Jan 1,2026 Thursday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
636 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 1,2026 Thursday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
کچھ تو, ایسے لوگ ہوتے ہیں, دن کو, تھوڑاستہ, سنکیت ماتھ رکھر دو, وہ بہت کو, پکھا لیتے ہیں اور ایسا, امرک پا لیتے ہیں. سب کے ایسی پہنچ نہیں ہوتی, اس لیے سنکیت کی اب, باشا نہیں سمتے, تھوڑاستے, شبدو میں نہیں سمتنے والے وقتیوں کے پر اتی, ویستار کر کے برنان کرنا پر. سنکیت باشا سمتے یا ویستار سے سمتے لیکن وقتیوں کے سمتنے والاستہ کی مطئی ہے اس کا ایک سنگ کا ستبیوں کا ستبیوں کا مطلب ہے کہ آپ کوئی
آچی جگا میں بیٹھیں گے تو ستبیوں کا ہوتے ہیں. آچی جگا میں بیٹھیں گے, آچی جگا میں سوچیں گے تو چھپری میں تو ستف یوبیں تو اچھی جگہ کون سی ''متاو کون سی اچھی جگہ ہیں سور گچھی جگہ ہے کہ نارک اچھی جگہ ہے iete مال اچھی جگہ ہیں کہ دکشیں ماریت اچھی جگہ ہے کہہ میریک اچھی جگہ ہے لندن اچھی جگہ ہے متاو کون سی اچھی جگہ ہیں اچھے میں اچھے جگہ ہے جہاں پر مات مبستہ ہے, شریعہ, ماتا پر مات ما کام بستہ ہے, جہاں پر مات مبستے وہاں چلو رہنے کو اپنے چلے گیاں, جہاں پر مات ما ہو, اُس سے بڑھ کر کوئی اچھے جگہتے نہیں,
پر مات ما کام نیتا ہے, پر مات ما سامانی رکھ سے تو سب جگہ رہتا ہے, لیکن بیشے شوپ میں پر گٹھ ہوتا ہے ردے میں, اس لیکتے ایش پر اسر وہ بھو تانام ردے سے آجنہ تیشتتے, میں گوان ردے میں گیتا ہے, تو آپ بھی ردے میں رہو, ردے میں کہیشے رہے ہیں, اسوک دو کلاب حانی کے جو بھی پرسان گوتے ہیں, گٹھنایں تو بہار گٹھ دی ہے, لیکن انم بھو ردے میں ہوتا ہے, وہ بیشےش انم بھو کی جگہ ہے, جیسے ہمارت تو چا تو سارے شریع میں ہے, چمرا ہے, وہ متہی رکھو تو میٹھی نہیں لگے, نمکین رکھو تو وہ نمکین پنے کا سواد نہیں آئے گے,
اور جی بھی چمرا ہے, لیکن جیوہ پر رکھو تو طرمت پتہتے لگے, کہ کھا رہا ہے کہ طاہی میں تا ہے, طوری آئے کہتے ہیں, ہے تو سارے شریع میں, ہمی ہم, ہمائی چاہر میں ہے, تو سارے شریع میں تو ہمائی چمرا ہے, ہمائی چیتنا ہے, ہمی ہم ہے, ان کو سارے کے کسی بھی انگو بھی آپ متہی رکھو علوان, اکھو جلے بھی رکھو, ست کری رکھ دو, چا سنی لگا دو چلو, تو پتہ نہیں جلے گا, اور جو ہوتھوں کے پر یہ بائی جی وہاں نے جرا ستتچ کر دیا, کہ گور کی جاسنیے کے کاند کی ہے, اتواز شاید ہے یا دوسری کوئی سربت کی جاسنیے, پتہ جلے گا, ایسے ہی آپ اگر ردے میں رہتے ہیں, تو آپ کو پتہ جلے گا کہ ویشنوں کا سوکھ ہے, کلپناو کا سوکھ ہے,
کامناو کا سوکھ ہے, بھاوناو کا سوکھ ہے, کہ بھگوان کا سوکھ ہے, چلڑی پتہ چلے, شریعا, آدمی کلپناو کے سوکھ میں حبی جو ہے اس کے کوئی پھ کر نہیں کرتا, یہ ہوگا وہ ہوگا پھر میں سوکھے ہوگا, ایسے کلپناو کے جال میں پس جاتے تھے, کئی بیشنوں کے جال میں پس رہتے, پس شو جیسا جی بنگتا, اگر آپ ردے میں رہنے سیکھیں گے, تو طورنت پتہتے لگت کیا ہوگا, یہ گتنا گتی بردے میں کیا ہوگا, حالانے نے دوکھت سماتیار سنائے, لیکن اب کیا ہوگا, دوکھ آ گیا کوئی ہر کتنے, لیکن دوکھ کو دیکھنے کا اٹکل آ گئی, دوکھ سے آ لگوں, ویشنے کا سوکھ آ گیا کوئی ہر کتنے,
لیکن ویشنے کے سوکھ کو دیکھنے کی اٹکل آ گئی, ویشنے کے سوکھ سے پرتھا گئی, حالیو آدمی پرتھا گھو کر, دیکھتا ہے او اسٹاو کیوں کرتاو ٹھیک سے کرتا گئی, و سنسار سے بھی پرتھا گھو کر, سنسار سے پرتھا گھو کر, کہاں آہیں گے کہاں جائیں گے, جاں جا اور سریز ہے, وانتا سنسار ہو گئی, کہاں ہوں گے پانے لینہ پڑے گھا, گھر چھور کے جو پڑا, گھو پڑھ چھور, اور آہ کوئی گوہا گفا, پویٹر دیش میں مندرہ, پویٹر ہوتا ہے باتھ سی ہے, ایکانت دیش میں, بگت پرپتی میں, سویدہ ہوتی ہے باتھ سی ہے, لیکن ایکانت دیش, ایک تو بائی ایکانت ہوتا ہے, دوسرا, سب بیشاروں کا ایک میں ہی انت کر دے, میں ساکشی سروب میں, وہ بڑیا ایکانت,
وہ پرہ میں ایکانت ہے, ایک میں ہی سب بیچاروں کا انت کر, آق, رب ان ایک دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ نے والا, میں ایک, کہاں شب د ایک سنتے, میں دیکھ نے والا, ایک, جیب سواد ان ایک لیتے, لیکن او سواد کو دیکھ نے والا میں, ایک, بھانا, گند ان ایک پر کارک لیتے, لیکن گند کا درستہ میں, ایک اچھی گندہ ایس کو بھی میں دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ دیکھ اور دیکھ دم دوسی تائی جو, چتکھن ہو گیا, من کو اچھی نہیں لگی تو, من کو اچھی نہیں لگی, اس کو بھی میں دیکھ دیکھ نے والا, ایک, ایک بلکل سائی سیدی ساف بات ہے, ساس پر اپی ویدانت کی بات ہے, میں آپ روشوں کا انوبہ ہے,
سوتی اور یکتی بسید سے دوھ رہا ہے, تم بھی یکتی سے دیکھ تو سد ہے, اچھی گندھا ہے, مدھیم آئے, کہ ایک دم دور گندھا ہے, تو اچھی گندھا ہے, لہوہ ملا, مدھیم کو من کو بشیش کو یا کرسا نہیں ہوا, اور ایک دم ملین آئی تو, من کو, کنتا ہوگی, تو کنتا من کو نہیں ہوئی تبی بھی تم تھے, من کو کنتا آئی تبی بھی تم تھے, من کو مدھیم لگا تبی بھی تم تھے اور من کو اچھا لگرہ تبی بھی تم تھے, یہ تو سیدی بات ہے, ویدانت جیسا اور کوئی سرل گیان نہیں, لیکن ہمارہ اولٹا گیان کے ابیاس ایسی پڑ گئی کہ سلٹا کتھن لگیا اور اولٹا سرل پورا ہے, جیسی اورواری کالرکہ پچیز بہیس چرا نہ اس کے لے سوگوں ہیں,
لیکن پچیز آکڈے لیکنہ اس کے لے کتھن ہو رہا ہے, لیکن پچیز میں پچیزوں کیا پچیز سجار لکھ سکتے, ایسا سرل وہ آکڈا لکھنا اس بچے کی لے کتھن ہے, آئیسے ہی آتما کو پرماتما کو جان کر, پرماتما میں ایک ہو جانا بڑا سرل ہے, پچیز میں پچھے ہنا ہے, کوئی نوبا چرا نہ نہیں ہے, کی جگت کے بھنے اٹھلے اٹھانے نہیں ہے
آئی اٹھلے سرل سوگوں بات, ایک کتھن لگری, آئیسے کو جانلیا تو باستھ, تیٹس کروڑ دیوتا تو بھگوں کے پیچھے کہے تم بھگوں سے پرتھا کو کر بھگوں کے ساکسے, بھگوں کے باب بندے, بھگوں کے سوامی, دوکھ کے سوامی, سوکھ کے سوامی, دوکھ اور سوکھ کے جو سوامی بنے گا اس کو دوکھ کیا کر سکے گا, میرے پاس ایک لالیا ہے اور دوسرا کالیا ہے, دوکھ کتھ میں نے پالے, اب میں نے اپنے مگلے پہ لکری آ ہے, ساوضان, کتھا کتھا ہے, کتھوں سے بچنہ, آگن توک نیا ہے گا وہ تو ففڑے گا لیکن میرے کو ام کتھوں سے در ہوگا کیا, میروں میں رہوں, چاہی بھگلے کے باؤندری میں گھموں, چاہی شیر میں نکل جاؤں, کہ میرے پیچھے پیچھے ہاتے ہوں,
میرے پیر کو چاٹھے ہوں, تو بھی مجھے بھی نہیں ہوگا مگے, مجھے کتھیں, اکا بھی میں ہوں کو کچھ, حکپڑ مار بھی دیتا ہوں, دنڈا مار بھی دیتا ہوں, تو مجھے بھی نہیں ہے کہ یہ مجھے کتھ دلیں, کبھی وہ سوے ہیں تو میں ہوں کو چھےڑ دیتا ہوں, چھےڑ دیتا ہوں, سوے, دکھا دیتا ہوں, تو کہ مجھے کتھ دیں گے, نہیں, کیوں, کیوں میرے کتھ پالے ہوئے ہیں, وہ میرے آدھین ہیں, میں ہوں کا سوامی ہوں, حکھا نہیں, آئی سے ہی لالیا اور کالیا, لالیا تو ہے, یہ مجھے کو வہ
کرتے ہیں, بھی کروں στηumbersے ہیں bisexual پژھНАЯ کو تو ہوں, اور کیوں میرے آدھین ہے اور آدھین ہیں اور سکھے ہمتھنے کہ آپ کو آ سکھتی میں دال دے گبھی جیوان میں جانبوچ کے دوکھ کو بھی چھےڑ دوگے کہ بھاکھو دوکھ کو چھےڑ دیں گے و گیانمان تو ایسا کرتے کے کچھ دوکھا جاکھ جانبوچ کے ایسا کرتے لو اپن لوگ تو دوکھ سے بھاکھ پے ہیں گیانی تو دوکھوں گی گلیوں میں گھومتے کہ آ جہرہ بہت دن ہوگے جہرہ لدو کھاتے کھاتے جراووان ہوگے فولوڑی آ جاو میتھائے کھاتے کھاتے اوب گئے جرا دال موتھا جاو میتھا کھاتے کھاتے اووان ہوتے تو کیوں اتکھانے کھاتے ایسے کبھی کبھی گیانمان بولے باہا جہے جہے سا باب جی گروجی بہوان پروجی تک کر رہے لیکن تو لو ایسی جگہ جاو جا ہوردوٹ کرے دیکھے جرا
ایک فکھی لکھنوں کی بجار میں چھوریہ مڑی پروسند لکھنوں کی بجار میں جا چھوریہ بیکھتے تھے وہاں پہنچ جاتا حالو دوکان گندر گوزکے چھوریہ تو چھوریہ ہے جرا ایک بھیا پٹیدر ماری ایک او در ماریتا چھوریوں سے چھورہ پھر دوکان دارن کا فول برا بر سناتے وہی کوئی تو پیٹائی بھی کر دے چھے میں نہ بارا میں نہ ہوتا تو ایک وہ اپنے ستنگیوں سے کھی ستے اوضع پہنچ جاتے کبار لکھنوں کی بجار میں کوئی ستنگی تھا وہ لیے تو وہ گرو محراد ہے وہ لے گرو محراد ہمارے پروجی ہے تم کیا کرے کہ وہ لے پروجی پروجی پروجی کیا ہماری چھوریہ تو چھوریہ چھوریہ پر اپنے وہ لی باب جی آپ ایک کیوں کرتے ایک کیا بہا دین ما با با با کرتے جرا ہو لالیا لالیا لقالیا کے پاہ پاہ جاتا ہم کبھی کر
کمھی قالیا کو چھےڑڑے تھا ہم لوگ دو گھرتے کوئی توکارنے کر دے کوئی اپنانے کر دے سنت لوگ جب سادن کال میں ہوتے تو جانبوچ کے ایسے گور پے جاتے کہ جہتے کہ جہتے پیچانوں ہو مدوگرینا رہی اب آسر میں تھا گھر میں تھا وہ سب چھور چھار کے نکل پڑے اچھے لوگ تھے ستنگی تھے جو پل کے بجھاگے میں چھے پوضر نہیں گھرے لیکن جہاں پیچانتے نے اوضر جا کے کھڑے ہو گے نا رہی ہمائی بھولتی مو آٹا قطلال بھن جیسا ہے ابھی پہلی روٹی دالی آکے کپک گیا اللہل مال اس مائی کو پتہنے گئے دی باپا سندی ہے سندی باچہ جانتے باپانے مان میں سجا گئے گا دی تکڑی دی دی دی تک کیا پتک کیا ہو جاتا تھے رہ پھر مانی رہاں کو کہا کیوں کیا حال ہے باب دی
کہنے والے میں بھی ٹو ہے اور سندی والے میں ٹو ہے ایک ہے کہ دو سچ باتا مانی رہاں میں کا میرے سوامی ایک ہی ہے ایک ہی ہے نا ایک ہی ایک ہی ہے اچھا تو آپ ترکہ بھیک نہیں منا ہوں اگر یہ یکتی آ گئیں پویٹر جگا پہ رہنے کی یکتی آ گئیں نہیں تو آپ سوامی بن جان پوڑیا باوہ آنن میں ما ہری باپائی ٹی نو نترسانت تھی ساتھ میں رہتے تھے پر سمپری برسو تک ساتھ میں رہے بن درابن پوڑیا باپا کسی سے تھے اکھانانہ و بم بی سے بیٹھے گادی میں بن درابن کے لئے تکھر تو تھی پس کلس کے لیکن جان بود کے پر دھرکلس تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا کر்கலாம். つ third class may go to bed. つ つ つ つ つ つ つ
つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ つ ھا میں دوکھ گی ہوں ہوتا ہے Guruji نے کہا بہی دیکھ ہوں
ومن سی پالپیکہ لوگ جو رکھیں دا ہلتے ہیں قڑے کی قچرہ کی قچرہ پیٹی ہو بریبھر انجия نہکھتا ہوئے یہاں قچرہ پیٹھیاں خالی کرتے ہیں تو قچرے کے دگلہ ہوتا اب قچرے کے دگلے پے کوئی بیٹھ ہے اور پھر وہ لے کے میرے پر لوگ قچرہ کیوں دالتے ہیں میرے ایڈگر دمکھیاں کیوں بن بناتی ہے تو تم بیٹھے سی جنگ آتے ہیں تو تم انا جب اپنان ہوا تھا تو تم اپنے میں نہیں بیٹھے تھے من اور سری کے ساتھ جوڑ گیا اسی لی اپنان کے سمے دوکھ ہوا دیکھنا یہ یہ جراسی بات ہے زنبارہ ورس کی تپسیا یا پھچاس ورس تم ہمالے میرا اور سیتر ورس کے نیو سال کے یوگی گلہ تو بھی اس سے یہ بات بڑیا ہے بات سمجھ گئے میں یہ بات اگر نہیں جانا تو تم بلے کہتے تھے پھر وہ کہ ہم نبے سال کے ہیں اور اسے بچے جی سے لکتے ہیں
کوئی تمارے باتوں میں آج آئے کوئی سب ل آئیں گے بھی نہیں سری راں تم بلے ہجار ورس کی سماندی لگا دو اور پہت سال کے بچے لگو پھر بھی کوئی ویشےش منزل تے نہیں ہوئی اگر تم سری روے اور منزل میں بیٹھے لالیا اور کالیا سے درتے رہتے اور لالیا کالیا تمارے کو بھرکتا رہتا ہے تو تمارک نہیں گھر کے سوامی نہیں تم جب گاڑی میں بیٹھے تھے اس وقت اپنان ہوا تو تم سمجھرے میرا اپنان ہو رہت لوکوں کو تم تھوڑے دکھرے تھے لوکوں کو یہ دے دکھرہ تھا چندال کا جو پڑا
خاد موس شرم رو دھیر بات پیت قاب تھو نہیں یہ تو تھا اور کچھ لوکوں کو یہ دکھرہ تھا اور اپنان کیا تو اس کا کیا تم سمجھ بیٹھے میرا ہوا کیوں کہ تم منزل پرے ہو کر رہتے میں نہیں بیٹھے تم سریر میں بیٹھے جائے جائے جب سریر میں بیٹھ ہو گئے تو چاہے تم سنیاسی ہو جاؤ چاہے تپسوی دکھو چاہے ہو گئیش وڑ دکھو چاہے اور میںش وڑ دکھولوں کو کی نجر سے جن سریر میں اگر بیٹھے ہو تو مہا رہتن دھریاں کوئی نصوک کیا دیکھا جو دیکھا سو دکھیاں اس سریر کو مہمان کے اگر تم جیے تو ہزار اپائ کر کے آئے ہو لکھو جنم میں کرو رو اپائ کرتے آئے اور ابھی اور کرتے چلے جائیں
دکھو سے جان نہیں چھٹے کبین چھوٹے پینگ دکھو سے جیسے برم مقا گیاں نہیں اور ہے بڑا آسان قتھیں نہیں دوس یا پچیس کے آخرے قتھیں ہے کیا لیکن وہ بروارکہ مرکھ لڑ کے لئے سرل ہے اب وہ بولتا میرے کو نہیں آئے گا قتھیں نہیں قتھیں نہیں اگروچھے گروچھے نہیں آئے گا اس کو نہیں آئے گا لیکن وہ وہ لیکن ہوں کئی لوگ کرتے کا تو ہم بک لکھ سکتے ہیں اور جرہ دل چیس بھی لے تو اس کے لئے قتھیں نہیں ہے کہتے اور جرہ دل چیس بھی لے لے تو پچیس کی آنکڈے پچاس کی آنکڈے پچاس کی آخرے لیکن ہوں اس کے لئے قتھیں نہیں ہے آئے سے ہی ہی ہم تھوڑیسی دل چیس بھی لے توڑا سا اوچھ ساہا کریں اوچھائے ابھی کرو
ایک میں نے کے بعد کرو ایک سال کے بعد کرو ایک جنم کے بعد کرو ایک یوب کے بعد کرو یوب کے بعد کرو لیکن یہ کام تم کو کرنا پڑے گا دوسراً کوئی لاے Party jaht Perfect expanding the vaccinations
photos gaareen sa sureid ki dva hai nui . تو جو جو ایک جیسا رہے گا نہیں جو تمہرہ نہیں ہے اُس کو پاکر تم اگر سوکھی اپنے کو مانتے ہو تو دمہری مانیتا بھا رہے بھا منا بھا رہے سوکھی سوکھی ماننا بھی بھا منا ہے مانیتا ہے اور اپنے کو دوکھی ماننا بھی بھا منا ہے سری رہا ہے بہت بہت سرال ہے اور بہت کمتے جو چج جتنی کمتے ہوتی ہے وہ اتنیس سوحج میں ہوتی
جیوان میں شراب کوئی جارورے نہیں ہے مہنگا ہے اب پانی بہت کمتے ہے جیوان کے لئے ایک دمہری انگ کا اوشتا ہے لیکن انگ سے ادھیک پرٹھوی کی اوشتا ہے جیوان میں انگ کی جارورت ہے لیکن انگ سے جادہ پرٹھوی کی جارورت ہے روتھوی نا ہوگی تو انگ کیسے ہوگا رہیں گے کیسے تو انگ کی اپیکشا پرٹھوی جادہ ہے روتھوی جادہ ہے انگ کے لی تو پیسے کھرچھنے پڑھے اور پرٹھوی پے چلنے کے لیے پیسے نہیں کھرچھنے پڑھے تاہدیاروں مل چلو اسکا پیوکھر چلنے میں بیٹھنے میں پرٹھوی سے جادہ جیوان میں اوشتا ہے جلکی
پرٹھوی سے جادہ اوشتا ہے تیج کی جیوان میں جلک سے جادہ اسکنہ تیج ہے تیج سے بھی جادہ جیوان میں اتنط جارورت ہے بایو کی سواشتے پرٹھوی سے جال سے تیج سے بایو جادہ ہے بایو سے بھی اتنط ادھیک اوشتا ہے اوکاش کی اوکاش ہوگا تو بھی تو بایو رہے گا ہے تو اوکاش اسے بھی دیس گنا ہے یہ سب ہوتے ہوئے بھی سرید کو چلانے والا چیتنے نہ ہو تو کیا کام کا اس لیے اون سب سے جادہ اوشتا ہے پر مات ما گیو رو پر مات ما انت گنا ہے اس کا کو ایسا بھی نہیں تو جو انت گنا چیج ہے انت انت ہے گنا نہیں انت انت ہے
وہ پانے میں کچھ ہی نہیں کیا مال تھوڑا ہو شوٹھ ہے جو میں ہے تو چلو بھئی اپنے کرنے نہیں ملے گا شاید اسی لیے تم لوگ بھگوان کو جلدی نہیں پاہ دیکھیں گے وہ تو انہن پانند ہے کو ایمانکت میں سے مان چلانا جے گا ہے تو انہن پانند ہے اس سے ہم الب ہوئے بھی نہیں وہ ہم سے دور گیا بھی نہیں تیکن ہم بھی مق ہو گئے دیکھو میں من میں جو بھاوائے من کو انو کو لگا تو پنے کو سوکھی ما نہ
دیکھتی میں ہوں لیکن میں ہوں. کوئی منہ نے வیدان تکیدرچی سے کہ یہ سمجو کہ آکھر کبھتا تو تتا حکیم لب دوار آجم تتا حکیم راجم مل گیا پھر کیا گہنے مل گیا پھر کیا پتی مل گیا پھر کیا دوگھ ملا تو پھر کیا سوگھ ملا تو کیا آکھر کبھتا یہ سب آنے جانے والے کھلوں نے ہے یہ لالیا اور مد لالیا اور کالیا کا اور ان مات رہے وہ وہ وہ مات رہے اور کچھ نہیں میری پالے ہوئے بچے ہیں اپنے پالے ہوئے کتھوں سے کوئی آپ در کر گھرک سورت اور بھگا پھرے تو اس کو آپ سمجھ در کر ہو گئے کے مورکٹ ہو گئے
اپنے چھٹے لائیتے تھے ایک دم ٹیپودے بطورا کلایا پلار بڑے ہوتے گئے اپنے پالے ہوئے لالیا اور کالیا سے آپ لوگ کوئی آرمین در کے تھر تھر تھر کامتا کامتا گھر چھور کے بھاکتا پھرے تو اس کو کیا کہیں آپ جس کیوچھ ہے پریک ہے تو ہم چھٹے ہوتے ہیں تو یہ دوکھ اور سوکھ کی بھرتے ہیں ہمارے منکھ کی بھرتے ہیں چھٹے پلار بڑے ہوتے جب ہم بڑے ہوتے انہوں کھاتے ہیں اس کے تین مہا ہوتے سٹول بھاگ تو لیٹرین باتھروں کے دورہ پسار ہو جاتا ہے مدیم بھاگ سے رکھت اور ماس پیشے آدی بنکے سوکشم بھاگ سے من کا سنچان ہوتا ہے اب اس کو تمینے تو بڑا ہے
ایسے کوتھوں کو ٹکڑا دیکھے بڑا کیا ایسے تم ایس سریکھوں ٹکڑا دیکھر سریکھوں بھی بڑا کیا اور منکھوں بھی بڑا کیا اب ان سے درتے پھروں بھاکھے پھروں یہ سمجھ دارے کی بات ہے کہ یہ چترای ہے کہ جھرہ سندو کھیا گبرہ گئیں جھرہ سندو کھیا اُس کے پیزے بھاکھتے پھرے اُن کو سب کو آنے دو پسار ہونے دو اُن کے ساتھ اپنے کو چپ کا ہمت اُن کو چپ کا دیکھیں اسی لئے اتنت سلاب جو پر مات میں شانتی ہے وہ قتھیں ہو گئی اتنت سلاب جو ہے وہ مہا قتھیں ہو گئی اور جو اتنت سار ہے وہ ہمارے سے چھٹ گیا جو نیسار ہے
اُن کے پیچھے جیبن بھر جک مار مار کے مار جاتیں ہو جنسار نہیں سار ہے کتنا بھی کچھ کرو کتنا بھی پاو آخر دیکھو تو کچھ نہیں میں جانے کتنوں کی آگے ناک رگڑے ہوں گے کتنوں کی خشامت کی آ ہو گا دو پہ سے کمانے کے لئے کوئی مقان بنانے کے لئے کوئیچ چیج وستو لینے کے لئے کتنوں کی کتنوں کی آگے خشامت کی آ ہو گا دو کان پر بیٹت تو سبے سے سامتتک گراک میں اشواض دیکھ رگھر دو پہ سے کمائے گئے سے اس کے لئے خشامت کتنی کتنی کتنی کرتے ساہبوں کی سیٹھوں کی پریم کرنا ایک بات ہے اور چاپلوسی کرنا دوسری بات تو یہ بیشہوں کی اچھا ہم سے چاپلوسی کراتی ہے اور پر ماتما کا جان ہے وہ ہمارے دوارہ پریم پر کراتے ایسا نے کی گراپھ سے تم نفرد کرو
اتوா جن سے سابان دوتا ہم سے تم گرنا کا vistا کرو نے ایسا نے سژگا لیکن تم کیا ہو تمہ ایک قصرکی ہونے کے لئے کوئیچ کی ضرورت نہیں تمہ ایک قصرکی ہونے کے لئے تمே سوکھی ہونے کے لیے کوئی وستو کی جروت نہیں, کوئی سمیں کی جروت نہیں, کوئی جگا کی جروت نہیں, تم ایسی جگا پے پہنچ جاو اتمدے ہو کی جگا پہرمات مگی جگا ہا سب سلو بھی ہے. نے دیکھا ہوگا کہ نیایادیش جب نیایلے میں آتا ہے اس کے پہلے ہیں. اپنے گادی پے اپنی سیٹ پے بیٹھنے گیا, تیاری میں ہوتا ہے, آتا ہے, جادو والا جادو لگا کہ تیار رکھتا ہے, پانیوارا پانی وادی پرتی وادی کو بولانے والے, آباد لگانے والے تیار ہو جاتے ہیں. کوئی کی سب ہرکتے, نیایادیش قرصی پے بیٹھتے ہی سب ہرکتے,
کرنے والے لو قپنے آپ آ جاتے ہیں. اب کوئی نیایادیش تو بند جائے اور سوچے کہ اب جاؤں کورٹ میں جرہ جھارو لگا ہوں, جرہ وادی پرتی وادی کو بولانے, جرہ وکیلوں کو بلا کیا ہوں, سب کو قتھا کروں, پھر کورٹ میں بیٹھوں, تو اس کو نیایادیش کتنا دن رکھیں گے. تو اپنے گدی چھوڑ کر, اپنی سیٹ چھوڑ کر, اگر وہ جھارو لگانے لگتا ہے, پانی بھانے لگتا ہے, وادی پرتی وادیوں کو دھومتا ہے, بولانے لگتا ہے کہ چلو بہیں چلو, چلو, چلو, میں نیای کرتا ہوں, میں کورٹ پھلتا ہوں, ہوں, چلو, نہیں. نیایادیش کا اپنیس, مہیمہ وریک, سیٹ پر آ جانا پریابت ہو جاتا ہے. آئی سے ہی تم نیایادیش ہو, شریر کے ساتھ انیای نہ کرو,
دوسروں کے شریر کے ساتھ انیای نہ کرو, یا تھا یو کی جو شریر جو انگ کاماتیں کو چیٹھ ججمنٹ ہو, لیکن تم اپنی سیٹھ پے بیٹھ ہو, اپنے مائے میں بیٹھ ہو, حکھن, اپنے مائے میں بیٹھ ہے, اپنے ساکشیٹھوں میں بیٹھ ہے, تو باکی کا جو بہاں رکھتے ہوگا, اپلکن, پٹاوالا کو پٹاوالا کی یوگتہ سے پگار ملے گا, کارکن کو کارکن کی یوگتہ سے, سچیوں نے کو چارجی کیا ہے, تو سچیوں کو سچیوں کے حساب سے اس کو سجا ملے گیام, پر موشن ملے گا, آسیل کو اپنے دنگ سے, سرکار کا کئیس ہے تو سرکار کو بھی, اپنے دنگ سے, مل جائے گا نیا ہے, آنیا ہے کیا تو اپنے دنگ سے دنت مل جائے گا ہے, ол اور مل جائے گا یا, جہت صیک سے
نیس کو خوب اصلاؤ نہ خوب جگاؤ نہیس سے خوب بلواؤ نہ نہ خوب منوراج کرو یہ تندورست رہے من پرسن رہے اور بودی بودی بتماری اپنے پربرم پرمہ پرماؤ نہ میں جن جائے ایک تو تم نے کیا نیا ہے اب بودی سے جگت کا سوتے منسے سنکل بکل بھورے اور سرے کو کھاں اور پین اور سوں اور ایدھر جاہوں در جاہوں سب چوکت ماملہ یہ ہو رہاں سماج میں دیکھتے پورا جیوان کا ایم بس بکھر گئے اوڑی درامرام کرا کیرطن کرا بجن کرا اللہ ہو کرا یہ وہ کرا لیکن پھر دیکھو جیوان میں کوئی چین نہیں کوئی سنگیت نہیں کوئی سمتا نہیں کوئی شانتی نہیں کوئی شدھ پریم کب کہیسے کوئی تار چھڑ جاہتا نہیں
اب سب لگے ہیں سوکھ کر لئے ادھے کو تو سب دکھے دکھے دکھے کیوں کہ اپنی سیٹ چھوڑ کر لگے ہیں وادی پرٹی وادیوں کو بھلانے کے لئے جادو بھورے کرنے لے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sand...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 12,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya