Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 17, 2026

Jan 17,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 17,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

1,173 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 17,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 17,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

Aw un – Narain Naray – Naray Today,欢迎 Upon all your saddlems, This is the occasion for us to celebrate this tradition शटन वार के नूग जरे त्याकते. जाग चारिट नूपरिडिकं सुविधशे ने नुपर्माँते. چندраลوک سے جاتے ہیں وی بھی سرگ آدی سکھ بھوگ کر پھر اپنے آدوری ساتھنا پوری کرنے کے لئے یہ آدے

اور تیسرے ہوتے ہیں جو اپنے آتما کو سواتا سی دشکد بھڑھ روک میں جان کر پر بھرمہ پر ماتما میں یہی ایک آکہ رو دا دے باکی کے لوک سٹوگوں کی پر دھانتا سے اور دوست گچنٹی سٹوست تھا جن کا کان پانچنیم پویترتا ہے اور سورگ آدی چاہتے ہیں یا سیم سے رہتے ہیں وی اور دلوک میں جاتے ہیں سورگ آدی میں مدیس دشتنٹی راجسا ہے جو کھانا کمانا جیو اور جنے دو اس دنگ کی مدیگتی میں جن کا سو بھاو بن گیا ہے میں مرکر پھر مدیلوک میں مانا اوشر میں آ جاتے ہیں

آدو اوشتنٹی طامسا ہے جو پنیپاپ کی پرواہ کے بنا دوسروں کا خیال رکے بنا کیسے بی کر کے مجالوں چار دن کی جنگ دگی پیچھے کس نے دیکھا ہے ایسے تامسی کھان پانوڑ جیوہن کے سو بھاو سے جو دیکھا کھار ہو گے کی تا کے نلصار میں آدو بچنٹی طامسا ہے اون نیجلوکوں میں حلکی عونیوں میں جاتے آسر آدی دائتی آدی عونیوں میں جاتے اور اون سے بھی جاتا جو گھے بیتے ہیں بیں گنارکوں میں جاتے وہاں یات نائم حکتے اور بعد میں پھر پاسوی عونیوں میں

چوراسی لاکنی چیونیوں میں بٹکتے بٹکتے بچارے پھر آو سر پاکر منوش سے جیوہن میں آتے یہ مطلوک گارمو بومی ہے سرگ پنی کا پھل بھوگ بومی ہے نرک پاپ کا پھل بھوگ بومی ہے نیجیونیوں میں بھوگا سرگا دی اونچیونیوں میں سک بھوگیونیوں لیکن منوش شیونی میں جو اس کچھ تھوڑا بوت رہے گیا وہ نپڑتا جائے اور نہیں کر میں اس و پریتی ارتھ کہ یہ جائے یہ جیو اپنے آت میں اس ورکوت جان لے

کیوں کہ لوگوں میں جانے کے لئے تو تو پسیا چاہیں سورگ کے لئے بھی اگے آگچاہیں ہم رملوک کل بھوگ کی چاہیں تو بھی بیدھی بیدھان آدی چاہیں لیکن جس کو سنسار کے ناک کے دوارہ آجیب کے دوارہ وکاری اندروں کے دوارہ سوک پھسانے والا ہے اسے سمجھ لے اور ست پرشوں کا سنگ کرکے ست پر چتور آنم دوسروب اپنا اس وری ہی سا رہے سکھ دوستہ آتی ہے چلی جاتی دو خطوستہ آتی ہے چلی جاتی ہمو دوستہ آتی ہے چلی جاتی یہ موحنی آوستہ آتی ہے چلی جاتی راک ششیس باہو آتا ہے چلہ جاتی دہیتے سبہ ہوا آتا ہے چلہ جاتا ہے انساب کو رکاشنے والا میرا پیہ پرماتما امرہ اتما ہو بیٹھا ہے میں اسی کو ہی پانگا اور اسی کو ری جھانگا

اسی کو ہی دھانگا اس پرکار کی جیس کی سمجھ ہو بھی ہے شپرم بواتیدھا رماتما تسیا ہم سلب ہم پارک نتیو تس شیو گینا و جلدیدھا رماتما ہو جاتے اور ایسوں کے لئے میں سلب ہو جاتا اتنے سلب ہو جاتے کے پرکشت کو ساتھ دن کے اندر آنبہ ہو جاتا ہے اس پر ابرمہ پرماتما قتوان کو دو مہورت میں ہو جاتا ہے اتنے سلب ہو جاتے اور دور لگ بھی اتنے کی آہا آسد سدھیا آگئی نہ اور ندھیا آگئی لوک لکانتر میں جانے کی شپتی آگئی دوسرے کو پھنک مار کر جندہ کرنے کی شپتی بھی آگئی

لیکن میں کچھ سویسے سو ہوں میں امکم جو آنندر ماندوں میں ویا پر آہا ہے اس پرماتما کی ستا سے ہی کچھ لیکر بنے جت میں آتنے میں آہا بھگ دیں پھر بھی پارے چندہ بانی رہے کہ اپنا ویقتی تو بنا رہا اپنے میں کوئی ویششتا بانی رہی اور پرماتما اپنے سے اللگ باستے دور باستے پر آئے باستے ہیں کالانتر میں ملیں گے دیکھیں گے پہلے تو یہ مجالے لیں گے ایسے لوکوں کے لیے بھگوان بڑے قتھیں ہو جاتے نہ دکتم کس چتپاپنوں سکتو بھی بھر ہو اگیانے نہ آرتم جانمتے نہ موحن تھی جندوہ میں کسی کو پاپ کے ترف نہیں لے جاتا کسی کو پنیا کے ترف نہیں

لے جاتا اگیان سے مجھ چیتن نہ کاگیان دھاکہ ہوا ہے اور تکے ہوئے اس گیان سورو دیو کا مادوری نہ لینے کے کارن بہار سک بھوتے موحیت ہو جاتے ہیں تین موحن تھی جندوہ جینے کی باستنا پانے کی باستنا کرنے کی باستنا بھگنے کی باستنا کسی سے بھٹنے کی باستنا یہ جیو کو موحیت کر دیئے موحہ سکل گیا دھینک کر مولا یہ جو موح ہے شریر میں سناج میں پڑستی تھی میں آتلا دولر تھے جاپچی نی رات

آتلا یہ ہو جائے پھر میں سکسے بجل کروں گا تو سریر میں موح ہے دولر میں موح ہے پینشن آجائے گی تو پینشن میں موح ہے بگوان پے باروصہ نہیں پینشن پے باروصہ ہے ایسا ہو جائے ویسا ہو جائے پھر میں آرام سے رہوں گا تو ابھی شریر میں اور پڑستی تھیوں میں آرام چھوبا ہے رام کے آرام کی مہیمان نہیں جانی روم روم میں رم رہے اس پرمات مرام کی مہیمان نہیں جانی اس پرمات مرام کی مہیمان نہیں جانے تو آدمی ہودری لگ جاتا ہے پھر اپنے آپ اس کے لیے باکی کی سویدہ ہوں جاتی ہے ہم گلتی ہے کرتے ہیں کہ سنسار کا کام تھیک تھا کر کے پھر آرام سے رہیں گے اور بہجن کریں گے

تو اس شریر میں اور پڑستی تھی میں مات و بڑھی ہے بہجر میں گاؤن بڑھی ہے اس لیے قتی ہو جاتا ہے لما رستا ہو جاتا ہے نے سے پرکشت کو پتہ چلا کے ساتھ دن میں مرتیو ہے مس لگ گئے تو لگ گئے ساتھ میں دن ساکشات کر ہو گیا مگت پر اپتی میں سمائی کی آودھی کا نرنے نہیں کیا جاتا ہے کہ میں نے کو ایک سال میں شر میں لیں گے ہیں دو سال میں لیں گے ہیں دو مہینے میں لیں گے کیونکہ یہ شرصار وطرغہ اپک اور سب کا اپنا آپا آدمہ بنہا بیٹھ ہے جیسے مان بچہ چھت پٹہ ہے تو پھر مان اتنے گنٹے میں ملتے ایسا کوئی نہیں ہم نہیں ہے بچہ بھولہ اور مان طورنت ملتے ایسا بھی نہیں ہم نہیں ہے

اور ہیتنے دیر میں ملتے ایسا بھی نہیں ہم نہیں ہے بچہ کی جیسی چھت پٹہت کھئی بچھ روٹے رہے میں مارے موائے پر سے کرتا ہے مان سنہ ان سنہ کر دے کیسی کی حوالے کر دے لیکن جو مہا کے آسری دی ہی ہے اور ستمت میں مہا کے بھی نہ ہم اس کو چھے نہیں پڑھتا تو اس کی چھوٹیسی پوکار سے بھی مہا ستکام چھوٹ کر باکتی چا لیا جاتی بچہ سچ مجھ میں مہا کے بھی نہ نہیں رہے سکتا ربتا ہے اور مہا سنتے ہوئے بھی نہیں ہاتی تو وہ مہا نہیں ایسی مہا کو مرگانا چاہی ایسے مجیو اتما ایسھر پر آبتی کے لئے سچ مجھ چھت پٹھا ہے تو ایسھر کو آنا چاہی پر گتھنا چھینے تو ایسی سچھر کو مرگانا چاہی

مہتنا لوک اتنا ایمت سے کہتے ہمارے در باک دے ہیں کہ ہم کو ایسھر کے بھی نہ کی چھت پٹاہتے ہیں سارتت جو پر مہت میں اس کے پانے کی چھت پٹاہت نہیں ہے کیونکہ نیک جنموں کے سنشکار ہے ہاں کوں سے اینا کسے جیب سے کام بکار سے سکھ کے بیچھے بٹھاپنے کی آدتے ہیں ہیسلے ان کو چھوڑ کرسا چھے سکھ کی چھت پٹھاٹ ہوتی نہیں ہے بی نہ ست سمکے بی نہ بے گے بی نہ ساتھ نہ کے بی نہ گرو اور مہاہ بروڑ کے سمکے اس لیس چھت پٹاہتے تھا ہی نہیں ہوتی جندیس ست پروسوں کا سنگ کرنے سے بیک جگتا ہے ست تڑیا ہے ست تڑیا ہے سار کیا ہے پسار کیا ہے ساتھ کیا چلے گا اور کیا چھوڑ کے جانا ہے

جو چھوڑ کے مرنایا اس کے پیچھے کیوں مرے یہ بیوے کوتی بود دی بی ست سنگ کے دوارہ ست تڑکرم کے دوارہ اس فرقی کرپا کے دوارہ کچھ جب پڑھان سادھن کے دوارہ بود دی میں پر کاش آتا ہے رایا بھرتری کو جب مہاپورشوں کا سنگ ملا اور جگت کی نشفرتا کا کیا لیا تو گورکنات کے چھرنوں میں گئے گورکنات کی کرپا سےوں نے دیکشا شکشاہل ساتھن کی ویدھی ملی کے تری بندا کر پر آنہم کرنے سیوازتنا اور بود دی کی مندتا پر ویجہ پالوں سوبے سوبے پاچھ سے پاچھ پر آنہم کریں

پھر دی ری دی ری چھے سا آتا آتنوں اور دستا کا اپنے ساندا کر سکتے اسے شریر کے روگ تو سوٹ سواہ ہو جاتے ہیں بود دی کی مندتا اور مند کی ملینتا بیتھ کھنے لکتے ایک ایک کو گڑگرانا پڑتا ہے کو شامت کرنی پڑتی ہے سفیت جوٹ ہولنا پڑتا ہے سوٹ ہوئے یہ بود دی کی مندتا ہے اپنندی بیتھا کا پر بہو کرو تو تو رہا سا بولنے سے ہی تمہا را کام ہو جائے نیتی یکتکام ہو سا بس کتنے لوگوں کے خوشامت کرتے پھر بھی دکھ سے جان نہیں چھوٹے کبینہ چھوٹے پین دکھوں سے جیس سے برم مقاکہ کیان نہیں وہ برم مقرمات میں اپنا آدمہ ہے چھوٹ کرنی ہے

آپ نی سوارت ہو کر کسی سے بات کرتے تو آپ کردے میں سین جیسا بل آ گیا تھا ست جیسے بات کرتے اگر سوارت سے رکھ پڑ سے بات کرتے تو آپ کے چیت کی طرنگے کم جور ہو جاتی سامنے والے پر بہو نہیں پڑتا جتنا آپ میں منوبل ہو دع ہے اور جتنا رجانی جانی انجانے درم کے ترف ہو دع ہے اس ور کے ترف ہو دع ہے ست تج کے ترف ہو دع ہے اتنا افس کا منوبل دع رو دع اور اس ور میں بشانٹی پانا اس ور کا دیانوں اس ور میں جانتی پانے سے بھڑھ دھی میں گیلکسن شکتیوں کا سنچہ رو جاتا. من میں گیلکسن آنند کے اوپھان آنے لکتے اور تن میں گیلکسن ساتھ بکترنگ پیدا ہوتے.

اسے آرگتا کے لئے گیبسول انجیکسن اور دونی کے نہیں لنی پڑھتے. اسے جان کے لئے پوتے تو تھی رہیں پڑھتے اور اس کا دیب گیان ایسے ہی بھرتا چلا گیتا. اور اسے خوشی کے لئے کلاموں میں دیس کو کرنے نہیں جانا پڑھتا وائن پینے نہیں جانا پڑھتا ہے. لیدی لے داؤں کے ساتھ ملکہ دانس کر کر کے اپنے کو ستا ستا کر سکی ہونے کی بیوگو بھی ان کو نہیں کر نہیں پڑھتے. نتر سے پاویتر آتمان لککولا کو کرولو کرولو سکی ہو گیاتے ہیں میں ایسے آتمرامی سنت بن جاتے. سترپ تو باوتی واترپت رہتے اپنے آتمسکنے. سا امرت تو باوتی آتم امرت سے بے امرت میں ہو جاتے. سترتی ویتر جاتے.

لو کانتا ریتی. اور کو طار لیتے. منششریر باری قتھنتا سے ملتا ہے. چورا سی چورا سی لاکھیونیوں میں بٹکنے کے بعد بجارے آتمان ششریر. یاتن کر فل ویشہ نبائی یا سری کا فل ویشہ ویکار نہیں. چیتا ہے. نہیں. ایتو اور یونیوں میں بہوت سویدہ کو نمیلتا ہے. بکری کو سادی کے لی کوئی تنشن نہیں ہو تار ایک دن میں چالیس بکریوں کے ساتھ بکارب ہوگ سکتا ہے. میں نے سنا ستسا ہے. مرودی کے ساتھ. قبرتر ہے سور ہے سور کو نالی میں مند کو نالی میں سوری کے ساتھ اپنے بچوں کے ساتھ جو مجا آتا ہے. وہ ساتھ کو ایر کنڈیشن دمرے میں اتنا مجانی آستتا کیوں کیوں اس کو دوریٹن پائل کرنا ہے.

نیتا سے مل جل رکنا ہے مینجر کو سمال کے رکنا ہے. ساری سویدہ ہے ہے او اس کے ایر کنڈیشن بنگلے میں پھر بھی مند جیسہ سکوز از ایت بجارے کو نہیں ملتا. مند کو جو قادوں میں نالی میں لوٹھ نے پوتھنے سے مجا آتا ہے. کھانا بھی بہیں لیٹھنا بھی بہیں. کوئی لائٹھ کا بھیل نہیں. کوئی نوکر کے ارھن دکھران. نگرانی نہیں کنی پڑھتے. چوری چھورے پیدا ہروں کے تو اس کی شادی کا کوئی ٹنش نہیں نہیں. مند کو لا کر ایر کنڈیشن کمرے میرک تو سارے پریوار کو تو پر اشان ہو جائے گے. اور ایر کنڈیشن پریوار کو بھند کی جگارہ کو تو پر اشان ہو جائیں گے. شریر کے انوصار سب کو اپنی اپنی جگہ پر اندروں کے سکوکھا ایسا سو جاتا ہے. گرمیوں کو مگندگی میں ویشتا میں جو سکھ ملتا ہے.

مو سکھ سیت کو مداری بستوں میں نہیں ملتا ہے. نشجن تتا ہے وامود تا کے گارے. محطمہ سکرات سوج رہے تھے کہ یہ جگت گیا ہے. کتنہ کھا ہو کتنہ پیروک کتنہ دیکھوں. آکل گیا. حتیم. لائی پکمز. پھروڈ ہے جو تھی ہے. دو کھائیں. تو چنتن چنتن میں کوئی رہے تھے. تو دو سپنے گا ہا ہو. سکرات. تن اتنے کوئی رہے تھے و چنتی تھے ویسے تو تن سوور بن جاتے. سکرات کے پرکشہ سوور بن جاتے. کتنہ نشجن تو کر لونت وط کر رہے. کتنہ مجھے کی زندگی جی رہے. سکرات کے بجاز سوور ہونہ آچاتہ تمارے لیے.

بڑھ دھیمان سکرات نے کہا کہ یہ بیوکوپی سے اپنے کو سوکی انسجیوں سے مانتا ہے. بیوکوپی سے سوکی ہونے کے بدلا بھی جاروان دوکی سارے دوکھوں سے پار ہو جائگا میں ایک دن سارے دوکھوں سے سدا کے لئے پار ہو جاغوں گا اور اس کو پار ہونے کے لئے کئی ہونے میں بٹکنا پڑے گا. اور دے سچ مجھ اسی جی بن میں محتمہ سکرات سب دوکھوں سے پار ہو گے. بھاد میں توھن کی بودی پر محتمشانتی سے سمپن ہوئی توھن کی بودی سے جو گیان پرستا تھا. ان کی نگاموں سے جو پریم پرستا تھا. ان کی وانی سے ان کے درشن سے جو لوکوں کو لا بوتا تھا. ان کے پھولا و سو گھے سیشے باکتوں گے. اور دھنی باکتوں نے ملینروں نے ایک ملینر لب سارے چار کروں.

ملینر کئی ملینوں کے دنی. ایک دن سکر آپ کو کھو بری جایا کہ آپ چلی ہیں بجار میں. بڑے سے بڑے اسٹوروں نے بڑے سے بڑے مولوں میں آپ چلی اور جو آپ کو بسند بڑے. آپ بڑے بڑے آپ کی دیں ہوں کہ آپ آپ کو بڑے آپ کو کہ دیں آپ کے. ہم آپ کو اتنا مڑیا ہوس بن دیں گے باک کرکے. اور جو بھی آپ کو چھے یہ چھے 10 ملینوں کر چھو جہے. بستالی سکرور کر چھو جہے. چھے بھی لینوں کر چھو جہے. ہم مل کر آپ کو چھترا سے رکھیں گے. میرے کو بھی چھترا رکھنے کے لئے بکھ ملکے. تک کیے بنائے گے تھے میں کی ہٹا ہوں. میرے کو دھلائے گھنے والوں کو کچھ کرشتے نہیں دینا. میرے توپ کنطان کو کنطان کا رکھیں. بکھ ملکے دن دیا لکھ رکھتے.

ان سے سکھ نہیں ہوں جہے. سکھ آپ کی آتما میں. سکھ رہتے جانتے تھے. آکھر انگے رو جو جگہینے سے ایک دن سکھ رہت سوبے سگھر انگے ساتھ ہو لئے. جاہتے یار مقان کی دیزائنی میں تیے آردر دینا ہوتا ہے. آکہ لگا جاہتے مقان منا دیتے مریقامی. یوروک میں بھی ایسا ہے. تیجاز سکھر ہوتا ہے. دوپائن دستیں مرمان کرا ہو دیا ہے. نسلاک کا بیسلاک کا. امریکہ سے جو آئے ہیں وہ جانتے سمات کو. کئی دیزائنے میں مقانوں کی دیکھیں. نکے روکے. تیجاز سکھا. مرمان میں. پھر مول میں کہ ہے. بڑے بڑے اسٹوروں میں کہے. سے کرتے کرتے آپ. خری رہات کے داس سے بچے. کچھ بائیں نہیں گیا.

کچھ کردنے کی سمتینے گیا. جویلر کے ہیں. دوپائن میں گیا. ایک سے ایک ننگے ایک سے ایک گیا. نئے آپ کچھ دیا. سب دیکھ کے دیو آکریستوں سے بہار نکلے. تو سکھرات کو منا چے. مرمان مستی سے نا چے. باکتوں نے پوشا آکے رہت دو گیا. بینبار گھومے کچھ بائیں نہیں گیا. اور اتنے کھوشوں کرناستے ہو. یہ کہاں کی خوشی ہے. مولے تم ایتنے ایساری چیجے. کچھ کر کے بھی ایتنے سوکھی نہیں ہو. جتنا میں ان چیجوں کے بھی نہ. اپنے ساول سے. اپنے درگو سے پورنے سوکھ میں. سوکھی ہو رہا ہوں. اس بات کی خوشی ہے. کیا وہ پر بھون تمہری باس نہیں ہے کہا. جو سکھرات کے رہے کی درکنے چا لاتا تھا. وہ کیا بھی بھی آئی بھی علاق سے آ کر گھوسہ تھا.

آپ کے اندر کوئی چھوٹھا ہے. اس کا اپنا تھا تو آپ کا کیا سوطیلہ ہے پر آیا ہے. لیلاشا باپوں کے اتنوں پر متماپ نے دے. تمہری کیا پر آئے تھے. یا تمہری پر آئے. جن کو جاتھ دن پایا. گیرے پانی بیٹ. میں بوری دو بندری رہی کی نہ رہی بیٹ. جس نے کھوچھا اپنے آپ کو. انہوں نے اس اپنے آپ کے روک میں پر متماک کو پایا. ہم یہ چھوٹھنا پڑے گا. یہ بھوک چھوٹھنا پڑے گا. جو در گئے میں پڑے رہے. اور جو چلان مار گئے میں ترگے پار ہو گئے. اور جن کو شنکا ہوئی تھے. کہ پر بھو سنسار کے سوکھوری سب چھوٹھ کر.

ایشور کے پر کوئی چلے. اور ساتھنا میں پور نتانہ آئے. تو نوں سے سنسار کا سوکھ ملا اور نہ ایشور کا سوکھ ملا. تو دے سے بعدلوں کو آن دھی دو فان نے چھن بند نہ کر دیا. ایش او اس کی زندگی تو چھن بند نہ ہو گئے. سری کرشنانے گا. نہ قلیان کرت دور گتیم تھا دگت سے دی. قلیان کے راستے چار قدم بھی کوئی چلے. پڑ گتی نہیں ہوتی. جو یا گیا گتب کوٹھے رتھ کر کے ورتھ کر کے سوگ پاتے وہ یاتری کو ایشی ہی سوگ مل جاتاہ مرنے کے بعد. جتنا اُس کا روچی ہو آر ہے بعد میں پھر نہ کر. سیچی نام سری مطانگے ہے. یو گبرشٹوں پھی جاہیتے. اُس کا یو گھور نہ نہیں ہوا ساتھنا. اُبرشٹوں گیا. یا تو سنسار کے واس نہ آگے

یا تو زادن کرنے میں تو را دیلہ پنے کر. تو سیچی نام سری مطانگے پنی لوگ میں بھوں کے پھر اچھے ساتھ میں پوریتر بجنانن دیدار ماتماوں کے گر میں اتھ وقت ہو یو گیوں کے گر میں چنہنے لے گا. جیسے مات مات مطر کیا کمیتے. سب کوچھ ہوتے ہوگی پورو کے اگ بیاس نے ان کو پریسٹ یا ترک کرنے ملا گا دیار اتنسانتی کو پالی. میری گھر میں کیا کمیتے. کیا آسوی دا دی پورو کے سنسکار ہونے. یا ترک کرا دی. اور اس پورو کے سنسکار کیتنا کہال رکتے بھاکوان. ہمارا جنم ہو. نگر سیٹ کے گر جنم نے والے بالق کے لئے

سو دا گر جنم لینے والا بالق کے پہلے گھر میں سو دا گر آگر آگر جولا دے گے. سو دا گر جولا دے گے. ہرے بہی ہمیں جورو اتنے نے بل ہمیں رات کو سوپنا ہوا ہے تمارے گر کوئی ہوگی. کوئی سن اُس نے جو بھی کہا سب دمے رکنی یا دیان میں نہیں. وہ کہی ساکھہ آل رکتے بھاکوان کی پر کرتے. پیدا جنے کام شتری ہے ہمیں پے کوئی اوش اقتانی بولے نہیں تمارے گا بالقانے والا ہے. آمیں سوپنا ہوا ہے. یہ بڑھیا جولا آپ کے لئے پہلے جولا اس نے بیدار بعد میں یہ شریعہ کیتنا کہا رکتا ہے ہو پہا رہا. اور چھوٹی مرمینہ جانے کیا کیا اگلی اس کی گربہ کام کر رہی تھے. اور جاہت تم بیٹھ ہو یہاں کیا تھا.

یہاں تو دار ہوگے بڑھی جلتے پولیس کی پیدا ہوتے اور کہ سابنت گیا سوچی نام سری مطام گئے یو گبرسٹو بھی جاہیتے اتوائیوگی نامے وقت گلے باہدی دھی مطام. اسے لے آپ کلیان کے رسٹے چلتے ہیں تو ہوگا کی نہیں وہ سندے ہیں رکھو. میرے کو پنیا ہوگا کی نہیں میری باکتپالی کی نہیں سندے ہیں کرو. آپ بلے برہتنا نہیں جانتے. آپ کے منجے ہوئے شاب دنے ہیں لیکن آپ کا انتریام تو جانتا ہے کہ میرے لیے بول رہے. باپوں نے نہیں دیکھا سے وقت کو نے بیٹھنے کی سویدا آپ کے لیے نہیں کری اور آپ

دور بیٹھے قدم واقعی میں چھےڈے میں. تو پندال کے چھےڈے میں بیٹھے لیکن باگوان کے چھےڈے میں نہیں بیٹھے باگوان کے ردے میں آپ بیٹھے. کیونکہ باگوان دور گیا پر ہے. آپ باگوان کی لی چار قدم چلتے ہیں. وہ جانتا ہے. وہ ایسا جانتے والا ہے. ایسا جانتے والا ہے کہ تمہم کیا جانتے. وہ ایسا جانتے. اور ایتنا نکت ہے. ایتنا نکت ہے. ایتنا نکت ہے. تمہم کیا نکت ہے. دوسرے گے. پتی پتنی کیا نکت رہسکتے ہیں. اسے بھی وہ پر میشورہ میں رہے جانتے. آپ کا ہاتھ آپ کے نکت نہیں ہے جتنا آپ کا پر آپ کے نکت ہے.

میں باگوان کی کا سمکاتر بولتان قپنی کا سمکاتر جت نے باگوان تھا مارے. نکت ہے اتنا ہمارہ ہاتھ مارے نکت نہیں. جت نے پر وہ مارے نکت ہے. اتنا یہ کمارے نکت نہیں. جت نے پر میشورہ مارے نکت ہے. اتنا یہ مارے نکت نہیں. اتنا کنت نکت ہے. اسے بھی اتنا پر میشورہ مارے نکت ہے. تو اتنا ہمارے ساتھ تو بھی اگبار گئے گئے بھی چاروں نے اب آگے سنسار نے

ہمیں دوس سے بڑے کرتی آئے ہم انات کی نائی بطبتے ہیں یہ جگت کے نات تو اتنا نکت ہے. پھر بھی دور لگر آئے بڑھایا لگر آئے. کیسی دری مارے آئے ایسی ہمارے دورگتی ہے آس تو مارے ساتھ ہمیں آستھ آستھ سے آستھ سے دچا کرتو اپنے ساتھ جو آو میں دوبو نے تم سوما جو ترکا بایا آ میں ابھی دیا کے انگر آر سے بچا کرتے رے

جان جو تکتنا بلے جل پربو دین نائی آل بھر دسم باری آرہ ناتمام سنگت باری بھر اپنے ترکار ہمارے ہمارے شبری کے سنگ قطر نے والے جنگ کے ردے میں پر گٹھوں نے والے لیلاشا باپو کے جتھ میں چلکھ نے والے سنگھ کے سکھا

اگھ بھکھوں کے پرے رکھ پھل جنی براپو مرا وعلورا پر بیشورا بیش بیشورا دی بیشورا سر بیشورا پرانے ایشورا تو میرے پرانوں کا ایشورا تیری ستا گئی میں نہ پرانوں کی کیا مجال ہے کہ اندر آئے اور باہر جائے پر آئے سوی جتنا چھے دو دائیں تو گاری کی کمپنگہ مالکہ

اس گاری کو دلم بے سپر تک نہیں لے جا ستا جیر آسا کی لئے لگی چاہیں ہوار نکل جاتے ہیں لیکن یہ ہے تو نوں نوں دواروں سے ہوار نکل دی رہی یہ پھر بھی جلتا رہتا ہے پوان گیسا سمالہ ہے پرارندگی بیدھی سے چندرمہ سوری ہے نک سترا بولے تو اٹومیٹکلی ہوتا ہے لیکن گان بنا اٹومیٹکلی کیسے ہوتا ہے روبت کرتا ہے لیکن روبت کو بنانے والا بھی گان سروب تمارہ پر مادمہ ساتنے تھا روطو کے انو سار بھل کیسے پیدا ہوتے اور روطو کے انو روب اور شدیا اور بھو جن کیسے بنایا ہم لوگوں کے لی اور اس کے لیلہ میں اولجتے اولجتے پار ہونے کے لی شاسترس سنت

اور ہمارے ردگی پرے نا کون دیتا ہے کتنا ایک کرتا ہے کتنا وہ ستبت دیتا ہے تو ہم لوگ بہت پائیں اس کی آتراکہ لیں لیکن یہ تو ہماری کیا تاکتے تن روگی من ملد مدی وکاروں میں پسی پھر بھی وہ کتنا پرکاشا ہے کتنا پرے رکھا ہے کتنا دے ہلوے اور کتنا ہمارا کھے آلکنی والا ہمارے دیتا ہے بہن پر بھت پورا یہ میرا لدے دیتے رہا ہونے بھر بھو اب پتا چلا لیکن دلسی داسی کہتے تائی بسے آئی بہت چورا اس میں بہت چور بس گئے کون کروض لوگوں اتنے دولار ہو گئے ابھی اور اترے روپے ہو گئے ابھی اور آگرہ بڑ رہے

پتاکل کا نہیں سامان سو سار کا ممردے بھا نپر بھتورا تائی بسی آئی بھو چورا میں ایک کلا امکت بطمار کو سنت نہیں مور پوکارا کام بکار میں گیرا پشچاتا پوکے کوئی سار نہیں پھر اس نے حقر 10-15 راپر چیسنگ میں حقر پھر گیرا پھر پھر سو چاکے اب سنگیم کریں گے پھر گیرے پھر گیرے کرتے کرتے آس سی سال ستر سال سال سال بیتگے تیری ملاکات نہیں تائی بسے بہت چورا میں ایک کلا امکت بطمار راستے جانے والا یا تری جیسے 5 موجک دکتوں سے گھر جائے ایسے پر بھو ہم گھر گئے

کو سنت نہیں مور پوکارا رگنائیک بے گی کرو سنبار آئے یہ پر بھو اب جلدی میری سنبال وہ ہی در ہوئی تاپارا مجھے در لگر آئے کیا در لگتا ہے کہ ناث میں تمارا بھاکتوں تمارا بھارا بھارا اور پھر ایسا میں ایک میرا جیوان پتیت ہو جائے تو اپیہ شو ہوئی تمارا تمارا اپیہ شو جائے گا میرا پتن ہو جائے گا جیسے معاک کے باپ کے گلے پڑلتا ہے بچا کبھی کبھی بھاگوان کے گلے بھی پڑ جا ہوگے تو بھی کوئی گا تانی تو قرام کہتے ہیں کہ پندرام خاب میرے کو کیا ہے لوگ بولیں گے سادو ہے اور مپت کا کارا ابھی تک پندرام تمہلے نے تمارا اپیہ شو ہوگا

اسلے بھی تمہلو تم جاؤ گے کہ انگروں نے منتر روی جوٹی ہاتھ میں دیتوں کو مجاؤ گے کبھی بھاگوان سے دل لگی کرو تو کبھی بھاگوان کو پوکارو تو کبھی بھاگوان کو کو جو تو کبھی بھاگوان تم کو کو جے ایسیک اٹکلیا کرو سو میں سبھی ہاتھ ملاو ایک پر بھاگا ہے تمہارا پر بھتوں میری ہونہ ہو کی نہیں بولو بھاگوانہ ایک دن دو دنے تو پہچھ دن پچھش میں دن بھاگوان نہ بھولا پر بھتوںہرے سے بھول لے لگے گے گے گے گے گے گے کبھی تم جور مارو بے گا توسکا ہے تمہارا تو کبھی تمہارے جو سے وہ آن کر لے کبھی تم ان کے دیور سے تم آن کر لولے کل ملاکہ تم پر بھوسے کر رو سو بے سو بے رو جسو بے سو بے سو بے سو بے اسفر سے ملنے کی یہ یاترا شروع کرتوں پھر دین بھار

ملنے کا مجا مل دارے گے جو بچھڑے ہے پیارے سے در بادر بٹاکتے پھر دے جو اس پیارے پر ماتما کے سوک سے بچھڑے بچھارے در بادر بٹاکتے پھر دے کیا کیا کرتے یہ جلام توسک دے دے ہے وائن توسک دے ہے لالی پیشتے کوالی توسک دے دے تو ہے دیس کو والا توسک دے ایک دوسرے کے بچھے بچھے بچھارے خب کھپ جاتے اور ایدس کی میمارے لیاتے سوک تو دور رہ دو کی کائی میں گر چاہتے قبھی رہ یہ جگ ہے لیکن بہت سے کی نے میت دل جندل بان دا ایک سے ویس وین نششششششت آپ راترکو سوٹھے سنہی بھی اسے اپنا

دل ل بان لے بیستر پر بیٹھ دیا دندہ جو اچھے کاری ہوئے تیری ست پرینان سیوار بھرے ہوئے تو میری کیونکہ بدلے میں تو جسکوں میں لے گا پھر پڑھا ہی ہو جہے گا پروھ ہری شرنم جسکوں ہنتے ο اللہ شرنم گوڑ شرنم پروھ شرنم جسکوں بھی مانتے ایسے وگوان کے شرن ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے سی دے لیک جو کہ سواز چل رہا ہے تو میں چلانا نہیں ہے کیس اس کی کلا ہے جو بھی سوگانتا سواز چلتا اور تقان نہیں ہوتے اور قاموں کے تقانوں جاتی کیوں کے کرتا ہے یہاں کرتا ہو کر نہیں سواز لے رہے ہیں اس کی ستتا سے انجانے میں سو ہو رہا ہے رکت کا گنم کیتنا ہو رہا ہے

سکرو میں ہجاں میں کی ہترا بھی کا میں جتنے اندر تماری آتا ہوتے رب تک رب دبہینیوں میں رب تچل رہا ہے سواز چل رہا ہے کبھی تقان میں سوس نہیں ہوتے رہتری کو مرن مدھیا سو جاتے ہیں تن سو جاتے ہو لیکن وہ نہیں سوتا اور تمہرے سوانے کا بھی ساکش یہ کچھ نہیں نے ایک ہاتھا اندروں نے منمی اور آننگ سے سو گئے تھا تقان میں تک گئی اتنہ آج راجوں جاغنگی جو اتنانگ جکے تھے آدی ستھ سریشٹی کی آدی میں وہ ستھ جسور پیشور تھا جگا دی ستھ جگوں سے ستھ تھا احبی ستھ ابھی ستھ ہے ہو سے بھی ستھ شریل پہلے نہیں تھا بعد میں نہیں رہے گا دو کھر سو کو پہلے نہیں تھا بعد میں نہیں رہے گا

پتھ پر تشتا پہلے نہیں تھی بعد میں نہیں رہے گا لیکن تمہر آپ بھی آپ ربو تمہرے ساتھ پہلے تھا ابھی ہے بعد میں رہے گا اس میں پریتی کر لو بس آپ کا منکل ہو جاہے گا بجتام پریتی پورھوکوں ہم مندر میں جاتے بگوان سے پریم نہیں ہوتا ہے ریت رواج نہیں باہا جیسے آبیس میں جاتے تو پریم پیسوں سے ہوتا ہے دیرامی کی دوگان پی جاتے تو پریم پیسوں سے ہوتا ہے اور وہ پیسے پریور کے کاماتے پریور سے پریم ہے پیسوں سے پریم ہے ایسے مندر میں جاتے تو میراہیے کر دے میرا ہو کر دے میرا ہو کر دے تو بگوان کو بھی آپ نے نشوار سریقے سوک سویدامے یو اس کرنا چاہتے اللہ کو گاڑ گا

تو پیر وہی چیجے تھوڑی مل جاتی اور ہم بٹک جاتے پریم بیوسیک یا دوسیسی اور پریم کافی شہی بیوہی پریم کرنے کے یو گی بیوہی پریم کی بستو بیوہی پریم کافی شہی بیوہی پر اتنا کافی شہی اور پریم کافی شہی ایکو جاتا ہے پیر بگوانوں سے دور نہیں ریزانتے سامی رام سک داز نے سمبت دو حدار سے بھی کچھ پہلے آج سے ساتھ وشک سے بھی کچھ پہلے گورک کرنے ستسن کرتے کر دے بات گئی کہ بگوان کے لیے سچی دڑا فوہوں تو بگوان ایک سالتو کہ چھے میں نے میں چھے میں نے میں 3 میں نے میں ملسکتے 2 میں نے میں بھی ملسکتے اور ایک دیورت ترطا رہت ہو

اس وقت سے آئے کچھ نہیں کچھ نہیں جائے ایشور کا درشن کر کے ہی اٹھوں گا تو جو بھی سکنٹے میں ایشور ملنے جائے اگر بچہ پڑا طرح ما نہیں آتی تو ما کو مر جانا چاہی ہے سیٹ باکتت ترط پھر بگوان نہیں آتی تو بگوان کو مر جانا چاہتے کو ایسے سنت لوگ میں کتنی ہوجت ہے ایشور کے ساتھ سیوارا ہم نام کے ایک باکت نے گاٹ مان لی بگوان کی باکتی کرتا تھوڑی بوت ترفتی بولے ترف کی کمی کی گاہنہ میں بٹک رہا وہ گیاں اپنے گاہن میں بکاہ دیا کہ کوئی مجھے بولانہ بات کر کم رہا بندگر کے بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا وہ گاہ رہے پر وہ آپ ملنہیں آپ کو آپ کے سیوار میں نہیں رہے سکتا تو دپا جو بھی اس کے پاس بشاب دکھ دکھ گاہنہیں

کرتے کرتے چاہ بھی سکنٹے بیٹھ گئے باکھ ہن نہیں ملیں جو بھی اس کے پاس بھی سکنٹے سے کچھ سمیں تھوڑا اور بھی رہا ہوگا لیکن ایشور کے درشن نہیں ہوئے سچی بات گیاں اپنے کار روہر میں لکے تو وہی رہا سک داس مارہ جن کے گار بکشا کرنے گے بوڑ جن لے گے تو انہوں نے اپنے دل کا حال بتا ہے کہ مارہ جن تو وہی سی تھے ایشور کے لئے تو بہتا سمک بار ہے لیکن ایشور بھی تک میں لینے اور آپ کا ستنگ سنگ سنگ سنگ کرنے بایٹ گئے تو انہوں وہی مارہ آئے انہوں نے کہا تو کہ آپ تدفی اور کچھ نہیں ہوا بلے تارپ ہوئی اور کوب تارپ ہوئی تو سگندی سگندی کم رہے میں آگی

بلی آلوں کی دیپے تو وہی دیبے سوگندی آئی تو ساکار بگوان کو تم جان مانتے ہوگی تو ساکار بگوان آنے والے تو پھیک لی نہیں آئے تمہرے مان میں شنکا رہی ہوگے کہ ایک کنا کھیں ایک دن میں کیا سیا جائے گئے بلہاں مارہ جی تو تھا باستی سی نے روک دیا سنشعی سب کو کھاتے ہے سنشعی سب کا پیر سنشعی جو پھاکی کرے اس کا نام پھکی نی سندے ہوا کر بگوط بگتی کرے بگوان سنتے ہماری پراتنہ سنتے ہم جب کرتے ہیں وہ بھگوانکیں دیان میں ہے اور ہم براکام کرتے ہیں تو بھی بگوانکیں دیان میں ہوتا اور دیر سبے اٹواصووں میں سے ایک وصوط جس کو بیشمیں پیدا

مولتے وصیشت جی ہے ہاستم میں کل ناتقتا تھا ہے وہ پیسے گنے بھیستان سے سنلے گا اٹواصو آیا اور ایک وصوط کی پتنی نے ایک مول نندی لی پر بحاس وصوط کی پتنی نے آگر کیا کی اپنی صندر نندی نہیں کام دھیں گا ہے لے چلو وہ لے چورای ہوئی وصدوگا پہل بگتنا پڑے گا یہ میں نہیں کل نہ چاہئے پتنی نے گا میں اپنے لیے نہیں کرتے اپنے سکھی کے لیا کو آگر کرتے ہیں اور کئے سے بھی گر کے پر باست وصوط کو ایسے گرگرہ کے منا لیا وہ سیشت کی گا ہے چورہ کراست وصوط میں سے جو پر باست وصوطہ لے گیا وہ سیشت کی ماراد نے نندی نہیں کام دھیں گا نہ دیکھ کریدر اُدھر جاہتے پڑتالکے کسی نے کچھ بطایا نہیں اور ایسے

دنگ سے لے گیا تھا مدائے تھے آسٹ وصوائے تھے ویچرن کر رہے تھے آشن گیشخوا دیکھ کر سران کر رہے تھے ویش نے دھیان لگیا اور پتہ چلا کہ وہ سو میں سے کسی نے گائچ رہے وہ سیشت میں شراب دیا کہ آشت وصو عشت وصو اپنے دے و پنسے کرو اور منوشششری میں آ برمھوے دا کہ وچن میتیا کہیسے ہو سکتا تبسس سمپنو سیشت میں عشت وصو گنجن متو ہوا گنگا کے گنگا کا آدی بہتکس اور رکھنے یہ دیکھنگ سنپنگ اور گنگا کے گھر آدی بہت وصو کر جنگا ہوا دے ہوں کی پراتنہ سے گرو کی پراتنہ سے سات وصو کو تمہاپی ملگے اور تمہر گئے آدی بہت وصو جنوں نے

پتنی کے آگرہ سے گائلی تھے اُنی کو بشمہ ہو کر دے و پتہ ہو کر جی نہ پڑا اور قشتوں کی جنجا وات پوری ہوتے ہوتے آج کے دن کی بہت دیکھ رہے دے جب آج کا دیوص اُتراہ سورے اُتراکی اور جلتا ہے اُس سمہ جو پران دیاکتا ہے کہ وہ سوری مندل سے اگنی لوگ سے ہوتے وے سوری مندل سے ہو کر برمگوں پر آگتوتا ہے اُن کا جب سمہ ہوئا دے آگیں مند کر اُس پر بمپرمت مات اس طوطی کا میلا گئے جس پرمت مات مات کو آدیت آنام آہم بیشن جو ٹیش آم را بھی

سو مان مارجی مروتی ماسمین نقشترانام آہم ششی میں آدیتیوں کے پوپ پروں میں بیشن اور پرکاشا کوستونے کی رون بس بالا سوریوں اور مہی مروتوں کا تج اور نقشتروں کا دھی پتیچندرمام میں ایک چیتنے انے گروپوں کر بس رہو اُس پر میشورکوں یاد کرتے ہوئی گیتے کہ بگوانہ آپ ایک گروپوں ہوتے ہوئے بھی بارا بارا روپ میں برگتوے اُس آدینہ رہیں کمیں پر نام کرتا سوریس وروپوں سوری آئی نمار رہو آئی نمار بانوے نمار کگائی نمار ارکائی نمار باس کرائی نمار وں سری سویترو سوری نار آئی نمار سوری میتے جروپ

سے چندرمام میں چانی رومسے باسی ہوئے ریشن کے ردے میں ساک شیروپ سیروپ سیروپ بکتوں کی باہناوں کو پوشنے والے پر بھگی میں شرن جا رہا جو سریشتی کے او تو پتیستی تیوار پر لیکہ آدار اتشتان ہے جو سریشتی کے آدی میں تھے بھی ہے بعد میں رہیں گے جو ہمن اور بھدی اور انڈروں کے ستدینے والے اور سب سے نارے اُس پر میں شرکی میں شرن جا رہا آپ بھی ایسی مرتیو لائے گا مرتیو تو ہو گی چکلے کا کیا ہوا مقانکہ کیا ہوا بینک بیلنس کا کیا ہوا اس پچڑے میں مطمریے گا نہیں تو بہت بہت گہتہ لے جا ہو گی مرتے سمیں اکلے مرے اور مرتے سمیں اس ایک سے ملتے مرے کے برگوں میں تیری شرن جس کی ستتا سے سواز چل رہے ہیں اور جس کی ستتا سے

بھی ماری دیکھ رہے ہیں میں اس پر ماتنا کی شرن بگوان کی شرن ہو کر نہیں ہے بگوان کی شرن ہو کر جی ہے بگوان کی شرن ہو کر آئے بگوان کی شرن ہو کر جائے ابھی سے عدد دال دوگے طوی مرتے سمیں اس کی سمرتے گے گے چترائے چل ہے پڑی جو چتر لوگ ہیں وہ اس بات پر حاصلیں گے لیکن بائی کو چل ہے میں دال دے تلسی داس بھول دے تریس بھڑھ دیوالا تریسان دیوالا نانگہ دے چترائے چل ہے پڑی پورو پڑو آجار تلسی ہری گے بہجان بھی نچارو ورنچان چھمڑے کے سریق اپنا قبتقمانے گا بایا میٹھ دیوالی وستوں کو میرا قبتقمانے گا لالا

حال پڑھ سے پڑھ سے پڑھ hug پڑھ beter پڑھ سے پڑھ سے پیکھ بہت inference சیوچی بھولتے آپ بھول نہ بڑے آدمی اپنہ بڑھ پنچھور دینہ تھوڑا دنیا ماتا آپ پیتا دنیا ماتا گوٹرم دنیا مکلوڑ بہا گوٹرم دنیا مکلوڑ بہا دنیا چاوہ صدادیوی دنیا چاوہ صدادیوی یہ ترسیات گروباکتتا سیوچی کہتے کہ پاروطیوں کی ماتا دنیا ہے

ان کے پیتا دنیا ہے ان کا کل اور گوٹر دنیا ہے ان کے کل گوٹر میں جنمن لینے والے دنیا ہے جن کے رد میں گروباکتی ہے گرووں کا جان ہے گرووں کا ستسنگ ہے ویلوک دنیا ہے اس پروطوی پر کے دیو ہے آپ سبی کو سیوچی کے درب سے آج کے پر بکے دن دنیا ہے نا را ہے نا کو مادویا ہے کو را مادو

کو شاما جی کو کو شاما جی کو کو شاما جی کو کو شاما جی کو پریطی پوروک بھارنا بہلے تو ہوتوں میں کنت میں اتورا دیسیں پریطی میں دوکتے گا ہے وراوہلوڑا ہے سچنانانان تو یوگیوں کا آدمہ تو بکتو کا بگوان اور تو میرے کرم کا پریراک ہے میروہاک ہے

اور پراکاشا کہبربو uyuج اریپریطی تری کومگتے اریمالدور دا کا سان تو ہیzeń Scriptures یو کہ ماروہا assing иль wr deshalb ترینگ منورتاکہ تان töیه دے سکتا ہے نا گارہw ولورا fil Waina wawel perouk

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →