Feb 27,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Hosts & guests
Transcript ready
772 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 27,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
جن کے جیoriginal میں آدمشанти پانیکی روچی ہے تت پرتہ ہے بے یہ مانوں اس پرچھی پر کے دیو ہو گے دو پرکار کے دیو ہوتے ہیں ایک صورگ میں رہنے والے دے وردو سے درٹی پے رہنے والے دے صورگ میں رہنے والے دے تو اپنہ پونیا گ 360 قتم کرتے ہوئے صورگ کا مجھہلے تھے اور پروتھی پر کے جو دے ہیں وہ اپنا دان پونچھ صیوا万 SAMRANT کرتے ہوئے پاپننشٹ کرتے ہوئے ردے کا عمرت بھیتے ہیں veprtrut 3 parke Deva Kabir ji ke paas Dha G gaan Kahat Parwanda aaya ke santvam pannaro Kabir ji ki aakhana me se asu wagay issilien ayi ki abhgarna Pata haiaraidンaj brigl Babir mi hire ki prakha nahi ki chhanayi�지 Because ha sa satt faiseng nohi mattear Belgra roe, cái aur karun teri mein kuntu ko jaha saha de forest sangat nai hogay
Sanka Di Rishi Chhaar hai, Chaar no-Bhai Brahmaveta hai, ek wakta bant hai aur tine sota bant hai, atma parmaatma ki chachakar te kar te parma santi me bi shanti paate Bha Glān ka Der sun karne se to muho sakta hai Bha Glān ka Der sun karne kebhaat bi kapat ra hai sakta hai Bha Glān ka Der sun karne kebhaat bi bhai ma ni rahe sakta hai món کو access to the work, clock полeline, clock пол Moses, clock пол weiterhin. Calling, clock пол roses. Sesame. Kyoto. Cent 무대, Joker, christian heaet. Energy, Nightbot equipped with related emotional and emotional and emotional that my کیا پھر بھی سورکنکھا میں کام موجود ہے شاکھوںی نے بگوان کرشنکہ درشن کیا پھر بھی کپٹ موجود ہے دوریو دن بگوان کرشنکہ درشنکہ کرتے ہیں
پھر بھی کروض موجود ہے یان کی آک جب تک نہیں کھلتے ہیں تک بچہ راادمی تھا پڑے کھا تھا ہے اور بگوان کرشن نے ارجن کو اپدش دیا اور ارجن کو سری کرشنہ نے کرشنہ تطوکہ درشن کرے ہیں ارجن کہتا ہے نشتوں موحہ سمورتی لبضاک تو اپرساعدات مائا چتا ہے سٹیرو اسمی گتسندے ہے کرشے وچنمتا ہے میرا مو نشتوں ہو گیا تو سیوجی کا درشن ہو جہے رامجی کا درشن ہو جہے کرشنجی کا درشن ہو جہے لیکن جب تک ستگرو آتما پرمتما کا درشن نہیں کرتا ہے تک تک کام رہے سکتا ہے کرود رہے سکتا ہے لوگ رہے سکتا ہے مورہے سکتا ہے پاکھنڑ رہے سکتا ہے آنکار رہے سکتا ہے سورپنگھا نے رامجی کے درشن کیے تھے اشھا کنی نے کرشن کے درشن کیے تھے ایکن جب تک ستگرو تک توکہ درشن نہیں ہوتا ہے تب تک اس جیو کی بیچھارے کی سادنہ عدوری رہے گا
تب تک مان کے جگت میں ہی رہتا اور مان کبھی کبھی بیچھارا مان خوش تو کبھی ناراج کبھی مان میں مجایا کبھی نہیں آیا اسیلے کبھی رہے جنے چکہ ہے بھٹک موا بھی دوگی نہ پاوے کون اوبا ہے خوجتتتتتت جگ گائے پاو کو سگر آئے یہ جیو چاہتا تو سانتی چاہتا تو مگتی ہے چاہتا تو ہے اپنے نات کو ملنے کے لئے ملتو آ کر سریتشن لے جیو اناتو کر مرجہ ہے اس کے پہلے اپنے نات کو ملنہ چاہے لیکن بیچھارا مان بٹکا دیتا ہے باہر کے سنسار کی واسناوں میں بٹکا دیتا ہے کوئی کوئی باک سالیوں کو پھر پنے دان میں گھوماتا ہے اور اُن سے کوئی اُن چاہتے تو ستسن میں ہاتے ہیں اور اُن سے جب کوئی اور بھی آگے بڑھتا ہے تو بھو ستے سروپ آتما پر ماتمہ میں پنس تا ہے اسے پر امشانتی میں تی ہے تو بھگ بطگیتا ہے یہ سلوک ہمیں بگوان یہ سلوک سنا کر ہمیں ساوضان کر رہے ہیں
آپوری مانم مچلم پر تشتم سمدر ماپا پروشانتی یادوض تدوض کاما پروشانتی ساروے سشانتی ماپنوتی نہ کاما کامیں جیسے سمدر میں ساریں ندیہ چلی جاتی ہے پھر بھی سمدر اپنی مریادہ نہیں چھوڑتا ہے سب کو سمالے تا ہے ایسے اس نرواستنی کے پوروش کے پاسے سب کوچھ آ جائے پھر بھی وہ پرمسانتی میں نی مگنہ پوروش جو قاتیوں رہتا ہے تو ایسی جو آوستا ہے اس آوستا کا خیال کر کے جو سادن بجن کیا جائے آتنی جلدی پہنچتا ہے تین باتےس تو سب لوکوں کو اپنے جیور میں لانی ہی چایے یہ تین باتے جو آدمی نہیں جانتا ہے وہ آدمی کے ویس میں پشو ہے پشو تین آر تین باتے تو سہریک منشک کو جان نہیں چایے ایک تو یہ کہ مرتیو کبھی بھی ہو سکتی ہے کھیں بھی ہو سکتی ہے
جیرام جکی مرتیو کبھی بھی ہو سکتی ہے کھیں بھی ہو سکتی ہے یہ بات پک کی جان نہیں چایے دوسری بات بیتا ہوا سمائے پھر واپس نہیں آتا اور تیسری بات کہ اپنا لکس پرمشانتی پرمات مہنہ چایے اگر تمہرہ لکس اوضیان نہیں اور تم گھر سے نکلے یاترا کرتے کرتے مہنوں تک بٹک بٹک کے پھر وہیں پہنچ آئے اگر لکس نہیں بنا کی آتے تو یہاں پہنچتے نہیں پہنے لکس بنا نہ پر تاباد میں یاترا شروع ہوتی ہے ایسے بخوان کی باکتی کا اونچین میں اونچھا لکس ہم لوک نہیں بناتے ایسلی ہم برسوں تک بٹکان بٹکتے بٹکتے بٹکتے انت میں کنگلے کی کنگلے رہی جاتے ماریچ کنگلے کیوں باکتی کیا دھن ملا یاس ملا یہ تو ملا لیکن مارے تو کنگلے رہے گئے سچا دھن تو پرمات مپ رہتی ہے
یہ تو مہر کا دھن ہے یہ تو یہاں پڑا رہے جائے گا ایس سریڈ کو کلایا پلیا وہ بھی نہیں رہے گا سچا دھن تو آتم دھن ہے کبھیر جنے ٹھیک کہا کبھی رہ یہ جگنیر دھنا دھن ونطان نہیں کوئی دھن ونطاتے ہو جانی ہے جا کرامنا مدھنہ ہوئی جس کے جیبان میں روم روم میں رم نے والا پرمسان ٹی سوروپسوپ سوروپ آنند سوروپ رامنام کا دھن نہیں ہے وہ دھنوان ہوتے ہوئے بھی کوئی دھنوان نہیں میں نے سنی ہے کہانی کی کوئی ہاتھی مرگیا یمپوری گیا یمپوری یمپوری یمپوری جنے ہاتھی سے پوچھا کہ ایتنا مٹا بڑاتتا جا توانا ہاتھی تو منش لوگ میں پہدا ہو اور ایسے کنگلے کا کنگل ہا گیا کچھ کمائی نہیں کی تنے ہاتھی بولتا ہے میں کیا کمائی کرتا میرے سے تو بڑا منش ہے وہ بھی کنگال کا کنگال ہا جاتا ہے یمپوری جنے کا منش بڑا کیسے تیری پیر کے آگے خڑا رہتا
تو منش چھٹا سا ہے تو ایک پونچ کا جاپڑا ہے تو منش چھٹھا ہر گلاٹ کھالے تیری ایک سونڈ دس مننشوں کو گماکیں گرادے منش ہے منش ہے سے تو بڑا مجھبت گورا ہوتا ہے گورے سے بڑا ہونٹ ہوتا ہے اور کئی پرانی ہوتا ہے اور ان سب سے تو بڑا ہے ہاتھی بولتا ہے شرید سے تو میں بڑا ہونے لیکن کھر بھی میں بڑا نہیں منش مجھ پر رہتی کرتا ہے اسری منش مجھ سے بڑا ہے ایک محافت مجھے چلاتا گھماتا پھراتا نہیں چاہتا ہے منش شبڑا ہے یا مراجنے کا خاکھ منش شبڑا ہے منش شدمہ ہوتا ہے چھٹا ہے ایدر تو کئی منش شاتے منش شبڑے نہیں ہاتھی بولتا ہے کہ آپ کے پاس موردے منش شاتے کوئی جندہ سے پہلا پڑے تو پتا چلے کے منش شکہ ہوتا ہے جیرام جی کی بولنا پڑے گا یا مراجنے کا چھا تو میں جندہ منش شکہ بھی منگو ہلوں گا ہم فیسلی کیسک کو اٹھا کر لیا ہے یا مدوت کو قاعدیا ہے خرے میں کوئی جوان سویا تھا کہ شان
راترکہ سمجھ تھا یا مدوتوں نے خاٹ کے آئوں کو گھر کے سنقلب سے جیر سے لفٹ چلتے ہیں سے اٹھا لیا ہوتا ہوں پر اس کو اس کے پران نکلے نہیں بسی دیکھ سی دا لیا گا رہے تھے اس کی مدید تو تھی نہیں انو ایسلی اٹھاکھیں لیا گا رہے تھے اوپر کی تاندي ہواوں نے 그 کیسان کی نید تھا تھا تھا اس میں قتھا میں سنا تھا یمدو تھا اسے ہوتے ویسے ہوتے سندھ ناٹھے کا سمیں تھا چیتے کا گر تھا وہ دیکھیں دیکھا کہی تو میں یہ یمپری لے جا رہے ہیں اگر ان کیا گے کچھ بھی بولہ تو تو تو میں میں ہو گئے جراسہ خٹیہ ٹیٹھا کریں گے تو میں ایسہ گروں گا کہ ایک گھڑھی کھیں بھی کر دیا گئے پتا نہیں چلے گا ایتنا اونچہ چھڑا گیا تھا گروت ہا کرسان نیم کے کریب کری پہنچا ہو گا شاہید اس ہدمی نے کیا کر دھیرے سے اپنے جب میں ہاتھ دالا ایک کاغچ پر کچھ لکھا اور چبھ کے سے پھر لیٹا رہا یمپری میں خطیہ پہنچ گیا یمرچ نی یمدو تو کھوں اور کہیں بے جا
جلد باجی میں بزی ہدمی رہتا ہے بھل جاتا ہے کون کیا کیا آلا ہے کسی دوسرے یمدوٹ کو اس ہدمی نے چیتھی دی چیتھی لے گیا یمدوٹ چیتھی میں لکھا تھا آنے والے اس آدمی کو میں یمپری کا چیرمین بناتا امپریسیدنٹ بناتا نیچے سگنچر بھگوان آدین آرہ انویشنوں یمرہت تو اٹنیشن میں آگے کی آدمی پریسیدنٹ اور یمپری اس کو بناتی اتیلک پیلک کرک اب جو کچھ دیسیشن لینہ ہے اس کی سگنچر چاہی ہو اس کا سنکت چاہیے کوئی پاپی آیا ہے مہرہت اس کو کیا کون سے نرک میں بیجیں ملے وائنکٹ بیج تو گیا وائنکٹ کسی نے اپنی پتنی ہوتے ہوئے بھی کہیو کے ساتھ گڑ بڑھ کی مہرہت اس کو کون سے نرک میں بیجیں بولے وائنکٹ بیج تو کسی نے وضوہ مائیوں کا دن ہرپ کیا دی پوزک دھرپ کی مہرہت اس کو کون سے کم بیپاک میں دھالے یا کون سے نرک میں دھالے بولے وائنکٹ بیج تو جو بھی آیا وائنکٹ وائنکٹ وائنکٹ تھوڑے دنوں میں وائنکٹ بر گیا
بگوان نہرائن سوچنے لگے کیا تو تھی پر ایسے کوئی اتنساک ساتھ کاری پہنچے ہوئے پروش آگے ہیں کی جن کا ستسنسون کر درشن کر کے آدمی نشپاپ ہو جائیں اور سب کے سب میں کچھ چلے آئیں اگر کوئی برمگیا نہیں ہوتا ہے تو میرا اور اس کا سیدہ سبند ہوتا ہے جیسے ٹیلیفون تمارے گھر میں ہے تو ایک سنسے تو اس کا سبند ہوں گئی بھی نہ ایک سنس کے ٹیلیفون کی لائن اطفاڑی با کوئی کام نہیں کرے گا تو اگر کوئی برمگے تھا ہے تو اس کا اور میرا تو سیدہ لائن ہوتی ہے آپ تمہارے گھر ایسے ٹیلیفون میں تو کےبال یا وائر ہوتی ہے لیکن پرمتما اور پرمتما کو پائے ہوئی ساکشات کریں پروش میں کےبال یا وائر کی جو رض نہیں ہوتی ہے وہ تو سنکلپ مات رہوتا ہے پرنے مات رسے تھا من میں رو پنچی بہو اوڑن لاگیو آکاش سورگلو کا خالی پڑو سا ہے بسنطن کے پاس پر بجی بلسے سادھ کی رسنا و پرمتما سادھ کی جو و پرمتما ستا ہے بستا ہے اور ایسے کوئی سادھو میں نے بھی جی نہیں
تو یہ سب کے سب لوگ وائنکٹ میں آگے کیا بات ہے یا مرحج سے پچھویا یا مرحج نے کہا کہ کوئی برمگیا نہیں اطنساکشات کری پروش درٹی پہ پہنچ گے ہیں اور لوگوں کو کرمکان کرواتے اس کیطن بجن کرواتے کرپا برساکے برسن کو وائنکٹ کا دیکاری بناتے ایسی بات نہیں ہے یہ آپ نے جو بھی جائیں مقیا وہی سب دیسی جن لے رہے مرحج برگوان سوچیں میں نے تو کوئی مقیا بھی جانیں چلوخ میں سویں ماتا ہوں باگوان آئے یا مرحج اٹھ کر ستوٹی کرتے ہیں بلے کون مقیا ہے بلے وہ جو بیٹھا ہے پرسیژنت آپ نے بھی جائیں بلے یہ آپ کی سئی آپ رکھ آپ کا سکنے چھر بگوان بلتے ہادی نہ رہے ویسنوں میرا نہ مقیا کو بلے کہ بہیں میں نے ترے کو قبیجا تھا اور میں نے کہاں سائگی تھے یہ تو میرا نام کی جالی سائ کر دیا ہے وہ بولتا ہے کہ بگوان یہ ہاتھ پیر سب تماری شکتی سے چلتے ہیں پرہنی ماترا کے ردے میں تم ہوں یہ تمارا وچن ہے
تو جو کچھ میں کرتا وہ تماری ستتا سے ہوتو تمھی نے کیا ہاتھ کیا کریں مشین بچاری کیا کریں چلانے والا تو وہی ہے اوما دارو یوشی تکنائیں سبئی کرہا وطرام گوسائیں رامائن میں بھی لکھا ہے پیشورو سربہ بھوتا نہ وردے شہر جو نتیشتتت گیتا میں کہا ہے اگر میں آپ نے نہیں سائی کروائیں تو میں اپنی بات واپس لیتاہوں لیکن بگوان یہ خال کرنا کہ آپ کوئی رامائن بھی نہیں مانے گا اور گیتا کو بھی نہیں مانے گا کرن کرا بنا ہر سوامی سکل گڑان کے انتر یامی یہ شاستر بھی کوئی مانے گا نہیں آپ تو کہتے کہ میں سبکہ پرے دیکھ تو یہ میری کو پرینہ کرنے والے بھی تو ہاپی ہوئے تو آپ کا نام لکتے ہیں اگر میری کو آپ جوٹھا ساپیت کرتے ہیں تو آپ کے شاستر بھی جوٹھے ہو جائیں گے تو لوگوں کو پھر بھگتی بگتی کیا سے ملے گی سنساہر اچھا چلو بھائی یہ ساہی کرنے کی ستہ
میری ہے اس لیتونے میرا نام لکریہ اگر جو بھی آئے پاپی اپرادی سبکہ تون ساہے وائنکٹ کیوں بہت دیتا ہے جس کا جیسا پاپے اُس کو ایسی سجادو سود دو ہو جائیں بلے بھگوان میں سجادے نے یہ نیوکت نہیں ہوا ہوں میں تو انوفیشہ لیا ہوں اور چاہردن کی کرسی ہے کوئی پتا نہیں کب چلی جائیں جیسے چاہردن کی زندگی ہے جو ست کرم کر لیا سو کر لیا ایسے چاہردن کی میری انوفیشہ لی کرسی ہے جیتنا ہو گیا چاکام کرنا ہے اور کہتے ہیں کہ بھلا کرے تو بھلا ہوئے جو آروں کو شکر دیتا ہے کھڑ بھی شکر کھتا ہے آروں کو دہلے چاکر میں وہ کھڑ بھی شکر کھتا ہے کل جگ نہیں کر جگ ہے ایک ہات دے ایک ہات لے نیکی کا بضلہ کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر
کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر کھڑ بھی شکر बूलाय कठ़ कैर्तटल्तो बालयाच मुब़तान बीसानस आछ भो देवके न कि नाउ्य जल बाल्ता है भी आग जया कि जया किुवी दया एप पॡद है दाझन हुब्नी कमालिय में अल्गा जर्षन क्र्या अग हमे वाँँच पास वेगा بھولے بھگوانوں کو வہپس بیڑے ہوگے تو پھر آپ کے درشن کا فل کے اپھیر نرک میں تو پھر آپ کے درشن کی مہیماں کا ان سے بھولے چھپتے توц چلا جا آپ پریطھیں بھولے میں نے اتنے لوگوں کو طارہ و رہا بھکا درشن کیا اور پھر بھی مجھسن ہر کے مجھوری کنی کرنی پڑے تو پھر آپ کے درشن کی اور ست کرم کی مہیماں پھرünf چوہگہ گھوم جاے گا आवपी हैं दीष्यन לनक् सनहोति तन्वाशे का कणा शे हैं, उसान आवपी इना खले हा है करे तना कंमे का चंखी नवांवां, कसे तनरिताा की लसाना, कध़ि है। नपी है क। हमा россίंनwhiteouk Saithかशेशे कर्या के नवााना,
ग insurance très bend , or , इखренuenanda ayayat thisha दुपर कि çaम्पे प्र पेर पीर।- पिरverbता कि ध्वे मेंं नि Zehati किंया पटिशी कि निवे में लिइबकि- wondering वे मrenomation ha yaag Vasa awhile उ दिवे महें रह भर गवे लपिवे जिवे महें आपक्छी वें वेगे का सनशहति हो। Dipadwati. Bhagwan, Bhopasra, bhagwan bhi tady. Bhagavan Ram ke Mahibaap Dasrat aur kaushalya tha Bhagavan Krishna ke Mahibaap Vasudev aur Devki tha Manusha ki ithni uchi sambhavna hai Lekin agar satguru na hi milta aur siddhi sadhna suksma na hi milti hai To Manusha bhatak tha hai Bhogee bhoge mein bhatakra hai Tiaghi chag mein bhatakra hai Aur bhakt bhi caara bhaunau mein bhatakra hai Bhatak mua bheedhu bheena Paavee kono upa hai Khojatak khojatayug hai pao khosagar hai
Bhaktat bhogee se to bhaktatcha hai Tiaghi aangar se to bhaktatcha hai Lekin vakt bhi bhi caara bhatakra hai Isiliyashastru ne kaha Sant Janamilaharjas gaaye hai Unchakoti ke Mahapurusham ke Chiranu mein Baitkarari kajas sagao Unchse Margdarshan lekar pirtchalo Kabir ne kaha Sahajao kaaraj sansar ko Guru bhi na hot nahi Hari to Guru bhi na kya mila Samajale manmahi Sahajao kaar ye atagun nahi na roti Banane ka atag Usme bhi koi guru chahi Atagun nahi ke liye bhi Beti ko bahu ko Keseena keseena keseena sikna paat tha hai Sabji bananiya ni to pehle keseena sikna paat tha hai To jiwaatma ko parmaatma ka saak saak saakar Karne wala banana hai To jerur sadguru se sikna paat tha hai Subguru meeshur ma Lust Nasur Ma Karhe sabd ki chhot
Maare Goal Thenh umar aap reguyak Bharoam ki coach Tulsi tulsi tulsi what to do Tulsi ban ki khasa Kripaah bhairahkanath ki to h dokay Tulsi Nas Tulsi Nas pim saad hi ke tthir to Apne madny ke prathe u Uhke Bari karma snathi Eye 타on kath hai kaa niemanden Patne mayke chali jagall Jaid taltthubash rath ke웠h ایک بہر تو انہری رہت میں کتھ پڑے کسی شاب کو لکھ کر سمجھ کر ندی پارکہ لی اندی توفان اندھیاری رہتوں میں وہ اپنے سرحل گئے پتنی سے ملنے کے لئے دیکھا کہ کھڑکی پر کچھ رسہ وسہ ہے اس آجگر کو رسہ سمجھ کر سامت کو کھڑکے پتنی کے کمرے میں پہنچے پتنی نے کہا کہ اس اندھیری رہت میں یہ کھئے سے پہنچے ندی پارکہ سے ہوئے اور ایدر کھڑکی کھڑکی کھئے سے آ گئے بلے پریے تو نے رسی جوان رکھی تھے پتنی نے لالٹن کی دی بیٹھوں چی کر دیکھا رسی تو نہیں ہے تو
ساپ ہے اتنا کام بکار میں آپ اتنے بلوان ہے آپ کی باستہ اتنی تیڑ ہے کی وہ شہر مردے پر مردے کا سہر آلے کر ندی پارکے اور سہر آپ کا سہر آلے کر آپ میری کھڑکی کی میں کھڑے اور پھر بضلے میں ملے گا کیا چھمڑا چاٹھ تست میں شرید کم جوری ہادماث میں میری ہادماث میں اتنی تمہاری پریٹی ہے اس سے آدی اگر وگوان کے پرٹی ہوتی تو تمہارا بیڈا پہر ہو جاتا پتنی کے دوارہ امانوں پر ماتمہ انتریامی اس ور گروک کا کام کر رہے ہادماث کی دے ہماما تامیں اتنی پریٹی یا تی آدی جو رام اپرٹی آو سمیٹے بھا بیٹی بضل کے آبولے پھر سے بول پتنی گیتی کی ہارماث کے سرین میں جیتنی موابت ہے چھمڑا ہٹا کے دیکھو تو آنتے ملیں گے ماث میں لے گا نس ناریا ملے گے انتو کھڑی ہٹڈی آئے اور چھوٹی آدی آگڈی آئے انتر میں جو کھڑی جگا
وامل مطر ہے ناک میں ناک سے لینت نکلتی ہے آک سے کیچر نکلتا ہے کان سے مہلا نکلتا ہے موسے ثک نکلتی ہے آنیچے کندروں سے کنہ نکلتا ہے جانتے ہو چھرا سا چھمڑا ہٹا کے دیکھو تو کیا حالت ہے ث� rains جو کھرا لگ رہا ہے تو چیتھا نے اتما رام کی دین ہے اسرام کی پیار کو پاو اسہا ہدماس کو پیار کر کر کے کبتت سے ہم کشیامناہوں کے لب گی بات مولہ آج سے تھمین گرو چھڑے گا کانت میں بغواہن کی آگی آن سوبا کے پراتنا کرتے Hey Paramatma, میں کامی ہوں, میں کتیل ہوں, میں, دیرہ بھگ تو نے کے لائک نہیں ہوں, میں سنت ہوں نے کے لائک نہیں ہوں, تو کام سے کام تو مجھے تھیرے سنت کا اکششتے بنادے, کوئی ستے سنت کا مجھے بگت تو بنادے, اتنی تو دیا کریں. پھر وہ سنت روے ہیں, کہ میں سنت کا ششش بنوں,
یہ بھی کوئی کرم پہنے چاہیے. پاپی آدمی کیا سنت کا بگت ہوگا, کیا سنت کا پر سادہ لے گا? میرے اتنے بھگھا ہے کہ میں سنت کا شششنے ہو سکتا ہوں, سنت کا بگت نہیں ہو سکتا ہوں, سنت کا ساتھی نہیں ہو سکتا ہوں, تو کام سے کام تیرے سنت یہ بھگتی آویشنوں کے دوار کا مجھے, تو گاو بنادے, تاکی میرہ دوڑ تیرے سنت کی سیوا میں جائے, اور دھر سبر میں راکل لیان ہو جائے, میر رامجی اتنہ تو جرور کرنا. پھر تو سیداسی سوچھیں کے سنت کے دوار کی گاو بنے کلے بھی تو کھوی پنے جائے, میں تو کامی ہوں, کٹیل ساپ کو پکر کر پتنے کے پاس جاتا ہوں, رسی سمجھتا ہوں ساپ کو, ہیتنا کامان دھا دمینگ, سنت کے گھر کی گای کسے بن سکتا ہے. ہے بھگوان سنت کے ہویشنوں کے گھر کی گای نہیں بن سکتا ہوں, تو کوئی بات نہیں, تو مجھے کم سے کم کسی سنت یہ ویشنوں کے گھر کا گھر بنادے, وہ مجھ پر سواری کر کے کتھا کرنے کو جہے گا, میری سیوات تھوڑیس ویکار ہو جائے گی اور در سبر میں توز کو ملپا ہوں گا ہے بھگوان,
مجھے گھرائی ملاتے تھے رہ بھگتکا تھے رہے سنتکا. منی ہی منگن گناتے ہیں, آپ بھی کبھی منی ہی من کمرے میں بھگوان سے بہت چت کروں, کہ بھگوان جندگی پسہر ہو رہے تھے رہی بھگتی مل جائے, تیرہ دیان مل جائے پر امشانتی کا پر ساد مل جائے, دنیاں بھر کے باتے تم نے بہت سنی لالا بہت کہی بہت کہ ہو گے, لیکن اس سے آخر میں کچھ نہیں ملے گا ربتے رہے جائیں گے, کبھی کبھی اس دنیاں کے سوامی کے ساتھ بات چت کروں. کبھی رو, رو نہ نہیں آتا تو اس بہت پر رو کی پیسوں کے لی روتا ہے, وہوائی کے لی روتا ہے لیکن پر مطمکل گئے, ایر میرا پاپی من تو جی رو نہ نہیں آتا, کبھی اس کو پہر کرتے ہا سو دیکھو پر دیرے دیرے تمہری ہو, چیت نہ جگے, جو جو آپ انترم کو پاس نہ ساد نہ کر ہو گے, اندر کے دیوطا کا درشن کرنے جاؤ گے, تیوں تو آپ کی پر تیحطی چاہے گی, بہار کے دیو کے درشن کرنے میں تو تمہی لائن لگانی پڑے گی, پرچی پھڑانے پڑی درشن ہو چاہی نہ ہو, لیکنیاں اندر کا دیو تو جب چاہیے,
تب درشن کر سکتے ہو, اور اندر کے دیو کے درشن ایک بار تک ہو گئے, تو پھر بہار کے دیو کے تم نے درشن نا بھی کے تو کوئی فکر کی بات نہیں ہے, تمہارا جہاں بھی ہو, وہاں دیوی ہی دیو ہے, پرچی داستی کہتے ہیں کہ پر بھو, میں گا ہوں تو نہیں بن سکتا گورای بناتے, گورا بھی بننے کے لیے پھنے چایے, اب تو پر بھو اور دوسا کوئی اپائنے, ترے پیارے ترے کو انو بھو کی ہوئے, کسی ویشنوں کسی مہپرش کے دوار کا مجھے کتا ہی بناتے ہیں, دا کہ اس کی نگا پر تیرے گی میرے پاپ کریں گے, اس کے ہاتھ کا ٹکڑا کھوں گا میرا دل پیتر ہوگا, اور در سبر میں ترے دوارتگ پہنچ پاہوں گا, اسی لیکن اسی صندھ سچے صندھ کے دوار کا, کتا بھی بناتے گا تو میراکہ لیان ہو جا رہاں, سلھے ردے کی پراتھنا انتا کن کو پویتر کرتی ہے, بھگوان کو تا کیوں بناتے گھوڑا کیوں بناتے گای کیوں بناتے, بھگوان نے تو سندھ ہم بھگوان نے تو تلسی کو سندھ تو تلسی داس بناتےیا,
تلسی تلسی کیا کرو تلسی بن کی گھا سکریپا بہی رگوناتے کی, تو ہو گئی تلسی داس, اس رگونات کی کراپا کو پانے کے لئے آپ بیچھک پٹاؤں, کبھی یت نہ کروں, ایتمام جنرکی کا سمعی پیتا چلا جا رہی آپ, کتنا آئے باکیے, دیکھ سال دو سال نکالا کرشے پاچھ سال نکالا دس سال بی سال آکھر کیا, تو یہ جیبن بھئے بیتگنگا کی نائی بہر آئے, اس میں سے اپنا سمعی بچا کر کام کرلو, پڑا رہے گا مالک ہجانا, چھوڑ تریاز ستجانا ہے, کر ستسنگ ست کے سروکیشور کا سنگ کا, کر ستسند ابھی سے پہرے نہیں تو پھر کس تانا ہے, کلا پیلا کے دے بڑائی وہ بھی آگنی میں جلنا ہے, کر ستسند ابھی سے پہرے نہیں تو پھر کس تانا ہے, کو ستسر کا سنگ کروں, سو بنین میں سے اٹھو تو سنگ کروں کے تیرہ سنگ کیسے ہو, کبھی ویحور کرتے کرتے بہر بار سو چاکے ہی میرا پر ماتمتوں میرے ساتھ ہے,
لیکن میں ابھی تک تیرہ سنگ نہیں کر رہا ہوں, மرنے والی چیجوں کے சن میں پڑா him, میٹھنے والی دوستی کے சنگ میں پڑா him, لیکن امیٹ میں رے مالک تیری دوستی کا میری کو کا برنگ لگے گا تو دیا کر دیں, سچھ رہ دے کی پراتھنا عام کر لے گی, اگر سچھ رہ دے کی پراتھنا نہیں, تو کم سے کم ایسے ویسے بھی کروں, تو دھیڑھ رہ وہ بھی سچھی بنچائے گی. بگوان کہتے ہا پوری مانم, اچھلام پر تیشتاம். سموڑ رمعپا پرویشانتی یادوت, تدوت کاما پرویشانتی سروے, سشانتی مابنوتی نکاما کامی, حلکی چیج کو نکالنے کے لئے, حلکی کامنوں کو نکالنے کے لئے, اچھی کامنہ کرنی چایے. جیسے کاتے سے کاتا نکالتا ہے, ایسے ہی حلکی واسناوں سے, حلکی کروں سے اپنے درھن دل کو پویتر کرنا ہو, تو اچھے کرم میں لگا دیں اپنے دل کو, حلکی آدتوں کو دور کرنا ہو, تو اچھی آدد دل دل دل دل دل دل دل دل اچھا ہے، بگوان کے درھن کی آدد اچھی ہے. سنسار آخوں سے بھی ترگوستا ہے, کانوں سے بھی ترگوستا ہے.
تو سنسار گوستا ہے تو اشانتی پیدا کرتا ہے, اس کی اپیکشا بگوان کے سریویگرک کو دیکھ کر, اسی کو اندر لاؤ اچھا ہے. بگوان کے پیارے سنتوں کے وچنسوں کر, امی کو سنسار ملاو, تو جیسے کانٹے سے کانٹہ نکلتا ہے, ایسی ستسنگ سے کسنگ نکلتا ہے, اور سو درشن سے کو درشن کا, حکرشن نکلتا ہے, اور دیر سبیر سو درشنہت جائے, تو پھر سو درشن تمہرہ سوابہ ہو جائے گا. میں نے بنتی کی تھی کہ بھگوان کے درشن کی آ, لیکن ستسنگ نہیں ہے تو مو ہو سکتا ہے. گروڑ بھگوان کے سیوک تھے, بھگوان بھگوستنو جب راما آوتار میں آئے, راما آوتار میں آئے, تو میکنات جی سے جب بھیڑنا پڑا, تو میکنات جی نے ناگ پاس میں, رام جی کو بان لیا, نارت جی گئے, کا گروڑ سنگ گروڑ کے پاس, کتھا کر جی بندے ہیں, جہو مدت کرو سیوک کرو. گروڑ جی کوئی سادہان پکسی نہیں ہے, پکسیوں کے راجہ ہیں, بے جب اران بھرتے ہیں, تو ان کے پنکوں سے
سام بےڈ کی ریچہیں گنجتی ہے, اتنے گنجتی ہے. او آئے, گروڑ آئے تو کئی ناگ تو ایسے روانا ہوگر باکی کے ناگوں کو گروڑ جی نے اپنی چاہچ سے چکانے لگا دیا, رام چندر جی نربند ہو گئے, رام جی تو نربند ہو گئے, لیکن گروڑ کو مو ہو گئے, کہ یہ بھگوان کیسے, اگر میں نہیں آتا تو یہ ناگ باش میں بن دھے رہے, یہ بھگوان کیسے, گروڑ کو مو ہو گئے, مو ہونے سے شانتی بھنگ ہو گئے, گروڑ جی بٹکنے لگے, بٹکتے بٹکتے گھومتے گھامتے آخر گروڑ جی اشانتی متانے کے لئے ستسن کی ضرورت میں سوسکتے ہیں. او بھگوان سیو جی کے پاس گئے کے بھگوان مجھے او پدیش دیجی میں بڑا دکی ہو گئے, اشانتی ہو گئے, کب سے اشانتی ہو گئے, کہ جب سے شری رام چندر جی کو ناگ باش سے چھڑ آیا, تب سے اشانتی ہو گئے, من میں آیا کے بھگوان کیسے, یہ سچ مجھ میں آدین آرین ہے, کہ دسرت کے پتر رام ہے,
ونواصی رام ہے, رہم کے پرتی میں رمن میں ایسا ہو گئے, تب سے بڑی اشانتی ہے. سیو جی نے دیکھا کہ یہ تو, اپنے کو چتور سمجھتا ہے, میں نہیں ناگ باش سے بگوان کو چھڑ آیا, اس کو جراکت, او پدیش تو ملے ریکن اس کا عام دور ہو, ایسی جگہ پر بھیگنا چایا ہے. پکشیوں میں شدرا سے شدرا جاتی کافے کی ہوتی ہے اور اونچی سے اونچی جاتی گئے گروڈ کی. جیسے کسی سمرات کو چپراسی اور وہ بھی بے کار چپراسی ریجتس سے پراسی کہ دوہر پر برطن بھیجنے, ماجنے بھیجو تو اس کی ہے, اس کے عام گلانے کی پرکاشتا ہو گئے. کوئیش چکرورتی سمرات ہو اور ریجقت چپراسی کے دوہر کے برطن مجھے, تو اس کے ہمان کی کیا کی مطرے ہے? سے بگوت کا تھا سنو تو تمارا مو دور ہو گا. گروڈ کی گئے ہیں کاک بوشند کے مصری مقصے بگوان کے گنگان سنے ہیں ستصنگ سنے ہیں بگوان کے درشن سے تو مو ہو سکتا ہے
لیکن بگوان کے ستصنگ سے مو دور ہو تو درشن سے بھی ستصنگوں چا ہو گئے. تو جن ستصنگ ہے وہ آدمی کو ستے سروب ایشور میں بیٹھا تھا ہے. سنت سروب پرمات مقانوب ہو کراتا ہے. انتر آرام انتر اصوکہ انتر جو ترےوچا ہے. انتر کا آرام انتر کا اصوکہ اور انتر کی گن کی جو تیچا گاتا ہے. یہ دیے کی جو تی تو گرام ہوتی ہے اور وسطوں کو جلاتی ہے لیکن انتر گن کی جو تیچا بگروڈ جگادے تھے تو وسطوں کو جلاتی نہیں ہے لیکن جیبر میں پرکاش لئا تیچ. سنتی لئا تی مادورے لئا تیچ. جن کے ردے میں وہ آچل سنتی ہوئی ان کی آق میں جگ مگاتا آنند. سنتبت ردائوں کو سنتی دینے کا سامر تھیا اگیان میں اولجے ویجیوں کو اتمگان دینے کی ان کی شیلی اپنی ادھتی ہوتی ہے ایسے پرش سنسہر میں جیتے ہیں لکھولوں کا انتر کر بگوطاکار بنا دیتے ہیں اور ایسا کرنے میں آپ سکشم ہو سکتے ہیں
اگر آپ ستسن کا سہرہ لیکر دل مندیر میں جانے کا پر آس کریں کبھی بھی کوئی بھی دک یا سک دینے والی گتنائے تو اپنے اگیان کا سہر ہلو
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sand...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 12,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya