Feb 7,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
339 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 7,2026 Saturday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
आजा जनकने कता सुनेते 1 जनकने हुआ है घे से नहार्ट का गे पर्री निन्स्थर नेवा हो पान्शे सागो वह। इली के तकत पर जंमाने मे गोले है नियो मीविविविद परी निविविविविविविविव बारता है। नत का उस रगनाग चने क नम्टा हा परता है भा़ीस चनागो के दबver। جنگ کا درستاند دیا جاتا ہے کتھاؤ میں شاستروں میں بائیس جنگ کو اس میں سے چھٹھے جنگ کی کتھا میں تم کو سناتا ہوں چھٹھا جنگ جب سنسار کا بیچار کرنے لگا یہ سنسار کیا ہے آکھر اس کو چھور کے پرانی کو مر جانہ پڑھا ہے
ماتا پیدا کے رکاری میں اتھن سے سجیو کا جنگ میں ہوتا ہے ماتا کے گرب میں اندھاؤ کے لتکتا ہے وہ ایک مہنے کا ہوتا ہے تو ایک جراسہ پودے جیسا ہوتا ہے جراسہ بھیمڑے جیسا ہوتا ہے پھر ماتا کا ماسک درمکہ کھون پیپے کے وہ جیو پھر بڑا ہوتا ہے باچ میں ہوتنے پرانر پڑھا ہے پھر ماتای کھاکھاتی تو بچے کو لگتا ہے کو ملچمڑی پر مات کروڑ کرتے ہیں تو بچھا اندر بچھا را دکی ہوتا ہے ماتایڈ ہمے را جکتی ہے تو بچھا کو دبا ہوتا ہے پیدا ہوتی ہے ماتایڈ پہچ میں نے کے بعد باب کے ساتھ سنسار بہار کرتی تو بچے کی بڑی بری حالات ہوتی ہے پہچ میں نے کے بعد جو سگر بھا ناری ہے وہ پتھی کو نصدک نہیں آنے دے پتھی کو نصدک نہیں جانا چاہیے لیکن اگر کوئی آناری پتی ہے تو ان بچھے کے مومے وہ گندگی پڑھی ہوگیم کا کیا حال ہوتا ہوگا
ان مات سوم بچھوں کو ماتا اور پیدا کا بھوگی جیوان سے کتنا دک سہنا پڑھا ہوگا ماتھ روڑ کریں تو بچھے کے چت میں بچھے کے سریر پر کتنا جیسے گھاو پر مرچ دالو اتنا دک سہنا پڑھا ہوگا پتھا پاپ کا دھن لائے تو بچھے کو بچھارے کوندر ہی اندر اس کی بڑھ دیوناش ہوتی ہوگی پتھا بھگوان کا چنطن کر کے ایسے بھوجن کھاتا ہوگا دھور جیسہ تو بچھے کی کیا حالات ہوگی مام بھگوان کا دھان بھجن کر کے بھوجن نہیں مناتی ہوگی تکھاچت پتاکھا تی ہوگی تو بچھے کو کومل چمڑی پر جیسے گھاو پر مرچ اور نمبوگیسو ایسے بچھے کو دکسہنا پڑھا ہوگا اور نوں میں نے تیرادن پندرادن بچھا صرنیچے پیروپر بچھا رہتنگا ہر ہے اُسے پوروجن مو کی یاداتی اور بھگوان کو بندگی کرتا ہے کہ نات اب مجھے تو یہاں سے بہار نکال اب میں تیرہ بھجن کر کے تیرہ دھیان کر کے تیرہ گیان پا کر میں واسناوں سے مکت ہو کر
تیرے میں مل جاؤں گا پراکھنا کرتا ہے وہی بچھا جمہاں کی پرسوتی سے بہار آتا ہے بچھے کو پیڈا ہوتی ہے ماکھو بھی پیڈا ہوتی ہے ماکھو پیڈا ہوتی وہ ماتا ہے جانتی ہے دھنے ہے ماتاوں کو جو پرسوتی کی پیڈا سوتی ہے اگر پوروج ایسی پیڈا سا ہے تو کبھی سادی نہ کریں گا پوروج اگر پوروج کے بیٹھ سپیٹ سے گوار بچھے کا جن ہو جائے پوروج سادو بن جائے گا لیکن ماتاوں میں واچسلی پریم ہے ایک ویدوہ ماتا ایک ابلا ماتا کسی کا گھر کام کر کے اتواء کسی کے گھر کی چک کی چلا کر اپنے بیٹھے کا لالن پالن جتنا پریم سے کر سکتے ہیں اتنا ویدور پیٹھا کرور پیٹھا بھی بیٹھے کا اتنا پریم سے پیڈا پانن نہیں کر سکتا ہے ماتاوں میں پرماز شکتی ہے ماتاوں میں تیاک کی شکتی ہے ماتاوں میں سہن کرنے کی شکتی ہے مات اپنے کو گیلے میں سلا کر
بیٹھے کو سکھے میں سلاتی ہے اپنے کو دکھ دیکھر بیٹھے کو سکھ دیتی ہے نبولا بخلے بھی جیون بھڑھوں ماتاپنے بھل شو نہیں آگانیت چہ اپکار اینا ایک دی بھی سر شو نہیں சنطانتھی سے وچا ہو, சنطان چھو سے وہ کرو, جیووں کرو, ٹیووں بھروں, ای بھا ونہ بھل شو نہیں. قادی مکھے تھی کوریا, مومادہی موتا کریا, ایک کور نہ پورنار نہ, کور نے بھل شو نہیں. پتھر پو جہا, پرٹھوی تانہ, تیارے دیتھا تم مکھڑا, اپنیتا, قادیانے, پتھر بنی چھو نہیں. اس ماکھے کلے جے کو بیٹے جو ہونے ماکھای سی بھی ہو, ان پڑ ہو, بود ہو, ارے ان دی ہو, پھر بھی تمہرے لیو بگوان ہے. تمہرے لیو دیوی ہے, کالی کا پوجن تم نہ کر ہوگے تو چلے گا, حجاروں روپے ہوگے پوجا,
شو جی کے تم کرو اور ماکھا انا در کرو تو تمہرے پوجا سویکار نہ ہوگی. کالی کے او پر لکھوروپے کا تم شنگار چڑا دو, لیکن گھر کی جو سچی واس تو ایک ماکھا کالی ما ہے, اس کا اگر انا در کریا تو وہ کالی پر سند نہیں ہو سکتی ہے. میکھا آپ کو سچی کا تھا سچی گھتیت گتنا سنہتا ہوں, ایک کرشنانگر نام کا ایک نگر ہے امدہ بعد میں, قبير نگر کے پاس کرشنانگر ہے, ابھی بھی وہاں کھڑا ہے, تین تین منجل کے مقان ہے, اس میں ایک سجن رہتے تھے, ہر میں نے امبہ جی درشن کرنے جاتے تھے, امبہ جی دانتا کے پاس امبہ جینا ابھی کے پاس امبہ جی کے درشن کرنے جاتے تھے, لیکن وہ ایسا ابھا گا تھا, کی ماکھوں تو چھوڑے شبھ دو سے بلاتا تھے, جیر اپانی دے دے, ایبیٹے کا خیال کرنا, امگوم نے جاتے ہیں, ایسا ابھا گا تھا, ایک باروپنم کو امبہ جی کا درشن کرنے گیا, راتری کو سویا تو امبہ جی نے سوپنا دیا کے نالائق, میری پاس کریا خرچ کر کے آتا ہے
اور مورتی کے آگے صرف پتکتا اور دکشنہ رکھتا ہے وہ τرست میں جاتی, لیکن جو ماں تیری سیوا کرتی اُس کے کپنوں کا خیال رکھا, میرا درشن کرنے آتا ہے میرا درشن کرنے مطانا, اُس کو اس میں میری کنے نہیں دیکھا تو پتھر کی مورتی میں کو کیا تو دیکھے گا, میری پاس مطانا, سوبا ہوا پسچات آپ سے وہ بھر گیا, اُمائی بھی تو کو دیکھا سکنہ میں, گتید گتنا آپ کے چرنوں میں پیش کر رہا ہوں, ویاس پیٹ پر سنتگی جگا پر جوٹ بولنے سے پنی ناش ہوتا ہے, جوٹ کیوں بولوں گا, مجھے کیا تم سے لینہ ہے, کیا دھو کھا کرنا ہے, میں یہ سچی گتید گتنا تم کو سناتا ہوں, ویشوہ اس کرو تمہاری مرجی کی باتا, نوپر تو تمہاری مرجی کی باتے, اس بھائیہ کو, جرہ میں میں تھا, لو پھر لو کو اس کا چھوٹہ سد لرکھا لے گئے, لے گھر نہ رب دا میں بھرچ میں, بھرچ کی پول تھی وہاں سے بچے کو گرادیا,
اس کا لرکھا 10-10 گیارہ سالکہ تھا مر گیا, پھر لو پھر پکڑے گئے 5 سالکوں کو, سجا آ گئے, وہ بھی خبار میں آیا, اور اُن کے سجا کرکار بھی ہے, محراد پھر بھی وہ, ماء کا جو وہ اپراد تھا بھی ماف نہیں ہوا, اُمائیی نے سپنا دیا, وہ پھر گیا اُمائیی کی درشن کرنے کو, اُمائیی کا درشن کر کے لوت را تھا کسی جیپ, بھالے کو کامری کو بھیٹھا ہو بھیٹھا ہو جگا نہیں تھیں, کسے بھی کر کے آگئی کی سائد میں بیٹھ گیا, تھوڑا سا اُمائیی سے نجیکایا, اور اس نے بریک ماری, اس کا ہاتھ چھڑ گیا, اسی جیپ کے نیچھے آکے, مر گیا, اس کی اپمرتی ہوئی, بیٹھے کی اپمرتی ہوئی, اب رپائے ہیں تو کس کام کے ہیں, مقان ہے تو کس کام کا ہے, کول سے کا بڑا طال ہے تو کس کام کا ہے, جس نے مان کے دل کو ستایا, جس نے مان کا اپمان کیا, اس نے کالی کا اپمان کیا, مانتاوں میں بڑی شکتی ہوئی, سان شکتی ہوئی, ایک بیشا کے پاس کوئی, لو پھر لڑکا جاتتا تھا, بیشا کوئی اچھی,
سنسکاری رہی ہوگی, لو پھر لڑکے نے, ان ادھیکار مان کی, بیشا نے دیکھا کہ سادی سودہ ہے, اگر میں اس کو نارچ سے پر سنگ کروں, نرٹے سے تو ٹھیک ہے اور آگی اس کو آنے دوںگی تو اپنی پتنی کا, اپنی مانک اپنے کٹم کا ہے, ستایا ناس کر دے گا. ایک بار داروپی کر اس لو پھر نے آگر کیا, کہ میری چھا پوری ہنے دے, تو چاہے وہ مانگلے, اس نے انکار کرا, لیکن اس لو پھر نے آگر کیا, تو اس نے طال نے کہا کہ, اور تو کچھ نہیں چی تریمانکا کلے جالاک رک, تب میں ترے ساتھ بیٹھوںگی, تو تب میری کٹچ کر سکتا ہے, وہ آگا تھا داروپ کے نشے میں, گیا مہا بیچاری سو رہی تھے, نکالا چھرا, مارا گھا, نکالا کلے جا, اور سیڑی سے اُترا, نشے نشے میں, گیر پڑا, گیر پڑا اسے چھوٹ لگی تب کلے جا, بولتا ہے بیٹا تری کو چھوٹ تو نہیں لگی, بیٹا تری جے دوگ تو نہیں ہوا, میری بیٹھیں تو سمھل کی چلتا,
مارا گھا کلے جا کتھ جا, لیکن بیٹھیں کو چھوٹ نہ لگی, یہ مارا گا دیل ہوتا ہے, مارا بن کر دیکھو تو, پہتا چاہلے, مارا گیتنی ایسان شکتی ہوتی, کیتنی اُدارتا ہوتی ہے, مارا تو مارا ہے, مارا تری دیو بھو بھو, ابھی میں تمہرے سامنے, بول رہا ہوں یا بیٹھ رہا ہوں, میری مارا کی سیوہ کرتا تھا, میری باپ کی سیوہ کرتا تھا, میری لوگ مجھ پر بہت راجی رہتے تھے, آلا کہ میری گرونے کہا گلے جنمکا یوگی ہے, گروھ ہے, سندھ بنے گا لوگ کوکا اوڑھا کرے گا, پھر بھی میں نے توکا میری مارا باپی ہی, میری سندھے, میری مارا باپی میری بگوانے, آرونی کے کرپا, وہ بھلے انپڑ ہے, وہ بھلے کچھ نہیں جانتی لوگوں کی نجر سے,
آrisonا، گروھے, گروھے, گروھے, گروھے, گروwaysweroth, گروھ Parceمpperi och יתי اس کا مختلفٹا, oo.. را جہлять میں, یہ بھلے گروھوں۔ ہندگی گرا کرگنا تھے واکھا. अपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे लुपे � رسان سار میں تو دکھی دکھ ہے, جن مدکھم, جرا دکھم, جائے دکھم,
پنھا پنھا, انتکالے, مہا دکھم, تسمات, جاغرہی, جاغرہی, جاغرہی, یہ ریشیوں نے کہا ہے, سچی بات کہی ہے, قدم کا دم پر دکھ ہے. بیٹھا پر حالیکھا, لیکن بیٹھے کے ساتھ بیچھا نہیں بنتے تو بھی دکھ ہے. بیچھا ربنتے ہیں, اور بیٹھے کو تکلیف ہے تو بھی دکھ ہے. بیٹھے کے بیٹھے بھی اگر سکی نہیں رہتے تو دادہ کو تکلیف ہے. اور پھر موت سامنے آتیے بڑے میں بڑی تکلیف لے کر. پھرنے جانے کس کے گربے میں دالگے, یہ بھی تو تکلیفی تکلیف ہے, سنسار سکھلے نے کے لئے نہیں ہے. سنسار تو سکھ دکھ سے پار ہونے کے لئے, ایسا کوئی گرو مل جائے, ایسا کوئی سندھ مل جائے, ایسا کوئی گیانوان مل جائے, کہ مجھے آتما پر ماتما کا درشن کر آتیے. اس براکار کی چا سے, وہ محی پتی, وہ دھی ماند آج جنگ جانیوں کی خوج کر آتا تھا.
کوئی پندیت تھا شاسٹروں میں, کوئی کسی نائے کا, کوئی ویشے شکا, کوئی سانکے کا, کوئی کسی کا ویدوان تھا, کوئی کسی پندھکہ, کوئی کسی سمپردائے کے چکھ کر میں تھا. جنگ نے دیکھا تو یہ تو سب, ایک ایک تہنی کو, ایک ایک دال کو پتھام کر, جیسے اندھا آدمی ہو, اور ہاتی کو دیکھنے جائے, تو اندھا, ہاتی کے پیر کو چھو کر بھولتا ہے, کہ بھگوان تو, ہاتی تو تھم بے جیسا ہے, ہاتی کے سندھ کو چھو کر بھولتا ہے, تو وہ تو سندھ جیسا ہے, پوچھ کو چھو کر بھولتا ہے, تو امک, ایسا ہے, کان کو چھو کر اندھا آدمی ہو لگا کہ ہاتی سپڑے جیسا ہے, لیکن جس کی آنکھ ہے, وہ سندھا کے سب رنگ ہاتی میں ہے, ایسے جس کو گیان کی آنکھ ہے, وہ سندھا ہے, کہ سب کچھ اُس میری پرمتما کی للا ہے, ایسا کوئی گیانی مل جائے, سب کچھ نام روپ کا آدمی ہو رہے, پر برم ہے,
ایشور انشجیو ابھی ناشی, یہ جیو ابھی ناشی ہے, یہ جیو سندھا ہے, من تتو ہو ایساوید کہتا ہے شاسترک دے ہیں ماہا پر اشکتے ہیں یانوان کہتے ہیں اور میں بھی وہ ہی باتم کو کہ رہا ہے بہلے بہار سے مانلوں میں جہنی ہو لیکن اندر سے مانا تم سناتن ہو تمہاری قبی مہوت نہیں ہوتی تم ایتنے مہانوں میری بھئا تم کےول جہنی نہیں ہو جہنی جس کے عادہار سے چکا ہے وہ تمہرا اتما تم ہو شریر تو سمشان میں چلا جائیں گا jists ko j喜歡 본대 u ska bi shary sum
جو کہہے کہ محراج میں سریر ہوں اور میں مرگیا تو نہیں رہوں گا نہیں, آتما رہتا ہے جو آتما ہے وہی تو سناتن ہے خیر جنگ اُس سنت کی تلاش میں تھے جو پنط وارہ سمپر دائے کے چکھور سے اُپر کا ہو جو سناتن ستی کی خبر دے جو سب میں بس آہوہ پر ماتما کا در سنگ رادے ایسا کوئی سمر فگرو مل جائے آدمی لگا رکھے تھے رادہ بھرتری نے سمر تگورو کو خوجنے کے لی راج پات چھوڑ دیا تھا اور گورکھنات کے چرنوں میں پہنچے اور جب گورکھنات کی قربہ ہوئی تو بھرادہ بھرتری نے لیکنی اُٹھایا ہے جب بس وچھ ست سنگ اکینوں طبھی کچھ چھوچینوں جب ست ست سنگ ملا قتھا کہانی وارپا ہے سب بھیک ہے یہ ایتیاہ سا ہے ایتیاہس کے پیچھ جو ستی ہے وہ سمجھانے والا کوئی شکھ دے ہو مل جائے
کوئی قبیر مل جائے کوئی شنگ را چاری مل جائے کوئی اشتاو کر مل جائے کوئی یا گیا والاک مل جائے مل گائے ایسے گورکھنات جی طب را جا بھرتری نے بھراد کے ستک ملکھا آنوات کی بہشہ بھولتا ہوں جب ست ست ست سنگ اکینوں تو بھی کچھو کچھ چھوچینوں مود جانےوں آپ کو ہرے و بھرامت آپ کو میں بڑا چکرورتی سمرات ہوں یہ میرے اندر میں بھوت تھا میں چار ویدو کا جاندے والا ہوں ویدوان ہوں بھات چارن میری جائے گھوش کرتے میں بڑا آدمی ہوں یہ میری بیوکو فیتی یہ میرا بھرامت تھا اب سوچھ ست سنگ واتب کچھ کچھ جانا کیا جانا کہ میں مود تھا اور مود تھا تو یہ اپنے کو بڑا مانڈا تھا ابھی پتہ چلا کہ بڑا میں کیسے بڑا ہوں آدمہ ہی ہے وہ بڑا اور میں آدمہ ہوں میں بھرتری نہیں میں آدمہ ہوں میں سنہتا ہوں اب مجھے پتہ چلا ہے
جنے کر آجانے اشتاو کر کی قدھا سنی اشتاو کر کی قدھا سنتے سنتے جنگ کو ساکشات کر ہوا ہے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sand...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 12,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya