کار ہے گانڈیو دھنشدہاری ارجن جن کا بیٹا ہے گدام میں نپن بھیم جس کا پتھ رہ ہے اور دھم راجہ یوڑیشٹر جن کا رتھ پرٹھری سے تھوڑا ستے کے کارن اُنچہ جن کا جن کا جن کا جن کا جن کا جن کا جن کا

یوڑیشٹر کی ماء کو بھی دکھنا پڑا دروپتی کو دکھنا پڑا یوڑیشٹر کو جن کا جن میں دکھنا پڑا یہ آوش شمہی ہو کر مہے تو پر سامانی پرارب دھ مند پرارب دھ سامانی پرارب دھ کو بھلتے مند پرارب دھ اور سے جرہ مجھو تو تیو تیو رہ اور جو عمی تو تیو اس کو ترتیو پرارب دھولتے مانو آپ کو پڑی فوسہ نکلا ہے تو یہ سپید سپید بپس اور لال لالے تو پت اور کف کا پر باو ہے آپ نے اس کو نوچ دیا او پر سے سرسوں کا تیو لگا دیا اور موجن میں آپ نے ایلو گرہ پیلیا تو کف اور پت صدے شوچ کے دوران نکل گیا آپ کو پڑی فوسہ شانت ہو گیا لیکن کینزر کا ہے تو ایلو گرہ سے نہیں مٹے گا چیومر سے ہو گا ہے تو نہیں مٹے گا تو اس کے لیے داکتر کی سائلے لیکن داکتر بھی

کئی بار کینزر کا ہو یا اور کو پوسی پھڑا ہو تو ایلاج کرتے کرتے تھر جاتے رو پوسی پھڑا جان لئے لئے جیسے گا مانو ماریشی کو تقلیف ہو گئی اور داکتر نے اپرشان پر اپرشان کیا آخر مانو ماریش نے اسی پیرامے اپنے شریڈ کا آخری آترا کر لی تو یہ اوش شمیو باکتا رامکرشنا کو تقلیف ہو دی ایسے یہ پیرام دیکھ کر نریندرا بھولتے گروجی آپ سب کے لئے سنگ کلپتے وہ ٹھی کو جاتا ہے تو آپ اپنے لئے سنگ کلپتے کرومان کو کہتے دو ٹھی کو جاؤ ٹھو دی راقبان کر دی رامکرشن نہیں فیمولے نہیں نہیں مانو بھولتی نہیں ایت دیورپرا اب دا بھگو نیتو اس کو بھگنے کے لیدوباران جنم لینا پڑے گا تو آخری دم تقرام کروشن کنسر کی پیڑا کتقلی بھگتے بھگتے شریع ایتی شریع گئی تو یہ تارتیورپرا رب د میں بھی

ستسنگ ہے تو سندگا کی شریع کی پرا رب دے دی ایسے میرے گروضے پالن پر میں پہنچے کچھ بھجے سیدھا پالن پر آتا ہے لیکن میرے گروضے انہیں سیدھ پر اسم بھورا کیا پھر پالن پر آتا ہے اور دو تین دین میں پالن پر نواز کیا اور ان کا شریع وہاں جب شریع کو جانے کاما وں سر ہوا دوردے کا دمہ چل پڑھا ایک مناٹ بھی بھولنا سکے بائکننا سکے

لیٹننا سکے ایک دم سواس دے دی سے ایک دم کس سمیں گروضے میرے کو بطا رہے ایک دیکھ شریع اور یہ گروچ جیزنی کیونکی گیان پر کاشمیں تھے. تو کچھ سمائے کے بعد جن میں جائے کو گورہ ہم بیچنے والہ ملا ہو گورہ لیا. جانہ نہیں دکشنڈیشہ گیا, للنہ سے بات نہیں کیا کیا, بیوان نہیں رچانہ پھر بی رچانہ. ہواب کیا وہا کے وہر آج. للنہ نے پر اُسنا چاہا, پر اُستے پر اُستے جو روں کے حوالا گی. اب بید بیاسی کہتے جو روں کے حوالا گی گی دو پٹا گی دے گا پتلوں پر. حوالا کو کیا پتاک کے کب چلوں گی؟ لیکن بیاسی کو پتاکیں کیونکی بیاسی مول تکتوں میں, شد گیاں میں.

شد گیاں ستا سی یہ پہنچ بھگ چلتے ہیں. ان پہنچ موتوں کو یہ وہیو کو آپ صادرہ نہیں سمجویس میں بھی چایتل میں ستا ہے. وہیو دیوتا ہے, آگنی بھی دیوتا ہے. یک کسی کو سمجھاتے, دانتے, کسی کو مدد بھی کرتے ہیں. پرچھری دے بھی مدد کرتے ہیں. انہیں بیکتی کو پیچان نے کا سامر تھی ہوتا ہے. آپ کہیں بھی جاؤں, تو یہ پہنچ دیوتو ساتھ نہیں رہیں گے. کتنا دی چک کے کروے کہ نے ان کی ساکشت وقت تو رہتا ہے. یامنا کینا رہتے تھے. انہوں نے جامفل کے پوضے لگا دی ہے. تو یوبا کلار کا بیل, دو بیلوں کو لے کے وہاں سے جا رہتے ہیں. ہے, ہے, چھو رہیدر سے نہیں جانا. ہمیں نے پوضے پوے ہیں. اُدر سے گھما کے لے جانا. ہرے, بلے مارا جہم رو جیدر سے جاتے ہیں. تم نے آج پوضے لگا دی. اِدر بالوں میں کوئی جامفل ہوتے ہیں کہ, میں تو یہاں سے لے جانا.

مارا جہنے کا نہیں, نہیں جانیں دوں گا. چھو رہنے کا نہیں, کہ سے جانا. انہوں نے اُدھایا گندھا. مارا جہس کے سامنے. جو انڈنڈا اُدھایا تو چھو رہے کو کمپن ہوا اور چکھا رہے گیر پڑھا. اور اس کے بیل بھی گیر پڑھے. اکھانا نم نے اس مارا سے پوچھا کی بیل گیر گیا. چھو رہ گیر گیا. اپنے سنکل کیا تھا, بلے نہیں. میں نے تو نہیں کیا تھا. لیکن اس نے نردوش سادو پر گندھا اُدھایا تو اس کے پران دیوتا. بائیو دیوتا نارا جو گئے. اس کے بیلوں کرنگے. اروائیو دیوتا کے براکوب سے مگر گئے. پر آتا جوڑی کی اور میں بائیو دیوتا کو پر آتنا کیا. تو پھر وہ چلکے چلے گئے. اور کچھ سامنے کے بعد وہ بالوں میں پوڑے لگے. کچھ سامنے کے بعد وہ جمپل میٹھے میٹھے. گاو کے لگ پر سادو پر میں کھانے لگے. تو پر اتھی نے ساہیو کیا کے بابا نے بویا ہے.

بائیو دیوتا نارا جو ساہیو کیا. تو جو بہگوان میں ستی تو تایا اُس کے لئے پاچھ بھوت بھی انوکل ہو جاتے. جائے سے ہرنا کشبو کی بین ہو لکا. آپ ہو لی جالتے ہیں. اس نے اگنی دیوتا کی تپسشا کر کے وردان مانگیا. کہ میں تو جی نہیں جلا ہوں گا. تو کہیں بھی لکڑیوں کے دھے رکھتے کر کے او اس کے بیچ جا باکتے. لکڑی انجال جاتی رو ایسکی ایسی نکلتے ہیں. جائے ہو. ماتا جی جائے ہو. قلکہ ماتا کی جائے ہو. پضواتی تھے. تو دروکوں بھی پر اللاج کو بھگوان کی باکتی کا رنگ تھا. اُس کا باپ نہیں چاہتا تھا کہ بھگوان نارا ان کی باکتی کرے. تو میرا ہی بھگت بنجا. میں ہی بھگوانوں. پہلاج کہتے آپ بھی بھگوانے اور سب کوچھ بھگوانے. وہ گلے نے ہیرنا کرشب ایکلائی بھگوانے. تو باب بیٹے کی نہیں بنتی تھے. تو بیٹے کو مروانے کے لئے ہیرنا کرشب اُنے اپنی بہن کو. پہلاج کی بوا کو کہا. کہ تو پہلاج کو گود میں لے کر.

میں اژ جاما. نکپر کے دھیر پر. اور چاروں طرف اور جلان دھیر کو آگل گائیں گے. ترے کو تو بردان ہے. اگنی نہیں جلائیں. اب پہلاج جلکی مارجہ ہے. چاروں طرف آگ ببک ببک ہوئی. ہوا کیا اُس کو بردان تو ملا تھاگنی دیوٹان. لیکن اُس بردان کا بھگت کے درود میں دروپیوں کر رہی تھی. تو حول کا نہ جلنے والی جل گئیں. اور پر آلاج کی رکشا ہو گئی. میں جمچھ ہوتا تھا دس بارہ سال کا بابلو تھا. تو میری مانے میرا کو دکھیا. یہ دیکھن لکڑی کا دے رہی ہوگی جلائیں گے. اس میں یہ روٹ دھالتے ہیں. موٹی روٹی. آتاگی گیوں کی آتاگی روٹی گور دھال کے روٹ بنا ہے. اس کو داہیں سے بہا ہے. اور اُت تر سے دکشن. چاروں طرف. دھاگا لپیٹا. کچھ چھا دھاگا سوت کا پتلا دھاگا. میسے آتی بندھی ہے.

دھا دیواتی نہیں. سوت کی آتی بناتے. کپڑا بندھی آئی سکھا دھاگا. وہ دھاگا لپیٹ کے میری سام نہیں. وہ لی جلائیں اور اس میں روٹ دھاگا. تو میری کو لگا کی کسیں. روٹی جل جائے گی ریکن دھاگا نہیں جلائیں گا. تو جب سہاری ہو لکڑیہ جل گئیں. اور چھمٹے سے روٹی میں کالی تو روٹی تو کالی کالی جل گئیں. لیکن دھاگا سپیٹھ سپے. میری دیکھا. اپنی اسی آنکوں. اسے میں ماپنی تھا مبلو تھا نہیں. آسی ملدہ بلو. تمہرے جیتنا بارا سالگا. طب سے میری کو لگا کے باکت کے لئے اگنی دیوتا آنکوں کو لوجاتا ہے. وائی دیوتا آنکوں کو لوجاتا. لالجی مہراج باہر میں باہر آئے تھے. دھا رب داگے. وہ آن دمہرہ. تو آئیسا کو چھوہا کی اکنارے کسی ستانے. ویی وائی دیوتا جل دیوتا نہیں لگا دیا. یہاں پر ایدر ویہا سپیٹسی. شویلال کا قرآن یہاں پنے آسف میں ابھی

پش کر بش کر میں ہوں گے. وہ سے وہ میں رہتے تھے. میری رہ سویپن سالگا. ان کا بیٹھا اپنی بیٹی کو لیکر گروکوں نمکر لیے آیا تھا. یہ سیڈیوں پر سے نیچہ اتروگی تو ندی ہے اپنی. یہی سے ساوارمتی باہتیتے. اور بھواروں نے کے کارنیہ کتنا تھا. لیکر قا تھا کہ گہرپانی یہ بچنا. اس کا دہان نہیں گیا جو نانے گیا رمیش تو رمیش اور اس کی بیٹھی دونوں بھوارے میں ساوارمتی جو وہاں بہتی ہے. وہ گروکوں نمکر دنوں میں پوانی جادہ ہوتا بارشوں میں. تو بھوار میں اور دونوں بہا بیٹھی دوب میں. اور پھر کیا ہوا? کی کونسی ستنے انکو تھا کہ بہا رکھ دیا پھر ایدر آکے. ساری باتوں نے بتائیں. ابھی بیٹھی تو بڑی ہو بھی بہا بھی جیگی تا ہے. دا دا بھی جیگی تا ہے. پوطی بھی جیگی تا. تو جب آپ بہوان کے روستے جاتے تو یہ جل دیوتا. وائیو دیوتا. پر توی دیوی. اگن دیو آپ کی مدد کر کے پرسن نہ ہوتے ہیں.

سمجھ گئے. جیسے تماری ما کی سہلی. تم کو گیرتے ہوئے دیکھے. تو ارے بلے تو فلحنی کا بچالے گئے. تمارے باپ کا دوست. تمارا کنکوچ گربر ہوتا تو بچالے گا. ایسے جب بہوان کے یہ پرامس. پریمی ہے پاچہ بھوت. تو جب بہگوان کی باکتی گارتا اُس کو پنچ بھوت انکول ہو جاتے. اسے لے بہگوان کے بھوت کو جادہ روگ بوب بھی نہیں ہوتے. پنچ بھوت انکول ہو جاتے. کیکنا بڑا بہاری بھائی دا ہے. اپن چلتے بھیودھر بیشم پائنجی کے پاس جن میں جہے کو بھی گا. جاوگ قدھہ سنو اور تم کو جو کو روگا ہے. بہم روگی ہتیا ہوئی باشتہ پوہ یہ کو روگائی شاستر میں دوست درسن کی آئے کیا. اب وہ کو رمتے گا تم شدہ باکتی سے ستسنک سنو بھگوان کے ہو کر سنو.

بھم کا پھیکا ہوا آتی اب تو دیکھیں. میں ستسنگ نے بولا تھا کہ بھیم آگے جو اشمی اور آتیوں کی سوند پکر پکر کے آکاش میں پھیکڑیا گروٹ تو آکاشنیم کے بہار ابھی تک گھوم رہے. تم نے بولا ایک کیسے ہو سکتا ہے. اسے گے ترے کوئی تکڑی پھیں ہوئی. اب دیکھا بھڑے مہر آگ ماکی مانتا. اب شدہ باکتی سے ستسنک سنتے گا اور کور مٹتا ہے. کور مٹتا گیا لیکن تھوڑا سنگ لیچھے نے آگ گروٹنے گئتا ہے. مہا سنگ کیا دوپنا کور گیا گیا گیا گیا سینے گا بھیتنا دو بھگت لے. تو ستسنگ میں سدگروں میں سنگ کا نہیں کر نہیں چاہی شاستراوچن میں. اور بھگوان کا آشرائے لیکر پروشارت کرنا چاہی. بھگوان کا آشرائے لیکر آلسی نہیں ہونا چاہی. اور پروشارت کر کے اکلہ آنکاری نہیں ہونا چاہی. اپنی مطیگتی سے نرنے کر کے چلیں گے تو گیر جائیں گے. اسی لیے وید بھگوان کہتا ہے کہ یہ پر بھگ بھگ بھگ کو پراکھنا کروں.

یہ پر بھگو ہمیں برمگ یانیوں کا مہارگ میں لے. ہم اپنے انتر آتمہ برمگ کو جان کر سب دکھوں سے پار ہو جائیں. مکتات مہ ہو جائیں. تو بچے سمجھتے و جن میں جیکی قتھا سنی. تم نے پر آلہج کی قتھا سنی. وید کی پر آتمہ سنی. مہارہ ہے نا ہری ہری ہری ہری ہری ہری ہری ہری ہری ہری ہری ہری.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →