Jan 22,2026 Thursday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 183
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
430 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 22,2026 Thursday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 183. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
O Shri Sadguru, Paramatmaninamaham, Shriyok Vasishtha Mahramayana, Nirvan Prakrana, Sargha Xotirasi, Shri Vasishtha ji, Boleh Hiram Chandra ji, Chitta ke furne ka nam jagat hai, Jap chitta bahir muh kotha hai, Tab jagat rupse bhas tha hai, Or surup ka agyan hotha hai, Jap agyan hotha hai, Tab jagat brahm drad hotha hai, He say, This jagat ka karan agyan hai, Hiram Chandra ji, Atma ki agyan se jagat bhas tha hai, Jap atma gyan hotha hai, Tab jagat brahm nivrat tha hai, Vahatma apna ap hai,
He say, Atma pad me sitho, Tab jagat brahm nivrat tha hai, Hiram Chandra ji, Agyan se he jagat ki Sadde prati di hothi hai, Or usme jai si jai si bhavna hothi hai, Vaisse he rupse jagat bhas tha hai, Hiram Chandra ji, Jai sprakkar jagat brahm Satya hokar bhas tha hai, Vahaphi tum suno, Jai Agani jiv hai, Vahatma apna kotha hai, Tab mukhta nivrat tha hai, Balki agyan ke vash jadpatthar sadresh hotha hai, Tum ki chetan rup hai, Hiram Chandra ji, Jam rattu hothi hai, Tab akashrup chetam hai, Jagat fura tha hai, Or apni vasna ke anusar nana prakar ka hokar jagat bhas tha hai,
Or apni vasna ke anusar nana prakar ka hokar bhas tha hai, Or apni vasna ka hokar ka hokar jagat bhas tha hai, Jai vok ki kalpa parienta sab kriya hai, Antavahak hothi hai, Jai se hamari hai, Hiram Chandra ji hai, Tum dhe kho, Vah jagat kya hai, Kise karan se to nahi ubja, Jai se hi hi hi jagat, Swapna kalna matra se, Sat bhas tha hai, Vah se hi hi jagat kho bhi tum jhano, Hiram Chandra ji hai, Jai jho tum kho, Swapna ata hai, Usme jo puru shor padaar tha hai, Vey bhi sath tha hai, Kiyom ki brahma sath tha sarvaat ma hai, Hiram Chandra ji hai, Prabhodh hone se bhi, Swapna ke padaar tha viddhemaan bhas tha hai,
Hissi se kaha hai ki, Swapna sankal puru jagrat tulle hai, Jai se haga hai, Shukra brahman ke putra, Indra, Lavan aur gadi ka udharaan kaha hai, Hin ko Manurajbhram prattakshu hua hai, Dhirgatapakho, Jai se kaha hai ki, Prattakshu suapna hua hai, Prattakjiv ki, Aptnis rasti hai, Sankalp apna aapna hai, Ise srasti vinnna vinnna hai, Par sabkaadhe shthan atma sath tha hai, Sab srasti ka prati vimma, Atma rupi aadarsha mein hota hai, Aur sab srasti atma kaanupau hai, Jai se bhi jha se vrkshut panna hota hai, Aur mrakshu se aur mrakshu hota hai,
To bhi, Vichar se deko ki bhi jto ekhi tha, Aur sab mrakshu aadik, Usi bhi jha hai, Vesahi ek atma se aniks rasti hai prakashit hota hai, Parantu srubh se vinnna kuchin hain, Jai se ek purush soya hai, Aur usko sopna ki srasti hai, Aur fir sopna mein, Jau bahu jau bhaste hai, Onko bhi, Aapne apne sopna ki srasti hai, Heram chandra ji, Jai se aadi sopna ki srasti hai, Wahprush ekhi hai, Use ekhi mein anantas rasti hai, Chitta ke furne se huti hai, Vesahi atma satta ki asre se anantas rasti hai furti hai,
Parantu srubh se kuchhova nahin, Sabaka ashrubh hai, Jai voku apne apne srasti aggan se bhaste hai, Heram chandra ji, Jai voku apne srasti hai aggan nahin huta, Wahprush ekhi mein aadi sa da, Kana shavata ki, Wahprush ekhi mein aadi sa na maa sa na maa sa na, Jai voku apne srasti hai, Ia sotkha hai, Moruhap hain sa na maa sa na sa, Ia sotkha hai, Kayak naan naan naan naan naan naan naan naan naan naan sa, Iai hai baat sotkha hai, Iai hai ka paat delightedak naan naan naan naan naan na, اور جو ہماریس رش்டி میں سوے ہیں, ان کو سوپنا میں اور سرش்டி ہوئی ہیں, وہ ہمارے سوپنا کے نر ہیں,
حیرام چندرچی, اس پرکாر آتمتت்வ کے آشرے سے انந்த سرش்டیہ بھاستی ہے, جو جیو سرش்டி کو ستجان کر ویچرتے ہیں, وہ موکش مارکہ سے شننے ہیں, جیسے جو منوشہ شین کرتا ہے اس کو سوپنا میں چت کا پرنام ہوتا ہے, اس میں جو جیو ہوتے ہیں, ان کو فرصوپنا ہوتا ہے, تب ان کو اپنی اپنی سرش்டی بھاستی ہے, تو وہ انந்த سرش்டی انுபھا کہ آشرے ہوتی ہے, ویسی ایک آتما کہ آشرے میں جو اسان کے سرش்டیہ فورتی ہے, وہ کئی سمان, کئی اردہ سمان اور کئی வیلکشن بھاستی ہوتی ہے,
پر جیو اپنی اپنی سرش்டی کو جانتے ہیں, جیسے ایک گھر میں 10 پرش سوے ہے اور ان کو اپنی اپنی سوپنا ہوئے, تب ایک کی سرش்டی کو دوسرا نہیں جانتا ہے, ویسے ہی یہ سرش்டی بھی اور جیو کو نہیں باستی کیوں کہ سنکل پہ اپنا اپنا ہے جیسے پتھر کو پتھر نہیں جانتا ہے جو انتواحق شریر یوکشور ہے ان کو اور سرش்டیوں کا بھی جان ہوتا ہے ہیرام چندر جی ہیں واستو میں سرش்டی بھی نیراکار آکاش روب ہے جیسے سوریہ کی کرنوں میں جلابہ سوتا ہے
ویسے آتما میں سرش்டی ہے اور جیسے رسی میں سرپ بہاستا ہے ویسے ہی آتما میں سرش்டی بھاستی ہے ہیراکھو واستو میں کچھ ہوا نہیں سروضا ہے سب پرکار آتماہی اپنے آف میں ستے ہے جن کو آتما کا پرماد ہوا ہے ان کو جگت باستے ہے واستو میں جگت کسی کارن سے نہیں ہو بچا ابھا سروب ہے سمجھ جان کے ہونے سے برمہ ادوید بھاستا ہے اور آس میں جان سے دویٹروب جگت ہو کر بہاستا ہے جیسے رسی کے سمجھ جان سے رسی ہی دکتی ہے اور آس میں جان سے سرپ دکتا ہے
ویسے ہی آتما کے آس میں جان سے جگت کا بھان ہوتا ہے حیرام چندرچے میں نے اس دیوی سے پرشن کیا کہ ہی دیوی تم کہہ سے آئی ہو تمہرہ ستان کہہ ہے تم کون ہوں اور یہاں کس نے متائی ہو تبوہ دیوی بولی ہی منشفر برمہ روپی محاکاش کے عنوکہ بھی جو عنو ہے اور اس کے چدرمے بھی جو چدرہ ہے اس میں تم رہتے ہو اور تمہرہ یہ جگت بھی اسی میں ہے تمہرے سرشتی کا جو برمہ ہے اس کی سمویدن روپی کنیا نے
یہ جگت رچا ہے اس تمہرے جگت میں پرتوی ہے اور اس کے اوپر سموڑ رہے جس نے پرتوی گھیری ہوئی ہے اس کے اوپر دونہ اور دیب ہے اور اس دیب کے اوپر دونہ سموڑ رہے اس پرکار پرتوی کو لنگ کے آگے سوورنا کی پرتویاتی ہے جو داش سہستر یوجن پرینت محا سندر پرکاش رب ہے ہس نے سوریہ چندرمہ کے پرکاش کو بھی لجتیا ہے اس کے بعد اور لکالوک پر بط ہے جو سروطر پرسید ہے اور ان میں بہت سے نگر بستے ہے کهی اسے صطان ہے جہا سداپ courage رہا تھ él جسے غیانی کی رDIA میں
صدا پرکاش رaientہتے ہیں کهی اسے رھی جہا سربادہ انطقار ایرتا ہے جسے غیانی کی رDIA میں انطقار رہتے ہیں کهی اسے بھی صطان ہے جہاOOK رتکش پدارت decision جہاں پرتکش پدار تھا ملتے ہیں جہی سے پندیت کے ردائے میں ارھتھ پرتکش ہوتے ہیں کہہی ایسےستھان ہیں جہاں پدار تھا نہیں ملتے ہیں جہی سے مورکھا کے ردائے میں بیدھ کا ارھتھ نہیں پرکٹ ہوتا کہہی ایسےستھان ہیں جن کے دیکھنے سے ردائے پرسند نہ ہوتا ہے جیسے سنتو کے درشن سے ردائے پرسند نہ ہوتا ہے کہہی ایسےستھان ہیں جس میں سدا دکھے رہتا ہے جیسے اگانی کے سنگتی میں سدا دکھ رہتا ہے
کہہی ایسےستھان ہیں جہاں سوریوں اُدائے نہیں ہوتا کہہی سوریے چندرمہ دونوں اُدائے ہوتے ہیں کہہی پشوہی رہتے ہیں کہہی منوش شہی رہتے ہیں کہہی دائیتے اور کہہی دیوطاہی رہتے ہیں کہہی کسان رہتے ہیں کہہی درمکہ ویوہار ہوتا ہے کہہی ویدیادہ رہی رہتے ہیں کہہی اُنمت تحاتی ہیں کہہی بڑے نندنوان ہیں کہہی ایسےستھان ہیں جہاں ساستھر کا بچار ہی نہیں کہہی ساستھر کے بچاروان ہیں کہہی راجہی کرتے ہیں کہہی بڑی بسٹیا ہے کہہی اُجاد وان ہیں کہہی پوان چلتا ہے
کہہی بڑے خات چندر ہیں کہہی اُردوش شکھر ہے جہاں بیدیادر اور دیوطا رہتے ہیں کہہی مچہ یاکشور راکشہ سے اور کہہی بیدیادر اور دیویہ محمد رہتے ہیں اسی پرکار آننت دیشہ اور ستھانوں کی بسٹیا ہے اُس لوکالوں کے شکھر پر ساتھ یوجن کا ایک طالب ہے جس میں کملتے ہیں سب اور کلپر بکشہ ہے اور وہاں کے سب پتھر چنتامنی ہے اُس کے اُتر اور ایک سواننا کی شیلا پڑی ہے جس کے شکھر پر برمہ بشنوں اور ردرہ بیٹھتے اور بلاس کرتے ہیں
اُس کی شیلا میں میں رہتی ہوں اور میرا برطا اور سمپورنا پریوار بھی وہی رہتا ہے ہے منشور اس میں ایک وردھ برامھان رہتا ہے جو اب تک جتا ہے اور ایکانت جا کر سدا ویدھ کا ادھین کرتا ہے اس نے مجھ کو اپنے ویواحا کے نمیدتا اپنے منس سے اب جائے تھا اور اب میں بڑی ہوئی ہو تو وہ میرے ساتھ بیواح نہیں کرتا وہ جب سے اب جائے تب سے برمہ چاری ہی رہتا ہے اور بیٹھ کا ادھین کر کے بیراکت چتھ ہوا ہے ہیں منشور میں وسترور بوشنوں سے یکتھ ہوں
چندرما کی نائی میرے سندر انگہ ہے اور میں سب جو کے مہنے والی ہوں مجھ کو دیکھ کر کام دے بھی مرچھے تو جاتا ہے فولو کی نائی میرا حسنا ہے اور سب گل مجھ میں مہلکشمی کی میں سکھے ہوں پر مجھ کو دیا کر وہ برامھان ایکانت میں جا کر بیٹھا ہے اور سدا ویدھ کا ادھین کرتا ہے وہ بڑا درگہ ستری ہے جب میں اتپن ہوئے تھے تو وہ کہتا تھا کہ میں کچھ کو بیا ہوں گا پر اب میں یوان اوستھا کو پر آتا ہوں تو دیا کر ایکانت میں جا بیٹھا ہے ہیں منشفر سٹری کو سدا بھرتا چاہئے اب میں
یوان اوستھا سے جلتی ہوں بڑے طالاب جو کمل سہیت درشتیگت ہوتے ہیں وہ بھرتا کے بیوک سے مجھے اگنی کے انگارے سے لکتے ہیں نندنوان آدیک بڑے باغ مجھ کو مروستھال سے لکتے ہیں ان کو دیکھ کر میں ردن کرتی ہوں اور نتروں سے ایسا جل بہتا ہے جیسے ورشا کالکامیگ برستھا ہے جب میں مکھ آدیک اپنے انگو کو دیکھتی ہوں تو نتروں کے جل سے کملینی دوب جاتی ہیں اور جب کلپتروں اور تمال برکشے کے فولوں اور پتروں کے شیئہ پر شیئن کرتی ہوں تو انگو کے سپرشے سے فول جلتے ہیں جس کمل سے میرا سپرش ہوتا ہے وہ جل جاتا ہے
یہ بکوان بھرتا کے بیوک سے میں تپی ہوں جب میں برف کے پروت پر جا بیٹتی ہوں تو وہ بھی اگنیسا ہو جاتا ہے میں نانا پرکار کے فولوں کو گلے میں دالتی ہوں تب بھی تپن نہیں نیو رتا ہوتی ہے میرے بھرتا کے دیھتری لوکی ہے اور اس کے چرنوں میں سدا میری پریتی رہتی ہے میرے گرھا کے سب میں گرھا کے سب آچار کرتی ہوں اور سب گنوں سے سمپن نہ بھی ہوں سب کو دھارن کر رہی ہوں سب کی پرتی پالک ہوں اور گیے کی مجھ کو سدای چھا رہتی ہے ہی منشفر میں پتیورتا ہوں جو پروش پتیورتا سٹری کو گرھاہن کرتا ہے
وہ بہت سک پاتا ہے اور تینوں تاب سے رہیت ہوتا ہے کیوں کی اس میں سب گل ملتے ہیں وہ سدا بھرتا میں پریتی کرتی ہے اور بھرتا کی پریتی اس میں ہوتی ہے ایسی میں ہوں پر مجھ کو دیا کر وہ برامھن ایکانت میں جا بہتا ہے اور سب سمپنے بیت کا ادھین اور بچار کرتا رہتا ہے میرے بھرتا نے کامنا کا دیا کیا ہے اس کو کوئی چا نہیں رہیں اور میں اس کے بیوک سے جلتی ہوں ہے بکوان وہ سٹری بھی بھلی ہے جس کا بھرتا بھی باہ کر کے مر گیا ہو گواری بھی بھلی ہے اور جو بھرتا کے سنیوک سے پر اتھم ہی مر جاتی ہے یہ بھی سرشت ہے پر جس کو بھرتا پر آپ تو ہوا ہے
پر ان تو اس کو اس پرش نہیں کرتا تو اس کو بڑا دکھا ہوتا ہے ہی منشفر جو پروش پرماتما کی بھامنا کے سنسکار سے رہیت اتھم ہوا ہے وہ ویسے ہی نشفل ہے جیسے پاتر بھی نہ انن نشفل ہوتا ہے مطلب یہ ہے کی سنتجن تیرتھا آدیک سے رہیت پاپ ستانوں میں دالا ہوا دھن نشفل ہوتا ہے جیسے سمدرشتی بھی نہ بود اور ویشا کی لجن نشفل ہے ویسی ہی میں پتی بھی نہ نشفل ہوتا ہی بھکوان جب میں شایہ بچھا کر شین کرتی ہوتا تو فول بھی جل جاتے ہیں جیسے سمدر کا بڑاگنی جلتا ہے ویسے ہی کم لو کو میرے انگہ جلاتے ہیں
ہی منشفر جو سکھ کے ستان ہے وہ مجھ کو دکھ دائے گھے اور جو مدھے ستان ہے وہ نہ سکھ دیتے ہیں نہ دکھ دیتے ہیں ہی منشفر اس پر کار میں تب کرتی فرکتی ہوں اب مجھ کو بھی بھرتا کے بیوک سے ویراغ کے اوب چاہے بھرتا کے ویراغ کے روپی اوز میری ترشناروپی کملینی پر پڑی ہے اور اسے میں جل گئی ہوں اسے جگت مجھ کو نیرس لکتا ہے ہی منشفر یہ جگت اصار ہے اسمس تھیت وستو کوئی نہیں اس کارن مجھ کو بھی ویراغ کے اوب چاہے میرا بھرتا سویم بھوس سنسار سے بھی رکتا ہو کر ایکانت میں جا بیٹھا ہے
اور بیدھ کو بیچارتا رہتا ہے پرنٹو آتماپت کو نہیں پر آتا ہوا وہ من کو ستھر کرنے کا اوبائی کرتا ہے پرنٹو ابتک اس کا من ستھر نہیں ہوا سب اشناو سے رہیت ہو کر وہاں شاستر کو بیچارتا رہتا ہے پر آتما کا ساکشات کا رو سے نہیں ہوا مجھ کو بھی ویراغ کے اوب چاہے اب ہم دونوں ویراغ کے سے سمپن ہوئے ہے اور پرمپت پانے کی ہمیں اچھا ہوئے شریر ہم کو نیرس ہو گیا ہے جیسے شرد کال کی بیل نیرس ہوتی ہے اس کارن میں یوگ کی دھرنہ کرنے لکی ہوں یہ شکتی اب مجھ کو اتپن ہوئی ہے کی آکاش مارگ کو جاؤں اور آہوں
یوگ دھرن سے آکاش پر اڑنے کی بھی شکتی ہوں ہے اور سیدھ مارگ کی دھرنہ سے سیدھوں کے مارگ میں بھی آتی جاتی ہوں پرنٹو ارھتا کچھ سیدھنا ہوا کیوں کے پانے یوگ کی آتماپت نہیں پر آبتا ہوا جس کے پانے سے کوئی دھکھنا رہے اب مجھے اس نیروان پت کی اچھا ہوئے ہریو ہریو ہریو ہوں سحنا بوتو سحنا بناتو سہویریام کروا بہیں
تیجس کے نابة ہی تمستو مابید بھی شابہیں ہوں شانتے ہوں شانتے ہوں شانتے ہوں شریسد گردے و بگوانا کی جہے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sand...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 12,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya