Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 19, 2026

Feb 19,2026 Thursday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Feb 19,2026 Thursday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

436 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 19,2026 Thursday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 19,2026 Thursday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

دیر منو شوا ہے جو سکھ دکھ میں سمھ رہے تھا ہے تطوہ اپنے سروپ میں اتما میں ستیت رہے تھا ہے جو میٹی لوہ پتھر اور سونے میں بھید تو دیکھتا ہے بار سے لیکن تطو سے تو سمجھتا کیسا پاچھ بھوتا ہے ایسا جو پریے اپریے میں نندہ اشتوطی میں سمھ رہے تھا ہے وہاں مکتاتما ہے ایسا بگوان کرسنے کہتے ہیں بگوتگی تاکہ چاوض میں دھاکہ چوگی سماش لوگ آپ اچچارن کریے جو بگوان کے سری مکسے نکلا ہے وہ تمہرے مکھرے سے اچچارن ہو تو بہت بڑیا ہے سمجھتا سکھا سوکھا سوستا سمجھتا سمجھتا ہے سمجھتا سمجھتا ہے سمجھتا سکھا سمجھتا ہے

دیر منوشہ برمگ یعنی منوشہ پورنا منوشہ کی پہچان کیا ہے پورنا منوشہ کی پہچان آپ سمجھیں تو بھی پورنا ہونے کال اکش بنائیں گے اسی لے بھگوان کہتے ہیں دیر منوشہ جو اتما ویتا ہے جو میرے سروب کو جو قاتیوں جانتے ہیں جو مجھ سے اللک نہیں میں ان سے اللک نہیں اس محاپورش کی پہچان کیا ہے دیر منوشہ سکھ میں دکھ میں سمجھتا ہے وہ سکھ میں کل نہیں جاتا ہرشت نہیں ہوتا اور دکھ میں سکھت نہیں جاتا وہ سمجھتا کہ تو آنے جانے والی چیز ہے سکھ بھی سوپنا ہے دکھ بھی سوپنا ہے سکھ سپنا دکھ بل بل بل آ سکھ سپنا دکھ بل بل آ دونوں ہے مہیمان دونوں ہے مہیمان دونوں بھی تنڈی جئے دونوں بھی تنڈی جئے آتما کو پہچانا

آتما کو پہچانا اسکھ دکھ میں سمجھتا ہے تا تھا اپنے سروب میں اپنے آتما میں ستھر رہتا ہے جو میٹی کے دھلے کو پتھر کو رسونے کو تطوروب سے سمجھتا بہار سے توالق سمجھے گا لیکن سمجھے گا کہ میٹی بھی یہاں رہ جائے گی سونہ بھی یہاں رہ جائے گا پتھر بھی یہاں رہ جائے گا یہ ساہ بھنچ بھوٹی کی وستوے ہیں ان میں کہیں راگر دوش کرنے جیسی چیجنے ہیں ان کا اوبیو کرو باکی سب یہاں کہیں ایسا وہ مہاکرش جانتا ہے جو پری اور اپریے میں نندہ رسوتی میں سم رہتا ہے ایسا پر اپنا امرت کو پاہتا ہے جیتا کا یوج براہ انہتا ہے یوج شبد بڑا بیا بک ہے دو اوشدی کے مل کو عریوے دگنے یوج کہہ دو انک کے مل کو گنیت نے یوج کہہ دو ویقتیوں کے مل کو گنیت نے یوج کہہ

دو انک کے مل کو پتن جلی نے چتا کی ورطی کے نروض کو یوج کہہ ھерود کو یوگ کہاں ھلیکن ھکرشنھتا تو ھکھے ساہیوگ باتا تھے کہ آپ وہاں کرتے ھ سمیں گھر میں سبجی بناتے ھوٹی سمائیتے ھ سمائی بھی یو کر سکتے ہیں ھکھ پڑا دھھتے ھ سمائی بھی یو کر سکتے رہاپیس اور دھکان میں بھی یو کر سکتے ھکھو کہ وہ سکھ ہو دھکھ ہو اچھ چھا بھورا سپھلٹا ھ سپھلٹا ہے گی ھار سوڑ سو کو ہو گاں لیکن وہ سمائے دیکھنا کہ سپھلٹا بھی سپھنا ہے بھی سپھلٹا بھی سپھنا ہے دیکھنے والا اپنا ہے惡 mãاناندہ ہو گیاں تومہ رہایوگ نندہ بھی سپھنا ہے ستوٹی بھی سپھنا ہے لیکن دیکھنے والا چیطن میں رہا ہم اپنا ہے ہو گیایوگ اھن کیا کرتے سپھلٹا ہوتی دوہشر تو دھکھ پھلٹے اور بھی پھلٹا ہوتی دوسو کرتے edaan

کلال ہے کہ جیس کو سکھ ملہ اور دوکھنا ملہ ایساں دھرتی پر کونسہ اوطاری پروشیا بھگوان ہایا کہ جیس کو سب کچھ چھڑنا نہ پڑا جب بھگوان جیسے بھگوان نام جیسے اور کرسٹن جیسوں کو بھی کٹم کبیلہ اور راجپات سب چھوڑنا پڑھتا ہے تو تمہرے ہمارے کچھ چھوڑنا پڑے گایس میں گیا بڑی بات ہے ایسا سمجھ کر آپ بھی تر سے نشچنت رہی ہے ملتہ تو پول جاتے ہی ملے اور چای ہے لیکن جو ملہ ہے وہ بھی چھوٹے گا اور جو ملے گا وہ بھی چھوٹے گا ایسا سمجھ کر آپ انتا کن میں سمجھ رہی ہے آپ کا سمجھ تو ہیوگ ہو جائے گا آپ سوامی بن جائیں گے پرستیتیوں کے میں ایک سندی سائیں کی بات بات ہوں گا سندی سائیں سیٹھ تو پنداز نوکرانی بھاکتی بھاکتی آئی سیٹھ تی با با با با با اما جو نو لکو ہار بن جائیں گے ماء کا سیٹھانی کا نو لکا ہار کو گیا سیٹھ اپنے سبندی کے ساتھ بے بے کے ساتھ بے تھا

سیٹھ کی چیرے پر کوئی شکن نہیں پھری بلکو گیا تو کھو گیا سوٹھ تو بھلو تو جو کو دھے تو سوٹھ تو بھلو تو موجھ کر بے بے دیکھتا کہ نو لکا ہار کو گیا سوٹھ تو بھلو تو جو موجھ کر نوکرانی گئی آج گنٹے کے بعد پھر ناستی آئی اپنی پیل با جاتی با با با با با با با با با با با با دایا جنے بعد دایا جنے چا چا النو لکو ہار میں لیو لبھییو چور کھانے میں رکھا تتی جو ری میں اور سے دھنی ہی در رو در خوچ دی دی مілگایا منگا سیٹھ نو لاء چا Brettا با با با سوتھ ہوتھ وہ سینھ بے بای بولتا ہے کہ یہ سمجھ میں نہیں آیا nو لکھر کے اس جامانے کا نو لکھمانا afterward when there was a Rapid

Naila Khouri hai li paadyam Beittham yaim ابھی سے چھٹھ رہے تو اتنا بو جا کم ایک ساتھ میں چھوڑیں گے تو جادہ مصیبہ دوگی توڑا تھوڑا چھٹھ رہے اچھے کام میں نہیں لکتا ہے کھلتا نہیں ہے تو بھگوان نے بیزیں گھولڈیا اور کیا کرے اچھا وہا بھلا وہا ایک تو نقصان بار وہا پھر اپنے دل کو نقصان کیوں کریں اپنے گروکہ ستسنگ سنا ہے کہ دل کو مد بگاڈ یہ چاہی بگڈ جا تو بھی کر نہیں سو نہ بھی کر جا تو بھی کر نہیں ترنے میدانچے و سٹھو تھے و بھل ہوتے و بھل ہوتے و بھلے سے تھا نہیں راجین نوکرانی راجین سہلی اور راجین تو مہینہ راجین کی

وو آچھا و بھل آو آچھا جو ایشور کی مرجی ہے میں تو اس کی مرجی میں مری مرجی اور کیا ہے وہ واستوں میں سے چھٹھا اپنے دل کے دھن کی رکشا کر سکتا تھا تھا کھئی ایسے کنگ لے ہوتے کہ بھار کے دھن کی رکشا کریں کہ چندتا چندتا میں دل کے دھن کو ناز کر دے تھے بھار کے دھن کو دائی بیٹیس اور نہ جانے کیا کہ ہاتھ اٹھتے کر ہائی بیپی لو بیپی دے دے تھا ہے نہیں نہیں بھار کے دھن کا اس کا مطلبی نہیں تھا کہ سٹھ کو لہ پر ہوتا کہ لہ پر ہوتا تو نوع لکھا ہارک کمالک بھی تو نہیں ہوتا وہ دو دھا بھو جو ہوتا تو نوع لکھا ہارکھا تو مالک نہیں ہوتا لہ پر ہانا تھا لیکن سمجدار تھا سمبان تھا

یہ تو ہی واوائی تھا اگلہ تو ہوری بھر ہون چھوٹین ہو ارے سب سپنا ہے جیتنی سروپ اپنا ہے آج سے ایک سال پہلے مارچ میں نہ آیا تھا تھا نا اور مارچ میں نے کہ شنیوار چار پہنچ آئے تھے اور اوز شنیواروں کو کتنائیں دکھایا ہوگا کتنائیں سکھایا ہوگا کتنی نندہ ہوگی کتنی واوائی ہوئی ہوگی ابھی یاد ہے کیا

بس دیکھا رہا ہاکی مانے کے بے کارے گوردے امرادہ روضا تو تمہارا دیدھا رہا ہے و سیشٹ جیتنیو میں کہ گروجی کوئی دوان نہیں لکتی ایک کورد کی بیماری ہے آپ کو نین نہیں آتی کیا کارا ہے گروجی نے دھان لگا کر ساری ہے کی کتنییا بلے ترہ راج اور یاش ایک طرح پنگ کا خبر دیرہ دوسرا بیماری اور کور آنیدرا ترے پاپ کا فل ترہش رو ہو آئے بلے مارا جیس آپ آپ کے نیدھ بھی نہیں آیا اور سواست بھی بھی گا جا بلے ہا راجہ دیکھ ترے کو دکھاتا ہوں و سیشٹ نہیں یوگسن کلپ کر کے ایک شوہ کو راجہ کے آنکوں پر ہاتھ رکھ دیا ایک شوہ کو ایک چم کی لاز سورنا میں پہار دکھا اور ایک گندہ میں لامت لہا سمجو کچھ رے کا دہر دکھا بلے جو کچھ رے کے دہر جیسا لکھتا ہے وہ دیرہ پاپ کا فل ہے اور سواست میں جیسا ہی دیرہ پنی ہے بلے گروجی آپ کیا کروں بلے اس کو کھا جا کچھ رے کے دہر بلے کیسے کھا سکتا بلے جب تکی ختم نہیں ہوگا

تب تک تو یہ رہے گا بلے گروجی کیسے ہاتے بلے آتو تو کھا لے اس کو بلے کھا نہیں سکتا بلے سب کو بانٹ کے کھا لے بلے کیسے باتوں بلے بیٹھ اب میں در کو پائے بات آتا ہوں سندہ ہو جائے تو تیری ویدوہ بہا بھی کی مہل میں ایسے دھنگ سے راستے بھی تو ہے مہل تمہ رہے ایسے دھنگ سے ختیہ بیچھا کر آرام کروں کی لوگ سمجے کے اپنے بھابی گیسا تو کو کر مکرنے کی لی رہے رہے ہے بلے مہراج رگھوکل میں ایک شوہکوکل میں یہ مہراج کیسے گا بلے نہیں ہوگا تو جانے دے پھر بھوگ بلے مہراج کوئی بلے نہیں کوئی بپائے نہیں یہ کرنا پڑے گا آسان بپائے ایسا دن میں سانا پہرک سب کھالیں گے بھانٹ کے تیرے کو مہنات نہیں کریں گے گھر دی ہمہراج چار دن بیتے نہ بیتے تو سرے کا چار ایسا تو کوئی دو تر گیا اور نیند بھی آنے لگی دو تین گنتے پلے رہے مہراج بڑا اچھا لگر ہے کوئی دو تر گیا

کوئی دن اور بیتے گے دن دن اور بیتے تک تک تو گھنگر میں ایتنی کوچھر چاہوں اپنے بیتے کے ساتھ ان کا ہارا سبند ہے ہے وہ ہے ساتھ دن ہوئے تو ہارا اچھا رہا کوئی دو تر گیا اور نیند بھی اچھیا ہے لیکن ایک جرا سی پھونسی ایس میں خجلی تھی بھلے ہارا اچھا رہا کوئی دو تر گیا کئے والجرا سی پھونسی ہے یہ اس کا گیا کرے بھلے یہ بھی میں بھی تمہرے راج میں رہے تھا یہ میرے اسے گیا لیکن میں تو جانتا ہوں کہ اپنے سر پھر بھو دوش گیا یہ تو ترے کوئی بوگنہ بڑے گا تو اگر کوئی تمہرے نندہ کرتا ہے تو ستوٹی کرنے والا تو تمہر آپ کو نہیں خرچ کر لے ہے لیکن نندہ کرنے والا تو تمہرے پاپ دوتا ہے اسی لے جو بلیک میں لئن کرتے ہیں وہ تو بہت لوگوں کے پاپ دوتے ہیں میں ان کو دنیوات دے تھا اچھوٹی اچھوٹی ایک بار والوں ہوں نا رہی نا رہی نا رہی نا رہی نندہ کرنے راکی

نندہ قصنت سمان آپ پڑے نرک میں ہمیں دیوے نرمان کبیر کے سامنے ایک بڑا ختم نندہ کرتے تھا کہ جلہ ہے ایسا ہے ایسا ہے لوگ تم کیونجہ رہے اسے تو جادہ اچھا میں ستسن کرتا ہے لوگوں کو روک دیتا ان کو شربت کی پیلا تھا تو کبیر کی بھر پیٹ نندہ کرتا ہے اور کبیر کی کلاپر کرتا کچھ سادو سنت ہوتا تو وہ لے کبیر کے ہندہ تو بندہ ہے مارت کی در جا رہا ہے کبیر کے ہم بھیٹ کبیر بھی چارے گھر میں آرتی کیسی تیکام جور وہ جو کپڑا بنانہ تھا کپڑا بنے کپڑی کر کپ سادو کو روٹے خلاوں گا بھی چارے دھا گا بھیج کے سادو کو بھو جن کرہ دے دیتے ایسی اس نے کبیر کے لی پریشانی پیدا کر دے ایک دن جب وہ نندہ کپڑا تو کبیر صرحات رکھ کپڑا او دا سے کمالنے کا کیا باتے وہ لے کپڑا دھنے والا چلا گیا دو بھی چلا گیا وہ لے کہ آپ تو دو بھی سے دلواتے نہیں وہ لے یہ کپڑے تو اپن ہات سے دوتے دل کا کپڑا تو وہ میرا نندہ کروپی دھو بھی بھی چارا مرگا رہے بگوانے کیوں اس کو جلڑی اتھالیا

میرے کو کوئے کھا دا اور دیتبا ہے پروپ تو لوگ تو نندہ ککو بضیمان تو نندہ چاہتے اور تم نندہ سے درتے کیوں نندنی یا کرم سے در ہو لیکن نندنی یا کرم نہیں کرتے اور پھر کوئی نندہ کرتا تو فکرمت کرویا موج کرو آیا چاہنے سمیٹی والے کیوں درتے لیکنے والے نے لیکلیا در لیکلیا درہ جا آپ باپ کا جاتا اس کو اپنے آپ دونا پڑے گوگنا پڑے گا دونا پڑے گا تو دونا پڑے گا چاہسری را آیا سبائی را مواری چاہسری را ریو آپ کو اگر مو نہیں ہے نے تو پھر بھے بھی نہیں رہے گا مو کے کارن بہی رہتا ہے جتنا مو جاہدہ اتنا بہی جاہدہ اور جتنا بہی جاہدہ اتنا نیرستہ جاہدہ اتنا دوکھ جاہدہ اتنا اشانتے جاہدہ اتنا بھی پلتہ جاہدہ جتنا مو کم اتنا بھائکھم اور جتنا بھئے نہیں

آپ نیر بھئے ہو گئے فاپراس میں ہو جائیں گے آنunde میں ہو جائیں گے سک میں ہو جائیں گے مادھ ہری میں ہو جائیں گے جیویں جینے گی کلاچھی اور کچھ نہیں گا مجھری کی ہے ہے کہ والسائح گیان کی ہے ہے اشور پانا قدھین نہیں, لیکن جن کو اشور قدھین نہیں لکتا ہے, پانا, ایسے محاپروسوں کا مل نہ قدھین ہے, اور ایسے محاپروس میں جائے تو اس میں سطہ ہنا قدھین ہے اور سطہ ہو گئی, تو پھر میں کا سط つن کا چانے میں جیرہتھونی قدھین ہے لکتی, اور سطہ پچھنا پچھ گیا تو پھر دکی ہنا قدھین ہے, اشانتھ ہو نہ قدھین ہے, جنم مران کی کھائی میں گھر نہ قدھین ہے, مکتاتہ مہو جاؤ گئے,

बपपादिटी तरे फरओ भार सहदि को लै. मून आ पुब़ पाद पादपा के अतापादे, बूले, पओदी पादे, और पओदी, यह इन उननन पुबाऺो लाए, बपाद कहा है, पओदी कहै, फरवादीगि एक कर दे पादबे, फरवादे, پاپا تو اپنے گھر میں چاہدی ہوتی ہے بلے ہہن بیٹھا ہوئی تھی اپنے گھر میں چاہدی بچے نے عملک ہو روگا کھیں چاہر سڑھ کے بیٹھ رک گیا اپنے گھر میں چاہدی ہوئی تھی بلے ہہن بیٹھا یہ دولہا تو بھی چارہ گریب ہے آٹھ بینڈوا دے ہیں امرے تو پندھرہ دے ستراتھے اور ان میں تو روشندھان چے سا آٹھ ہیں امرے میں تو سولہ روشندھان تھے پھپا پہ طم نے شاہدی کی دی بلے ہیں پھپا طم نے شاہدی کی دی بلے ہیں پھپا کس کے ساتھ شاہدی کی دی بلے میرے لہتری ہپنی کے ساتھ بچنے جو ارسے ہاتھ کو جتکہ مرہدہ دتری کی تم کو شرم نہیں آیا گھرمی شاہدی کر لیے

بچا گیتا بہا پہ طم نے شرم نہیں آ گھرمی شاہدی کر لی ممی کے ساتھ تم اچھے نہیں میں تو جاتا ہوں بچھے نے باپ کیوں لی چھوڑی اور بھا گا ماکے گوڑ میں جا بیٹھا ماما ماما پاپا تو بہت کا میں ان سے بات نہیں کر لوں ہو بولتے دری مامی کے ساتھ شاہدی کر لی مامی تو می کرنا اس کے ساتھ شاہدی مامی کو بھی مجاہ رہا ہے کیوں کہ بچے میں انتا نہیں ہے مامتا نہیں ہے نردوشتا ہے پہت پندرامنٹ کے بعد بپا آیا تو وہ تو راگ دوش کی گاتھی نہیں ہے سو کو دوب کی گاتھ نہیں دور کے پھر پاکے ہوں لی پاگلیا پاکے ساتھ ہو لیا ایسے جانی کی ردے میں راگ دوش نہیں ہوتا ہے بچھا تو مدتا کے کارن راگ دوش نہیں کرتا ایک انگانی جان کے مادوری میں آکہ راگ دوش نہیں کرتا ایسے لگانی سب کو پیارا لکتا ہے سب کو اپنا لکتا ہے اسی کو صری کرشتا مولتے دیر اور کرشتا بہتوں کو پیارا لکتے اے اپنے پتی کو مارنے والا

کنس کو مارا ہے اور میسیس کنس بولٹی کی کنہیا تمہا ہے کسود نہیں کنس نے تو شریعنت را چاہتا لیکن کرشنوں شریعنتوں سے پاہر ہوتے ہوتے کنس سے ملنے آیا اور اہرہے سا درا ہوں کرا کرشنے تو کرشنے تو کرشنے تو کنس مرکیا لیکنس روں کنس کے اگی کرشنے روں لگے کہ ماما ماما تم نے تو یہ گئے کہایا جن کیا تھا میرے کو بولانے کے لئے ملنوں سے کل کل آیا پاگل ہاتی کے ساتھ میں کل رچا ماما آپ میں تمارے سے کل آیا تم چلے گئے ماما ماما کیوں چلے گئے رہا جو آنند سے بھرا ہے اس کا رونا بھی آنند میں ہو جاتا ہے پریم کی بولی کا نام سنگیت اور پریم کی چال کا نام نرتے ہے اور پریم کی للا کا نام پرمت مللا کو جاتا ہے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →