Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 23, 2026

Jan 23,2026 Friday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 184

About this episode

Jan 23,2026 Friday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 184

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

341 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 23,2026 Friday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 184

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 23,2026 Friday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 184. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

Om Shri Satguru Pramahat Maninamaham Shri Okvaseshtamahra Man Nirvan Prakarana Sargha Eksho Chawrasi Vidyadheri Bholyhi Munishwar His Prakar May Tapkarthi Virthi Om Abh Much Kobi Bharta Ke Vyauk Se Vaira Ke Obja Hai Bharta Ke Vaira Girupi Oos My Trashnarupi Kamilini Parpadi Hai Aur Use Mejal Gehi Ho Ise Jagat Much Koni Raslakta Hai He Munishwar, Iha Jagat Asar Hai Ise Mes Thitvas To Koi Ni Hai Ise Karan Much Kobi Bhaira Ke Obja Hai Mera Bharta Swaim Bhu Sansaar Se Virakta Hukar Ekanth Meja Bait Hai

Aur Vait Ko Vichartar Hai Parant Ko Atma Pat Ko Neh Prakta Hukar Vah Man Ko Stil Kar Neh Prakta Hai Parant Ko Apt Ko Kus Ka Man Stil Neh Prakta Hai Sabeshna Ho Se Rahit Hukar Vah Shastra Ko Vichartar Hai Par Atma Ka Sakshat Kar Ho Se Neh Prakta Hai Much Kobi Bhaira Ke Obja Hai Abh Am Dhan Ho Vaira Ge Se Sampan Ho Ho Hai Aur Atma Pat Pan Ki Chha Ho Hai Sharir Ham Ko Nehras Ho Hai Jai Se Sharat Kaal Ke Bail Nehras Ho Thi Hai Ise Karan Mai Yoga Ke Dharnakar Nehra Ki Ho Ise Jagati Abh Am Dhan Ho Hai Ki Akash Marga Ko Jau Ura Ho Yoga Dharna Se Akash Par Urne Ki Vhi Shakti Ho Hai Aur Siddha Marga Ki Dharna Se Siddho Ke Marga Me Bhiati Jati Ho

Parant Ko Artha Ko Ch Siddha Na Ho Hai Kaun Ke Paane Yoga Ke Atma Pat Neh Prakta Ho Hai Kaun Ke Paane Se Koi Du Khanar Hai Abh Mujhe Nirvan Ke Chha Ho Hai Mene Siddho Ke Gana Devta Vithyaadhar Aur Ganyu Ke Bhoodh Hastan Dekh Hai Parant Ko Jaha Gai Vaha Sab Tum Harii Suti Karte Hai Ki Vasishtha Ji Atma Gyan Ke Tvara Aggan Ko Nebri Tkarte Hai Jai Se Bhada Megh Varas Tha Hai Parant Ko Jaha Vaiu Chal Tha Hai Tum Megh Ko Dur Karte Hai Vai Seri Tum Hari Vaachan Aggan Ko Deor Karte Hai Jai Seri Amara Tulli Paane Start Pak Ma Aayala Bhai Anata Haim Trahe Ramp Ngai Rohar Kao Tupil Hapta Hapa

Guer Haim Trahe Ramp Ngai میرہ بھرتا جو من کو ستھر کرنے کا یتن کرتا ہے اس کو تم ایسا ہو دیش کرو کہ شگ رہی ستھر ہو اور اتما جان کو پاوے اور مجھ کو بھی اتما جان کا ہو دیش کرو ہے بھگون تم مایا سے پار مجھ کو دکتے ہو اس کانن میں تمہرے شرن آئی ہو میں ستری بودھے سے تمہرے نکتنے ہی آئی ششو بھاو کو لکر آئی ہو اور میں جانتی ہوں کہ میرا پریوجن سے دھو رہا ہے کیوں کہ جو کوئی محپوروش کی شرن آتا ہے تو نشفل نہیں رہتا بلکی سپریوجن پورونا ہوتا ہے

جیسے کسی کی کامنا ہوتی ہے اسے محپوروش سدھ کر گے تھی ہے جیسے کلپورکش کے نکت کوئی جاتا ہے تو اس کی اچھا پورونا ہوتی ہے ویسے ہی میری کامنا سفل ہو جا بے گی اسے قرپا کر کے مجھوب دیش کرو ہیمنشفر تم مانو دیا کے سموڑ رہو سب کے مانورت پورونا کرنے کو تم سموڑ تھا ہو تم سرحد ہو اردھت اپکار کی اپیکشہ بھی نہ اپکار کرتے ہو اسے میں آنات تمہری شرن میں آئی ہو مجھے آتما پت کرا ہو ویسیش تجی بولہ حرام چندرجی جب اس پرکار بیددھری نے مجھ سے کہا تب میں آکاش میں سنکلپ کا آسندرچ کر اس پر بیٹھا اور سنکلپ سے ہی ایک آدھار بھوتھ کا

آسندرچ کر اس کو بیٹھایا کیوں کہ میرا سنکلپ شدھ ہے جو کچھ چندھ کرتا ہوں بہو ہو جاتا ہے تب میں نے کہا ہی دے بھی یہ تو کہیسے کہتی ہے کہ شلا میں میرے سرشٹی ہے سو کہ ہے شلا میں سرشٹی کیسے بسٹی ہے بیدھا دری بولی ہے بکوان تمہری سرشٹی میں جو لوکالک پرورت پرسید ہے اُس کے اُتر اور کے شکھر پر ایک سوبرنا کی شلا ہے اُس میں ہماری سرشٹی ہے اُس شلا میں سرشٹی بسٹی ہے اُس سرشٹی کا برمھا میرا بھرتا ہے اور میں اُس کی سٹری ہوں تریلوں کی اس پرکار بسٹی ہے کہ اُردھا لوک میں دیوتا تو تھا پاتال میں دیتے اور ناغر ہتے ہیں

مدھ مندل میں منوش پشو پکشی بسٹے ہے اور سموژر پرورت پرٹوی جل تیج فایو آکاش بھی ہے سموژر میں کم بھرتا چیووں نے پران پاوان نے آکاش میں چلنا آکاش نے پول پرٹوی نے دھریا ویدیادھروں نے یان اگنی نے اشنتا سوریہ نے پرکاش دیتیوں نے قرورتا چلونے جکت کی رکشا کے نمید اوطار ندیوں نے چلنا اور پرورتوں نے ستھرتا انگی کار کی ہے اس پرکار سبنیتی پرمات پاکے آشرے میں رچے ہوئی ہے اور کلپ پر جنت جوں کی دیو مریادہ رہتے ہیں اسی پرکار جو جنمتے اور مرتے ہیں دیوتا ویمان پر سوارفرتے ہیں

دین کا سوامی سوری ہے راتری کا سوامی چندرمہ ہے نقشتر اور طارو کا چکر پوان سے فیرتا ہے اس چکر کے دو دروب ہے کال اس چکر کو فیرتا ہے سو فیرتا فیرتا ناشروب جو کال ہے وحقلپا کی انت میں اس چکر baggage ج NHG خی مشور پرماتما أننت ا háہہہہہ خی مشور وحقلپا کی انت میں اس چکر کے مکھ میں جہ سمعتہ ہے civilization ابد无 ln対 ga' Lizet شاہہہہہ Haven त 하면 तोажу ब। वूरdzieरvert वूर हupprinskavrinskavrins ki

नहीं सातका से है. वूर், बूरूदोऐसा रहे � select bi tikk cake दो दाई है. लूभोग excellency वूर कही बॉजर थषे ले दो ले تو بھی قربா کر کے اس شیلہ میں ہماریس رشٹی کو دیکھو. ایتنا کہہ کر ویسش چجبولے حیرام چندرچیں. اس پر کار کہہ کر وہ آکاش مارگ میں مجھے لی چلی. جیسے گندھا کو وائیو لی جاتی ہے. تب میں اور بہاں دونوں آکاش مارگ میں اوڑے. اور بھتا کاش میں چیر کالتک اڑتے گئے. تب ہم کو لوکالوک پر بھت دیکھ پڑا. اُس کے نکر جا کر اُس کے شکھر دیکھے کہ بہت اُنچے ہیں اور بڑے میک اُس پر بچھر دیکھے. شکھر ایسے سندر ہے منوک شیر سمدر سے چندرمانکلتا ہے.

وہاں جا کر میں نے مہا سندر سورنے کی ایک شیلا دیکھیں. اُس کے نکر گیا تو میں نے کہا ہے دیوی یہ تو شیلا پڑی ہے. تماری سرشتی کہا ہے. اس میں پرٹوی دویب کی مریادہ جس کا آورن چھوھ فیر سمدر ہوتا ہے. اور اُن پر جو دس دہستر یو جن پر ینت سوورنے کی پرٹوی پرورت سبت لوگ آکاش دشو دیشا تارا مندل. راتری دن کے پر کاشک سووریا چندرمان اور بھوتو کا سمحارک دیوگان ودیادھر, سدھ کندھر وورن کوبیر. اس جگت کی اتپتی پر لئے کا سنچار, پاتال کی بھومی کا مندل اشفر, نیاہ کرنے والے مروستھل کی بھومی کا نندن ون آدیک, دیتیو کو ویروت دیوتا دیکھا ہے.

یہ تو ایک شیلا ماتر پڑی ہے. ہی رام چندر جیے. جب میں نے آشچریوں کو پر آبتا ہو کرے سے کہا, تو بیدیادھری بھولی, ہی بھگوان, مجھ کو تو پرٹکشی اس شیلا میں اپنی سرشٹی دکتی ہے. جیسے شدھا آینے میں اپنے مکھ دکتا ہے. ویسے مجھ کو اپنی سرشٹی اس شیلا میں پرٹکش دکتی ہے. جیسی مریادہ دیش دیشانتر کی مجھ کو بھاستھ ہوتی ہے. اس کا سنسکار میں ردے میں ہے. اسی سے مجھ کو پرٹکشی بھاستھ ہے. تمہرے ردے میں اس کا سنسکار نہیں ہے. اسی سے تم کو نہیں بھاستھ ہوتی ہے. تمہرے سرشٹی کی اپیک شاہی شیلا پڑی ہے. تم کو شیلا کا نشچ ہے. اس کارن تم کو اس میں جکت نہیں دکتا ہے.

ہے بکوان جس کا بہاستھ ہوتا ہے وہ پدار تھا وشپ راپت ہوتا ہے. اور وہی بھاستھ ہوتا ہے. ہی منشور گروششک کو بڑیش کرتا ہے. پر بڑیش ماتر سے اشتھ کی براپتی نہیں ہوتی. جب اس کا بھاستھ کرے تو بیشتھ کی پراپتی ہوتی ہے. ہی منشور گروششک کو بڑیش کرتا ہے. اسی سے کلا کوئی نہیں جو بھاستھ کرنے سے نہ ملے. اسی کلا کوئی نہیں جو بھاستھ کرنے سے نہ پراپت ہو. اور اسی سے کلا کوئی نہیں جو بھاستھ کی پربلتا سے صدھنا ہو. جو تھ کر چھوڑے نہیں تو وش سے صدھ ہوتے ہیں. ہی منشور جو کچھ صدھ ہوتا ہے.

سو سب ابھاستھ سے ہوتا ہے. پر اتھم جب میں تمہرے ساتھ ہائی تھیں. تو مجھ کو شلا میں اس رشٹی نہیں دیکھی تھیں. کیوں کی یہ اس رشٹی انتواحق شرید میں ستے تھیں. تمہرے ساتھ دوی دروپی قتھا کے کہنے سے انتواحق شرید مجھ کو بھل گیا تھا. اسی ویشوہ کی چرچہ اور تمہرے اس رشٹی کی چرچہ کر کے مجھ کو بھاستھ پاستھ نہیں بھاستھ ہوتے. جیسے ملین درپن میں مکھ نہیں دکتا. ویسے ہی تمہرے سرشٹی کے سنگ کلپ سے مجھ کو بھی اپنے سرشٹی نہیں دکتی. پر انتو چیر کال جو بھیاس کیا ہے اس سے پھر بھاستھ ہوتے ہیں. کیوں کی جو درڑ ابھیاس ہوتا ہے اس کی جائی ہوتے ہیں. حیمنشوہر چینمات رپاد میں فورنے سے آدی جو کے شرید انتواحق ہوئے ہیں.

ارتات آقاش روب شریر تھے. جب ان میں پرماد سے درڑ ابھیاس ہوتا ہے, تب آدی بھوتک ہو کر دکھنے لکے ہیں. جب فیر بھامنا اولاد کر یو کی دھارنا سے ابھیاس ہوتا ہے, تب آدی بھوتک تاکشین ہوتا ہے. اور انتواحق تاپر کرت ہوتے ہیں. اسے جو آقاش میں پکشکنہ ایورتا پھر تا ہے. اسے تم دیکھو کہ ابھیاس کے بلسے سب کچھ سیدھ ہوتا ہے. حیمنشوہر اگان سے منشو کو اہنکاروپی پیشاچھے لگا ہے. سو درڑستیت ہوا ہے. جب شاستر کے وچنوں میں درڑ ابھیاس ہوتا ہے, تب بھاکشین ہوتا ہے. حیمنشوہر تم دیکھو,

جس کسی کو ایشتا کے پر آبتی ہوتی ہے, سو ابھیاس کے بلسے ہوتی ہے. جو آگانی ہوتا ہے, اور برمھا کا بھیاس کرتا ہے تو گانی ہوتا ہے. پرورت بڑا ہے, پرنٹو ابھیاس سے کوئی وہ سے چھورنا کیا چاہے تو بہت چھورنا ہو جاتا ہے. سمپور نبرکشک کو کھنا, سمپور نبرکشک کو کھالینا قتین ہے, پرنٹو ابھیاس کر کے, شنے شنے گھن اسے کھا جاتا ہے. آپ تو چھوٹا ہے, پرنٹو جو بسٹو پانی قتین ہو, وہ اسے آبھیاس سے سگم ہو جاتی ہے. جیسے چنتامانی اور کلپتروں کے نکت جا کر, جس پدارتھا کی چھا کرو وہ سیدھا ہوتی ہے. بیسے ہی آتمروپی چنتامانی اور کلپتروں میں,

جو جس پدارتھ کا آبھیاس کرتا ہے, وہ سیدھا ہوتا ہے اور آبھیاس روپی بھنی کا فل دیتی ہے. بالا کا وستہ سے جو آبھیاس ہوتا ہے, وہی بردھا وستہ تک رہتا ہے. یہ منشفر, جو بندھا و نہیں ہوتا ہے اور نکت رہتا ہے, تو نکت کے آبھیاس سے بندھا ہو جاتا ہے. پرنٹو بندھا و جو بیدیش میں رہتا ہے, تو آبھیاس کے کشنتа سے وہ آبندھا ہو جاتا ہے. ہی منشفر, بیش بھی آمرت کی بھامنا کرنے سے آبھیاس کے دوارہ آمرت ہو جاتا ہے. جو مشتان میں, قتوب بھامنا ہوتی ہے, تو وہ قتوب لکتا ہے اور قتوب میں, مشتانہ کی بھامنا کی چیے, تو وہ مشتان نہ لکتا ہے.

جیسے کسی کو نیم اور کسی کو مشتان نہ پریے ہے. ہی منشفر جو کچھ سدھا ہوتا ہے, وہ آبھیاس کے بلسے ہی زدھا ہوتا ہے. جو پنٹریہ ہوتا ہے, جو پنٹریہ ہوتا ہے, تو پاپ کی آبھیاس سے نشت ہو جاتا ہے اور پاپ کا پنٹریہ کی آبھیاس سے ناش ہوتا ہے. ماتا بھی آماتا ہو جاتی ہے, ارث کے انرت ہو جاتی ہے. میتر امیتر ہو جاتا ہے اور بھاگ کے ابھاگ کی ہو جاتا ہے. نیدان سپدارتھ چل ہو جاتی ہے پرنٹو آبھیاس کا ناش قداچت نہیں ہوتا ہے.

یہ منشفر جو پدارتھا نکت پڑا ہوتا ہے اور سادھاں انڈریہ بھی دیمان ہوتی ہے تو بھی آبھیاس کے بناہ نہیں پر آبتا ہوتا ہے. جہا آبھیاس رکھے سوریہ ہوتا ہے وہایشتا کی پر آبتی ہوتی ہے اگان روپی بیسوچی کا روک برمجھے چرچا کے آبھیاس سے ناشت ہو جاتا ہے حیم انشفر سنساروپی سمدر آدی انت سے رہیت ہے پر آدمہ بھیاس روپی نوکہ دوارہ جو اسے تر جاتا ہے جو آبھیاس کو نتاغو گے ہیں تو آبوشت روگے حیم انشفر جو پدارتھا اُدائھ ہو

اُس کے ابھاو کی بھامنا کی جیے تو آستہ ہو جاتا ہے اور جو آستہ ہو پر اُس کے اُدائھ ہونے کی بھامنا کی جیے تو بہا ہوتا ہے جیسے سدھا کے شاب سے پرتکش پرابت پدارتھا ناشت ہو جاتا ہے اور وردان سے اور پرابتے پدارتھا کے پرابتی ہوتی ہے حیم انشفر جو پروش شاستر سے اشت پدارتھا کو سنتا ہے اور اُس کا بہاس نہیں کرتا اُسے منوشوں میں نیچ جانوں اُس کو اشت پدارتھا کے پرابتی قبھی نہیں ہوتی جیسے بندھیا کے پتر نہیں ہوتا ویسے ہی اس کو اشت پدارتھا کے سدھی نہیں ہوتی حیم انشفر جو آتمروپی اشت کو دیا کر اور کسی پدارتھا کے وانچھا کرتا ہے

وہ انشت کے بعد انشت پا کر ایک نرک سے دوسر نرک کو بھکتا ہے حیم انیور حیم انیور جس کو ابھیاس کا بھی ابھیاس پرابتھا ہوا ہے اُس کو شگ رہی آتمرپتھ کی پرابتی ہوتی ہے جو ابھیاس کے بل سے اشت کو پاتا ہے جیسے پرکاش سے پدارتھا دیکھئے کیو وہ پڑا ہے تو اُس کا نام ابھیاس ہے اور اُس کے نیمتھا یہتن کرنا ابھیاس کا ابھیاس کہہلتا ہے جب یہتن اور ابھیاس کرتے ہیں تو پدارتھا کو پاتے ہے بارمبار چنتن کرنے کا نام ابھیاس ہے جب ایسا ابھیاس ہو تو ایشت پدارتھا کی پرابتی ہوتی ہے

انیتھا نہیں ہوتی ہے ہی منشفر چوضہ پرکار کے بھوت جات ہے جیسا جیسا کسی کو بھیاس ہے اُس کے بل سے بےسا ہی بےسا وصد ہوتا ہے ابھیاس روپی صورے کے پرکاش سے جو اپنے اشت پدارتھا کو پاتا ہے ابھیاس کے بل سے بھائی نیبرتھا ہوتا ہے اور پرٹھوی پرورتھا ہوتا ہے یہ جو بیچھا رتا ہے

اُم صحنا بوطو صحنا بنگتو صحوی ریام کروا با ہے تیجا سونا با دیتا مستو موجد بیشا با ہے اُم شانتی شانتی شانتی شریصت گردی مبخبانا کیجے ابھیاس روپی صورے ابھیاس بیچھا ابھا شانتی شانتی اُم شانتی اُم شانتی

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →