Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 5, 2026

Feb 5,2026 Thursday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Feb 5,2026 Thursday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

827 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 5,2026 Thursday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 5,2026 Thursday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

جن کے جpen میں اتمشانти پانی کی روچی ہے تت پر تا ہے بہی منوں اس پرطفی پر کے دیو ہو ہے دو پراکار کے دیو ہوتے ایک سورگ میں رہنے والے دیو اور دوس سے دارتی پہ رہنے والے دیو سورگ پہ رہن سورگ میں رہنے والے دیو تو اپنا پنیا کتم کرتے ہوئے سورگ کا مجھہ لے اور Prutfi parke jyodh deo hai, ve apna dhan punyasheva samrankarthi huye, pahapnashkarthi huye, radhe ka amrut bhi te hai, ve prutfi parke deo. Kabir ji ke pasdha goaan kahat, parwanda aaya ke santh tumpanharo. Kabir ji ke aakhume se aasu hagae, eshiliye nahi ki abhjana parta hai, marna parta hai nahi nahi. Kabir ne kaha, ki moji vahane ki chanai hoti ki wo ha satsang nahi milta hai. Ram parwanda bhejia, vachat kabira, rohe, kya karun teri mein kuntko jaha saad sangat nahi hoi. Sankad hirishi chara hai,

charao bhai bramwe ta hai, ek vakta banta hai aur tine sota banta hai, atma parmaatma ki Sirchakartefator hai, paramshanti me bhi stanti pati. Bhagwanka darshan karma se to muhos sagtai. Bhagwanka darshan karma ke bha Adli Kapat dagisúdege Bhagwan ka darshan karma se to muhos sagtai. Bhagwan ka darshan karma ke baad Hi Bhagwan ka darshan karma kende banned plat hai abhagda apain drunkameskal Bhagwanka darshan karmapm Gapat hai. Bhagwan ka darshan kare thaid वुवान कोशाکताpper धुवान क़रतो है किव peux उ गर कीदयी होता Magic तर लीगोकि तर लीगोगोर शे쇄वदशन क़रतो है म Soph किव लीगोगा क़न क़हूतहून उलऽी आमेग। सुरत काने transistor के लिवे डिவதang پھر بھی کروض موجود ہے.

یان کی آق جب تک نہیں کھلتے ہیں. تک بچہ رہاں دمی تھا پیڑے کھا تھا ہے. اور بھگوان کرشن نے ارجن کو اپدش دیا اور ارجن کو صری کرشن نے کرشن تتوکہ درشن کرے ہیں. ارجن کہتا ہے. نش تو موھا سمورتی لبضا ہے. تو پر صحادات مائا چتا ہے. ستیرو اسمی گتصندی ہے. کرشن نے مطوح. میرا موھنشت ہو گیا. تو سبجی کا درشن ہو جہی. رامجی کا درشن ہو جہی. کرسنجی کا درشن ہو جہی. لیکن جب تک ستگروں اتما پر ماتما کا درشن نہیں کرتا ہے. تک کام رہی سکتا ہے. کروض رہی سکتا ہے. لوگ رہی سکتا ہے. مورہی سکتا ہے. پاکھن رہی سکتا ہے. آنکار رہی سکتا ہے. صور پنگھانے رامجی کے درشن کیے تھے. اشھا کنی نے کرشن کے درشن کیے تھے. ایکن جب تک ستگروں تک طور کا درشن نہیں ہوتا ہے. تب تک اس جیو کی بیچارے کی سادنا آدوری رہی داتی. تب تک مان کے جگت میں ہی رہتا اور مان کبھی.

کبھی بیچارا مان کس تو کبھی ناراج. کبھی مان میں مجایا کبھی نہیں آیا. ایسلے کبھی رجنے ٹھیک کا ہے. بھٹک موا بھی دوگی نہ. پاوے کون اوبا ہے. خو جتک خو جت جوگ گئے پاو کو سگر آیا. یہ جیو چاہتا تو سانتی ہے. چاہتا تو مکتی ہے. چاہتا تو ہے اپنے نات کو ملنے کے لئے. ملتیو آ کر سرے چھین لے. جیو آناتھو کر مرجا ہے اس کے پہلے. اپنے نات کو ملنہ چاہے. لیکن بیچارا مان بٹکا دیتا ہے. بہار کے سنسار کی واسناوں میں بٹکا دیتا ہے. کوئی کوئی باک شالیوں کو پھر پنی دھان میں گھوماتا ہے. اور اُن سے کوئی اُن چاہتے تو ستسن میں ہاتے ہیں. اور اُن سے جب کوئی اور بھی آگے بڑھتا ہے. تو بھو ستے سرو پاہتما پر ماتما میں پونسٹا ہے. اُس سے فرم شانتی میں تھی ہے. تو بھگ وطگیتاکہ. یہ سلوک ہمیں. بھگوان یہ سلوک سنا کر ہمیں ساو دھان کر رہے ہیں. آپوری مانم مچلم پرتشتم.

سمدر ماپا پروشانتی یادوض. تدوض کاما پروشانتی سروے. سشانتی ماپنوتی نہ کاما کامے ہیں. جیسے سمدر میں ساریں ندیہ چلی جاتی ہے. پھر بھی سمدر اپنی مریادہ نہیں چھوڑتا ہے. سب کو سمالےتا ہے. ایسے اس نرواسنی کے پوروش کے پاس ہیں. سب کوچھ آجا ہے. پھر بھی وہ پرم شانتی میں نمگنا پوروش. جو قاتیوں رہتا ہے. تو ایسی جو اووستا ہے. اس اووستا کا خیال کر کے جو سادن بجن کی آجا ہے. آتنی جلدی پہنچتا ہے. تین باتےس تو سب لوگوں کو اپنے جیور میں لانی ہی چاہی ہے. یہ تین باتے جو آدمی نہیں جانتا ہے. وہ آدمی کے ویش میں پشو ہے پشو. تین آتنی باتے تو سہریک منشک کو جانی ہی چاہی ہے. ایک تو یہ کہ مرتیو کبھی ہو سکتی ہے. کھیں بھی ہو سکتی ہے. جیرام جکی ہے. مرتیو کبھی ہو سکتی ہے.

کھیں بھی ہو سکتی ہے. یہ بات پک کی جانی چاہی ہے. دوسری بات بیتا ہوا سماہ پھر واپس نہیں آتا ہے. اور تیسری بات کہ اپنا لکش پرمشانتی پرمات ما ہونا چاہی ہے. اگر تمہاں لکش اوضیان نہیں اور تم گھر سے نکلے. یا ترا کرتے کرتے مہینوں تک بٹک بٹک کے پھر وہیوں پونجائے. اگر لکش نہیں بنا کی آتے تو یہاں پاہنسٹے نہیں. پہنے لکش بنا نہ پر تاباد میں یا ترا شروع ہوتی ہے. ایسے بغوان کی باکتی کا اونچین میں اونچا لکش. ہم لوک نہیں بناتے. ایسلی ہم برشوں تک بٹکان بٹکتے بٹکتے. انت میں کنگلے کی کنگلے رہی جاتے. ماریچ کنگلے کیوں. باکتی کی حدن ملا. یس ملا. یہ تو ملا لیکن مارے تو کنگلے رہی ہے. سچادہن تو پرمات مپرہتی ہے. یہ تو مہر کا دھن ہے. یہ تو یہاں پڑا رہی جائے گا. ایس سریڈ کو کلایا پڑایا وہ بھی نہیں رہی جائے گا.

سچادہن تو اتما دھن ہے. کبھیر جنے ٹھیک کہا. کبھی رہی ہے جگنیر دھنا. دھن وانتا نہیں کوئی. دھن وانتا ٹے ہو جانی ہے جا کرامنا مدھنہ ہوئی. جس کے جیبان میں روم روم میں رم نے والا. پرمسان ٹی سرو پسو پسو پسو پسرو پسرو پسرو پسرو پسرو پسرو پس. رامنا مکہ دھن نہیں ہے. وہ دھنوان ہوتے ہوئی بھی کوئی دھنوان نہیں ہے. میں نے سنی یہ کہانی کہ کوئی ہتی مر گیا. یم پوری گیا یم پوری. یم راج نے ہتی سے پوچھا کہ ایتنا مٹا بڑا تا جا توانا ہتی. تو منوس شلوک میں پیدا ہو اور ایسے کنگلے کا کنگل ہا گیا. کچھ کمائی نہیں کی تنے. ہتی بولتے میں کیا کمائی کرتا. میرے ستو بڑا منوس شہ ہے وہ بھی کنگال کا کنگال ہا جاتا ہے. یم راج نے کا منوس شہ بڑھا کیسے ترے پیر کے آگے کھڑا رہتا تو منوس شہ چھوتا ہے. تو ایک پوچھا جاپڑ مارے تو منوس شہر گلاٹ کھالے. تیری ایک سونڈ دس منوس کو گماکے گرادے.

منوس شہ ہے. منوس شہ سے تو بڑھا مجھبت گورہ ہوتا ہے گورے سے بڑھا ہوتا ہے اور کئی پرانی ہوتے ہیں. اور ان سب سے تو بڑھا ہے. ہاتی بولتے شرید سے تو میں بڑھا ہوں لیکن کھر بھی میں بڑھا نہیں. منوس شہ مجھ پر رہتی کرتا ہے اس لی منوس شہ مجھ سے بڑھا ہے. ایک محافت مجھے چلاٹا گھماٹا پھراتا نہیں چاہتا ہے. منوس شہ بڑھا ہے. یم راج نے کا کھاکھ منوس شہ بڑھا ہے. منوس شہ دماؤتنا ہے چھوتا ہے. ایدر تو کئی منوس شاتے ہیں. منوس شہ بڑھے نہیں. ہاتی بولتے ہیں کہ آپ کے پاس موردے منوس شاتے ہیں. کوئی جندہ سے پالہ پڑے تو پتھا چلے کے منوس شکہ ہوتا ہے. جیرام جی کی پولنا پڑھے گا. یم راج نے کا اچھا تو میں جندہ منوس شکہ بھی مانگوہ ہلوں گا ان وفیشہ لی کسی کو اٹھا کر لیا ہے. یم دوت کو کہ دیا ہے. خری میں کوئی جوان سویا تھا کسان. رہتری کا سمئے تھا. یم دوتوں نے کھاٹ کے آئوں کو گھر کے سنگ کلپ سے جیسے لفٹ چلتیے سے اٹھا لیا ہو پر اس کو.

اس کے پران نکھا لے نہیں. سی دیکھا سی دا لے جا رہتے ہیں. اس کے نوتی تو تھی نہیں. ان وفیشہ لی اٹھا کر لے جا رہتے ہیں. اپر کی ٹھنڈی ہواوں نے اس کی سان کی نید کھولڈی. اس کے قتھا میں سنا تھا یم دوتا ہے سے ہوتے ویسے ہوتے ہیں. سنگتے کا سمئے تھا جیتے کا گرتا وہ دیکھیں. دیکھا کہ یہ تو میں یہ یم پری لے جا رہے ہیں. اگر ان کے آگے کچھ بھی بولا تو تو تو میں میں ہو گئی. جراسا قتیہ تیڑھا کریں گے تو میں ایسا گروں گا کہ ایک کی قتھی کہیں بھی کر گئے گئی پتانیں چلے گئے. ایتنا اونچا چلے گئے تھا گروت وہ کرشان. نیم کے قریب کریں پہنچا ہو گئے شاہید. اس آدمی نے کیا کریں دھیرے سے اپنے جیب میں ہاتھ دالا. ایک قاجت پر کچھ لکھا رچوب کے سے پر لیٹا رہا. یم پری میں ختیہ پہنچ گیا یم راج. نیم دو تو کو اور کہیں بھی جا. جلد باجی میں بزی ہدمی رہتا ہے. بھل جاتا ہے کون کیا کیا آلا ہے. کسی دوسرے یم دوٹ کو اس آدمی نے چٹھی دی. چٹھی لے گیا یم دوٹ چٹھی میں لکھا تھا.

آنے والے اس آدمی کو میں یم پری کا چیرمین بناتا. امپریسیدنٹ بناتا. نیچے سگنچر بھگوان آدمی آرہ انویشنوں. یم رہت تو اٹنیشن میں آگے کی ہدمی پریسیدنٹ اور یم پری. اس کو بناتی آتی لکھ پیلک کرک. اب جو کچھ دیسیشن لینہ ہے. اس کی سگنچر چھاہی. اس کا سنکت چھاہی ہے. کوئی پاپی آیا ہے. مہراج اس کو کیا. کون سے نہ رکھ میں بیجیں. ملے وائنکٹ بیج تو. گیا وائنکٹ. کسی نے اپنی پتنی ہوتے ہوئی بھی. کئیوں کے ساتھ گڑ بڑ کی. مہراج اس کو کون سے نہ رکھ میں بیجیں. بہلے وائنکٹ بھی تو. کیسی نے ویدوہ مائیوں کا دن نہ defines. دی پوزیک دا دب کی. مہراج اس کو کون سے کم بی پاق میں دھالے. یا کون سے نہ رکھ میں دھالے. بہلے وائنکٹ بھیج تو. جو بھی آئے وائنکٹ وائنکٹ. وائنکٹ وائنکٹ. دھوڑے دی نو میں وائنکٹ بر گیا. بگوان نہرہ انسوچ نے لگے. चने नीगे तो तिर्मार भ़ारह इस़्े आद्म स्शाक्याथ करे दोछे हो पुरुभा ँबे भिरुवे सहाए वहे आब कर रषाएवे लिखा हैजिन का सड्म्जन कर डरषाएचा एर दुषाए बहे न्मान सहाएप हो जवाय हैं आद्म रोगे ने होनता हैं तो मेरा व�

میں تو کہบள یا vair ہوتی ہے۔ لیکن پر ماتھمہ اور پر ماتھمہ کو پہئے ہوئیسا кشاکشات کری پروش میں کہبل یا vair کی جیڑھ نہیں ہوتی ہے. وہ تو سنکل پیماتھ رہ ہوتا ہے پر نہیں ماتھ رسے تھا۔ من میرو پنچی بہیں ہو اودنلاگیو آکاش ہے صور گلو کا خالی پڑو سا ہے بسنطن کے پاسے پر بجی بلسے سادھ کی رسنا اور پر ماتھمہ سادھو کیجی وپر نحسٹا ہے۔ بسٹا ہے۔ اور ایسا کو ایسا دو, میں نے بھیجے نہیں. تو یہ سب کے سب لوگ وینکٹ میں آگے کیا بات ہے. یہ مرحج سے پچھویا, یہ مرحج نے کہا کہ کو ایبرمگہ نہیں, اتنساک شاکشات کری پروس درٹی پہ پہنچ بے ہیں اور لوگوں کو کرمکان کرواتے, کرواتے, اس کیٹن بجن کرواتے, کرپا برسا کے برسون کو وینکٹ کا دی کری بناتے. ایسی بات نہیں ہے. یہ آپ نے جو بھیجا ہے نے, مکیا وہی سب دیسی جن لیرا ہے مرحج. بگوان سوٹے, میں نے تو کوئی مکیا بے جانیں. چلو ہمیں سوے ماتا ہوں. بگوان آئے, یامرہ جوٹ کرسٹی کرتے ہیں.

بلے کون مکیا ہے, بلے وہ جو بیٹھا ہے, پریسیژنٹ, آپ نے بے جا ہے. بلے میں نے دو نہیں بے جا. بلے یہ آپ کی سئی, آپ رکھا آپ کا سکنے چھر. بگوان بلتے, ہادی نہ رہے ہیں. میرا نہ, مکیا کو وہ لہا کہ بہیں, میں نے ترے کو کب بے جا تھا. اور میں نے کہاں سے گئی تھے, یہ تو میرا نام کی جا لیسائی کر دیا ہے. وہ بولتے کہ بگوان, یہ ہاتھ پیر سب تماری شکتی سے چلتے ہیں. پرہنی ماترا کے ردے میں تم ہوں. یہ تمارا بچان ہے. تو جو کچھ میں کرتا وہ تماری ستتا سے ہوا, تو تمہی نے کیا, ہاتھ کیا کریں, مشین بیچاری کیا کریں, چلانے والا تو وہی ہے. اوما دارو یوشی تکینا ہے, یہ سبائی کرہا وطرام گوسائیں, یہ رامائن میں بھی لکھا ہے. پیشفر ہو سربہ بھوتا نہ, وردے شہر جو نتیشتتے گیتا میں کہا ہے. اگر میں آپ نے نہیں سے کروائیں, تو میں اپنی بات واپس لیتاوں لیکن بگوانے ایک حال کرنا, کہ آپ کوئی رامائن بھی نہیں مانے گا, اور گیتا کو بھی نہیں مانے گا. کران کراہا نہ, ہر سوامی سکلگ, دان کے انتر یامی,

یہ شہتر بھی کوئی مانے گا نہیں. آپ تو کہتے کہ میں سب کا فریدکھوں, تو یہ میری کو پرینا کرنے والے بھی تو ہاپی ہوئے, تو ہاپ کا نام لکتے ہیں. اگر میری کو آپ جوٹھا ساپیت کرتے ہیں, تو ہاپ کے شاہتر بھی جوٹھے ہو جائیں گے. تو لوگوں کو پھر باکتی باکتی کیا سے ملے گی, سنسار نرک بن جائیں گا. وگوان مولتہ بات تو سی ہے, ہے رہے جننا منوشے. یہ مراج کے طرف نہیں ہارتے ہیں. اچھا چلو بھائیں, یہ سای کرنے کی ستا میری ہے, اسے لیتوں نے میرا نام لکریہ. ایکن جو بھی آئے پاپی اپرادی, سب کو تن, وائنکٹ کیوں بھی دیتا ہے. جس کا جیسا پاپے اس کو ایسے سے سجادوں, سود دو ہو جائیں گے. بلے بھگوان میں سجادے نے یہ نیوکت نہیں ہوا ہوں, میں تو انوپیشہ لیا ہوں, اور چاہردن کی قرسی ہے, کوئی پتا نہیں کب چلی جائیں گے. جیسے چاہردن کی زندگے, جو ست کرم کرلیا سو کرلیا, ایسے چاہردن کی میری انوپیشہ لیکورسی ہے, جیتنا ہو گیا چاکام کرنا ہے. اور کہتے ہیں کہ بھلا کرے تو بھلا ہوئے.

جو آروں کو شکر دیتا ہے, کھڑ بھی شکر کھتا ہے, آروں کو دھلے چاک کر میں وہ کھڑ بھی چاکر کھتا ہے. کل جگ نہیں کر جگ ہے, ایک ہاتھ دے, ایک ہاتھ لے, نیکی کا بدلانے کہے, بدوں کو بدی دیکھلے. اسے تو دنیا مچھ سمجھ بھییا, یہ ساگر کی مجدہر ہے, اوروں کو بھیڈا پار کر تو دیرہ بھیڈا پار ہے, تو میں ان سب کا بھیڈا پار کیا تلی تو آپ میری پاس آگے پھر میں ایسا دندھا کیوں نہ کروں. اگر میں ان کو نہ بھیشتا ہے, تو آپ بھی نہیں آتے, آپ کی دیدھار بھی نہیں ہوتے, تو میں نے تو اپنے بلائے کا فلتو پالیا ہے. نگوان لام بھی سنس چھورتے وکے ایک کریں کہے, چل بھئے, ان کو بھیشتے تو بھیشتے ہے. اب تو اب تو پھنے کمالیا میرا درشن کر لیا, ان کو میں واپس بیٹا. بھلے بھگوان ان کو واپس بیڈا گے تو پھر آپ کے درشن کا فل کیا پھر نہ رکھ میں, تو پھر آپ کے درشن کی محیمہ کیے سے, بھلے چھا تو تو چلا جہاں پر ہوتے,

بھلے میں نے اتنے لوگوں کو طارا اور آپ کا درشن کیا اور پھر بھی مجھے سنسہر کی مجھڑی کرنی پڑے, تو پھر آپ کے درشن کی اور ست کرم کی محیمہ, پھر سوھا گا گھوم جائے گا, وان سوچھے رے, تو تو بڑھا بھکی کا باپ نکلا رہے تو, اوپیسلی باہتے ہیں, اتدیات میں گیانک سنیو تو باتے بھگوان بولٹے, اچھا بہیں, وہ ان کو تو میں نہیں گرا ہوں گا, بھلے وہاں رہے, اب تو یہ سیٹھ چھوڑ, تو بھی اوپر چل وائن کوٹھ میں اور بھلتا میں اکلہ نہیں ہوں گا, جیسا ہاتھی کے میس سے, ہاتھی کے نمیت سے میں آیا ہوں, اسی کو اگر پہلے آپ سنگشن کرتے ہیں, تو پھر یہ داست آنے کو تیارے ہیں, بھگوان بولٹے چل بہیں, ہاتھی دے ہو تو بھی چل بہیں, ہاتھی سون دو اوچی کرے, یہ مراج کو بولٹا کہ, جیرامجی کی, جیرامجی کی, یہ جندہ منوشہ ہے دیکھا, منوشہ کے اندر, اتنی سمبھا ہونہ ہے,

کہ وہ بھگوان کا مائباب بھی بن سکتا ہے, جیرامجی کی, بھگوان رام کے مائباب, دسرت اور کوشلیا تھے, بھگوان کرشن کے مائباب, بسودے اور دیو کی تھے, منوشہ کی, اتنی اوچی سمبھا ہونہ ہے, لیکن اگر ستگروں نہیں, ملتا اور سیدی سادنہ سکس میں نہیں, ملتی ہے تو, منوشہ بٹکھ جاتا ہے, بھگی بھگ میں بٹکھ رہے, چاگ میں بٹکھ رہے اور بہت بیچھارہ بھوناوں میں بٹکھ رہے, کونوں پاہے, خو جتکھو جتا, یوگ گئے پاہوں کو سگہ رہے, بھگتت بگی سے تو بھگتا چاہے, کہ آپ کے انگار سے تو بھگتا چاہے, لیکن بھگت بیچھارہ بٹکھ رہے, اسی لیے شاہسٹروں نے کہا, سنت جنامی لہر جس گائے, اُن چکوٹی کے مہا پروشوں کے چرنوں میں بیٹ کر رہے کا جس گاؤ, اُن سے مارک درشن لے کر پھر چلوں, اس کبھیر نے کہا, سہ جو کارج سنسار کو گروبی نہ ہوتنا ہی,

ہری تو گروبی نہ کیا ملے, سمجلے منمائی, سہ جکاری, آتا گننا ہی نے روٹی بنانے کا آتا اس میں بھی کوئی گرو چاہیے, آتا گنے کے لئے بھی, بیٹھی کو بہو کو کسی نے کسی سے سکھنا پڑھتا ہے, سبجی بنانی نے تو پہلے کسی سے سکھنا پڑھتا ہے, تو جیو اتما کو پرماتم کا ساکشات کر کرنے والا بنانا ہے تو جرور ستگورو سے سکھنا پڑھے, ستگورو میرا سور ما کرے سبھت کی چوٹ مارے گولا پرمکا ہرے ورم کی کوٹ تلسی تلسی کیا کرو, تلسی بن کی گھاس قریبا بھی رگھنا تھا کی تو ہو گئے, تلسی داس, تلسی داس جب سادی کے تھے تو اپنے پتنی کے پر تھی ان کو بڑھی کام ماشنا تھی, ایسی قتھا کہانی آئے, پتنی مائے کے چلی جا ہے تو تلسی داس کو وہی جانا پڑھے, ایک بار تو انہری رہت میں کتھ پڑھے کسی شاب کو لکھ کر سمجھ کرنے دی پار کر لی, ان دی تو فان,

ان دھی رہتوں, میں وہ اپنے سس رہل گئے, پتنی سے ملنے کے لئے, دیکھا کہ کھر کی پر کچھ رسا و سا ہے, اس آجگر کو رسا سمجھ کر سامت کو, کتھ پتنی کے کمرے میں پہنچے, پتنی نے کہا کہ اس اندری رہت میں آکھے سے پہنچ گئے, ندی پارکھے سے ہوئی, اور ایدر کھر کی کتھ کے کئے سے آگے, بلے پریے, دونے رسی جوان رکھے تھے, پتنی نے لالٹن کی دی بیٹھوںچی کر دیکھا, رسی تو نہیں ہے تو, سامت ہے, اتنا کام بکار میں آپ اتنی بلوان ہے, آپ کی باس نہ اتنی تیج ہے, کی وہ, مردے پر, مردے کا سہرہ لے کر ندی پارکے اور سہرپ کا سہرہ لے کر آپ میری کرکی کے میں قدے اور پھر بضلے میں ملے گا کیا چھمڑا چاٹھ دیس میں ہے, شریع کمجوری, حادماث میں میری حادماث میں اتنی تمہاری پریٹی ہے, اس سے آدی اگر وگوان کے پرٹی ہوتی تو تمہارہ بیڈا پہر ہو جاتا,

پتنی کے دوارہ مانو پر ماتمہ انتریامیشور گروک کا کام کر رہے, حادماث کی دے, ہمامہ طامیں اتنی پریٹی یا تی آدی جو رام ابرتی آو سمیٹے بھا بیٹی تل سیداز کر رہے بضل کے آبولے پھر سے بول وتنی گیتی کی حرماث کے سرین میں جیتنی مہووت ہے, چمڑا ہٹا کے دیکھو تو آنتے ملیں گے, مونس ملے گا نس ناریہ ملے گے, دو خدی حدیہ ہے اور چھوٹی آدی حدیہ ہے, اندر میں جو خلی جگا وامل متر ہے, ناک میں, ناک سے لینت نکلتی ہے آک سے کیچر نکلتا ہے, کان سے مہلا نکلتا ہے, مونس سے تک نکلتی ہے آبنیچے کے اندریوں سے کیا نکلتا ہے, جانتے ہو, جرا سا سمڑا ہٹا کے دیکھو تو کیا حالت ہے, پھر بھی اسری جو کہا رہا لگ رہے تو اس چیتن نے اتما رام کی دین ہے, اس رام کے پیار کو پاو اس ہادماث کو کہا رہے کیا رہے کے قبطت تم کشی امنا ہوگے لگ گئی بات

بولی آج سے تم میری گرو چلے گئی کانت میں بگوان کی آگی آسوبا کے پرات نہ کرتے ہے پر مات مات میں کامی ہوں, میں کتل ہوں, میں دیرہ باک تو نے کے لائک نہیں ہوں میں سنت ہوں نے کے لائک نہیں ہوں تو کم سے کم تو مجھے ترے سنت کا اکششتے تو بنادے کوئی سنت کا مجھے بگت تو بنادے اتنی تو دیا کرتے پھر وہ سنت روے ہیں کہ میں سنت کا سشش بنوں یہ بھی کوئی کرم ہو نے چاہے پاپی آدمی کیا سنت کا بھگت ہوگا کیا سنت کا پر سادہ لے گا میرے اتنے بھاپ ہیں کہ میں سنت کا سشش نہیں ہوں سنت کا بھگت نہیں ہوں سنت کا ساتھی نہیں ہوں سنت کا ساتھی نہیں ہوں تو کم سے کم ترے سنت یہ بہت یہ ویشنوں کے دوار کا مجھے تو گھو بنادے کہ میں رہ دو دھرے سنت کی سیوہ میں جائے اور دھر سبر میں راکہ لیان ہو جائے میرے رامجی اتنہ تو جارور کرنا پھر تو سی دا سی سنت کے

سنت کے دوار کی گا ہو بنے کے لئے بھی تو کوئی پھنے جائے میں تو کامی ہوں کوٹیل ہوں سنت کو پکڑ کر پتنے کے پاس جاتا ہوں رسی سمجھتا ہوں سنت کو اتنہ کامان دھاہدمیں سنت کے گھر کی گائے کی سے بن ستا ہے ہے بگوان سنت کے گھر کی گائے نہیں بن ستا ہوں تو کوئی بات نہیں تو مجھے کم کسی سنت یا ویشنہوں کے گھر کا گھرہ بنادے وہ مجھ پر سواری کر کے قتھا کرنے کو جائے گا میری سیوہت ہوڈی سوی کر ہو جائے گی اور دھر سبر میں تج کو ملپا ہوں گا ہے ہے بگوان مجھے گھرائی بنادے ترے بھر تکا ترے سنتکا منی ہی منگن گناتے آپ بھی کبھی منی ہی من کمرے میں بگوان سے بہت چت کروں کہ بگوان جندگی پسہ رو رہے تری بھکتی مل جائے تیرہ دیان مل جائے پر عمشانتی کا پر ساد مل جائے دنیا بھر کے باتے تم نے بہت سنی لالا بہت کہی بہت کہ ہوگے لیکن اس سے آخر میں کچھ نہیں ملے گا ریتے رہ جائیں گے کبھی کبھی اس دنیا کے سوامی کے ساتھ بہت چت کروں

کبھی رو رو نہ نہیں آتا کبھی اس کو پہر کرتے کرتے حسو دیکھو پر دیرے دیرے تمہری ہو چتما جگے جو جو آپ انترم گوپاسنا سادنہ کروگے اندر کے دیوتا کا درشن کرنے جاؤگے تیوں تو آپ کی پر تہتی جائے گے بہار کے درشن کرنے میں تو تمہلائیں لگانی پڑے پرچی پھڑانے پڑے درشن ہو چھائنا ہو لیکنیا ہاں اندر کا دیوتتو جب چایئے تب درشن کرنے تو تمہلائیں لگانی پڑے گی پرچی پھڑانے پڑے درشن ہو چھائنا ہو لیکنیا ہاں اندر کا دیوتتو جب چایئے تب درشن کر سکتے ہو اور اندر کے دیوتے درشن ایک بار ٹھیک ہو گئے تو پھر بہار کے دیوتے تمہلے درشن نہ بھی کئے تو کوئی فکر کی بات نہیں ہے تمہرہ جہاں بھی ہو وہاں دیوی ہے پڑھل سی داستی کہتیں کے پر بھو میں گا ہوں نہیں بن سکتا گھڑا ہی بنادے گھڑا بھی بننے کے لئے پھنے چایئے اب تو پر بھو اور دوسرا کوئی اپائنے ترے پیارے

ترے کو انو بھو کیے ہوئے کسی ویشن ہو کسی مہپرش کے دوار کا مجھے کتا ہی بنادے دا کہ اس کی نگہ پڑتی رہے گی میرے پاپ کریں گے اس کے ہاتھ کا ٹکڑا کھاں گا میرا دل پہ بیٹر ہوگا اور در سبر میں ترے دوارتگ پہنچ پہوں گا اس لیکن سنت سنت سنت کے دوار کا کوتا بھی بنادے گا تو میرا کا لیاں ہو جا ہے سلھے رہے کی پراتھنا انتا کن کو پہ بھیتر کرتی ہے بھگوان کوتا کیوں بنادے گوڑا کیوں بنادے گائے کیوں بنادے بھگوان نے تو سنت بھگوان نے تو تلسی کو سنت تلسی داس بنادیا تلسی تلسی کیا کرو تلسی بن کی گھا سکریپا بہی رگونات کی تو ہو گئے تلسی داس اس رگونات کی قرفہ کو پہنے کے لئے آپ بھی چھیک پٹاؤ کبھی یت نہ کروں ایتمام زندگی کا سمائے پیتا چلا جا رہے آپ کتنہ آئے باکیے دیکھ سال دو سال نکالا کرجے پاچھ سال نکالا کرجے پاچھ سال نکالا کرجے سال بھی سال آکھر کیا تو یہ جیبن بھئے بیتگنگا کی نہیں بہر آئے اس میں سے اپنا سمائے

بچا کر کام کر دو پڑا رہے گا مالک ہجانا چھوڑ دریاز ستجانا ہے کر ست سنگ ست سرکیشور کا سنگ کر ست سنگ ابھی سے پیارے نہیں تو پھر پستانا ہے کلا پیلا کے دے بڑای وہ بھی اگنی میں جلانا ہے کر ست سنگ ابھی سے پیارے نہیں تو پھر پستانا ہے اس ست سرکہ سنگ کروں سو بنین میں سے اٹھو تو سنگ کروں کے تیرہ سنگ کیسے ہو کبھی بہیوار کرتے بھار بار سو چکے ہمے رہا پر ماتمتو میرے ساتھ ہے لیکن میں ابھی تک تیرہ سنگ نہیں کر رہا ہوں مرنے والی چیجوں کے سنگ میں پڑا ہوں میٹنے والی دوسٹی کے سنگ میں پڑا ہوں لیکن امیٹ میں رہے مالک تیری دوسٹی کا میری کوکہ براگ لگے گا تو دیا کر دیں سچ رہ دے کی پرہتنا آم کر لے گی اگر سچ رہ دے کی پرہتنا نہیں تو کم سے وہ بھی سچی بن چائے گی بگوان کہتے ہا پوری مانم اچلام رتشتا سموڑ رمہ

پر بشانتی یادوت تدوت کاما پر بشانتی سروے سشانتی مابنوتی نکاما کامی حلکی چیج کو نکالنے کے لئے حلکی کامنوں کو نکالنے کے لئے اچی کامنہ کرنی چائے جیسے کارٹے سے کارٹا نکلتا ہے آئیسے ہی حلکی فواسناوں سے حلکی کارموں سے اپنے درہ دل، کورکنہوں کو پیprising کرنا ہو تو اچی کارمہ لگڈیکے اپنے دل کو حلکی آドتوں کو دور کرنا ہو تو اچی آداد دل دل دل دل دل دل دل دل çہ ہے ب کوان کے دل çہında دل çہraszam ل olvidاروں سے organisation نکلا جúھ times ویڈی ویڈی پھر سوڑھے سنھوں کے وچنھ سنھ کر پھنی کو سنھ سہر ملاو تو جیسے کانٹے سے کانٹہ نکلتہ ہے ایسی ستھ سنھ سے کو سنھ نکلتہ ہے اور سوڑھ سنھ سے کوڑھ سنھ کا حکر سنھ نکلتہ ہے اور دیر سبیر کوڑھ سنھ ہٹھ جائے تو پھر سوڑھ سنھ تمہارہ سو بہو ہو جائے گا

میں نے بنتی کہتی کہ بھگوان کے درشن کیا لیکن ستھ سنھ نہیں ہے تو مو ہو سکتا ہے گروڑ بھگوان کے سےوق تھے گروڑ بھگوان بھگسنو جب راما ہوتار میں آئے راما ہوتار میں آئے تو میکنات جی سے جب بھیڑنا پڑا تو میکنات جی نے ناغ پاس میں رام جی کو بان لیا نارت جی گئے کہ گھوشن کے گروڑ کے پاس کہ ٹھا کر جی بنے ہیں جہو مدت کرو سیوہ کرو گروڑ بھگسی کوئی سادہان پکسی نہیں ہے پکسیوں کے رایا ہے بے جب اران بھرتے ہیں تو ان کے پنکوں سے سام بےڑ کی ریچائیں گنجتی ہے اتنے ہنچے او آئے گروڑ آئے تو کئی ناغ تو ایسے روانہ ہو گر باکی کے ناغوں کو گروڑ جی نے اپنی چاہت سے ٹھکانے لگا دیا رام چندر جی نیربند ہو گئے رام جی تو نیربند ہو گئے لیکن گروڑ کو مو ہو گیا کہ یہ بھگوان کیسے اگر میں نہیں آتا تو یہ ناغ باش میں بندھے رہے یہ بھگوان کیسے گروڑ کو مو ہو گیا

مو ہونے سے شانتی بھنگ ہو گئے گروڑ جی بٹکنے لگے بٹکتے بٹکتے گھومتے گھامتے آخر گروڑ جیس اشانتی متانے کے لئے ستسن کی ضرورت میں سوسکتے ہیں اور بھگوان سیو جی کے پاس گئے کہ بھگوان مجھے اپدیش دیجی میں بڑا دکیوں اشانتوں کب سے اشانتی ہوئے کہ جب سے سری رام چندرجی کو ناغ باش سے چھڑایا تب سے اشانتی ہوئے من میں آیا کے بھگوان کیسے یہ سچ مجھ میں آدین آرائن ہے کہ دیسرت کے پترة رام ہے ونواسی رام ہے رہام کے پرتی میں رمن میں ایسا ہو گیا تب سے بڑی اشانتی ہے سیو جی نے دیکھا کہ یہ تو اپنے کو چتور سمجھتا ہے میں نہیں ناغ باش سے بگوان کو چھڑایا اس کو جراکت اپدیش تو ملے ریکن اس کا احم دور ہو ایسی جگہ پر بھیگنا چاہئے پکشیوں میں شدراسی شدرا جاتی قوے کی ہوتی ہے اور اُنچی سے اُنچی جاتی گے گروڈ کی جیسے کسی سمرات کو چپراسی

اور وہ بھی بے کار چپراسی ریجیکٹس سے پراسی کہ دوہر پر برطن بھیجنے ماجنے بھیجو تو اس کی ہے اُس کے احم غلانے کی پرکاشتا ہو گئے کوئی شکراورتی سمرات ہو اور ریجیکٹ چپراسی کے دوار کے برطن ماجنے تو اس کے احمان کی کی مطرحی کھگ کی باشا کھگے ہی جانے تم بھی پکشی کا ہو ابھی پکشی جہا اُس سے بھگوٹ کا تھا سنو تو تمارا مو دور ہو گا گروڈ کی گئے ہیں کاگ بوشند کے امسری مقصے بھگوان کے گنگان سنے ہیں ست سنگ سنا ہے بھگوان کے درشن سے تو مو ہو سکتا ہے لیکن بھگوان کے ست سنگ سے مو دور ہوتا ہے تو درشن سے بھی ست سنگ ہو گیا تو تم ست سنگ ہے وہ آدمی کو ست سروب ایشور میں بیٹھا تھا ہے سانت سروب پرمات مقانم ہو کراتا ہے انتر آرام انتر اصوک انتر جوت ریوچا ہے انتر کا آرام انتر کا اصوک اور انتر کی گیان کی جوتی جگا تھا ہے یہ دیے کی جوتی تو گرم ہوتی ہے

اور وستوں کو جلاتی ہے لیکن انتر گیان کی جوتی جگ گروڈ جگا دیتے ہیں تو وستوں کو جلاتی نہیں ہے لیکن جیبان میں پر کاش لی آتی ہے سانت لی آتی مادھورے لی آتی ہے جن کے ردے میں وہ اچل سانتی ہوئی ان کی آقھوں میں جگ مگا تھا آنند سانتت ردےوں کو سانتی دینے کا سامرتیا اگگان میں اولجے ویجیوں کو اتمگان دینے کی ان کی شہلی اپنی ادیتی ہو دی ہے ایسے پرش سنسار میں جیتے ہیں لاکھ لوگوں کا انتر کر بگوطاکار بنا دیتے ہیں اور ایسے کرنے میں آپ سکشم ہو سکتے ہیں اگر آپ ستسن کا ساہرہ لیکر دل مندھور میں جانے کا پر آس کریں کبھی بھی کوئی بھی دک یاسک دینے والی گتنائے تو اپنے گیان کا ساہر ہلو

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →