Jan 10,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
524 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 10,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
Raghadvesh Mitane ki Sparam Khunjhi hai Satsang Se Paramatma yaar ki Vishtanti ko Panaahi jeevan hai Sharidmanne ke baad bhi ki hoe karam Raghadvesh ouri jaanne chhoti
Narayana naarayanaar Jai bhai naamuradhe dharyo Jai bhai naamuradhe dharyo Bhai upaapakuna asha Bhai upaapakuna Jai se chinagi agaki Jai se chinagi Padi purane ghaasar Bhai khaaayi ghaasar To kya kharo ge? Bhai rin ghaaayi hoe Hari samajagaka chuvas tunahi Hari samajagaka chuvas tunahi Premapantha samapantha Hari mein panti samapantha Satguru samusajjaan nahi Satguru samusajjaan nahi Gita samane higrantha Gita samane higrantha To akarogelala
Hari Hari Hari Hari Hari Hari Satsang me kuch aisee baati aap samajlao To dukh aapke liye dukh na rahe Dukh aapke liye dukh na rahe Param bhai bao hame bhi param Bhuddhimaan param jhanvaan param sukhvaan param rasvaan Param brahm parmatma se milaane kitaakat rakta hai
O hai param bhai bao O su bhai bao ko paane kiliye Rajay maharajay raajpaat chodkar guru ke dwar datet Sirme khak dal ke tanpe bhavutra maakar aath me bhi kshapatra lekar dateteguru ke charnu Ujjain naam suna hai Ujjain Ujjain ke raja Bharatri bhi param bhai bao ko paane kiliye Gorakhnaat ke charnu mein gaitte Aar jab Gorakhnaat ke krapa hui to Bharatri nae anumhao kiaa Param bhai bao ka Aapir granth likhha bairaage shattak Ujjain naam suna anumhaat ke apandit hardayaal ne Granth me ka likhha Ijjain naam sukhha satt sanga kino
Ijain naam sukhha satt sanga kiaa Ijain naam sukhha satt sanga kino Ijain naam sukhha sallam manaa Babhi ka chowkachoo chukchinu Kuch kuch jana Ijain naam sukhha sallam manaakh юkapаго سوچھے ستصنگ ہمیں بتا تھا ہے, کیا بتا تھا ہے, کہ بھرای رہیت ہونے سے آدمی پرم بہو کو آسانی سے پالے تھا ہے, بھلاک آم کرنے سے آدمی بھلا نہیں ہو جاتا ہے اور بھراک آم کرنے سے آدمی بھرا نہیں ہو جاتا ہے, لیکن بھرای رہیت ہونے سے آدمی بھلا ہو جاتا ہے
بھرای رہیت سو کر آپ نے کوئی بھی کام کیا تو آپ کے دوارہ بھلاک آم ہو جائے گا تو اسی لیے بھلے کرم کرو اچھی باتے لیکن بھلے میں بھلا جو پرمتما ہے اس کو اپنا مان کر جب تم بھلے کرم کرتے ہو اس کرموں میں بھگوتی ستتاکہ سہیو گو جاتا ہے اور بھرے کرم کرتے ہو تو آسوری ستتاکہ سہیو گو جاتا ہے شریر مرنے کے بعد بھی یہ ستتائر ہے پر آنوں میں کہتا ہاتیے کے بھگوان نہ رہے مدوکہٹاؤ سے جو جتے رہے, جو جتے رہے, پاچہ جار و رسبيت گئے یہ ست سمجانے کے لئے کہانی ہے مدوکہٹاؤ مرینے بھگوان نہ رہےن کے کان کے میل سے تو اتپن ہوئے اور پھر ان کا یہ آچرندے کر نہ رہےن بھڑے ان سے پاچھ جار و رسطاکوں مرینے
آکھر ایک دن مدوکہٹاؤ نہ رہےن پر پر سن ہو گئے کہ ہم دو اور آپ اکلے اور آپ نہ دینیم نہ پلائیں ہم وردان مگلو تو نہ رہےنے کا بیٹھے وردان دیتے تو یہی دو کہ تم میرے آت سے کیسے مر ہو گئے میرے آت سے مر پولے نہ رہے مدو مانا پرشنسا باہوائی کی لالچ بھلا کہلانے کا بھا اور کئیٹاؤ مانا دوش اس کو میں ٹھیک کروں ابہدلے لینے کی بھاہنا ہم ہے راگر دوش نہ رہےن شرید تو مر جاتا ہے لیکن راگر دوش دوسری جنہ میں بھی جہاں اس کا بھڑلہ لینے کو بھڑلہ دینے کو رگٹ ہوتا ہے راگر دوش شرید مرنے سے بھی نہیں مرتا ہے تو پاچھہ جارو ورش کا یود دکھایا راگ دوش مرتا ہے ستسنگ سے جس پوستوں بیگتی پر اشتیتی کے پرتی راگ ہو
اس کا بہوجن ہیتا ہے اوپیو کرو اور جہاں دوشو وہاں پریم تو راگ ٹیاغ سے مٹے گا اور دوش پریم سے مٹے گا مدو کہتا شان تو جائیں گے تو راگ دوش مٹانے کی کنجی نہ ستا میں ہے نہ روپیوں میں ہے نہ اور کیسی بائی بہوں میں ہے راگ دوش مٹانے کی سپرم کنجی ہے ستسنگ سے ستسنگ جیسا پرم بائی بہو ویشو میں کہی نہیں ہے جو ستسنگ دیتا ہے دلاتا ہے ستسنگ میں لی جاتا ہے لاتا ہے وہ منوش جاتی کا پرم ہیتشی تاتسورگ اپورگ سوکھ دھریے تولہ ایک آنگ تولی نپنچے سکل میں لئے جو سکھ اللہ ستسنگ ستسنگ کی ایک شنگ بھی اتنا لاب دیتی ہے کہ منوش بڑے بڑے سمپدائے ہونے کے بعد بھی
دکھنیورتی نہیں کر پاہتا ہے رانی علیزابیت کی موت آ رہی قبل پر بھوچن کریں بڑے لوگوں کے دو بڑی ردے میں کچھ ہوا دکھنے کا میدم تم پاچھ مینٹ سے جادہ نہیں جی سکتی اس نے کا تم ملین بھیلین لے لو میری ساری سمپدائے ہو ایک دھنٹہ مجھے سجاگ جیویت رکھ ہو کاما میں تو کئی لوگ جی رہے سجاگ نہیں جگ رکھپا ہے وانت میں مرگے ایسے پیرے نہیں ایک بڑا دھنی وقتی تھا آو سمیری کا کہ اس نے کہ کہ موت بھی آئے گی تو میں وہ لنگا بھی رکھوں مجھے فرصت نہیں اتنا داوہ مارتا تھا مرت گاڑی میں چلتی چلتی گاڑی میں مرگے علاش گاڑی سے نکلی شرید کی موت کا کوئی بھروصہ نہیں شریل کا
یہ تنکا چاہ کوم بہ ہے پوتتنہ لاغے بار پتکہ لاغے پوتی پڑے یہ کچھا کوم بہ ہے شرید تو شرید کی ملتیوں کبھی بھی کہیں بھی آسکتی ہے شرید کی موت آئے اس کے پہلے شرید کے ساتھ جو چار مسیبتنے انیواری آتی ہے ان مسیبتنوں کے صرف پر پیر رکھنے کی کلا ست سنگ سکھا سناتا ہے شرید کی ملتیوں آنے کے بردہ دڑھ دوستہ میں کچھ نے کچھ طقلیت ہیں بھماری كمجوری آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی آدی. شریدorth کشت دوسرا مرتی سمئی جو کچھ گڑبڑی کی ہے جیوان میں جیسے اور ان جب نے پھنے باپ کو جیل میں لداراشکہ سے جولم کییا شرمد فاکیر تو فاکیر
جو اُس سمہ اُس کو اندھاد دن دی میں پتانی چلہ لیکن مرتے سمہیں بھاری بھاری پاپ اُس کے ردے کو جلہنے لگی تو ہم نے جو گلٹی کی اچھائے بہو سے کی اچھائے ساسو سے کی اور اسی سے کی کہ درانی جی تھانی سے کی پتنی سے کی یا پتی سے کی جو مکھ مکھے گلٹی آہیں وہ آ کر ردے تپاتی ہے ایک تو مرتے کے سمہیں کوئی دوک پیدا دوسرا کیا ہوا دوسیت کرم تپاتا ہے تیسرہ جن کے پرتی ہمارہ لگاہ ہے ممتا ہے بینک افڑی ہے اتوى بیٹوں کے پرتی پتنی پتھر کے پرتی ان کے طرف ان کا کیا ہوگا اس پیدا میں ردے دروری تھا بیدینا ہوتا اور چاہو تھا مرنے کے بعد ہم کہاں چلے جائیں اُس کا پتانیں ایچار باتیں مرتے کے پہلے سلجھا لے نہیں چاہی بیماری ہوتی ہے تو شریڈ کو ہوتی لیکن نگرہ سمجھتا میں بیمار ہوں
دوکھ ہوتا ہے تو مان کو ہوتا نگرہ سبولتا میں دوکھی ہوں چنتا ہوتی تو چت کو ہوتی ہے ستسنگ رہیت نگرہ وقتی چنتا کے ساتھ جوڑ جاتا ہے تو دوکھ بیماری چنتا یہ سریڈ میں من میں چت میں ہوتی ہے آپ اس کو جاننے والے مانتو جو تی سروب اپنا مول پیچھا چنتا نہیں تبی آپ تھے چنتا ہے تبی آپ ہیں چنتا چلے جائیں گی تو آپ رہیں بیماری چلے جائیں گی تو آپ رہیں گے چھڑی چلے جائیں گے تبی بھی آپ رہیں گے تو آپ شاشوت سناتن چیتنے پر ماتما کے پرم امرت پوترے یہ جان پالنا چئی اور ستبوروں کی کرپاسے گیان پر اپنی آنوبوتی کی مور لگ جانی چاہی نہیں تو کچھ بھی کم آیا انت میں پڑا رہے گا مال خجانا چھوڑ تریاسو تو جانا ہے کر ساتھ سنگ ابھی سے پیارے نہیں تو پھر پستانا ہے
فیز رہیں گے اگنی پر کلہ پیلا کے دے بڑائی وہ بھی اگنی میں یہ جلانا ہے کر ساتھ سنگ ابھی سے پیارے نہیں تو پھر پستانا ہے ساتھ کی تمہاھ رہا آتما دے ہو ہے چھیتنی تمہاھ رہا آتما دے ہو ہے آنند تمہاھ رہا آتما دے ہو ہے اس آتما دے ہو کہ ویبھو کو آپ جان لو کیوں یہ آپ جڑشریر نہیں ہے Lalla بڑھڑھلیں والا مان نہیں ہے چنتن کر نے والا چیٹھ نہیں ہے یہ سب ہورا ہے آپ اس کو دیکھتے تو جو دکتا ہے وہ دیکھنے والے سے پر تھا یہ سوفہ مجھے دیکھ رہے ہیں یہ کپра مجھے دیکھ رہے ہیں یہ ہاتھ مجھے دیکھ رہے ہیں تو میں ہاتھ نہیں ہاتھ کو جان نے والا میں مان کو جان نے والا وہ دیکھ کو جان نے والا مان تو جو تی سروب اپنا مول پیچان اپنے مول سے بیچدہ ہوا جیو بیچد ہیں جو پیارے سے در بدر بھتکھنے پھرٹے ہیں
ہمارایا رہے ہمیں ہمان کو بے کراریکیا اُس پرماؤٹھ نہیںار کے جان کو پرماؤٹھ نہیںار کی پریطی کو پرماؤٹھ نہیںار کی بیچھرانتے کو پانا ہی جیوان ہے ورنا تو مرنے والے شریح کے ساجھ جو جو جو جو جو ج کے ختم ہو جاتلوں ایک گھٹید گھٹنا پورانوں کی سناتہوں سدنا بڑا پر سد سدو ہو گیا سدنا یوگ تھا ایترا کو نکلا تھا وہ زمانہ تھا کہ جہرات پر تی تو گاؤں کے چو رائپر بھول دیتے ایمے پھلانے نام کا یاتری ہوں پھلانی جگا سے آیا ہوں حلانے تیرتھ میں جارہا ہوں ہے کوئی ہری کا پیارہ تو ایک للنا آئی اسے یاتری کو کہا کہ آپ چلی ہمارے گا بھو جن بہدن ہوا اور وہ یاتری سو گئے ٹھیک مدھر آتری کو بار آئے گھڑھے اس لللنا نے سدنا کو جگایا
یہ پری آئیاتری تو نے تو میرا دل جیتلیا ہے اب میں تیری تو میرا مجھے اپنے گلے لگا دیا اور میری پاس ہی رہی جوارات موتی مانک بہوت ہے میں اتنی سندری اور یوتی ارتبی یوان تمارا ہمارا مل بھگوان نے کیا یہ بھڑھے کے ساتھوں میں بھسی ہوں رہے دیوی یہ کیا بھولتی دیوی بے بھی نہیں تم جلدی کروں بھولے مجھے در لگتا تیری باتوں سے ہے یہ پاپ کرم سے میں درتا ہوں میں سمج گئی میں سمج گئی اٹھائی تلوارا سوتے ہوئے پتی کو دونوں ہاتھ سے دھر گردن دھر سے آلا رنگی تلوار لے تردر میں چھوڑا کیا ہے
رہے دوشتا سوی ہوئے پتی کے گلاقات کیا ہے اور تم میرے کو پتی بنانا چاہتی دیکھ سدنا کام اگر دو آیا جاتا تو کروڑ کر روپ لے تا ہے تو میری چاپ بوری کر نہیں تو میں تیری حلت بوری کر دنگی رہے نالائک تیری حلت بسی بوری ہے میرے سے دور حلت مجھے پاپ میں مدگر آت بچھاہ بچھاہ مرگی مرگی بلوز فاردیا بیڈ قتی ہو گئی میں اب یہ گندگی کو لنبہ نہیں لی جانگہ مقدمہ و رادہ نے سنا دیا کے جو یاتری کے روپ میں کسی کی اجت لوتے ایسے پاتھ کی کو ہمہ ہم our jail میں نہیں رکھیں گے سدنا کے دو ہاتھ قتا کر اسے تنڈی مارکے روانا کر دو جگنات کے دو راستے اب آپ کو لگے گا کسائی کے یہاں کشلتا درمتما کی آگے دار پڑی تچے ویکی
بھائے چڑھے جوٹھے مو جو رانڈے ایسا دکھے گا لیکن ایشور کی سرشتی میں نیا ہے انیا ہے نہیں سدنا چلتا جا رہا ہے چلتا جا رہا ہے اب ہاتھ قتے ہیں جو کچھ پتھا پوتی دیالوں کو کو کرنی تھی راستے میں کی لیکن قتے آت سے آجد بھی ٹھیک نہیں ہو اور پہر کے انگو کنتے بھی نہیں نکال سکتے جاتے جاتے جگنا جی گی دوری پاست ساتھ گنتے گی رہا ہے رہا ہے اب کل میں چل پہنگا کی نہیں چل پہنگا ہے جگنات جو کچھ میری ساتھ انیا ہے ہوا جلوم ہوا آلیکن میں درشندوں کروں گا تم سمرت ہو اور تم اپھکار نے آلیکہ تم دیان بھی رکتے ہو اگر بھاگوان کا بہجن کرے اور بھاگوان مدد نہ کرے تو بھجن کیوں کریں ہوں رہا میں بل ہے تو یہ دیو تو چاہ تو دولی پیچ سکتا
تو چاہ تو مجھے جگنات پیدرشند تھی درشند کروا سکتا ہے یہ جگنات یہ جگنات یہ جگنات پرات نہ کرتے کرتے شان تو جاتے تو سنگ پلک میں بل آتا ہے سنشے رہیت پرات نہ ایک بار نہیں تو دو بار نوبار میں کوئی نے کوئی پرات نہ کا چھکھ کر لگی ہی جاتا ہے راجگو پالہ چاری جیسے بیکتین پر ساتھ کرا دی پرات نہ کے بلس تو بھگوت پرات نہ میں بل ہے راجہ روضر پراتہ سپنا آیا اور اس نے دولی بھیجی اور وہ دولی والے ایسٹیٹ گیشت گوشت کر کے بھگوان جگنات جی کے مندرتا کندر لے گئے نات کل پرات نہ کی اور آج او جاری کسی وکھوی نہیں آسکتا ایسے سدنا کو اندر تک پروش کر را دیا تو میرے آت کرت رہتے تو بھگوان گیا تھا اس لالنا نے میرے ساتت یا چار کروائے
تو بھگوان گیا لوگ بولتے در ہے ان در نہیں لیکن در ہے تو ان در لکتا مجھے سمجھ میں نہیں آتا ایسے کرتے کرتے جگا ناتجی کو دیکھتے دیکھتے دھیان مگنے ہو گیا مہراج ریل چل پڑی اگلے جنموں راگ اور دریش مدور پائٹاؤ کیا دیکھتا ہے ایک دوبلی پتلی گائے لہوارش گائے سمجھ کے کسائے اس کے پیچھے پڑا گائے جان بچا کر دوڑی کسائے نے آواج ماری ایتا پسوی جرا گائے کو پکڑنا ابھی کا سدنا اگلے جنم میں تپسوی کے روطنے تھا دونوں ہاتھوں سے گائے کے گلے میں شاکہ دالدی پکڑ لی وہی گائے یہاں للنا ہوئی ہے اسی نے دو ہاتھ قتوائے اور او کسائے نے گائے کا گلا قتا وہی گائے
للنا ہوگت اس کا گلا قتی شریر مرنے کے بعد بھی کی اوھیک کرم اور راگ گش ہماری جان نہیں چھٹے جان تو تب چھٹی ہے کہ ست سنگ ملے راگ وہی راگے میں بدل جائے دویش پریم میں بدل جائے جیو اتما پرمتما کا تھا ہے اور ہے مقاتما ہو جائے تا تسوارگ اپو بارگ سوکھ دریے تولا ایک آنگ تولی نپاؤچے ساکھ لاملے جو سوکھ اللہ ست سنگ بھلا کام کرنے سے آدمی بھلا نہیں ہوتا ہے اور بھرا کام کرتا ہے وگتی سچمت میں سدہ کے لئے بھرا نہیں ہوتا بیکن بھرای رہیت چت بنانا یہ ست سنگ کا کام ہے بھرای رہیت تمارا اتما ہے میں پاپی ہوں میں ایسی ہوں میں ایسی ہوں ایسا کر کے اپنے کو کوسومت اور میں بھلا ہوں
بھلا ہوں آنگار
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sand...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 12,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya