Feb 5,2026 Thursday : Noon : Sandhya Satsang - Noon
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
463 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 5,2026 Thursday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
یان کی دو دھا رہیں, ایک تو یہ جو دیکھتا ہے اس اور اس جگت کے بیشے کا نیان, اور دوسرا ہوتے ہیں, تت تو یان, مول یان, جیسے جگت تین پر کارکہ ہے, ایک یہ جو دیکھتا ہے اس تھول جگت بھولتے ہیں, آدی بہوتیگ جگت بھولتے ہیں, آدی بہوتیگ جگت میں بھی درستی سرستی واضے ہیں, کیڈی کو بھی یہ جگت دیکھتا ہے لیکن اس کے اپنی درستی ہے, چوہ اپنی ندجاریا سے دیکھتا ہے, کامی پر observation Maar рядہ آپنی ندجاریا سے دیکھتے ہیں, بェٹم ما کو اپنی نجار سے دیکھتے ہے, Πاتی اسی بیٹھے کی ما کو اپنی نجار سے کت Fahrenheit اسے پر کت conclude Brian'sMlan讲 первый علی ensuite بیٹھے کی ما
بیٹھے کی ναہنا کی تو بیڈی ہے, بیٹھے کی ναہنی کی تو بیڈی ہے تو وہ کسی کی بیٹھی ہے, کسی کی ماء ہے کسی کی نرند ہے کسی کی بھابی ہے کسی کی بہوہ کسی کی جتھانی ہے کسی کی دیرانی ہے تو کسی کی پیشنٹ ہے تو کسی کی داکٹہ ہے تو ہے تو مابہ آپ کی کنیا نیکن پتنی کی پتی کی پتنی بچ بیچیوں کی ماء پیشنٹوں کی داکٹر مابو کی شیش آفرینڈوں کی سہلی تو یہ ہے مانسک جگت کے سبن تو یہ جگت اسٹھول جگت اسٹھول جگت میں جس کی جیسی درستی جیسی مانسکتا ایسے سبن ہو گے دوکھ اسٹول جگت میں ہے سکھ دوکھ آکرشان مصیبت ساری اسٹھول جگت میں اسے کم دوکھ ہوتھر آکرشان کم سکش مجگت میں سوپنے میں
دوکھ سکھ لہا بانی جاگرت جگت میں ہوتا اور سوپنے کے جگت میں ہوتا ہے گہرینین میں بھی نہیں ہوتا مورچھا میں بھی نہیں ہوتا سمادی بھی نہیں ہوتا تو جیسی درستی ہوتھی ایسا دوکھ سکھ ہوتا ہے جیسی درستی ایسی ایس روستی دیکھتی آپ جیل کے کنارے ہیں تو جیل میں آپ پر شایچھا آپ نہ دیکھیں دو سے روپ کرنیچے دیکھیں مچلی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں چوہ آپ کو جیسے دیکھتا ہے بلی کو اور دھنگ گا دیکھیں گا ایک بندیت نے بلی کو ایسا سا دا کہ اس کے بھاگوت کا تھا کی مونوں پولی ہو گئی وارے واغوان بھاگوت کا تھا سنگ کے لی بلی کیتنی بھاگت بن گئی بندیت بھاگوت کا دھا کرتے اور پالی ہوگ بلی رکھتے ہیں
اور بلی کے سرپر دیا رکھ دیتے جلتا رہتے اور بلی دیا نہیں گرنے دیتے تو باگوان کے لی نہیں جاتے دیتے بلی کے سرپر دیا جلتا رہتے ہیں اس لی باکتک کی بھیڑ بڑی ماتما کے پاس ہے کہ پندیت بھاگوت کی کہتا ایسی کرتا ہے کہ پبلیک کو تو رہ سا تھا ہے لیکن بلی کو بھی رہ سا تھا ہے ماتما نے کہا بلی کو تبتک رہ سا تھا ہے جب تک چوہنے دیکھا ہے تو لی جا پینجرے میں چوبا کے کپڑے میں سامنے بیٹھ پندیت کا تھا کرے اور بلی کے سرپر دیا رکھ دے پھر دیی رہسے تو پندیت نہ دیکھیں ایسے دیی رہسے اپنجرہ تھوڑاوب پر کر پھر کپڑہ ہٹا دے اور چوہہ جرہا ہے لے بلی کے نجر پڑے پھر باتا ہے کہ بلی باگوت سنتی ہے کہ چوہے پیاتے باکتانی بلی کی پر اکشالی
جسی کو نہ دیکھتے تیسی بلی شانتویں کو وڑسندے بلی تک دیا کار پندیت کی سے کامارہ جمپ پینجرے کے آگے No no no پندیت بولہ نگڈی تو نے کری کم آئی چھوڑی پندیت تھیانے ہو اس کا بات پندیت کی درستی اپنی ہے چوہے کی درستی اپنی ہے بلی کی درستی اپنی ہے جس کی جسی درستی بائیسیس رستی ٹھیک ہے اس ایسہ مجھنے سے کیا ہوگا یہ تو بھگوان کی قتھانی ہے آئے بھگوان کی قتھا ہی ہے ہم جو بلتیں ایسہ ہو گئے اس نے ایسہ کر دیا اس نے ایسہ اس کی جگا پہیں ہم ہوتے اور ہماری ایسی درستی اپنی ایسے کر دیا پو ایک ہے ایشورس رستی اور اس ایشورس رستی میں دوسری ہے جی اس رستی ایشور نے ایت کرنیا بنادی
میں نے اس کو ششا بنادی اس کے پتی نے اس کو پپنی بنادی بیٹوں نے مہا بنادی دوستوں نے دوستوں بنادی بیشانٹوں نے داکٹرس آپ بنادی اور جن کی نجریہ بوری تھی انوں نے اس کو دوستی منمان کے رکھائے کہ مارے بیشانگلے جاتی بڑی چاڑاک باپوں کے نام سے اس نے تو بنا نام کا مالیا ہوگے ان کے لوں کو جلانے والی بن گئے اور ساڑاکوں کو تھارنے والی بن گئے تو ایشور کی شریسٹی میں ایک مہلا ایک لڑے لیکن ہماری درستی میں الا گلگ تو ایمانی بیی درستی سے شریسٹی اس رستی کا کوئی چھور نہیں ہے سبہ پانسو کروڑ تو اس دھارتی پہلے لیکن ایسی کئی شریسٹی آئے اس سے چھوٹ آسورتے ہیں ایسی کئی شورتے ہیں رونکہ اپنی اپنی شریسٹی تو ایشور کی شریسٹی میں راک دویش نہیں ہے پانی پانی ہے گنگا جی سب کے لئے گا ہے پیے شریر پیے داکو پیے ایشور کی شریسٹی میں سمتا ہے
ہماری درستی میں راک دویش اور رویش متا ہے تو ہم جو قریع کرتے اس قریع کے پیچھے ہماری اچھا ہوتے ساتھ بھی کے چا راجسی چاہتامسی چاہتے اس کے نصار پر نام گتا ہے تو مخوش ہوتے بیڑ بیڑ گتا ہے تو ہم دو کی ہوتے ایچھا بھی ہماری قلبنا بھی ہماری قریع بھی ہمارے اور دوکسک بھی ہمارے اور اس کے سنسکار بھی ہمارے میں بنتے ہیں اگر ہم سے جاگ ہو جا ہے یہ ایسا نہیں کرتا وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم سمتا ہے سب کے اپنی پیچھا ہے اپنی پرینام سے اپنے جگتا ہے تو ہمیں استصالی ہو جا ہے بیٹا کہنا نہیں مامتا پتنيا گیا میں نہیں ریتی پھلانے ایسا کرتے ்? explanation ்? dhshrtiy saOS dhji
dh� dhachd rht επ dhth kir درستی سرستی بات سے انتہ کرν, آپ کی قریع آپ کی چھا گیان کے نوروں پوڑھے گے. کئیت نے ایسارے جنجاتوں سے بو جو سے آپ پارو جے گے. تو آپ کی جیوان میں نشف کرتا گے. نش چندتا گے. دوکھا ہوتا ہے. مقان بیچدیا اور اس کا گیر گیا تو آپ کو دکھ نہیں ہوگا. لیکن مقان میرا ہے گیرائے تو دکھ ہوگا. کئی لوک اس پتا ہے. ابھی اس پتال میں ہے. کئی لوکہ بھی سمشان میں جل رہے ہیں. کئی لوکہ گیر اکسیدنٹ ہو رہے ہیں. دنیا میں اس سے میں. آپ کو ان کا کوئی دکھ نہیں. کوئی پریشانی نہیں. تو دنیا کے سارے پس پانسو کروں میں سے پانسو
انچاس کروں نوانوں لاک نو سون لوکہ سے تو آپ نشف کر ہے. سالوں کو سے آپ کا سبنوں کا بیٹا ہے. پوتا ہے. پتی ہے. پتی ہے. پلان ہے. اتنے ساروں سے تو آپ مکتے ہیں. پانسو کروں سے سادے پانسو کروں میں سے سالوں کو سے آپ کا بندھا ہے. باکی سے تو مکتے ہیں. جب پانسو انچاس کروں نوانوں لاک نوانوں ہجار سے مکتے ہیں. نوانوں ہجار نو سو سے مکتے ہیں. دخلی ساولوں کو سے آپ کو مکتے ہیں. رستاناتہ ساولوں کو سے کلوز ہوگا. پتی ہے. پتی ہے. جمای ہے. یہ ہے. اتنے لوکہ سے آپ پہلے مکتے ہو تو سالوں کو سے مکتے ہیں. میں آپ کو دیر کیا.
پانسو انچاس کروں نوانوں لاک نوانوں ہجار نو سولوں کو سے مکتے ہیں. سالوں کو سے بندھے ہوگے. تو کتنے آپ مکتے ہیں. اُن کی پھ کر سے آپ پھ کروانی اُن کی چنتے ہیں. باکی پہ چھا سالوں کو سے آپ سے بندھی تھوں. اب اُن کو بھاکوانکا مانکا یا تھا یوں کے سیوہ کر لولیکن اُن کے ساتھ ممتا انتا جو جوڑی ہے وہ گھماتے ایشور میں لگتے ہیں. اُن کاری بہلہ ہوگا اور آپ کو ایشور نہیں جائے گا. تلسی ممتا رام سے سمتا سب سنسار راگنے دویشنے دوش دوکھا داس گئے بھاپار بھائنگ کا پیارٹ کاری کا ایکسیژنٹوہ ٹن کر سے. پتی وہاں مرگے دو بچے مرگے
درایور مرگیا گوڑ میں بٹھایا آناث بالک جو پڑے والیگہ وہ خکیل رہے خود کو ٹین پیکچر ہوئے بھاگرا کی ہوسپیٹر میں پڑی سالبھر لوگ بھولتی تو ستسن کر دیوری آبا جیسے سند جا آنان بیمام مطا ٹیکتی ایشور کے پاس گئی پھر بھی ترے کو اتنا دک بولے میرے کو دکھا ہوا دیورہ پراربت سے ایکسیژنٹ ہوئا لیکن دکھ نہیں ہوا یہ پراربت تھا اترین لوگ کو کہا ہوتا ہے تو میں نردو ہوں تو یہ میرے ہیں ممتا ہوتی تو میں دکھی ہوتی ممتا نہیں تو پتیگی آتما کو بچوں کی آتما کو ستپرینا دی اور میں آپ لوگ آتے روٹے ہوئے میں آپ کو آساتے میں بیٹوں اور اب دو پاہ درس دین میں چٹی ملنے والی دکھ مجھے نہیں ہوتا ہے ممتا کو ہوتا تھا میری ممتا گورو جینے ستسنگ سے میٹا دی نہیں تو پتیگی لاش بچوں کے لاش دیکھ کر میں ہوں اسی سمیں پاگل ہو جاتی
دوسروں کے اوپر مصیبت پتی لیکن میرے کو یہ درستی رستی واضر گوریجی کا ستسنگ سمجھ میں آ گیا تو ہر پر رستی میں سم رہے نا ساوڑان رہنا یہ تھا یوں گے اپائ کرنا لیکن دکھ میں دوبنا نہیں سکھ میں ایترنا نہیں سب بیت رہے جو رہے اشتدہ پر کرتی میں ہو رہے پاچھ بھوتھ کہی شریع اور سنسار درشمہ من بودیو رہان کا یہ اشتدہ پر کرتی میں ہو رہے اُس کو دیکھنے والا پورش اتما آلا گھئے ہم پنچھ بھوتھیک شریع اور بضلہ آپ کا من بضلہ آپ کی بوب دی بطلی آپ کا میں بضلہ میں بچھا ہوں اب میں داکتر میں بچھا ہوں اب میں بابوں تو یہ میں بضلہ لیکن اُس کو جاننے والا تو نہیں بضلہ نے جو جانے والا ہے وہی تو میرہ اتما ہے تو میرہ اتما ہے اشور کے اتما سے ابھین ہے گھڑے کا اکاش مہاکاش سے ابھین ہے ترنگ ساگر سے ابھین ہے تو اس پر کر کا اشفر
کے ساتھ ابھینہ تاکہ سبند سمران میں آج آئے تو یہ ستول جگت میں رہتے ہوئے بھی آدی دیویک جگت میں آپ کی گتی ہوگئے اور آدی دیویک اور آدی بھوتیگ جگت جن سے ستطا سکورتی پاتا ہے اس اتدیات میں آپ کی بشرانتی اور جاغرتی ہو جائے گی ہو گیا ساکشات کا برحم مستیتی پر آپت کر کر کر رہے رہے نا شش وہ حکبی نا تغصہ کے اچھا نہیں لولش ایسا ہو تو سکی ہو نہیں یہ ہو رہا اشتدہ پر کرتی میں ہو رہا ہے اس تول جگت میں ہو رہا ہے میرے کو سپنے میں آپ دیکھو میرے کو ایسا دیکھو آرے کائکو گلام بنتے کائکو پرشان ہوتی باپو جی بہلے آپ آتے دیویک آتے دیویک آتے دیویک حرے پہلے آئے تو کیا جاکھ مارلیے تم نے حبی رونہ چالو آئے چائے نہیں آئے ہم ہے آپ نے آپ ہر برستیٹی کے باپ یہ گیان دھارن کروا باپو جی بہلے در سندیتے ابھی آپ میں رہا رہا رہا دیکھا آئے ایسا دوبارہ بھولنا ما دیکھو بھیگی باتے
کیوں پر کرتے جو آگے وہ آگے جو دیکھ گیا وہ دیکھ گیا جو رہا ہوں رہا نہیں رہا تو نہیں رہا لیکن اس کو جننے والا عمیٹ آتا دہتما تطورق تو جو پھا تیو ہے اس میں جے کو نہیں کہ ہے کوئی سا ہوں آئی سا ہوں کی ریا سے جو ہوئے گا ایچھا سے جو ہوئے گا وہ سدا نہیں رہے گا لیکن جو سدا ہے وہ میں ہوں سمج گا ہے تو پھر بھی گہتا نہیں رہے گا اسی کو وہ لتے سدا آتا سما دھی سنتکی آتھوں پہے آنند اقل ما تا کوئی بجا وہ نے اندرا کو رہا تو یہy stul jagat vikar hiye badyl tha hai. Sukshma jagat vikar hiye badyl tha hai. Lekin, undono ko dhikne wala mera atma parmatma nirvikar hiye. Mera chaitan hiya parmatma nirvikar hiye. Chaitan hiya. Dukh vikar hiye badyl tha hai. Sukh vikar hiye.
Kambi vikar hiye. Ayya aur chala gaya. Kamsa da nahi raita. Lobsa da nahi raita. Chintasada nahi raiti. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. Lekin mera atma nirvikar hiye. بھگوان بھی ایدھر والے بھگوان کے دوارائی سونے گا تمورتی کا بھگوان تو تماری بھاہنا سے یہ بھگوان تو سوطہ سندھا ہے دروپتی نے کہا کہ کہ شاو دوشاسان میری ساری کیجنے کو ادھا توہ میں نے چاروں طرف دیکھا آخر میں نیرا شویر تو میں پکھا رہا تم ساریوں میں پروے شو ہے لیکن دے آنے میں دیر کیوں کریں بھولے پگلی تو نے کہا ہے دوارکا دیش میری رکشا کرو تمہیں اندر سے وہاں دوارکا گئے آپ کی رہا تو بھولتی ہے انتریامی تو میں وہی پر گٹھ ہو جاتا وہی کوٹھا دیپتی بھولتی تو وہی کوٹھ جاتا اپھی راتا
دوارکا دیش بھولتی تو دوارکا جاتا اپھی راتا ہے انتریامی دیا تو میں اسی سمیں حاجر تو اس تھول جگت آدی بھوتی اس میں درستی سرستی بھا آدی دیگ جگت اس میں اس ور کی اچھا سے اتھل پاتھل لیسے آپ کی اچھا سے آپ کے شریع میں اتھل پاتھل ہی چال ہوتی ایسے آدی دیگ جگت میں جیووں کے کرموں کے نوصاری اس ور کے اچھ سنگ کلپ میں اندر کے میکھے سنگ کلپ میں لیکن تاتوی کا سرستی سارے اتھل پاتھلوں کو ستا دیکھر میر لے پر آینے والا تو آپ میر لے بھی رہتے سکش مجھگت میں سوپنے میں بھی رہتے اور جاگرت میں بھی رہتے تینوں میں آپ ہیں جیسے بھگوان کی ستتینوں میں ہے ایسے آپ کی پہنچ تینوں میں ہے تو آپ بھگوان کے جاتی کے ہوئے کے نہیں ہوئے بولوں سندی جاتی تو سرر کیے لیکن تماری جاتے آرہ بھگوان جی تھی آیو لال جو لال جو لال یہ تمارے کل کی جاتی ہے
لیکن جو لال کو نہیں مانتے آرمانتے اُس کو جو جانتے وہ تماری جاتے منطن جو تیسے روپنا عمول پیچھان تمارا عمول پر ماتما کی جات کا ہے آمرتا کی جات کا ہے آنگ کی جات کا ہے جیتنا جاگرت بھگوان کرشنے کہا بھگوات میں کہ میری اپاسنا کے آٹ ستانے ایک تو دیو درشن دیو پوجن دوسرا یاد گئی آت کر کے میرا پوجن ہرچن تیس رہ اگنی کی اپاسنا سوگی چندر آدی جو تھا مجھ انتر یامی پر ماتما کی اپاسنا پہنچ مہ برحمانوں کی اپاسنا شد تھا ویدک درم کیا نوصار اور آٹ می اپاسنا ہے کہ جن کو میرا ساکشات کا رہوے تو ساکشات میرے بھی آدرنی پوجنی جنیے ستگورواتے میں آوطان لیکر ان کا چیلا بنتا
ایسے ستگورو مل گئے تو ساریو پاسنا کی ان چائی پر آپا جاؤ کبھی جی بھی کہتے ستگورو میرا سوروما کرے شبد کی جوٹ مارے گول اپریم کا ہرے بھرم کی قوت یہ بھرم ہو گیا کہ میں راٹا ہوں میں مائی ہوں میں بائی ہوں میں دوکی ہوں میں سوکی ہوں یہ بھرم ہو گیا سوکھ دو ہوتا ہمان کو میں ہوں کو جان نے والا ایسا دکھے ہو Iﷻا دکھے ہو Iﷻا دکھے ہو دکھے تو مان کو دکھے گا تیرے وہ اچھک مارنے کو مل گا Iﷻا ہوں جاپا پوڑی تو پہلے سوکھ میں آتے بھی دیا ہر کائی کو کرتے Perhaps for a for a میر کو ایسا کروں کی ستد سمراênے تو پاکل و جائیں گے ستد سمرانے ستد نام جب تیروں تو نام جب تیریں گے ستد تو خنا کب ہیں گے にんか appointed lease C Ray Satat か
Mw S G Bull La D me I ca De fi le کیا مالا گماتی ہو, ستتھ ہو پہلانے کے پت نہیں. آئیسے میں بھگوان کاوں, بھگوان میں رہے پر ستتھ تھوڑی میں بھگوان کاوں میں بھگوان کاوں میں بھگوان میں رہے. ستتاریوں مریوں, بریوں, بریوں مریوں, بھگوان میں پگل کنے جاؤ کے کیا? جدھا مجھوری کی پتہ چلے تو یہ ہے, نہیں پتہ تا تایدر اُدھر بھٹ کے دے پتہ چلے تو یہ ہے.
تو میرے بڑے باپوں کو جو مینت کرنی پڑی اس کا ساہو میں اسہ مجھے مینت نہیں کرنی پڑی. لیکن پھر بھی جو مجھے ہنجانے میں پاپڑ بھیل نے پڑی اس کا عجار میں اسہ بھی تو میں مینت نہیں کرنی پڑی رما و جمارے تو مارے لیگیا کرتھیں ہے. ابھی اسوں نے ایک کیا کرتھیں نہیں, بڑی طفس, ایساری طفسی ہوں سے جو نہ ملے وہ ایسی ایسی ایسی مل رہا ہی سمتے آستے کلتے. ایسی وہ کلی وہ دری وہ دھیان, ارنش کتی وہ برمجھان, کھاوے پیوے نہ کرے منا بھنگا کہیں نات میں تیس کے سنگا. کیا کرتھیں؟
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya