Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 10, 2026

Jan 10,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 10,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

1,011 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 10,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 10,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

3 Prakarki Satta Dekhi Jati, Adi Bahutik Jagat Ki Satta Astitwa, Serial Guadi, Jaha Zaya, Yata Yata Yata, Adi Bahutik Sadhano Kavya Pupyog Mahatapuno Huta hai. Adi Devik, Ise Vijada Prabhaushanli hai. Rekin Adi Bahutik, Adi Devik, kittna bhi Admi Uppar Utsh Jaya Viksit ho Jaya hai. Ar Dhyatnik Prasad, Japtak Sadguru ka Nai Milar, Nai Paya. Taptak, Hirna ka Shapu, Jaya Sa, Sone ka Hiranpur Banale Pablik ke liye. Arnajar dalti khet khali paira ho Jaya. Samundra Ratna ka Ratna de le Jaya hai. Arvat Pahar, Sona Chandi, Rupa Tamba, Ugalne lagjaya hai. Firmhi Hirna ka Shapu ko trupti nai hoi.

Jaya ji vatna mool trupta parmatma ka Sanatana, Abhibhaji ang hai. Jaya sa, Saurup huta hai, usko mule bina, uski daur puri nai hoi. Jaya sa Samundra se pani utta hai. To kain bhi pani ki yara ho. Niche ke tarafa jaya ka Samundra ke tarafa jaya ka. Soti nali vane ki, badi nali me jaya ki, badi nali, aur badi nali me, pirna di me nadi Samundra me. Arvabhash bhi bhutokar, varsha karke vyaapak huta jaya ka. Surya ke kirano me. Devi Taming, Sevi Taming, Sevi Adi jau huta hai. Ketna Prabhav shali huta hai. Ketna altra soundar dhu se, dhu se se ko se.

Jau tibhi Adiya kensar nai mitaya jaya sa. Abhi vigya ni bhol tain ke Surya ke kirano sa mitaya jaya. Meth ho, kai varsha se, kaira ho. Bacce ka nabi chaedan turant karne se, aur tain minar ke baad karne se, abhi preo kie kisi ne apna sunke kaisa bhi. Boli pis talishta ka hai. Hemoglobin unbacchon ka jada dhikha, ju tain minar ke baad nabi chaedan kia hai. Om kar ka aa aur aakhri ka maa uske bhi. Aashtada prakartika mano raj je, aap ko naiphasa hai ga. Kaam, krud, loob, aesab, chantra hai ga. Bhi vigya gegega, vaira gegegega, aashtasampati gegege. Aap ki jau purani gandhi adate hai, usme fhi salte hai. Usme nikalne ka baal tumare atma deum mein,

Parmeshwar tattra mein guru tattone hai. Keval lawki ka fahide uthane ki, itchak chodho. Lok mandirome, masjidome, chacho mein sabja ga jata hai. Lekin, lekin dha jata hai. Rhe na kahi, Rukavat mein hamrukha jata hai. Mulla nasurudin, bada bhatnaam biakti tha le, ke nekbhaar kuch fatiroke sanga se, aeshi kuch baat sikke ayak ki, usne akar prachar ka dya. Ke he dharam guru, aur mulla, mullavi jaante kuchne, aur the ka leke baate, hallatabagvaan ka. God ka. Aeshi prashasanwale bhi kuchne jaante hai. Dünya par bhoom, shasankarni ki vahasna sahib baghya dhaaray.

Dhes prashasankarnayo, uskman par indirio par, dhikaro par tokarnei saktay, uskubhru, visy ifrustman karnayo, uskman par indirio par, dikaro par tokarnei saktay, uskubhru, desраasankarni ki lagam mein, uskubhru, टाहीट जाराभिए विती prone, विती, वि incredible result यहा होय। यह आculo, और गाया भि replied लोपकीगो बनं विल जाभित एक रहीका शित ःडिका गारादो आो तो क each letter म विलिीों चाभि बिला भिल नो िौऄनाराबि increased پر شاسنوں نے راجہ کوار ربு, שکائد کردی کہ یہ ملانہ سرودین بگاوطی ہو گیا ہے. اورے مجھہ بہلوں کو کوستہ ہے اور پر شاسن کو کوستہ ہے. راجہ نے ملیا کہ تم نے بگاوط کا کام شروک کیا یہ شکائد آدي,

وہ لے بگاوط نہیں, جہاں پر میں سچیوات کہتا ہوں. لوگ سے بگاوط بگاوط بگل کر آپ کو بھکاتے ہیں. اور ایک شاہ ہو جائے. اگر میری بگاوط سابی تو تو مجھے دن ملنا چاہی ہے اور ان کی جو تیشے کہتے ہیں تو ان کو نالت ہونی چاہی ہے. راجہ کو بات جچ گئے. پر سم سبہ ہو گئے. اور جو سکائد کرتا ہے مکھے مکھے, وہی راج دربار میں رسید پروسید. ملا مولوی اولے ما, وہی درامگورو کوئی فادر جو بھی ہو. کرتے کر دی جائیں گے. اور پر شاسن کے طرف سے بھی جو بڑے بڑے منتری ادھی کاری ہے. ملا آیا, ملا نے کہی سب کرتے ہو گئے جہاپنا ایک اگ رہمت کری سب کو قاگہ جو پینسل دلوائے. میں ایک سوال پوستان اُس کا بو جواب دے دیں گے. تو میں این کی

چاران جو تی کو سجدہ کروں گا. اگر جواب نہ دے پائے تو آپی نالت کروں گے. راجہ کو یہ بات بھی جچ گئے. ملا نے ایک ایس سوال پوچھا سبی کی اور دیکھتے گئے, بہیو, اللہ کے بارے میں بھگوان کے بارے میں گاڑ کے بارے میں آپ لوگ باشن کرتے ویاکھا ہے دیتے ہو. آپ میں سے کسی نے اللہ کو دیکھا ہے گیا. گاڑ کو بھگوان کو وہ بات دور رہی کیونکہ میں نہیں نہیں دیکھا تو میں آپ کی پرکچھا نہیں لے سکتا. لیکن روٹی کو آپ نے دیکھا ہے. کھیا بھی ہے روٹی سے آپ بڑے بھی ہوئے. روٹی کیا چی جو تی ہے, میرا سوال کا جواب آپ اپنے اپنے کاغج میں لکھے. اور جہاں پناکے کرنوں میں رکھے. جہاں تو کھا سکا سکا سکا سکا سکا سپیچ میں سوڑھا کے پانچھ پچھا سوڑھ دوستوں کاغج پڑھے.

سبہ گوہ کے یہ بات دوستے. یکتی یکتا ہے ترکسنگتا ہے. رشاسنوالوں کو کاغج پین مل گئے, انگوں میں گئے. آپ پر ہادیا ہے, روٹی کیا ہوتی یہ سوال ہے, ملا نصرودین کا. اسی نے لکھا کے آتے کے لون دیکھ سے روٹی ہنتی ہے. اسی نے کا بود بجریگی روٹی ہوتی, کسی نے کچھ لکھا, کسی نے کچھ لکھا. جتنے کھوپنی آتی, اوتنائی روٹی کے لئے, آلہ گلگ لوگوں نے لکھتا ہے. جہاں پانا جس روٹی کو روٹی دیکھتے, کھاتے اس میں یہ ایک مطنائی ہے. تو اللہ کے بارے میں گوڑ کے بارے میں لوگوں کو دانڈی پیٹ کر جو راستہ دیکھیں گے, مقعیسہ دیکھیں گے. روٹی کے بارے میں جو روٹی کھاتے ہیں,

اس کے بارے میں اسہ برشاسنوالے ایک مطنائی ہے. اپنے مل پرشاسن کرنے کی کلا نہیں ہے. اپنے خیالوں پرشاسن کرنے کی کلا نہیں ہے. تو دوسروں پرشاسن کر کے ہیکی اور شیکی بہل ہاتیں کہ اور پچھ کرتے ہیں. رہاں دہ بھی چاروان تھا کہ ملا تم نے حاجتاک تو تماری بدنامی سنیٹری ہے. لیکن آج کسی بھی فکیر کے ستسنگ سے چاہے تم سیک کے لائے ہو, لیکن بات ملککل جگانے والی ہے. روٹی کے بارے میں بھی لوگ ایک مطنائی ہے. اسی نے لیکھا بھوکوں میں دائے روٹی ہوتے ہیں. تو پھل سے بھکوں میں تھی. مکککی روٹی ہوتی ہے. جوارکی روٹی ہوتی ہے. باجریگی روٹی ہوتی ہے. روٹی میں ایک مطنائی ہے. تو جب تک شریع کو میں مانے گے.

اور مان بود دی اور آنکار میں رہیں گے. تب آپ ایک مطنائی ہو سکتے. جو کہ ایک تتو کے طرف آپ کی نجریہ نہیں ہے. تتو سے واستویک میں سب ایک مطنائی ہو سکتے. آق دیکھتی ہے سن نہیں سکتی. ناق سنگتا ہے چک نہیں سکتا. جیب چکتی ہے. پتن دیکھ نہیں سکتی. ہاتھ اور توچا چھتی ہے. لیکن سن نہیں سکتی. بول نہیں سکتی. پاچوں انڈریوں کا علاقہ لگوی بہا گیا. لیکن پاچوں انڈریوں کو دیکھنے سنگنے سنگنے چکھنے کو مان جانتا ہے. مان چنچل ہے کہ شانتے اس کو مدی جانتی ہے. مدی ہماری ٹھیک ہے کہ بیٹھیک ہے اس کو جیو جانتا ہے.

اور یہ سب ٹھیک ہوتے تو جیو اہنکار کرتا ہے میں سدا چاہر ہوں اچھا ہوں. بیٹھیک ہوتے تو جیو اہنکار کرتا ہے میں گورا ہوں پاپی ہوں. لیکن یہ ہو ہو کہ مدی جاتا ہے اشتدہ پر کرتی میں. اس کے پار کون ہے اس بات کی خبر جن کو ہے ایسے گوروں کے چرنوں میں گئے بنا ساتھ ہیارورستپسیہ کرنے والا بھی روطا ہو گئے یہ نہ کہ شپور راوان اور بڑے بڑے سکندر دارا کرن خگانے کے مالک سارے کے سارے اس اشتدہ پر کرتی میں ہاپا دھاپی کرتے کرتے روطے ہوئے جنمتے ہیں فریات کرتے ہوئے جیتے اور نراشو کر مار جاتے دن باگی ویلوکہ ہیں جو فکیروں کا سنگ باتے ہیں اگر ہے شوک ملنے کا تو کر خزمت فکیروں کی یہ جو ہر نہیں ملتا عمیروں کے خزانے میں

اندر پد مل جائیں قویر کا بھندار مل جائیں ورون کا پور مل جائیں بارہ میں گھو پر اندر اور ورون کا برم آجی جیسا برم سرشتی بنانے کا پر بھاو بھی کنک کر جائیں شو جیسا سنگھار کرنے کا سامورتے بھی آ جائیں لیکن راما ان کہتا ہے گروبی نہ بھاوانی دیتا رہی نہ کوئی چاہی بیرنچی شنگ کرزام ہوئی بیرنچی مانا برم آجی شنگ کرجی مانا ٹرم باکہ شور پر لہے کرتا تو گروب کیا ہے گروبی نہ اندکار روبی نہ پر کاش ہمارے شد میں پر جو ناسمجی کا اندکار ہے اُس کو اپنے سنسکاروں کے دوارہ اُپ دیشوں کے دوارہ

ہتاتے ہتاتے ہمیں اپنے اصلی سوابہوں میں جگا دے دوکی من ہوتا ہے بیمار شریع ہوتا ہے چیمتا چیت میں ہوتی اس کو جاننے والے تم ان سے نرلے ہو اِس شرید کو پانچ بہوتیگ شریع رہس میں پر ٹری ہے جل ہے ٹیج ہے وائوے اکتا ہے بتاو ان پانچوں میں سے تم پون ہو شرید میں جلی آنشہ ہے مانوں گے اگنی آنشہ ہے مانوں گے وائو آنشہ ہے مانوں گے positionviously ایکاش آنشہ ہے مانوں گے ناستک ہونے پر بھی مانوں گے دوو ایتوح чуть چیت ہے пр께 تھا ہے ا allAllage مانوں گے ناستگ Winter چیت ہم مانوں گے اگنی آنشہیں اگنی آنشہ اگنی آنشہ مانوں گے اگنی آنش פٹ Frankfلیں

نانشitating پ закрыт سے ملنہ ہم ایک احنا پہاچھ ہے تو اح پہاچھتا تو آپ شریع کے نہیں ہو تو ہاستوں میں شریع آپ ہوئی نہیں ہے شریع آپ کا نہیں ہے لیکن اسی کا تھوڑا رکھا ہوا نام پر تھوڑا سجرر گروجی بول دیتا ہے تو اپا دا پھی ہو جاتی کوئی وا کر دیتا تو بہاچھے کل جاتی ایک اتنا آگیاں ہے اگر گلتی ہے تو خوشی مناؤں کہ داتا نے کرپا کر دی اور گلتی نہیں دی ہے تو داتا مجھبت کر رہے سری کرشنہ کہتے ہیں بھی آو دھو یہ اتماگیان کی ویدیا تھوڑیسی بھی تطپتا سے دہان سے سونے اتماگیان دے نے والے گروکے پرٹی بفادار رہے تو بڑی بڑی تپسیاں والے وانے پہنٹے جان

ستششہ حستے کھلتے پہنٹ سٹھا ہے ستھ لگا دیاں سیشہ تو بہت بن جاتے لیکن ستھ گی بوک ہو ستھیک پرمات میں آشتدہ پر کرتی بڑلتی ہے ستھ جوں کا تیو رہتا ہے ستھ آدی میں تھا سرسٹی کے آدی میں تھا ابھی جوں کا تیو بھار پور ہے اور پر لے ہونے کے بعد بھی رہتا ہے واسطوں میں ہم اسلی روپ میں دیکھا گیا تو ہم ستھ روپ ہے چیطن روپ ہے آنند روپ ہے اسی آنند کی جہلک خوشی آتی اسی چیطن کی جہلک سے بڑی میں گیانا آتا ہے اسی ستھ کے پر بھاو سے ہمارہ آستیت ہے شرید مر گیا جلیانش میں جل مل جاگہ مٹے گا نہیں شرید کو جلادیا پروفی تطتوں میں پروفی مل جاگی مٹے گا نہیں اگن تطتوں میں اگنی مل جاگی مٹے ہی نہیں آخوں سے او جل ہو جائے گا پورا شریب تو پرستان میں سو سمشان میں لیکن مٹے گا نہیں وہ امٹ ہمارہ تطم ہے

اور پھر شرید چھونے کے بعد بھی ہم رہتے ہیں اشتیدہ پر کرتی کو جلانے والے ہم رہتے ہیں چھائی سورگ میں رہے چھائی نرک میں رہے چھائی برملوک میں رہے تو ہمارہ ناست نہیں ہوتا آسنگوں آئم پورشا کے والا نیرگوں آسنگہ یہ آسنگہ اشتیدہ پر کرتی ہو ہو کے بضل جاتی لیکن ہم آسنگہ بچپن بضل گیا بچپن کے بود دی بیوکو بھی اچھائی بورائی بضل گیا اس کو جانے وال آسنگ ہے کہ نہیں لیکن اب میں ایسی ہوں اب میں ایسا ہوں تو ہوتا کسی میں ہے ارمانتا اپنے میں ہے اس کو بولتے آگ جانے نا آورتم جانم تینا موحنتی جنطوا آگ جان سے جن کا شدگہن دھاک گیا ہے صدیوں سے بے جنط کی نائم بھتاک رہے گی چاہے جتنی منوشت کی اُنچائی چاہی یہ اُتنی اُنچائی کو پچھو آگوہ

ارجن تھا سریز سورگ میں گیا اور عبسراؤ میں شرومانی ایسی اُروانشی اُن پر فیدا ہو گئی ارجن نے اپنی کمار توڑ کیریکن کی سمتی نہیں دی اُس نے شراب دینا چاہشتراب سے رو دھا رکیا لیکن اپنے لگوٹی کا بلد کھل سے پسلے نہیں ایسے ارجن کو بھی جب تک سری کرشنے کا تطتو گیا نہیں ملا تو ارجن تی ہی تیشی کرشنے ساتھ میں تھے ارجن نے کہا سینا کے بیچ میں میرا غطلے چلوڑلے چلے تھیر بھی ارجن کا دوکھ نہیں میتا جب سری کرشنے کا ستسنگ ارجن نے سمجھا ادھہت مکھا ہے آدی دیگی کیا ہے آدی بھوتک کیا ہے اُس کی جگیا ساتھ سری کرشنے نے جگا ہے ارجن اور پھر ارجن اس میں پر ویش کیا تب بولتا نشتو مو ہا

اب میرا مو ہنشتو ہا اُلتا جان نشتو ہا نشتو مو ہس سمجھتی لب دوہ تو پرسا دات میں آج چوتا ہے آپ کے پرسات سے تو یود کے میدان میں بھگوان ہی تیشی ہے ایسے جب دست اُن چایوں کو چھونے والا ارجن نے پھر بھی اس کو ستسنگ ملا اور ستسنگ کے نشار بھی چار کر کے اپنый پرتی براما کار کرنی پاکتی ہے چید انوں کو اُن گئاپاک براما میں ملا اور پتتا جیسے بل بل بلا ہے تو چای کتنم بھی بڑا بل بل بول upن جائے دو سر چھوٹے بہل بل بلکہ کیا جو بڑاожمی ہے لیکن واستمر میں ہے تو چھا مبل بل آپ نے کو حالی پانی fan لے تو بھگو ہے ما ہانے ہے ایسے یہ جیو واستمر میں اپنے گرفتت و کے شاہ تادت میں کر لے پریயہ سندھے پیارے میں میڑے میٹھائی کھنے جا کرائی چکھیں جو چاہ کریں میں مدنامکہ ایک

خوش میں جازی راجہ ہو گیا ریشمی قبر پہنے کا بو شاوکین تھا اس کا منتری راجہ کا سانی دی پانے میں شاوکین تھا نونوں گھوڑے سواری کرتے وی جنگر میں جنگر میں سیر کرتے آکہ تادي جو بھی ہو گا قولت جگئے مدراتری ہو گئی پہی رستہ ملے نہیں چانی راپ میں ایدھر سے اُدر دیشاپ پہی راپ کو کسے بھی جو کا بوکہ کا کھا کھا پڑے رے سوبہ ہوا کھا ہے پتہنے بھک ستائی کھل دوپیر کا کھیا ہوا کوئی جنگلی پھل مل گیا میں مدنی کالا چھوٹسا جو چاکھو تھا ساتھ میں چار توکڑے کی دو مدری کو دی دو اپنے نہیں رکھے مدری نے چبات سر کے کھالے بھولے جہاں پنا اور میں جے ایک کھاکڑے دی

دی دینھے سے مدری نے کھالے اب چاہتا ایسا میں مدھ کھانے جا رہتا کرنے مالک آپ نے کھائے مجھے دیجے مجھے دیجے نولے کیا تو ایک لے کو بوک لگی ہے ایسا کیا میں اس میں تو کیا ہے بولبس بڑا رہس ہے میجھے دیجے بہموں نے اس کا آگہ توکڑا دیا مدلب اسی ستتا سی پرسل اسوں دی دیا ماکی ایک چھوٹا توکڑا ساڑے تین فاک چلی گئے باکی آدی پاک نہیں نہیں اپنے کھج مجھے دیجے مجھے دیجے جپا جھپی لگ گئی لیکن میں مدراجات خمانوں ممجھے دالتا اچچی چھی چھوٹ دیا مولی اتنا مولی کرو وہاں ہو بے کار فلکہ لیتنا تڑف رہا ہے بولبس مالک فل کرو آئے ہم بے کارے وہ نہیں کس کے ہاتھوں سے ملدہ مولوان کہتے ہیں کہ میرا آشرے تو لو

اور پریٹی بھی میرے سے کر اور جان بھی میرا پاہوں جیسے مونیم نوپر آشرے تو سیٹھ کایاں سرکار کا لیتے پریٹی شریع سے اور پریوار سے پیسوں سے ہے بھاکت بھی آشرے بھگوانکہ لیتا پریٹی شریع کے اور آہم سے ہوتی ہے آہم سے اور شریع سے پریٹی نہ ہو تو بھاکتا پیسل نہیں ساتھا سندھا ہوتی نہیں ایسی چیگا میں ہے ایداشتا کا سندھا بھی سندھا لگتی ہے سندھا ہے بسپنمانہ لیکن سندھا پریپک کو حکر پیٹی میں بڑھے پھر کچھ نہیں ہوتا داشتا کا سندھا بھی لکتا کی سندھا ہے آسی ٹا کا سندھا بھی سندھا ہے لیکن سو ٹا کا سندھا ہو جیسے پریٹی میں بڑھل جیسے پھڑھتی مد بھاکتی لابتے پراہوں پراہ باکتی کو پاہتا ہے پراہ باکتی پراہ ملتتو سے ایک آکار سر دیتی ہے

नहीं धीग कurpknownPeople, बोरोणं जररा ढेे चब suburbsnica. मवल उपोल जह मूएकग नहींन節 même Stro June, でईपनुणारे चब pratikvagda, �ующतोब कि लपह मूए जह tok बिजेगत, தpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, thpper, th پیپل کا پیڑ کی لکری ایسے سی اور اس کے پنچر سے ایسے سے بائیدے ہوگے آئے ہوگے

مقتصمتہ کہ بھخوان کی ساتھ پیک ابھی گئے پیپل کے پیڑ کو دھاگہ بانگہ گھو مے گا اچھتا آئے گوگینا آئے ننطایا ناہمہ اور بھی شنیرے ہوتا کہ پوچھا ناہدی کرے گا لیکن تط断 توewetha говорے گا کہ وہی پنچ بھو تو اور اچھتا پرکھورتی میں میرا چمچمچمچمچمچمچمچمچمکنے والا چیطانئے اگر چیطانئے نہیں ہوتا تو رسکای سے لاتا فعل کئی سے کھیلتے پھول کئی سے کھیلتے اور ساتھ پیگ ہمائے کئی بانتے یہ برم وپیپل کا پیر بنگھر اپنے آپ کو پوشت کرتا بھوتیگ وادی کو بھوتیگ فیدہ ہوگا அریوی دک்பاڑا ہوگa அریوی دک்பاڑا ہوگa بگوڑ بھال کے اٹھپنا چیٹھنے رمان ہوگa پر تت் طواeweta نرمہاں اور ہوا جتسانگڑ ہوشا اشتدہ پکھتی کے سانگڑ ہوش سے مگت اپنے

صفاروک کوئی دیکھے گa اب کونسی نجریتے میں آپ نہتے ہیں اس پر تمارا میں بیشے کسی کو لگے گا کہ گھو ہمہ رہے گرمہ ہیں, گھو رو ویشنوںے کسی کو لگے گا اوکڑے شکھیں, و لکتے مپنے یہ کہا پرمپو جب اپنے کہا جس کی جیسی نجیڑی ہوتی اسے میں ان کا چتبی ایسے بن جاتا ہے. و جیسا چتوتا ہے ایسے دیکھتا ہے. تو اب چیتھوں کو اننات کرنا ہے, انچا کرنا. تو بھا گا نام آشرے لیکر شان تو تجاو تو بھی بے کبھڑے گا بھی نو ستسنگ بھی بے کنا ہو. رام و کری پا بھی نو سلہ بنو سل. بھی نے دینے نوام نوام نوام نمامی نننننننننم மنشکو, جو چیج چایے, اس کے پاس سہج سلاب ہے.

جیسے, سب سے کیمتی, بہوت جروری سواس چایے, سہج سلاب ہے. پانی ہے تو, نیشکلک مل سکتا, جینے کے لیپانی پینے کے لیے. بھو جان ہے تو, ساتھ کی سے مل جاتا ہے. کن چتورا پنچایے, وائنچایے, شراب چایے, پھلانا چایے, اسی گندگی کے لیے, جادہ سوابے خاتھ ہوتا ہے. ایسے ہارماس کے سریر کی واوہی چایے, تو اس کے لیجیبان, کئی جندگیہ خاتھ ہوتی ہے. یہ ہارماس کا سریر کیا پنچ بھوتی ہے. اس میں جو جلیان شہے, کون تو کے وہ جلوی بھاکہ ہے. جو پول ہے وہ آکاش ہے, جو گرمی ہے وہ آگنی تطوہ ہے.

وائیو تطوہ ہے, پرطوی تطوہ ہے. تو, پانچ بہتک شریع ہے, اسمسک, آپ پرطوی ہو کی جال ہو, تیجو کی وائی ہو کی آکاش ہو. ان پانچوں میں آپ کیا ہو, ایک ہو کی پانچ ہو, بولو, بتا ہو کچھ, ایک ہو کی پانچ ہو, تم پانچ ہو, نہ تم ایک ہو نہ تم پانچ ہو, رو ججل مدلتا ہے. وہ جن پروفی تطوہ بھی بھا دلتا ہے, وائیو بھی بھا دلتا ہے. آکاش بھی بھا دلتا ہے. اور اس ریج کو اگر میں مانتے ہو, تو ایتے کہتا ہے, بچ پانچ چلا گیا جوانی بھا دل رہی ہے. تو, اس ریجزوں مر جائے گا, تو, تم ایک بھی نہیں ہو,

پانچ بھی نہیں ہو. بلکول پک کی بات ہے, اگر میں جوٹ بولو تو تم بھی مروک, دیرمت کر ہو. تم کو لگتا ہے کہ میں جوٹ بھولوں گا, اپنے پیاروں کی کا سمجوٹ ہوں گا, مارے تمارا پاپ دوک چینتا گیاں, تم کیوں مروک, تو تم ایک تطوہ ہو نہ پانچ تطوہ ہو, ایک کو پانچ کو تم جاننے والے ہو. آکاش کا گن شو بھائے, وائیو کا گن کام ہے, اگنی کا گن کروض ہے, جل کا گن مو ہے, پرچھری کا گن بھائے ہے, جس میں پرچھری تطوہ بڑھ جاتا, اس کو بھائے بڑھتا ہے, تو دیا جلا کرکے, امکار کا گنجان کرے تو بھائے کم ہو جائے گا, جیوان رسان پوسطق پڑھے بھائے کم ہو جائے گا,

جا پرچھری تنمترا بڑھتا ہے, پرچھری کی تنمترا بڑھتی ہے, اس وریگ میں سوابہوں میں تو آدمی بہیری توتا ہے, اگر جل کی ماترا بھارتی ہے, اگنی کی ماترا بڑھتی ہے تو کروض ہوتا ہے, آکاش سے گشو بڑھتا ہے, وائیو کی ماترا بڑھن سے کام ہوتا ہے, اگنی کی اگنی تط restless termin Owen G. جل سے موقہ ہوتا ہے, پرچھر سے بھائے ہوتا ہے, اگنی میں کام بھی کام تھایا, اگنی تطور, شو بایا تو او کاش کے کارنے, توی پنچ بھوتوں کے حنشہ ہے,

آپ ان کو صدتا سپورتی دینے والے ہیں, یہ سب بڑھل ٹے کام آتا چلا جاتھے, کرو دا تا چلا جاتھے, لو باتا چلا جاتھے, مو آتا چلا جاتھے, بھائا تا چلا جاتھے, لیکن آپ کمی چلا جاتھیں گیا, نہیں گاتھے, لوگ بولتے انو بوتی, انو بوتی, انو بوتی سپ سے بڑی ہے کہ ہم ابمت ہے اور انو بوتیہ میکنے والی, یہ ہو گیا آئی دکھیا آئی دکھیا تو انو بوتیہ ہوں کہ میکتیہنے, تو جو لوگ انو بوتی کرنے کے لیے ساتھ نہ کرتے ہیں, پو Cayelok, سادنا کے محمï än تانیں جانتے ہیں, انو بوتی ہوتی ہے تو ہونے دول نہیں ہوت جس کا عگرہЗдگا رہوں, אבל انو بوتیہہ ہو کہ ب streetsل جاتی وہ کو ل игயے اس کو کو جو yazوں کے تو شbat کی nighttu tath tukey

прав testimہ ہاں جیٹھے, ایںاس zu tanga Tath cu�, ername تعانے کہا يام ھbigا۔ Kewalar Nirgona-Sahat. یہ اتما دیو واسطوں میں اسنگ ہے. اور نرگون ہے. نرگون بھی ہے اور نراکار بھی ہے. تو تم سب واسطوں میں اسنگ بھی ہون, نرگون بھی ہون, نراکار بھی ہون. ایک روطی پنچ بہوتیک شریع کی ہے. گون بھی پنچ بھوتوں میں ہے. اشتدا پر کرتی میں ہے. تو گون دوش اور ایک روطی. یہ آپ نہیں ہو. آپ کے شریع میں ہے. تو ایسا سگیان کا سکروطی سے بہت سارے دوش ایک دم چھو ہو جائیں گے.

موت سارے آکرشن ویکرشن سوابھا بھی چھو ہو جائیں گے. کہ وہ پاپ مخ سپند چھو جائے گا. کہ وہ پنچوں کا آنتہ نہیں رہے گی. شریع میں ممتہ نہیں رہے گی. تو واسطابق میں جو آخم ہے. جو واسطابق میں جو مائے ہے. اُدھر آگئے تو ابھی ابھی نردو ہو جائیں گے. سدھا کے لئے. آواصطابق میں مائے ہے. آہم ہے. موم ہے. اسیلے کتنا بھی کچھ کرتے ہیں. لكن آنت نہیں ہوتا. دوکھوں کا آنت نہیں ہوتا. کتنا بھی کچھ کر لے. دوکھوں کا آنت نہیں ہوتا. کیوں. کہ دوکھالے سنسار. دوکھالے شریع کو مائے اور میرامان کر کر رہے. اسیلے اس کا آنت نہیں ہوتا. تو آسطابق میں تم آنت کے ابھی باج جی آنگوں.

جیسے گھڑے کا اکاش محاکاش کا ابھی باج جی آنگے. ترنگ سمدر کا ابھی باج جی آنگے. میٹی کے بھی نہ میٹی کے بارتن نہیں رہ سکتے. پانی کے بھی نہ براف نہیں رہ سکتے. لیکر براف کے بھی نہ پانی رہ سکتے. بارتنوں کے بھی نہ میٹی رہتے ہیں. ترنگ کے بھی نہ پانی رہتے ہیں. ایسے شریع کے بھی نہ بھی تم رہتے ہیں. شریع مراپڑا تم دیکھتے ہیں. امرے کے بعد دیکھتے ہیں کہ یہ مراپڑا ہے. کتمی رو رہے ہیں یہ ہیں وہ ہے. تو دوکھ آتا ہے تو تم ساوض ہم نہیں رہتے ہیں. تو دوکھ کے ساتھ جوڑ جاتی تو میں دوکھیوں. بیماری آئی تو بیماری کے ساتھ جوڑ گے تو میں بیماروں میں چینوں, کریخانوں. اس میں میں پانا آپ ستہ دے دے دے. جاس استتتاتے کر جڑ مایا.

تو مارے ستت سروپات میں دے اسے یہ جڑ مایا, کشری سچہ لکتا ہے. بیماری سچی لکتی ہے. دوکھ سچہ لکتا ہے. بچپن سچہ لکتا ہے. سچہ ہوتا تو ٹکتا. بچپن تو چلا گیا تم ہو. تو تم ستے ہو بچپن ستے نہیں ہے. تم ستے ہو بچپن ستے نہیں تو بچپن کی مرکتا بھی ستے نہیں ہے. بچپن کی وشاری بھی ست نہیں ہے. ایسے جوانی کا کام کروڑ بھی ست نہیں ہے. لوگ مو بھی ست نہیں ہے. یہ گون بنجب ہوتوں کہ ہے. تو ساتھ تو تم ہو. لیکن تم جس سے جوڑ جاتے ہو سب ست ستل لکتے ہیں. تم جس وستو کو مہتو دیتے ہو. وہ پر باوشالی ہو جاتی ہے. کتنا چاہ ہے. اب اس کا مہتو تم نے دیا. اب تمارای رس اس میں روہی تو ہو گیا.

تو یہ بے کار ہو گیا. تو تم ستروب ہو چے تم روب ہو رسروب ہو. جس چیز کو تم مہتو دیتے ہو رسلی ہو جاتی ہے. ہے تو شریعوں میں گندگی. ناک میں لیت باری ہے. مومے تھوک باری ہے. آق سے کی چاہن نکلتی ہے. کان سے قرے دن نکلتی ہے. نیچے کے انگوں سے ملمترا نکلتا ہے. روم کو پو سے گندگی نکلتی ہے. لیکن کام درشتی سے ایک دوسرے کو مہتو دیتے ہو. تو نہیں شادی والوں کو سندری کو سندر آمرت کو طرح رکھتا ہے. رسندری کو سندری آمرت کی پتلی رکھتی ہے. تو جب لارتے جاگرتے تو وہ لے آن تو تو چندر مکی نہیں ہے. تو تو جوالا مکی ہے. تو تو پر آن آت نہیں ہے. تو تو آن آت ہے. میرے کو آن آت کر دیا. تو لارتے تو ایسے لارتے ہے. تو داشور شریع کو نشور سبندوں کو نشور بکاروں کو

تم شاشفت اگر مات بنا دو. تو وہ تمیں نچانی سکتے. تمیں رولانی سکتے. تم مات بے کر ہو رہے ہے. یہ ہو گیا. میراکہ ہو گیا. میراکہ ہو گیا. پر لے نہیں. مہا پر لے بھی تمہرا کچھ نہیں بگارتے. کیبار پر لے نہیں. مہا پر لے. آتنتک پر لے ہوئے. پر بھی تمہراستی تو او میتانی سکتے. بھگوان بھی تمیں میتانی سکتے. شریع کو تو بھگوان نے بھی نہیں رکھا. پر بھی تم دار رہے ہو. جو کہ تم میتھیا سے جو رہے ہو. میتھیا میں تو کمپن ہوتای دیتا ہے. میتھیا میں تو پریورتن ہوتای دیتا ہے. تم کتنا بھی تھامنا چاہوں. نہیں تھامے گا. جو وہ جن کیا اس کو تھامو پیٹ میں رکھے رکھو تو بھی مارو جا ہوں گے. جو بھی ملا ہے. پساروں نے کلیے. بھنی پیệ وہ بھی پسار ہوں να کلیے. بھウہو جن بھی پسار ہوں να کلیے.

بچ پان بھی پسار ہوں να کلیے. جوان بھی پسار ہوں να کلیے. دوگ experienہ ح rhythmsہ ہو. صگ بھی پسار ہوں να کلیے. سکو گیساہوں نے سکو گیا ہے. لیکن تم پساروں ہو کہا, ہوں کو بھی ز GORDON میں نہیں گے. تمہارے آگے سے سکو گیا. تم پسار نہیں حوی دیا نہیں. نہیں ہوتے, تم نکتی ہو, تم اپنے آپ کے ساتھ نکتی رہتے ہو, اپنے کو چھوڑ کر, دو مینٹ کے لیے بھی کینی جاتی ہو, جای دینین میں بھی اپنے میں ہو جاتی ہو, Indriya سے اٹھ کر مان میں آگے, من سے اٹھ کر بھڑ دی میں آگے, بھڑ دی سے اٹھ کر, جیواتھوں میں آگے, جیواتھوں سے اٹھ کر, ان جان ہو کر, اپنے آپ میں آگے, اپنے برمہ سوابہ میں, اپنے برمہ سوابہ سے جیو کا سپنہ, وابود دی کا وامن کا وام, انڈریوں کا واجات کا گئے واروان, روج ایک تھا رہا جا, وہی پرمت پر رہا جا, تمارا اتما تم ایک تھی رانی اُس کی سورتا,

روطی اُسی سے سارا پسارا وام, ایک تھا رہا جا ایک تھی رانی شروع ہو گئے, کہانی روج کہانی شروع, تھی روج سمیٹ کے انترمی چلی جاتی, ایسے بچپن بھی کہانی ہو گئے, جوانی بھی کہانی, دکھ بھی کہانی, سکھ بھی کہانی, لیکن کہانی کو جاننے والا, کوانے, اُس کو اگر خوجے تو شانتبستا آئے گئے, اور شانتبستا سے باپری باپ, کہ ایسے قلیان ہو جاتا ہے, کتنا پہدا ہو جاتا ہے, اُس کا تو میں آپ کو, کتنا بھی باتاوں کا کام ہو گئے, تو آپ ایک سندر اپاہ ہے, کہ آپ دکھ نہیں جاتے, ویکار دکھ دیے بھی نہ چھوٹے نہیں, تو آپ ویکار بھی نہیں جاتے, کہ کتنا بھی کاروں سے آنند جاتے,

سکھ جاتے, اگر آپ کو شد سکھ اور آنند نے مل جائے, تو پھر آپ ویکاری, جیوان سے اپنے آپ کو اٹھا وامان کرکھا شوٹے ہو, سب سے نیچ میں نیچ منو بھٹی اسی کیوٹی, جو اپنی حانی کر کے بھی دوسروں کو ستا ہے, دوسروں کو دکی کر کے مجالے, ایسے لوگ بھی ہوتے منوشہ میں, وہ ایسی کوئی نیچ یونیوں سے آئے ہیں, جیسے چوہ, اپنا سمائے خراپ کر کے بھی آپ کو, کپڑے قاد کے چلاگے, اور بھی پرانی, وہ کو لینا دینا نہیں, امریکہ میں ایسے لوگ میں نے دیکھے, کہ بیٹھیں گھنٹوں پر مچلی پاسے, مچلی پاسی ہونچی کیا ترفائی, مر گئی پھر اسی تلاو میں چھوڑ دی, تو کسی کو اپنا سمائے شکتی برواد کر کے کسی کو, ستاہنے کا مجالے نہ,

یہ مانو تا کہ ایک دام نیچ میں نیچی, آرکری پر آکاشتا ہے, اپنا سمائے شکتی بودی, پیسا کرچ کر کے مچلی پاساتے ہیں اور تیسی کو, سمائے دیکھر بونک ہو جا اور پر نپنے اس پیسے لگا کر امریکہ نے, تو آ کر دیاں, جاپان کے سندر شہر کو, تو اپنا نکسان ساکے بھی دو سے کو بھاری نکسان پہ چانا, اپنا سمائے شکتی کرچ کر کے بھی ساسو کی نیدہ کرنا, اپنا مان خراب کر کے بھی پر اسی کی نندہ کرنا, اپنا سمائے شکتی اور بودی خراب کر کے بھی کسی پر دوٹھے, دو شارو پن کرنا لگانا لگوانا, ایمانو تا کہ آکری نیچتا کی آکری, ایمانو تا کہ نہیں, نیچتا کی آکری, اُس سے کچھ تھوڑے اُپر اُٹھے ویلوکر, وہ اپنی جان اور اپنا سمائے شکتی کر,

دوسروں کی آہنی ہوتی ہو تو کوئی بات نہیں لیکن اپنے کو فائدہ تو ہو رہا, اپنی آہنی کو بچا کر, دوسرے کو آہنی دے کر بھی لوکیک فائدے میں جو اُلچے ہوئے, اُچھا تھے نمر کے ہوتے, پہنچ میں نمر کے بھی ہوتے ہیں جو اپنے لہاب کے لئے, دوسروں کو حنی پہنچ ہے تو کوئی بات نہیں, اپنے لہاب ہوتا, اور چاہتے نمر کے یہ ہے کہ پہنے اپنے لہاب میں دوسرے کی حنی, چھالوں کیا کریں, صحنا پتا ہے نہیں ہوتی تو اچھا ہے لیکن اپنے پہنچ ہے, اپنے لہاب ہوتا ہے, اپنے لہاب ہوتا ہے, چھالوں کیا کریں, صحنا پتا ہے نہیں ہوتی تو اچھا ہے لیکن اپنے کیا کریں, دوسرے کے ہنی دیکھتی ہے, اچھے نہیں لقتی لیکن سالے تھے, دوسرے کے ہنی, اپنے لہاب ہوتے,

اپنے لہاب دوسرے کی چنتہ نہیں کرتے ہیں, دوسرے نمر کے لہاب ہوتے, اپنے ہنی نہ ہو, اپنے ہنے اللی اللیwing وہ خیلی رکر وی Emraag وہ مہاہت مناس تو مام پارتا دیویم برا کرتیم آشیتا۔ وہ مہاہت مام پرش ہے۔ اپنے تن کو اپنے من کو اپنی یو گتاوں کو کھرچر کے بھی دوسروں کی اُن نتی چاہے۔ دوسروں کی اُن نتی سے اُن کو پریترپتی ہے۔ کیونکہ دوسروں کے روپنے اپنے کوئی دیکھتے۔ بھگوان ایسے پروشوں کے لئے کہتے ہیں مہاہت مناس تو مام پارتا دیویم برا کرتیم آشیتا۔ مجھ پر مات مدیو کی برا کرتی کہ آشیتا ہے انہلیا ہے۔

دیسے بھگوان اپنے بڑا پنچھ کر بھی۔ پترہ ہنا سوی کر کر لے تھے میکٹرہ ہنا سوی کر کر لے تھے۔ درتے سیکنہ سوی کر کر لے تھے تھا پر کھانہ سوی کر کر لے تھے۔ تم نے تو ستنگ پر سنگ سو نے ہے۔ چچین وری چاچ پر ناجنا سوی کر کر لے تھے۔ آیسی تے، آیسی تے کر کر رونا سوی کر کر لے تھے۔ گئے بھئی آلکش مون لکش مون میں گیا میں کیا مو دکھا ہوں گا۔ آیسا کرنے کو بھی سوی کر کر لے تھے۔ پرہت سمائے اٹھ رگنا تھا مات پیتا گورنا آئی ماتا۔ ایسا بسی کر کر کے بھی ہمارا منگل چاہیں کیوں کہ ہمارے روپنے وہ اپنے کوئی دیکھتے۔ اپنے روپنے ہمیں کو دیکھتے۔ یہ گیان میں درستی مہا پرشوں کی بہوان کی ہے۔ اب سات درستی ہے پھر سے بگوتا ہوں۔ اپنی لوگ کی کہانی آدي دیوی کا خارچہ دیاکمی کا خچ کر کے بھی

دوسروں کو اُنت کرنا یہ مہا پرشوں کی درستی ہے۔ اُتتم پرش کے مہان پرش کے لیکن ہے۔ اُس سے تھورا کم اپنی حانی نہ ہو۔ اور دوسروں کو لاب ہو جائے۔ اِد دوسرے نمرکہ تیسے کا اپنا ہی لاب ہو دوسرے کی چنتہ نہیں۔ اور چاوتے نمرکہ اپنا لاب سے دوسرے کی حانی ہوتی ہو۔ تو سہلیں گے چا لوگ جانے نوم ہوتی تو کیا کریں۔ اپنے کو تو لاب ہوتا ہوں۔ پہت میں bé لوگ ہوتے اپنے لاب کے لیے دوسروں کو حانی پہنچان دیتے پتاکسے۔ چھتھے ہوں سے بھی گرے ہوتے کہ اپنی جان بچا کر دوسروں کی حانی کر کے اپنا لاب ہوتا ہے تو دیرمت کروں۔ اور ساتھ میں اِدنے نیچ ہوتے کہ اپنا لاب ہو جائے اپنے حانی ہو۔ دوسرے کو تکھا ہوں دوسرے کو دوکھ دوکھ دوکھ دوکھ دوسروں کو ستا ہوں۔

میں پھر بریترہ ستا ہے جاتے لیکن دوسرے کو ستا کے سکھی ہونے میں جو لگے اُمانو تاکہ ایک دن اتنتنیچ تاکھے اُمانو کہنا بھی۔ منشروں پے مرگاست جاندے۔ منشروں پے وہ پشو ہے۔ اصور ہے اصورہ بہا بماسیتا۔ جو ستھے کی اور پرورت تا ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو اپنے جیوان میں۔ دے ہیں مان اوروانی۔ انتین کو نینترت کرنا چاہیے۔

دے سے اُس لنک تانہ ہو۔ مان کی اُس لنک تانہ ہو۔ وانی کی اُس لنک تانہ ہو۔ انتین پر دہان دے ہیں تو وہ لوگ انناتی کو پہلے ہیں۔ شریف کی اُس لنک تا ہے۔ نا کھانے جیسا کھا لیے نا سونے جیسا سو لیے نا کرنے جزا کر لیا۔ میں کاروں میں پڑے دے۔ یہ شاریدی کچھ اُس لنک تا ہے۔ ٹیم سے کھائا ٹیم سے رہی ٹیم سے اب دہی اور جمپھل کھالیا۔ یہ شاریدی کو اُددندتا ہے۔ مان سک دیوز کوفی۔ دہی اور جمپھل کھانا۔ ایک دم کفھانے گا جمپھل بھی کفھالے دہی بھی کفھانے۔ جیٹرامان دو جائگی کھیا ہوا پچے گا نہیں بکارشر ہو جائگا۔ امرد گولتے جمپھل کو۔ کھر اپنی مان سکتا اُن نترکنی چاہی ہے۔

ستے کی اور پرورت ہونا مطلب پرماطمہ کی اور پر پرورت ہونا۔ تو اس میں جیوان سائنیمی ہونا چھے۔ سد بھاو۔ سمپھن ہونا چھے۔ ستے کی اور پرورتی کرنا ہے تو پرماطم پر آبتی آسانی سوگی۔ جوٹ کا پاٹی وہ کرتے رہے ہریوں ماریوں کرتے ہوگے۔ اللہ وقبر کرتے رہے اللہ ملنے والہ نہیں ہے۔ اللہ ستے سوروپے بہا وان گاورد ستے سوروپے۔ ستے کیا آسانیمی۔ ستے بھولیں جوٹت تیاگے۔ بھولیں جوٹ کے بناکام نہیں جلتا بھی لکل بھی اوکو بھی ہی بات ہے۔ جوٹ کے بناکام نہیں جلتا تو ستے جوٹ بھول کے دکھاو۔ بکھ لگی ہے بولا نہیں۔ بکھ لگی اور جوٹ بھولوں نہیں لگی ہے۔ کی مogyپien مار گاورے۔ جوٹ کے بناکام نہیں جلتا ای بھی اسکل بھی اوکو بھی ہے۔

ستے آدمی تو ستے کو چا trotzdem کرتےочка ہے اور Çہری تستی!! جوٹہ بھiston Hadilungenہvalue ہوں اور Çہری تبی نو کریمانbear چا ہوں۔ بیمان پتی بھی پتنی سے ایمان داری چہے گا, بیمان نیتا بھی اپنان سے کتری اور اپنان نوکر ایمان دار چہے گا, ایمان دار تو ایمان دار کو چاہتے لیکن بیمان گی ردے میں بھی ایمان داری قادر ہے, اس لی بیمانی کے بینا کام نہیں چلتا یہ برم نکال دے ہوئے اور جن مو میں آجاتا ہے بھی شاد میں آجاتا ہے بھگوان اُس کا اُس سا بڑا دے مو نیورت کرتے ویشادن نیورت کرتے آج دہت میں تا کی ماتا بطاعتے بطاعتے آجن کو شانت بہو میں بیمان پورنا اور شانت چیتت تنید ماغبانا کر میرے کرنے کے پرنان دیتے

یہ بھارتے سنسکریتی کا اجدہت موان پورے ویشا کا مارک درشان کرنے میں سکشمہ اور آرام میں اسی اجدہتمک مارک درشان سے ہی دنیا کے لوقھوں کا منگل کی اتھا بھارتنے اور اب پھر سے جاروط پڑھے بھارت ویشا گروبانے گا یہ شروعات کی تھی چار سے چالی سال پہلے سنکل کی اب تو بہت لوگ جوڑ گئے سنکل کی اب تو بہت لوگ بول لے لگے بھارت ویشا گروبانے بیشا گروبانے گا کروٹ چالی سال پہلے کا میرا سنکل کی شبس سنکل پہ آپ کروٹ بہت جنہی تا ہے تو وہ کہیو کے دوارہ پورنوں لگے گا جو روڑی نے کے اپنے کی کروٹ اپنے اس کا سرے پاوٹ اپنے سرے کی چانی کروٹ کسری میں اپنے سے چوپا ہے

میری کا نم نے کہا تھا گاؤں گاؤں گلی گلی گھر گھر میں ساک شرطا میرا اوڑیش ہے اگر میں یہ پورہ نہیں کر پاتا میشریریو آنوں میں میری پیچھے لگ گھر بدنام کر رہیں تبی میرا سنکل پیے پورہ ہوگا کے بھارت میں ساک شرطا گھر یہاں چلے گا ساک شرطا کے دوارہ لوگ پلک کی اپنے دیکھار کی رکشادوں سے کی رکشام ہے پر اوڑتوں ہاد ہو رہا ہے جو جو ساتم آئے آئیک نمبر کا منرشتا کی اوچائی پر ہے اس کے سنکلت میں بڑا بلوطا سروانگی سپھلتا چاہتے ہو تو آتما کی آنانت شکتی سے جود جاؤ آنچ بوٹوں میں جو شکتی ہے ہو بھی آتما دیو کی اور سوری میں جو سپت رنگ ہے آئیک ایک رنگ کا پر بہا ہے سب سے آسمانی رنگ جادہ ایتکاری آسمانی رنگ گھر میں لگا ہوں پچھا ہے

پلر آسمانی رنگ کی بوطل میں پانی بارکے رکھے اور ہوں پانی پینے میں کام میں توپائی دا ہو بوطل کو ارتین نہ ملے ایسی جنگ تیلگی سوری کے قرآن میں رکھا روپیوں کرے پانی سوری کے قرآن میں فید مارکیوں کیوں کرے جیگنی شکتی باتی پندرہ سے ٹیس میں ندتک سوبے سوری کے قرآن کشنان بہوت ایتھ کرتا ہے روگو اید میں سوریشنان کی مائما ہے روگو اید میں اس کا فائد آلیں شریر کو تندرستراکے من کو پرسن رکے اور بھدی کو بھدی داتا کے گیان سے پریپاک کو کر دے اسے آپ کا تو بلا ہوگا لیکن آپ کے سمپرک میں آنے والوں کا بھی بلا ہوگا آپ اسوست رہتے ہیں آپ میں ابھی مکھ رہتے ہیں

آپ کا منگلو طالیکن آپ کے منگل میں بیچارا اوروں کا منگل کر دے جو لو کا نموطی آنموطی چاہتے ہیں تو تمارا نین سنکل پشانت شانتی بھنگ نہ ہو آنموطی میں تو شانتی بھنگ ہوگی نرسی میں تانے کا جب تک ہاتھ مگشانتی نہیں ملی آپ میں تک کو نہیں جانا تک ساتھ نہ سربہ جو تھی ہے یہ چھوٹے موطی آنموطی کے لئے لالائد مات ہو بھنگ وہ بھنچ بھوت ہے چھوٹے موطی آنموطی کے لئے لالائد مات ہو وافنو آسچی آنموطی تو یہ ہے ہے کہ واستم یہ جو پہنچ بھوت ہے اُن کا استقبل نہیں ہے پر مارتما سکتا میں یہ پھر پھراتے ہیں یہ پھر پھراتے بدل جاتے ہیں نراubs دل جاتے ہیں كرام مدل جاتے ہیں کроп کروڑ بلل جاتے ہیں پہنچ بھوت بل ترے ہیں

ھوں کے سوابہوں گونہ یہ سب آ کے بعدل جاتے. ھلیکن پر مات مدتک پتھوں سے ہیں. واجر سے بھی ٹھوں سے ہیں. اور آکاش سے بھی ادیک اچھل ہے. لیلا تو یہی حالی اللہ میں پر بھکی للا ہے. ایسا سوں میں بیشان تیو کریں. تو شروع شروع میں بھگونام کا جاپ دیکھ شاہ لیکھا جو ابھاہس کرتے ہیں. کو پر آرم بک باکتے ہیں. اس میں بکشت رہتا ہے. منلگے نلگے تھوڑا ہے ساہوے ساہوے ساہوے ساہوے. یہ تک تو یان کے درستی سے پہلی بھومی آیا ہے.

اور بھاکتی کی درستی سے ویدی باکتے ہیں. اب دہس کرنا پر تانے جب کا دیان کا یہ آرم بک بھومی آیا ہے. یو کی درستی سے پھر شبطا وستا بھولتے ہیں. میٹھ شبطا وستا بھولتے تھوڑا سنسار میں تھوڑا بھاکوان ہے. یا بھاہس بھاہس بھرتے بھرتے تھا بروچی کا روب لے تھا ہے. اب بھاہس جا بروچی کا روب لے تھا ہے تو ایک آگر تا بھرنے لگتے ہیں. سکے سنک کلپ سامر تھا ہے. سک دکھ میں کو چنچ میں سنٹھاھنے لگتے ہیں. چلو کوئی بات لیں. وہ ایک جان کے درستی سے یو کی درستی سے دیان ہو جاتا ہے روچی میں. جب جب دیان میں روچی ہونے لگی بھاہوان میں

تو ایک آگر تا ہوئی یو کی درستی سے اور یان کے درستی سے ہو گیا دیان دہارنا تتا یان کے درستی سے دوسری گومی کا ہوئی اور بھاکتی کے درستی سے بھاگت ساد نہ ہونے لگتی تو پہلے آگر بھاہس اب بھاہس بھر کر روچی اور روچی بھر کر روچی اور رتی بھی شرنتی میں چلیاتا پر اکاشتا ہونے دہان دہ نا بڑاہس سار سار بات سادق کے لئے ہی تیشی بات ہے اب بھاہس سے کبھی اوب جائیں گے کبھی ملاکیا کبھی نہیں گیا یہ آرامی کا ہے اب بھاہس کرتے کرتے پھر ملاکیا بھی نہ جب دہام کی بھی نہ اچھا نہ لگے نہیں چاہتے ہوئی بھی کریں تو سامل دو تو پہلے اب بھاہس نے روچی کی آوستہ لالے

اور روچی بڑھے بڑھے بڑھے بڑھے بڑھے پھر رتی رتی میں روس آئے اور وہ رتی میں بکاہر شانتا ہونے لے گے آپ کرشن شانتا ہونے لے گے گندی آدتی شانتا ہونے لے گے اب بھاہس روچی رتی آدائگی پر مات نووش شانتی پھر ساب کچھ کر ہوگے لیکن من پر ماتمہ میں ویش شانتی پہے گا اٹھت بیٹھتا تو اوی اٹانے کا تکا بھی رہم اسی تکانے سیکریسنانے کا بیا سے یوبا یکتنہ چیتہ سانانے کا مینان انیانی سے ویوار کرو لیکن پھر ویوار کے پہلے گہرائی میں میرا چیتتن یہ نا رہا ہے لہوار کے بعد میں میرا چیتن یہ نا رہا ہے لہوار تو آدی بہوتی کوا لیکن

آپ نے اس کا دیادت میک کرن کر لیا مان اپنان ہو جائے تو مانو واتھ مرنے والے شریع کو دیکھ کر مانو اب مانو واتھ اسی کہوا اس کو جاننے والا میں جو قاتیوں یا گہز کرو یا گہز تھوڑے دن میں آپ کو پروچی میں لے گہے گا تاقان مٹا دے گا پاپ مٹا دے گا آپ کرشن مٹا دے گا میک کرشن مٹا دے گا بیدروں مٹا دے گا بیدروں کا بہی مٹا دے گا کے بعد ابنہ سروچی کا روپ لے تھی آپ سوان نربر ہو جائے گے پیسے پر نربر نہیں رہیں گے اسی دن صاحب سیٹ شاوکار پر نربر نہیں رہیں گے اسی دیو دیو تا کے کراپابر میں نربر نہیں رہیں گے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →