Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 2, 2026

Jan 2,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Jan 2,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

658 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 2,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 2,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

تھم سو جاتھ چھو سوپنا دیکھتے ہو تو بڑا بھی سال دیکھتا ہے جیکن جس کی ساتھ سے دیکھتا ہے اس کے آگی ہوتھن کے گینایں بھی نہیں نہ جانے سے جگر کتنی بھن بھن کے ناش ہو گئے جس کی ساتھ سے راتھ کو سپنا بھنتا ہے اس ستھا کا پتہ نہیں ہوتا اس لیس اپنے کا جگر بڑا لگا سلکتا ہے اور ستھا نہیں باستے ستھا کا خیالا جائے تو ایسے جگر تروج بندوان کے چلے جاتھ سوپنا ایسے ایسے تن ستھا کے آگی یہ جگر کچھ میں نہیں جس نیما کے انگر بیٹھ ہیں سندھرے میں تو پردے کا جگر بہت بڑا لگتا ہے بہارا جو تو اس نیما کیا ہوتا ہے؟ اس کے پردے پر چل چتھر کیا کی مدرکتے؟ انیما تھیٹر میں دیکھو گئے تو بڑا لنبا چھوڑا دنیا دکھے گا سیک پردے پے

ایک اکاش میں آجا اور گغن مندل میں جاہج میں مصافی کر دو تھیٹر اتنا لگے گا ایک اینٹ پڑا ہے ہم دیکھتے ہیں جاہج میں جب جاتے ہیں مقان دیکھتے دوانشی آجاشی گئے رئے ناولے کا گئے دیم پر دو گنٹے چاری سنوٹ لگے پانکہ بہا ہوا بھی سا بڑا پر شم بھی ہوا جاہج میں جاہج سے بیٹھے بہن بے جا رہے تھے جاہج اٹھا تو نجر پڑے کی نیشتا دے میں مصہ جاہج اٹھا اور نیحا رہے تو ہی واسنہ دے تھے ہل کے ساتھنوں میں وہ دےم بھی بڑا لگتا دور لگتا بڑیہ ساتھن سے دیکھو تو دیرہ ساو پولٹو دے دیل واسنہ دےم یہاں سے سولاکت سترکشلہ بھی درے

ایسے اپنے اپنے آتما بیچار میں دیکھو تو جگتا تیسوچ چا باستہ تمادی میں دیکھو تو جگتا کوئی گندنے جا مراکستا سے دیکھتے ہیں مو ممتا سے دیکھتے ہیں تو تیرہ میں راولے بڑا لنبا چھوڑا لگتا جا بھی سور کو دیکھتے ہیں اپنے کو دیکھتے ہیں اس کی ساتھا کو دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں تو کچھ نہیں تنکھے گئن آئے ہیں اسی لیے بڑے بڑے سمراتوں نے راجھ چھوڑ دیا اس اپنے راجھ کو پانے گئے لوگ بھولتے بڑا راجھ سالے گئن ان کو جو اپنے راجھ ملا اس کیا جو راجھ کچھ نہیں وہ رکان تواز مان پرانایاں نیم اور اپسا ان کو اچھی جگا ملتے ابھیتر جگا ملتے

جہاں محان بننے کی سمبھا نہ وہاں بھی وہی سی رہے جاتے اور کئی تو کچھ اپسے کلتا میں بھی محان بنلتے جنجے توکے بیچ گر میں کتھوں میں پر گار میں رہتے ہوگئے بیچ طرح سے بچارہ سو بچار بچار بجو اپتے دیان میں بیٹ سے جہنی سکھول کا اچھاری ہے آیا تھا ہے جہن مکھ مالک بھی تھا اچھاری بھی جب آپ کو بہت مجھا ہاتی رو چاربہ یہاں کھولی جاتی چار سے ساتھتے بیٹ کم پوچھا پوچھا میں لیکن آنہ دیتنا ہاتا ہے کہ بہت اس کا ورنہ نہیں ہوتا ہے گار میں یہ بڑی اپنی آئیسکل سمبھا نہ سو دو سو سکشکشکوں کو سمبھا نہ لکھوروپے سمبھا نہ اور سو بے چاربہ جو اٹھے جہن میں بہت ایسے لوگ بھی

جب تک رو چی نہیں ہوتے پر ماتما میں تک تک انا قلتا ہے مل جاتی تو دو بھی آرمی ہوں کیوں کہ نہیں کرتا ہے تو پہلی شارتا ہے کہ رو چی ہو نہ چاہئے پر ماتما پر آپ کے رو چی ہو نہ چاہئے پر ماتما کے راجے میں پہنچنے کی رو چی ہو نہ چاہئے رو چی گوپی جنگ کیسی تو گوروں نے داٹا فتکارا دیکھار گیا تو بھی گوپی جنگ دطارا اور رو چی نہیں ہے تو گوروں کو چکارتے تو بھی ہم لگ بھا گیاتے حتما پت میں رو چی ہو نہ چاہئے پہ بھی کہ آدمی کو شنشان میں را ساتا ہے اور پہنم بھی کہ آدمی کو پر ماتما شنشان میں را ساتا ہے

نیمیت جاپ پر آنائم کریں بلے ایک کنتہ آدم کنتہ نشچت آسن پر بیٹ نشچت سمت مدی ساکھ بھی پوڑائیں من پوڑت رونہ لگے گا شرنی رو گھونہ لگے آدم کنتہ آدم کنت آدم کنت آدم کنت جاپ میں جھان میں لگ بات سے ما نور آج ہو گیا تھا ہے ما نورہ صحارتے لکے جاپ کرو رو گیا ما نورہ جا پہا را اگ کے بنان راگ کے بینہ دوش کے بینہ چنطن ہوتا ہے. اس چنطن کا نہ منورا ہے. آپся کبھی راگہ نہیں کو بیسا ہوتا ہے. کسی بس میں راگ ہوتا ہے تو چنطن ہوتا ہے.

کسی سے دوش ہوتا ہے تو اس کا چنطن ہوتا ہے. و کبھی کبھی راگ گویس نہیں ہوتا ہے. من میں. یہ بھی من کی پتی ہیں چل چیرتی اس کا منورا ہے. اس لیے آہ ہم کر کے اس پتی کو قارتی ہے جاتا ہے. چھتی اٹجیس ہو جاتی ہے. پھر تارتوں. یہ پڑ جاتی اس پتی ہے. خلی جاگہ بڑ جاتی ہے. خلی جاگہ جو ہے برم ہے. میں نہ بھی چاروں کی جاگہ ہند ہے. آلا شلت نیدرا نہ ہو, تندرا نہ ہو, جاگر اپنا ہو, نیدرا بھی نہ ہو, جاگر اپنا بھی نہ ہو, تندرا بھی نہ ہو, لائے رساس واد منورات بھی نہ ہو. باکی کی جو آگستہ ہو, مرم بکیا ہے. نیدرا تندرا نہ ہے, منورات بھی رساس واد, یہ نہ ہو.

اپنے اس لیار کو پھر ملنے کسی وار کسی سے ملوگے تو بیچھر جا ہوگے. اپنے آپ کو پھو جیمینہ اور کسی کھ پھو جو بے تو بیچھے ہوگے. لی اپنے کو پھو جو کے تمکان سا سیا ہے. آسلت نا جا ہوگے. اپنے کو پھو سے پتا تر جائےگا کی اپنے. یہ دی تو چھو جائیں گے. جل جائے گے. دی جائے گے تو دن کھا رہے گے. ملکت کھا رہے. دی کے سبن دی کھا رہے گے. دی کے سبن دی کھا رہے گے. کبھ تیش نہیں. اندریوانہ مارگ روگ انہیں آتمانہ آواتنی سنبانی اندریوگے راستوں کو روکہ مابا ہو تو گیا. کبھتک گتر میں گھوم گیا. اپنے روگ پیشی کرتا چڑ ہوگ گتر میں پیسلنا سگوں ہوتا ہے.

پیسلنا سگوں ہوتا ہے. اپنے سوندھر ہے. اپنے ہوایا ہے. اپنے خش ہو گیا ہے. اپنے بشالد راشتے ہے. اگر گتر میں تو بشالد راشتے والا بھی کنتی تو جاتا ہے. دورجان کا سنگ کرتا ہے تو سجن بھی دورجان ہو جاتا ہے. اندریوانہ ماری دورجان ہے. اندریوگ کے بھوگ میں جتنا آنیگ قڑے گا پاکی رہfelισ سچ آنے گا اپنے سچ آنیگ قڑے گا ماری جانپ pantی املٹ املٹ املٹ املٹ املٹ املٹ ام لڑو املٹ املٹ املٹ املٹ املٹ امتر بھisiaj اپنے سمالppen جانپ جزگی اٹانپ جTeam رятся got امانٹ امانٹ ام Note اپنے امانٹ املٹ امievٹ امGe بڈار سجن ز işi اگر گارپ املٹ املٹ املٹ ام une پرگو کے گئیت تمارے گئیت ہوں میں

تمارے دلڑو پیسے تار سے پرگو کا ساظ میں کلے گا تم تارام آج چھے تم ایشور چھے تمانم دروچ چھے تم پوتے جستی تاروچ چھے تو بہی تم بھارا سوشوٹ تو پر چھے دوکھو دی ایشور ہے آنان سروپ ہے چھے چھے چھن سروپ ہے سانوں کو کاروں اپنے دروگوں بھارکس بھارکس رکھے پیچھے کبتک قبتک قبتک جاکھ ماتے رہو گئے قبتک گینھین بنٹے رہو گئے اپنا اصلی راجی چھول کا بیتھاریوں کا کٹورا کبتک لیکن موتے وہ میر جایتو تھے

یہ ہو جائے تو تھے اتنا کھا لھو تھے اتنا دیکھنوں تو تھے ایلے اپنے کو دیکھ لے پھر دیکھ لے ناصہ اوووووووووووووووووووووووووووووووو تم نککا کھویا ہے کیا پہنہ ہے اس جگت سے تو جے جو بھٹھک رہا ہے تیرا کھجانہ تیرا پاس ہے تو اپنے کھجانے کیا اور دیکھ آئی طالبے منظلے منظل کی دھر دیکھتا ہے دل ہی تیری منظل ہے تو دل کی اور دیکھ منظل کے طالب سکھ کے طالب تو سکھ دھر دھنٹا ہے تو دل میں سکھا دریا لہرہ رہا ہے اپنے دل کی اور دیکھ اب آہر کے آقبان کر بھی تر کیا کھول

آئی طالبے منظلے منظل کی دھر دیکھتا ہے دل ہی تیری منظل ہے تو اپنے دل کی اور دیکھ مقان دو کان رہا جیدان سارید بگر جالیکن دل نہیں بگر دکھیں دل نہیں بگر میں سکھ اپنے دل نہیں بگر میں سکھ آہر آہر کیوں کہ دل میں دل بر ہے وہ دھی ایک نشچا کرتے ہیں اور دل دوسہ کچھ کہتا ہے وہ دھی کی بات ہٹان دل کی معانے کیوں کہ دل ہتما کی نہیں کرتے ہیں وہ دھی کی اپیک سا تو دل کی آواز سن تو کیا چاہتا ہے یہ رہی سے سن پویترتا سے سن

دل کی آواز اور من کی قلپنہوں میں فرق دل تمارا نیراو شانتی اب پیم آنان چاہتا ہے اور جو تم اگون سے آکرامت کیو من ہے وہ سن شار کی کی چاہتا ہے بھڑڑڑ جب اس میں سائمت دیتے تو کی چاہتے ترب جاتا ہے بھڑڑڑ دیشوڑ دو تینکار کرتے ہیں من کو پتکار دیتے ہیں سائیوڑ نہیں دیتے بھڑڑڑ دی من کو سائیوڑ نہیں دیتے تو انڈریہ بچاری تھا پو جاتے جیسلے ہاریوں نے ہمیں سا بھڑڑڑڑڑ کرنے پر جوڑڑڑیا ہے بھڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑ

ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, ہو, یہ دیگہ رہی سے چندتا کروں نے تو آپ پولہ لگے کا کے جگت سپنائیں اور گیر سے ہے جیسے راتری کا سپنہ چالو سپنہ اس سمیں ستے بھاستہ ہے جگ نے پر میتھا ہو جاتا ہے ایسے ہی گیان کیاک سے جگ ہو گے تو ہی جگت میتھا ہو جائے گا تھوڑا ہی گیوے کرو تو بھی میتھا دیکھتا ہے بچپن میتھا جوہنی میتھا بیٹ گئے کل کی باہت آج دیت گئے سپنے تو لے ہو گئے ندی پرورت مالے جمگل جاء بسٹی آتھی وہاں جار ہو گیا

جاء ہو جار تھے وہاں بسٹی آئے جاء خدے تھے وہاں پرورت نکھا راتے ہیں جاء پرورت تھے وہاں سامن دلہ رہ رہا ہے جان سکھر میں ستارے سکھر میں دریع سکھر میں دریع کے کناری سکھر میں ام سکھر میں تم سکھر میں یہ ساعدہ کتہ، یہ سارا جانах سکھر میں سبھنے کا چکھتے پسے جاسار ہے سکھر میں سیڑےClassہ and ��면 Parks Welcon veepherples ٹیپان پ sweaterphony سے کا نضحvoy ہے تمہارے شریع کے کنہ میں یہpool Michaels کے اچھرäusے سٹھے تو وہ ہے جو کبھی نہیں بڑھڑ்டா. لہاں ویویک سے دیکھ سے تو بھی جگت میں چھا دیکھا ہے.

لوگی کی آک کا پیالہ کبھی نہیں بڑھڑ்டா. اس میں چھا جگت کے سکھ میں ہی اپنے کو کھوڑھڑھا ہے. اور کلپ نہ ویڈی کی کلپ نہ کبھی ہنت نہیں آتا. ایشور ایشور کا کے بٹاکتا رہتا ہے. بنا نام کے نامی کو کھوڑھ رہا ہے. اس ورکہ اس ورکھ کو جانوں. بگوان بگوان کریں. بگوان کیا ہوتا ہے. مس بگوان. ایسے ہاتھ ہوتے بیر ہوتے ہیں. کلپ نہ کر لی. بگوان کر تھے. بہو مانا جو بھران پوشن کی سکتا دے رہا ہے. گوانا گمانا اگامان کیا جو نیانتران کر رہا ہے. تمارے بھیتا رہا ہے. بیستی سمجھی میں ہے. واہمانا وانی کا جو دیستا تھا ہے.

بیستی مدھمہ پوشن دیو پر آہا ہے. ان جارو وانیو کا جو آدھا رہا ہے. تمہارا چاہیتا ہے. تم بیستی اُس کی ستا سے بھی نہ نہیں بود سکتے. پوشن تیور پڑھا بھی اس کی ستا کی بھی نہ بولنہ دیکھنے سکتے ہیں. تم رستا ہوں ان چاہیوانیوں کا بھا گوانیوں کی آدھا رہا ہے. جو وانیوں کا آدھا رہا ہے. بھا گوانیوں کی آدھا رہا ہے. وہ بھا گوانی سب دکے وکارکہ آدھا رہا ہے. اشارا ہے. نو مانا یہ سب نیتی کرنے پر بھی جو اغشیش رہا ہے. آقنے جو دیستا ہوں کو کچھ نہیں میتیا ہے. کانے جو سنا ہے ہوں میتیا ہے. جیبنے جو جا کھا میتیا ہے. مانے جو سوچا ہوں میتیا ہے. بودنے جو کچھ جگت کے بارے میں بیچار کیا سا میتیا ہے.

نان نانا. بودی بھی ہتا دو بودی بھی کچھ نہیں. من بھی کچھ نہیں جگت کی کچھ نہیں. کچھ نہیں کچھ نہیں کرتے کرتے باکی جو رہے گیا ہے. ناما ناما کرتے جو رہے گیا ہے. وہی باگوان ہے. بھا مانا بھا رمپوشن کی سکتا دے نے والا. گو مانا گمانا گمان کیا آدھ اشتان. نو مانا, وہ مانا وانی کا آدھا, نو مانا نیتی نیتی کرنے پر جو رہی جاتا ہے, اس کا نامبا گوان ہے, وہ بتا ہو گوان, تمہرے سے کتنا دو ہے, تمہرے شریع کو بھرن پوشن کی ساتھا, ماتا کے شریع کو بچے کے بھرن پوشن کی ساتھیں, تم کسی کا بھرن پوشن کر رہے تو کس کی ساتھ سے کر رہے ہیں, ہاتھ کی ساتھ سے, پیروں کی ساتھ سے, نہیں, مان لکتا ہے تو,

مان کو کی اپنی نیتی ساتھا ہے, نہ, بودھی, سای اگری تیتا ہے, بودھی کو کی اپنے ساتھا ہے or وہ جو بھرن کرنے کی ساتھا دیرے بھگوان ہے, اسی سے تم بچوں کا بھرن کر ساتھے, اپنے شریع کا بھرن کر رہے ہو, مانا و بودھی کا بھی اسی کی ساتھ سے بھرن پوشن ہو رہے ہیں, یہ ہے بھگوان شبتگہ بھر کا آر تھا, اور وہ بھگوان, محاتی درشن کہتا ہے, اس ور ایک ہے, اور وہی بھارتی درشن کا رہے ہیں, وہی درشن کے, ترفلے جانے والے ریشی پیرے ہیں, مگوان شن کرہ چاہی ہے, مگوان شن کر بگوان, مشنوں بھگوان سوری ہے, پھر آنیک بھگوان کرے ہیں, کیوں آنیک میں ہے, ہے ایک لیکن جاں پر گتو ہوا, واہا آنیک میں اسی کا نام ہے, آنیک نام اسی کے ہے,

سیو میں بھگوان ہے, و سیشت میں بھگوان ہے, ریشنوں میں بھگوان ہے, ان کو سدا پر تیکش ہے, اس لی وہ بھگوان ہے, تم کو وہ اسم تطپ میں, اس اصلت میں, میں بھگو دی نہیں ہوئی, اس لی تم اپنے کو اگیانیوں کے وچنوں کے انوصار کچھ مان دیا, ورنا تم بھی بھگوان ہو, بھرنس کرنے کی ستطہ وہ تم ہو, گمانا گمانکان ستطپ ہو, واہا آنیک کو سپوانے کی ستطپ ہو, نام نہ کرتے دی جو بچتا ہے وہ تم ہو, سیدی تو بات ہے, اب اپنے کو نمانوں پتھم ہری مارجی, شاشت رکھ کرتے ہیں, سربام خلوی داوم رمھوں, سچ پچھ سبھگا ہو, گرمہ ہے پر بات مارجی باپاک ہے,

ہری باپاکہ ساروات رسا مانا, لیکن تم کو اس چکتنی میں پریم ہوگا تو پرگت ہوگا, اگنی تو لکھر میں فوری بھری ہوئی ہے, جہاں سے پرگت ہوتی ہا ہوں, اس کی بیشےش تا دیکھتی ہے, بلوانا جل میں رہتا ہے, لیکن اپرگت ہے, سامانے روپ میں ہے, اس کا کوئی بیشےش فائدہ نہیں ملتا, لکری میں اگنی ہے, لیکن سامانے روپ سے ہے, جب پگت ہوتی تو اس کا پتکاش اور تج ملتا ہے, ایسے, تم سامانے روپ میں تو ہو چیتنی, برگوان ہوں, لیکن پتا نہیں, اسی لے لابنے ہوتا پاتے ہیں, پتا چلتے ہیں, کیا سکر جس کو دور مان بے تھے, پتا نہیں چلڑا تھا تو اشوار اشوار پیر پیرے تھے, میرا نامی ہوئی تھا, میرا نامی ہو تھا,

پتا نہیں چلڑا تو سامجریں اشوار ہے, کئی امسے دور ہے, جب آپ ہو گے تو پتا چلے گا کہ میرای نامی ہوئی تھا, یہ آپا بہار کا آروپی تھا, سنسن کر مانا تھا, میں کرشن بیگوں, میں جمداداسوں, میں مفتل, میں اشاراموں, میں کےول راموں, میں جس کےول راموں, کےول راموں ہو, لیکن ایسے ریٹ کو لیکن نہیں, تم کےول ہی راموں, اشاوں کے راموں ہو, اشاوں کے داس نہیں, اشاوں کے تمہا ضر ہو, لیکن اشاروں کو لیکن نہیں, تمہРی ایسلت کو لیکن. اوووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووو, مفت میں لال تو ہو تو مفتلال ہو, تم پاسوں سے نہیں ملسکتے ہو. تم کو پاننے کلی رکم کی جار رک نہیں ہے, تم مفت نہیں پر آپ تو تو سو بھائبی کی ہی پر آپ تو اس لی چاہرینfit برایہ تو آپ اس لی your name is your name is its name, וوووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووو

சہج میں جو ملے وہ مالک ہے, مُفت میں جو ملے وہ مُال ہے جو پریشم کر کے پر آپ تو ان்ட میں رہیں نہیں اور ہوتے سمیں بھائے شو اور چنتا دے, اس کا نام آیا اس کا نام آیا جو کوئی پریشم کیے بھی نہ سو حویگ ملے ملے کی خبر دیتے ہی بیڈا پار کر دے ملے تبیگ نرب ہے اور سمراک بنادے آج جو کبھی پھر چھوٹے نہیں کبھی دین نہ بنائے اس کا نام پر مات بہیں تو وہ لگوان کو پانے کی لی پریشم کیوں کا پر تاہی باوہ جی مہیہ میرے بگوان کو پانے کی لی پریشم نہیں ہے اس ورکہ پانے کی لی کتھ تھی پریشم کیے نہیں ہے لیکن جو کچھ رہ پتی ہم نے بارکھا ہے نا جو بیوکو پی بارکھی ہے جنموگی

اس کو ہٹانے کی لی بینا تھے اس ورکہ پانے کی لی ٹинگہ بھاروٹھا نکی بھی میں نہیں گھینے واسیس کہتے رہاں جی فل پتے اور ٹاث تھوڑھنے میں پریشم فل کے مردن نے مردن کرنے میں بھی پریشم ہے اشاراہ رہاں کہتے کہ چائے کا ھکھ پڑھاپ بنا ہوا, رکے B میں przez کو کچھ کو اٹھاپ اکھا نہیں سے بھارت نہ گھواج کریں اورے نیداں اور تو کہ چہے کا گھھورت بھpping کچھ کچھ کو بھارھ اشھر میں ہے کیا چہے, چہے ریک گھورت ہمfitہ نہیں چھے, آش میں نہیں چھے پھر تمہرہ مُم zacُ کھنا چھے, ریکے بھی تمہری اور آنன چھے, تو بھی گھورت بھر پہتے ہیں اُس میں اِتنا بھی نہیں. Kewal تمہری نادانی چود جہتے ہیں تو بہت بھائی وہ ہے. Hindu, Hindu کو ایسای کو پارسی کو پٹل کو منوش سے دیکھنا ہوں تو کئی نہیں دی ہے. Kewal جو مان بیٹھے ہوئی اُپر اپر کا سب.

بوچھ ہوڑ دو تو پہلے تو منوش شاہ با با بعد میں تم Hindu ایسای پارسی مسلمان پٹل چندی کو گراتی. پہلے تم منوش شاہ ہو. ایسی تم پہلے برمہ ہوں. بعد میں جیو پھر جاہت پاتی سب بیوکو فی بعد میں بہار چلانے مات رکی ہے. تمہگوان پانکلی پریشم نہیں. بیوکو فی چھوڑنے کے لی پریشم ہے. ایشور کے پاس آنے کے لی پریشم نہیں ہے. ایشور سے جتنے دور چلے گئے ہیں.

پہلے ایسای پارتے ہیں. بعد میں تمہاری ہو جائیں گے ہیں. ایشتا وقر بولتے ہیں. تم ایشتا وقر کے وچنے ہیں. لیکن جنہ کتنا ست پترة ہے. کی گھری بھر کے بعد ایشتا وقر کا نبھو. جنہ کا نبھو ہو گیاتا ہے. اب جنہ کی اس میں گھند, جنہ کا سواص. جنہ کا نبھو ہو اس میں میسرے تو جاتا ہے. بن جاتا ہے ستشاست را. ایشتا وقر کے سی مرخ کے آگے بولتے تو گیتنے پیدا ہوتے ہیں. جنہ کی آگے گیت گئے ہیں. اس کے لی گیتنے کا جنمہ ہو گیا ہے. وہ سیشت جی ایسے کوئی دے اپنے مادی کے سامنے بولتے تو شاید یوک وہ سیشت جیسے پویت رگانت کا نرمان نہ ہوتا. لیکن پورنہ ادھیکاری ہے. مریا ذاتور شو تم. حیرگوچ کل کے چندرمہ, ششتے میں جو لکشان جائے وہ سب تم ہے. تیاگ ہے, انڈری سائیم ہے, سرلتا ہے, نمرتا ہے, بیویک ہے,

ویراج ہے. شت سمبتی اور موکش کی تیورہ ایچھا ہے, تمارے میں. سادق میں جو لکشان سے وہ تم ہے اور گرو میں جو لکشان سے وہ مجھ میں ہے. میں بھی پرم گروھ ہوں. مجھے اپنا سوروپ ہستمال لکوٹ باستا ہے. میری سدہ سوروپ میں نشتا ہے. دے میں نشتا نہیں. دے میں ممتا نہیں, دے میں ام نہیں. اسلے رامجی کام بن جائے گا. اور بن گیا ہے. رامجی کہتے ہیں کہ بھیکن اب مانو دوسرای و سشتر ہوں. مجھے تو برمہا و سشتر اور محش کا پد بھی شوکسیں اگت باستا ہے. میں اتنا آنندہ کا دریع ہو گیا ہے. برمہا کا سوک کیا ہوتا ہے, بایا ہے. ویشنو مجھے کا پد کیا ہوتا ہے. ویشنو تطور تو میری سوروپ ہے لیکن ویشنو کا پد کیا ہوتا ہے. شوکہ پد کیا ہوتا ہے. دے تو ایک گن کے مائیہ کے ادشتا ہے دے کے مائیہ سے پھرٹے وہ میں سویم مائی سوروں. کیا مجھے کے خبر ہے.

واہا ہے. کیا شوب سما چاہر ہے. او... او... او... ستی سیتلا ہے. انда تار. بیرا تار. انکہ حاق تی رہا ہے. ستی سیتلا ہے. راش کر تی رہا ہے. لیکن ستی سیتلا ہے تو تمہری آپ میں ہے. اس کو راش کر لیا ہے. تو انت پر بیٹنے والی دیگی اور گدے پی بیٹنے والی دیگی اور ہنس پیپی بیٹنے والی اور آنم پر بیٹنے والی دیگی ہیں. ٥٤٣٩٨ٰٰٛ٩٨٨٠٩ٰ٨٠ٰ٩ٵ٠پٟ٣٠٨٢٨ٱ٨٨٦١٨

کرنا مرکھوں کا کام ہے. اب آگے لوگ شک کرتے ہیں. جس دل میں اپنے پر ماتما ہونے میں شک ہو اس دل کو پیسٹو لگا دو, اچھا رہے گا. وہ کوئی دل ہے وہ تو دھاکنی ہے. اپنے اشفرات تو میں, اپنے اٹم میں, اپنے چیطنی ہونے میں تو میں شک ہو رہے ہیں. اچھا تم چیطنی نہیں ہونے تو کیا ہو جار ہو. جار کو پتا ہے میں جار ہو. نہیں, کہ میں منوشہ ہو. کہاں ہے کہ وہ یہ دھو دھا ہے, اب آگے وہ میں, جو دھا ہے اس کو پتا ہے وہ میں. جو دھا ہے اس کو پتا ہے, میں, نہیں. تو کون بولتا ہے. اب آگے من کی ستتا سے بولتا ہے. انڈروں کا صاحر لیکер, من انڈروں کا وبال کرتا ہے, جبا کا, تو یہ بولتا ہے, میں,

ہونے. اس کے σحاب تمان کی ستتا لیکر بولتا ہے. انڈروں کا اپیو کرتا ہے, تمانا شریل بولتا ہے, چھیک ہے. تمان کو اپنی ستتا ہے, جو انڈروں کو ستتا دیتا ہے, من کو اپنی ستتا ہے, من כبھی کہشا, کبھی کی ہی تم جانتے ہو, mwyn بدل تا ہے, بھڑگی کے نراہیں باڑلتے ہیں, אین بدلیں گوالے کو بھی کھیں کھیں دے کھا ہے کھیں نہیں, بل ہا با با دیکھتا تو ہے, وہ کون ہیں, بل ہوں میں ہوں, تو وہ تم ہوں کہیشاریر تم ہوں کہی تم جیرہ دھن کے آدیா نہ, Om.. گہرائی سے سوچ نہ سب سنگ سنگسن کر پھر کیں جنجاٹ میں ماد پڑ Jes نہ, سب سنگ سنگ سنگ سنگ سنگ کر اپنے گہرائی میں خو جانا تو پتھا چھ لگا کہ ریشوں کا عنوبہ کتنا تمہرے عنوبہوں کے ساتھ جو لائے, تمہرہ عنوبہ اور جو جن کا اپنے ساروب میں احام پھر اپنے ہیں, ان کے عنوبہ میں کتنا دوری ہے, جیرک خو جو, جب ریشی کا وچن آپ کا وچن ہو جائے ریشی کا عنوبہ

آپ کا وچن عنوبہ ہو جائے, ایشور کا عنوبہ آپ کا عنوبہ ہو جائے گی تو آپ کو پتھا چھ لگا کی آج دن تک جا کمارے تھے سنسار میں. آج دن تک دو بھی سمجھا سوچھا, سنان دیکھا ہے, سب بیوکو فیقی ہی آلگلگ نام ہے, جی سے دیکھا جاتا ہے, سوچھا جاتا ہے, سمجھا جاتا ہے, اس کو نہیں سمجھا, اس کو نہیں دیکھا, باکی سب دیکھا دھوڑ کری اس پر, ایس آپ کو نبھا ہوگا, جی سے مہن بریدھر کو چکرورتی سمحات دیا جائے, اس کو آس سیڈی ہو جائے گا, 10 ماجھ کا بلب جلتا ہو گھر میں, اس گھر میں سورے آتر آئے, 10 بی 8 کا جیس رسوڑے میں آکاشے, اس رکھو اس رسوڑے میں پورا آکاش آ جائے تو دیوالی دیکھتی ہی نہیں, پلائن ہو جاتی, ایسے جب وہ دوگا تو یہ کلکناوں کی ستیتا

میں ہر ده میں بھی تو وہی چاہی تنیا آکاش ہے, ان دے ہاتھ میں بھا و ہتا دو تو تم بیشا گغن گامی جو پکسی ہیں ان کے بھی آدیستا تھا ہو, اوہی جاں تم میں ہی اڑ رہیں تم کو نبھا ہو جائے گا, باہی جاں سمیں اڑ رہیں کی, حہا بلکن, سورے بھی تم میں ہی کھڑا ہے, چان بھی تم میں ہی چمکرا ہے, تارے تم میں ٹیمٹمہ رہے ہیں, برمہد تمہی میں بنبن کرنا شو رہے ہیں, ایسا تمہرہ سوروب ہے, تم پاکلوں کی نہیں, حار ماس کے دیکھوں میں مان کر, اپنی اصلت کو خو بیٹھے ہو, برمہ ویشن میں مہیش میں تمہی میں راج بنا رہے ہیں, لیکن ان کو اپنے آہم میں پرتے ہیں, آپ تم کو دے ہیں میں آہم میں اسے لیے تم سکر جاتے ہو, دارتے ہو کیے کہ سے کہتے ہیں,

ایسا کہوگے تو برمہ ویشنوں ناراج نہ ہوگے, تمہیں آلیگن کرنے کو اتسک ہو جائیں گے, ایسا ایسا ایتی تمہنوں ہو کروںگے, تو برمہ ویشنوں مہیش, کے لیے تمہیں گرگرانہ نہ پڑے گا, برمہ ویشنوں مہیش, تمہری سنگتی کر لیں گے, کہ آج یہ ہمارہ سوروب ہو گیا ہے, سچ پوچھو برمہ ویشنوں مہیش, اور آپ بیکنے بھر کو آپ ہے اور بے ہیں, برنات ہے اب مجھے چکھوں نے کسی بار کچھ نہیں آتا ہے.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →