Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 12, 2026

Jan 12,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Jan 12,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

309 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 12,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 12,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

ऐर दठ़़़्कश भ्व़़व़़़। फावार पर पर दिश़़़ शेला एर यश़़ सर सयाभर श़ेश। यब एर बे ल़़ा िाश़ रेथल्प्ती तीव़ भा़ा हती अट्यो पर भा़ा़ा ह। Duryodhan & Karan, Ruhika Takiya, Pul Takiya, Boles Nahi, Veer Arjun Takiya Chahi, Arjun Kumlao, Arjun Kumla Vatsas and Bahan Maro. 3 Bahanus Yodhne Maang Karliyeh Sir Se Pazaru Hai, Ichi, Sar Saya Pa Padeh. Vibhya Bhaarat Ke Yudh Meh, Vijayabhili Pandavas, Indra Trash, Khrashta Ke Putra Hari.

bare wash me untak yon k dhambap e نت کی تھی پتنی رویت ہی اب ہم سلے جا رہے ہیں بہی بہی تتا نہیں جو علی ریتوں کو کہنے کو نہیں خریڈے گیگی گاڈی کوئی لے جائے تو بھولے گیگی نہیں یہ دیشتر ایسٹری دھرم راج دھرم اوبرت دھرم کیاگ دھرم اوپواس دھرم سارے دھرموں میں اگر اِس سمے کوئی اگ سب میں پر انگت بود شو تو ایک بیش مبیتاما ہے یو دیشتر تم اِن سے رہت دھرم سکنے گیگی لی چلنا چاہیے

جیسے یکشوں کے ساتھ کو بیر جاتا ہے ایسے پاچھ پانڈوں کے ساتھ چار بھائیوں کے ساتھ پانڈوں یو دیشتر اور بھا گوائم کروشنا بیش مبیتام حقے پاس گے دھوں میریسی پرہسر دوسرے بڑے بڑے رہجرسی برمرسی دھرسی اپنے ششوں سہید جا رہے تھے کہ اب اُتراین کی گھڑیا آگی یہ یو دھا ایک آوہن مدن ہو گیا ہے کل کو شریف چھوڑے گا جو لوگ جاتے ہیں دیش کال اور ویوہار کو جاننے والا بیش مب اپنے وچنوں سے ان کا سواجد کرتا ہے بھارت کا ویر سر سیا پڑا پڑا سری کرشتن کو کہتا ہے کہ کنیا تم تو میری نیتروں کے پلکوں میں بیٹھ یو دیشتر تم کچھ سل تو ہوں پتروں کیا کال کی گتی جاننے نہیں چاہتی ہے

را جا پانڈوں تم کو بچپن میں ہی چھوڑ کے چلے گئے تھے پنتہ مہرانی نے تم کو پالا پوشا تھے میں نے تم کو گوضنے کھلایا تھے اور مجھے ہی تمہرے سامنے ویرو دیگاکس میں بان لیکر یود کرنا پڑا تھے بھارہ بھارہ ورس ونواز تم نے ساہا تیر مہورش آگیا تو آج تم رہے جس کے پوتر درام راج یودیشتر ہوں اور جس کے رکشت گانڈیو دنیشترہری آرجن ہو اور بیشال کا ہے بلوان بیم ہو ایسی کنتہ مہرانی کو بھی اتنا دکھ دے رکھنا پڑے یہ کال کی گتی جانی نہیں جاتی جن کے سلحاکار ساکشات ساری صریق کرتنا ہو ان کو بھی سنسار دک دیتا ہے تو دوسروں کی کیا بات واستوں میں سنسار کو دکھا لے کہا ہے دن بھاگی تو وہ ہے کہ سے دکھا لے سنسار سے اپنہ ممان ہتا کر صریق کرشنا کے سروب میں لگا دے

وہی سنسار سے پار ہوتا ہے جنمتے بھی دکھا یہ دیتے بھی دکھا ہر مارتے بھی یہ دیشتر تم جو سوان پوچھتے ہیں میں جو آپ تو دنگا لیکن میرا سوال کرشن تمارے سے ہے کہ میں نے ایسا کوئی کرور کرم نہیں کیا جو مجبانوں کی سیا پر سونا پڑے باوان دن کے لئے اور میں مانتاوں کی کرم کا فالحیجیو کو بھوگنا پڑتا ہے جو گاریہ چوراتے ہیں چینے کارتے ہیں وہ ابھی والے گل چھکے اڑا ہے لیکن ان کو کتنا کتنا ہم موسیبات ہیں سہنی پڑے گی یہ تو پلیس دیbrandment بھی نہیں باتاше سکتے ہیں پلیس دیbrandment تو باتا שکتا کہ بей دنسو ساتھ لوگے گا ،ீ مutsی باتا سکتے ہیں چھے میں نے کی بارا میں کی سادہ ہوگی لیکن یہ ہے کرور کرم بعد میں براکشکی اینی میں کیتنی بار دھکلیں گے کتکی اینی میں کیتنی بار دھکلیں گے جو بہڑے گذیکی اینی میں کیتنی بار دھکلیں گے Inkig 18106

15 ฏ Saag اور میں نے سوچھا کے اگلے جنم میں کیا ہوگا, تو میں نے ریوست دہن کیا, اگلے تگلے تگلے اگلے کرتے کرتے میں نے بہتر جنم دیکھلے یہاں پڑے, بہتر جنم میں میں نے ایسا کوئی گھور کرم نہیں کیا, جس کا فل مجھ ایتنا دکھ روبنا پڑے, کرشنا مُسکرا ہے وہ لے, پیٹا مہا, ایک جنم اور تھوڑے پیچھے چاہلے جاتے, آج سے ٹھیک سے توڑے میں جنم میں تم نے آکڑے کے پتے پر جو ہرے بنکھ والا چھوٹھہ تیڑہ ہوتا ہے اُس کو پکھر کے باول کے شول بھوں کے تھے اور اُس کے موم کے ہی سے اُس کے لہن, صرف کے ہی سے ٹھین باول کے شول بھوں کے تھے وہ ارجن کے دوارہ ٹھین بان آپ کو ملے یہ جنم جنمانتر کا کرم کرنا جیو کے ہاتھ کی بات ہے فل دینہ انتریا میں ایس شور کے ہاتھ کی بات ہے اوش شمی و بھوتری تم

کرم شبہ شبہ اوش شبہا نام اوش شمی و بھاوینام بھاو پر تیکاروں بھوے تیاری دکھے نلپیر نلرامہ یدیشٹرہ راجنل کو بھگوان رام کو اور یدیشٹر کو بھی اس کرم کے جگتہ نے اپنا چمتھا کر دکھیا تو دوسھ نے آدمی کی بات کیا rama avtaar me baali ko chukkar mara tha kyun ko sko vardhan tha saamne koi marne hai to adhi shakti usi ki tomhare paa saa ajayek to rama ko majburhan chukke marna pada baali neka tum ramaji se rama ko kare saa kya voli kya kare vevasta sa baali ohe baali dhusre janam me bhaqwan krushna ko apne baan se sodhama bhajra hai agle janam ka baali krushna avtaar me sikari hokar sriram sri krushna ke perotale tir pektaa

sili karm karne mein saadhan dhe naa chaayek aur phal bhukte samayek santoz karke haaste kheelte dhukke aur karm ke phal ko vidadhe naa chaayek ek to dhukka karm phal aar hai dhusre abjaadad dhukki hok to achanayek po samaysocho ke chalo prarad katra hai vitra hai ishwar ke naam ka asra lo tha ki uska prabhav ka mohoja hai chot ka mohoja hai aesane ki ishwar ke naam ka chapkaru aur karm ka phal chhumantar hoja hai aesane hoja hai hain fir bi chhumantar hoja hai karm ke phal tintrakar kya hoodhe manda tiwara tar tiwara mano moje tori khousi hoikhe mehne dhomaya nojliya jaara saam nimak lagadia atwasa abun kisja baas no problem atwasa abun kisja baas job hain e he mand bhaarad moje phora hoa hain todemana aur jaar aha esas mein HAGA DROrão saga doktara ha saikog lina hop thre�a

Ti koya manu tarti birha karnha hai aesak oif ha遗hworav If aom hain gahanha kenaradi aesaks порo Aesak oybe mai ho w leverage Erha pushaart doukta hoping hain dum yo kapur shark hoho tim huo hubi��bb h adviser dhokomics daddy dum the hu been chale g airag mirha pushaarat doukta Sad Memory تو ترطیورا پراربد تو بھگنا پڑھتا ہے تیورا پراربد دوسرے کیساہ ہوں سے ہٹائے جا سکتا ہے مند پراربد اپنے بھاجن اور پر شاہد سے بڑھا جا سکتا ہے اپ دیش دیتے دیتے بھیش مپیٹامہ ہوں ایک آئے گھچپھ ہو گئے اور صریق روشنا کے طرف درشٹی دالتی رکھا کی گئیشوں اب سمائے ہو گیا ہے میں اس فانی دنیا سے اس فانی شریر کو چھورنے کی ناریوں میں آ گیا ہے کہشاہ آج تک تو تم نے اپنے بھگنوں کو پر تکشا کر آئے آج یہ بھگت تو تمہیں پر تکشا کرنا چاہتا ہے

جب تک میں محا پر آن نہ کروں یہ سواز محا سواز میں نہ ملا دوں تک تک کہشاہ تم یہ ہی کھڑے را ہو گئے او دا سو کر نہیں ایسی مند مند مسکان اور پیٹام بر پر اکتا رہے درشٹی میرے طرف رہے ہے کہشاہ میرا آپ کے چرنوں میں پر نام ہے ہے نند نندن جیشو کا نندن تم پرانی ماترا کا آتما ہو کر بیٹھے ہو جیسے آتاش سب گھڑوں میں ہے ایسے تم سب دلوں میں ہوں اور کبھی کبار ویشش للاگر کے اوطرن کرتے ہو دارتی پر تمہرے کئی اوطار کئی رو لیکن ہے پر مہوطار میں تمہرے اسی مدر اوطار کو پر نام کرتا ہے رادہ رہمان ہے گوپی رہمان بودہ سواز ہو سال کا برم چاری کرسنوں کو کہ رادہ رہمان

گوپی رہمان جو بہبولو کہتیں کہ کرسنوں کو سولہ دار ایک سوات ہوتے تھی وزکریڈ سیکسی ان مرکھوں کو یہ بات سمجھ میں آنی چایے اگر کرشن کانی ہوتے تو مرتے سمجھ برم چاری ان کے دھان کی اچھا نہیں کرتا اور ان کو پر نام نہیں کرتا یہ بات بھی کس سمجھ نہیں چایے سمجھ ہو گیا ہے کہ شاہوں میں اپنی کنیا تم کو ارکن کرتا آپ چوں کو گئے سواز ہو سال کے بودہ کی کنیا not سنوں کہ شاہوں میں اپنی ایک لو تیپوتری تم کو بھیا دیتان پانی گران کر جس کو میں نے طب سے ورط سے ستیوہ چن سے شد کر رکھا ہے ہے شد سرو تو میرے انترات ما بھی ہو اور یہ ہا کہ شاہوں ساکہ رب میں بھی ہو میری ہو کنیا سو کنیا ہے میں تمہیں ارپن کرتا

ہے کہ شاہوں مجھے وہ دن بھی آدہتے کہ مجھ آتتائے کو وچن ستی کرنے کے لئے آپ نے حتیار نہ اٹھانے کا وچن اپنا طورہ اور آپ نے پے رت کا پیامت ہے اُس کے پہلے میں نے تمہرے پیارے ارجن کو بانوں سے بیدنا چاہ اور گوسے گوسے میں تمہرے پر بھی بان برسے تمہری کومل کومل میں بان کے گاہوں نہ کہ کہ شاہوں پھر بھی تمہرے چت میں شو بھنے گاہوں گوروں کی تاکوں سے رنگوں میں پڑی ہوئی دھول سے تمہرے گیگروں لے بہل مٹمہ لے کو گاہتے اور یہ دکے شرم سے تمہرے شرور پسی میں کی بوندے چہرے پر آئے اور شام کا سورج ان میں موتیو کا سرانگل آ رہا تھا ہی رہا تھا رہا تھا رہا تھا ہی گوپی رہا تھا ہی گئی شاہوں ہی صچدانا میں اپنی

بھدی روپی کرنیا تم کو ارپن کرتا ہوں دا کہ اس بھدھی میں پھر دوسرا جنم لینے کی واستنانا بچے یہ بھدھی میں تمہے ارپن کرتا ہوں اور نررے اصنق نہ رہا ہے میں نے سما تھا بھیش میں نے سدا کے لئے آق بنگے بھا گوت یہ بھی سکھا تھا کہ مرنا کہی سے چاہئے بھدھی اس لوگ گуارپن کر اس کا کیا ہوگہ پتنی کا کیا ہوگечا بھتھتھا کہاوگہ بھیتھتھا کہا ہوگہ مدھ epidien کوập کچھ و evitar کی היی رہا تھا رہا تھا ہُن دویش بھدھی سےcribing ہُنх................ اس پر مہتمہ میں نار پل کر« اور تم پہر م realidade میں دذن geo ہوں پر پندہ ہوگ helpless پندہ ہوگれて ہوں ان்திம் கரம்காண்டுக்கியா சிரிக்கரஷ்ணுக்கிச் சலா சே

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →