Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 20, 2026

Feb 20,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Feb 20,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

579 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 20,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 20,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

तրं के करतब मीग्या�영 � lidt mouth किए। यह इहaveom اور پانا تو بہت کر لے ہیں لیکن جس سے کیا جاتا ہے جس سے پایا جاتا ہے اس انوبہ سروپ اشور میں شان تو نہ بیسی ایک ہوتا ہے کرنا دوسرا ہوتا ہے پانا تو سنسار میں کرنا اور پانا ہوتا ہے تیسرا ہوتا ہے انوبہوں انوبہوں کے آگے کرنا اور پانا گوجر جاتا ہے

اور اپنے میں کا انوبہ جو کرتے ہو رہتا ہے میں نے ہت کی پیدا نے یہ چیج لے کے دی میں نے یہ چیج پای اُت ہت بی چلی گئی چیج بی چلی گئی لیکن اس کا انوبہ والا میں ابھی ہوں میں نے ہت کی مطوى پتی کو وینجن کلا ہے ہر یہ گئینا پایا میں نے یہ کیا میں نے دن دا کیا میں نے یہ پایا تو کرنا اور پانا ہے پایا کرنا پانا جاہ سے گوجر جاتا ہے وہ ہے آت مانوبہوں تو آت مانوبہوں پرتے کے دیتی کر سکتا ہے کرنا پانا میں کلکٹر کا کام نہیں کر سکتے سب بنجنیر کا کام نہیں کر سب باپنجی کا کام نہیں کر سکتے لیکن باپنجینے اور جنکنے اور کی بيرنے جو پایا اس پر میرشور پدکوں سب با سکتے تو انوبہوں سب کے باس جوں کاتے ہیں

انوبہوں سروب آت مان کرنا پانے میں دو بی اکتی برابر نہیں ہوتے سب کا آلگہ اللگتا ہے اور کھر کے پاکھر کتنا بھی کی اور پایا انت میں جس سے کیا وہ شریر اور جس کے لیے پایا وہ شریر اور سبند چھوڑ جاتا اور جیو کا انبو ایسے رہے جاتا اور جیو بھی چارا پھر کرنے اور پانے کی واسنا سے جنمجن مانتر بٹکتا رہے تھا ہے پولسی داست نے ایسے ویکتیوں کو ساؤدھان کیا سردھنی دھنی پچھتا میں کالیں ہی کرمہی میتھا دوش لگا ہے جو نترے بھو ساؤگر نر سماج اصپائی سو کرتنند کا مندمتی آتمان ادوگتی جائیں اتنی بود دی ملی ہے سمج ملی ہے کرنا پانا جس سے ہوتا ہے اس انوبہ سروف اتما میں آنا ہے اور بڑا سرہ لے

ویچاروان سرداوان سگرہ ویکتی کے لئے سنسار ترنا گوپد کی نائی ہے نگرہ اور کرنے پانے کی واسنا کے اندھی دور میں لگا ہوا سنساری کے لئے سنسار بڑا و گمبی رہے سنسار ترنا قتین ہے سجن کے لئے سنسار ترنا کوئی قتین نہیں ہے آپ سبینند میں سے ہوتے کرنے پانے میں تو پرش میں کچھ نہیں کیا اور تھوڑی دربائٹ کے تو کیا بھی گڑتا ہے اور جو سانتی آتینین میں سے ہوت کے پہلی سے کر دوسری سے کر پھر آپ نے یہ نیم پر نائم پر نائم کر کر کیا آپ نے جب کیا اباگوت وان جو کرتے کرتے پھر بیچ میں بیشترام پایا ایسا کوئی ساما تھے نہیں کہ بھگوت بیشترانتی سے اس کا سیدا ادگم نہ ہوتا ہے تو بھگوت بیشترانتی آتی ہے اپنے انوھو سروپیشتر میں سانتنیس ایسلے بگوان کرسنے گیتا میں کہا

یہ تو یہ تو نیش چردی مناس چنچلام آیستھرام چنچلوں رستھر میں رہنے والا تتست تو نیم میں و آتمننی و ووشم میں ایت جہاں جہاں یہ چنچلام آیستھر من جائے واما آسے لا کر اپنی آتما میں اس کو لگانے کا بیاس کر تو ابہا سی ہو گئے پر امپوروش شمدی بھی میاتی پارتھانوں چنچلام آپ ماکی سیوہ کرو لیکن کچھ پانے کی لئے نہیں ہے کرتا بے سیوہ کیا

تو سیوہ کا پھلو در آیا اور آپ اپنے آپ میں آ جائیں گے انوھو ہوں میں پتی پتنی بچو کا بالن پوشن کرو لیکن میں رایا دی کارر مجھی یہ سکھ دے تو آپ پھا سیں گے آپ نہ کرتا پورا کرا پھر آپ آئیں گے دپنے آپ میں آ جائیں گے امگلتی کیا کرتے دوسرے کا کرتے باتاتھ اور اپنے آ دھیکار کوچھ پتھے نہیں دوسرے کے آ دھیکار کی رکشہ اور اپنے کرتے لپورا کر لے تو آپ سنسار کے بندن سے چھٹھے جائیں گے اپنے آ دھیکار کو پھا کرتے اور دوسرے کو کرتے لکارتے تو میں راشش ہے کمائی کا دستکہ رکھنا میرے لیے ترک کرتبیا ہے تو ہم پھسیں گے تو میں را پتی ہے یہ کرنا یہ کرنا تمہرہ کرتبیا ہے تو میں ری پتنے یہ کرنا ترک کرتبیا ہے تو میں را دوسرے مجھے مدد کرنا ترک کرتب

تو سنسار کے لوگ اپنے اسوارت کے لی ہم لوگوں کو گلو بناتے کہ تمہرہ یہ کرتبیا ہے تمہرہ یہ کرتبیا لیکن بگوان کہتے ہیں کہ تو امر آتما ہے چایتن ہے مکتصوروپ ہے اپنے آپ کو پاکر سب دکھوں سے چھٹھ کر پرم شانتی کو پانا ترک کرتبیا ہے اپنے دوسروں کی بات مان مان کے تو سدیام بھیت گئی بگوان کی بات مان لو دو کرتبیا ہوتے ایک ہوتا ہے جیو کا مکھے کرتبیا دوسرہ ہوتا ہے کالپنے کرتبیا ہے میں پتی ہوں میں پھلا نہ ہوں یہ میں را کرتبیا یہ سنسار کے کالپنے جیوہتما کا مکھے کرتبیا کہ اپنے پرمات میں انو بھو میں ٹکے جیسے توکارہ مکھے انو کرتبیا میں ٹک گئے تو ان کا گاون یہ جو تھا پتنی کو جی جائے کو کمہ کے کلانے کا اُدھر کلہ پر باگ ہو گئے را مکھے کرتبیا میں لگ گئے کمانہ دندھان اُکری کرنا چھوڑ دیا یا نہیں کیا تو کیا گہتا پڑا

تو جیوہتما کا مکھے کرتبیا یہ دروں نے پورا کیا تو جو مکھے کرتبیا میں لگ جاتے اس کے گاون کرتبیا پر کرتبیا ریشور سمپن کر دے جو مکھے کرتبیا وہ بھول کر گاون کرتبیا وہ میں بھی لگ جاتے اور گاون کرتبیا بھول گنے کا اchtنوں سمپنگتے کے تیرہ کرتبیا تیرہ کرتبیا آپ بھول گی بنتے تو تو بھی جارے سنسار میں دومتے یہ گا سیست میں قتھا آتی ہے بڑی اُنچی قتھا ہے ایک بار دائیتوں نے قدرہ جا بلی کے مدانویر پر بہاو کے بلسے دیوطاؤوں کو قصتادیا دیو راج انڈر نے حصیر آت پاکھر یک جگ میں بلی کے اوطار ہوتے ہیں اور کئی بلی ہو گئے تو بلی پر حاوی ہو گئے اور ایسے حاوی ہو گئے ایسے حاوی ہو گئے

کہ دائیتے تو محق گئے کچھ مر گئے اور بلی راجہ جان بچا کر چو ہو گئے انڈرہ اپنے پرتی جندی کو خوج کر مال دانے کے لئے چارو طربگوں میں اور دیوطو تھا کہیں بھی پر گٹ ہو جانا کہیں سے کہیں آت پونچ جانا یہ سب ہونے کے بعد بھی بلی کہیں دیکھی نہیں رایا جنگل جگہ ایک ٹپا ٹپا ٹپا دیوطاؤں نے اور انڈر نے اور گوبتچروں نے خوج مارہ نہیں دیکھا آکھے دیو راج اور برماجی کے پاس گئے کہ میں نے اپنے شتروں پاکشکے جو دائیت دیوطاؤں کو ستاتے تھے تو میں نے بلی کا راج بہی بہت جیت لیا ہے لیکن دیکھتے دیکھتے بلی کہاں چلے گئے تو ہم خوج خوج کے تھا گئے پیتاما آپ سرشتی کے کرتا ہے آپ تنگ دہان لگا کر باتا سکتے

بلی کہاں بلے انڈر دیکھوں پہلی ماہرنے یوں گی نہیں یہ اور بلی کر کے پانے کے چکر سے اپراام ہو کر انو بہت کی یہ جگت میں پوسے ہے آتات ایشور کی ساتھہ لگے آتات یہ جگت میں حالہ کی کوئی آشرہ کوئی دیوطا بلے پہلی کے پاس وہ تو بلی ایک گدھے کے روپ میں اپنے کو بنا کر برم میں چینتن برم انوا بھو کا بیاسیوں کر ہے پیدا ما کہاں ہوگے بلیں ماروگے نہیں کبھی اس کو مچندوں ہنے. بھلے دھارتی پری ہے جہاں اجاں خندہ ہوں اور اکلہ گدھا کھڑا ہوں

کیا گدھا بھی گدھے کے بھی نہ سیر کم کرتا ہے جوڑی ہوتی لگ بھک اور لیڈا بھی لیڈی کے بھی نہ سیر نہیں کریں تو کوئی گدے سے آگت آگی ترکی نہیں کی دیارام دیکھے. ان پرانیوں میں جیزاں اپنے میسیس کے ساتھ سیر کرنا ہوتا ہے کتا کتیا کے ساتھ یہ وہ چکوہ چکوی کے ساتھ مور مورنی کے ساتھ تو آپ نے بھی رجوشن پاکر کوئی بڑی ترکی نہیں کی آپ بھی اسی جیولائم میں ہے برانی مارنہ چل ہوا پڑی بھنی جی چل ہوا پڑھا رہے آکلہ پیدا ہوا آکلہ جائے گا کبھی آکلہ رہے کر رہے گا رہے گا رہے گا لیڈی کو ہے لیڈی کو لیڈے کو لیڈے کے کبھتک گھمے گا نہیں تو رونہ پڑے گا بیٹھے وہ بیٹھ رونہ ایک ساتھ میں پتی پت نہیں ستھ کیا نہ سو جاتا ہے سوہاستے گی

میری اگر چلے یا میری لوگ مانے تو میں کہوں گا کہ پتی پتنی کا بستر پہلے اللہ کر دو اللہ کمرے میں رہے آپ اللہ کمرے میں رہے ایک ساتھ میں رہنے سے سمبگ نہیں کرتے پھر بھی ستیان آشینی کامس پر سو جاتا ہے اور چمبکتگہ اورا کتم ہو جاتی کام ہو جاتی پھر جرہ جرہ بات میں آدمی چلچری بن جاتی وہ سے بایولا پہلے کے جامانے میں کنیا کی ساہدی ہوتی دو چار میں نے سصرار لیتی پھر مائے کے وہ لالیتے تاکی اللہ گرے تاکی دونوں کا چمبکتگتے بنا رہے اور لنبے سمے تک یہ ان کا سنے رہے وہ ساہدی کے پہلے ستیان آش کر لیں گے ایساہدی کریں گے تو ساتھ میں فیمیلی روم بیڈروم رکھیں گے تو اس پرش کرتے پر اس کا اورا اس طریق آورا کشینوں نے لکتا ہے پھر جرہ جرہ بات میں لڑتے ہیں جگرتے اور بڑھے بڑھیاں ہوگا تو بہت چڑچری ہو جاتے تو بہو ہو جاتا ہے شمال گا ہے بہلے

تو آئی تو میرے ستیان آس ہو گیاں وہ بولتی ہے کہ میں ساہدی کر کے پستاتیوں لیکن دونوں نے ایک دوسری کر لہوں میریچ کے بہلے تو پرانا آت ایےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےے پرانا آت تمہرے بھی نہ میں کسی ایسکریم کھا سکتی پانیگے گھونٹ بھی نہیں لیں سکڑھیں گے پرانا آت یہاں پر سنسیز life is full of joy but vice-person-says life is full of sorrow یہ جو بہر لطار مارکے سکھلے نی کی آدتے

وہ جیو کو کنگال بنا دیتی ہے گرشن کھور دھگڑا کھور چلسی کھور بنا دیتی اور انترموخالے کو اپنے اپنے ترپت رکتی ہے اندرم رکتی لوگ میں آئے اور گھومتے گھامتے وہ کھنڈہ رکھا کھنڈہ رکھا پھٹھا پھٹھا پرانا گھر اس میں گھڑے کے روپ میں آکلے جو کھڑے ہیں تو سمجھ لینا بھینہ میسس کے امشتر دوں کی کھڑہ ہے تو امشتر دوں کی نہیں راجہ بلی ہے تو اندر گھومتے گھامتے ویچران کرتے کرتے ایک بڑے بیشال پرانے میتی کے مقان خندہر دہ ہوا تھا اس میں گھوسکے تو دیکھا ایک کمہار کا ہاتھی ٹیک ٹاک روسٹ پوسٹ کھنا ہے اندر نے تک تھا مشکری کرتے

ویکھا کہا رہے بلی کیا روپ بنایا ہے کیا سا چھپ کر بیٹھ ہو دیکھو پیچھا لیا نہ خوج لیا تو گدے کے روپ میں بلی نے کہا کہ اندرہ راج بیوبہ پاکھر اتراہومتے یہ راج بیوبہت وارے پہلے کنوں کے پاس تھا میری پہلے بی کنوں کے پاس تھا اور ابھی بھی تمارے پاس صدا نہیں رہے گا یہ کرنے اور پانے کی چیز آتی ہے جاتی ہے اب میں آنوبہوں میں آرہوں اور کہیں منم شروع میں بلی روپ میں ہوں تو لوگ پوچھیں گے اس لیے مجھے بہیر مکھا نہ پڑے گا اس لیے میں نے گدے کے روپ کا ٹیو رچن تن کر کے وہ آقرطی بنا لی اور اندرہ ابھی تم تتھولی کرتے ہو اتراتے ہو لیکن میری میں ابھی بھی ایسی شکتی ہے کہ ایک لات مانو

تو تمارے وجرسہ ہی تم گلہ دکھا تکھا تھی ناک پور جا پونچوں ناک پور نہیں ناک پور صورگ لیکن یہ سمعہ مارہ کرنے کا پانے کا نہیں ہے سمعہ مارہ ہے جان اس لیے ہوں پرمہت مکھا درمچن تن کا ساتھ نہ کر رہے اپنے من کو جا سے اٹھتائے اس اشور میں شانت کر رہے گدے کا روپ لے کر بھی پرمہت مپانہ ہو تو بھی بھی سودا سستا ہے اور پھر بلی ایسے اوبرے کہ بھاگوان دوار پال ہو گئے کسی ہوتا ہے اور یہ نبت دو دان بھی را بلی ہے ابھی تو کوئی اچھا کچھ سے وقت کرتا بڑے پھلانی مائی نے پتی کیلے بلیدان کر دیا بلی راجہ کا ناما تھا یہ مہراج نے تو بڑا بلیدان کر دیا اور یہ اس بائی نے تو اپنے بائی کیلے بلیدان کر دیا بلی کا ناما تھا ہے

اتنا بلی محانوں گیا تو سجنوں آپ کرنا اور پانا تو بہت کر لے لیکن جس سے کیا جاتا ہے جس سے بایا جاتا ہے اس انوبہ سروب ایشور میں شان ٹھونہ بیسی کو اس انوبہ ایشور کے ساتھ آپ ملنا سی کو اقیقت میں اسے تم بیچھر نہیں سکتے لیکن آج تک ملے نہیں ہو ایشور کا ہونہ تو ٹھیک ہے لیکن ایشور کی سمورتی اور ایشور کا گیان نہ ہوتنے کے کارن ایشور کا ہونہ بھی ہمارے ساتھ نہ ہونے کے براور ہو رہا ہے ایشور تو ہمارے ساتھ ہے لیکن اس کا ہمیں گیان نہیں ہے اور اس کے ہمیں سمورتی نہیں ہے جیسے آپ جہاں بیٹھے ہو ہم سونے کی دگوں میں حیرے جڑے ہیں پھر بھی آپ کو پھر یہ گلامی کرنی پڑھے کیوں کی اسک دھنکہ آپ کو گیان نہیں ہے

ایسے آپ دھنکہ گیان نہ ہونے کی کارن جیو بیچارا کنگال ہے ایری میننس گوڑ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بڑھ بیٹی پارلر کا سامان بنانے والی کمپنیوں نے کھری دیتے ایسا مینے سوگہ یہ کریم پریم لگا کر کیا کملتہ لاتیوں

نارنگے کھالوں اس کا چلٹا چھائے میں رسوک آدوں چلٹے کٹ کے اس کا پانی دال کے تھوڑا گھول بنادوں میرا لگ آدوں سوبے جیرے کا پانی گنگوں نہ کر کے اس سے مون دھولوں قدرتی سموت نہیں سائے گی میں نے نہیں کی آمے تو ایسی دادی والا بیٹھی کلکٹاگوں تو یہ سوندریک کدرتی دنگ سے اپٹن بکٹن سے تو ٹھیک ہے لیکن ایلالی لپیشٹک پاؤڑر اس کے پیچھے دیوانہ ہونہ وہ لیدیہ لگاتی پھر میں کپنے کرتے ہیں تو دراہنی بھڑی منڈریوں جی سی لپڑی پیچھا کھائکوں کرنا پانمسالات تو سکڑے ایلالی لپیشٹک تو سکڑے پھلانات تو سکڑے تو یہاں کیا آندھے رہے کیا آپ سو بھی اٹھ کر سوازن در جائے اور بھار جائے تو گینٹی پھر تھوڑی درکی بعدی کو اللہ اللہ کر کے اپنا پرانہ ایم رانام کر کیس کا بیاس کر ایک دوشی بیر بھاروں پھر دیکھوں کہے سے بیٹھ تیگ دیان لگ جائے گا بیٹھ تیگ کریا ہے ہونے لگے گی شریل میں جو بیماریہ ہونے والی ہے

کریا ہے ہونے آپ اس کو پہلے سے نکالنا شروع کرے گی طورا جا بلی نے کہا کہ ابھی بھی ملات مارکے تم کو ہوں پہنچا سکتاں لیکن میری کو کرنے اور پانے سے سمیں کھونہ نہیں ہے اب جی سے کیا جاتا ہے جی سے پایا جاتا ہے اس پر میں شر میں میں بشرانتی پا رہا

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →