Jan 2,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
418 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 2,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
आगे सब्वेग गेंडषती गतिछती winner गतन पoughing پڑے گا. چا بگری تو. سوار بگری. دا بگری تو دیوست بگریو. اتھانوں بگری تو ورش بگریو. انا بہیروں بگریو تو ساری جنگگی بگریو. میں نے ایک اخبادیسے محاویر نے پارسر نارجی کی بات نے ایک اپنانوں وہ ملادیا. ایسے میں نے ان بات میں ایک بات اپنی ملادی. میں نے ایک اہاں کہ دار بگری جا بگری تو سوار بگری. دار بگری تو دیوست بگریو.
اتھانوں بگری تو ورش بگریو. بہروں بگری تو جنگگی بگریو. پہن ایک واقعت ماریوں میری دو. جو سمجن بگری تو چورا سی لاک بگرین سمجن سودری. تو بات دو بگری تو جراہینا توی بگریو. سب کچھ بگر جائے تو بھی آپ کی اگر سمجنہی بگری ہے. تو کچھ نہیں بگر آئیں. بگتی کال میں نا اندہ دن دی ہو گئے تو ایک بگتی کال آگیا. پانس ورش ایک دگرطور سمجن کی سبہیں ہوتی تھیں. سمجن ہوتی تھیں. سمجن ہوں میں. سمجن لوگ بولتے تھیں. اور پھر وہاں راکہ وہاں ہری میں ہو جاتا تھیں. تو میں پتھا سنہ را تھا جاپان میں ٹیگور جی گئے. وہ سویٹ بولتہ ہے بگنھا کہ میرگ ہر پاظگن کروں. ایسا پاظگر ہوں اس کم ہی کبھی ملتا ہے. جس کے ہم ایر دگرد سے
ہری چرچا ہری دھیان ہری گیان ہری شانتی بکھرتی ہو ایسے تو کفی کبھی ملتا ہے. اور جتنا آدمی کامن ایکاگر اتنے اس کے ویس دور تک جاتے. اور ایدھاپنگ راستے میں تو ایکاگر تو پہلی شرتے ہیں. اسی لیے کہاگ بوشن محراج جہر ہے تو تیسا واک کس تک کنجگ نہیں جہسکتا تھا. سا واک کس کے ایلاکہ تک وہ بھومی میں سوک شانتی آنان دسانوں بوتی کے وائبریشن ہوتے تھے. محاپر شاگی بھی جہا جہا تھا ہے تو اس جگا میں ٹرتتو آجا تھا ہے. تو محراج کر پا کر کے آپ میری. گزرات نے پر بولی لکتے کہ بابا جی آ رہے وہ لگا کہ ہمارے وانتہر ہے وہ لگا کہ ہمارے وانتہر ہے آپ کس کے وانتہر ہے چاہلو پر وہ سمیدی والے آیا بولی لگا تھا تو کو دو آجا ربولتا کو ٹینو آجا رہا ٹھر پاچھا جہر ایک کیسے کیسا جہر بیس بیسھا جہر کھانی جہاں سندھتھ حیرتے ہو جگا کیوں کہ وہ جگا ہمارے بائی بریٹ ہوگی ہم نے ملے گا
ایج جت ہوگی ایسا بھی کہی جگا پر ہوتا ہے ایک ان اس سجن نے پراتھ لا کیا کہ مہراج آپ پدھا رو اس سجن کی ایک آکار قتا سنھیں کی جو ریت تھی اس کا ٹیگور جی پرسن تھے ٹیگور نے کہا دیکھا بہی میں کرے گھر تو آوں ایک نشارتے کہ ٹھو کوئی خرچہ مٹھ کرنا تھی
ایک انجینئر نوکری کرتت اینجینئر جو اس کی ٹھو چالیس سجار بگا uniform میرے باس آتتتتت جو کیتھا میں سے گا ہے دونوں پتی پتی میں کہ کیوں کی جلدی کہا ہے ہم کو دونوں کو نوکری پے جانانا ہے دونوں کو نوکری کیوں کرنی پرتي اولی ص危 ji ایک لرق کی پڑتیト حي تپتก تو تک تھے کی تو ہمارہ بھارہتا بھی بھی تھی کہ شاوکہ آ رہے ہیں ایک انجنیر دو بیٹوں کو پال پوشکے بڑا کر سکتا ہے شریعہا تو کہنے گا تاتتری کہ او کھول بڑی بہیں گے
پھولوں کی گاریش سجا کر لیا ہے رہی نرنات ہےگر نے اپنے سکتری کو بھول ہے کہ دیکھیں گری بھڑا ہے اکنا کرچا کرتا ہے یہ 200 وہاں کے سکے 200 یام ہم لکروپ ہے بھولتیں وہ لکھی یام بھولتیں ہم کیس کرنسی میں بھول سو یام مطلب 15% ہوتے ہیں انگے 16% اس جمانے کے بھول سو یام دے دی کہ ان کے بچوں کو دے دینا کیوں کہ اپن جاتے کسی گریب کے گھر امیر ہوتا تو دکشنہ لے لے تھے ایکنی یہ گریب ہے خچا کیا ہے تو ان کے بچوں کو یہ 200 یام تو پکڑا دینا میں دوں گا تو نہیں لے گا بچوں کو پکڑا دینا بھارت کے سنط کی کیسی ادارتا ہے پاڑری ہوتا پک پگار لے تھا دکشنہل دیکھتا ہے اور سنطوتا تو اپنے سے 200 یام دینے کی سوطا کیا بھارت کا گیان ہے کیا گیتا کی گیان کی مہیمہ لہاں دیتے سکتری کو کو اس کے بچوں کو دے دینا چکے سے میں دوں گا تو سنکوچ کرے گا گاڑی میں بیٹھیں اور گاڑی دواراج پیٹھ کا پانی میں ہلے
ایسے چلی بہل کل سموچ چلتی ہم بیٹھیں ہوں اس میں آیاں اسے خوچھ گیاں آیاں ایک مونچی پہاری پر براشاند اور مہل آگیت کی پر نے گیت کھولا اور سلام بھری نیسے آوائی گاڑی دوانہ کوکھر کرتے ہیں سلام میں اسی بھری بھاری چتاک سے گرگے پتاک سے دوار بن ہو بے گے کیا وہ بڑا دوار کھولا بیشال مہل کا لیوالے گئے وہاں دیکھتے کیا ہے کی سونے کی قرصی اس پر ریشن کا ایک رومان صندر نقشی کام سوضت جہ دالدیا گیا دیگورڑی کو وہاں بکھایا سام نے پتاس کے سمکے سوکے اور تاجے فروٹ پتاس کے سمکے بند بند پلیٹ ہیں کوئی سونے کیے کوئی رتنا جڑیتے کوئی چاندی کے کوئی کس کیے کوئی کس کیے کوئی کس کیے وہاں میں بند بند پر کار کے مے گے ان لو کو نے ہندوستانی سیستم سے سند پر دھارے دو آرٹی ہوتاری تک پر پیگورڑی بیٹھر ہے
بےگ توی رہے وینگگ گجلیں وہاں گگریی وہاں Barkar جلیہ وہاں گری bey وہاں گری وہاں گری یہ جور brightness اور یہ وہاں گر spinach आरेन मauxरेन है। एीुज्नेन मलकिन मताणी यंखा मेरन सो pancakes थधा सिनेगन कासतेन है। आे प گरी वालन है। शान थoirowana द्यारина कधे ये मैरे मेना जार लिए? जे सिनेयेे। ले इयधने बाराँे? लैभ Rhendham Nuz Side टी ब पक पारसान कह ए जक वाराये castle اور وہ جو بھڑیاں, שیز مائے, درام پر تمیسیس سے تیگور جی بھولتے کہ تم اترے شہرے دنانڈیوں
وہ لیسا ہمیں جی بھڑے وہ دو بھڑی پر سندھ فیکٹرییاں اور کاکی جمین جا گئے بھی تو پھرے گریب کی نائیں ہاتھ جوڑ کے بیٹھے رہے تھے تو وہ بھڑھا کیا بھولتا جا پھانگا بھولتا ہمارہ جو دھن پہلے نہیں تھا اور بعد میں نہیں رہے گا جو دھن مرنے کے بعد ساتھ میں نہیں چھلے گا اس دھن کو پاکہ ابھیمان کرنا یہ تو مرہاہ جمورکتا ہے جس دھن سے اتمشانتی نہ ملے اس دھن کو پاکہ مطبالہ ہو جانہی تو مرکتا ہے مارہ سچے دھنی تو تم ہوں اتمشانتی کا خجانہ تمارے پاس سے مارہت ہمارے پاس تو ایحیک ویدیا ہے تو مارے پاس ایحیک ویدیا ہے یوں گو ویدیا اور اتم ویدیا کا خجانہ مارہت تمارے پاس ہے ایسے بڑے دھناڈی کے آگے اپنے دھنوان کا گرف کر کے اکڑ ہو جانہ مارہت یہ تو مرکتا ہے اسے لے مجان مجھ کے چاہ دے سودے قپر پین کے آپ کے پاس نے دھنوں کے آکہ تھا
کہ تاکہ تمارے دھن کی ایک کوری بھی مل جائے تو مجھنوں مرن کے چکھر سے چھٹ جاؤ ایسا دھنوان ہو جاؤں گا جو دھن مکتی نہ دے سکے جو دھن شانتی نہ دے سکے bhajgu· dan-to aik nor nihểm جو دھن مکتی دے سکھتا ہے شانتی دے سک کہا ضوطی ٹھہ Entscheidنا virtu tazu of triggered اجبن اور تبور دکتے رہے کے او a لقشمی بہی شوbaadstaATH جان ویڈی ایسا vaiہ دیی Garrrna لقشمی بہی شوbaadstaath Àتما کا دہت کا Whisker جو عقم Charlotte جو اتنو وکاس کے مارگ میں روڑا دالے وہ لکشمینی کلکشنی ہے جو اب جاکنوں نتی کرنے میں مددروپ وہاں ہی دھان واسطبیک دھان ہے وہی سمتی ہے وہی سو سمتی ہے پاپی آدمی کا دن جگروں میں جہے گا انجیکشنوں اور اوپریشنوں میں جہے گا لڑائی جگروں میں جہے گا اور بہم مارنے اور لگانے میں لگوانے میں جہے گا
لیکن دھرمات میں آدمی کا دھان تن مان دوسروں کے دل میں شانتی جان آنند پریم پھلانے میں چھائے گا یہ آردس جوان بچے جو ہیں آگر بنوں نے یہ ہیو جن کیا اب ہزارہ ہزاروں لوگوں کو شانتی میں دے گا آردس پندر آدمی اگر آتنگ میں چھائیں تو آزاروں کو دینایا شانتی ہو شکتی تلسی داسی کہتے سمتی کمتی او بھائے اورہ رہیں سب کے اورہ رہیں کمتی سمتی سب کے اور میں سب کے رضے میں رہتی ہے تن بھاگی تو آئے کہ ماراہ ہے تمارے جسے سنتوں کا ست سن کر کے اپنی سمتی کو بڑھایا اور کمتی کو مطادي ہم لوگ سچمچ میں بھاکشالیے کے بھارت میں جنمو آئے اُس سے بھی جادہ بھاکشالی ہے کہ ہمارے اندر سردہ ہے اُس سے بھی جادہ ہمارے بھاگے کی یہ نشانی ہے کی سردہ کے ساتھ ساتھ ہم کو ست سنگ جلدی مل سکتا ہے پاش چاہتے جبت کے لوگوں کو ست سنگ جلدی سے نہیں مل سکتا
بھی بچارے ایدھر آتے اپنے آشتن میں پڑے باشا نہیں جانتے پڑے ایک لرکی سوزل ان کی اس کی مگری ہونے کو تھے مگری ہو گئے اپنے حسمن کو پتی کو کہا کہ اپن میرےج کریں گے اندیامت اس کا نام ارسول آئے اور پتی کا نام رولا مسترولان پرولان اور ارسول آئے اگل سال کی بات ہے میری پاس کے آپ کی آئے حجی میں ام ساڈی کرنا چاہتے مگہ تک ہے تم آپ اس میں تو ساڈی کرنا لیکن ابھی ہمارہ پھلانی پھلانی جگہ ست سنگ ہے جو اتما کی پرماتنہ سے ساڈی ہو گئے اس کا قتا ہے تو راج کو جامنا گر ایدھر ہوگر جہا بھی میرا پروگام تھا و دونوں میری پیچھا پیچھا پیچھا
جس کو لگ جاتا رہنگوں قدر کر پاہ ہے ہم لوگ بھاکشالی کے مگہ ایسے ملتا ہے ایک تو بارت میں جن میں نوسری شدھا تیس رہ ست سنگ مل جائے تو آر آج ہماری آئے کنناتی ادیاطمی کنناتی اور آتمی کنناتی ہو سکتے کلکتتا لیکھ سیٹھتا کروڑی ملگ جیسا نام تھا ہے سے دام تھا اس کے پاس جمدھا گی برپی آپی آپی آپی آپی بہی زاپی زاکتھا کہ امر نے پڑا تو ساس نکلے نہیں ہم جا کو ہنداکٹر اکیم بلے کم ارے گا تو سی لیکن اس کے پران کئی رکھوے ہیں ہو دوکرا ہو گیا بڑا دوکھی ہے گروالے بھی بولتے کب جاب ہے بولے مورا پیہ کتے ہیں دوکرا کہ مورا پیہ کتے ہیں چورا امر جیے کہ پیہ تو چھاتی بھرکھوں گے تو بھی سانتی آئے گے تو دھوڑے نوت چھاتی بھرکھے ہمونجی را چھوڑا
ہمونجی وہ سانتی آگے چھاتی ماتے مہلے گا تو تو بھرنے تو نہیں رکھیں گے سداورتوں نے بیدنا پڑے گا دان پنے بیدنا پڑے گا تو چھوڑے بھی مونجی گے ہو بھی روپے روپے والچ بندل بے گروپے والے وہ بھی کھول کے چھوٹہ چھوٹہ چھوٹہ بولے تو روپے روپے والا پیہ بے بھی مورا موتہ رو نوت کتے مورا پیہ کتے ہیں وہ بھی لو بھی بات تھا چھوڑا کا دبام تھا اور پائچ پانچ کے دسترس کے تھوڑے کھولے کھولے نوت رکھ بولے ماری ہور ہور یہ نوت روپیہ کتے ہیں ہے پیہ جیادا بے تھوڑا ہورہ نوت رکھیں ہے اشتراپیہ ماریہ پیہ تو اتین اتیاریان ہو گیا پیہ تو ریہ انتےج گیا پرارہے گا مال خجانہ چھوڑتریہ ستجانہ ہے کر ستصنگ הבیسے پیارے نہیں تو پیر پъستانہ ہے phere دنیا میں خ Mull جو نیا میں خ Mull کیا ہیdenly کیا اventhине دنیا میں خ Mull
کیا ہی Barbie کیا رہ بہت مغر کیا کریں گا männ کا پان میںujęہ نہیں ہوت iy کیا جاہیں بتا achusetts کیا کریں کیا۔ کیا Miss کیسு نہیں کہ نیتے لی جا ہوں, مرہ پییا کرتے ہیں. مرہ اتما کرتے ہیں, مرہ رام کرتے ہیں, مرہ پر دھو کرتے ہیں, ایسا سوٹتا تو میرا مران سوڑھ گا تھا. دیکھن جندگی بروپیہ روپیہ روپیہ روپیہ روپیہ تو مردے سمے روپیہ آیا تھا ہے. جس کی آدم جادہ ہوتی وہی مردے سمے باتیا تھا تھا تھا. امسانگی بدبکتی اللہ سے باہر ہے. کم ببت خودہ ہو کر بندہ نظر آتا ہے. ہے تو بھگوان کانس مرہ پییا کرتے ہیں. مرہ سوڑھ گتے ہیں, مرہ دوسموں کرتے ہیں, وہ کرتے ہیں, آرے پنکتے جتاتی اوپری ہے وہ آدما کرتے ہیں. ہوتا بھی چار کرےیا, پر بے روپا روپی جائے ہیں.
مردتا دکی ہوں, مردتا سوڑھ کی دو نہیں کریں, مردتا اے ہوں, مردتا اے ہوں, اپنے دکھ ملوک رویا کریں. اپنے دکھ ملوک روپی جاروٹینوں کا دکھ بڑیا کریں. اپنے دکھ مرہونے والے تو مسکرانہ سکھ لیں, دوسروں کے دکھ در دمے آسو بہانہ سکھ لیں. آپ کھانے میں وہ مزانیں جو, اور وہ کو کھلا نے میں مزا ہے. دوسروں کے دکھ در دمے تو کام آنہ سکھ لیں. اپنے دکھ مرہونے والے تو مسکرانہ سکھ لیں.
ایسا کپٹ کا ویوار کرے گا تم کو لگے گا کر رہا رہا ساری جندگی ایسی ویرت جن کے لیے رات جگے دندھارے عرام کی عرام کی عرام کی عرام کی عرام کی ان ہرام خروب کو خلار ہوئی میرے شتر ہو گئے میںی تم نے کسی سے شتر دا کی ہے ویشش کسی کا گلہ کتا ہے کسی کا دیشے سوشان کیا ہے اس انہ سے اس دن سے بچوں کی بود دیبراشٹ ہو جاتے اسی لی کرم کرنے میں ساو دھان کرم کرنے میں ساو دھان آر ہونے میں پرسن رہے جو کرم کا پھل پہلے کا ہو رہے پرسنتہ سے دھو گلے چکھمچ لامت اپنے دکھ میں رو مت اپنے دکھ میں رو نے والے تو مسکرانہ سکھلے آروں کے دکھ در دھ میں تو کام آہنا سکھلے آپ کھانے میں مجانے جو آروں کو کھلانے میں دوسروں کے دکھ در دھ میں تو کام آہنا سکھلے اپنے دکھ میں رو نے والے تو مسکرانہ سکھلے مسکران کے دکھ مکا سے ہے جن کو پینا آ گیا یہ حکی کہتا ہے کہ جہاں میں ان کو جینا آ گیا
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya