Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 15, 2026

Jan 15,2026 Thursday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 171

About this episode

Jan 15,2026 Thursday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 171

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

408 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 15,2026 Thursday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 171

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 15,2026 Thursday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 171. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

Hume Shri Sadguru Parmaat Maninamaham Shri Okvasesh Tamahra Mein Nirvan Prakaran Sarge Eksohikattar Ramje ne Bhuksha hai Bhagwan Aapne hai, jo kewal jagrat ki utpakti Akaran, akarma, aur bodhmatra mein kahi hai, swaasamha hai Jai se aakash mein vrakshna nahi hoot sakti Vei se hi atma mein srishti nahi hoot sakti Kung ki atma nira kar aur nishkriye hai Wahna samvayak karan hai aur nanimittakaran hai

Jai se mritika ghat adi ka karan hooti hai Vei se atma srishti ka samvayak karan bhi nahi Kung ki vah advaid hai aur jai se kumhar ghat adi ka nimittakaran hooti hai Vei se hi atma srishti ka nimittakaran nahi Kung ki vah akriye hai aur akaran aur aur karmak mein srishti kai se hooti hai Vasishti ji bhole hiram chandra ji Tum dhani hoot Tum ki abh jagi hoot Atma mein srishti ka atyantabha hai Tum ki vah na nirvi kar aur nishkriye hai Wahna bhi tar hai nabahar Na upar hai naneche

Keval bodhmatra hai Usme na koe yaram bhai na parinam Wah keval bodhmatra hapne rup mein siddhi hai Jai se suria ki kiruna mein jal kalpit hai Vei se hi atma mein jagat mittha hai He mahabuddhi man Atma akaran hai Usme karye rup jagat khe se hooti hai Usme jagat nahi hooti panna hova Uske abhao se sabka abhao hai Nakuch ubjah hai Nakisi ka abhas hoodah hai Ubdesh aur uska artha aropid hai Aur kuch hai hi nahi Aropi chabdha bhi jgya suko jtane ki nimi taka hai Hai kuch nahi

Atma siddha advaid rup hai Ramji nipu chah hai bhagvan Jo atma mein srishti hai hi nahi To pindakar khe se bhasit hooti hai Onko kisne rachah hai Aur man bhuddhi indriyo ka bhan ke hootah hai Jaitan ko sniha Aur rakse kisne mohit kia hai Aur atma mein avran khe se hootah hai Yeh haap samjha khe khe hai Shrivasishti ji bolhe hai Ramchandra ji Nakoi pinda hai Nakisi ne inko banaya hai Nakoi bhuddha hai Nakisi ne inko mohit kia hai Aur na kisi ka avran kia hai Branti se avran bhasit hootah hai Jo atma ko avran hootah hai

To bhag kisi prakad nashta bhi hootah hai Parantu jab avran hi nahi to nashta kia hai se ho Hi Ramchandra ji Jis ko avran hootah hai Utska surup ek avastha ko diya kar Dhusri avastha ko gerhan kar tha hai Paratma to Sada ganswaru hai Ese anni avastha ko kabhinai prapta hootah Sada jong ka teo rahitha hai Usme mein bhuddhi jaadig bhi nai To bhah moh kaha aur avran kaha Sada ekras atma tatwa hai Gani ko aise bhasit hootah hai اور اگیانی کو نانا پرکار کا جگد بہسی تھو تھا ہے و ہاتھمہ گیان کال اور اگیان کال میں ایک رس ہے

پر اس میں دو درشٹیا ہوتی ہے گیان درشٹیا سے تو سب آتھمہ ہے اور اگیان سے نانا پرکار کا جگد بہسی تھو تھا ہے ہیرام چندر جی ہے جیسے ایک سموتر سے انے طرنگی اور بھلولے اٹھتے اور لین ہوتے ہے پر اُن کا اطپنہ ہونہ اور لین ہونہ جل میں ہے جل سے بھنہ کچھ نہیں ویسے ہی جتنے ویچار اور اٹھتے ہیں سو سب آتھمہ میں ہوتے ہے دوسری وستنے ہیں ویکار اور او ویکار سب برماتم تطوب ہے سموتر میں لہرے اور بھلولے پرنام سے ہوتے ہیں اتما سدہ جو کا تیو ہے نانا پرکار کے جو آکار بہسی تھو تھے ہیں ویبھی بہی ہے

جیسے سوبرنا میں نانا پرکار کے بوشن ہوتے ہیں سو سوبرنا ہی ہے دوسری وستنے ہیں پر بھانتی سے اس کی نانا پرکار کے سنگیا ہوتے ہیں جیسے کوئی پروش جاگرت بیٹھا ہو اور نند آنے سے سوپنس رشتی بہسی تھو تو چاہے وہت جاگرت کے اگگان سے سوپنس رشتی بہسی تھوئی ہو پر جب ندرا نبرطت ہوتی ہے تب جاگرت ہی باہسی تھو تھا ہے وہ جاگرت بھی پر مات مطتفق کی اگان سے باہسی تھو تھا ہے جب اس پت میں جاگوں کے تب جاگرت برم نبرطت ہو جاپے کام حیرام چندرجی یہ سنسار اپنے سفورن سے ہوا ہے جب فورنا درد ہوا

تب جو دکھپانے لگا جیسے بالق اپنی پرچھای میں ویتال کی قلپنا کر آپ ہی دکھپاتا ہے ویسے جو اپنے احم سے آپ ہی دکھپاتا ہے جب اتمو بود ہوتا ہے تب سنسار برم نبرطت ہو جاتا ہے حیرام جی یہ سنسار جو رس سے یکت لکتا ہے سبھاونا مات رہے جب یہی بھاونا پلٹھ کر اتما کی اورا بے تب جگت کا بھرم میں جائے گا دے ہیں دریادیک جو اتما کی اگان سوبجہ ہے اور ان میں آہنکار ہوا ہے وہ اتما بھامنا سے نبرطت ہو جائے گا جیسے ورشا کال میں میک گھنے ہوتے ہے

اور جب شرد کال آتا ہے تب ادرش ہو راتے ہیں ویسے ہی جب بود روپی شرد کال آتا ہے تب اناتما میں آتما ابھیمان روپی میک نشت ہو جاتا ہے اور پرم سوچھتا پرکٹ ہو دی ہے حرام چندرجی جتنا جگت پندروپ ہو کر بھا سیت ہوتا ہے جب آتما کا ساکشت کر ہو گا تب اُس میں پندہ بود دھی جاتی رہے گے اور سب جگت آہنکار شروب ہو جائے گا جیسے شرد کال میں میک گھنے بہلتا جاتی رہتے ہیں اور سب آکا شروب ہو جاتا ہے حرام چی ہے یا بھرانتی تب تک ہے جب تک جیو سروب سے سوشوبتی سا ہے

جب جاغے گا تب سب جگت آکا شسا شنگی ہو جائے گا جیسے سوپنہ سے جاغنے پر سوپنہ جگت آکا شروب ہو جاتا ہے حرام جی یا بیکار شروب اور ناناتفہ پرمات سے دیکھتے ہیں جب اتما بود ہوتا ہے تب سب جشروب اور بیکار میں چاہتے ہیں سب پرپنچ ایک ہو جانے سے دوید ہوا میں چاہتے ہیں جیسے پرجوالیت اقنی میں گرد اندھان یا مشتھان جو کچھ دالیے وہ ایک روب ہو جاتا ہے ویسے جب بود ہوتا ہے تب سب جگت ایک روب ہو جاتا ہے جیسے نانا پرکار کے بوشان اگنی میں دالیے

تو سب سورنا ہی ہو جاتا ہے اور بوشان کی سنگا نہیں رہتے ویسے ہیمان کو جب اتما بود میں دال دیا تب جگت سنگا نہیں رہتے کہوال پر مات مطتف ہو جاتا ہے حرام چندرچیں اندریعا اور جگت تب تک ہے جب تک جو سروب سے انجان سویا پڑا ہے جب جاگے کا تب سنسار کی ستتتہ میں جائے گئے اور اچھا بھی کوئی نہ رہے گئے جیسے کسی پروش کو سوپنا آتا ہے اور جب اُس سوپنا سے وہجاکتا ہے تب سوپنا کے اسمارن کی اچھا نہیں کرتا ہے کہ یہ ہم اچھ کو یادابے یا اسمیں ملے ہوئے سوکھ دکھ

یا منوشھ مجھے ملے کیوں کہ اس کو ستتتہ نہیں جان پڑھتے تو اچھا کیسے کریں ویسے جب تک جو سروب سے انجان سویا پڑا ہے تب تک سنسار کی پڑارتوں کو میتھا نہیں جانتا اُن کی اچھا کرتا ہے جب تم سروب جان میں جاگوں گے تب سب پڑارتا نرا سو جانے گئے اور جب جان سے جگت کو میتھا سوپنوہ جانوں گے تب اس کے چاہ بھینہ کروں گے حیرام چندرچے جیوان مکتکی سب جیشتاہی دیکھی جاتی ہے پرن تو وہ جگت کو ستتے نہیں مانتا کیوں کہ اس کو آتمانوبہ ہوا ہے جیسے سوڑیا کی قرنوں میں جل دیکھ پڑتا ہے

پر جس نے سوڑیا کی قرنوں کو جان لیا ہے اس کو جل نہیں پڑتی تھی ہوتا قرنے ہی دیکھتی ہے پر جس نے قرنے نہیں جانی اس کو جل کا بھر ہم ہوتا ہے درشتی دونوں کی طولیا ہے پرن تو جانمان کی نشچے میں جگت جل کے سمان میں ہی اور آگنی کو جگت جل سا درڑ جان پڑتا ہے حیرام چندرچی من روپی تیپاک پر جو لیت ہے اس میں جان روپی جل دالیے تو بھجھ رہے گا جب من کا نیروان ہوگا تو اس پت کو پر آپتا ہوں گے جا جگت اور آہنکار کا بھاو ہے وحنشنے ہیں نہ اشنے ہیں

نہ کےول ہے نہ آ کےول اس کا ادای استبھی نہیں ہے جو پروش ایسے پت کو پر آپتا ہوا ہے وقرد تقرد دهو کر راگت بیش سے رہید پرمشان تپت کو پر آپتا ہوتا ہے اس کا آہنکار میں جاتا ہے وحقیول نیروات جپت کو پر آپتا ہوتا ہے جہاں کوئی اتھا نہیں حیرام جی آتمامے جگت کے بادارت کوئی نہیں ہے من کے سنکلپ سے بہسی دوتے ہیں جیسے کھمھے میں چتیرا کلپنا کرتا ہے کہ اتنு پتلیا ہے اس کھمھے میں ہے سوے اس کے نشچے میں ہے کھمھے میں پتلیوں کا بھاو ہے ویسے ہی من کے نشچے میں جگتے

آتمامے کچھ نہیں بنا جیس پروش کا من سکش میں ہو گیا ہے اُس کو جگت سوپنیسا جان پڑھتا ہے جب اُس نے اسے سوپن جانا تو وہ اچھا اور دیاگ کس کا کرے حیرام جنرجی جگت کی تبتک پرتیتی ہے جب تک سروپ کا ساکشات کر نہیں جب اتمنو بھا ہو گا تو جگت رس یکتک کبھی نہ بھا سیت ہو گا جیسے دوب چھایا ایکھتی نہیں ہوتے ویسے ہی جان اور جگت ایکھتے نہیں ہوتے اتما جان ہونے پر جگت کا بھا ہو جاتا ہے جیسے پروپا کال ورتمان کال میں نہیں ہوتا ویسے ہی اتما میں جگت نہیں ہوتا

حیرام جنرجی یہ جگت بھا سیت ہوتا ہے اور بیچار کرنے سے اس کا بھا ہو جاتا ہے درشتا درشتا کی جو تریپوتی بھا سیت ہوتی ہے وہاں بھی میتا ہے جیسے نترا دوش سے سوپنمی ایتنو بھا سیت ہوتے ہیں اور جگت سے ان کا بھا ہو جاتا ہے ویسے ہی اگان سے یہ بھا سیت ہوتے ہیں اور جان سے اس تریپوتی کا بھا ہو جاتا ہے حیرام جی حیرام جی جیسے منوراج جسے من میں جگت ستیت ہوتا ہے ویسے ہی یہ پرورت ندیا دیش کال جگت بھی جانوں اسی اس جگت بھرم کو دیاک کر اپنے سوبھاں میں تم ستیت ہو جہو

یہ جگت بھرم سے او دے ہوا ہے بجار سے نشت ہو جا بھی گا اور تم کو پرمشان دی پر اپتا ہو گئے حیرام چندرچی جیس کا من اپشم کو پر اپتا ہوا ہے وہ پورش مونی ہے ونی روض پت کو پر اپتا ہوا ہے اور سنسار سمدر سے ترکر کرمو کے انت کو پوچ گیا ہے اس کو پاہر ندیا دیکھ سے یکتا سمپورنا جگت لین ہو جاتا ہے اگیان کے نشت ہونے سے ویددمان جگت بھی نشت ہو جاتا ہے کیوں کہ یانی شانتی سے تربت ہے وگیانوان نرابران ہو کر سیت ہوتا ہے رامجن پوچھا ہے بھکوان جس کرم سے بوض صوروب آتما

جگت روب ہو کر دکتا ہے وہ کرم بھیت کی نبضتی کی لئے پھر مجھ سے کہیے شریبہ سیشتہ جی وہ لے رام چندرچی جتنا جگت دیکھ پڑتا ہے اُس کا چت میں نشتے ہوتا ہے یہ جگت جانوان کو اور اگگانی کو بھی چت سے بہتے ہوتا ہے پرن تو اتنا بھیت ہے کہ اگگانی جگت کو ستمانتا ہے اور جانوان شاستر یکتی سے دیکھر پوروہ پار ارتھ کے پیچار سے برنتمات رجانتا ہے یہ جگت جس اویدیا سے ہے وہ اویدیا بھی کچھ وستو نہیں جیسے سوریہ کی کراہنوں میں جل بہسی توتا ہے سو کچھ ہے نہیں

ویسے ہی اویدیا کچھ وستو نہیں ہے جتنا ستاور جنگم جگت ہے سو کلپکے انت میں نشت ہو جاتا ہے جیسے سمدر سے ایک بوند نکالیے تو بہن نشت ہو جاتی ہے کیوں کہ بیبھا گروپ ہے ویسے ہی مائا اویدیا ست اصدت آدیک سب سمندو کا بہو ہو جاتا ہے کیوں کہ سب سب جگت میں ہے جب جگت لین ہواتب سب دکہ رہے ورواستوں میں نہ کچھ اوب جا ہے نہ لین ہواتا ہے ایک ہی جدا کاش ہے جو تم کہو کہ دے ہو پچھ تھی ہے تو تم دے ہو رہتبکہ سوپنے و جانوں جو تم کہو کہ جگت پر لئے میں لین ہواتا ہے

اس سے کچھ ہے تو ناش اسی کا ہواتا ہے جو اصدت ہے جو تم کہو کہ جگت اصدت ہے تو پھر کیوں پچھتا ہے تو اوب جی وستو بھی ست نہیں ہواتے جو تم کہو کہ مہا پر لئے میں چدا کاش ہی رہتا ہے اور وہی جگت روپ ہو کر دکتا ہے تو جگت کوڑ بھینے وستوں نہیں ہوا بوڑ مات رہی اس برکار ہو کر بہتے ہوتا ہے جو تم کہو کہ مہا پر لئے میں چدا کاش ہی رہتا ہے جیسے بھی جو رکشے میں کچھ بھیت نہیں بے سے ہی جس سے جگت بہسی توتا ہے اسی کا ہوا روپ ہے کچھ اوب جہ نہیں جب اوب جہ نہیں تو وکارور بھیت کیوں اسے بوڑ مات رہی اپنے آپ میں ستیت ہے اتمستتا

کاریا کارن سے رہی پرمشان طروب اپنے آپ میں ستیت ہے وہی جگت روپ ہو کر دکتی ہے دیش کال پدارتھ بھی سب مہا پر لئے روب ہے جب مہا پر لئے ہوتا ہے تو برمہ پر ینتہ سب پدارتھ نشتا ہو جاتے ہیں آکاش وائو اگنی جل پرتوی کا نام بھی نہیں رہتا ارث بھی نہیں رہتا تب کےول بوڑ مات رہ اور بوڑ سے رہی چش رہتا ہے جب پرمشان طروب ہے اس میں وانی اور مان کی گتی نہیں وہ کےول اچینت چین مات رستا ہے اسی کو تطفویتا انوبھو کہتے ہیں اور کوئی اسے نہیں جانستا ہے

حرام جندر جی جو پرش ابھیداروپی ندرہ سے جاگہ ہے وہ نرابہ سوتا ہے ارثہ چتھ سے چیتے کا سمندھ رتوٹ جاتا ہے اس کو پرم پرکاش روب اتماپت پر آبتو ہوتا ہے اس کی سوبھاو میں ستی ہوتی ہے اور پر سوبھاو پرکرتی کا آبھا ہو جاتا ہے حرام چندر جی پر سوبھاو سے بھینہ بھینہ جو کچھ جگد بہسی ہوتا تھا سو سب ایک روب ہو جاتا ہے جیسے سوپنہ میں سب پدارتا بھینہ بھینہ دکتے ہیں اور جاغے سے سب ایک روب ہو جاتا ہے اپنا روب ہو بہسی ہوتا ہے ویسے جب اتما کا انو بھا ہوتا ہے تو جگت اپنا روب ہی پرتیت ہوتا ہے

حرام چندر جی ایک روب تو بہسی ہوتا ہے جب ار کچھ نہیں بنا جیسے سوبرنا کے بوشن اگنی میں دالیے تو انیک بوشنوں کا ایک پند ہو جاتا ہے اور ایک ہی آکار دکتا ہے ویسے جب بہت کا انو بھا ہوتا ہے تو سب ایک روب ہو جاتا ہے حرام چندر جی بوشنوں کے ہوتے بھی سوبرنا ہی تھا اسی سے سب ایک روب ہو گیا ویسے ہی جب بہت کا انو بھا ہوتا ہے تو سب ایک روب ہی بہسی ہوتا ہے اسی جگت کے ہوتے بھی جگت آتمروب ہے جگت ہے نہیں اور ہی کی طرح بھینہ بھینہ جان پڑھتا ہے جیسے سوم جل میں طرغ نہیں

اور بھا سی تھوڑھتے ہیں تو بھی جل روب ہے آسا میک درشتے سے بھینہ بھینہ لکتے ہیں حرام چندر جانی کو جیوان مکتی اور بیدے مکتی دونوں طلی ہے جیسے بوشن کے ہوتے بھی سوبرنا ہے اور بوشن کے ابھاوم میں بھی سوبرنا ہے ویسے ہی جانوان کو دےھ کے ہوتے بھی برمہ ہے اور دےھ کے ابھاو ہوئے بھی برمہ ہے جو اگانی ہے اس کو نانا پرکار کا جگتفرتا ہے اگانی وہی ہے جس کو من کا سمند ہے حریو حریو

اون سحنا ووطو سحنا بنکتو سوبریم قرباوہیں تیجسوینا بضیت مستو ما بطوشا بہیں اون شانتے ہیں شانتے ہیں شانتے ہیں شریصت گردے ووگوانے کیا جیو

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →