Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 19, 2026

Jan 19,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 19,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

1,285 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 19,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 19,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

وازتوں میں சجیو کا ساتھ تو ایشور کے ساتھ ہے, واکی ساب آست سنگ ہے, آست مانیدائے, کہ میری یہ ساتھی ہے, میری جیوان ساتھی ہے, میری جیوان ساتھ ہے, سچ مجھ میں دے جیوان ساتھی پر ماتما کسی ویار کوئی ہوئی نہیں سکتا. وازتبیک جیوان تو پر ماتما ہے, سری رواصتبیک جیوان نہیں ہے, تو واصتبیک جیوان کا ساتھی کون ہوگا ہے, تو یہ آست کا سنگ جو گوس گیا ہے, نروس کو نکالے, بڑی ہوا ہے بار ہوگا, دیے کی روشنی میں جو گئے بار ہوتا ہے, دون دلہ ہوتا ہے, ہوا روشنے کے دار ہوتا ہے, اور بوجی جاتا ہے, تیل نہ نالتا, اور تیل کب تقصیش تیر ہوگے, دیے بوجتا رہتا, پھر جلتا رہتا, پھر جلتا رہتا, پھر جلتا رہتا, ایسے آست سنگ بنتا رہتا رہتا, بنتا رہتا رہتا, بنتا رہتا رہتا, اور سورج,

سورج کی روشنی ہوتا ہے دیے, کہ پر بہا ساہ رہتا ہے, اب اسی میں, تیرو بہت ہو جاتے ہیں, ایسے آتمن سوریے کے, پرکاش میں جیو ہوگا, تو جیوات پر کے سارے پر بہا ہو, اس میں تیرو بہت ہو جائیں, یہ سب بل بابی جور مار رہے, وہاں, روشنی دے رہے بچارے داتا ہے, دیو بہا پڑیا ہے, دو بھنتے کے بعد دیکھو تو ہوں کا کیا حال ہوتا ہے, سورج کی روشنی آتے ہی دیکھ لوگ, ننی ہو جائیں گے, ایسے آپہ رہی آتمن سوریے میں, نہیں جگتا پتکھا رہے, کہ یہ تو درسمی پڑتا میں, دو ہٹھمی والوں, اور وہ درسمی والا بلتا ہے, یہ تو بھی ہے, میں درسمی والوں, یہ بلتا بلتا ہے, وہتا ہے, میں تو کے بلتا ہے, یہ کے بس دو ہوں, مقانہ چار گاڈی میں, رہے بس دو خالیے گ ہے, ایک انگان سوری ہو دیں دو ہوں, تو جیسے سارے چھوٹے مٹمبال بڑ دیے, اس میں سمع جاتے,

ایسے آپ آساکتی چھور کر ستی کے گیان میں آجاو, تو آپ کو لگے کا سارے, بھی یہ والے, مڈی والے, دو گاڈی والے, دو گاڈی والے, پچیس گاڈی والے, سارے مجھ چہیتنی میں, کلڈی ہیں, سو ہوں, مشیو ہوں, اسے اس ور کے پر ساتھ سے, زمیش ور کے نام بھی دیشوں نے بہت سکتگتے گیے, یہ سے خوج لی ہے, کہ اس نام کا پر بھاہ, اپنے رکت کے کنبے پڑے, آپ نے من پے پڑے, اپنے بودھے پڑے, گاہیدن یوروپ میں, کچھ ریسرچ کرنے والوں نے, کہ گاہی کتھی, اس نے سام بیج کی ریچان کا دھن کیا تھا, اور اس نے سنڈا کھا تھا بھارتی شاستوں سے, کہ شمد کے پیچھے آپ کروتی ہوتی, رب کے پیچھے اس کا پر بہا ہوتا ہے, بہلے گلت چرب دبھولو, گندہ بھولو, پھر بھی گاڈی کا سر ہوتا,

بھی میں ایک دو کتو گاڈی والوں سے تم کلگا رہے, باپو ایسا بھولتے, ہے تو جو تو مطور, ہوا ہے اور تم, ہوا ہے تو شبد, ہوا دو شبد میں چھے بولے, کیا سے آیا, کیا حال چال ہے, بہت دن کے بعد ہے, بھارے کراپا کی درسندنی ہی, ہوا پھلو گے ہیں, باپو دیکھا کتھ نے چھرا نہیں ہے, ہوا ہے, کیا گاہوں گاں میں, گندہ پھری درسی, تکشر خپانے کو آیاں, اس بے سوبے دے, ہوا ہے, ہوا ہے تو شبدیں, لیکن کیسی عصار ہوتی, ہوا ہے,

ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, ہوا ہے, WebsIDE गो किया और समसार, म先 रहें भराबाद सेvakँगया, کر چاہوں میں جا کے پر اثران بھی کرتے مندیروں میں جا کے پوجابی کرتے ہیں

اگن عصد کے سنگ کو تیاگنے پر دھیانا ہم لوک نہیں دیتے اسی لی پورنا دا کا انوبہ نہیں ہوتا عصد کے سنگ کا عصد کے پر بھاؤ کا پول کھول دے ایسا جب صد سنگ ملتا ہے عصد کے پر بھاؤپ کا پول کھول دے ایسا جب ہم دردتا سے لکتے ہیں تو فیر عصد سنسار میں عصد سبنوں میں رہتے ہوئے بھی عصد آکرشن عصد چینتا عصد بھائے عصد شو آپ کے پر عصر نہیں کرے گا کیوں کہ آپ ستی میں کرے جیرو بل بھو بھو جگیا یا بچیس کا بھو جگیا یا پچاس کا چالو ہو گیا یا ساو کا لائی چالو ہو گیا اگن آپ کو مجھان کا سوری ہے تو ہوں کا کیا فرق پڑتا ہے چالو ہو جائے بند ہو جائے چھوٹا بڑھے گے براپنے ایسے ساکسی سچگانا دپرمیشور تتوکہ گیان دے

نی والے کوئی بھر لے برمگ یانی گروتے ہوں میں جب درد شردہ ہوتی ہے عشردہ کے بینہ تو منوشہ پر سو سے بھتر ہے کھانا پینہ آہر ندرا بھئے میتھن چچہ تو بھی اتد پشو بھی نرام کھانا پینہ اور شاریڈک سمبھو کرنا و مصیبتا ہے تو در جانا پروب لے میں یہ تو پشو بھی کرتا ہے اگن منوشہ میں ایک خطر آور بھی جادا ہے پشو کرتا تو بیچارہ نکھالا س کرتا ہے کھلے میں دان کرتا ہے جو بھی کچھ کرتا ہے کھتا پیتا ہے تو خالیہ پر سنگر نہیں گروتا ہوں سے کر لیاتا کر لیا اگن منوشہ تو اچھا کرتا ہے تو دنیا بھر کو دی کھتا ہے اور بھورا کرتا تو کسی کو پتا آنا چلے اتنا پیشائے کسی کو پتا آنا چلے کیا ہے

کسی کو پتا آنا چلے تو یہ آسطگے ہو اور اپنے آتما کو کمجور کرتا جاتا ہے تو اس کے لئے منوشہ کو جنجر جاتا ہے پھر بھی منوشہ سریشت ہے کیونکہ پشو پاکسی جو ہے وہ آسطگہ سنگتی آگنے کا ستگ نہیں سنگ سکتے آسطگے پر بھاؤ کو اپنے منوشہ ہٹانے کی ویدیا وہ نہیں سمجھ سکتے ہیں اب منوشہ سمجھ سکتا ہے اسی لی منوشہ سریشت ہے کہ وہ پچا سبر سرے جس رنگ میں جیسے گوصلہ بناتا ہے سی بہناتا ہے رہتا ہے سے کرو برسو سے گائے کبھی گالی نہیں دیتی ہیں اب کہ وہ کبھی مقدمہ نہیں لڑتا ہے اور دیوال کیسی کی چوری نہیں کرتی لیکن جانا ہے بیسے کے بیسے منوشہ گالی بھی دیتا ہے کہ اسی مقدمہ بھی کرتا ہے چوری بھی کرتا ہے

جو تو بھی بورتا ہے کہ کیا کرتا ہے پھر بھی اگر ستسنگ مل جاتا ہے رو مڑ جاتا ہے تو بالی اللہ طرح میں سے بالمکرشی ہو جاتا ہے محامورک میں سے محاکہ بھی کالیدار سپرا کرنو جاتا ہے آسہ کبہ کوئی ہو گیا کہ چوریہ ہو گئی کہ اگر کہہ ہوا کاغبوشن جی جیسا تو انوں نے آسہت کے سنگ کا تیا کرنے کی بود دھیپائی گوروں کا ستسنگ پایا تو ہم آج کے ستسنگ میں ہم یہ سمجھیں کہ دوک آسہت ہے اسلے دوکھا جائے تو آسہت سے درومات سک آسہت ہے سک میں لے تو اس کو چیپ کو مات سبند آسہت ہے کوئی آتا ہے تو ایک سلام جاتا ہے تو سو سلام اور کبھی دنیا میں نہیں آتا تو ہجار سلام مکتو بیا حائرے

میری پیتا حائرے میری پپا حائرے میری پتنی حائرے میری پتنی میرا ایسا کرنے کی اپیک سا جب اس کی یادا ہے تو کہ دو کہ با جان تم تو گئے تمارا شرید گئے لیکن تمارے آتمات واتمارا حندر میں جو خدا ہے جیسٹی کی سکتی سے دھرکنے چلتے اسی کا تم چینتن کروں میری بیٹھے بیٹھوں کا کیا ہوگا با جان فکر نہ کروں اور تم کو بلے کبر میں پور کیا ہے لیکن تم کو ہم نہیں پور سکتے تمارے شرید کو کبر میں پورا کتنی بھی بڑھیہ مجھائر منہ لیں گے اندر تو سڑیوی ہٹیہ مہا سور گندگی ہوگی لیکن تمارا رہو تمارا آتما اہمار ہے اپنے پر ماتما کو جانوں اپنے چیتنی کا چینتن کروں فکر نہ کرتا بھی مبا جان کرتا بھی مجھے کرے

خدا خدا طال اپر سا دیں صربہ کاریہ مفتے بابے جب تم خود خدا کے چرموں میں جاؤ گے ایشور میں رہے میں ایشور کا ہوں ایشور جان سروپ ہے خوروم روم میں رمرہ ہے اس کا چیتنی سوپھا اسیلی وہ جائتنی روم روم روم میں رم نے والا رام ہے والے میں تو سنوپ ہے گو جانوں میں سنوپ اور کمار میں تو

بغم بر اور مالہ تمونڈوں کے بابوت لگائے رہے سمسان یہ بگوان سیو کے در سمسے کیا پتا چلتا ہے کہ ہاتھوں میں گلے میں سمسان روپی سربہ ہے انگو کو جو راما ہے کسی ساہدان آدمی کی محبوت نہیں جنوں نے عصد سنگ کا چاک کر کے دے کو عصد مان کر مرگہ تو مرگہ خاک ہو گیا تو ہو گیا اور میں آمار آدموں آئیسانوں بھوکیا آئیسے محاپولشوں کے راک سیو جی لگاتی اپنے انگو کر اور سیو بول نے ماتر سے پارواتی نے کہ ہاپنے پیتاکوں کہ تمونڈوں کو نیچا دیکھانے کے لئے یگی کر رہے ہو لیکن تمورک ہو یہ سمسان بگوان سیو کا پران کر نے ماتر سے آدمی نشپا پوتا ہے آئیسے شیو کی

محما تم نہیں جانتے تم بہیوار میں تو بڑے داکشو ہو لوگ فالوں کے بھی اگرانی ہو لیکن پر مارت میں تمورک ہو جو بہیوار کی چیجیں چھوٹ جائے گی اور جو سرید مر جائے گا جل جائے گا اس کا مان نپمان تھوڑا ہو گیا تو اسی میں مارے جارے ہو سرید پہلے نہیں تھا اب آدمی نہیں رہے گا بچپن بھی پہلے نہیں تھا تو ابھی نہیں ہے بیچ میں آ گیا اس جننم کے بیلے بچپن گا تھا اور ابھی جب بچپن کہا ہے ابھی جوانی ہے کچھ سمع کے بعد جوانی کہا ہے بھڑا پہ ہے ایسے مرتی بیک پڑا ہے مرتیوں کہاں ہے روپانت رہے تو یہ چفی کرنا کرتا گیاں ہی رہے میں بڑا ہو گیا ہی رہے میں رہے ہو گیا ہی رہے ہو گیا پھیکر نہ کر جاں بھڑا پہ کی عصر نہیں جاں بھی مارے کی عصر نہیں

جان دوکھ کی عصر نہیں جان سوکھ کی عصر نہیں جاں مان کی عصر نہیں جان اپنان کی عصر نہیں جان مرتیوں کی عصر نہیں جائیش نشور دے کہ کوئی ستے نہیں اس پرمات مقازی کر کرو و اششیو سروپ ہے کلیان سروپ ہے و روم روم میرام رائیسلے اور آم جی ہے یہ اس کی اشتدہ پر کرتی سے شریب بنہ ہے و اچھا ایتنیسلے وہ جگترم با ہے جگت کا ما ہے بھومی راپو وانا لو وائیو خم منو بھڑی رے و اچھا ہنکاری تیو میں بھیننا پر کرتی اشتدہ صریق رسنا جانتے ہیں اسلے صریق رسنا آنم دیت رہتے نشچنت رہتے نیڈ بھیک رہتے موادھوری مائ رہتے وہ کاریواتان میں رہتے وہ بھی نیڈ بھیکار رہتے صریق رسنا اُدھویک کے بیچاروں میں رہتے بھی صریق رسنا صدہ بنسی بجاتے رہتے موادھوری چتکتے رہتے اشان دادمی کیا دے گا اشان دی دے گا میں مانادمی کیا دے گا

میں مانے دے گا میں مانے دے گا چنتی دادمی سے بات کرو تو ہی کچھ رہتے گا اک رسنا کو دیکھو سو چو سنو یہاں کو پڑھو تو وہی دے گا گیاں سرو ممائیوان سو جی بلو کے ایجی ببوتہ سنو آتنہ یہ جیو لوگوں میں میں سب میں بہت رہا ہوں یہ سنو آتنہن سے اسی نے بول دیا ترہ نام پرم دی ہے ترہ نام پی فیروج ہے ترہ نام موحن ہے ترہ نام پرم وہ ہے ترہ نام کوشک ہے مقصبک کا کر دیا ریکن یہ تو سری روں کے نام ہے کملا شانتا مغلاؤ جو ملاؤ جو بھی نام رکھتے آج کل تو کہیسے نام رکھتے ٹینوں بھی کی مینوں ببلو نام رکھو بھگو دیا دا ہے اور نے والے پرانیوں کا نام پقشی رکھ دیا دیکھو بھگوان کی آ دا ہے

چار پیروال ہے پرانیوں کا نام پشو رکھ دیا دا کہ بھگوان کی آ دا ہے تو اسی کا ذکر ہو اسی کا چینتن ہو اسی کا چینتن ہو اسی کا چینتن ہو اسی کا necesçi بھائی سے그렇 اسی کاції اسی已经 دیکھا اسی کا چینتن ہو اسی چینتن ہو اسی کو اسی کو اسی چینتن ہو اسی چینتن ہو اسیожд سے کھیکún ی niveے المته ی اله Stanley SHURI brahan aur sutbha da brohan aur sutbha SHURI brahan aur sutbha da brohan aur sutbha dhaya SHURI

کچھ کچھ کرتے ہو کم ہے اور جو کچھ کرتے ہو جیادہ ہے وہ سیشور کے لی جو بھی کچھ کرتے ہو کم ہے جو کہہاں تو جگتنیے تھا کہہاں و سوریے اور کہہاں تو مارے دیے کہہاں وہ برمہ بسنو مہیش کا آدھا ہاتھ اس کے لی تم نے انجارہ جلدی نحالی آجرہ جلدی آ گئے ان چاردین کی شیبی روہر لی کروڑ کروڑ جن میں سی برباد ہوئے تو اس جنم میں کئی دن برباد ہو گئے کئی راتیہ برباد ہو گئے کئی سبتا اور کئی میں نے کئی ورش برباد ہو گئے تو اس پر میں اس ورکلی چاردین نکارے تو بہت تھوڑے اور پھر جس کے لی نکارے ہیں وہ چاردین تھوڑے ہوتے ہوئے بہت ہے کیونکہ بڑے بیکتی کو چاردین چار روٹی کلا دو اپنے گھر پرائی منسترہ چار روٹی کلا دی پوی کلا دی تو بہوت ہے

ہے گئے نہیں آرے خالی پانی بھی پیلیا اس نے پرائی منستر نے آکہ دراشتا بطینے آکہ تو مارے گھر پانی بھی پیلیا آتو اچارن نے بیٹھ بھی گیا تو تمہرے ایمیجمان جاتی ہے ہے ہے ہے اس سے اس پر برم مرم آتما میں تم آئے تو بہوت کاملیا پھر بھی جس کے لی دیا تو بہوت ہو گیا آسنسات دنجر سے دیکھے یہ بہوت ہو گیا اور مارتے سمے بھی یہ سنسکار یاد آئے تو ہزارو جنم کی مجھوری میٹ جائے گھر نہیں سم یہ پرمت مطرتوکہ گیا نہ ہے آسر میں تو یہاں تک لیکھا کہ گھری بروس اتماگیاں کا стرمن کریں اور سترا نمیں شو اس میں بیشنان دی پائے تو باجپے یگے کرنے کا فالوتا ہے ہے ہے ہے کہ گھری اس اتماگیاں کا стرمن کریں اس میں بیشنان دی پائے تو راجسگیگگے کرنے کا فالوتا ہے تو بہوت ہو گیا نہ ہے راجسگیگے کرنے میں

تو لکھو کروڑوں پیا کر چ کرو ہے پھر گھوڑا چھوڑوں

پھر گیاں ہور بھی کرے گا ایسی تماری بارہم میں نے کے بابتاک میٹا ایسی بھونی ہوگے تو کیا سادن بجن بند کر دو گیا ہے یہ تو بھونی ہوئی ہے ابھی دو گراکی ہور بھی کرنا ہے ہے آنیمان پر ساتھ پر در کے ہم بہت لکھ سے وقتتتے کام کرتتے تھے نوکھ رینا نہ جو بھی کرتے تھے تو کوئی کوئی چوئی بھی کرتا تھے یا کوئی کام چوری کرتا ہے تو کوئی کچھ بھی کرتا جب وہ فریادی کو پکڑا جاتا تھا ہا اس کو گولاتے تھے ہے دیکھ ہو تم چور تو نہیں ہو وستم میں کیوں کہ سب اتمت ہو سدا ساوکا رہے اتمت ہو کتنا بھی کوئی احجمی چوری کرتا اس کو بولو تو چور ہے تو ایسے تو اس کو پسن نہیں پڑے گا لیکن تو تو سچن نہیں تو چیتا نہیں ہے بہی ترے میں گون ہے تو اچھا لگے گا اور اس کو اپنا بنا کیوں

سو دارتے تھے وہ لے دیکھ ہو آپ بائیسے تو چور نہیں لیکن آپ کو تھوڑی ضرورت پڑی ہوگی اسی لے ضرورت پڑا گلتی ہو گیا یہ لو پانسور پی وہ بولڑے چالی صرفے چورا ہے لیکن تم نے چورا ہے نہیں ان کو بہت ضرورتی اسی لے ضرورتی اسی لے ضرورتی یکتی صلے لی لو پانسور پیجے میں رکھو اور دبارا دوسروں کو کہنے کامو کانا ملے اور اپنا دل نہ بگڑے آپ ایسی کو چش کروں اس آدمی کو ایچھ فرکہ ذکر پر ماتما کے بھاؤ سے پر ماتما ہے اس میں اس باؤ سے اس آدمی کو پرمی سے جب سمجاتے تھے تو آدمی پھڑپڑ کے روطا اور اس کی گلتی نکل جاتی اور اس کی گلتی نکل جاتی اور دوسرا کوئی گلتی کرتا کہ بہی دیکھو یہ لوگ بولتے ہیں کہ تم نے پریس میں چھاپکہ میں یہ گلتی کیا ہے یہ گلتی کیا ہے اب یہ گلتی آپ نے کو اچھا تو نہیں لکتا نہیں لکتا نہیں لکتا اور دہان دینا چاہئے اب نے گلتی ہو گئی یہ تو

دوسرا کو آپ کی گلتی گلتی گبی دیکھیں نہیں ایسی آپ سترکتا سے کامکہ ایسی آپ کامکہ کروں کہ لگے کہ پھلا نے آدمی نے کام کیا ایسی آپ ایسی آپ کر کے اس کو سمجاتے پویتر دیل ہوتے تو جلدی مان جاتے نہیں تو مورک تو تارن کیا دیکاری ہوتے اب اپنے ایسی آپ اپنے ایسی آپ اپنے ایسی آپ سترکے سنگ کا ایکرشن چھٹے جائے ایسی آپ ایسی آپ سترکے سنگ کا ایکرشن چھٹے ایسی آپ سترکے سکھکھ ورسانے لگے گا سترکہ گیاں بکسیتھھنے لگے گا جو جو راتمتی ہے تیونتیوں سبہ آنے لگتے جو جو راترکشن ہوتے جاتی تیونتیوں پرکاش بڑھتا جاتا ہے راترکشن ہوئی پوری تو براکاش بورا تو آستے کے آستی بڑھنے والا جو سنگ ہے

اس کو دن میں کئی بار آپ کو جھرنا پڑے گا دو نا پڑے گا بہمتی کیا ہے کہ آست کے سنگ کی بہمتی ہے میرے کو یہ مل گیا پھلا نے یہ کم آیا میرا بہی بھی چارا دین بھر اسی میں تھا اور آکے میرے کو کہتا کہ تم کیا آکے مُن کے بیٹھ ہے پھلا نے لوگوں ایتنا کم آلیا تو میرے کو چھوڑ دیا ایدر بھاکے بند کر کے بیٹھ ہے وہ دیکھو اتنے ہو گئے آپ اندے ہوئیں کہ یہ آتو بڑا بھگت کر کر سر سے دیو بھاو جادہ نہ لو دندہ بڑا ہوں نہیں کروں نہیں کروں نہیں کروں یہ سب سے ایک سیک سے آپ اندوں ہی کہاں ہی رہے گے اور وہ لوگ کیتنا آپ پر چھڑے گے آج ہوگ پر چھڑے وہ ان کا تو دے والا بھی نکلہ اور یہ بیچھا رہ ریدھا چلتا تو دا بھی تک چلتاہ رہا میں نے تو سنا ہے کہ وہ لوگ جو بولتے ہم نے بہت کم آیا

بہت کم بہت کالیا وہ لوگ بیچھا رہ آست بسٹوں کو اتنا مہت و دیتے کہ ست کا تو تو جو تھو پرے ان پے تو دیا آتی لیکن جن پر نکلی آست جادت ہپا ہے اور ان کو جو بڑا مانتے ان پر تو جادتا دیا آتی جو آست بسٹوں کو اپنے پر تو پکھر اپنے آپ کو کھو بیٹھے ان پر تو دیا آتی ہے لیکن اپنے آپ نے اتنا مصوکوں کو کوئے ہوئے کو

بڑا مانکا جو لوگ کم سے بھا بھی تو رہا کرشیت رہتے ان پر تو جادتا دیا آتی ہے اگر ان کو بےوقف نہیں kami میٹھی بے� کو虚لي ہو جاتے ان کی بےวกfe ordersی خیو پے ک featureying نہیں مانتے دیمlinear خیو پہتے حصی first Myers در جاز در جاز ن Edison خلی آسا 聽port ambiente تو اپنے اپنے اپنے کھلے تو میرے کو ساتھ دے. و بے در سبہ جے گارہ بجے بارہ بجے تک کمرے میں بیٹھا رہتا. و رہت کو آکے گزی جاتا ہے کمرے میں پوڑ جاتے. دہان میں. ایسا کیوں کرتا ہے؟ آئی صدھا جہاں. پھر ما کو بھی چڑھا تھا تو ما بھی بھی چاری بولٹی بیٹھا. داؤ تھی. بڑا بھائی پیٹھا کے سمان ہوتا ہے. لیکن وہ آسط کا سنگی ہے میں کیا کبھی. پھر وہ بھائی کے دوستات ہے وہ سمجھاتے. اور سمجھا کے اپنے گھر لے جاتے دیکھا ہم ناسٹیک نہیں دیکھا یہ سیو کی مورتی.

یہ دیکھا بگوان کرسنا. یہ مارا پو جا کروں. ایسے تم بھی جیو. کائی کو پھنے بھائی کو. ایسے ایسٹی میں ایک چھوٹا سا دھندے میں رہنے دیتے. امجران پر کھرپا کروں. دہان دو. کھرپا کروں نے مول دیتے. اُن کو مدد کروں. تم چھوٹا بھائی ہو. تمارا کرتا بھی ہے. اور کرتا بھی ہے. زی کر کر نہ ایسے برکہ. کرتا بھی ہے. موتا ہے اس کے پہلے. امرتا کا اسواد لینا. کرتا بھی ہے کہ گھری میں دوک گھری میں سوکھ آنے والے چیٹھکھ کو بگل نہ یہ. ہمارا کرتا بھی ہے. گڑی گڑی بات میں ٹنشن. گڑی گڑی بات میں دوک. گڑی گڑی بات میں مسیبت. گڑی گڑی گیات میں. پھر پھر آتا ہے دیکھیں. تو یہ دوکتا بھی ہے. اصلی. اس ورکہ زی کر کر نہ پر ماتمہ کا برمہ کا. لیکن اس کی اور دو دیان جاتا ہے نہیں. جو فکر بڑھا ہے وہی باتے سنتے. جو فکر بڑھا ہے وہی باتے کرتے. جو فکر بڑھا ہے وہی بات سنتے.

اور جو فکر فکر میں زیوان برواد کر دے ایسے ہی سنگ میں رہیتے. سو ہم جس کی شکتی سے ہاک دیکھتے وہ میں میں nú. جس کی شکتی سے ہاک دیکھتے وہ میں nú. جس کی شکتی سے مان سوتا وہ میں nú. جس کی شکتی سے چنطا دیکھتی ہے. ایک بات اور. جو ساکشی ہوتا ہے بکھنہ گناگہ نہیں ہوتا ہوتا ہے. ہوتا ہے کہa. । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । । ।

و دیکھا ہن کھونے, بلٹا میں نے دیکھا, سنان کانوں نے, میں نے سنان, سو چاہمان نے, بلے میں سوچ رہوں, نلنے کیا بود دین نے, بلے میرا نلنے ہیں, چاہمرا کلا ہوگے, بلے میں کلا ہو گیا ہے, شردیا آئی, چاہمرا جرا گورہ ہو ہیا, یعروگ گیا, چاہمرا گورہ ہو, بلے میں گورہ ہو گیا ہے, اپری کایاں, یعروگ گیا ہے, وہ لے میں کالا ہو گیا ہے, گرمیا آئی جرا چربی کم ہوگے, وہ لے میں پتلا ہو گیا ہے, سردیا آئی, شیعا پاک کیا اور بوجن کے بعد دوپے کو کیلہ کیا, کیلہ کیلہ کھانے کے بعد, ایک آدی لچی کھائی, جرپ فیٹ بڑ گیا, ملتا میں موتا ہو گیا ہے, ہڑیوں کا دھا چاہلم با ہوا تھوڑا, تو وہ لے میں لمبو ہوں, بلے پدھا رو لمبکنا آت, بلے پدھا رو لمبکنا آت, دھرتی پے پے آکاشلوں آت, یو جن بھر کے لمبے ہاتھ, بلے پدھا رو لمبکنا آت,

لیکن یہ لمبے دھاچہ, ہڑیوں کا آئی, اب کسی کا دھاچہ, ناٹہ ہوتا, وہ لے میں تینگنا ہو گیا, وہ آسطوں میں یہ آسط سنگ ہے, آسط مانتا ہے, تم تینگنے بھی نہیں ہو گیا, اور تم لمبو بھی نہیں ہو, وہ لہوں چھو گیا ہے, ہو سمجھ لمبو بلے جوابی مدے, میں نہ لمبو ہونے چھیں گنا ہو گیا, میں تو جو ہوں اُس کو کوئی جان لے تو نیحال ہو گیا ہے, میں مہرے کو جان لوں تو نیحال ہو گیا, میں وہ ہونے, بلے نہیں جان طاولے کن ہوں تو بھئے, یہ جان نے کا پہدا ہے, بلے جانتے نہیں, پر بھی ہماننا شروع کر دو, تو بھی فائدہ ہو گیا, اب مانوں کے نہیں تو جانوں کے کیا کھاکھ, پر چھو گول ہے, یہ بچہ نہیں جان تھا ہے, پر بھی مام لیتا ہے, شکشک کے بعد,

پے پر میں لکتا ہے, پاچھ مارک لے آتا ہے, اور بھولے پہلے جانوں پھر مانوں, تو پھر وہ, وہ دو حلوائی جیسا ماملہ ہو جائے گا, وہ تیرنے کو سیکھنے گیا, ہستا دن دیا, پانی میں دھاپ کا, ناک میں مومے, کان میں سرے میں, پانی گوسویا, لوچار چھیکھ کھائے اور بہا رہا ہے, ہاتھ پے پانی لیا جب تک ٹھیک سے تیرنہ نہیں سیکھا, تک ٹھیک پانی میں پیر رکھے وہ دو باپ کا قسم کھالے, اب کے بیستر پے تیرنہ سیکھے گا, نیشنہ لہائے بیپے ترنہ سیکھے گا, کہ مندپ میں ہاکے تیرنہ سیکھے گا, ایدر تیرنہ سیکھے گا, ایدر تیرنہ سیکھا, کیا؟ تو تیرنہ سیکھنا ہے, تو پر پانی میں تو ہنا پڑے گا ہے سے ہی جاننا ہے تو گلے مانے میں ہنا پڑے گا, یاد پتم پریپس بو دینہ, شکرا دیا, سرو دیوتا, آہو تترسی تو یوگی ہر شمناو پوگہ چتی,

جس پت کو پائے بینہ, شکرا دی دیوتا, اندر آدی دیوتا, اپنے کو کنگال مانتے, کنگالت رہتیم کو, اس آتمپت کو پاکر یوگی پھر ہنکار نہیں کرتا, یہ بھی آس چریہ ہے, کیونکہ ست میں آگر میں, ہنکار تو آست میں ہوتا ہے, میں دن, میں دن, میں دن, میں دن والا, شدتا, میری میں شدتا والا, سوندری, میرا میں سوندری والا, اور پہلے تھا نہیں, ہو بات میں رہے گا نہیں, ہنچیجوں کو پاکر اپنے کو ذا باتا, جا رہا ہے, اتھا تھا ہنچیجوں کی چینتہ میں, اپنے کو سقورہ دا رہا ہے, کچھ لوٹھ تو ہنچیجوں, کو پاکر اپنے کو خوٹھ دا باتے, دا باتے, اور کسی کو نہیں ہے تو, ہنچیجوں کی چینتہ چینتہ میں, مارے جانے, گا نہیں ایسا ہے, دونوں ترفحسر دوکھی دوکھ ہے, دنیمی دوکھی لிریدھنی, دنگی ہے, ان کے پاس ہے وہ τینشن سے دوکی ہو جیچ کے پاس نہیں ہیں وہ واس نہ سے دوکی

کیوں کی ساتھے کا گیاں نہیں, ساتھے کا چینتر نہیں, دیان سے سنگیں, Guru Dixha سے بیمکھ رہنے والے لوگ بھراانتے ہیں, ہر تھاتے, اشت کو میں مانتے اور ست کا پتا نہیں, قلتا گیاں, میٹنے والے وستوں کو سبندھوں کو پدارتوں کو دن رہا چپکڑے اور امیٹ کا پتا نہیں بھراانتے ہیں, Guru Dixha سے برانمکھ لوگ بھراانتے ہیں, وہ سچ مجھ میں پشو کے سمانہ ہے, پرم تتوکوں کو بھی نہیں جانتے ہیں, جیس سے کسی رادہ نے گھوشنا کر دی, کہ میرے بکرے کو جو تربت کر دے گا کھلا کر بھارپیٹ کھلا دے گا اس کو میں اینام دنگا, اور سہو اشارپیہا, ہو ہو, سہو اشارپی مطلب کیا,

آج تو کتنا ہو گیاں, چالی سہو کا ایک اشارپی, آئیسا سہو اشارپی, گنگا دے ننگا نیتے ہیں, سہو تو لاس ہونا, ہو سہو رو جے کے کم بندہ تیاروں, میں چاہا کہاتا ہوں, میں ہا تو لائیں لگی, پھو دین بھر اس کو کلا پیلہ کیا ہے, ہام کو راجا کے پاس آجا ہے, راجا ہرہ راجا اس کو دیکھا ہے تو, بکرا لبکا دے, راجا بلے کھا کلا کیا ہے پھر, ایسا دربت کر رہا ہے کہ اس کو کھانے کی جگار نہ ہو, بیچھا نہ ہو, سبنی اپنی تکڑی راجمای, بکرا تو آئی بہیسا جیسا بنا دیا پتھا, خوب کلا ہے خوب کلا ہے خوب کلا ہے, پھر آئے وہی پورانا, آجت راجا ہرہ راجا ہرہ راجا اس دیکھا, بکرا نے پھر مو, کیا, ایک گروکہ چیلانے کہا گروگی وہ بکرا,

دھرپت نہیں ہوتا ہے, وہ لے دھرپت ہونے کہتے ہیں, تو اس کو سینیم کا پاٹ سیکھنا پڑے کا تبی دھرپت ہوگا, بھیک لگانے کی کلا آئے کہتا بھی اس کی درائیم تھے ہوگی گاڑی گیا, وہ اس کو چیلانا نہیں جانتے بکرا کو کوئی بھی تربت کرنا نہیں جانتا, وہ درائیور مقح ہے کہ ستت ایکسیلیٹر دے تھا ہے, جس کے راستے میں کہ بھیک کی ویوستانے وہ درائیور کیوں سے پہنچے گا ہے, جب بھی تم درائیور کرتے ہو تو, بھیک کا اپیو کرنا ہی پڑتا ہے, دو پہنچ کلومیٹر کی آپ درائیور کرو تو, بھیک کا اپیو کرنا ہی پڑتا ہے, ایکسیلیٹر کو کم جادہ کرنا ہی پڑتا ہے, انڈیا میں, جیرام جیکے, کو اس کو بھیک لگانا سکھا ہو, گروجی نے بتا دیا بھیک کیسی لکتے ہیں, وہ بکھرے کلے گیا, سکھا سکھا گاس کے لیا آچانہ پنا کلا آئے وہ کلا ہے, پھر ہرہ گاس دیکھا ہے, ہرہ گاس کے لئے لپ کا درائاک سے تمہچا,

پھر دوسراک کے لاتی, پھر ہرہ دیکھا ہے, ہرہ گرے درائاک سے تھا ہے, پھرے قادہ بنتا گیا, پھر ہرہ گاس دیکھا ہے, پھر لپ کا درائاک, بگرہ سمجھ گیا کہ ہرہ گاس میں درائاک ہے, یہ آکر سنگ جب آئے تو درائاک کر دو بس, دین بھر وہ درائاک, درائاک, درائاک ساہتے, اس کو بھیلکول پک کا ہو گیا کہ یہ تو درائاک والا ہے, پھر ہوس نے دیکھا ہے تو مگھوما دیا, اس کو یادا گی درائاک, منوں سے ہوتا تو پہلے درائاک میں سمجھا تھا, لیکن پسو جرا, 10 بہت, 5 بہت درائاکوں نے کے بعد سمجھا, پھر ہوس نے کچھ کلا ہے, پھر ہرہ گاس دیکھا دو اس نے مگھوما لیا, 2-4 بھر ہوس نے بھرہ بھر چیک کر لیا گھاں, اب یہ ہے, ٹرپت ہو گیا ہے, مگھوما دیا کہ درائاک ہے,

لے گا را جا کے پاس, را جا دیکھتا ہے کہ ہاں, کیسا پھا گا لے اس کا تو پیٹھ خلی خلی, سب لگ تو اس کا پیٹھ فلا کہتے تھے, پھر بھی بھکھا رہے تھا تھا, تو پیٹھ خلی, پھر ہوسکل کو کھ دیکھ رہے, پھر دیکھ رейے جہے ہوں, اللہے راجан میں جیٹھنا آ differentiation fundo کیا ہوں, MovieWar, bete moltے رہے Está ہاں اللے، پڑے لئے پڑے گےھ اللہ جانے مگو ہے, campment , órifikaire یا رہς کی ککھیں تو کھالی ہیں, ملکھالی ہیں کہ بری ہیں, لیکن آپ دیکھو, کھتا ہے گا, یا رہا رہنام تو چیٹھ گیا تھا, لیکن سچ بہتا کیا کہا, ملے بس جہاں آ سکتی تھی وہاں سے دڑاک کیا بس? ایس سے ایک دنیا دار بھی جہاں جہاں من کی آ سکتی وہ وہاں دڑاک کر دے,

وہ بھی مہن بن جائیں گے, بے بھی τруп تو جائیں گے, جہاں جہاں آکر سنے ہیں, فا میرام ترث مہن کیسے بہنے, کالج سے جارے تھے اپنے نمازستان پر آستے پہنے, نمبو دیکھیں, نمبو کا نام سنتیں ممیپانی آتا ہے, سے کہ وی نمبو اس میں کالا میرچ, اہاں, ملمی ہے کہ کھنا چے, وہ لے وہ یہ آکر سنگ, لیے نمبو دو, مرابر اندو نمبو کے چار پیس ویر نمک مرچ مصالا گرم نمبو, لے, کھا, کھا, کھا, دراک, لے, کھا, کھا, کھا, دراک, رکھا رہا ہدا گنتہ تک, من کو نہیں کھانے دیا, پھر سنتش تو امانور سانت ہو گیا, اس کا جنطن نہیں, اس کو دیکھیں پانی نہیں آتا, نمبو لے بھی جائے ہو گیا, فایگ دیا اس کو, ہی سے جو چیج جادہ سنسار کی آکر سنگ دیتی ہے, تو پولے چارا کھانے تو گراکر سن پورا ہو گیا,

ملی کی چھاوی جرا پیل ہے, یہ چھا پوری ہو گیا, یہ جل پوری ہو گیا, یہ جل پوری نہیں ہوتی, یہ جل برباد ہو گیا, اس نے, ملی مینا, لیکن ہے, لیکن ہے, لیکن کا دونچہ دار مومہ لے, پیگ, دراک, کیا کریں, اس کی آداتی, وہ دراکر سن ہوتا ہے, دراکر سن ہوتا ہے, ملی, آئیسا کر کے, آپ نے کو یہ گیبا نہ نہ پڑھتا ہے, اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ آپ نے کو تمہ چاہ مارو, ہم نے تو بھائی مارے تھے, ہم نے تو بھائی مارے تھے, ہم نے تو بھائی جبی جا روچھل کو دو ہی سادنہ کی دنیا میں, ہم نے تو دو ٹین دین تو کھنہ پینہ مان کر کے تھوڑے چھنے فاکھتے تھے, پھر بھی تھوڑا بھتی دارو تھا تھا تھے, دراک کرتے تھے, گروجی کو چیلکتے ایسا ہوتا ہے, گروجی نے کا بہضان دیا کرے گا چنتانے کر ہوتا ہے, تو گروجی آئے اور گرایا ہم ستنگ سنایا ہاتھ میں چنتانگا, پھر چنتان بضل دو تو بھی بھی دہا کرنے کی جی روچھ نہیں ہوتے,

یا دو دہا کر کے سو دہا ہے یا دو چنتان بضل دو, بھی اسے کیا ملے گا, کیا ہے, بھی بےک سے, بھی بےک سے اصلت کا عقارشان سوڑ دو, جب من میں پاپا ہے, آکارشانا ہے, اسی سمے دیکھو, جانتے ہیں کہ آسط ہے, میتیا ہے, کیا ملے گا کر, کیتنوں نے بھوگا, آکر کیا ملہ, آسطی بھر بھر کے پیشوں, کہ جن میں اور مریں گے, کیوں بھی مانی کرنا کیوں, کیوں کو پڑ کرنا, جتنا جانتے, اتنا دی رجی رجی رجی رجی چھورتے جا ہے, او در چھورتے جا ہے, اور وہ بھرتے جا ہے, کچھ سنگ کو چھورتے جان,

در ستکہ بھی سنگ کریں گا, آسطکہ بھی آکرشنوٹ نہیں بڑھا رہے, تو رجیاترا لن بھی ہو جاتی ہے, جیسے بڑھ گھرانا بیٹھی کہیں میٹھی میں بیٹھتے تو پھر جھاڑ دیتے ہیں, کپری, گھورتے تو, جھاڑ دیتے ہیں, ایسے جب آسطکہ سنگ رو بہوہ رو, پھر, ایکہ دھنٹے میں جھاڑ دوں, میرا نام پھلانا ہے, پھلانا بہوہ روائیے, ویوار سب سوپنے کی نای بڑھل گیا لیکن اُس کو دیکھنے والا میرا پر بھوت ہو گئی اب دل ہے, پر بھوتوں میرا میں تیرا ہری ہو اُم تت ست جائھ ہو آنندس ہو, گھورتے ہو تمہری جائھ ہو پر بھوت تمہری جائھ ہو یہ گیان داتا تمہری جائھ ہو, مانیمان گروک کے ساتھ سبان جولو اور مانیمانوں ستکہ سنگ کرلو آسطکہ وہ پر ٹیکٹر گھوم جائے گے, لیکن یہ تدفرتا چاہیے, لیکن یہ تدفرتا چاہیے, لوگ بولتے اُنناتی کا جو گھئے

لیکن اس سے جادہ خراب جوب کبھی کچھ نہیں آیا شاہستروں میں ورنانے, کہ پتپت میں جوٹ, کپت بہی مانی اور آسطکہ آکرشان کے لئے آدمی نجانے کیا کیا کرتے, اور دکھ بھی اُتنای بڑ گیا جتنا ایسی اُگوں میں اِدوکہ اِسا کبھی اُگوں میں اُدوکھ نہیں آیا سمجھگ دھنگ سے بلے دائیتے دانوں کے ایدو میں بلے اُدوکھ بڑ گیا ہو ریشی مونیوں کے آگے بلے اُدوکھ باتان بن گیا ہو کسی کروڑیوں میں لیکن آم لوگ چھوٹے سے چھوٹ آدمی بھی پیڑی تھے چنتی تھے بڑے سے بڑ آدمی بھی پیڑی تھے چنتی تھے بیتی تھے مدھم کلاس کا بھی جارے کا کچھ ہم رہی ہو رہا ہے شوشان سے زگر بچانے کی کوئی دوہ ہے اطویش شوشان سے کوئی بچانے والے ہیں تو ایک تو ہوتے سجن رو دوسری ہوتے سنت سجن ایک شوشان سے بچان سکتا ہے تھوڑا بوت اور سنت تو ایک اور پر مارتیک دونوں شوشان سے بچان سکتے مہراج پر مارتیک

شوشان ہوتا ہے کہ وہ دو بوت خطرناک ہوتا ہے پر مارتیک شوشان کیا ہوتا ہے کہ پرامتت پر کو نہیں جانتے دن پاکر اپنے کو بڑا مان تہیوی تو مپنا شوشان کر رے پت بہ کر اپنے کو بڑا مان لہیے بھی اپنا شوشان نہیں تو کر رے رب لاوانی سندری پاکر ہرماس کا اپنے کو سندر مان رہ ابھی تو beans اپنے آتماء کا شوشان کر رہ گریب کا شوشان تو اسی جنمتک ہوگہ تو İyi جنمتک تو شوشان

لیکنو جو بذکہ لانے والے بڑے ہیں ان بیچاروں کو time سے کھانا بھی نہیں ملتا اِتنا اپنے آپ کا شوشان کر لے تھے اگس واسٹے کی بات سنو روچ سو بیچار گلاس پانی پیوں سپندوش کی بیماری, پانی پڑھنے کی بیماری, کبجیت کی بیماری, عجیران کی بیماری, آنیدرا کی بیماری دیا بیٹس کی بیمارے ایک میں نے میں میٹھتے ہیں آجیران کی بیماری, داستن میں, میٹھتے ہیں سپندوش کی بیماری, آردن میں, میٹھتے ہیں پانی پڑھنے کی بیماری, آردن, داستن, پندوادن جیسا, آردنی, جیسا, اُس کا شرکا کھو بیماری, قپر باہا گروض دیکھ شاہ سے جو بیمک ہیں بیلوگ بھانت ہیں اپنے واسٹویک گان سے بے رہیت ہیں بے پشو کے سمان ہے ساری جندگی ہم میٹھتی جاتی سکھ کے لئے

سکھٹکتا نہیں, دکھ بھاکتا نہیں دکھ بڑھلتا رہتا ہے سکھ بڑھلتا رہتا ہے لیکن ہمارہ جیوان بھی بڑھلتا رہتا موت بھی بڑھلتی رہتی جوانی بھی بڑھلتی رہتی بجھاپا بھی بڑھلتا رہتا ہے پرکرتی کے بھاو میں گھسیٹے جاتے گھومنے والی گاڑی میں بیٹھے تو چکھے سے بیٹھے ہیں بچھے چکھر کھنے والے چاکھ میں بیٹھتی تکھے سے گھومتے ہیں سے ہم گھومنے والے سریر کو گھومنے والے مان کو گھومنے والے سبندوں کو سچھا مان کر اگھوم اتما روپی ایک سل کے پر دھیان نہیں دیتے اسیلے سارے دوکھ ہے ناستکتا دوکھی ہے پریشان ہے لیکن آستک بھی بھی چارے دوکھی اور پریشان پائی جاتے کیوں کہ آستکوں نے بھی آستہ جتنا اتما میں کرنا چاہی اتنا نہیں ہے آستہ شریع میں ہے آستہ وسطوں میں آستہ بہاکی پریشتی تیمیشلے آستک بھی بھی بریشان ہے آستک بھی بریشان ہے نانکتا دوکھی آستہ بسن سار سکی بسے بھی سکی نہ

جنے نام آدھا سارہ جان سے اپن ہوتا اس آدھا ہر کا جس نے آولا ملیا وہ سکی رہتا ہے رہی و نہی دے ہا نہی انڈریعا نہی دے ہا نہی انڈریعا نہیں دے ہنا ہی اندریان نہیں دے نمان بودیس و چند ہے نہیں جیوں میں ہاتمان نہیں جیوں میں ہاتمان نہیں جیوں میں ہاتمان نہیں جیوں میں ہاتمان

شدصہ چیدا اندریان نہیں جیوں میں ہاتمہ شدصہ چیدا اندریان ایسا چنطن کرے اور ویوار پویترا کرے تُچھا آکرشن سے بچے تو سب دو خوصہ داکلی میٹ جائیں جنم جرا گا دی موت سارے دکھ چنطا پی کر سارے سارے حول سل میں دکھ میں جائیں کبھی کبار شری رہتے ہوئے آئیں گے تو آئے سائیں گے جیسے پانی میں لکیر کر را آیا تھوڑا بکشپ طورنت گیان کا چنطن کیا چلا گے ہے اس کا مطلب نہیں کہ گیان پالوں کے تو گرانی کوئی نہیں کرے گیان پالوں کے

پر جو ہے وہی میں ہوں ہری آم تتسط نہیں دے ہا نہ ہی اندریان نہیں نمہ نبو دیس و چند ہیں نہیں جیو میں آتما شدس اچدان اند ہے اپرادی کبھی ساکشی نہیں ہوتا اور ساکشی کبھی اپرادی نہیں ہوتا ہے واسنا والامن اپرادی ہوتا ہے لیکن اس کو دیکھنے والا چیطنی ساکشی ہوتا ہے وہی ساکشی چیطنی میں ہوں ایسا چنطن کرنا تو من کی اپرادی ری دریکھا موتے جہیں گے جیسے بکرے کا اپرادی لپک پڑتا تھا ہرے گاس میں ایسے ہمارا من لپک پڑتا ہے سنسار کی تو چیچی جو میں سنیم سے اس کو موتنا چیے سمجھا کے موتنا چیے اور آتما کے سکھ میں پرویش مانا چیے چی لوگ ہوتا

ہوتا مارے گے اندرک جہیں گی گڑی بر ریو مدور شانتی اتما شانتی ساکشی سروب میں بشانتی پر بو تیری جہیں ہو یان سورے تیری جہیں ہو اتما نند تیری جہیں ہو میرے ستگروط ماری جہیں ہو جہو جہیں ہو آنند ہو

سارا سماج برد ہو جائیں سارا ساواتا و نوروط دو جائیں میرے سر پر آتاش ٹوٹ پڑے اور سارا ویش مکل لوگ میرے اپر ٹوٹ پڑے پھر بھی میرے واستبیق سوروک کا کچھ نہیں بھی گڑتا ایسا گیان اصری گیان ہے جہو بوجے lernen ایک چیز بوجے ٹ clutter

آنم ہے ماضوری ہے نشچنتہ ہے حیفر تحکوے میں جو ہوگا تکہ جائے گا دل لگا دل پر سے بیڑا پار ہو جائے گا حریبو پاوانو پاواننا نام ہم پوٹی کا پاواننا نام ہم دیلو کا دو ہرانام ہم خلیکتی نارانام ہم حریبا ہم چندہ میتھا پیارانام ہم خندی میں بھی میتھا لگے تھا گا گا گا گا گا گا گا گا گا گا گا پاوان

ہم چندہ میتھا پاوان ہرینام کی مکھی کا گا نی مکش کے راستے جان جا گا گا گا نندبر صای ہے ماضورو ٹا رہے تنسارجارگا جو ہونڈاتی ہا Dhulurathi hai Ariaanamdavarritti Uyngye jo chowti Madhulia bakti hai Jaihul

बन्दर ज़ते ज़ते दिःान करने से नगत के प्रमानु मन्तर कार बन्ते जिन ता पिकर कुक्षिन करने वाला पवाव जित में आता है और जो तमोगनुक्षिन होने गता है साज विक्ता का साज ब्दि में बरता है बचवान मीते गने गने ब्ये तो समचो कि बचवान तमारी पूजा से बासे दिबान से ब्चन तोरे है सान्ती औराननदाने ब्दे तो समचो बुञुञुट कर्पा का

प्रसाद वारे जित में सन्द्दो रहाय

मंगने ब्यो पी मंगलान सुबा होй है पक्षो की की बिलोल ये पक्षान समचीत जी स्द्दने के सद्दा से बुल बुल बुल्ती असी द्दने की सद्द्दे मनूस्दे बुल्ता है मदुर द्छाद्छी बुल्पा कर द्षाद्दे वुप्रूत्ते तेट्आ नहीशे बुल्ता कर्पा जोर बुल्पे ಕ್ Write my , ben estáwaas na nasal ಆyba since when my mind operates, ಜесьwania i train the handed way

ಬು ಗೋಪೆ ಚುಂ ಇಛಿಕು ಕುಕಾಂಓ ಬудь ಙೋಪningsಇ ಇಲಿ ಕಣಿ ہیں சچ்டானம்ன சொரு தெரிப் பக்டிக் காதான் வேண்டேனா சண்டோ کا சங்குமில் தாரே பக்டிக் காரங்கு சட்டாரே

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →