Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 3, 2026

Feb 3,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Feb 3,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

660 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 3,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 3,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

جس کو پہے بنا آدمی کنگال, اور جس کو پہے بنا منشش کا منشجن میں ویرت, جس کو جانے بنا سب کچھ جانا ہوا توچھا, جس کو ملے بنا سب میٹروں سے ملنا مجھوری. ایسا پر ماتمہ سداز سروطرس سب سے ملاو آئے اور آج تک پتانی یہ آج چری ہے ستسن کی بات, کیا بات؟ مچلی تو شاید پانی کو چھوڑ سکتی ہے ایک سکن کے لیے بھی, پانی کے بنا کی جگا میں ایک سکنڑ ستپتا سکتی, آدم اسے قدر پر تی پانی کی, اور پانی میں ہوتی تو اس کو پتای نہیں کے پانی کا کیا ملے؟ جب پانی سے بہار آتی ہے تو چھپتا ہات ہوتی, تو اس کو پتا چلتا کیا رہے, ساگر بھی کوئی چیز ہے.

اما نشے کی بھی تمنا یہ ہے کہ تم پر ماتمہ کے سے ایک شندی بہار نہیں نکل سکتے, اسی لیے تم کو چھپتاہت کا بھی ہوتی نہیں, یہ ستسن ہے آج کا. خدا کی کا سمکھا کے بہلتوں کیا بات؟ یہ بات ہے سچی یہ دونو ہاتھ در دی ہے. ایک شندی بھی ابورت میشور سے اللہ گھو جہو تو پتا چلے کی کیا اس کی کی مات ہے? اب ہی سواز چل رہتیس کی کوئی کی مات نہیں. ایک شند کے لئے تمہرہ ناک داب دے, ممشورر داب دے تو پھر درہ لگے گا اور ایک منات کے لئے داب دے تو پھر پتا چلے. آئے ناک نا دابے, ناک سے تم ساس لتے رہو لیکن تمہرے انگوں کو دہمر لگا دیا جہا. یہ روم کو پہو بند کر لیا جہا, تو آپ پندرامن سے جادہ جی نہیں سکتے. اب ہی روم کو کوئی منات سے ساس لتے, پھر اس کی کیا جو رہتے؟ یہ پتا نہیں تھا کہ ہن کے بنہ بھی ہم نہیں جی سکتے. گانا گاتے تے رہی بھی کیا جی نا رہے جہا, دکھو,

تو کہتے گئے اور وہن کے بناء کو جیتے گئے اور کیا کیا کرتے گئے? اس تک پھر کے بناء, اس تک پھر کے عدار سے وہ تک پھر ہی سا رہے. رہا جانیک دن سے دیکھو, دیدانتیک درستی سے دیکھو, پراکتیک درستی سے دیکھو. یہ جو پرثی خری ہے, توس دکھ رہے ہیں. اسے 10 گنہ جل ہے. انجل کے سہارک ہری ہے. بیٹ جو نے بیٹ, ندی میں بیٹھ دیکھتے ہیں. ایسے, پرثی سے 10 گنہ جل, جل تیج کے سہارک ہری ہے. تیج وائو کے سہارک ہری ہے اور سب کا سہارا دینے والا آکاش. سب کو, علمان دے رہا ہے. اور وہ آکاش, کا سہارا ہے پرکرٹی, مہتتوہ.

مہتتو کا سہارا ہے پرکرٹی. اپرکرٹی کا سہارا ہے پر اس. اب وہ بہار بھی, ویسٹی, سمجھٹی میں اور بیٹھ رویسٹی میں. تو مارے شریع میں پر تطو ہے. جل تطو ہے. تیج تطو ہے. ہے کہ نہیں ہے. تیج تطو نہ ہوتا تو آکہ دیکھتی کیسے. جل تطو نہ ہوتا تو یہ پانیہ, پاسینہ, اور یہ رکتا. تونک لات. وائو تطو ہے. اس واس لیتے پان. پھر پانچ ہو جاتے پرانا پانوہنو دن سمان. اور آکاش تطو بھی ہے. کانا کے ردے. تو یہ شریع میں بھی ہے. پنچ پرکا کہ پانچ بھتوں کہ مہا بھتوں کہاں گئیسٹی, یہ شریع. مان بھتی اور آنکار. یہ اشتدہ پکرتی, تمہا رہی شریع میں بھی ہے.

بہار بھی. اب بتا و کہ اشتدہ پرکرتی میں تم نے 40 سال, 30 سال, 55 سال, ابھی انہوں باو کیا. اور اس کے پیلے بھی اشتدہ پکرتی, کے شریع میں لے اس کے تمہا انہوں باو کرتی آئے. اور اس پرہ کرتے کے اشتدہ پر کرتے کے سنیوگ جنیا سوکھ یادی ٹکتے تو ایک ایک دن میں تم نے ایک شنے سوکھ کے لئے ہوگا لہو لہو سوکھ لیتے لہو لیتے سوی کی نوگ پہ پانی کا گیلان دھولوں سوی کی نوگ پہ جتنا پانی ٹکے اتنا ایتنا بھی سوکھ ٹکتہ تو کرو رو جنم میں تم سوکھ لیتے آئے سیوگ جنیا سوکھ تو ابھی سوکھ ہوتا وگن بھرے ہوتے گدا مبھر جاتے سوکھے تو سیوگ جنیا سوکھ سیوگ منا کیا

دن تو تیجوری میں لیکن آہم بولتا کے میرے پاسات لاکھے مقان تو جمین پر ہے لیکن آہم بہنا کرتا کے میرا مقان تین منجل کا ہے پتھر تو بجار میں گوم رہے ہیں ہمیرہ بیٹا ہے تیرا بیٹا نہیں ہے وہ تو سوکھ قا بیٹا ہے لدی میں سوکھ ملے گا تو اس کا پیچے جہے گا گا گا دی میں ملے گا تو اس کے پیچے جہے گا دائورس میں سوکھ دے کہ کرتے گا بیٹا سوکھ قا ہے تیرا بیٹا نہیں لیکن سوکھ اس بیٹا رہ کو پہنچا نہیں سیوگ جنیا سوکھ منے جو��다 بیٹا رہے تو یہ جو سیوگ جنی سوکھ ہے, ان سیوگ جنی سوکھوں سے آج تک ہم یہ دی سوکھی ہوتے تو سب آدمی ترپت ہوتے. جو وہاستہ ویک سوکھ ہا اس کو تو پیٹھ کیا اور جو سوکھ سے دور لے جا رہے ہیں.

اس کے پیچھے ہم پڑے. میں نے بتائے تو مورگی کی کہانی کہ ویگیانی کو نے کیا کرا کہ مورگی انڈے دیکھا بچوں کو بنا رہی تھے. بچے سے ہو رہی تھے. بچہ جب نکلیں کو تھا بچے کے مدد پوری ہوئی انڈینٹ مورگی نے چاچ ماری. اندہ پھٹے بچہ نکلے, بچہ نکلے اس گھری کیا کرا ویگیانیوں نے کہ مورگی نے اندہ کو تو چاچ ماری. بچہ جو موم بہاں نکلتا ہے. اپنی چاہچ بہاں نکلتا ہے تو ویگیانی نے کیا کرا کہ اصلی مورگی ہتا دی. اور اس کے آگے بچہ کرک دی. بچہ کیا گیا. بچہ کو پھسٹیم پریشن پڑا کہ یہ میری ما ہے. بچہ بچہ کی پیچھے جانے لگا. بچہ پانکہ طرف جاتی ہے. اور بچہ کو میں گومتے ہیں. اس کاตہ بھاputer نے پوسی ہے.

پر بھی ایک گومتےوں کا بھاputer نے چاہچ کیا کرکے بچہ گرگرد من دارا ہے. وہ واقعہ بچہ رہی جو اصلی مام ہے واں وپنے پنک فھالا کر بلσα ہے. اس پیچھ دم پری پڑی کر رہی ہے مام. لیکن وہ نہیں جاتی ہے. اببتہ کے چاچھے ماری ہے اس کا پیچھا چاہٹا نہیں. اور وہ وہ بلσα کے نہیں ہم جاتی ہے. رہاں کو ٹھندی میں ٹھٹھر رہا ہے پھر بھی ما کے پاس نہیں جاتا بطب کی چاہوں سے کھا رہا ہے ایسا کیوں ہوا کی جنمتے وقت پھاستیم پریشن جو پڑی نوس کو فاکہ سنو دھر کا ہو گئے ایسے کئی بچوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ہزاروں جنموں سے بکھا کو کی چاہتے آئے کوئی میں پرہ بچا ہوں کو دیے پرہ بچا ہے کوئی دھنوان بچا ہے کوئی نیدھن بچا ہے لیکن بطا کی چاہوں سے کھا رہا ہے

ایک ہوتی پرہ پر کرتی دوسیوتی اپرہ تو دیسے بطا کر مرگی ایسے پرہ اور اپرہ مدیا رہا ہے تو اویدیا کی جو پر کرتی ہے وہ مدک جسی ہے اور اویدیا کا جو سوابہ آئے اویدیا کیا کرتی ہے کہ جیرب چیجوں کو چیتنا دیتی اور چیتنی شریر میں ویچار کو دان کرتی اور ویچاروان ہوں اس کو تبتکترہ مدت کرتی اپرہ پر کرتی بہوان اپرہ بہوار کی درستی سے دیکھا جہتا پانچ بھوت مان بھدی اور آنکار یہ جو پر کرتی ہے باندنے والی ہے اور جو حاہ بہگوان کی پرہ پر کرتی جو ہے

جس سے سمپنے جگت دارن کیا جا رہا جیو روپا پر کرتی وہ جو حاہ وہ پر کرتی یوگ کی درستی سے دیکھا جا ہے تو چیدھا والی بھی ہے چتشپتی وہ چتشپتی چیتنی کی ستا سے چیتنی کی ستا میں رہتی جیسے پانی کے بلسے ہی سیوال رہتی ہے جیتیو پانی کو دھکتی ہے ایسے وہ پرہ پرکٹی پانی پانی سوروب چیتنی کہتا سوروب چیتنی کا ساہرہ لے کر یہ جو پر کرتی کو چیتنا دیتی وہ چتشپتی نہ ہو تو یہ تمہرہ آشتداجوں سریر ہے یہ جو پر کرتی کا اس کو چیتنا نہیں ملت ایک ہوتے ایک ہی جو پر کرتی دوسلی ہوتی جیو روپا چیتن پر کرتی تو جو پر کرتی میں اپنا سامر تھے نہیں

لیکن بھخوان کی جو چیتن پر کرتی ہے وہ اس کو ستا سپورتی دیتی اور چیتن پر کرتی اور بھخوان میں ایسا ایسا ابھیدت تو ہے جیسا دو در دود کی سفے دی میں پھلال فارل کی رس میں سام پر اس کے ٹے میں چال میں آپ پس میں ابھین نہیں جیسے پروش اور پروش کی شکتی بھئی در ہوا تم یہ کام کر لوگ ہیں ہاں وہاں جی کتن پیسے لوگ ہیں قولی بہاں جیم پندرار پے اچھا تو پندرار پے تو تمارا روض کا اور پاچھر پے تمارے میں جو کام کرنے کے شکتی اس کا دیرے وہ لی شکتی ہمارے میں اور ہم ہم اور ہمارے شکتی ہے کہ ہے ایسے پروش اور پروش کی شکتی ابھین ہے ایسے پرگم پرناتما

اور پرناتما کی جیوروبا جو پرارتی ہے پرارتا کرتی وہ ابھین ہے تو پرماتما پرماتما کی شکتی ابھین ہے ایسے تمہاں اور تمہاری شکتی بھی ابھین ہے جائے جائے جیسے پرماتما کی جیل پر کرتی اور پرماتما او سے άλλا گہئے ایسے تمہاری جیل پر کرتیر تو موسے لگہ تم اگر یہ ہوتے تو بال قاد کر کے کتنی فک دی ہے تو تم فک رجاتے نک قاد کر کے کتنی بہت دی ہے تم بہت جاتے اور دن رات نجانے کتنہ کتنہ بہتا ہے ناک سے باتا ہا کان سے باتا ہے موسے باتا ہے نجانے کیا کیا باتا باترم میں او او ساب روید بضلتا رہتا میں نے بتا تھا نے کہ پندھرا میں نےت

آپ پندھرا میں نے سے جادہ نہیں جی سکتے ناک چالو ہو سوا سوا سوا سلتے رہے ہیں لیکن سریق کو دامر کا لیپ کر دے روم کو برضے بہاو بند ہو جا گا بہاو بند ہو جا گا تو نہیں جی سکتے پھر پتا سلتا کہ روم کو بھی کی کوئی کیمت ہے ابھی کوئی کیمت نہیں ایسے ہی جو چیج نہیں ہے او اس کے طرف مان باتتا ہے اور جو ہا موجود او اس کی کوئی پروانی دو مان ہمے سا اب ہاو کو خودتا اب ہاو میں جیتا ہے اسی لی بگت لوگ بھی جب کریں گے نا راما ہارے راما ہارے راما ہارے راما لیکن واتی کے کن نہیں تر دن کو چین کرنا پر تا ہے جو جے دن چین جو پھر کیرتن کے طال کو چین کرنا پر تا ہے طال چین جو پھر پھر تر دن کو چین کرنا پر تا ہے پھر ہار کو چین کرنا پر تا ہے بولنا پر تا ہے بولنا کو چین کرنا پر تا ہے مان کو یہ دی انکول رکھنا ہے تو چینجن چاہے

بگیا ہاپ چاہے اور بضل ہوتی ہے پرکرٹی میں اِس بضل کو جانے والا تط்تو میں ہوں ایسا جانلے تو بھی نیحال ہو جا کتما اصل ہے کتما اصل ہے کبھی, کبھی, سنسہر کے سکھ بھوکھر, آدمی اشور کے طرف چلٹا ہے. ٹھوڑا بیوے کٹھتا ہے, ٹھوڑا سنسہر اچھا لکھتا ہے, نئیشور کا سوادہ دا تھا ہے. چتھ بڑا ویکشت ٹھوڑا ہے. بہا ہدا سوٹا ہے, جیسے گہری کوئی اشامتی چھا گئی. ویکشت چھا گئیا. کچھ ایسے پڑے لکھی لوگ, پوچھتے ہیں کہ یہ کوئی اگلے جنم کا کرم ہوگا. کسی کو تو بڑی خوشی خوشی ریتی اور امرپا سب کو چھوتے ہوگی آنند نہیں خوشی نہیں. آگلے جنم کا کرم ہویا نہ ہو. لیکن ایسے جنم کا بھی جتنا جتنا ہم نے بھیتر سے جر چی جو کو تھا ہم نے کا ایراضا پکھا کیا ہے.

جر چی جو میں جتنے جتنے جتنے ہمہیں پکھا ہوتی ہے. اتنہ اتنہ اپنا رہم چتھ جڑی بھاو کو پر آپ تو جاتا ہے. جیسے چھوتھنے کہوپا ہے کہ جن کے پاس جو ننگے ہیں بوکھ ہیں. سب کو تو تم دے نہیں سکتے لیکن جتنے جتنے کو تم دے سکو تو تم ابہو گرست جو لوگ ہیں جن چی جو سے انگریب دین دکھو پر تم اپنے اٹم بھاوکہ کیوں کی سیوہ کرو چتھ پر سن ہونے لگ گئے گا. جائے جائے. ہم سنتہیں اسنت کے ناتے ہم سنتہیں دو جن کے کارن ہم سجن دکھتے ہیں. نردن کے کارن ہم گھنوان دکھیں گے. ان پر کے کارن ہم پڑے ہوئے دکھیں گے. ان کے پاس نہیں ہے تو ہم سچ دکھتے تو سٹھ ہم ہوئے تو ان کی کر پاسے ہوئے. ابہو گرست ہے اسلی ہے ہمارے پاس ہے جن کے پاس نہیں ہے. ان کے کارن ہمارے پاس جو ہے اس کا سکھ اس کا کچھ بیشے س دکھ رہا.

تو ایسے لوگوں کو اپنے سو رب سمجھ کے نشور چیجے ہیں. سور کے دجانے ہیں. ان کا یہ بھی ستبیو کرنے لگ جائیں. دو چتھ کی جو پکڑے ہیں گرنچے ہیں. اکھل نے لگ جائیں. تمارے پاس دھانے تو دان ویڈیا ہے تو ویڈیا بلے تو بہل اکل ہے تو اکل جو چیجے ہیں. وہ پروک کار میں لگا. پرکڑی اور جو روپا پرکڑی پرکڑی میں ہو رہا ہے. میں نے کرتا ہوں. نہ کرتا ہوں. نہ لیٹا ہوں. نہ دیٹا ہوں. نہ دیٹا ہوں. اریام تبسد اور سب گف سب گف سب گف سب. ایسا بھاو کرو تو بھی تک گیان ہو سکتے ہیں. یہ کرم کا مارگ ہو ہے. بگتی کرو. بگتی کا راستالوں. یہ کاراستالوں گیا. تک گیان کا راستالوں. یہ پرکڑی جو راستالوں گیا. وہ پرکڑی پرکڑی کے ساتھ جو تاادہات میں ہے. وہ تاادہات میں ویچھے دھ ہو جائے. تو تمہارے جیسا آنندہ صورپ اور ویشو میں. کوئی نہیں.

ارے تم تو بھخگوان کو آنندیت کر سکتے ہو. ایشور کو آنند دینے کی یو گیتا تمہرے میں ہے. اور تم جرے جر سکھے کے لئے اور گمتے ہو بجاروں میں کے ہے. پھلامتو سکھ دے. شکورو پھٹیلو سکھ آپ سے بیچاری. وہ توسکھ دے. Stück مرہ توسکھ دے. ایشور کھمورق کے لئے حاش ہو جائہ گا. عاو. ایک ہی کو جب طرف رہا ہے. ایک ہے. پھٹے سرسا ہے. پڑگیت لیو ار. مgehenجا کے لئے والتقی. ایشور باہنے جانے والا سیو کی جنی نیسوکہ ہے. ایش ایسے سکھ سے تمارا کام نہیں جلے گا. ہاں. ی Intro عم splаж dorm yorum ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ て ۔ や を ۔ ۔ آپ کرم سے نہیں شانتیہنے لکھتے ہیں. ہی تو پاپ کرم نہیں ہوتا. اپراد ہونہ گیر جانہ اپراد نہیں ہے. گیر جانہ پرماد ہے. اور گیر کر نے اٹھنا اپراد ہے. پھر سے سمجھلے گیر جانہ اپراد نہیں ہے. پرماد ہے. نہ سمجھ ہے. گیر جانہ پرماد ہے. لیکن گیر کر نے اٹھنا اپراد ہے. کتی لکشپ تو ہو گیا. ایسا گیٹی ہو گیا. کبھی کبھی گراوٹ بھی تمیں شور کی کراپا سے کنا رہ دیتی.

میں تاگی ہوں میں امو کو اس سے بھی کبھی کبھی پکڑا جاتی. مدانت کو او جانتا ہوں. تو کبھی کبھی یہ چی جمبی تو میں وستمجھ شانتی اور آنمد سے دور کر دیکھتے. شریعان. آدمی خلاتا ندے کی نا رہی دھو در دیکھا رہی لے تطبے خلاتا رہی بہی اگر پڑا. ندی میں گر پڑا. اتنیدر تو چندھا کراتا اُس پارک ایسے جہوں. دوب جہوں کا دوب جہوں کا. اوگر پڑا. تھا پھنو ہوا تھوڑا. یعبا ہا و نوں اس کی نا رہی لگا دیا. بھارے وہا. ندے گرٹا تھا. اکڑے کھڑا تھا چندتکھا تھا و بھا و نے. اس کی نا رہی لگا دیا. تو یہ ہوا ایشور کی آہی توکی کپیس کرپا. سریتا کا سو بھا. ایسے اس ورکا کبھی سوابھا بھی کراپا ماتما کی سوابھا بھی کراپا ہوتی ہے آدمی اس کی نہ ریا جاتا ہے

تو کبھی کبھی اپراد ہونے پر بھی اہم ٹڑ جاتا اور آہم ٹٹا تو آدمی اس کی نہ ریا جاتا جان دے نا کبھی کبھی ہم اپنے کو سجن سکھی دنوہ اموک مانتے تو بھی تر سے بھارے خم ہو جاتیشور سے دور ہو جاتے ساہجتا ساہجتا ساہجتا سوابھا بھی کچھ سے ایسی کوئی ایسی چود لگتی ہے ایسا کو اپراد لگتا کہ اپنے میں جو سجن تاتی جو سیٹھ پنے گا دو ویشش پنے تھا وہ بہا گایا بہا گا تو اس کی نہ رہم لگ جاتی ہے میں نے سناتے نصوبے رہمانو جا چارے کہتے ہیں کہ ایشور کے اپیوک تو جو بھی سارے دھے سب مانو شہر جتائے ہو گید ہو جتائے ہو گیدی تو تھا کاغبوشند ہو اتھا تو گرود ہو کوئیل کوئیل کوئیل کوئیل کوئیل کر کے اگر پرمتما کو پکارتی تو وہ بھی بگوہت بنجد کے

بگوان کیا دیکاری اور منوشہ رہم رہم رہم رہم رہم رہم رہم کرتے ہوئے گنگا کی نہ رہے اور گلوکوں کے انگوچھے آتوال لوگوں کے لوتے چوراتا ہے مالا چوراتا ہے ایس لوگ بھی گنگا ہے نہ رہے رہم رہم جبتے مالا گمتے 3-3 گنٹے ہو کون آیا کون سندر ہے کون آسندر ہے وہ دیکھنے کو لوگ کھڑے ہوتے گنگا ماتا کی جہ کرتے جاتے بہن پیاتریوں سے باتشت کرنے کے لئے گنگا مائی کی جہ کر رہے جہتو ہے لیکن ہے تو شد نہیں تو تمہارا ایرادہ ایدی شد ہے تو کوئی گلٹی ہو گئی تو اس کا اتنا پاپ نہیں اتنا کنگتا ہونے کی ضربت نہیں اتنا دکھنے ہوتا اکیدہ شد دوں پھر کوئی اپراد ہو گیا تو اسے چنٹٹٹھ ہونے کی ضربت نہیں اکیدہ ملین ہے اور آدمی بریا کام کرتا تو اس کا بھی کو جادہ لاب نہیں ہوتا تم اپنی نیت کونہ بھی گارے

اور نیت بھی گارتے سوکھی ہونے کے لئے جائے جائے سوکھی ہونے کے لئے نیت بگارتے ہم لوگ نیت بگارنے سے سنسار کے سب سوک مل نہیں جاتے اور مل بھی گئے تم بھی وہ لوگ سوکھی نہیں ہوتے تو کھام کاپنی نیت بگار کے بیجتی کرنا بگوان کی آگے رنطریاں میں کی آگے بیجتی کرنا اپنی نیت بگارنے کا کارنی ہے ہوتا ہے کہ اندریاس سنسار دکھاتی من سنسار کی سوٹھنے کے اندریت کرتا ہے ایک اٹریت کرتا ہے بود دی اس میں سائیوگ دیتے ہیں اور آنکہ رپنے میں تھوپتا ہے جیتا تو تم نے بھی پڑی ہوگی لیکن ویشلیشن کرنا پڑے گا اس پڑھا ہے تو بگواان کیر تھی گونarius

gepedado armparti predli اس سے جو میری جو بھوطا APPRAKAR grocer یہ دم دھاریتے جگر اس سے جگر دھارن کریں تو بگواان کی شکسپیر butterنا بگوان کی چتنا اور تماری چتنا ایک ہے ست چت آنندہ جس میں ست چاریت رتا ہو چتن ابھی مکھ بھڑی ہو وہی آنندہ سورو پر ماتما کی ابھی وقتی کر سکتا ہے اور وہی منش ہے ہے اتوہ ایسی شمتا جس میں چھوپی ہوئی ہے وہ بھی منش ہے منشہ سیگی تھی منشہ ہا جیسے سوی قبر میں پرش کرتی پیچھے پیچھے داگہ چلتا ہے قبرہ سیگی

دو قبروں کو جور دیتے ہیں ایسے جس کی ورطی جگت جی اور جگت اتا سنسار جگت اور جگتیش کے بیچھ کی جو ورطی ہے ہماری وہ ایسی پینی ہو ایسی سکش مہ ہو کہ ہمارہ رہنا کھانا پیننا بولنا چھالنا ہیلنا دولنا یہ سب ایسا ہو کہ ایسے جیو بمکھ ایکتا کے لئے ہو بگوانہ و بقتکے ایکتا کے لئے ہو تو مرا سب وہوار بقتی ہو جاتا منشہ سیگی تھی منشہ ہا جو منش سے سیگے تو ایکتی دکھا ہے منش سے تم نے سبان مان لیا اور منش سے جیسا سبان مانا ایسا وہ دکھے گا آج تک میٹرة تھا دو گنٹے پیلے اس آر گئے اب اس کے سب درگوں دکتے کیوں کہ منش اس کے لئے دوش کا تو اس کے درگوں درگوں دکتا اب منش اس کے لئے راگ کا تو اس کے سب درگوں

دکتا ہے اور گن میں اس رشٹی ہے گن دوش کا تو سارہ جگت برا ہے اور راگ سے گن دکھیں گے دوش سے آو گن دکھیں گے اب کسی سے دوش ہے پھر بھی اس میں گن دکھ رہے تو تمہرے دوش میں کمی ہے اب کسی میں راگ ہے اور اس کے آو گن دکھ رہے تو تمہری پیٹی میں کم جو رہے اب تمہری کہتے تو تم اپنی مان لیتے سچ تو یہ تمہری منبت دی کی ہے لیکن تم اپنے کو نہیں جانتے تمہرے کو نہیں جانتے تمہرے کو بھی جوٹ بولنا پتکہ تمہری تمہری تمہری یہ اشتدہ پرکنسی کا سبہا ہے مان میں راگ آیا تو گن دکھیں دوش آیا تو آو گن دکھیں راگ تیورہ نہیں ہے تو گن کے ساتھ آو گن بھی دکھیں دوش تیورہ نہیں ہے تو آو گن کے ساتھ گن بھی دکھیں لیکن یہ سب دکھیں اور دکھ دکھ کر گائے وہ تتو ہے

آو تتو جیسا پرمتما کا بھین ہے ایسا تمہرہ بھین ہے یہ تو ساتھ سنگ ہے ایسے اشتدہ پر کرتی میں جو کچھ ہماری پرائی لکھائی سمجھ دول اپلگ دیا ہے اس سے جیوان کا رسش رو نہیں ہوتا ہے مانسی کا اپلگ دیا شاریک انوکولتا ہے بہتی کو چھانا ہے کچھ مل جاتی ہے لیکن اسے ترپتی نہیں ہوتی اب ہوا کے لیے مان اور دورتا ہے تو کہ وابا جر ستھن کا سار روپ میں اب کیا کریں جلدی ہمارہ پرمکل لیان ہو جائے بہی جو دات گر گیا ہے اُدھر جیو بار بار جاتی ہے اُدھر جانت چھور دو جو گر گیا جہ نہیں ہے وہ نہیں ہے جو ہا ان داتوں سے چا با چا باکے کھا ایسے ہی جو چیجے نہیں ہے ان کی چھا نہیں کروں جو ہا ان کا ٹھیک سے ستھ پیو کروں اور وہ چیجے

جو ہا ان کا ستھ پیو کروں ستھ پیو کروں ستھ پیو کیا کہ اپنے دھے کے Vilas کو ستھ پیو کریں کہتے اُس کو پر مارت میں دوسروں کے آسو پوچھنے میں لگاو جیتنا کچھ تماری ہمت ہو اور کہ اُس سے بھی ادھیک میں دیکھروپے آپ ایسا پرائی لکھای تو تمارے پاس کچھ نہیں بڑھیہ میں بڑھیہ میں بڑھیہ اور پر مات میں تطور اُس کا تم ستھ پیو کیوں کروں اُس کے ساتھ بات کروں اُس کے ساتھ گنگنا ہو اُس کے ساتھ مُس کروں پاگلوں جیسے بڑھ باہت کروں لیکن اُس کے ساتھ کروں ایک طریق آئے بھی ہے دوسرہ طریق آئے کی جو نہیں ہے یا نہیں ہے یا نہیں ہے یا نہیں ہے کہتے کہتے جو نہیں کہ رہا وہ میں کونوں میں کونوں میں کونوں میں کونوں بس دم دمات کروں ایسے کرتے کرتے خوز کروں گے تو بھی پروانند و آوستہ میں دوبتے جاؤ گے

دیسرہ طریق آئے کہ سواس لی خود جور سے اجتین دے روکسہ کی روکی پر سواس کو دیرے دیرے چھوہ سواس کو چھوڑا ملتنہ پہنچ بھتو کا شریع مان بھت دی اوران کاریے سب میں نہیں ہے ایس سے دہ تک کرتی ہے اگوانا اُس سے بینن ہے اُس کے ساکسی انڈرشتا اجیسے اگوانڈرشتا سے ان کا سب کا میدرشتا ہوں پھر سواس لیا روکہ جب کیا جب چھوڑا یکٹیام پہ کئی ہے لیکن دروبھاگی کہ ہے کہ ہم کو جو سدا ساتھ میں اس کو پانے کی طرف نہیں جتنا ہی اٹھ ہرام میں اٹھنا ہری سے ہو۔ تہیکہ بھی رواضاز کا پھر پلہنے پکلے کئی۔ جو نشوہ چیجے ہیں انہیں جتنی پریٹی ہے اُس سے آذی بھی ایدی رام کے پریٹی ہو جاتا آپ میں میال ہوتے

וסper mistya window 택 uv tagar tich va phis v khot otro mol ro k ver میں تمارے کیے ہوئے سکرت بھی ہیں اور کیے ہوئے دشکرت بھی ہیں. اب سکرتا و دشکرت جب دونوں سملے وال میں آتے ہیں. اگی کی سکرت ہے تو اپر کی یونیوں میں. اور اگی کی دشکرت ہے تو نیچے تریع کا گدھا کوتا بہیسا پیر پوڑا قبوتا رچڈیا آدی کسکولا چچونڈر ملی کتا آدی آدی یونیوں میں جاتا ہے. جب ادمی کے پنے اور پاپ بھیل کل ٹیک ٹیک ٹیک سمککش ہوتے ہیں تو منش شبنت ہے ویتی جیو کے پنی پاپ سم ہوتے ہیں. آب وہ اس کو جیسا سیوگ ملے.

دوش چریت روالا ویتی ملے. اور جر چیجوں کے طرف آکہ شن دکھانے والا سیوگ ملے جیسا ہوئے گیانیوں نے انڈا فٹھے ہی بتک دکھا دی. ایسی ہمہ رہا جن میں کوئی بتک دکھا دے. تو ہمارا جیوان بتک کے طرف جاتا ہے. اور کوئی ما دکھانی کے بات کر دی. تو ما کے طرف چل پر تا ہے. شریعان. اب جنم کے وقت تو تم کو کسی نے بتک دکھا ہے. یا ما دکھا ہے تمیں پتا نہیں. چلو. اگر ابھی تم اپلے مان کو روج سدو ما دکھا و بتک نہ دکھا. روج سدو اپنے مانا ربود دکو اتمگان کی باتوں سے ہی پر سنگ کرو. تو جیسا سنگ ہوگا ایسے آنمت پر آنمت جنمو کے جو ساتھ پیکھ سنسکار ہے. وہ جگ کرے ہوگے. تو ایک ہی سے کی بہل تاظ ہوگی تو دوسرے ایس سے میں جو رہا سبت رہا تھا. ناش ہو رہا تھا. وہ رہا سبی در آگے گا. جیسے جمین میں گنا بویا ہے. میرچ بویا ہے. گنا اتنا گھا تھا بو دو.

کہ میرچ کو بس نے کا مقائنے ملے. اتنا گنا ایک دم دور ایک تھوڑا سا کر دور. میرچ دادہ کر دور تو گنا کو رس نہیں ملے. ایسے ایش شب کو ایکنہ بلا دو کے اشب کو مقائنے ملے.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →