Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 14, 2026

Jan 14,2026 Wednesday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 169

About this episode

Jan 14,2026 Wednesday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 169

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

431 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 14,2026 Wednesday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 169

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 14,2026 Wednesday : Misc : Shri YogVashistha MahaRamayan Sandhya Nirvan Prakaran Sarg 169. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

حوم شری ihrer Sat став Far сthaid شری signatures Nirwan Prk our Sarge is un Addir Shri Bannu Kなんだ میرے وچنوں کا نوبھا ہو, تمہے تب ہوگا, جب سروب کا گیاں ہوگاں اور تبھی یہ وچن ردے میں ستھان بابیں گے جیسے قتھا والے کی ردے میں قتھا کے ارتھ آتے ہیں ویسے ہی میری یہ وچن تمہرے من میں ستھان بابیں گے ہی رام چندرجی ہے جب تک من اپنا کام کرتا ہے تب تک جگت کا بھاو نہیں ہوتا ہے

جب من کا اپشام ہوتا ہے تب جگت کا بھاو ہو جاتا ہے جیسے منوش شجب سوپنوں کو سوپنوں جانتا ہے تو پھر سوپنوں کے پدارتوں کی اچھا نہیں کرتا پر جب تک ان کو ستھ جانتا ہے تب تک چھا کرتا ہے ہی رام چندرجی سب جیو واسنا سے دھکے ہوئے ہیں واسنا کی کشہی کا ہی نام جان ہے جان روپی بھوت جیو کو لگا ہے اسے اُنمت تا ہو کر اسے جگت پرتیت ہوتا ہے اور جگت کے پرتیت ہوتنے سے نانا پرکار کے واسنا درد ہوتی ہے اسے جیو دھک پاتے ہے جب یا چتطولت کر انترموک ہو

اور اتما میں درد بھاو نہ کرے اور اتما میں درد بھاو نہ کرے تب جان روپی منتر پر آبتا ہوتا ہے اور اگان روپی بھوت جاتا رہتا ہے ہی رام چندرجی انوبہ روپی قلب پرکشے میں جیسی بھاو نہ ہوتی ہے ویسا ہی بھان ہوتا ہے ہی راکھا ہو پر اتمیس چیو کا شریر انتباہک تھا اور اپنا سروب بھولا نہ تھا اسے اپنے کو آتماہی جانتا تھا اور اسے جگت اپنا سنکل پماتر بھا سی تھا ہوتا تھا جب اُس سنکل پ میں درد بھاو نہ ہوئے تب وہ شریر آدی بھوتی بھا سی تھونے لگا جب اُس میں درد بھاو نہ ہوئے تب دے اور انڈریا سب اپنے میں بھا سی تھونے لگے تب ان کے سکھ دوکھ کو جاننے لگا

جب جگت کے سکھ دوکھ کو بھا سی تھوے تب سب اپدای پر آبتا ہوئے پر باستہوں میں نہ کوئی سکھا ہے نہ دوکھ نہ جگتے ہیں کہیوال بھاو نہ مات رہے ہیں جیسے چدت کی بھاو نہ ہوتی ہے بے سے ہی آگے بھا سی تھوتا ہے حیرام چندرچی جب یہاں بھاو نہ اولت کر انترموک خاتما کیوں رہوتی ہے تب ایک ہی بوت کا بھان ہوتا ہے اور جب ایک بوت کا بھان ہوتا ہے تب سبتوائیت میں جاتا ہے حیرام چندرچی اتما میں انتواحق بھی نہیں ہے یا برمہ بھی بوت بوت ضروب ہے یا دی بوت سے بھین انتواحق

کچھ ہوتا تو بھا سی تھوتا ہے انتواحق بھی اسی سے ہے انتواحق شدھا چندماتر میں چیتنے مکھونے چتھ شدھی کے فورت سورت رہنے کا نام ہے جب اس کو پنچ تنماتر کا سمند ہوتا ہے تب یہی جڑ چیتن گرنتی ہے چتھ شدھی چیتن ہے اور پنچ تنماتر جڑ ہے ان کے ایک ہٹھا ہونے کا نام انتواحق شدھی رہے یا دی یہاں بھی آتما میں کچھ ہوا ہوتا تو یہ بچن نہیں ہوتا ہے اسے چندماتر ہے کچھ بنا نہیں کیا آتما دوائیت ہے حرام چندر جی ہے دوسرا کچھ بنا نہیں پر بھرم سے دوائیت بھا سی تھوتا ہے

ویسے یا جگت بھی بھرنتی سے بھا سی تھوتا ہے کچھ ہے نہیں حرام جب ہے نہیں تو کس کی اچھا کرتا ہے اتنا سوخ انڈریوں کے اشتبوخ سے نہیں ہوتا جتنے جتنے ان کے دیاگنے سے ہوتا ہے حرام چندر جی ہے ایک یگ گئے جس کے کرنے سے پروش پرمپت کو پر آبتا ہوتا ہے پر وہ یگ گئے تب ہوتا ہے جب ایک خمبہ گڑے اور اس کے نچے بلیدان کرے جب یگ گئے کر چکے تب سروت دیا کر نہ ہوتا ہے تبھی فل کے پر آبتی ہوتے ہے اس کرم کے کیے بھی نہ یگ گئے سے فل نہیں ہوتا یا خمبہ کیا ہے

بلی کیا ہے یگ گئے کیا ہے کیا ہے دیاگ کیا ہے اور فل کیا ہے بہت سمسلوں حرام چندر جی دیان روپی تو خمبہ گڑے جس میں آتماپت کا سدا بہت ہو اس کے آگیت رشنا کی بلیدے اور گیان روپی یگ گئے ارتات آتما کے جنیتے شدت بوڑ روب ادویت نروی کلپ دے ہیں انڈریع پران آدیک سے رہیت اتیادیک بیشیشان وید شاستر میں کہے ہے ان کے آنوصار آتما کو جاننے کا نام گیان ہے یہی یگ گئے دیان روپی خمبہ درشنا روپی بلی اور من روپی درشکو جیت کر

یہ یگ گئے پورل ہوتا ہے جب یہی یگ گئے سماپت ہوتا ہے تب اُس کے پیچھے دکشنہ بھی چاہیے جس سے یگ گئے سفل ہوں سروس و دینا ہی دکشنہ ہے اور آہنکار کا دیا کرنا ہی سروس و دیا گئے جب سروس و دیا گئے تب یہی یگ گئے سفل ہوتا ہے اس کا نام بشفجت یگ گئے جب اس پرکار یگ گئے ہوتا ہے تب اس کا فلوی ہوتا ہے فلوی ہے کہ چاہے انگاروں کی ورشاہوں پر لے کال کا پوانچلے اور پرتویادک تطوہ نشت ہو ایسک شوبھوں میں بھی منچلائمان نہیں ہوتا

یہ فلپ راکت ہوتا ہے کہ جیو کبھی سروب سے نہیں گئیرتا یہ شتر ناش وجرد حان ہے حیرام چندرجی آہنکار کا دیا کرنا سب سے سرشتہ دیا گئے جو کاریہ آہم کے تیاؤک سے ہوتا ہے وہاں اور کسی اپائے سے نہیں ہوتا ہے تب دان یگ گئے شم دم اب دیش سے بڑھ کر سادھان آہنٹا کا دیا کرنا ہے اور سب سادھان اس کے باہر ہے حیرام چندرجی جب تم آہنٹا کا دیا کروں گے تب تم کبھیتر باہر برمہ ستتاہی دیکھے گئے اور سمپول نتوائیت برمہ جا گئے حیرام چندرجی

مان کے سب ارثروپی ترنو کو یان روپی اگنی لکا گئے اور ویراغگ روپی وائو سے جگا گئے جب ان ترنو کو بھسمکر دالوگے تب تم پرمشانتی کو پر اپتا ہوگے مان کے جلنے سے پرم سمپدا پر اپتا ہوتی ہے اسے بھینا سب اپدا ہے مان کا اپشم کرنے میں ہی قلیان ہے یہ جو بھیتر باہر نانا پرکار کے پدارتھ دکتے ہیں ویمان کے موح سے اطفنہ ہوئے ہیں جب انو پشم کو پر اپتا ہوتا ہے تب مانو شا پشو پکشی دیوطا پرتوی آدیکنانا پرکار کے پرانی سب اقاشروب ہو جاتے ہیں حیرام چندرجی

یہ سب برمہ ہے گانی کو ایک ستب حاصیت ہوتی ہے کیوں کے دوسرا کچھ بنا نہیں برم سے جگت واصیت ہوتا ہے اُس میں جب نانا پرکار کی واصنا ہوتی ہے تب اپنی اپنی واصنا کی انو سار جو جگت کو دیکھتے ہیں اسے تم جاغوں اور واصنا کے پنجلے کو طور کر آتما پت کو پر اپت کروں حیرام چندرجی اقیان سے جو آتما پت کو بھل کر سوے اور واصنا کے پنجلے میں پڑے ہیں اُن اقیانیوں کی طرح تم نہ ہونا اقیان سے جیو کا ناش ہوتا ہے جو کچھ جگت دیکھتے ہو بھا برمتر ہے جیسے باسوروں میں جیسے باسوری میں پوان کا شبد ہوتا ہے

ویسے ہی پران بایوس سے بولتے دیکھتے ہیں ایسا جانوں جیسے برمتر ہے شریبا سیشت ہے جیسے بولے حیرام چندرجی سمپورنا جکت میں سبت پرکار کے سرشتی ہے اور ساتھ ہی بھانتیں کے جیو ہے اُن کو بھینہ بھینہ سنو ایک سوپن جاگرت کے ہے دوسری سنکل پ جاگرت کے ہے دوسری سنکل پ جاگرت کے ہے تیسرے کےول جاگرت کے ہے چوتھے پھر جاگرت کے ہے پنچم درڑ جاگرت کے ہے چھٹھے جاگرت سوپنے کے ہے اور سبتم کشن جاگرت کے ہے رامج نے پوچھا ہے بھکون آپ نے جو یا ساتھ پرکار کے سرشتی کہی

سو سمجھانے کے لئے مجھ سے خلاسا کر کے کہی ہے یہ ایسے ہے جیسے ندیو کے جل کا سمدر میں ابھید ہو اور ان کو پوچھنا بھی ایسے ہی ہے جیسے ایک جل سے فین بل بلے اور ترنگ بایو سے ہوتے ہیں اس لئے آپ بستار سے کہا ویسشتہ جی بلے حیرام چندر جی پر اتھم سرشتی تو یہ ہے کہ کسی جیو کو کسی کلپ میں اپنی جاگرت میں سوشوبتی ہوئے اور اس میں جو سوپن ہوا تو اس کو ہمارے جاگرت کا جگت بہسیت ہوئے اور وہ اس کو شبد ارت سنیوتت ستجان کر

کرن کرنے لگہ تو اس کے سوپن میں ہم سوپن کے نر ہے پر ان تو اس کے نشچے میں نہیں کیوں کی وہ اپنی جاگرت بس تھا مانتا ہے پر ہمارا اور اس کا کلپ ایک ہو گیا ہے اسی سے وہ بھی جاگرت جانتا ہے اور پوروک کلپ میں بھی اس کا شریر چیتنے فورتا تھا پرنتو اب سویا پڑا ہے رامج نے پوچھا ہے بھگوان جب وہا پوروش اپنے کلپوں میں جاگے ہے تو یہ اس کو کیا باصیت ہوتا ہے اور یہ دی وہ جاگے نہیں اور وہاں کلپ کا پر لے ہو

تو اس کی کیا بس تھا ہو گیا ہے ایوم یہ دی یہا گان کی پر آبتی ہو تو اس شریر کی کیا آبستا ہو گیا سو کرام سے کہیا ہے فسیشت جب وہ لے حرام چندرشی ہے یہ دی وہاں پوروش اپنے کلپوں میں جاگے گا تو یہ جاگرت اس کو سپنے بھاسیت ہو گیا اور جو وہاں نہ جاگے گا اور اس کلپ کا پر لے ہو جاگے گا یہ جو فہیچ اشتا کرے گا یہ دی گان کی پر آبتی ہو تو اس شریر اور اس شریر کی آبستا ایک ہٹی ہو کر نروان ہو جاگے گیا اور جو گان پر آبت ہو تو اس شریر کو دیا کر اور جاگرت بھرم بھاسیت ہو گیا

اپنے کو پوروابت جانے چاہینہ جانے پر انتو بنا گان کے جگد برم نہیں میٹتا حیرام چندرچی یہا اور بہا دونوں ٹھولے ہے برمستا سب جگد سمان پرکاشت ہو دیا ہے جیسے گلر میں مچھر ہو دیا ہے ویسے ہی یہ جیو سے فرد ہے یہ جاگرت سرشتی کہی اور سوپنا میں جو جاگرت ہے اس کا نام سوپنا جاگرت ہے پرش بیٹھا ہو اور چتھکی برتی ٹھہر جائے پر ندرا نہیں آئی اس میں منو راجہ ہوا اور اس منو راجہ میں جگد ہو کر اسی میں درد باسنا ہو گئی

اور پوروکی باسنا پر ندرا نہیں یہ سد باسی تھوئی اور اس میں منو راجہ کا شرید باسی تھوئا وہی آدی بہوتکتا درد ہو گئی اس کا نام سنقل پجاگرت ہے آدی پرمات مطتبسے جو پرکٹ ہوئا اور آتما میں جو جگد باسی تھوئا اس کو سنقل پماتر جانا اس کا نام کہوال جاگرت ہے آدی پرمات مطتبسے شو بھوا اس میں سرشتی ہوئی اور اس کو ستجان کر گرہن کیا سروب کا پرمات ہوئا اور آگے جنمان تر کو پرابت ہوئا اس کا نام چیر جاگرت ہوئا جب اس میں درد گھنی بھوت باسنا ہوئی اور جو پاپ کرمکرنے لگا

اس کے کانن ستاور کیونی پائی تو اس کا نام گھن جاگرت سشوبت جاگرت ہے جب اس میں سنتو کی سنگرتی اور سچستر کے بیچار سے بوض پرابت ہوئا تبیح جاگرت سرشتی اس کو سوپن ہو جاتی ہے اور اس کا نام سوپن جاگرت ہے جب بودھ میں دردستی تھی ہوئے تب اس کو توریابت کہتے ہیں اس کا نام چیرن جاگرت ہے جب جو اس پت کو پرابت ہوئتا ہے تو پرمانند کی پرابت ہوئتے ہیں حرام چندرجی یہ ساتھ پرکار کے جو اور سرشتی میں نے تم سے کہئے ان کو微 Char

کر کے دے کھو ب requirement اور shunne bhi bhi tarnar hikar shunne ka khe na bhi nar hikar Is ginti ko bhi bhi smaran ko roo Hariyo Hariyo Om sahnabhavatu sahnabhanatu Sahaviriam kravava hai Dejasvinavadhi tamastu Maavidvishabha hai Om shanti hai Shanti hai Shanti hai Shri Siddhkurudhi Vabhagwanakhi

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →