Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 16, 2026

Feb 16,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Feb 16,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

540 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 16,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 16,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

भ Anfangदुबूर अपेर हसुआ मैनि ही मेंत अटन्ताKorean वादाु ये है। वरpell हा अपसीतıyorlarं उसक सिरहे वामलकतारverb कर टे पर कतोर उसना सीति round सम फरीखे कशा होना इस भुणातू ये मॕत आदKS थीसॣे के खे्म द्यbefore लिटन इस। कर साम running वे ये पसू भर memesa اسے سمجھ بچاکھے تھوڑا تھے کانج میں بیٹھے بیاس کرو ایکانت کا جمہ وہا بیاس پر بے بار ملیاں بے بار کرتے کرتے پر اشتیتے ہیں جو آئے اس میں ساکھ سی ہونے کا بیاس کا ذہ مہا سکھم گڑھا پیلوان تھا لوپوں گی نجر میں بڑا بچھا اور بھیںسا موتا اس کو تھا تھا تھا تھا رو گاہوں کے لوپوں نے کوئی شادوں کو کہاں کے امو قادمی بہیںسا ہوتھا تھا ہے آئے تو پتلا دوب لہلیکن بہیںسا بڑا موتا تو تنگ اس کو اتھا لے

موڑا دبوت پیلوان دیسا کام کرتے دیکھا تھا ایک کیا کارن ہوگا مہتمانے کا چلو ہم پوچھ کے باتا پہن دیکھیں اسے کہاں کے بھی تم اتنا بڑا بیمسا نہیں بھیںسا ہوتھا تھا ہے یا تو پتلا دوب لہیکن مہارا جی جب چل یہ پاڑا اب جنما تھا اس دن میں نے اس کو کندے پروٹھا ہے اندوس رہ دن میں اٹھا ہے ایسے میرو جس کو اٹھا تھا رو جی یہ بارتا گیا اور میں اٹھا تھا گیا تو ابیاس میرا بڑ گیا وہ سیشری کہتے کہ ابیاس کی ابیاس میں کیا اور وہ سو سو گا موجاتی ابھی نہ ابیاس کے سیدنے گیا حتم باو کا ابیاس جگت کی میتھا توک ابیاس

شریع شریع کی پریشتری سنسا یہ سب بارا ہے بضلتا ہے اور اس کو دیکھنے کا بیاس آجا ہے اپنے اپنے اپنے جگنے کا بیاس دیکھا رہا ہے پروٹھا ہے پروٹھا ہے آگے پروٹھ ایسے کرتے بھی جگ گیا اب جگنے کا عادت پڑ جے گیا مولے اور تو سب چی کہ گیاں بجن جان سمجھ میں تو آتا ہے لیکن سمجھی من میں یہ بیمانی ہے یہ وہ کار نہیں چکتے بہی دیکھا سادق بن کے بیمانی رکھنا اپنے کو پر ماتما کا بناء کے پھر بیمانی رکھنا

ستھن کوئی بیمانی رکھنے کا پھر باستانی ہے بیمانی چھوڑنے کا مارنے ایسور کی وستوں کو اپنی مانا ای بیمانی ایسور کی وستوں کو اپنی مانا ای بیمانی بیمانی چھوڑنے کا ابیاس کا رکھا اپنی چھوڑ گیا بس اپنی نمانو بیمانی چھوڑ گیا ایسور کی ہے ایسور کی وستوں جس کا ٹیف ستو کیوں کریں اپنی دے جارو دارو جاتو کوئی وان میں نہیں حلتو جہت بیگارو ایسور کی مگوان کی مینجا کام کرتا ہے مینجا کوشلتا سے کرتا ہے نفا ہوتا تو فرم وہ قاوتا ہے گتا ہوتا تو فرم وہ

کرتا کام اپنے دلکش نی کوشلتا ہے گتا ہے émie کرتا سے کرتا ہے کوشلتا نہیں ہوتا ایسور کی انا کلتا کرتا سے کیوں کی ان்னும் கொள்ளவு பற்றி கொள்ளவு سے அپنے குறாகத்துவிட்டத்தான் சிறிவே கண்பெனி ہے கரம ہے Hisko Khilaw, Khilaw, Shalaw, Sambalo, Tamras, Turokho Sharbanao, Kushalbanao கண்பெனி கவிகாச் காரோ ஆணாம்வாக Pero Khilaw, Khilaw, Khilaw иляவல், ஃாவல், லாக்பல் சொர்கிக்கு ஆயா ராயா, ராயா

ராயா, ராbean 34.. ஐா había退wen کرتا. لیکن یہ بدلے والے گاستوں سے چپک کے آبادل آتما ہو. آبادل اپنے سوروب کو بول کر جنم مراھن کی دکھو میں جانے کی بیوکو فی. بیدانت سان نہیں کرتا. وہ چھڑانے کی کوشک کرتا. تمہارے منوشجن مقاک, کسکنہ بڑار ملے ہے وہ بیدانت سمجھا کہا ہے. بیدانت کی ما تésمج کر بیان کی باکتی کی یوک توباستے سمجھ پПрوم کا بھیاست کیا جائیں باکتی یوک جان، جو aromaیل میں جائیں گے گے, جہاں اشور چاہتے ہیں. اشور ہمارا کبھی آہیت نہیں کر سکتے ہیں.

جیسے مام بچے کا آہیت نہیں سوچ سپتی پر نہیں سکتے ہیں. اسی پر ماتما تو پر مائی باپ ہیں, وہ مارا آہیت نہیں کرتے ہیں. اشور تو چاہتے ہیں ہمیں جگانا, اسی لے امکمانے سے جنم دیا. کیٹ پتن پشو اپنگان گیدیکارے نہیں بگوٹ پر اپتکے ہیں. دے وہ گندھر ہوگا, یہ دیکارے نہیں ہوں کو بگوٹ پر اپتکر نہیں ہوں تو منوسیجن میں سکتے ہیں. تو منوسیی تو ایدیکاری ہے. اور چوراچی لاکھ سیونی ہے, اس میں ویدیکار نہیں ہے. منوسیجن میں اپنگان پانے کا پرگوک کے پر اپنگہ دیکارے. تو بگوان نے تو دیکاری بنا دیا. بگوان تو تمہ مختلف کرنا چاہتے ہیں. بگوان تو اپنے سوروک کا درشن تمہ کرنا چاہتے. تبھی تو منوسی بنا ہے. چوراچی لاکھ سیونیوں کو دوسوں کو ایدیکار نہیں ہے.

دیوتانوں کو بھی اگر موکش پانا ہے تو منوسی بنا چھپڑے گا. دیکھتے آسروں کو راکششوں کو بہیں ساکھویاں پیڑ کو پھوڑے کو ٹھوڑے ساکھ ساکھ ساکھ کر ہوگا یا بگوان کے بستی ہوگا. منوسی ہے بگوٹ پر اپتکا دیکاری. تو بگوان کے طرف سے تم کو دیکار مل گیا ہے. بگوان کے طرف سے تم کو مختلف کرنے کا بگوٹ پر اپتک کرنے کا ایدیکار مل آیا ہے. دیوتانوں کو بھی اگر مکتی چاہی تو منوسی بنا پڑے گا. دیوتانوں کو بھی ملتی لوگ میں منوسی بنا کر شادن بجن کرنے کے وان چا کرتے ہیں تو کوئی کوئی ایسے دیوتان کرتے ہیں. بگوٹ پر اپتکار لیتے ہیں تو ہم کو منوسی جنو مل آیا ہے. بیشہ دا ہے.

پڑی بہت بود دی ہے. بیشہ ساکھ ساکھ مل آ تو یہ سب ایسے کی کرپا ہے نا. ایسے نے اتنا سنی ہوگ دیا. تو پر ام دیل کیوں کریں. اب ایسی جو جاتے ہیں. تمہرہ بھلائی چاہتے ہیں. اس ورہمارہ تلیان نہیں چاہتے ہیں. تم کو بیسہ بنا دے تھے. بیدا بنا دے تھے اس ورہمارہ تلیان چاہتے ہیں. ان کی نجر میں ہم جچ گئے ہیں ان کو. پھر کیوں حل کی بود دی کر کے نیچے گئے. مرے بھلوں میں رہنے سیادمی بڑا نہیں ہوتا. مرے باشن کرنے سیادمی بڑا نہیں ہوتا. إیک کا اشن آز و میں اعلی کو بھتوروں میں ناinkleئی مرے شازم ہے. بڑے بڑا نہیں ہوتا lebdock ہوتا. самом issue ، مرے بہت Carlo کہ deberے لا ج ب snooll

بڑھا نہیں ہوتا. بڑھے بچاروں سے آپ نہیں بڑھا ہوتا ہے. چھوٹے بچاروں سے نہیں چھوٹا ہوتا ہے. مرمکے بچار کرو. میں کونوں, ایسے ریراکر کبتک رہے گا. ایسا بند کبتک رہیں گے. میں نتیوں, یہ انکتے ہیں. میں ایک راس ہوں, یہ وستائم بدل نوالی ہیں. منمی بضلتا ہے بھتی کے نرنے بھی بضلتے ہیں. میں ابضل ہوں, وہ کونوں, ستسنگ میں سنا ہے کہ ابضل تو آتما ہے, کہ میں وہی ہوں, یہ بڑے بچارے ہیں. تو پھر ابضل میں ٹکنیکہ بھی آس کروں, محان بن جائے گا. ایسے محان گیان محان آلغلہ پرارب دہ ہے، آلغلہ قپنی موج ہے.

کہیے سے گانوان ہے جو کندراوں میں بیٹھ ہے سماضی کر لیا اس و رکھ کو جانکہ اسمیں بھی سانتے, کہیے سے کہ للا کر دے ہیں. وہ کو دے اس کر دے ہیں. کہیے سے منوط کر دے جو ہن بھی داتے ہیں. کہیے پاظگلوں کا بیش در کے بیٹھ ہے. کہیے سے گانوان ہے, کہیے سے گیانوان ہے جو نتینیم جاپ تپ کرم کرتے ہیں ویسے رواستیت کہ دوسر لوگ بھی اُدھر کی طرف مجھا ہے کہیو کا ایسا سوابھا بھی کتھا ہے تو کہی گیانوان اپنے اپنے دن سے بو دونا کے بعد سیش چیوان یا پن کرتے اگن سوروب میں جاک گئے ایک بار پر مات مقادہ سنو ہو گیا کہانو گیا پھر ساری پت کرتی ساری پر ستی ہم اُن کے لئے

سیلو آر مات رہو جاتی مینو دمات رہو جاتی آسچری اُدھر بھو ہن جئی سوتی کہتی وہ آسچری کہا رکھا ہے بال اِبال وطام یوے یو آ مچو میں بچو جیسا جوانو میں جوان گریبو کے ساتھ گریب جیسا امیروں کے ساتھ ہمیں جیسا لیکن اندہ سے سمجھا کے ساتھ خیل ہے ابیاس کرتے تاپنگیا نونا کوئی کتھ نہیں ہے ابیاس کے بلسے تو میں براما ہوں میں ویسے ہوں میں شتری ہوں میں جی ہوں میں بھلانے کا بیٹا ہوں میں بھلانا بای ہوں میں بھلانے کے تمانا ہے مرونا مانگوبا مرونا ممتھا لال مرونا مفتھ لال مفتھ لال کیا بجپن میں پڑا مفتھ لال سنسن سے

پکا ہوگیا سو آدم سورے ہے مفتھ لال آاوش ابیاسی پڑا جو بھی نام پڑا ہے, جو بھی جس کا. آئیسے, اپنے اپنے اپنے جاکنے کا بیاظ کرتے ہیں. ایک مو ٹیک ساتھ بھی کچن تنگ, بھارم بار تھا ہے کہ نے آپ دھاست کے بھاستے. چھے مبھروں پوشپنے, ایو دگیر دھا بھارم بار بیچن کرتو ہوئی, بھارا جیسے پوشپنے, پھول کے ایر دگیز مندار تا ہے, ایو سے ہی ہمارا چتنگ پر ماتمتت وکے چن تنگ جب مندار نے لکتا ہے اس مندار نے کوئی اپنے تقایس کہا جاتا ہے

جس اپنے روچی ہوتی ہے بھو پھر کرنامی پر تا ہے ہونے لکتا ہے اور جو ہونے لکتا ہے اس میں رس بھی آتا ہے اولٹا بیاس کرٹی ہی آبی بیشی لے دکاروں میں رس لے سکتا ہے شراب میں بھانگوں میں تمہکوں میں اولٹا بیاس کرکے لوگ رس لے لکتے ہیں اگر پر ماتمت کے جان کا بیاس کی آجا ہے واستبک میں تو بھی تو رف چلک آئے اس میں کیا شنکا ہو سکتی ہے کیا سترے ہو سکتا ہے ہم اسی پر ماتمت کے چن تنگ جہم نے ہمیں اس پر ماتمت کو پیار کرنے کا بیاس ہو جائیں

ہمیں اس پر ماتمت کا چنتر کرنے کا بیاس ہو جائیں ہمیں اس پر ماتمت کے تطوجان کو سنگ گا یا بیچارنے کا بیاس ہو جائیں تو ہمیں لگگا سنسار ف fool گو پد کیا ہے جسیں گو کے کلکولانگنا آسان ہے بیشی سنسار ف fool ஆ پیال نہیں ست سننے نہیں اُن کے لئے سنسار محاگوں بھی روشال شاگر ہو جاتا ہے ہم چیطنی اتما میں رشطانتی پارے ہیں

جو ہم آرے چتکے سپورنے کا اُدگ مستھان ہے ہم اپنے اُدگ مستھان انتریانی پرم اتما میں رشطانتی پارے ہیں جس نے یو گیشوروں کا من دشطانتی پاکہ ہے ہم اسی پرمتما کو پیار کرتے ہیں جو سچمچ میں پرن سوروپہ ہیں ہم اسی پرمتما کو پیار کرتے ہیں جو تیری تھنگوں میں درچی آکھوں میں درچی بنسی میں جس کی پھنک ماترسے دو پھی ردے بھی نہ چوتتے تھے ایسے نے دکتر مات ماکہ ہم دیان کرتے ہیں مہر آجی آبیاس اور بھرموڑڑڑیا کا چمتکار ایسا ہے تینگ نے ساریر میں کروپ میں بھی اگر یہ بھرموڑڑڑیا کا بیاس آتاشے

تو وہ اشتاو کر مونی ہو کر بڑے بڑے مہی پتیوں کے دوارہ پوچے جاتے ہیں اس آبیاس کی بلی حریفے انتل انگوٹھا چاہت دوارہ مہلا ہے بھی یہ بیاس کرتے ہیں تو جربپور کے نرےشوں کے دوارہ پوچے جاتے ہیں اندر کے دوارہ ویسا گت پوچے جاتے ہیں میں اتما ہوں, میں چاہتنیوں, میں وہی ہوں جس کی ستا سے آق دیکھتی ہے تو ہموں, جس کی ستا سے کان سنتے ہیں وہ میں ہوں تو ہموں ابھی چار ہوئی تھی اب دانس ہیں

ابھی چار ہوئی تھی اب دانس ہیں 1-1 du vs. نہ Internal vah bhaard vah vah vah vah vah vah vah کی نودر ہمارہ دیان نہیں جاتا ہے. جو سدہ مکت ہے, جو سدہ سک سروپ ہے, آنگ سروپ ہے, شنگ سروپ ہے, پر بھرم ہپرمات میں ہے. اُدھا کی اور ہمارہ دیان نہیں جاتا ہے. اُلتا بیاس پڑ گیا ہے, جواصت ہے, جوڑ ہے, دکھ روپ ہے, گی ناشی ہے,

دکھشی بڑانے والا ہے, بیوکوشی بڑانے والا ہے, ہے سا, انڈریوں کا ہے ہیک آکرشوں, سو بھاوی کو جاتا ہے, کیوں کہ اس کا ہر جنم میں بیاس ہے. جو چیزہ بیاس ہو جاتی ہے, وہ آسان ہو جاتی ہے, اور جو بیاس رہی توتی ہے, وہ کتن ہوتی ہے. میٹردی اپنا بہی اپسگا بہی اگر دور رہتا ہے, تو پرائے جیسا ہو جاتا ہے اور میٹر ساتھ میں رہتا ہے, تو بہی سے بھی جادہ مدر ہو جاتا ہے. ایسے ہی اپنا پرام ہیتیشی, اپنا پرام سوھردو, جو پرمات ما ہے, کس ویشے آگاس نہ ہونے کے کارن, پرمات ما پرائی چیز لگ رہے. پرمات ما مہاتماوں کی یوگیوں کی, آگیانیوں کی ہی بدولت لگ رہے,

آگیانیوں کی ہی کچھ سمپتی لگ رہے, حکی قت میں پرمات ما ہم سب کے, پرانی ماترا کے وہ اتنے کے اوترے ہیں, اور پرام ہیتیشی ہے, سوھرد ہے, سوھردام سروب ہوتانام, ہیشور سب کے پرم سوھرد ہے اور آکارن دیا کرنے والا ہے, تو ایک پرمات ما ہے, تو جو آکارن دیا لگ ہے, سوھرد ہے اور اپنے پاس ہے, اپنے نجیک ہے, اس کو نہیں پایا, اس کا مطلب کے وہ دور نہیں ہے, لیکن اس کے بیشے ہمارہ آگیاس نہیں ہے, جو چھوڑ کے جانا ہے, اس کا ہم کو آگیاس ہے, لیکن جو سدار ہے, اس کو پانے کا, اس کے بیشے کا گیان نہیں ہے, روچی نہیں ہے, اس لئے گیان نہیں ہے. اور گیان نہیں ہے, اس لئے اس پرکار کا gap نجیاست نہیں ہے,

روچی تیورا ہوت, و بغوت تکتوکہ گیان نجیہ ہے, بغوت تکتوکہ گیان نا ہونے کے کارہ, ہم منمانا کچھ کرتے رہتے ہے اور منمانا جبتا کرتے رہیں گے تو ایک جنم میں نے ع شارو جنم میں جننم میں بھی من�ربطنے ہوگa. من MANA NI LIKNSHASTRO میں گ guru Mahapur Shun ne جس پراکہ کا مارک درشندیا, اس پراکہ رگر پر برم پر ماتما کا سروپ جان کر اپنے آتما کا گیان tus پوجان کر سون کر شو ون کر کے پھر اسی کا دھیان میں آبھیاست کیا جائے, تو سرال ہو جاتا ہے. ہم لوگ دہان کرتے ہیں تو دہان میں سنسان ہو جانے سے تھوڑی بہت تھا کان اُتورتی تھوڑا بہت فیدا ہو جاتا ہے لیکن دہان میں انتا کن کا نیرمان کرنا پڑھا ہے انتا کن کا نیرمان نہیں ہوگا تو پرمہتما کا

اصلی تتو یا پرمہتما کا خجانہ پر آپت نہیں ہوگا تو انتا کن کا نیرمان کرنا پڑھا ہے جیسے بچہ پیدا ہوا تو اُس کا نام رکھ دیا اُس کی جات بات یہ ساب اُس کو انت سنا دیا اُس کے مسکت میں اُس کے انتا کن میں بھر دیا تو اُس کے انتا کن کا نیرمان ہو گیا حب سورا ہے تب بی پٹل ہے اور چل رہا ہے تو بی پٹل ہے حکی قپ میں ہے پٹل جسی کوئی چیج نہیں نات جات جسی کوئی چیج نہیں ہے لیکن سن سن کر ہم لوگوں کے انتا کن کا ایسا نیرمان ہو گیا جو کی واستبک نہیں ہے اور برمات مواستبک ہے جو ست ہے چیت ہے آنندسوروپ ہے سریشٹی کے پہلے ہے اب بھی ہے اور پر لے کے بعد بھی جو سکھ میں بھی ہے دکھ میں بھی ہے شوکھ میں بھی ہے لوگ میں بھی ہے مان میں بھی ہے اپنان میں بھی

جس کے بھی نہ سب کچھ کچھ نہیں اور جس کے ہونے سے سب کچھ ہے وہ پرماتما بلکتھن کیسے ہو سکتا ہے وہ پرماتما پرائے کیسے ہو سکتا ہے اور وہ پرماتما دورلب کیسے ہو سکتا ہے تستیا ہم سلبم پارپا میں تو سلب ہوں لیکن میرا گیان دینے والے آتمگانی مہاپرشو کا ملنا دورلب ہے بہنام جنمانام انتے بہوت جنموں کے بعد بہنام جنمانام انتے گیانوانام مام پر پتجتے واسودے ومیتی سمہاتمہ سو دورلبہ بگوان بلتے کہ میں تو سلب ہوں کیوں کے جل میں ثل میں سوریمے چندرمامے رسمے پر پریمے سب میں میں ہوں لیکن میرا آنوبہوں کرانے والے آتوہ میرا آنوبہوں کرنے والے

جو آتمگانی مہاپرشا ہے وہ دورلب ہے تستیا ہم سلبم پارپا میں تو سلب ہوں لیکن میرا آنوبہوں کرنے کرانے والے گیانی مہاپرش دورلب ہے بہنام جنمانام انتے گیانوانام مہاپرپا دیتے واسودے وم سروم میتی سمہاتمہ سو دورلبہ یہ مہاپرشتی سروطر سروم چا مئی پرشتی تستیا ہمنا پر نسیامی ستر میں نم پر نشتی جو مجھے سب میں دیکھتا ہے اور سب مجھ میں دیکھتا ہے وہ مجھ سے آلگنے میں اس سے آلگنے لوں یہ منے بداما جوے چھے منے بداما جوے چھے اس سے آلگنے ettmaissance واسودی واسودی عرمز ہے اور تمہاWAN

بیvision اس سے بیvision اس سے آلگنے اس سے آلگنے اس سےکھwards Şimdi اس سے آلگنے اس سے آلگنے اس سے کسா بھی نہ دھان کے انڈر کی مستی آئے گی نہیں. اس لیے دھان تو کرے تو دھان میں بیٹھیں گے تو من بھا گے گا. من کا سبھا ہوئے بھاگ نہ. لیکن بھا گے تو من کو ایس سے پرکار کے سنس کا دال دو کی بھاگ بھاگ کر بھی بہیں گوں کیا جہے ہیں. من نہ ویچہ رو تھا ہوئی تو اتماکار ویچہ رو تھا ہو آگیوں. تو انتا کرن کا نرمہ ہونا چاہئے. ہم جب بہتے ہیں تو میں کون ہوں یہ پرشن پوچھا اپنے سے. یہ جگت کیا ہے? یہ نات جات کہاں سے آئے. ایمے پروش ایسٹری کیسے سنسون کے بنگا ہے. تو یہ پروش پنا ایسٹری پنا کیسکی ستتا سے میں سو سو تا ہے.

تو میں کون ہوں جگت کیا ہے؟ ایشور کیا ہے؟ جیو کس کو کہتے ہیں؟ مکتی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ بندن کیسے چھوٹے؟ اس پرکار کے پرشنے اندر اٹھنے چاہئے. اور گرووں سے مہاپرشوں سے برمویتاوں سے آتمک جانلینا چاہئے. کپول کلپٹ کسے کہانی نہیں. تدتو کا گیان لیکر اس گیان کو دیان میں ستر کرنا چاہئے. تو جلدی کام بن جاتا ہے. تو اپنے ویشے میں آدمی کو نیسوارت رہنا چاہئے ہیں. دہی کے ویشے میں. اس سے انتا کن کا نرمان ہو جائے گا. اپنی دہی کے ویشے میں اپنے شریع کیا کرتے جائے گے اتنے اپنے اپنے اپنے شریع کی لئے بیقتیتوے کے لئے, اگر آپ نے سوچنا چھوڑ دیان تو

اس جہتے رہ بڑا لاب اور کوئی نہیں. تو اس سے امرص دیار کی سی وقائیں. تو اپنے ویشے میں. اپنے شریع کیا. اور دوسرے جو کوٹومی ہے وہاں ممتا کا تیاج. اور اشвер کے ساتھ جب سبند کرے تو واسنا کا تיאג. جیچی крوشنا. اِج سے انتا کن کا یون ارمن ہو جائے گا. اپنے ویشہ ایسوار تھا کا تיאג. دوسروں کے ویشہ ممتا کا تיאג. اور ایشور سے واسنا کا تיאג. ایشور کا بجن کرے تو واسنا پوری کرنے کے لئے نہیں. ایشور کو پیار کرے تو ایشور کے لئے بس. بجن کرتے ستھن سنتے تو بس ستھن کے لئے ستھے کے لئے. ایسا نہیں کے ستھن سے اماری منوکامنا پوری نہیں ہوتی. سنت درشن سے کوئی پنے نہیں ہوتا ہے. بگوڑ درشن سے بگوان سے مانگے تو نہیں ہوتا ہے.

یا سنتوں سے بگوان سے لاب نہیں ہوتا ہے. لیکن اگر مانگتے ہیں تو مانگا ہوا توچھا نشور چھوٹا لاب ہوتا ہے. اور نہیں مانگتے ہیں. واسنا مٹ جاتی ہے تو دینے والے کی جو شکتی وہی شکتی اماری ہو جاتی ہے. ایشور کے لئے اگر نشکام رہتے ہیں. نرفاس نک رہتے ہیں. سنتوں کے پر تیجا کر آدر سے بھاو سے ستھن سنتے ہیں. لیکن واسنا نہیں رکھتے کچھ سنسار کے وستو کی. تو آپ کا انتا کر شد ہوگا اور شد انتا کر میں اتماگان کا خدا نہ جائے گا. دو محافر جو مارک درشن دیتے, آسیر وات دیتے یا چمت کر ہوتے. وہ بھی تو اتماگ بلسی تو ہوتے. تو جتنا جتنا رہتے ہیں نئے اپنا انتا کرنا. نشور تو تا جائے گا. اتنا اتنا اس میں سامت ہے اتا جائے گا. جتنا جتنا نشنکل تو تا جائے گا.

اتنا اتنا سوک اور سوکش میں شکتی آتی ہے. آتا گنن کر بھی آبیا سے ترن سکتے. روٹی بانان کر بھی آبیا سے تو بنا سکتے. نشور یہ سنسار سے ترنگ کا آبیاس کا نفرتتے. جب کہ آبیا سے تو ملا گنتے, سے ساکشی بہنگ کا آبیاس ہو. سوک دوب کر پر سنگ میں سنسار سے ترنگ کا آبیاس ہو. تقوی چاست سے تقوی دوشوں کے سمع اپنے نیر دوش ستا کا آبیاس ہو. تقوی دوش سان تو نتا جائے گا. جو جو گیا میں کے ضرب برتے جائے گا.

دوش ناس ہونے گا. دوش اگر سے ہوتے ہیں. دوش سب اگر جان سے ہوتے ہیں. اتمایان کر بہن سے دوش دوروںے گا. یو کر بہن سے بھی چکتے کے دوش طوروںے گا. جتنا آدمیں دوشی جت سوکی اوپنے لاستعدvit حب辦法 محتا訂閱 slicیلے گا. پاتھ مدے کو نہیں جانا ہوں اسلے موتھ کا بھی ہے پاتھ مدے کو جان لے تھا ہوں موتھ تو اس کے ہوتی نہیں پس رے کو درا درا کر رکھو تو بھی ہوتو پھر دن تمہ رے گھے

موتھ رہا ہوں کی ہے تو ابھی دیا ہے اگیاں ہے پاتھ مقگیاں نہیں ہوں اتماکہ گیاں کے لئے بیاس ہے بھی نہ بیاس کے کوئی چیدھ نہیں ہوتی وہ بیاس میں ویراک چاہیں اندر ویراگنے یہ تو آدمی جو بھی کام کرے گا سیوہ کرے گا تو بھی ایک سوامی کو بھو بھی بنائے ویراگنے ہوں اور اور اور ابھی نہ بیاس اور ویراگی کے گان جمتانے ٹکتانے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →