Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 20, 2026

Jan 20,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 20,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

940 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 20,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 20,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

جو چھوٹھ میں چھوٹھا, آنوں رو, آنگیان, مہتوں, مہیان, چھیتھن یہ ہے, وہی بڑے میں بڑا ویرات ہے, جنگلتی یہ ہوئی کہ وہ سے چھیتھن میں, وہ سے ویرات میں یہ آنوں میں, پریٹی نہیں ہوئی اس پر متمامے, پرانوں کا جو پرانہ ہے, جو تیشا مپی تد جو تی ہے, وہ جو تیوں کا جو تی ہے, پرانوں کا پرانہ ہے, کراسنا نے کہا وہ جو تیوں کا بھی جو تی ہے, تمسہ پر موت چتے, اندکار سے پرے, جانگیانگگمیوں, وہ جان سروپ ہے, اور جان سے جانگیان جاتا ہے, اپنے ہی جان سے وہ جانگیان جاتا ہے, وہ انتا کن اوچنہ ہے, اسی لیو اس کو آتما کرتے, اور سب میں بیاپر ہے,

وہ برمہی پر متمامے, جیسے گھڑے میں آیا تو اس کو گھتا کاش کرتے, بیاپر ہے تو اسے محاکاش کرتے, مٹھ میں آیا تو اسے مگھا کاش کرتے, مگ میں آیا تو اسے مگھاش کرتے, ایک رام گھت گت میں بولے, دو جارام 10 رتگر دولے, 30 رام کا سکل پسارہ, برم رام ہے, سب سے نیارا, ایک ہم ستیم بہودہ وضنتی بپراہ, وہ ایک ہم ستیم بہودہ وضنتی بپراہ, وہ ایک ہی ستیم سروپ ہے, لیکن بہوتنتا کرنا ہے, بہت یو گتانے, کم جادہ یو گتائیو آگے, بہوی آیا می چتبہو آیا میمان ہے, اسے لے اس کا بستار ویا کیا, بہت براکار سے ہوئی, جو کچھ ادھہت میک جگت میں مطبن تھما جہب دھرم ہے, کنھوں نے مول میں سے تو یہاں ہی بھارتے سنسکوٹی میں سے لیا ہے,

رپنا سمبول, اپنا کوچھ ملاجولا کے, ایک جو ستو سائیں وہ ایک ہی ہے, جیسے جائن دھرم میں اہنسا کی پردھانتا ہے, اسلام دھرم میں یکین کی پردھانتا ہے, ایسای دھرم میں پریر کی پردھانتا ہے, ایکنی پریر پراتھنا ہیں, ہندو دھرم میں ہے, ہندو دھرم میں ہے, شدھا یکین منہشتدھا ہے, دہندھرم میں ہیں, Indhu Dharam ki bishnishta hai ki, وہ اپنا ایشور یا اپنا بھگوان یا اپنا گاڑ یا اللیا کچھ, وہ کewal saatme asman pe atwaal, کہیں دور بنا بیٹھا یا اپنا دنیا بنا کر, چھوڑ دی کسی کے حوالے ایسا نہیں مانتا, Indhu Dharam ni Imanta hai ki, وہ ایشور, اپنے ست سواب ہوا سے اپنے چیتنیا سواب ہوا سے اپنے

آنندھر سواب ہوا سے, جو کا تیو سب جگہ اوطprوت ہے, اگن اُس کا ساہرہ لے کر اُس کی آلہادنی شکتی اشتدہ پر کرتی یہ سب کھلوڑ دیکھا رہی, جیسے جل کی ستتا سے, جل کے آدار سے, جل کی رہمت سے, جل کے اوپر ہی کائی جمجتے, اور اس میں جلی اجیو جنتو, اطفا کائی اجیو جنتو گھمتے پھرتے ہیں تو کائی کے جو جیو جنتو اُن میں بھی جل ہے, کائی میں بھی جل ہے, اور کائی تھیری بھی جل کے آدار پر ہے ایسے مائا مائا بھی اشبر کے آدار پر مگھے آدار پر اور یہ جیو جیو کا مائا بھی شرید بھی مائا کے آدار پر اور جیو کا جیوتو بھی اس مائا پتیگی آدار پر اس لیے سب میں ایک ایک میں وامن بھی بئی ہے, تو بھی رات بھی بئی ہے, چھوٹہ سا چھوٹہ جنتو بھی پہنچ بھوٹھ کا پر نام ہے

اور بڑے سے بڑا ہاتھی میں بھی پہنچ بھوٹھ ملیں گے ایک مہتما تھے, اس کے پاس کو ایک بگت آ جاتے اور اور شدہ بگتی والے ہوتے بگت اور کہیو سے پیدا دو خوطار وہ آجیجی کرتا تو مہتما گاس پر بیٹھے رہتے دھوب پر دھوب کا ایک تنکھا وٹھاکے اس کو دیکھتے, بلے چھالوں, گوٹ کے صرف پہ لگانہ ٹھیک ہو جائے گا دوسرا آیا بھگت کی سیڈن اس کو پیٹ کی ہموں کموں پیدا ہے اور لے او تنکھا گوٹ کے لگاتے ٹی بھی والا ہے گوٹ کے پیلے ہیں پی اور بھی پہ Soar گوٹ کے لگاتے نہ گوٹ کے ہے نی الدن نہیں آتeps ہے کہ گوٹ کے جانہ گا کامر דوبڑ کے جوٹ کے غور ہے سوب دکھوں کی بھی ایک دو آئی تینکھا گوٹ کے ل крут

سوب دگھوں کی ایک دو آئی تینکھا گوٹ کے لنی لئے گائی араٹ کا م your Extension ईपारं की परी खय दिलान

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پڑھتا سے اپنا تھوڑا آم جکانے سے Μیلکول ستس روپس کی بات سمجھ میں آنے لگتی وہ محتما نے کہا بہی دیکھویں تنکھایا اس میں بھی جل تطوہ ہے سوری کے کی رن میں ہیں وائھے لیکر بڑا ہوا ہے پر اتھوی کے کنکھا کے بڑا ہوا ہے آکاش میں جیتا ہے پاچھتتوں اس دینکھے میں بھی ہے اور تمہری جوجی ہو شدی ہے اس میں بھی تو پاچھتتوں ہیں لیکن بنہ بھنا روکہ لے بنہ بنہ ہو شدی چاہے

کیا ہے یہ بنہ بنہ ہو شدی پر نبتی تو اسی پاچھ بھٹوں سے ہر پاچھ بھٹوں کا ادھر پرکھر تیر پرکھر تیقا دھر وہ پرمت میں اسی سے یہ پر نبتی میں کہا کیا کرتاوں تنکھا توجتا ہون رہی اپنے پرمات مصوال ہوا میں جو پرانوں کا پرانہ ہے جوتیوں کا جوتی ہے نِووں کا دے ہو ہیں اس پرمات میں بھاومے آ کر سنکل پر لیٹان کی اسماریش کو اس بھگت کو جس تتو کی کمی ہو وہی تتو اس کا بکسیٹ ہو جا ایسا سنکل براف کرتے ہوئے من میں ہوں اس کو دے دیٹان ہوں وہی تتو ہوں کا بکسیٹ ہو جاتا تو جو کمی ہے پوروی جاتیو آدمیتھے کو جاتا جس پر ماتما کے سنکل پماترا سے سرسٹی ہو سبتی ہے یا جس تمہرے ہیں انتا کرن میں دیکھو وہ چیطنے بیٹھا ہے اس کی ستتا سے آٹے دال میں سے خون بن جاتا ہے آٹے دال میں سے من مدھیک کو سینچن ملتا ہے

کھتے تو آٹا دال ہوں اور گیا ہے جا سوڑے کھتے ہو تو ایتموگوں کا خورا کا تمیو آنش ملمترا میں نشتوٹا ہے نکل پہ ہے رجو انس میں سے ماز پیشنیا خون دی مدھا ہے آر ستو انس میں سے پرٹی آہٹھی من مدھیکے اگنی اس کو ستتا دے نے والا کون ہے کیوں ستتا دے نے والا ہے پرانوں کا پران جو تیوں کا جو تھی وہ سکشمت تم ہے اسلی چتر سندھوں کے سمیں دھان بجن کرے تو آپ کا پران سکشم ہوگا دود سے دود ملائے جاتا ہے پانی سے پانی ملائے جاتا ہے ایسے جیو سے برم مل جاتا ہے جیسے دود سے دود پانی میں پانی آیسے برم مل برم مل وہ لگا وان دود میں پانی بھی مل جاتا ہے دود میں پانی مل جاتا دود دود کی استیتی ایسی نہیں رہتی

اور پانی پانی نہیں بجتا دود دود نہیں بجتا دوسرا کو جو جاتا ہے نام بھلے دود دے دو لیکن وہ فیٹ وہ گون اتنے نہیں ہوتے لیکن ہان تو وہی جیسے ماء کی سپوری شکتی پترة کے لئے ماء پوری کی پوری اپنے نن نے ملنے کے لئے ایسے پر مات ماء پورے کا پورہ اسوامن کے لئے ایس سمجھ میں آ جاتا ہے جان ہوتا ہے انتا کن اوچھنا جو چیطنیا ہے اسی کے لئے اپاک برم مپورے کا پورے کا پورے ہے ننی ملنی ببلی گلی ہے ایتنی علم بھی جوڑی ماء اسی کے لئے ماء کشر ریر تو بضل جاتا ہے چھوٹ جاتا ہے بھی چاری مر جاتی ننی ملنی بھی مر جاتی لیکن جیوات ماء نہیں مارتا اور پر مات ماء بھی نہیں مارتا ان کا سناتن سبند ہے اس کو جس نے پیچان نے کے لئے قدم رکھے وہ بھاک چاہلے باکی تو گرتکی مجھوری ہے کتنا بھی جان لیا کیتنا بھی پالیا کیتنا بھی بھوگلیا انت میں کیا کچھ بھی نہیں آتنا گا

کام کرنے کے پہلے شانتتے کام کرنے کے بان شانتے تو تم کو کیا ملا ملا تو سریر کو انڈریوں کو سوھن ملا اور وہ تو دلہ دینے کا تم کو کیا ملا پڑنے کے پہلے کچھ نہیں تھا پڑھائے کے پہلے تم جو کے تیوں اور پڑھائیں ہم بند بھی کر دے تو ابھی تم جو کے تیوں ملا جو کے تیوں کہیوں کہ سے پڑنے کے پہلے آگیا نہیں تھے پڑنے کے بعد اتنا ایک نا جانتے تم کیا جانتے تو بھوگل دی میں باردیا جو ستوگوں کا ہیں ایک دی باہر اس میں تم نے رکھ دیا اور کیا تم تو بھائے کے بیرے پڑنے کے پہلے جو تھا جیو پڑنے کے بعد بھی جیو تو بھائے کا ویرا اس کے بود دی میں جرہ سوچنے قتی ہو گئی پڑنے کے پہلے تم بھی امرنے کے بعد بھی بھی تو بیچ میں تم نے اپنے کو ملا لیا مما رہتا میں جو جراتی میں ایک سوکھی میں دوکھی میں پھلان ہوئی ایک کرتے کرتے بھوٹی کانیں آکھر گے سارے ہے شریع تو شاب ہو گئے

تم کو دوکھا لی مجھوری ہاتھ لگی اور کیا لگا پیسے قتے کیے پوترہ پریوار کیا وہ کیا وہ کیا آکھر تمہرے آدیسے تو کچھ نہیں آیا تمہرے اسے وہی آئے گا جو تم ہو تمہرے اسے آئے گا جو تم ہو چیتن اور تمہرے اسے آئے گا چیتن پر مات مباکی جو جرہ ہے وہ تو جر میں رہ جائے گا جر سریع جر بھوتوں میں رہ جائے گا اس کو لے نہیں جا سکتے سرے کا بطینی حال ہوں نے والے

یا تو جلچروں کی باشتابہ نہیں گیا جہتہ سرے کا اللہ معاستیو جندے بھنے گیا یا تو صلح جلاز تو رہ کپھا بھنے گیا اونہ رہت میں کیا آیا یہ سریقوں میں میں کر کے بھاگے جارے دیکندا پر زری نہیں اس کو کتنا بھی سوی دھا کتنا بھی دگری آ کتنا بھی ہم چائی پر پہنچ اذوب دو کھائی اپنے ساتھ جس کو کرنے کے بعد کچھ کر نہ نہیں, جس کو جانے کے بعد جان نہ نہیں, جس کو پانے کے بعد کچھ پان نہ نہیں اُس اچھ دا ننگھن کو پانے کے لیسان دھیہ دھی کرتے, جب بھی کرتے, دیان بھی کرتے, نشکام کرم بھی کرتے اور موت کے پہلے اسی صرف کو پاکھر امر ہو جاتے, نیحال ہو جاتے, سکی ہو جاتے خوشہ ہال ہو جاتے اس لیجیوان یہی ہے, باکہ نکلیجیوان کا تو ہا ہا ہی ہی تھوڑا ہوتا ہے پر بیسے کا ویسان ساری جنگی کر کر را گا انت میں دیکھو تو

مات مگندی سے, جو آجاری بنوبا بھا وی نے پوچھا تھا مان لو, انگریز بھاگ گے, ہم لو کو نہیں ستجاگ رکیا, ہل چل چل آئے سفال ہو گے, بیتن ہو گے, بھاگ گے ہم کو سورہ جمل گیا ہم پرائیمنیسٹر بن گیا, راستہ پر دیمان گیا پھر کیا, گندیجی نے آکاش میں اگلی کو گھومایا جیروں بنایا, پھر کیا, آکھر تو کچھ بھی ہوں پر اٹرکا ہو, پوچھ کے دے کو جل سنگ سے دائے بیچھا رہے, آکھر کیا نمیہ کی کتنی بھی ہوں پلگ گیا ہو جا ہے آکھر اس جیو آتما گوز سے کوئی فائدہ نہیں Ramen it to see then سریل کو فیدا ہے,تما کوئی فیدا نہیں سریل کو نکсяن ہوتا، Тما کوئی نکשان نہیں threw the belly of the sword

نہیں. Hisi le jara jara baatme sukat rai, jara jara baatme it darker ra'ed, dhukhyore. Jara jara paatme it dar ra'ed dhukhyore. like, where a tree is full of science and have the same knowledge of the universe. Jara jara baatme sukat rai, jara jara baatme je dar ra'idhukhyore. پڑا پار تھا. ایسی برامی ایسی تیتی پڑا پت کر کے پھر اُس کا بھن۔ اُس کو مو نہیں ہوتا۔

جنم مرا نہیں ہوتا۔ کسٹن نہیں ہوتا۔ اُس کو شرید کو پھر ہرب دویک سے کسٹ ہوگا۔ لیکن اُس تک کسٹن نہیں پہنچ تھا۔ اُس سے مو چیستی تیئے۔ اِس میں ٹین مینٹ بھی ہارام کرلے تو دیو ٹاؤں سے پوچھا جائے۔ اِس اِس تیتی میں ٹین مینٹ بھی ٹیت جائے تو دو بھارا گھر بواس نہیں ہوگا۔ اِس اِس تیتی میں ٹیت جائے تو اُس نے سارے ٹیتھ کرلے۔ وہ جیس ٹیتھ میں چارن دکے گا ٹیتھ پھر بھی ٹھ رو جائے گا۔ سب دیووں کا دیو ہیں۔ اِس پرانو کا پران ہے۔ اِس واسوس واس کو چلانی والا کون ہے۔ نیچے اپان ہے اُپر پران ہے بیچ میں کون ہے۔ پرانو کا پران میں راپی اپرمات میں ہے۔

وہ سچ دانا ہے۔ ست گھان ہے۔ سریر مرتا لیکن وہ نہیں مرتا لیکن وہ ستا ہے۔ وہ چی ٹنیا ہے۔ سنسار پیوستوں ہے اور سب جڑ ہے۔ اِس پرانو کا پرانو کا پرانا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔

چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ چی ٹنیا ہے۔ سنسار اور سری عگیان ملک ہے لیکن وہ گیان سوروکہ چاہی تنی پر ماتنا اسلی وہ چیدہ ہے اور سرید اور ویکار دوکھ دینے والے ایک نوع سے ستی کا پریمی کو سکھ ملتا ہے اطفہ ان جانے میں بکار بھوگنے والا بھی ان جانے میں چا رہیت پت میں ہاتا ہے تو سے بھی سکھ کی جانک ملتے وہ آنند سوروکی شور سے ملتے

پرم تتو ہے وہ نگوان شو بولتے ہیں پرم تتو بھی جانتے ہیں جو گرو مکھوتے ہیں پرم تتو منا جانانتی گرو پران مکھا بھانتا پشو سماہیتے سو پری گیانو بیوہ ورجیتا وہ بھانتے ہیں آسات سرید کو مائمانتے ہیں جد وستنوں کو میریمانتے ہیں اور بہر کے تچھہ ہرشک کوئی سکھ مانتے وہ بھانتے ہیں پشو جیسے ہیں جیسے پشو گھاس کو دیکھا لپک پڑتا ہے آسات تچھ شو بسطوں کے پیچھے تچھ شو بندوں کے پیچھے تچھ شو بہوائی کے پیچھے تچھ شو آدمبر کے پیچھے تچھ شو بیشے بکاروں کے پیچھے لپکھتے جاتے

کوئیسی دھانا رکھ سے آیا تو کی دھا کوئیسی دھا سورگ سے آیا کوئی اگلے جنم کا ساتھ دھا ہے تو کوئی بلکھل نپٹنی رالا ہے کوئی پشو لونی سے آیا تو کوئی پکشو لونی سے آیا کوئی گائے کے سری سے آیا ہے تو کوئی دوسری سے ری سے آیا اسلی سب کی روچی ار لگلگ لگوں کہ ایک ایمہ باک ایک ایجات پات بلٹ گروپے کھیں پھر بھی روچی الگ پر بروٹی الگ سمجھ لگ کیوں کہ ایلگلگ لگی آترا سے آیا ابھی تو چال رہی سب ایک ایٹرین میں پیسنجر ایکن سب کہ ایلگلگ لگی ساب کے طب اوتا ہے ٹیپین بھی ایلگلگ لگی ہوتا ہے سب روٹی خارے ہیں ٹیپین بھی رائٹی اور پچانے بھی شکتی سب کی اپنی اپنی اپنی اپنی اپنی اپنی سنسکار کے نوصار ایسے ایت دیاتمیتا کی بھی پنجی سب کی اپنی اپنی ایلگلگ لگو تھی ٹھنٹن پال ہوتا تو کسی کے پاس بہو شکتی ہوتی کسی کے پاس قریع شکتی ہوتی تو کسی کے پاس بیچار شکتی ہوتی

کسی کا کوئی کندر شکرتا سے بکسے تو سکتا تو کسی کا کوئی پرمتتوں کو جو جانتے ہیں اور ہماری دشا کو جو پیچانتے وہی دکشا دیتے توی ٹھو سلاب ہوتا ہے نی تو سادہ سودہ جیسے سنسارے گلاب ہوتا رہتا ہے چھوٹہ موتا ایسے تھوڑا بوتا جاپنی جگت میں تھوڑا بوت لابتوں رگرم جگرم سے ہوئی جاتا ہے کن پرم لابتوں پرم پرشم دیبی امیاتی پارثانو چینتے ہیں پرم پرش جو دیبی ہے ان کا جنونانو چینتن کیا ان کے سوروک کو جنونہ جانا ہے اُس کے ساتھ جو ایک ہو گئے گورو تو بہو تو سکتے لیکن سدگورو ایک ہے جو سدگان سے چیدگان سے آننگان سے ایک ہوئے گڑے قاکاش محقاش جو ایک اتو کوپیا ہے ہےیسے سدگورو وجیوان میں کبھی کبھی قاہی کہی دھارتی پر ملتے سدگہ نہیں ملتے

چندن کے برقش سدگہ نہیں ملتے چندن کے برقش سدگہ نہیں ملتے کام دھنو گائے کر بسدگہ نہیں ملتے پدم گندھا گائے بھی آج کل نہیں ملتے پردے سیگائے پردے سیگائےگی دھن چل گئے ھنچل گئی ھا بھی سرکار کو پہتا چلہ کے پر دیسی گھاہوں کے دوڑ میں اور ہوں میں دم نہیں ان کے آپ لوں اب پھر بچاری سرکار دیسی گھائے پر آ رہے وہ اس لے انکوں دنے واضے تھے گیر کی گاہے کانکریج گاہے پھر سپالان بورڈ نے اس پر دھیان دینہ سروب کی آہے گوڑ رہت کا پھر سپالان بورڈ وچھا ہے گیر کی گاہے کے دوڑ میں گھن جاہے ہیں دوسرا نمبر کانکریج گاہے کے دوڑ میں گھن جاہے اس میں بھی کالی گاہے تو وہ اور جاہے گاہے گاہے گیر کی گاہے میں تو بہت اچھے گھنے ایکن اس سے بھی پدم گندھا گاہے میں بہت گھن تھے ساؤ گاہے دو کر ہزار گاہے دو کر ساؤ گاہوں کو پیل آیا تھا

اور دوس گاہوں کا دوڑ ایک پدم گندھا کو پیل آیا تھا ہر وہ ہی دوڑ سری کرشنے کو پیل آیا تھا اسی لی ویلیکشن مدھی ویلیکشن آنندہ اور ابنے چیتن نے سروب میں سدام مستھ آہر کن بھی تو پر تا ہے سر چیتت پر اپنے ست سروب کو اپنے چیت سروب کو اپنے آنند سروب کو پرکٹ کرنے میں ساتھری کا آہر ساتھریک ویہوہ آہر ساتھریک چیتن اور ساتھریک سنگ مدھوں کے سنگ میں رہیں گے تو مدھتا بڑھی ناستک کے سنگ میں رہو تو ناستکتا بڑھی آستک کے سنگ میں رہو تو دھری دھری آستک ہو جاتا لیکن برمگانیوں محاپرشوں کے سنگ میں گرہتے ہو آہر مگان کا پرکہ سنگ لکتا جی رہی ایسے محاپرشوں کا سنگ آدھی گھڑی نہیں چاہتھا

گھڑی بھی میں جائے تو کروڑوں پاپوں کو ربیوں کو کھڑ دیتا ہے ایک گڑی آدھی گڑی آدھی میں پنی آوڑا تلسی سنگت سادھ کی ہرے کوٹی اپراد ست سرو ست سرو سے آستک کے آسکتی میںٹا ہو چت سرو سے آگ جانتا میںٹا ہو اور آنند سرو کو جگا کر اپنا دکھڑا میںٹا ہو یہی سچد آنند سرو اسی سچد آنند سرو کا اشلو کا آتا اس بھاگوات میں پہلے پہلے روہ سچد آنندہ ہے ست سچد اور آنند سرو پیشور ہے اس آنند سرو پیشور کو ست سرو پیشور کو ہم تینوں تاپ نیورت کرنے کے لئے پرنام کرتے ہیں

بھاگوات پر حبتی کے چارو پائے ہیں بھاگوات درشن کا چتنے اتکنت اتکنت پاہوں بھاگوات درشن کی خوب پیاسو تیبر پیاسو اتکنت تھو دوسراہ نیرنتر بھاگوان کے نام کا جاپور اس کا آرت سمتے ہوئے سچد آنندہ سرو پیشے اور تیسرہ ویشے بیکاروں میں سنگرر میں دن سمتدہ بھی انت میں تو ٹھن ٹھن ٹھن پال رہے جائیں گے تو کیوں سمہے بروات کرنے ایشور نے جیتنا جیتنا تم کو جاروری اتنا تو ایسی دیتا بچے کو دود جاروری تو مل جاتا ہے ہوا جاروری تو مل جاتا ہے اور ایے جڑت دیئے کو Oxygen جاروری ہے تو لے نے جاتا نہیں مل جاتا ہے برقشوں کو بھی Oxygen جاروری تو مل جاتا ہے ہوا تو فان پانی جاروریو

مل جاتا ہے تو جتنا تمارے پاسے اتنا بہوت ہے اور جتنا تم نے جانہے اتنا بھی بہوت ہے جو جانہے وہ коفی ہے اور جو ہے وہ коفی ہے اب تو جس سے جانہ جاتا ہے اس کو جانہے کے لگ جاغ جس سے پایا جاتا ہے اس کو پانے کے لگ جاغ ایساپنے من کو سمدھا ہو, تو کام منے گا نہیں تو سمہی بیت جائے گا اور ویرت کی جیجے یہیں پڑی رہی جائے گے اور ریسا رہی یہیں پڑھا رہی جائے گا ٹھن ٹھن پال دیکھ شاہ کے سے رہیت ویکتی بھرانت ہے گیچاریں گے پیشو کے سمان گسیٹے جاتے جیسے ہرہ گاز دیکھر پیشو لپکھتا جاتا ہے سے شن بنگور سوخور تھوڑی باہایا یہ لوگ کیا کہیں گے اچھا لگے گا چھا دیکھے گا اسی میں خب جاتے اور جنوں نے چا چا کہا وہ بھی مر جاتے اور جو اچھا چا کہا لہنے کے لی مر رہے وہ بھی مر جاتے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا ہے نا رہی نا رہی نا رہی نا رہی

تو بگوٹ پر اپتی کے چار باتے ہونی چاہی ایک تو بگوان کے درشن کی تیبرتا اتکنٹا دوسرا نرنتر بھگو نام جب دوسرا بھی شہی بھی کاروں میں آروچی ایسے کے ایک ٹیک میں ایسے بیسے میں آروچی سمجھ گئے نا اور چوثی بات کیا ہے سہن شیلتا وہ دو بہارت کا پران ہے سہن شیلتا ایکن بیوکو بھی سہن شیلتا نہیں سمجداری سے ساکشی باوس سہن شیل ہو کر کائر نہیں ہونا ہے سک کو بھی سہلے دک کو بھی سہلے مان کو اپمان کو سہلے اپنے دھرمپے ٹکارے اور جود کرنا پوڑے تو آرجم کے نائیں کیا کہ نہیں کرو پھر کرشنے کے گیان کو لے کر باڈرپے جود کرنا پڑتا آتوادہ ہم ست کرم کے لئے کچھ بھی جوجنا پڑتا ہے تو جوجنا میں بھی پیچھے نہیں ہونا ہے سہن شکتی سہن شکتی کر کے دین ہین ہونے کے لئے درم نے کبھی نہیں کہا اتنا کم اور اتنا سائیسن ہونا ہو

کہ اپنے کو ایرگم چھونا بنا دے آریتنا کم کتو بھی نہ ہوگی لوگ تو تو کرے یہ دونوں بہت اپنے دھنگ سے جینے کی کلا سکھاتے آری یہ کلا بڑتی ہے چھاہر سندہوں کا فائدہ لے نہیں تو ٹین کلا ہے اس سے پران سکشن ہوتی ہے من سکشن ہوتی ہے بھتی سکشن ہوتی کروڑوں لوگ دھرتی پر رہے ہیں لیکن آج تک ایسا شاستہ نہیں بن آج اتنا سکشن ہوتی والے محپرشوں نے بن آ کر رکھ دیا کروڑوں کروڑ لوگ ہیں ابھی بھی دھرتی پر بھاگوڑ کی براپرے کا کوئی گرامتر نہیں بن آج سکتے گیتا جیسا کوئی گھان نہیں گھا سکتے اور مانتر اپنے کو بڑے اُس تاد اُشار تمہر آج مانتر جاپ اپنے آپ میں ویشھش سادنا ہے لیکن

انگی سادنا منتر کی انتر اتما کندر بھی ہے منتر انگی سادناوں کا انتر اتملوب کندر بھی ہے اپنے آپ میں منتر سادنا پونہ ہے سوطنتر ہے لیکن انگی سادنا بھی منتر کندرستان پر ہے اسلے منتر کی محیمہ اور منتر کا لاب جتنا ورنن کرو محیمہ میٹی چتطان پیل پوڑے اور پشو پکشی پرکرتک وائبھا کے سات ملے رہتے سنسنسنسن کرتی حوای اور توفان مگھو کو چیرتی ہوئی ویدیو تو شانت گھاتیوں کو گنجاتی ہوئی وہ گنگہ اور یمنا شانت جیل اور شانت جیل اور شروع

پشو پکشی اور ونچر بیچرتے ہیں اس پردیش کو یہاں ہی مالے سمجھے اردھا ایک تو وہ پتھر جیسہ پہاردی کرائے برپیلہ لیکن بہار سے ایسا دیکھتا ہے وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں اور جو پشو پکشی اور ندیا وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں وہاں dumplings & mutha dish ,ruptناź

диध��igt �ellaटे गांगा दिपाव pope क्लप्म भशबाण दुआब उबा यकझाव सरग दाश imminent अपत्वि ख बारजन प्शौ痿कशन जी बी सல果। देविज थीविधे प। افگانستان میں لیفٹن مارٹن کی پسنگی ہوئی تھی وہ لیڈیم مارٹن کے ساتھ اپنی سینہ کو لے کر افگانستان کا یہ دھرڑنے گیا پتنی کا نیواز کچھ مائل دوری رکھا اہر ایک دو دن پے مارٹن آتا تھا اور ایدد میں فتح میں لے گی ایک ہے کہ اس کا ایک دن دو دن تین دن چار دن پات دن ہو گیا آنہ بند ہو گیا

لیڈی کو بڑی چینتا ہوئی وہ اپنے ساتھ ایک اگر اکشا کو لے کر گھڑے پر سوار ہوئی لیڈیم مارٹن افگانستان میں کے ساتھ اس تم الیود میں جوج رہے تھے اور سفلتا کے چینہ بھی فلتا میں بلکل اترائے تھے وہ گھر نہیں آسرتے تھے اپنی کمپ سے بہر سلامت کہیں پہنچناوں ان کے لئے آسامبہ سا ہو گیا تھا لیڈیم مارٹن نے پتی کی چینتا چینتا میں نرش جاکہ کہ میں ہی جاؤں گی دیکھتی ہوں گا ابھی تک نہیں آئیت نے دن ہو گئے گیارا گیارا دن بھیتکہ ابھی تک نہیں آئے جاتے جاتے لیڈیم مارٹن نے دیکھا

اٹھھارا سو اناسی کی گھٹی اتیاسی گھٹنا ہے کہ کوئی مندر ہے اور مندر میں کچھ اواج آ رہے بہت سارے لوگوں کا گھڑے کو دھر کو مورہ دیکھا تو برہمان لوگ لگھورு دری کر رہے ساوان کا مہنا ہے یہ کیا کر رہے ہو وہ لے ہم بھگوان شو کی پو جا کر رہے لگھورு دری کر رہے لیڈیم مارٹن کے آنکوں سے آن سوبر سے میں تو میرے حصبن کو دیکھنے جا رہے وہ افغانستانوں کے ساتھ ید کے لیلیفٹن کننل کے حصد سے آئے تھے میرے حصبن مارٹن ایکن ابھی بہت سارے دین ہو گئے آئے نہیں کیا پتا کیا ہو گئے ایک قبرد برہمان نے کہا کہ دیوی بھگمان شمبر سداشو آشو توس کے ہوتے ہوئے

تو چندھا کیوں کرتے ہیں تو بھگوان کی ستدہ بھگتی سے پوجا کر اور میں سو حگن بنی رہوں ایسی پراتھ نہ کر بھگوان کے نام کا جب کر اور منتراکہ ایسا پر بہار شو کی پوجا کا ایسا پر بہا ہے کہ جو یا چک چاہتا ہے اس کو بہی ہی ملتا ہے ایسا نہیں بھگوان سب کو برمگان دیں گے جس کو جو چاہی وہ دیتے ستسنگ میں تم سب کو دیتے ستسنگ لیکن برمگان وچنوں میں شدھا دھا رکھی

لیڈی ماتن اٹھارا سو اُن ناسی کی بات ہے گلگ ہوروڑری ہوئی اور سیوڑی کے حاجہ اس نے ہاتھ جوڑ کر پراتھ نہ کی لپٹن ماتن کیا دیکھتے ہیں کہ افگانستانوں کے بیچ کوئی ایک ٹرشول دھاری چاہیا پروش جیسا بڑھا ہوی شہل کا ایک ہڑا ہے اور اس کو دیکھ کر افگانستان کے سینک بیول ہو گئے ان کا منوبہ لگ دب گیا اور لپٹن ماتن کیا دیکھتے دیکھتے پر آجہ بیجے میں بڑھا گیا

جو کنت تک پر آنہا گے او مارے وہ ایک ایک موت جیوان میں بڑھا گئی او کشیوں سے بھاگتا ہوا آیا راستے میں پتنی ملی اور جب بات چیت ہوئی تو لپٹن ماتن نے کہا کہ میں تو گوری طرح پس گیا تھا اور پرانگومانے کی نوبتک پہ پہنچ گیا تھا لیکن ایسا کو اترشول دھاری پروش دیکھا ایسا ایسا تھا ہوا اس کا بہش پر تو لپٹن بیسوں بیس ہرش کے آنسوروی بولی او بھگوان شمبہ سداشیو کی پوجہ کیا اور اس کا جب کیا اس منترکہ پر بھا اور پوجہ کا پر بھا تم ہاری سرخشا کرنے کی آیا ہے تم ہاری سرخشا کرنے کی آیا ہے لپٹن ماتن نے ویدھائے کے سمئے وہاں سے جب اپنا کم پوکھار کے

پر موشد ہو کر جانہ تھا تو اس ششیوہ لائکوں درست کرانے کے لیجروں و دھار کرانے کے لئے اس جمانے کے دو ہزاروپے ابھی تو بہت شارے میری ااشھوٹے شن کرவہ گوان ہماری رکشا کریں گے میری سوحاکی رکشا کریں گے پتی پتنیشی بھاکت ہو گئے بھارتے سنسکلتی کی کہیسی اپاس نہ پتی ہی گے منتر شکتی کی تنی ہپنے آپ میں بلوان ہے

تم اموگ پرکھار کا منتر جبتے ہو تو اس پرکھار کا واتن بیدہ ہوتا ہے جیسے تم سارہ سوٹی منتر جبتے ہو تو تمارہ بھتیک انڈر بکھ سے تھوڑا ہے کرناٹک کی سو پرسید گھائی کا طارہ بہین او کس دھنگ سے گیت گاتی اور اپنے نظدیک کچھ ایسا بیچھا رکتی اور اُس پر بھوط جمادے دی گاہی کا جیسا گیت گاتی اس بھوط پر بھالو کے دانے ملی ہوئی بھوط پر اسی پرکھار کی اکروتی دیکھائی دی بھنگہل کے کافی نے

بھیروں گیت گانے کو کہا تو اس جگہ پر کتھ کی اکروتی اور پھر بھیروں کی اکروتی دیکھائی پر تو ماننا پڑے گا کہ شبد کے پیچھے شبد کا دیوتا اطوش شبد کے پیچھے شبد کی اکروتی چھوپی ہے تو شبد اکلانی اور سب شبدوں میں صرطاج ہے پرنوہ اور بھگوان ملتے شبدوں میں عمکار میں ہیں تو جن کو عمکار سنیوک تو مانتر مل گیا وہ اپنے کو انات مانیتا ہے بہت گلتی ہے ہمارے پاس مانتر ہے ہمارے نات کے بھگوان کے جب لیفٹن کننلخ کا مارتن کی پتنی لیڈی مارتن شویجی کا جب کرتی

اور لگو روڑری کرواتی ہے تو یدسھے موت کے بیچھ کھلنے والے پتی کی رکشا ہو سکتی ہے تو یہاں کام کروڑ وہ کاروں کے یدھمے بھی تو مارے منواکی رکشا کرنی ہو تو مانتر جاف کرتے جاؤ اور چھو مانتر نہیں ہوگا پورانے سنسکار ہے پورانی آدت ہے ایک بار پراجے ہوئے تو گبرہوں نے پھر کوشش کرو پھر کوشش کرو تو بھگوان کہتے ہیں کہ ریشیوں نے بھرگر ریشی میں ہوں اور استھاوروں نے ہمارے میں ہوں شبدوں میں پرنگوں میں تو یہ بھگوان کا جو بائی بھو ہے وہ تمہرے دل میں بھگوان ایسے کے بیسے ہیں لیکن جہا جہا بھگوان کا وی بھو دیکھے وہ ہوا ہوں اس کی یاد لہ کر اپنا دل بھگوطا کر بنا نا چایئے پرٹھمہ بھگتی سنطن کر سنگہ

دوسر رتی ممکتھا تھا پر سنگہ را مائن میں آیا ٹیسر بھگتی او مان مان کی چھانا رکھو انکار چھوڑو چوٹھی بھگتی میں بھگ anak vaya نا کریںیں کا بborгocracy چوٹھی بھگتی وہ مگ anak vaya کریںیں کا بگوان카 گونگان کرو نا چھوڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑ4 مانترا جاپ ممدژڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑ mound پنچم amendment explores cheaty Learning the name of King, 전winning the date of Kamath gegangen the love of one God, so, also i think of this thing that symbolizes in their souls shaved

One see his thoughts اور ساتwick بہت اچھے کرم کروں. اور بہت کرموں سے بہی راگ دہران کروں. چھٹھا دمشی لبیرتی بہو کرمہ. بہت پراورتی بہت پسارے سے اپنے کو بچا کر. شیل سے اور ایک آگرتا سے اپنے کو آگے بڑھانا چاہی. نیرتنی رنطر سجن دھرمہ. نیرتنی رنطر سجنوں کے دھرمہ کا آچرن کرنا یہ چھٹھ ہی بھکتی. ساتھم سم موھ موھ مئی جگھ دیکھیں. ساتھم سم موھ مئی جگھ دیکھیں. موت سنت آدھیکہ کری لیکھیں. جگت کو میرا سروپ جانے. یہ بھوتیوں میں یا اور میں میرے سمان میرا ہی سروپ جانے جگت کو. اور میرے سے بھی ادھیک میرے سروپ کا گیان دینے والے میرے سنتوں کو مانے اور پیار کرے. آتھمان.

آتھمی بہتی جتھا لاب سنتوشا. سپنے ہو نہیں دیکھا ہی پر دوشا. جو مل گیا چکنا چپاٹا. مان اپنان اپنے دل کو سنتوشت رکھے. اور سپنے میں بھی پرائے دوش نہ دیکھیں. ناومی بھپتی کیا ہے کہ سرل. ناومی سرل سب سنت چلہینا. مما بھروسہ ہی ہرس نہ دینہ. ناومی بھپتی کے سرل ردے. چل رہیت ردے اور بھگوان کا میرا بھروسہ کرے. اور ردے میں دینتا ہینتا نہ لائے وستو بیگتی پرستیتی کی. ناومی ہوں ایک کہیں جن کے ہوئی. نااری پروسہ چراچھ رکھ ہوئی. سوئی اتیشہ پریر بھامتی مورے. سکل پدارتھا. ہے بھامتی. ناومی سے بھی ناومی سے ایک بھی گونہ.

ایک بھی پرتما بھپتی دوٹی ابھپتی. کسی کے پاس لی ہو چراچھر نرناڈی کے جوان میں. ناومی ہوں ایک کہیں جن کے ہوئی. نااری پروسہ چراچھ رکھ ہوئی. سوئی اتیشہ پریر بھامتی مورے. سکل پرکھا رہے. بھاوطی دردھتورے. اناومی سے کسی بھی ایک دوٹین گونہ کو اپنے دل میں جو دھارے ہوئے ہیں. وہی نااری ہو پروسہ چرا ہو اچھر ہو. میں اتی پیارے ہیں میرے. ایسا بھگوان کہتے ہیں. تو بھاکتی شروع کرنیے تو سنتوں کے سنگ سے ہی بھاکتی کا رنگ لکتا ہے. لوگ بلتے ہم ستسنگ میں کیونہ جائیں گے. مندر میں جائیں گے. سترام سترام کریں گے. اللہ. اگر اللہ. اتنا کرلیں گے. ام کیونہ ایک اتنا میں ستسنگ میں.

وہ پائے ہوئے سنتوں کے ستسنگ سے ہی ملتی ہے. تو ریشیوں میں بھگوریشی میں. بھگوان کے ماناس پتروں میں. سی ریشی. بھگوریشی ایک ماناس پترے ہیں. ستریشیوں میں. ان کی گرنا ہوتی ہے. دکش کی کنیا. کیا تی کے ساتھ. ان کا ویوہ ہوا تھا. اور ان کے پتر تھے. دھا تھا اور ویدھا تھا. اور پتر تیسری. اصری بھگوان نارین کو انہوں نے ارپن کی ہی تھی. جیرام جی کی بھگوک ایسے. نارین کے سوصورہ ہوا. بھگوان کے سسرہ بننے کی بھی تاکت منوشکے پاس. بھگوان کا باب بننے کی تاکت دی منوشکے پاس. بھگوان کی مام بننے کی تاکت دھی مائیوں کے پاس. اور بھگوان کی دادی بننے کی بھی تاکت. بھگوان کا مام اور مامی بننے کی بھی تاکت.

اور بھگوان کا بھائی بننے کی بھی تاکت. اور بھگوان کو پرگت کرانے کی تاکت بھی بھگوان نے بھگتوں کو ہی دے رکی. اہم پر آدھینوں حتا. میں سنتن کو دہا. سنت میرے مکت مڑیں. ایسے سنتن کی نندہ کرنے میں کلجو کی آدمی کو در بھی نہیں لکتا. بھی کر بھی نہیں کرتا ہے. تو اس کا کیا حال ہوگا یہی بھی کر ہوتی سنتن کو. ایسا کوئی بھگنے جو میٹے نہیں. ایسا کوئی شرے نہیں جو مرے نہیں. ایسا کوئی سنگ رہنے کی چھوڑنا نہ پڑے. جہرانگی کی. کتنا بھی سنگ رہ کرو چھوڑنا ہی پڑتا ہے. لیکن بھگوان کبھی نہیں چھوڑ سکتے. جس کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے. اس کی ملاکات نہیں. اور جس کو چھوڑنا پڑتا ہے.

اس کی آسپتی نہیں. میٹی ایسی بھی دمنا ہے. ایسی کو بھولتے میا. دوکھا. بیدھر نیتی کی بہتی اتنی سچی ہے. پویترتا سے سترک پریتنوں سے لکشمی. سترک لکشمی آتی ہے. اُدھ جوگ سے. ست کر مکارنے سے وہ بڑھتی ہے. اور انڈریہ جیت اور سیم سدہ چار سے وہ ستھائی ہوتی ہے. لیکن وہ ستھائی ہوئی تو بچوں کے لیو ہی تمہرے شریع کو تو پھر چھوڑ کے جانہی پڑے گا لیکن تم ایشور کو چھوڑ کر کھیں نہیں جا سکتے جیسے آکاش کو چھوڑ کر کھیں نہیں جا سکتے. کھیں لڑا چھوڑ کریں آیا گا ہے. چھوڑ کریں بلو دھیانا جائیں گے. لو دھیانا چھوڑ کریں نڑا جائیں گے. امریکا جائیں گے. لیکن آکاش کو کس دن چھوڑا.

یہ پاغلوں کی بیتھل نہیں ہاں. چھتuated ہو چھوڑہ میں دالد رہا ہوں کار کو۔ پاغل گل کو پالیاں کہ ہندما کا آنمر کے اسی ہوتا ہے راگڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑ. तो लिइनाा नहीं नाराहैं ett वज ऐर फिए ग೒ तो लिः फिए भिछ्यब ख़ के यहमें टिए बा।

आऺानासाय यँ एडfilmurkha बरार ऑरीं playan तबेनानें सवें interdisciplinary कपेेँई काप्य carpet भिकर Congress गोषेvenew-hyho przypad यछाआwheel घिपो

यहान बादन से जो अशान कि राना नाता है। वोसको दूरनदचोद के बादा जो़ी कबी मत करना वोसी वासता को दो़ी वर आवर पी जेर आवर पारी तरने देना आवर आवर आवर आवर एर खीविद्या तो मरेगा तो ते टेरा सरी मरेगा तो कबी मर मी नी नज़ा दे गर पीर किव्करगब नहीं औेगा तो ज़्की ज़्का सदाने ते डेभापका क्या जाता

तो जिन्तनकर चिन्तनकर تfitshipriat sus अपर्तदमजी करे कुदा kita hinderna, kita hinderna kita hinderna, kita hinderna

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →