Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 17, 2026

Feb 17,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Feb 17,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

580 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 17,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 17,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

पर वदादि वीदाद आद करिताडिनॉभादी बदादीगरन्त प वर्देणप्रादादी वीदादादितादिगरिए गर परादिछ्रनत यनूपादादिगरिईफूबिदादिळृ. پنچبہ ہوتی ہے, محاتت تو یہ پرا کرتی ہے, چو بھیستت پویسان کے کی بات جو کی بات آجی پرا کریا سے سمجھانے کی, پرا کرتی پروش پراگیلے کرانے کی اور تتتست کے طرق ہنگلی نلوش کرنے والی جو بے وستہ اس کو پرا کریا کرنے کرتے ہیں, رموک را جا تھا اس نے راج سکھ بھوگا

انت میں انڈریان شتھل ہوئی, آئی اسے شین ہونے لگا را جا کو ہنگہ کرمت کے پر باؤ سے ویوے کو دیا ہوا کہ میں یہ توچھ چیوھوں کی نہیں, وہی کے وہی کرام کر کے آئی اسی نشت کر番 سو مانا کے برطنوں میں بھوجن کر لیا سو نے کے سنگہ سن پر بیٹھ لیا لیکن جو بھوجن کی آیاں سنگہ سن پر بیٹھ ہے, آئی سای یہ دی ہے جیرنا شیرنا ہو جائے گا تو نے سر کیا اپائ کر رہیں تو اس نے مانو مارا جی کا سمان کی را دا ایک شواکوں میں را دا ایک شواکوں نے مانو مارا جی کا سمان کی اپنے گور دے ہوگا

آگور دے ہو پدھارے, آکا اش مارگ سے مانو مارا جنے ارگ پاتھ سے پوجن را دی کر کے ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر جی کی آسا کے بھاو میں کھڑے رہیں راجن تم نے مجھے سمان کیا میں آکا اش مارگ سے کہیں جا رہتے تم نے سمان کی ایسلی تمارے پاس آیا کیا پوسنا چاہتے کیا پرو بیچار کر کے دیکھیں تو یہ جگت بیترا ہے اچھا بھرا بھلاااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااا جو چاہتے وہ سب ہوتا نہیں جو ہوتا ہے وہ سب ہاتا نہیں جو بھاتا ہے وہ ٹکتا نہیں ہے سب بضل را ہے

منوشہ جیسے سامانی جیو خاتے پیتے رہتے آئیسل نشت کرتے میں بھی ایسے سامانی جیووں کے نائیں راجا دی راج مہراج سنلے لیکن سمائے تو اسی میں برواد ہو رہا ہے سار تتو کیا ہے جس کو پانے سے پھے جیو کا جنم مرن اور دکھ من دن کر جاتا ہے وہ آپ کر پاکھر کے مجھے پیچے اسی Tugagawad, Manumaharaad, Raja Ikshwakubu kaha, ki Rajaan, jubhujan mile vukhalinachahin, Swastika kaha, kaha, kaha. But we don't want to say that we got it, we got it, we got it, we got it. Swadluluktan, Jeebha Swad, Ayasi Sugandha Swad, Nitra Ka Swad, Sunne Ka Swad, Spurs Ka Swad.

These Indriya-gatbhob juhan jeebha are made into a heart. Vasna ke Prabhavmi giratin. Sarai Swadhu ka Swad Shuru Parmatma Swad se Vanchit karte te. Tugughujan mile vukhali ujaanin dahimas uja. Tugwastru mile pahelu, khus antar yami parmiis varkan mshandhan kao. Prenama ka jaap kao. اور میں کون من کے ہرس کو سکھ وہلتے سکھ کو دکھ وہلتے ہیں ہر سرسکھ آ کے طلا جاتا پھر بھی جو رہتا ہے وہ کون جنمہ وردی شاہی روگ واردھا کے مردیو یہ شریع کی شدور میا ہے

حقیانی جو اپنے میں مانتا ہے میرہ جنمہ ہوا تھا آب میں ساب سالکا ہوا 10 سالکا ہوا جنمہ شریع کا ہوتا ہے بھوک پیہ سورمیا یہ پرانوں کو آدی کو ہوتا ہے شدورکار شدور میا اس سے شد چاہیتن نے نیا رہے تو اس آت میں چاہیتن نے پر میں شرکا نیتی پتیس سمورن کر گیان سن اور گیان میں پرتشتے ہو گیا اس آت میں گیان کو پلب دو کر رہجن پھر تم جس انت پھر پیہ روک ہو گے وہ بھی پوچھ نہیں ہو گے ہو گے جس وستو کو چھو گے وہ پر ساد ہو گے تمہاری لیے سب جل گنگہ جل ہو گے گا ساری بھومی تمہاری لیے برموں میں ہو گے نیتی انتر مکھر ہو

لو دو بھر انتر سے ترٹست جون کہتی ہو رہو حاوی کم پیو گیتانے کہا جب دیان سمادی کرے تو پرمات مشانتی ایکن جا بہاہر کرے تو بھی پرمات مشانتی کا او جیش کر کے بہاہر کر کام کرنے کے پہلے شانتی ہوتی کام کرنے کے بعد بھی بیش رانتی چاہیے تو کام ایسا کروں کے پرماتنا میں بیش رانتی میں شرید تھا کجار پڑے رہی ہے تو تمس نید ہے لیکن سنکلپ وکلپوں کی بھی رہ گھتے پرمات مرس میں ایک تان تھا بیش رانتی ہے بہت کہنے سے کہا لاب سمائی بیتا جا رہا ہے تو چجگت میں آسکتی اور ستتتا کر کے درمتی لوگ پاستے ہیں

ایرامجی تمارے جی سے بود دیمانوں کے لئے یہ نیسار جگت آسکتی تیگ نہیںو کہ ہے سورماؤ کے یود کرو کرتگر فراج ہوگا لیکن بیتا سے شیلہ کی نائمی سام کرتے تو سے دھانت کے دوارہ پرکریہ کے دوارہ آدمہ پرماتمہ میں ایشتی تو بیتا کہتی ہے بھومی را پوانلو وائیو کمانوں بودی رے وچھا آنکارہ ایتی ومے بھی نہ پرکر کی اشتدہ مہوان کرپا کر کے اپنہ سارہ میں بھو باتاتے کہ پاچھ بھوت مان بودی اور آنکاری پرکرتی ہے میرے سے بھن ہے میرے سے بھن ہے تو تم سے بھن ہے کیوں کہ تم میرے ونشجو ممہیوان شو جیوالوں کے جیوہ بھوتہ سناتنہ تم سناتنہ

انادي ہو ان کی تو آدي ہوتی ہے سریڈ کی آدي ہے دوخ کی آدي ہے سوخ کی آدي ہے ان کا آدي آنت ہے لیکن آدي آنت کو جاننے والے تم آننت ہو تمہر آتما اور تم ایک ای ہو جس کو بھولتے آتما پر مارتما نہیں جانتے تو آتما پر مارتما جانا تو اپنا آپا ہے تو ممہیوان شو جیوالوں کے جیوہ بھوتہ سناتنہ منا شاشتران اندریان رکھر تستانی کرشکے آنچنڈриہ اور چھپ آنت یہema پرا کرتیki جو میں ان کی پرا کرتی یہ باہر آپ کو آ کرشکر ہے جیکن باہر کا кئیتنا بھی ملے سوکھتا انترا آتما کہیت زیادتا تو یہ سیداانتگرنت پراکری آگرنت جیوہ کو

نروازنک نہ رہن کے جانمی نروازنک نہ رہن کے نارین کی ستامے سامر تھے میشتیت کرنا چاہتے ہاں دیشن کرہ جاری نے کہاں اس میشتی تو نے کلی تھوڑاہے کانتواز لینا دینا سمنا سمنا ملنا یہ سنی مکم کر دے یہ کانتوازوں لگو بھو جنا دو مونم لراشا کرنا و رو دا مون سے شکتی کا سنچے ہوتا یہ کارن ہے اندریا اور اندر میں منگودی انتا ہے کرنے اندر ہے تو انتا ہے کرن یہ بہی کرنے ان میں شکتی کا حراس ہوتا ہے بھی کریں دینبر شکتی کھا چوتی تھگ جاتے رات کو پھر شامت ہوتے سو بھی منگودی اور اندریا

کام کرنے کے کافی ہوتے پھر تھاک تھاکے ہاتھ مغشان کی میں چاہلے جاتے میری گروڑے ہو کہا کرتے تھے بگوان کی کر سمکھا کے بھولتے ہیں لیلاشا جی اسلام کو شاہجی نہیں بھولتے میں جرام مریادم ہا پھر روڑ بھگوان کا درشن کرتے ہیں لیکن پتہ نہیں کہ یہ بھگوانے میری میری میں کہا جاتے ہو بھگوان میں جاتے ہو بھگوانا بھران پوشان گمانا گمان وانی کا ادگا اور سب نہ ہونے کے بعد بھی جو رہتا اس بھگوان میں جاتے اسی بھگوان کا دوسرا نام گوہن دے ہیں گو مانا انڈریا انڈریا جس میں بیچرن کرتی جس سے گوہن دے تبکہ جس کے گوض میں آتی ہے

تو پالان ہوتا ہے تو گوپان وہی گوہن دے ہاتھ مدے ہوئی گوپال ہے وہی رادھا رہمان اولتا دو تو دھا رہا رہا رہا آپ کی چھالوں کی ہورتی جس کی ستتا سے رہمان کرتی اور تھاکھا جس سے پوشت ہوتی وہی انتر آپ مدے ہو رہا رہا رہا رہا تو پرکریا گرن تکے دوارہ سے دانتگرن تکے دوارہ جیو اپنے اصلی سوابھاو میں جب جائے تو رہا ان میں بھی ہے غیواریک سمعجک جیوان کی گاتھیں گاتے گاتے گاتے گبھوما پرہ کے وہیں گلے جانے قپرے آسے گیاں نمان جہے کو ناہی دے قتبرم مسامان سبمائیں کئی تانسوط پرم بیر آگی ایک ترن سمع سے دیتی نے گھن کی آگی یا اشتدہ پرکرتی میں گھنے ساتھ گھن رجو گھن تمہ گھن

ان سب سے پرے جو ہے وہ پر مات مہ اپنے اپنے آت مدے ہو اور وہ سب میں جو قاتیوں سمعیا وہ حاجرا حجور ہے سمعیرام کے پاس ایک پر سدکوت ترک میں کئی پادروں کو گھٹنے کے کوانے والی بائی آخر گایٹ کی سامنے سوچھا کہ آج بھارت کے ساتھوں کو ہرادوںگے اسفر نہیں ہے میں سدکر کے دیکھادوں گے تم نے تدیکھا نہیں ہے تم ہے یہ گرامت جس نے لکھا ہے کہاں لکھیں گے اس کے آدارت کے تم بھولتے ہیں تو کوئی بھی پروچن کرتاکے پروچن سے باتے اٹھاکے ترکہ کتر کسے اُن کو چھپ کرا دیتے سو میں رامتیت کے سامنے بیٹھ گئے

پھوٹھ بیٹھ تان سے سنتک سنتکی درستی میں جو بشرانتی تھے آخروں سے ساتھ بیٹھ ترگ بیٹھے تھے وہ بائی آئیتی تو رامتیتھوں کو ہرانے کے لئے لیکن کھڑی ہو گئے بیٹھ میں کہ میں ہر گئے اب میں آپ سے ترکنے کروں گیاں اسفر ہے اور آپ اسفر کمانتے ویوار رائٹ رامتیتھنے کا میں اسفر کمانتے نہیں رائٹ اور رون ویوار رب مینگ درائٹ اور رون اسفر کمے مانتا ہوں تم نہیں مانتی تھے ابھی تم ماننے لگی لیکن میں اسفر کمانتے نہیں تو بایک آشری و آکے آپ اسفر کم نہیں مانتے رامتیتھنے کا ضرابی نہیں مانتا ہوں ماننا دوروالے کو ہوتے پورک کو ماننا ہوں تاستواء کو کیا ماننا

جو سر ہو گیاں پکھ ہے وہی میں رانتر آتمدے ہو بھی ہے تمیں اس کو مانوں کیا ہوں یا سے موحن بای اپنے کو موحن بایسے پوچھو تم موحن بایک ہوں مانتے ہوں تو بولے نہیں مان بایک ہوں نہیں مانتا ہوں نہیں ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں مانتے ہوں سنسارکپیٹھو بھارڑھنے کے لئے, یہ آخری ویدانت میں, یہ کرم بھی بھا گھوپاسنا بھی بھاگ میں, اشверڑ دور ہے, ایسا ہے, یہ ہے, مانگھوپرات نہ کریں ملے گا ملتا بھی,

لیکن وہ سب پرکریہ گرنتھے, تتوگیان کے آلگ ہیں, کرمکان کا مارگہ لگ ہے, تو آسنا کو نیانتریت کرنے کے لئے, دھرم گرنتھے, دھرم مارگہ, اور چت کوئی کا گر کرنے کے لئے, اوپاسنا مارگہ, تتوگیان تو آسطبیک ستک کیا ہے, ساکشات کرنے کے لئے, تو رہم جی کی سیوہ کرتے کرتے ہیں, حنمان جی, تتوگیان کو پانے میں سکشام ہو گئے, اور گرسیشت جی کے ترنوں میں ستسنگ سنتے سنتے رامجی برمت نشتا میں آیا ہے, ایسے سالو کا مالو کا گروباگتی سے تتوگیان میں سمارت ہو گئے, تتوگیان جن کو مل گیا تتوگیان میں ستو پرمات میں ہے, ان کو پتا چل جاتا ہے کہ برمہا بیشنوں محیش

یا دیو تا مول تتو ان میں چیتنے پرمات میں ہے, اب وہ ہمیں بھی ہے, وہ ان کو جانتے ہیں تو محان ہے اور ہم نہیں جانتے تو جیو ہے, جینے کی چا کرتے ہیں, کرمنندھن میں پتے ہیں. تو اس میں کرمیог, گبر آسنایاگ گبر بھیکتییییییییییییänge اور گرو کرپایاگ جیس کو جو جو thiklager schercholj chale' تو اسی وانن سرا سوطی لکتے ہیں کہ کل جن میں گرو کرپا بھیکتی اور گرو بھیکتیییو اسی لالمت کیا ہے. 이런 سیمان مانا تو آدمیتنا وگے گے ایکسے امچاؤٹھ نہیں سکتا پیسلاٹ ہے اور مرچی کچھ کہتی نہیں روکے گی نہیں דاٹے گی نہیں. اسی لے جاگرتموں تو یہ بات گوراکھنا جی نے اپنی بہشہ میں کہی گوراک جاگتانہ رسے گیے. ایک بھولا دو جا بھولا بھولا سب سنسار,

وین بھولا ایک گوراکھا جس کو گوروکا آ دا. تو پنیشت کہتی گوروکراپا ہی کے والام, شششہ سے پر ام غلام. تو سمار ترامداس کی قربہ سے شیواجی گلا دوب گیاوار میں سے بھی سمائے نکال کے تت و گیان میں لگے تو ساکشت کہتا ہے لیا. شیوہ کو اتما ساکشت کہتا ہے. چترپتی شیواجی. تو اتما گیاں دورلاب نہیں ہے. ککھیں نہیں ہے. پریں نہیں ہے. پر آیا نہیں ہے. واستنہ قتیаг. واستنہ شے. منوناش. اور بھود. یہ بھوب کے سکھیونی کی واستنہ میٹے. من کی چنچلتہ اٹے اسی دھیان دانا ہوں. اپنے گیاں ہو جہا بس ہو گیا. تو تینی تو شیپ ہے. واستنہ شے. منوناش شر بھود. یہ کروں, یہ کروں, ساکشت کہتا ہے کہ یہ پنگہ.

تو ابھی تو آستنہ بنائی رکھانا ہے. شروع ہو. ابھی میں کون اُس کو جانلوں. پھر یہ کروں گا. پھر وہ کروں گا. ہو کروں گا نہیں ہے. جو بھی کرنے سے بننے سے ہو گا پھر مدل جائے گا. جو پہلے تھا ابھی ہے. بعد میں رہے گا. وہ میں باستنہ کیا ہو. ایسی ماگی تتو گیاں کی. میرا پتی ہے, میری پتنی ہے, میری بای ہے. ایسیرے کے پردھانتا سے بودتے ہیں. میری پھلانی جاتی ہے. جاتی کے پردھانتا سے بودتے ہیں. لیکن تطوروب میں میں کون ایس کو خو جو. شرے کے ساتھ جاتی جوی ہے. من کے ساتھ جگت کی کلپنا جوی ہے. لیکن گہرین میں کچھ نہیں رہتا. پھر بھی کون رہتا ہے. جسے بال بڑھتے کھن سنچالی توتا ہے.

وہ کون تطور ہے. جو ماء کی جیر کے ساتھ ہماری نہ بھی جو رہتا ہے. جو ماء کے شرر میں مارلی دود بنا دیتا ہے. وہ گیاں سوروب چایتا نہیں ہے. تو رہاں میں شیو جی سے قیلوائیہ تلسی داست میں. اما رہاں میں شو بھاو جی جانا تاہی بھجانتا جی بھاونا آنا. اس روم روم میں بس نوالے پر بھرم پر ماتما کے شو بھاو کو جس نے جان لیا. اس کا بھجان چھوڑ کر کوئی پھر کسی بھاو میں کسی وستا می رمتا نہیں ہے. تو ایک بھار بھگت شو بھاو جانلوں. یہ سبی ویددیاوں میں راجا ویددیا ہے. اور گوبنی ہے. کہی بدماشی کے کامی تو گوبنی ہوتے ہیں. داکیتی کے کامی. یہ ایسی گوبنی نہیں دھرم میں ہے. پویدھ رہے. اُدتا میں. سری کرشن کہتے راجا ویددیا.

راجا گوی ہم. پویدھرم ایدم اُدتا میں. اُدتا میں ہے. پویدھ رہے. لیکن کب اُس کا پھر ملے پر اتیک شفالوں. اور دھرم میں پھلے. تو پسے کرو تو بگیشہ میں سورگہ کا سک ملے گا پھر چھوٹے گا. وہ پاس نہ کرو دیویلوک ملے گا. پھر پتن. ایکنی تو سنتے سنتے دیویلوک جیسے دیوی ہے. اور سورگہ کا پنی جیسے سورگ میں وہ سویم پر کاش پر مات ما. اپنا آپا ہے. بلکل پرم سوطنت رتاپے پہنچا دیتے. پرم سوطنت رنسر پر کوئی. ایسی رات بھی دیا ہے. بلکیا کرے بہگوان کی کرپای ہے. سشتا چارمیں ٹھیک ہے. لیکن بہگوان نے آپ کو اس کے یسدان کرنے کے لئے پیدا نہیں کیا. وہ بہگوان اپنے کو پیدا کر کے اپنے خوشامت سننے کے لئے

دنیا کا اتنا بوجہ جل نہیں. بہگوان نے آپ کو اپنا پریمی اپنا اتما روپنے جگانے کے لئے دنیا کی بیدا. لگ بلتے کیا کرے بہگوان پرکشہ لے رہے ہیں. پرکشہ تو جانتا نہیں ہے. ہم کو ٹھیک سے وہی ہمارے کو پرکشہ لے گا. بہگوان تو ہمارے ابھی بیچار چالنا ہے. اس کے بعد کون سے آئیں گے. اور ہم کیا نرنہیں گے. اس اب جانتے. پرکشہ تو آگیا نہیں گے. بگوان تو سر و سکتی مان سر و گیا ہے. یہ تو ساما نے آدمی نراشنہ ہو جائنا ہے. بلتے کوئی بات نہیں بگوان پرکشہ لے رہے ہیں. بگوان پرکشہ لے. بگوان کوئی اگیا نہیں کیا ان جان ہے کیا کہ برکشہ لے رہے ہیں. یہ تو ببلو بنانے کے لئے تھوڑا سنتو نادے نہیں کے لئے بگوان پرکشہ لے رہے ہیں. یہ تو تمارے کو بیوگ دے رہے ہیں.

پرتکولتا دوکھ دے کے سنسار کی آ سکتی چھڑا رہے ہیں. آنوکلتا سوکھ دے کے اُدار بنانا رہے ہیں. اور دونوں کا اُپیو کر کے اپنے میں آجا ایسا بات سکھا رہے ہیں. سنسار ایشور پرابتی کا مہا بات شلائے یونیر سیٹی ہے پر امپاد مطرطشتی تونے کے لئے ہیں. کسی کا بورا کسی بورا کسی بورا کرنے سے بچے بورا رہیń ایشور پرابتی سائج بن بورا رہیń تو ہے پرانایم کی Mitch روگ رہی تو ہے ایشور mãنت پری allocate Cathy اپنا معان ع ایشور مٹری εν مدیوگ ملے گا, پیری شر کو جانگی کی چھامت کرو,

اس شر کو مان نہ ہوتا ہے, جگت کو جانوں, جگت کیا ہے, اس شر کو جانوں نے اس شر کے سو بھاؤ کو جانوں, اس شر کا سو بھاؤ, ست سو بھاؤ, چتن سو بھاؤ, آنند سو بھاؤ, سو حرد سو بھاؤ, پر امحتیش سو بھاؤ, امان رام سو بھاؤ, جہی جانوں, تاہی بھجانتتتجی بھاؤ کو جس نے جانوں, وہ بھگوٹ بھجان کے بینا گئی نہیں سکتا ہے. تو بھجان کیا ہے, کم لکشانوں بھجانوں, وہ لکشانوں بھجانوں, بھگوٹ رہ سا جا ہے, اسی کا نام ہے بھجان, بھگوٹ رہ سا ایسا دیگرہ سا ہے, کہ پر بے کاروں کا رہتت چلا گئے گا, کھاؤ گے لیکن سواد کے لنپٹوں کرنے, سوازتکہ,

سب بے آوار ہوگا, لیکن رس انتراطمہ کچھے, انتراطمہ رس کے بینا جیوان نیرس ہوتا ہے اور نیرس جیوان کو پانمسالا چاہی, رس کے لئے, نیرس جیوان کو سورا اور سندری چاہی, نیرس جیوان کو وہوائی چاہی, نیرس جیوانی ہی گولام بنتا ہے بکاروںک, بگوترا سا گیا تو بکاروںکہ گولامی چاہی گے, سترپ تو باوتی, بترپ ترہے گا, سا عمرو تو باوتی, سنساری رس تو نشورتا کے طرف لے جاتے, مارتے ہیں, لیکنیر پر مارت مرز اور اپنی شاشفتا کے طرف, ہمارتا کے طرف لے جاتے.

رسوائی سوائی شوان رو, بھگوان رسو صروب ہے, بھگوان رسو صروب ہے, نورسو رشد رس, میتا کتا کھارا تکا طورا کروائی شد رس, جید کے دوارر, بیڑ رس آش شرس جنگارس, کرو نارس بیڑ سرس, باچ سلیرس, یہ اسپراکار کے نورس بھاونا کیوتے. شد رسو نورس, مویرہ مرس لاغے نی کے, شد رسو نورس لاغے پی کے, یہ شراس اور نورس بحکے ہوگے.

ﷺ سارےشیوں کی چشتہ رس کے طرف, کیریگی مقولے سے لے کہ دیو تاکھ, جہا ویڈاہ، przyدرہ, گھومآن کے تکتے், کے تکتے, مجھا ٹکتہ نہیں, ایوی کاری رسے پیرا ہو کے مرگاتے. ایوی کاری رسوں کے دوارہ جلک تو نیروی کاری چیطن کی ہاتی, کتنا بھی اچھا دیکھا لیکن آہنم تو ایدھر ہی آئے گا. کتنا بھی اچھا سونگا ترناک میں مجھا نہیں آئے, اپنے ردے میں آئے گا. کتنا بھی بڑیا سونگا تو کان کو مجھا نہیں آئے گا. ردے میں آئے گا. ایشورو سرو بھوتا اتنا و ردے شئر جنہتیشتتی. ایشور سب کے ردے میں ہے.

اگر بہا وقوان دو سرو گیا پاکہ ایت ردے میں ہے. تو لگدوں میں گلاز کے گلاز میں لگدوں, بھولے گلاز میں لگدوں, تو گلاز بڑا ہوگا لگدوں چوٹا ہو گیا تو بھی تو. ایشور ردے بڑا ہے اور ایشور شوٹا ہے. تو ایتنا جرا سرادے اور اس میں بھی ایشور آئے. ایشور اور بھی چوٹا ہوا تو ایتنا نننہ ایشور کیا کر لے گا ہمارہ بلا. ایک کترک کر سکتے ہیں. ایشور سب کے ردے میں ہے. بھولتے ہیں. مانتے ہیں. شاہصر بھی کہتے ہیں. تو ردے تو بڑا ہوا ایشور شوٹے ہوئے. ایشور کیا ساہ بھولے انگوشتماتر پوروشتا ہے. اپنے انگوشتماتر مدے کہیں گا ہے. ایشور شوٹا چاہصر. تو ایشور شوٹا ہوا آپ اپنی ہوا ردے میں ہے. ردے میں اس لیمانتے ہیں. کی جیسے سارے شریع میں ہم ہے. لیکن رسول لیکن صواد جیب نہیں آئے گا.

گل پر افصم لائی لگا ہنگی تو صواد نہیں آئے گا. پیچ پیلگا ہونوں, ناک پیلگا ہونوں, سفاد نہیں آئے گا. حیسی, ردے جو ہے ہیں, انتہ کروں. اندریہ بہی کرنا ہے, ردے انتہ کروں. تو انتہ کروں, اوچھین نہ چاہی تنگیا. وہاں, میں سو سو, ٹائیسی لے بولتیش پر ردے میں. وہاستوں میں تو سب جگا ہے, جیسے گھرے میں آکاش ہے. تو گھڑے کیا کرو تیتہ, اتنا ننانا ساکاشا مرا کیا بالا کرے گا. حریسا رہی برمانڈ کو تھور دے رہا ہم آکاش. گھڑے کا آکاش, گھڑے تک سیمیت نہیں ہے. ایسی, ردے کا ایشور, ردے تک سیمیت نہیں ہے. لیکن ردے میں آنوں بھوتی ہوتی ہے. ایسی لی ردے میں بتا ہے. وہ ایشورت سب کا نیاما کہ ہے.

کرم کے نیاما کہ ہے. لیرواہا کہ ہے. پھل دا تانی ہے. اور پھر بھی سب سے نیارے ہیں.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →