Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 21, 2026

Jan 21,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Jan 21,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

474 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 21,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 21,2026 Wednesday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ थोzyć तरमें अधीर यह खोओा करृ में गա। आज इब अपना हैろう, जेह तागन ये ग्योग व Gothais धŏ तभी सुऒा हूने क गusions गगानासंा 이거 ली शी में गहे मिरा क हू अ meisten व्ते है ब्हाथओ cyberaks handic वस जे courage यहर भाई जे हा फंछो इसा ऀधocation मेे egg மہیش, Indravarun, Sabdeuta, or Jimu kendar jo Devattu hai.

Hussab ke Mool Brahma ko Namaskar hai. Jaha se Suriya, Udayo hota wa jaha antotah hai. Arthat Gyan ka Suriya Udayo hua. Aur firatri ko Gyan ka Suriya shantu gheso hua hai. To jis jis jis utpan hui. Nyaan se Udayo hua. Subhan. Aur kithna purfur hai. Aur fir jis mi antua. Us par Brahma deyata ko. Aapna aapasumaj ke namaskar hai. Usi mi vi shanti vati. Ho Brahma deyata maa. Tam deyata sarveya arpita hai. Us deyata me saam ko charpan hai. Neikar oto bhi hai. Neikar oto mojo dhai hai. Neikar oto me me me me me me ro. It nahi saam aj me aadaya to sakshat kare.

Ho mo mo mo mo mo. He om om bolne ki satabi usi om sarv deyata saitoti. Emul mantra us Brahma deyata ko. Teen hai. Kham, Kham, Om. Om, Kham, Kham. Us Brahma deyata ki biji mantra hai teen. Kham, Kham ja penge tahatate ka hai bhi pilo bhi bhi. Pilia jaundas hai door hai ka. Jagade pati pati. Lekini deyata me khalitnai nae teen bhi bhi mantra hai. Saare bhi bhi mantra ishi se purte. Ishi me se dhyan deyata hai. Ishi me leinut. Ishi se shaktilata hai. Ishi se pruthi se saare bhi shaktilata hai. Aapne apne asanskaro kano saa bhi bhi.

Pade bhanjata hai. Raksha bhanjata hai. Lata hai bhanjata hai. Lekin mool sabka pruthi. Lekin pruthi me deyata hai deyata hai. Brahma deyata hai. Ishi se surya hai. Hig se kar me pata hai slohaktan. Kar man kha tei surya deyata hai. Aur bhadle me urjade teen. Aur saara chakkar char raha hai. Lekin surya mei ye khane ki aur deyata hai. Deyne ki satthaa deyata ki hai usko namaskar hai. Hig se chanda hai. Ho se deyata hai. Garbha pustra kar tha hai. Shukla paks mei garbha par tha hai. Aur magar baatcha ho ho. To shukla paks mei. Chanda ki chandni nabi pe padeh. Atva chandrama ki chandni kha hai garbha pari.

Aur rustupust khora kachcha hai. Chanda chandrama ki kirna hai, chhe parthe yeh, chhe parthi yeh, chhe barthi yeh. Abhikainyam bhuai kar da hawal mei. votes na nai parleka bhu leka je tna. Dhoo pa rchaay milege to pa leka. To doo pa rchaay karni ki je sde uta ki satthaa hai. Bho surya jde utaar, surya jmeh jho dewa tha hai. ایدھا مگن پڑے گھا ہے گھا ہے نا مہمہ

تو گھنپتی دیوٹا کارتیگ دیوٹا انڈر دیوٹا یہ سب ان کو میں ارپن کرتا یونی کا ہے میرا نہیں ہے کیوں کہ میرے میرے کی ممتائی مسیبت میں دالتی ہے اونی کا ہے لیکن اون دیوٹا میں جو ہے سب اس دیوٹا برمد برمد ساکشات کھا دیئے ایک دم میں اب کتنا متھاٹے کو ریشی کو دم دیوٹا سرے ارپی تاہا جاں سے سوڑی ہو دیا ہوتا ہے ارٹا گیان کا سوڑی ہے ہوا دھا راتری کو شاہمت اس برمدے ہوتا اب ہوا ہر کا سوڑی ہے ہو دیا ہوتا ہے آستو ٹا ہے آستو ٹا کے بعد بی راتری کو تو جاگرن رہتا ہے پھر بھی جس میں بھی شرانتی پاٹا ہے اس دیوٹا کھنمس کا

وہی دیوٹا ہمارا آپا ہے ہمی ہے ایساک شاہتا ہے ہم اتنے نہیں ہے وہی ہے سریر نہیں ہے من بھی نہیں ہے اسی دیوٹا سے پھر پر آتی ہیں یہ وہی دیوٹا ہے وہی دیوٹا ہے ہمی لیچی کی دیکھوں ایک لیچی کتنا اس میں پھن کور میں دیوٹا ہے کہ سی سندہ کیسا دیوٹا کلہ کار ہے آم کی اپنی دیوٹا ہے پتے پتے کی کہ سی سندہ دیوٹا دیوٹا ہے یہ جو شو بھا کے ورکس لگا ہے تو یہ دیوٹا کی شو بھا ہے دیوٹا ہے شو بھنیم ورکس من کے کھڑا ہے چترگار میں جو دیوٹا چتر مریا ہے لیک لیکا ہے سب اسی دیوٹا ہے

چترگار میں میٹ کے چتر منا ہے جس دیوٹا ہے اور چتر دیوٹا ہے دیوٹا ہے دیوٹا ہے یہ جس دیوٹا ہے سب اسی قور منا موجی موج ہے آنان دی آنان دی اور اسی سر پگے روپ میں دیوٹا ہون ہے تو وہ بھی ہون دیکھیں پیار سے وہ دیوٹا آنان دیوٹا ہے سکھ روپ ہے اور سب کھا ہپنا ہپا ہے یہ شانی یہ درکہ دیوٹا ہے درکہ دیوٹا ہے آ کرتی آلگ گمبارے آلگا ہے لیکن اس میں آو کاش اور خواکہ وہی کی بھی موشن کے بعدی گبارے اُڑتے وہاں وہاں وہاں کی بھی سب گت میں را سایاں کھا لی گتنا کوئی بلیحاری وہ گتگی جا گت پر گتوئی پر گتو ہے سکھار کر لبس گسمین دیوہ

آو ہویش ہے کون سے دیوٹا کی لیوٹا ہے پولی اسی دیوٹا اندرا کوئی آکروٹی والہ نہیں ہوتا ہے ورون کو بیر منتر کے پر باو سے ہے اندرا ورون کو بیر اور سو جگا پر اندرایسوات کیا سو اندرا بنیں گے اب سو اندرا ہے گیا پنی تیتی کال میں حجارو جگا پر اندرایسواتے تو شاستر میں چینٹنوارننوہ کی دیوٹا آکروٹی نہیں ہوتی وہی امرتی دیوٹا ہوتا اب روٹی تو ہوسی دیوٹ سے پیدا ہوتی ہے ہوسی دیوٹ سے ہے دکتی اب روٹی اور ہوسی دیو میں شان توتی اتنہ سرہ لہی پر ماتنہ کا ساک ساتھ کر اب روٹی اتپن ہوئی اس ہاتھ مدےوٹ سے اب روٹی چلی دکیوٹ سے اب روٹی بدلی ہوسی سے دکی ایسا نہیں ہوت

ایسا نہیں ہوت جنجد میں کائے کو پرٹے سویکار کر لگوک موک مو جوک ایسا ہوت ایسا ہوت دیوٹا کو بنانا نہیں ہے دیوٹا کے پاس جاننا نہیں ہے جگت بھی بنانا نہیں ہے اور جگت کے پاس جاننا نہیں ہے اجگت سے بہار جاننا کہا جاؤ گے جو ہے جو کہتی سمجھلوں موجی موج ہو گے تم دیوٹاہ سرے ارپیتا میندا کرو کپرچار کرو تو ارپن کپرچار والے میں بھی تو کپرچار سنگ والے میں تو اور سمپیتی بھارے میں بھی تو تو جہی ارپن ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں

ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں تو محری, حری, حری, ہر سمعہ ہے, ہر ستان میں ہے, ہر جگا پر ہے لیکن لوگوں کا پرانی آدتے ہیں, میرا ناموں, میرا ناموں اُن کو پتای نہیں کہ جو یاس چاہتا ہے, اُس کو یاس چھوڑ دے تھا ہے جو مان چاہتا ہے نے اسکم مان کی بریب دشاؤتے ہیں مان پڑی ہے جہر کی کھائیسوں مر جائے چاہ اسی کی راکے وہ بھی ہتی دکھپا ہے

حرنا کشپوں نے مان کی چاہتے ہیں میں حرنا کشپوں میں بگوان بریترہ مارا گیاں مان نہیں چاہتے تو بہت مان ہو جاتا ہے اور جو مان آبے اور پہروں وہاں سے باگ جاتے لوگ جو مان کا بھیکھا ریوان سے لوگ باگ جاتے لیکن جو مان چاہتا نہیں دوسروں کو دیتا ہے وہی لوگ مان دے نے کے لئے باگے باگیاتے مان پڑی ہے جہر کی ستسنگسون کے نکال دے تھے اهم کا جو رو طبیو کو پھیکھا وہ لے میری چلے ہو گلے میری چلے میرا ناموں میرا ناموں ہرے مان کے رجوی دیکھا میسرن ہادماؤس کا سریر یہ بھی گندگی سے آیا باگ کے بون ماتی بون اسے بنا سریر اسے رکھا وانام اور یہ میرا ناموں مرے جا رہے

پریشان ہوئے جا رہے مانا ایتھا لانے نے ارپیت کیا پھلاغنا داتا ہے رہے کنیرت ایک بون دوالد داتا کیا ہے تم دیوہ سر بیشان ارپیتا وہی داتا کو ہر پنے سک تم سہمو داتا مجھے ہوگے داتا کو ہر پیت کرتے کرتے اپنے آہم بھی ارپیت ہو جائبہ آپی داتا ہوگے پھر بولولا کتنا بھی بڑا بنا لیکن ہے توچھے سمندھر کو ارپیت ہو جائے تو خودی سمندھر ہے بولولا سمندھر کو ارپیت ہو جائے ابھی بھی سمندھر کے بلسے جیرہ اور پانی بولولے میں جو پانی ہو سمندھر کا یہ ایلی اپنے بولولہ میں بڑا بولہ بڑا تو مروھ ہو لڑھو بولولیا پس میں لڑھتے جا بڑھتے تکراتے ہیں ان کو پتا نہیں

کیسا بوئی جل دیوتا ہے اور جل میں بھی جو دیوتا ہے اسے گا مرمہ دیوتا ہے اگنی میں جو داہا کہ اس دیوتا ہے جل میں جو سوا دیو اس دیوتا ہے پر تھی میں جو گند ہے اس دیوتا ہے آپ کاش میں جو طور ہے لوگوں کو دینے کی اسی دیوتا ہے اور اس کا بھائدہ اٹھانے والے جو جیو جاتا ہے وہ بھی اسی دیوتا ہے کہ اس پھنے سے دن سب دیکھ رہے ساہی وہی دیو ہوا نا تم دیوہ سروے ارپیتا ہے اس دیو کو سب کو سرپیت لیکن کس تو کرنا چاہی ہے وہی مصیبت ہے کس تو پاننا چاہی ہے مروھ پر

پاپا کر چاہنوں وہاستنا چھوڑ دیو آنکار چھوڑ دیا اپنے آپ آتا ہے سب اپنے آپ ہو دیو لینے والا بھی ہوئی دیو دینے والا بھی ہوئی دیو اپنے آپ میں ہٹا دو بس مو جو ہی اس وگندی کس دیوتا نہیں ماری اور کون دیوتا سوگندی کا مدہلے رہا ہے پنیو گندھم پرتویام چا پرتوی میں جو پنیم میں ساترک گندھے وہ میں تو ہی ساترک سوگندھے نا سوگندھ نہیں گا سوگندھوں پر پیم کی بیوتے لیکن کام دکار ہوتے جا کوتے کہمی کلوں کی لیکن یہ ساترک ہے دیوتا کو ارپن کیا پھول پر پر ساتھ لیا آہاں مهگوان کی پر ساتھ ہے لانے با بنا بی باگوان کی ساتھ سے

دیکھا بی باگوان کی ساتھ سے ٹو ٹا بی باگوان کی ساتھ سے اور گجرہ بنا بی باگوان کی ساتھ سے آہاں بی باگوان کی ساتھ سے کیسی لیلہ ہے کتنہ آنم میں موجہ شانتی کہاں خوزنے جا ہو کالی سمجھ لو اسمتی کو سمجھ میں ہلٹی سمجھ میں دن رات خوے رہتے اسی سمجھ کمی قبار ملکے تو ٹکنے پاہتے ٹکنے تو با سو گیا کام ٹکنے کے لئے کام تو میں خسون کے ایکانت میں چلے جا ہوں امرگو رو جی کی قربہ ملک پر ایکانت میں ساتھ سال اسی میں رہے گے دا مو آئے اسی کی چارچہ اسی کی ہوں جو بھی ابھی بھی جتنا بھی اس میں گہرے اترٹے اپنے سہج ہو جاتے ہیں تو سہج میں دیو ٹا ہے اس کو بنانا نہیں ہے ایشور کو پانا نہیں ہے بنانا نہیں ہے دور نہیں ہے

دور لب نہیں ہے جو اللہ اسے اس کی ایڈرس فاکر اسی میں ایڈرس قتیم بھی نہیں ہے یہ ایڈرس بتا رہوں تم دیوہ سر بھی ارپیٹا یہ ایڈرس ہے تم دیوہ سر بھی ارپیٹا اس دیوہ کو سب کو چارپیٹا جا سے برٹیوتتی ہے بنتا ہے پھر جس میں لین ہوتا ہے سرسٹیوت پن ہوتی دیکھتی ہے اوپا دا پیوتی لین ہوتی اسی دیو کو سب ارپیٹا ہے اپنی ممتا ہے اٹان ہے ارپیٹا ہونے ہونے ہونے ہونے ہونے ہونے پھر کو کسی نے بتایا نہیں تھا لیکن سید پر میں ایک ایک کار کھا تھا تو ایک ایک دیو تھا کرس مگوانشی بگوان جو لی لان لکس می دے بھی پہنا آپ کھالوں

آپ کھالوں پھر ایک بچتابلے میں ایک کھالوں ایسے کر گا کھا تھا تھا تھا تھا تھا ایک دنا ایک مائی آئی اونی دنوں میں پھر مائی آئی پڑے پوتر جل میں کھونے کس میں بولے آسوسک پاویں گے نردوش چھوٹ جل دی آویں گے ویٹے گھر آئی مہا بھاگی آسومل کے پام لگی اسی دیو تاکلی لہ ہے جو سب دے ہو بہنے ہے اسی کو میں کھلا تھا تھا پھر تو اپنے بارتا تھا لیکن میں آپ کھالوں پھر ایک آتگور بچا تھا میں کھالوں پھر ایک آتگور بچا تھا دنزبارہ سالکی ہمر میں ایسا کچھ ہو نہیں لگے ہے ہری ہو مہری شری ہری پر ہو ہری نہیں تو ایتنا کھو پر چاہر ایتنی آم دھی ٹکھنے کوئی ٹکتا نہیں باہجاتے سب بچا رہے

اس دیرتا میں ٹکے تو کھونوں اس کو گرا سکتا نانکہ دو بار جل میں دالتا بھی نانکہ کو کھا میٹا سکے ٹک گئے کبھی جیٹک گئے رام کراسنہ رہے جو اس دیو میں ٹکا ہوتو امیٹ ہے دیو امیٹ ہے نہا پر ماتا جو سری میں ٹکا تو براہال ہے سری میں ٹکنہ رہوں کا راستہ ہے اور اس دیو میں ٹکنہ رام کا راستہ ہے بس پھنتہ نے انتو گیا میں ٹک گئے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →