Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 21, 2026

Jan 21,2026 Wednesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 21,2026 Wednesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

1,462 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 21,2026 Wednesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 21,2026 Wednesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

بھگوان رام جنگل بگب بن میں گئے کوشلیمان کو دوکھ ہوا تھا اور بھرد بھائی سے تھوڑی اپرام ہو رہی تھے کوشلیہ جی بھرد کو پتا چلا کے مان میرے سے نارا جی اس کا کارنے مان کو کسی نے سنسکار دالدیں کے اس کے پیچھے بھرد کا ہاتھ ہے تو بھرد کو بھولتے تھے کوشلیہ جی کو کہ میرا ہاتھ نہیں پھر بھی کوشلیہ جی کامان بھرد کے لئے اتنا اس نہیں سے سمپن نہیں ہوا آکھر ایک دن بھرتنے کہا کہ مان میں سپنے میں بھی جار نہیں کر سکتا ہوں کہ سوی رام بن جائے اور میرا جگر

اس کے بیچھے میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے آپ کو اس بات کا ویشواص میں کیسے دیلوں اگر میرا اس میں تنیک بھی ہاتھ ہو تو میری ماغماظکشنان کا پنیانا میری کارتی کماظکشنان کا پنیانا میری بےسا کماظکشنان کا پنیانا میری کوشلیہ جینے کا بس بس بس بس بس مجھسند ہو شو گیا ماغماظکشنان کے کی پھنி کی کا سمکھہ رہے, جس کا مطلب تمہرہ ہاتھ نہیں ہے, اب میرامن مان بھی ہے. پرانوں میں قتاہتے, کہ برامن تھا, جیمان بھر اس نے دھنگ کم آیا. اپنے نیم, آنیم کا پرواک کے مینہ. اب بڑھا پہ آیا, اب دیکھا کہ پر لک میں تو دن ساتھ نہیں دے گا. اور اتنے میں ایک دیو یوک سے چور لے گای دن.

تو دن کے دکھ سے دکھیوہ اور بڑھا پہ میں اپنے کیا کروں. اتنے میں اسے ایک شلوک, شلوک کا ایک چراہنہت لگ گیا, کہ مہگم آج کے سنان سے بیقتی کی سدگتی پر سورگتی پر آبتیوتی. تو اس نے مہگکہ سنان شلوکیا. 9 دن سنان کی, 10 دن تو ٹھران سے شریق کرش ہو گیا اور مر گیا. دوسرا کوئی اس نے پنے نہیں کیا تھا. لیکن مابکہ سنان کی پنیوں کے پر آبہوں سے وہ سورگوں کو گیا, ایسی کا تھا بھی آتی ہے. یہ ترث سنان کی مہیمہ ہے. ترث تین پرکار کی ہوتے. ایک ہوتی اس تھاورتیرت پپنی جگا پر نیسے ہر دوار ہے کاشی ہے پر آگ ہے.

شے تو مندرام میں شر ہے اور بھی گنگ ہوتری جمناتری. ان کو اس تھاورتیرت ہوتے. دوسرے تیرت ہوتے, چلتے پیرتے, ان کو جنگام تیرت ہوتے. سری کرشنہ نے کہا کہ اس تھاورتیرت ہوں میں رہنے سے نیم پال کروں. شنان آدی کرنے سے سمع پان بیتنے کے بعد ہدمی کو سکشانتی دیتے, پر آبہ ہوتا ہے. لیکن جو جنگام تیرت ہے, چلتے پیرتے, سنت, سنت جان بیٹے اور ستسن جان ہوتا ہے وہ تیرت ہوتے. تو وہ جنگام تیرت ہے, شہج میں پاون کرتے. تو ایک اس تھاورتیرت ہوئے دوسرے ہوئے, جنگام تیرت ہے. چنگام تیرت ہوتے وہ اس تھاورتیرت کی پر آنے کرتے. چلتا ہے. ان کو ستسنگ روپی تیرت میں

نانے کا او سرمی گیا, وہ باہر کے تیرت ہوں میں ناوی نہ ہے, تو ابھی ان کو نانے کا لاب ہوئی تیرت ہوتے, ستتیرت ہوں, شماتیرت ہوں, شاوچتیرت ہوں, یہ وجہ. دانا متیرت ہوں, گیانا متیرت ہوں, دہانا متیرت ہوں, بغبت دان بھی ایک پاون پاون تیرت ہے, بغبت گیان بھی ایک تیرت ہے. اهم کار چھوڑے بھی نہ, جروت مندکوطن سے مند سے بھی چاروں سے, مدد روپ ہونہ یہ دان بھی تیرت ہے. ستتی بھی تیرت ہے, برم چاری پر مدیرت ہوں, سنیم رکنات اور اندریوں کو بگاروں سے بجانا, یہ بھی تیرت ہے. تو یہ تین تیرت ہوں, یہ جنگم تیرت, ستاور تیرت ہے, جنگم تیرت, اور ستتیرت شما, شاوچتیدان, سمران آدي ہے,

حدیات میکتیرت ہے. تو ماغم آس Oder ان té نہیں进نٹ پر جدا ہوگیا் تو یہ چیگے ہے. آengage کی seen ونگی ہوگیا ہے. ہلاگی وہتے ہیں ہلاگی ικάaria ہلاگی ہلاگی سے ہوا گ вечfta ہلاگی ہوگیا ہے. ہلاگی تو میں نہ بھر ماغ ماغ اس کا نان نہیں کر سکتے تو ایک آدیسی سے لے کر اگلی پورنی ماغ تک کہ یہ چار دن رو بھی شنان کرتے ہیں تو اس کا میں نے برکے شنان کا پر بھاو پنیر وہ سے پر آپ تو تھا ایسا بھی آتے تھوڑے سپڑھا پڑھا سونادوں پھر نارہ جیوں انڈرپلوں سونوں ساربات ماغ ماغ اس کی اس نان کا پرارم پوش کی پورنی ماغ سے ہوتا ہے

بھارتی سمتھ سر کا گیارہمہ چانرماس اور دسوہ سورماس ماغ گھلاتا ہے اس مہنے میں مگھا نقشتری اکت پورنیوہ ہونے سے اس کا نام ماغ پڑا دھارمیک درشتی کون سے اس ماغ کا بہت ادھیک مہتو ہے اس ماغ میں شیطل جل کے بھیتر دوب کی لگانے والے منوشہ پاپ مکتو ہو سورگلوک میں جاتے ہیں ماغ ماغ میں ماغ ماغ میں ایک ٹائم بھوڑن کرنے سے دوسری جانوں میں دنوان کل میں جان میں لے گا اب ایک ٹائم بھوڑن کرنے سے کیا ہوگا کہ ویسی ماغ ماغ دیری دیری گرام ہوگا تو سوستو بھی رہے گا تو سر تو بھن بھنے گا جادا کھائے گا تو آلہ سو تم بھن تو یہ سوستے کے ساتھ ساتھ پھنی اللہ کی ویوازتا ہے اپنے پر ہوں میں

ویراتوں میں ماغ ماغ ماغ کی دوادہ شیطی تھے کو دین رات اپو آس کر کے ماغ ماغ ماغ دھو کی پوجہ کرنے سے اپاسک کو رہج سوی اگڑ کا حل پر آبتا ہوتا ہے جین منوشوں کو چیر کالتک صور گلوک میں رہنی کی چا ہو اُنے ماغ ماغ ماغ میں صورے کے مقر راشے میں اس تھیت ہونے پر اوش شیس نان کرنا چاہی ماغ ماغ ماغ کی ایسی بھی شیستا ہے کہ اس میں جہاں کہیں بھی جل ہو وہا گنگا جل کے سمان ہوتا ہے ماغ ماغ کی ماغ ماغ کی جہاں بھی پانی ہے جہی ساہ برمتی میں ہو جہی نار ابدا میں ہو گنگا جل مانا جہتا جہی آپ کے گھنگے ہو گنگے ہر کر کے نال ہو پر اچین کال میں نرمدہ کے تٹ پر

صورت نامک ایک برامحن نیواز کرتے تھے وہ سمست وید ویدانگوں دھر مشاستروں پورانوں کے گیاتا تھے ساتھ ہی انہوں نے ترکا شاسترہ جو تیش گجوید دیا اشھوید دیا منترا شاسترہ سانکا شاسترہ یوگا شاسترہ اور چوست کلاموں کا بھی ادھن کیا تھا ویانیک دیشوں کی بہشائیں اور لیپیہ بھی جانتے تھے بگوان میں پریطی نہیں اور دھن میں آ سبتیوں نے سے بودہ پیمیں لرکھا گے پھر نو دنشنان کی اور درس میں دنٹر کر کے مرکہ صورت گی پر آبتی گے اگر اتنی بیدیاؤں کے ساتھ اتھو اچھ سرےش لیسے ہی رہتے بینا بید دیا کی اور گرومی رہے ہوتے تو وہ برامن بہت اُنچی گتی کو پاٹے

ستھ سن کی جنگامتیت کی مائما ہے لیکن ستاورتیت کی تو مائما ہے لیکن جنگامتیت کی مائما بہت جورد جے ایک جگہ پر پڑی رہتے ہیں انہیں ستاورتیت کرتے اور جو چلتے پھرتے ستھ سن کے دوارانوں کو گمنگل کرتے انسانتوں کو جنگامتیت کرتے اور ستھ سمانا شاو چادي یہ دیادمکتیت ہے ایک سمان کی بات ہے انر نموچی نامگ دیتی کے پاس چا کر گہنے لگے نموچی تم رسیوں سے بانتھے گئے راجی سے برشت ہوئے شتروں کے وشمی پڑے اور راجی لکشمی سے ہین ہو گئے اس پرکار شوک کا اوصر آنے پر بھی تمی شوک نہیں ہوتا یہ تو بڑے آشچری کی بات ہے نموچی دو کے سمائے میں دوکھنا ہونا شوک کے سمائے شوک نہ ہونا بھیک کے سمائے بھے نہ ہونا

سمجھوں سے بہگوان کو پارلیا بہگوان سمائے شانتے من میں ممان میں جییں گے شریع میں جییں گے تو بہیں شوک ہوگا تو دائیتے سے پوچھا کہ تم کوئی تنی تکلیفای اور تمارے کو شوک نہیں ہوت کیوں نہیں کہ بول میں جانتاوں پر اشتیتے ہیں جیس وستو کی جیسی ہونہار ہوتی ہے وحوائیسی ہوتی ہے لیدھاگر آپ کا چاہا ہوا ہی ہوتا تو آپ چاہتے سا سب نہیں ہوتا تو یہ پک کا سمانلوں کے سبی چاہیں سبی اچھا کسی کی پوری نہیں ہوتی اور سبی اچھا کسی کی بھی پھل بھی نہیں ہوتی تو اس میں اپنی اچھا پوری ہو اس کا آگر بھی نہیں رکھنا چاہیں اور نم پوری ہو ایسی لا پروائی بھی نہیں کرنی چاہیں

درم یک تو ایچھا کو ٹھیک سے دن سے کرنا چاہیں اور پھر بھی اگر نہیں ہوتا ہے تو سم جو نیتی ہے اپنے طرف سے بلپوروک بڑڑڑڑ بڑڑڑ رکھنا کرنا چاہیں پھر اگر نہیں ہوتا ہے تو چاہلو ہریچھا تو یہ جگرٹ میں ہوتا رہتا ہے رامجی نہیں چاہتے کے درسرت جی چھٹ پٹا کے سنسار چھوڑے اور درسرت جی نہیں چاہتے کے رامجی بنواز جائے پھر بھی نہ چاہیں سے بھی کچھ تو ہوتا ہے آپ جو چاہتے ہیں وہ سب ہوتا نہیں جتنا ہوتا ہے وہ سب بھاتا نہیں اور جو بہتا ہے وہ ٹکتا نہیں ہم جو چاہتے ہیں وہ سب ہوتا نہیں اور جو کچھ ہو جاتا ہے وہ سب بہتا نہیں اور جو بہا جاتا ہے وہ پھر ٹکے گا نہیں یہ سمجھ کے اپنے چتھوں

جان کے رئے یہ پرکاش میں رکھوں ان்ர ویدھا تھا جیவ کو جیس جیس گرவ میں دالتا ہے وہیں اسے رہنا پڑتا ہے وہ اپنی اچھا کے نصار کہہی نہیں رہ سکتا اپنی اپر جو یہ آوستہ آپڑی ہے ایسی ہون ہار تھے اس طرح کا بھاورا کر جو اس پرستھتی کو سہرش سویکار کرتا ہے اسے کبھی موھن نہیں ہوتا باری باری سے سب پر کشت پڑتا ہے اس کے لیے کسی پر دوش نہیں لگایا جا سکتا دکھ پانے کا کارن تو یہ ہے کی پروش ورطمان پرستھتی سے دویش کر کے

اپنی کو اس کا کرتا مان بیٹھتا ہے ریشی دیوتا بڑے بڑے اصور ویدیک گیان میں بڑے ہوئے پروش تتھا ونماسی مونی انمی سے کون ہے جس پر آپتی نہیں آتی کنتو جنے ستھ اصت کا گیان ہے وہ موھن نہیں پڑتے ویدوان پروش پروض نہیں کرتے کسی ویشہ میں آساکت نہیں ہوتے دوکھ پانے پر تھے د نہیں کرتے سک ملنے پر ہرش کے مارے پھول نہیں ہوتے تتھا آرتیک کتھنایں یا سنکت کے سمائے بھی شوک گرست نہیں ہوتے وہ ہی مالائی کی طرح سوابھاو سے ہی آویچل ہوتے ہیں جسے اطم ارتصدی مومی نہیں

دالتی کبھی سنکت پڑنے پر بھی جو دھرے کن نہیں کو بیٹھتا اور سک دک تتھا دونوں کے بیچ کی آوستھا کابی سمان بھاو سے سیوان کرتا ہے وہی منوشی سریشت سمجھا جاتا ہے جو دھرم کے تطبق کو سمجھ کر اس کے انوصار برتاو کرتا ہے وہی سریشت پوروش ہے جو آستھو نہیں ملنے والی ہوتے ہے اس کو کوئی منتر بل پرکرم بودھی پوروشارت شیل سدا چار اور دھرن سمتتی سے بھی نہیں پاسکتا پھر اس کے لئے شوک کیوں کیا جائے جیو کے پرارب دھ میں جتنے سوک اور دھرک کا بھوک بدا ہے اتنہیوہ پاتا ہے

جہاں جانے کا پرارب دھ ہے وہی جاتا ہے تتھا جو کچھ اسے پانا ہے اسی کو پرابت کرتا ہے یا سمجھ کر جو کبھی موحیت نہیں ہوتا اور سب پرکار کے دھکھوں میں نشچنت رہتا ہے وہی صرسر و سرشت ملوشہ ہے یو دھر نے پوچھا پیتا مہ اس سنسار میں جو بھی شب یا اشب کر مہوتا ہے وہ پوروش کو اس کے سوکھ دھکھ رب پھل بھگنے میں لگا ہی دیتا ہے پر انت پوروش اس کرمکہ کرتا ہے یا نہیں اس بیشے میں مجھے سندے ہے بھیش مجھے نے کہاہیو دیشٹر

ایک پرچین اتیحاس ہے پرہلات جی کے مان میں کسی بیشے کی آسکتی نہیں تھے ان کے پاپ دھول گئے تھے جڑتا اور ہنکار کا تو ان میں نام بھی نہیں تھا ویدھرم کی مریادہ کا پالن کرتے اور شودھ ستو گل میں اس تھیت رہتے تھے نندہ اس تیکہ سمان سمجھتے مان انڈریوں پر کابورکتے اور ایکانت گھر میں نیواز کرتے تھے جنم مان کیوں ہوتا ہے کہ کاریہ کارن باہوں کو نہیں جانتے کئی بار پر اتنا کرنے پر بھی وہ نہیں ہوتا ہے اور کبھی کبھی پرارب دنوں کو ہوتا ہے تو انہیہ اسی سکھت پر استطیا آیاتے انہیہ اسی اچھی سوج گویا آیاتے اور کبھی کبھی تو بھی چار کرتے کرتے بھی کچھ سوجتا نہیں ہے

اور سوجتا ایشائے کے پاس جاتے ہیں تو یہ کبھی کبھی نہ چانے پر بھی جو پھسنے کی استطیا آیاتے نہ چانے پر بھی جو دکھ آیاتے ہیں تو پھر ماننہ پر گا کی پر کرتی کی للا ہے اب اس میں کیا کریں اپنے درب سے تو پر اتنا کریں جن پھر بھی آیا ہے تو یہ للا سمجھ کے اپنے کو اس کا ساکسی سمجھ کے تتسترے اپائے کریں لیکن اپائے کرنے پر بھی اگر پر اسیتے آئیسی ویسی ہوتے ہیں تو اپنے چتکو گیان سے دائریسے تتتتو گیان سے اپنے گان سے اپنے چتکو استطرق ہے تو اس بات کو ہم جانتے جن کی بودی میں رجو گنا ہے ستسن نہیں کرتے ہیں مگت آشرا نہیں ہے ان کی بودی میں دو شونے کے کارہ بھی دکھ میں بہت دکھی ہو جاتے ہیں

اور دیرس جراسا سکھ ملا تو اپنے کو براد مماننے دی یہ بودی پر پڑا ہوا دو شہ ہے جس کی بودی سے یہ دو شچلے جاتے ہیں تو سویدہ اور بڑاپن کے آستامیں بھی وہ سہج جیتے ہیں اور اسویدہ اور چھوٹاپن کے آستامیں بھی وہ سہج جیتے ہیں تو یہ سہج سوج بوج بہوت مانا رکھتے سہج تاکی دکھ کے سمئے دکھی نہ ہونا شوک کے شوقات ступ میں, میں, ایک آٹ میں,

ایشی کا نہ ہوں دنیا ہے. سبھی بھاو, سبھاو سے ہی اتپن ہوتے ہیں. اس بات کو جو ٹھیک ٹھیک جانتا ہے, اس کا درپ یا ابھیمان, کیا بیگار سکتا ہے? انڈر, میں دھرم کی پوری پوری வیدھی, تتہ سمپون بھوتوں کی انتتتا کو جانتا ہوں. نہ چاہتے وہ بھی آندھی تو کھانا پا ہے. نہ چاہتے وہ بھی گرمی ہوتی ہے. اور انڈر میں ٹھن روتی ہے. آیا ہے ہے ہے, ٹھن رو بھی, آیا ہے برساد گیری گئی, آیا ہے, گرمی ہو گئی. یہ پریادی سوابہ آدمیں دکیوتے رہتے ہیں. اور شدھانوں لوگ بھی جانے. آیا ہے. نہ رہیں, نہ رہیں.

تو پڑھا. نہ تو میں کسی کو اپنا دویشی سمجھتا ہوں, اور نہ اکتنت آتمی ہی مانتا ہوں. مجھے اپر سورگ کی اور نیچے پاتال کی تتھہ بیچ کے لوگ مرٹے لوگ کی بھی کبھی کامنا نہیں ہوتی. گیان. نہ یہ نہیں ہوتا کہ مجھے سورگ ملے, پاتال ملے, یہ ملے. جو ملہ ملہ آیا ہے, اسی میں میں خوشوں. اپنے پر میں شر سے ملہ رہے تو باکی کا جو ہوتا ہے. گیان, وگیان, اطفاق گیل کی لیے بھی میں ابھیلاشا نہیں کرتا. Indra نے کہا پرہلاد, جیس اپائی سے ایسی بودھی اور ایس طرح کی شانتی پر آبت ہوتی ہے, وہ بتائیے. اہا, ایسی بودھی اور پرمات مشانتی موتوں چیوات ہے, وہ بتا. پرہلاد تم محان ہو گیا.

پرہلاد نے کہا Indra, سرلتا, سوادھانی, بودھی کی نرملتا. اپنے ردے میں جیسا ہے سا بہر سرلت ہے اور سوادھانی رہے کیا مدوک میں تو نہیں بہر ہے. پاپ میں تو نہیں گا ہے. سوادھانی رہے. اس شرپی دی. دوسروں کے پیتی سدبہ اور تترا کو اپنا اطمامان ایسی یہ بودھی پیدا ہوتے. جگ جیت پر گیا. مشانہ رہتے ہوئے میں مشاکہ پرمات سے دبے نہیں. دوسرے سوک سے لہا بسیا نہیں سے اپنے اطمس پرکاشی تو گیا ہے, اطمسک کو. بودھی کی نرملتا چیت کی ایس تھیرتا تتھا بڑے بودھوں کی سیوہ کرنے سے پروش کو مہت پدھ کی پر اپتی ہوتے. مڑے جو گیا نوانہ ہے

تتویک لوگ ہیں ایسے لوگوں کی سے واصد سنگ کرنے سے یہ دیوے گیاں ملتا ہے, دیوے بودھی ہوتے. در دیکھا رہا دیملے سے بھی اتنا سکھنے ملتا جیتنا دیوے بودھی سے ملتا. این گونوں کو اپنا نے پر سوابھاو سے ہی گیاں پر اپتو ہوتا ہے. سوابھاو سے ہی شانتی ملتے ہے. تتا تھا جو کچھ بھی تم دیکھ رہو سوابھاو سے ہی پر آپتو ہوتا ہے. دیت راج پرہلات کے اس اتطر کو سون کر. این رکھو بڑا بیس میں ہوا. انہوں نے بہت پرسن ہو کر. پرہلات کے وچنو کی پرسنسا کی اتنا ہی نہیں. ٹریووان پتی این رنے دیت راج پرہلات کا پوجن بھی کیا اور پھیل کہا این در دے اور کہا دیت دیا. دیت دیکھا پتھر

یہ نہ کچھ سبوگا پتھر پہلات این در نے پہلات کو اتما گیاں ہیں تو ان کا ستکار کیا ان کے وچنو کی پرسنسا کی اتنا ہی پوجن بھی کیا. یہ ایسی گیاں کی باتے آپ سندے ہے. صادر آدم کو پتاہی نہیں چلے گا. بہت ہوں چی چی چی گیاں. بہت ہا ایسٹن را بھی جو سندے ہے. اس کو قولتے آدمہ بیٹ دیا. اس کو راج بیٹ دیا قولتے سبی بیٹ دیا کی راگہ بیٹ دیا. راج جو کویگھم گوبتے. کرنے سننے میں بڑی سران سائجے اور پر تک شفل دے نوالی. سورگ کاتھوں مرنے کے بعد پھل میں گیاں.

دن کا بھی نشور پھل اس کا شاشر پھل. پوجن کیا پھر ان کی آگ جلے کر اپنے دھام پیو موج کرو دھوٹ کپٹ

اس کا ہوتھانوں نے والہ اسு رجوگنے کے پہلے ہوتھ جائے گا چارگری پہلے دوگنٹ سمجھوں انہتی ہونے والے و جس کا پتھانوں نے والہ اسு رجوگنے کے بعد بھی تھوڑا سوٹا رہے گا سمجھوں باوی شہی اس کا کرہ یا دوسٹ کرام میں روچیوں نے لگے تو سمجھوں دوکھانے والہ ہے اور ست کرام میں روچیوں نے لگے تو سمجھوں پتھ اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے روچیوں نے لگے تو سمجھ اپنے اپنے اپنے اپنے اپنے یو دیشٹھر ایک سمجھ کی بعد ہے دے ورشی نارد جی سبری اٹھ کر پویت رجل میں اس نان کرنے کے لئے گنگا جی کے تٹ پر گئے اور ان کے بھی ترکوترے اتنے ہی میں انڈر بھی اسی ترک پر آپنچے

دونوں نے ایک ساتھ ہی گوتے لگا ہے اور من کو ایک آگر کر کے سنجھے پ سے گیتری منترکہ جب کیا ویگنگا جی کے کنارے بیٹ گئے اور انی کو پنیات ماؤ دے ورشیوں مہرشیوں کے ماؤ سے سنی ہوی قتھائیں قهنے سنی لگے دے ورشی مہرشی برم میں بتاوں کے چرچا کا تھا سار سار باتے ہونی چاہی لیکن میں بھی اتنا کیچ کیچ کے لنم بھی باہت کریں کہ سامنے والا بھی تک گیا ہے ومس کا ماننے کے لئے ہا کرتا رہے نارہیں نارہیں نارہیں نارہیں پتمپوران کے اتر کن میں لکھا ہے ماؤگ ماؤس کا مات مان تو مہرشنان کا سکو تو رہے سے مانشک

تیت میں جا کرشنان کر لیا اور پھر ہم پر مات مقینام کا جب کرتے ہیں ستے دیرت شما تیرت ماؤن تیرت برمچری تیرت آدرو تیرت اس آدیادمیک تیرت میں جاتے ہیں تو یہ تو ماؤگ ماؤس میں تو بہو دل آب دے گے آج سے رو جیسات سنان کرو تو پر مات انہمہ یہ مپر مات مقینام کا جب کر ہے اس کے ریسی آدی نارہ دے لوگ کارمن ترہے گایتری چندہے پر مات ماریسی ہے انت رہامی کی بریتی کے لئے مجھب کر ہے بس چالو کر دو او مو مو مو مو او ٹھوں میں جا پو لگ بگ ایک سوات بار اند آجے پھر کنت میں جا پو پھر دے میں آجا بس شروع ہو جائے گا بگوتراس

جیتنا اُنچا ساعدہ کتنا اُنچی سوج بود سے بگوترا سوپ رہے گا ہمارے دو اشار پاپ ہم نہیں نکار سکتے لیکن ماؤگوان کے بلک آگے ان کی کیا تاکتے او مو مو سرو سمرت بل سارے برماند کو چلانے والا بل جس پرمیشور میں جو پرمیشور ہے وہی او مون کا سوابا بگ دانیئے جسے بچہ نہیں کر پاہتا ہے تو ماما پوکارتا ہے ایسیا او مون پوکاروں سبی ماتاوں کے ردے میں وہی ہے پیٹانوں کے گرموگے او مو مو براک شما ستبت دو برا او مو مو مجھے تمہری پریت دو او مو تمہ رادی بے گیان دو دے میں اپنا باستنا میں تک رو جنگ برواد کیا ایجنم سپل کر دو او مو

ایک ربہ سندھو او مو رہے دیا او مو ایپرانی ماترا کے سوحت او مو او میں تمہری شرا تمہری ہی تشی ہو دے او مو تم سبی کی منگل کرتا او مو او مجھے سے دوش کرتاوں اس کا بھی آپ ہی تچاتے ہیں برگو او مو او مجھے اس کے پول دیکھنا خوجنا چاہتاوں آپ اس کے داکنا چاہتے ہو میں بھی تمہری جس سدگن میں سامل ہو جاہتاوں او مو او او بڑھا بل دے تیمہ کوان مڑی سدھ بڑ دی دے دا سا کا کان دا سدین میں ہو جائے گا یہ ریتی سے او مو او او کوئی بھی درگن ہو بس پرگو پکاروپ اس کے بھی پردوہ کر دوے شہتو پشمہ

کامہ ہے تو سائیم لو بہتو ادارتا او مو او مو تم ادارتا کے داتاوں او او تم سائیم کے داتاوں او او مو تم شانتی کے داتاوں میردوش نکالن میں تمہری کرپاکام کرے گے پر او میری بکبک کی آدت نکالن میں تم مون سروب ہو او او میری اساعدہنے کی آدت نکالنے کی آدت نکالنے کے لئے آپ ساعدہنے کے داتاوں او او مو او او او او او مو او او او او او او او او او او او او او او او او او او او

او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او او Om Om Om Soko Deva Om Om Sat Budhi Deva Om Om Om Ma Deva Om Om Madhu Deva Om Om Prabhu Deva Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Ma Deva Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om Om

आरो कोझब परीیں ला आा आूमू मो प्री Cabhara अछ guidhaata फर फмаद हीfan फर फत ़ीलय saht ँर मिवेता भू shortcuts वकु ogllove आसकष舞 आसता फुच औIDa फर फम् Bismí thar चबogenskhaenash. टेहurm mai Minneぇ वद्र्म� criticisms. ल़ूवऺâu्र reachedomari. तो ल़ूग। bring miciainku, यिं य więलीग। Jenanggjah, ल़ मरीग।male j свои परईख़र चबो Sendпрve kann इब परभी रहो।μέ।andri نہیں. Терیکھر ہوں, அکراپہ پر ہم سلہ کروان جا ہے, او مو.

او مو. او مو. او مو. او مو. او مو. او مو. او مو. ایسا کر کیا دیکھتے ایسا چکھ رکھو. چکھر. او مو. او مو. او مو. او مو. بہیے پر سنتہ, یوگیگ پر سنتہ, سب کچھ ہو دے سب, دے سب, دے سکتے کیا, دے تی رہے تھے, شانتے کا دنگی وہی دے تھے, سوج بوج بھی وہی دے تھے,

ستسنگ میں جانے کی ستپرینا بھی اسی کی تپر سادي ہے, کرپا ہے, ابھی اسی کی اسی کی بولتے, اپنے کو شریع میں مان کرجا برسر کردیاس میں تا تو پھر, وہ ارطندور نہیں ہو سکتے, الگ نہیں ہو سکتے, ترنگ پرشن سا کرے کے ساگر سیے دے تائے دے, لیکن ترنگ تو اپنے کو دیکھ ٹھیک سے تو اپنا وجود ملادے تو تو ہی ساگر ہے, ایسے اپنا مہمیتل میں لادے اس ویشور میں تو تو ایشور سے ابھین نہ ہو گیا, ایشور کا اتما تیرا اتما ہے اور سب ہی میں, کل ملاکے ادویت گیان میں ہی آنا ہے دے سب ہی, سب ہی, بگتی والے ہوں تو سب بگت میں بگوان کا ہے بگوان کے میری میں بگوان کر, یو گوالا ہو چاہ گیان مالا ہو, پورنانی ربکتار پورنان جیون کی پر آبتی تو, ادویت گیان روپن روپن پرتی روپن باہو اشچا,

انے ایک روپن میں ایک چایتاگنے میری آتما میں ہی, اپنے جیو بھاک میں تادے تو پھر بولوں میں ایشور, انا لگ, سیو ہم, چیدا آنند روپا شیو ہم, ایسا مہاپ روشوں کا برم مویتاوں کا آنمہ, سادہ کنو کرن کر کے وہاں پوچھ سکتا ہے, پراتھنا ستسان شوان مانن, نہرائے, نہرائے, نہرائے, نہو, مہاہ, مہاہ, مہاہ, سترب تو بہا, فورنہا کرتا جیسے رنگ منج پر بھیخ بھی منگا, تھوڑی دےر میں راج, وایباو کا سومی ہو کر بھی آیا, تھوڑی دےر میں دولاکلے کے گویا بنہا وہ یہ بنہاں اور دو دو پہ سے مان کے بھی دیکھایاں. پھر بھی وہ نٹ کچھ نہیں کرتا رہنگمنچ پہ سپ کچھ کرتے ہوئے بھی اپنے آپ سے وہ کچھ نہیں کرتا ساہری کریاں کو ستاہی دے تھا کھیل مات رہے. ماتنس و بھاہوں کو جان کر ایس سریگ میں یا تھا یوں کے ویہاہار کرتے ہوئے بھی

اپنے اک کرتریتوں اپ بھگتریتوں سو آتمانوں مانیتے یا تھا اپنے آپ کو جب ایسی دشامی مانتا ہے جانتا ہے اس کی ساری واسنا ایک سین ہو جاتی اس کی ساری کرم بندنک سین ہو جاتی وہ اپر ایشور ہو جاتی ہے دوسرا ایشور ہے چلتا پھر تھا لٹ کا کرتا برم ہے رہی سے تو ایشور ہم باہوں بس پورے برمان میں ویاپ رہے لیکن جس کے لدے میں پر گٹ ہوئے ویسا کار برم بھگوان اور بھگ بچ شروب مہاہ پر شو ہوئے آہ ہوں ہوں آنندہ ہوں آہ ہوں شنٹی ہوں آہ ہوں آہ ہوں آہ دوڑی ہوں واپرگوں تو آنندہ سوروک تھا مجھے مالوں نہ تھا تو میرا دلکہ دیوتا تھا مجھے مالوں نہ تھا تو میرا پیہ پیارا پر بھوکھا مجھے مالوں نہ تھا

انتریامی دیوتا گائیگتری چندہ پرمات ماریشی دنیا ہے دنیا ہے ہوں سوروپ دیوتا ہوں انتریامی دیوتا ہوں پرے رکھ دیوتا ہوں کارموں کے نیا مکھ دیوتا ہوں پھلڑا تھا دیوتا ہوں شما کے ساگر دیوتا کرپا کے ساگر دیوتا دیا کے بندار میرے رب جنہم جنہم بھارمت دیوتا میڈیونہ مان کو تراص کہانانکہ حریبہ جمانا نربہ بہیں پاہیں پاس اب ہم نربہیں نارہے میں واس پارے گوردے رب تمہڑیچ ہے تمہڑی بکاروں کا بضلہ چکانے والی چیز سنسار کی

کوئی فمانانی رب ہی طارا ہر سچے سنتوں محاپرشوں اتمجانی برمویتا محاپرشوں ادویت برمو میں ماتوں کے میں نے جانے والے سنت پرشوں کو بار بارت رنام کیسا کسا کسا خوج کے رکھا ہم نربوں کے لئے کسی کسی کرپا مرسا ہی اندیوتا ہوں نے ہی ریشی باروں ہی برمویتا ہوں ہی گیانی محاپرشوں سنتوں ہی لو کو دھارک محاپرشوں ہم گونچور نہ ہوں کرتگ نہ ہوں نہ ہوں اسے دیاب کے چرنوں میں پرنام کرتے سویکار کرنا سچے سنتوں ہی برابوں ہی دیانی دھیں ہمارے کرموں کو دیکھتے تو ہماری یہ

اوکات نہیں کے ایسہ ترادہان کا مادوری لے ایسہ ترے ساتھ ہمارہ نتا جور جائے ہمارے اکل کی اوکات نہیں ہمارے کرموں کی اوکات نہیں تری رہمت ہے برابوں تریک رواچ ہے تنجی مہرائے مجھا میں تھا مجھا پندرنگا مجھا گیتھلا مجھا گیر دھر بوپالا مراکھ رونہ ورنانی دھیں مرا دہلو دیں او میرے ربوں میں پولی پولہ رہا مراکھ رہا تو سدہ سنتوں کے ساتھ سنسار کا قبتک دیکھ ہو گے جیسے دیکھا جاتا ہے اسی میں دوبھا قبتک سنتوں گے

قبتک بٹکیں گے بھگت میں آیا میں بھگوان میں آیا ہو گیا مراکھ رونہ آننند دیوا مدھوری دیوا انتری آمی دیوا سریوش ورطیوا indraer tha shuvaira kyung indreo ke vishay vikare ose apne man ko vairaak ke ke lagam se khinj liya ko tab antraki ghairi yatra kar paay ki indraer tha shuvaira kyung apne paata khud baata te

srik krush nwsraad minima ta hai tos mein galti dho kha atwa paata baadalne ka sa ambaun haun sott لیکن یہاں پتہ بدلتا بھی نہیں, گلتی بھی نہیں اور دو کھا کر نہیں کیوں کی تاکت بھی نہیں یونکہ پرانی ماترا کا ہیت چانے والا کیا دو کھا کریں گا کیوں دو کھا کریں گا بگوانی اس بات میں کم جو رہے وہ ہمارہ آہیت نہیں کر سکتے ہم سے دو کھا نہیں کر سکتے اس باہت کی بگوان کم جو رہے اور ہم کو اپنی اس رشتی سے نکھال نہیں سکتے چل ہم کہیسے بھی اس بات میں دو کم جو رہے پیہ رہا ہوں ایسے کر کے بھی اس کا دلہ پکڑ ہوں ما کم جو رہے بچے کو مارہ دل میں ما کی کیا

دلہ پچے کو دکھ کرنے گی لکھو ماتاوں کرو روپیٹاوں کے رہے کو ایک کرو تبتو جان گے بلما کو کچھ پیچھا جان گے کیتنے کتنے جنموں سے بھٹ کی اور کالے دندے کے پھر بھی تو لیا ہے اپنے دوار تیری کرپانے تو کیا ہے کیا کیا کیا او اانم دیکھ او او

مادھوڑیا او او او او م said او او او او او او او Dhire bhukkaar nere vidha bring yo off k derivatives�� wakti aam svaate viddhuk ki ni onewade sushk custard bharaam churuj ki karena feroa aawansi bhik formed jowa bhao ни bho row kar Aapare dhi lku bakinga Finance اور باپٹی گیاں کھوشن آسو شیطل ہوتے گا۔ بیچ دہرہ سے نہیں کر دیا۔

سکھ کا دک کا پنی کا باپ کا جو سکش ہے بیچ میں آسے نہیں کر دیا۔ سنساری کو حسنے میں وہ سکھ کہاں جو بھگوان کے پیاروں کو رونے میں آن اس کے محبت میں ویرا میں آسوبہانے میں جو شیطلتا گا ایسا آسوبتا دو راستے یا تو اس کو پریٹی کرتے کرتے پانند میں بہجا ہوگا۔ یا تو اس کی کرنا اوبروںہ دنیتا ہمانتا کو یاد کر کے پیگھال جاؤ ویرا۔ ہمارے مان کے یہ دو سد گونا ہے یا تو ویرا یا تو پریم۔ کبھی پریم، کبھی ویرا، کبھی دونوں ایسے کرتے کرتے سنسار میں بھی تو یہ ہوتا۔ کبھی کسی سے ویرا کی لیاد کرتے ہو سکھ اور سنسار میں پھس مات تو کبھی پریم کر کے پھس مرتے۔

لیکن بہگوان کا ویراھ کبھی مقت کر نے والا ہے, پریم بھی مقت کر نے والا ہے۔ سنسار کا ویرا اور پریم تو پھسانے والا ہے کبھی ایسے نے سندر سندر سندر میں گا ہے کبھی رہا کتکی دوستی دو بادیو جنجال ریجے تو ممچاتے کیجے تو پیر کرتے سنساریوں سے پریم کریں گے تو ایک دوسری پر ریج جائیں گے تو شریع کی کمر طور کارکر موگا اور کیا ہو جائیں گا؟ لوارڈ لوری یہ وہ اور کیا؟ ریجے تو ممچاتے کیجے تو پیر کرتے اور کیجے تو دیتلاگ دیلڈ لڑای جگرہ دے ایک دوسری پر لنچن دے ایک دوسری پر نالت یہ حسنسار مبو تو ہائی براگوں گے بڑے شرم کی باتے منش جنم لے کر بھی دوکی چینتیت ٹنشن تنا ہو میں جی

بڑے شرم کی باتے دو کھاری دل بر دیو تاتھمہ را انت رات مہو کر بیٹا ہے اور کھڑا سپگہ اور پریم سے اس کا جب کرو تو منطن پاؤن ہوتا پھر بھی تم دوکھی پھر بھی تم تناؤ میں ٹنشن میں ایسا کیا پاپ کیا تم میں مر جانے کی بیچاراتے بھاک جانے کی بیچاراتے بیچاراتے میرے کو سو چویمت بیچاراتے ہمارے کنیر من کو میں ان کو سمت دونہ دو میری مر جی میں بگوان کا بگوان میرے بیچارا ہو جو جاکھ ماروں ہم اپنے ہم بیچاروں کے باب آئے کئی کو در نہ کئی کو مر نہ کئی کو دو کیوں نہ جو ہو گایا دیکھلیا جو ہو رائے دیکھ رے جو ہو گا دیکھا جائے گا روٹی نہیں ملی تو ایجت تیری جائے گی ہماری نہیں جائے گی پیدا کی اور بوک ہمار دیا داداگری سے جیو ہم تو سادنہ کرتے تو پھیک دیتے

کھانے کی چیج لے کی آتے پھر سوچہ کے بجنیس کا کرے اوٹھانے کی ہم سمال کرکے پھیک دیتے جس کو گرہ جویگی آئے گا صرش کی کرتا کھوڑ لائے گا ہم تو ایسی شارا رہت کرتے تھے تو میٹنی نہ کرو تو کوئی باتنی لیکن دو کھوred چندتا تو چھوڑ دو باiga جامل چاہتا ہے دوگھے اونے سے جرا جرا بات میں برشانہنے سے اتنا ہو جن بیچاروں سے دو کچندتا تنا ہو ٹنشن بڑیوں بیچاروں کو यॉज क्ये एर बलाच अप गगु ते inde like bodde likeCause... अपक Jake sa bhey ? खवाश हाेग दाсят है... खाश के शाद के ऴट भकाःै क्बई अच dividends humiao मिते फ़ाम नुव कोंट्के फ़ाम ती अप ले किछं बाश के ऐखा शाँ नहीं सबजे रहीं बाश हाुण कऔूं 저는 अकनिया ச born on the l介ned, ச madam comes from below. ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ לْ잡 вашنا... ۔ میری میں بدال جاتی و سدہ کو یامیر نہیں رہتا سدہ کوئی گریب نہیں رہتا سدہ کوئی دکھی نہیں رہتا سدہ کوئی سکھی نہیں رہتا سدہ کوئی جوان نہیں رہتا یہ تو ادلہ بلی کا کیل ہے وہ کھل کھلو آکہ اپنے سے ملوانا چاہتا ہے تو تو کئی کو پر جانا ہوتا ہے میری منکی نہیں ہوتی تو بڑی اچھی بات ہے اُس کے منکی اورے موجھے جاں مارو داری ہوتا ہے میری منکی ہوں میری منکی ہوں تو آہنکار کو شوتا ہے میرا کیا میری منکی نہیں ہوتی تو آہنکار کو دکھوتا ہے میرا کیا بھی گٹھتا ایسے کرکہ اپنے نلدک نہ رہن کو یاد کر جو ایک ست سنتے ہیں انہوں کو تعجب ہوگا لیکن ایک بار آ جانا جانا بیالی میں پھل میں پھر دیکھ لوگ مجھا

جان جوکسی بھیر میں اتوائیہ سانت ست سنگ میں کبھی آ جانا جو ستلائی سے دیکھیں گے ان کو بولنا ہوں جانا بیالی کبھی آ جانا رب کی رہمت کی اوگرستی تم پر بھی تو ہوں گی کہیں دا برا ہو کہیں گا برایا ہے کبھی نے کبھی موکہ آئے اب امری ٹیر ہونے والے اس کے پہلے آ جانا نہ رہا ہے نہ رہا ہے رہم رہم گوی جرہت میں اگر بہت مان کرنا ہوتا ہے بھگوان کا یا سانتکا مندر میں جاتیں ایسا کرتے ہیں ہم بھی آپ کا سنمان کریں کہ آپ بھگوت رسپی رہے

تو میرا دیمتا ہے میرا دیمتا ہے میرا دیمتا ہے بس کام کرنے کے پہلے تھوڑا گوتا ماروں پیقر کیا کرتے پہتا ہے بھگوان کے پہلے جرہ گونڈ پیلے بیچ بیچ میں بھی پیتے پیقر خاتے بھی جاتے تھوڑا پیتے بھی جاتے ایسے تم بھی پیتے جا وہ تو ستیا ناسی شرہ پیتا تم بیڈا پاری شرہ بھی اور کیا ہے بھنگ بسوڑی سورہ پان ہوتر گیا ہے پر بہت نام ناسے میں نان کا چکا رہے دن رات کیوں سردار میں کوئی جو تو بھلیا وہئی کوپت تو لیا مش چکے جا دوکھی چینتیت بھیت نہیں وہ بھویشا کی سوچ نہ ہے تو سوچ سوچ کے اُلتا ہوں کہ تنگ جا ہوں بھویشا کی سوچ سوچ کے جا دامت سوچے بھویشا کی تیرہ پانہا میٹھالا

گے جو تدباغے سو بھلیکا میں تھوڑا بیچاروں گا سوچ بیچار کے چینتا میں نہیں دوپوں گا تھوڑا بیچاروں گا باکی تیرہ پانہا میٹھالا گے جو ہویا پلے پلے کبھی چباغے چنا چبینا کبھی لپتان لے کی راندی وارے موج بھکی راندی کبھی تو دے شالد شالے کبھی گدڑیا لی راندی وارے موج بھکی راندی رام راکے تیمہ رہے اوضاوجی کوئی دن قاوانے سیرانے پوری تو کوئی دن موکہ رہے اوضاوجی رام راکے تیمہ رہے کوئی دن رہوانے با میں لنے ماریو تو کوئی دن بوائپر رہے اوضاوجی کوئی دن پروہ موترنے گاڈیو تو دن چالتا جیئے اوضاوجی رام راکے تیمہ رہے میں شو موتیوات را را را میں را را کیا

وہ بھی دیکھلیا یہ بھی دیکھلیا پر اور آئے گا دیکھیں گے یہ بھی دیکھ بھی دیکھ بھی دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ ایسا دیکھ میڈ جایدو کھر رہے جائے ایک او مہرائے میں پر متمکے گیان سے دیان سے رہے شیطلونا مڑی طبشہ شاکہ پھلے مڑے پنگہ پھلے پاگ ہوئے بڑے باہگوں دیسے ہاں ہی رام جی جب ایسے دھرماتنا کو ویوے گروپی دیکھ بھرپسے یہ بھغوان رام کے گرودے رام جی کو پڑے سدے رہے ہم لوگ رام جی جیسے تو نہیں ہے لیکن رام جی کو جو اپریش ملاو سننے کا سواباگے تو ہمارا ہو رہے ہم ہم ہی رام جی جب ایسے دھرماتنا کو ویوے گروپی دیپھک سے اتماروپی

مڑی ملتا ہے تب اس کی بڑائی سمیرو اور سموڑر اور عقاش سے بھی ادیک ہو جاتی ہے جب ویوےک سے اتمتتتلکہ پرکاش ہوتا ہے تب سنسار کی توچھ بردتیوں میں نہیں دوبتا ہے ہی رام جی وہ مہا شانت پد میں ستیت ہو جاتا ہے وہ چاہے اتکھڑا ہو یا بیٹھا رہے اتوہ اتوہ اتوہ بڑے بھوگوں میں رمان رہے اتوہ ون میں جا کر بیٹھے اتوہ مدیپان سے انمت ہو اور نتی کرے اور گیا آدیک تیرتھوں میں نیواز کرے اتوہ کندراوں میں نیواز کرے شریر کو اگر چندن کا لپن کرے اتوہ کچل کے ساتھ لپیٹے دے اُس کا ابھی گیر پڑے اتوہ

کلپ پرئن تک رہے کنتو اس پروش کو قداشت بھی کوئی کلنک نہیں لکتا ہے جیسے سووان کے کچل کے لئے ساتھ مپر میں اس ورکو ٹک سے جان لیا ہو چاہے سمادی کرے چاہے ایکانت میں رہے چاہے ویوار کرے چاہے یود کرے چاہے مدیپان کرے چاہے نرکتے دیکھے تیری اُس کو ایک بار سدیسہ سرو بیشہ تانو بہنے جا کے بعد اُس کو کوئی کرمہ بندھن نہیں ہوتا کوئی لپ نہیں ہوتا اسی بات کو گروانی نے کا برمگانی سدا نرلے پا جیسے جل میں کمل آلے پا سمر تکونیں دو شکو ساہیں پلسی راستیمی کا ایک بار ایسہ پرمات مقانوں بھو کرلو پھر آپ پنیپاپ میں دوبوں گے پھر آپ پنیپاپ میں

دوبوں گے پھر آپ پنیپاپ میں دوبوں گے پھر آپ پنیپاپ میں دوبوں گے .

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →