Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 23, 2026

Feb 23,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Feb 23,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

644 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 23,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 23,2026 Monday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

کவیر جی کا, شمای پورا ہوا سنسار سے بدایلے نے, کہ کவیر جی کا, يا رہ, نام کبیر آئے کبہے, اب دوی دکھتے تھے, اب دوی بھی دکھنا بندھر ہونے, مطلبہ ہم سری, چھوڑھے, اب بھاکت دور دور کے ہارے, کہ اب تو جارے ہیں, کبیر کی تو درشن کرنے, تو دویر دھو بھا گھیل, رہا, آیا, کاشی کا ہو سمیکہ, اس کو پتا تھا تھا تھا تھا, اولے تو کبیر کا, مطلب درود کایاں, ماضم کبیر کا بھاکت بن گیاں, درود کیوں کیا کہ, کبیر, کو کبیر مہل دیکھیں اور سرحانا کریں, تو کبیر نے سرحانا نہیں کی, مہل کیا ہے, مہل میں دو آوگوں ہے, ایک دو ساتھ چلے گا نہیں, اور دوسرا رہنے والے, زنہ رہے گا نہیں اس میں, رہنے والا سدہ رہے گا نہیں مہل کنگ کنگ بکت ساتھ چلے گا نہیں,

یہ دو نکس و رہا ہے, بگیل کا باب بھی نہیں نکال سکتا ہے, رہا ہے بگیل کو کچھ چٹ نہیں, لیکن دھر سوتھے سوتھے گولے ہے تو یہ, مہل چلے گا نہیں ساتھ میں, چلے گا ہے, مہل چلی ساکتا ہے, گہنے چلی ساکتے ساتھ ہم, ہم پوچی دھا ہے, کسی کے گہنے ساتھ میں چلی ساکتا ہے, مقان میں ہے, دل بل ٹیٹل, پائل چلی ساکتا ہے, یا رکھ بھی نہ کوئی ساتھ آئی نہیں, جائی ساکھے کا مطلب نہ, بھی دے وگهلا کو پتا چلا کہ, کبیل چی تو, چاہرے, وہ بھاکتا ہو آیا, چروں میں گیرا, مہراج کو دیکھے کنگ دیا, پھر پر نام کریں, پھینے کتا کتے کھیں ننگے پی ہے, ننگے سے, رایا, کاشی کا نرے شوری سنت کبیر کی آگے, حاضر, حضب نہیں, حیثا نہیں, چر آیا تو,

دمہ دمی دکھا گیا, گیگنہ کرے, حیثا نہیں, گرو کے دوار پر, جا کہ گیگنہ کرنا, ان کا تو, کری کرے, کڑا سیا, سادنا ناس ہو جاتا, ان کا تو, ٹیٹت پور یا شور بشپاس, ناف ہو جاتا, بڑھا پرا دو جاتا ہے, اتی اپرا دو جاتا, جو گرو کے دوار کی ووستہ بیدارنے میں, مجالے تھے, حالو حجتا نہیں, حقی رنسا, انہالہ جا کھا سو وزی رنسا, یہ جکر فکر جا امال کرتے ہیں, آگیا, مریعظہ میں سمحال کے ویوار کروں گے, تو, زکر دے دیں گے, ایشورک موج تک نہیں, یا ترام, اگر گڑ بڑکی تو, دیر سبر, تھوڑایوں میں گیا تو, فکر بھی, ایسی آیا, ایسی یہ, یہ زکر فکر جا امال کرتے ہیں, سنتوں کہی دوار جانا, ان کی سے باکھو جلے نہ تو, سمجھو زکر مل گیا, اور ان نے ربیگ نبادہ دالنایا, یہ بوکر نہ تو, فکر مل گیا, زکر فکر جا امال کرتے ہیں,

تو, قبیر کے چارنوں میں, کاشی نرے, شو, ویر دیو بکھیلہ, حندوطنام کرتا, محراجا, جا رہے میں نے, پر ان کی اتھاپرا ہو, کہ اپنے گرو دیو کو, اپنے ہاتھوں سے بوجن, بنا کرتے ہیں, پہنچ سان, آپ کے دوار کا, دوار پال ہو کر رہوں گا, کاشی نرے شوکہ تو, دیکھ لیا, لیکن ستگرو کا, ستشش شوکہ میں, دیکھنے, اپنا جیگا, انتر آتماکہ رس پانگا, محراج میرا, یہ پران تھا, اور میں نے, پران کرتے وقت سوچہ تھا, کہ یہ, میرا پران پورا نہیں ہوگا, تو میں, پران چھوڑ دوں گا, پرہاں, آپ چھوڑ لا چھوڑ رہے ہیں, تو بگیل آبیا آپ کے, ساتھ ساتھ چل دےگا, گاہدی نگر کا بگیلہ کی بات نہیں ہے, یہ ہے, یہ, دیر دیو بگیلہ, کاشی کا بگیلہ, کبھی نے,

دیکھا کرا دیارا دیارا, دیر پوروک کہتا ہے, اور اس کی, میراے میں, بکیش بن دھا ہے, کبھی نے, تنک موم لے لی, عشان, بھی آرمن دوبے, بھی آرمنہ, اس و بھی آر کی, موضمانہ, اسفر کا, آنند, بھی آرمنہ, اسفر, اور دو اور فاصی بہتا میں, اسفر کو, بھی آر کر کے, پوجہ نہ واجع ہے, بھی آرمن دوبے, یہ, کراپا پونہ, درستی رہلی, نگتنپا, حرور دوبے, گھیلا کے طرف, سنکیت کرتے ہوئے کہاں, کہ تم نے, سچائی سے پرن کی, درستی پرن کیاں, درستی پرن کیاں, ٹھیک ہے تو, پہنچ سال رکھ جاتے ہیں, کیسے محاپر, مدت کو بھی کہاں جاں, پہنچ سال کے بعد آنے, خودی کو, کر بلند ایتنا کی, ہر تک دیر, کہ پہلے, خوداتت سے,

پوچھے کے, بندہ تیری ریزہ ہے, کتنی, یو گیتا برے, یار نے, اپنے دل, بگهلا ہوں, سی سمئے, راج کا بہار, جن کو دینہاں, دیکھا, کبیر جی کے, چروں میں, ایک, ساہدہرن, رسویا, ساہدہرن, پوجاری, ساہدہرن, جھڑووالہ, ساہدہرن, کھن کھلہ, جو, وہ بس, جیسے, جانی شر, وہ لتے ہیں, کہ, کچھ سے پطuesto گروں, اور پاہا ہوا, کیا ہے, اور سراہی, یہ، اور sufficient , למעیاں, سراہی, میں, jakieś, یہ زیport thorów ، اور اور signaling ، کیا ہے کے گروں, وہ samoshtivayu میں ملے لیکن ایسی جگا رہے جہاں میرے گرو دیو کے چارن پانٹے.

جیگ گرو دیو نے گیان دیا ایشور کا سکھ دیا, نورانی نگا ہوں سے پاپ کا پھارتے ہارتے ہارتے دیرے دیرے, کرہ مارے ردے میں بگوٹ رس اور بگوٹ گان بارتے ہوں کو کیا بطلாதے. گروکی سےوہ ساتھ ہو جانے گرو سےوہ کیا مود پیچھانے تو بگهلا کو سےوہ کرنے تو تھوڑے اور تم بجندسون آدم. پہنچھال دو مینٹ میں بیتا دیں وہ ٹھیک نہیں لگتا. وہ سےاں کر رہا ہے اپن بجندسون دیں. گروکی سےوہ ساتھ ہو جانے گرو سےیوہ کیا ہوں سے گś Late August غروکی سےوہ کیا ہوںwhen we make created the army of a mixing of evil

ممتا مرے پاک کی مے جاکے ممتا مرے پاسے رسے آیا ممتا مرے پاک کی مے جاکے گروسے مارسوں خریمت رکاشے ممتا مرے پاک کی مے جاکے گروسے مارسوں خریمت رکاشے خریمت روی مدے جب آرسے گروسے مار پاک کی مارت مرے پاک کی مارسے گرونت تجی چاکھا پاک کی پاک کی گروسے مار پاک کی مارت مرے پاک کی گرونت تجی چاکھا پاک کی پاک کی

پر لسے 傞oming گروسے مار پاک کی مارک کی خroportion MARISHA گروسے مارflower बआचौप़दिसेवाएरा नोनैूप्द्लूपिथ्सेयार 198- độ intensively इद वर बचौप्दिसेवार बorse'llﷺ पूप्देवार बकौप downtí इद वय। जौपeping। ग Lanka Guru grandpa claro चौपीजूपे हह और आ वयह वय हह बुछते अब पाऐ ल हम भशरொए नहीं हैं हैं नहींटन रहीं हैं नहीं हैun computer semua semua कppyन लोए जखपकाते करेटी हैстрой हैं नहीं � lil around 6 कत्र हेंं नहीं हैवयों। ब़्तम सैவक हे नहीं है है। kas सं के त जाप हॄ हैसी हैं है कुते है नže鼓ं वाभी है त तख़ता काתआ।

கணشططہ سےவا کی جگا پی بضمาشی بیمانی کچھا۔ مورث کلاس۔ وہ رہا میں۔ سل تو اپنے چٹھکوں وہاں میں لگانا چاہیے بھگوان کی بھگتی میں لگانا چاہیے قبیر جی پاست سال پورے ہوvé بببیلا کی شیواصے باڈیں سنتجھے۔ جا تجا تھی قبیر جی نے کہا کہ سد آچرا جروری ہے کود کپٹ چھوڑھیں نان دگا باہجی نہیں رکھنا جیسے بگیلہ ایتنا سمرات کاشی کا ہوتے ہو بھی نیدو سبالک کی نائیہ 5 سال میں جو کالیا بگیلہ آکہ نام میری نام کے ساتھ میری سے واکے ساتھ بگیلہ بھی عماد ہو گیا بگیلہ کو تو پتہ بھی نہیں تھا بھیڑ دیو بگیلہ کو تو پتہ بھی نہیں تھا کہ آجارو ورسم کے سکلو ورسم کے بعد آشرام باپو ہوں گے اور میری سارانا کریں گیوں کو پتہ نہیں تھا دیکھیں سے واکے کبیڈ جسن تشٹو ہے اس کی سے واکسے

مگلے جاتے جاتے یہ بات سنلو کے بگیلہ کنائی آنکہ ارچھوڑنے نام دوے شراغ دوے شچھوڑنے نام سچاہی اور سنحیسے سے واکہ اور سے واکہ ہو گے تو وہ دیکھنے والا ساحب تماری سے واکتا اور تماری بیمانی بھی دیکھتا ہے اور تماری سچاہی بھی دیکھتا اور تماری سچاہی بھی دیکھتا چاہے کوئی بگنرالے کوئی گاکا دیکھیں کوئی کچھ کرے لیکن اپنے سچاہی سے تو سے واکتا لینا اس گروکی سے واکتا سادو جانے گروسے واکتا موتا پیچھانے گروسے واکتا یہ مدندنا سہجی سکھر پرم پدپا شبری دیکھوں مدنگریشی نکا دیا کیا ہم جا رہی لیکن بیٹھا آجھم کا تکھال گروسی ہاکے بنامے کیسی بیٹھے میں یہاں ایسا سمت شریف بہلے میرا نا دیکھ میں یہاں

بس گروسی نے بونڈیا یہاں ہر ترام کو تکھو جنے نہیں جا نرام ترے پاس اپنے آوائیں جر ایسا نہیں بولا کہ کون سی ٹیک پائیں گے کون سی ٹیک پائیں گے گروسی آپ سج بونڈگے مجاک کرتے ہوئے میں آپ نے ہر آمائیں گے لیکن کافائیں گے کسی آیں گے کون سی ٹیک پائیں گے میں کیا کرنے دوائیں گے کچھ نہیں ستلچ سروہ رکھا ٹھے شبری بیٹھی سروہ رکھا ٹھے ہو لی بھی لنا بیٹھ دھرے راں منوم دھیان کچھ میں پمپا سروہ کے پاس مطنگرشی کاشھر محارholder semma vurung helward laxer fiferab e mas soledan cal Christ pharah pharah firui pר prot oph pharah p dinosaurs thus pharah pharah

pharah pharah pharah pharah pharah pharah pharah pharah pharah pharah pharah pharah پہرے پھر پھر پھر بھاگ چھڑ آئے گا ہم پر اسٹو ساہو دھا ہم کرتے پتنے کے ساتھ چھڑا کول کے چھڑے گے ساڑوں بن ہے سے تو بھئی کئی چیاس میں ہیں لیکن پر اسٹ کے ساتھ پھرے پھر تیوی پتنی کو جب ساہو دھا ہم سبڑ کا اُن جن سنات دیکھا کہتا سنسار میں بٹک نہیں ہے یہ تو پھرے وہ خود چھڑے کول کے دولہن اور چل پڑی اس کا باپ مکھیا تھا بھیل سماج کا اور کتنا ہم بل لگا ہے اُن باپھیتنا اچھل لگا ہے اُن باپھیتنا اچھل لگا ہے کتنا دمہ رہا ہوں گا کتنا ایجت کا حال ہے اور اسٹے مانے میں اسٹری گھنگت میں رہے ہیں ایکنی شوطند رتان کبھی شبری نے کتنی ہمت کی ہوگی سے رہے باستم میں کوئی رہنے نہیں ہے تو جنگل میں جوگڑی بنا کرے تھے اور رہت کو چھڑ کے لکڑیاں آشرم کے بار پھیک کے چلی جاتے

کہ گروجی کی سیوہ کبھر کریں رونے جاتے ہیں میں لے جانگی تو میں رہے کو بھیلان کو تماریں گے بگا دیں گے چلوی اس بانیں گروگی سیوہ ہو جائیں تو سیوہ کو نے جا کہ کہ گروجی آشرم کے باری کوئی باری چھوڑ جاتا ہے دن مرتا ہم دیکھتے کچھ نہیں رہت کو بھی کچھ نہیں اور پھر بہت کو دیکھتے تو لکڑیاں تایاں پڑی ہے ایک گیاں میں کلیا آشرم کے رسول کی گروگی نے کہا کہ کون چور چوری میں چوری چوری چوری میں سیوہ کر دیا تھا چوری میں چوری میں سیوہ کر کے جانے والے چور کو پکڑھ مرمچاری جاگے چھوپے رےکھا گے رہا ہوں مدراتری دو دہی بجے ایک دیکھی جاکھتی جاکھتی دیرے سے ہوں اپنا بوجہ آشرم کے پاس میں چھوڑھ دیا تھے چیسوں نے گیا رہا ہوں پکڑی گئی چور بھیلان چور چور چور چور چور چور گیا پیسا ہر جاتی تھی کچھ لے جاتی تھی نہیں چوری چوری کر کے سیوہ کر دیا تھے

شبری کی چوری چوری چھوپی کی سیوہ بھی یہاں تک پہنچ کہے کہ ابھی شبری کہتنا نام ہے تو جو سچ مجھ میں دیکھا کے سیوہ کر دیا ہے منا دکھا بھی سیوہ کر دیا تو سیوہ کا پھلت ہوں چاہی سورت کا چکر مارکے ہیں چاہی کہیں کہا ہوں دیا ہوں چوری چوری کی سیوہ بھیک شبری کی پھل جاتی آج کل تو کیا ہے کہ ملا تو لیں گے اور والانتر کا سیوہ کھاہاں کھائی پیے گومے گا میں مص جاکے ہیں چھرمتے ہوگو حلکنیا لے کے دنڈے لے کے بطماریں گے تھوڑی ہے باکی گے کچھ ہی ماندار سیوہ کھیں کچھ تو ایسی پھٹھ کلاس سیوہ گوسیاتے گروپی سیوہ سادو جانے جس کے سوہ بہوں میں سادوتای ہے جس کے سوہ بہوں پویترتای جو اپنے منوشجنم کی قدر کرتا ہے جو اپنے جندگی کا ملجانتا وہی بھگوان اور گروپے

دے بھی کاری کی سیوہ کر سکتا ہے راوان کیا کرے گا رہم جی کرتے سیوہ کنس کیا کرے گا کروسنجی سیوہ کرتے ہیں گروپی اسرم کی لکڑیہ کارٹنے جاتے کروسنے مارش میں ٹھند میں ٹھٹھر تھے ٹھوڑے سے چھنے لے گیا تھا سُنہمہ جاہد پیچھاڑے گیا تھے تو چھوب کیسے وہ بچے ہوتے ہیں چھوب کیسے ہوتے ہیں کروسنے نے پوچھا میٹھر کیا اکھا رہے وہ لے وہ تو ٹھند میں ٹھا تھا تھا تھا تھا تھا انسی ٹھے آوہ آجے کروسنے سے چھوپا ہے سُداما کر گا دھے کروسنے دھا دھا دھا دھے دیشورے گے میری بھی گروکی زیبا تو سُداما کرتے میں بگتی تو رہی گروکی آجتا میں گروب گروبھایاں سے کہیسا رہے نا چھے شیوانانی ماراتکتے دھے دھے شنے کر نا چھے گروب گروبھا گروبھا گروبھا سے با کارے میں لگا ہو تو سہیوکھ دے نا چھے

اور کتنا چھوب کر شبری پر شبری کو پکڑ گے لے گے آتنے نہیں لگا لگا لیچھے کھا پتی رہی کے اب کیا سگا ہوں گے کرے کھونے چھوڑی تو دے گروبھا رہے جنے فلا نے بیچھے گے بیچھے چھے انگی بیچھے چھے تو اب کونے رہے میں رہی سادی کر رہے تھے پھے رہے پھے رہے ہے سادی کے پھے رہے پھے پھے کیا ہوا اور پندیت نے کا ساوڑ آن اور میں ساوڑ آن اور کے سنسار میں بس جانہ پڑے گا منوششجیوان ملا بگوان کو پانے کو گروبھا گروبھا جن کے رہے میں کیا ہوا کے اپرا دی ہوں جو سا جادے نہ چاہوں ہو دے گے پھلے آپ ترے کو سا جانہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ

یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ یہ گھر گھے یک گھے میں نکری کھاں آج ہے ہم نے ایشور کو نہیں دیکھا ایشور جنگے ردھے میں پڑھ گھٹ واتھ واتھ واتھ جنگ کی وانی شہیہ رو آدمیوں کو سانتی سک ملتا ہے ہےیسے سکھ داتا کی سیوہ میں آج آگے گا تو ہمہ رہا بھا گیا گیا گیا گیا گیا رتماوالی نے کہا پتی کو کہ آپ کو ایسے رات کو

میں مائے کے رکی اور تمیدر مائے کی آگے میری ہادماز کے سریر میں تمہارے کو ایتنی پریٹی ہے آدھی ہادماز کی گئے ہمہ میں تم ایتنی پریٹی یاتے آدھی جورام پرتی اوہ سمیٹے بہا بیٹی ملے دے بھی پھر سے سنہادہ وہ گتنا ہولی نے پھر سے سنہادہ وہ وانگے مگوان کے خوجہ نہ ہاں یہاں تو لیڑی آدے دن چندل سنگاتی تو بھی بائی راگے نہیں ہاں چاہ سو جو تاکھا ہے تمہا شاگ اس کے دیکھیں بل بھڑ دیتے ایتنی رہتے چاہ سو جو تاکھا ہے تمہا شاگ اس کے دیکھیں یہ تلسی داستی دو در گھومے اور ایک دم ردے سے پاہی مام گا اور بہگوان کو پر آتنا کی کہ ہی پر نشور ہے دیوی شاگ ہے ایشوارے کر پاکا ہے

میں تو آپ کا بھگت سنت تو نہیں بن سکتا ہوں لیکن تو مجھے تیرے سنت کے دوار کا سیوک بن آ دے سو چاہ کے سیوک بن لے کے لئے بھی نمرتا چاہئی سچاہئی چاہئی سیوک بن لے کے لئے بھی تتبرتا چاہئی یہ سوج بوج چاہئی یہ میں تو کامی کتل اور سنت کے دوار کا سیوک تو میں کیسے بن سکتا ہوں تو سیوک کا سیوک بن آ دے گول آجے گولان مات گولان جاتن جو تھی گلا ہوں داستھوں کا داستھ منا دے ہی بھی سوچاہ کے داستھوں کا داستھ منا کے لئے بھی تو پویترتا تو چاہئے اچھا تو پر بھو تو مجھے کا تیرے سنت کے گھر کا گاہے بن آ دے دوٹ میں رہوں کے بھوگ میں لگ جائے گا دیر سبے ہو برمج جو تھی مما دے پر سوچا سنت کے دوار کی گاہے بن لے کے لئے گا بھاگ کے چاہئے ایسا بھاگے تو ہی نہیں ہو لے نہیں ہے تو گرو کے دوار کا گوڑا بن آ دے اور مجھ پر سباری کر کے کبھی جائیں گے ہری کا تھا کہنے

کرانے تو جس مہنے تو تاپے بھروں کا پسینہ بہے گا تو بھگوان نہیں تو بھگوان کے پیارے سنتوں کی سیوام میں دوگوں کے پسینہ بہے گا گھڑا کے چولے میں بھی میرا منگل ہو جائے گا آپ پھر سوچت کے سنت کے دوار کا گڑا بن نا کوئی سا دھرام گڑا کا تو کام نہیں ہا گئے سے میری میں تو کوئی سی کوئی آکھر بھولا کے پر بھو اب میری میں یوں کے تاہو چینہ ہو کم سے کم سنت کے دوار کا میرے کو کتا ہی بن آ دے کیوں اس کی نگاتوں پڑے گی جرہ بھونک لوں گا رات کو توڑی چاکھی دا رکا ہوں گا بگوان کتا کیوں بن آ دے گڑا کیوں بن آ دے گائے کیوں بن آ دے بگوان نے تو بگوان نے تو بگوہت میں سنت بن آ دیا تلسی تلسی کیا کہا ہوں تلسی بن کی گاس قربہ بہی رب نا تکی تو ہو گئے تلسی داس

بہی رب نا

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →