Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 15, 2026

Feb 15,2026 Sunday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

About this episode

Feb 15,2026 Sunday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

324 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 15,2026 Sunday : Noon : Sandhya Satsang - Noon

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 15,2026 Sunday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

stewardship, ھörer emphasis toward. ھ לقشمி qualidade yearٌ ھ Site measurements

ھت کے ھ Down ھ Site ھ s\'eg,. ھ Prof. Sywed ھکھ بڑھ возможность ھ Cvart ھpin. ان کا رادمی کو کھپاہ دیتا ہے ان کا ریتنا بدماش ہے کہ کھپے کھپے میں کھپتا دوسروں کو بھی کھپا دیتا اور پریمیتنا اُدھاہ رہے کے بیٹھائیں لے جایا وہ سُداما پوری چلتے سُداما کی پتھنی سُشیلاتے واسٹوں میں سُشیلاتے کھانے کو ان کا کوئی پتھانے کوئی دے جائے گا تو کھائے گے آیا چکھورتے ہیں اور اُدھاہ رہے کوئی کی کہ ساڑی اُسی ساڑی میں ناتی اور اُسی ساڑی کو شروف کرسوی کرمے لی جا تھے اُسی ساڑی سے شاوچہ لے جائے گی تو پر شاوچہ لے والی ساڑی رسوی کرنے جائے گی تو بائی نہاہ لے تھے پھر اپنے شرید پڑی

گیلے بڑن پر ساڑی سوکاتی گیلے بڑن پڑ گیلہ پڑھا گیلہ قپڑا نہیں پیننا چاہئے لیکنہ بھائے نہیں تو کیا کریں. گیلا کپڑہ پین نے سے جیو نہیں شکتی گیلے کپڑے کو سکانے میں اپنی گرمی کر چوتی. ٹھندہ پانی بار بار نہیں پیڑنا چاہیے. گرم پی کر ٹھندہ نہیں. ٹھندہ پی کر گرم نہیں تو دانت کر سوا ہو جاتے جلدی. دوکرا دوکری بن جا ہو گئے. اور کیا کروں? تکی آپ کا آسرے لیکے شراہ میں بے. گردن مونڈی مورڈ کے لیڈ جاؤں. پیچھوٹیسی بوٹل میں سرسوں کا ٹیل دالگے رکھ. دو وہ نے ناک سے مللے کے جور سکھیں جلے. تو وہ داپے میں بھی کان ٹھیک رہے گا. ناک ٹھیک رہے گا. اک ٹھیک رہے گنای تو ٹھیک رہے گنای تو ٹھیک رہے گا. ٹھیک رہے گا. بیرا پڑھا جائے گا. نس سے لینے. لینے سے وہ بیرا پڑھنے آتا. اندریاں. کی اویلگ ہوتی رہیتی تو جرہتی کرے تھا.

قتا میں کیا کیا ملتا دیکھلوں. ناک ٹھیک رہے گنای. من بھی تھیک رہے گنای. بھڑھی بھی ٹھیک رہے. اور بھڑھی داتا کو پانے کا گیان بھی بنارے یہ ستسنگ میں ملتا ہے. ��ےust ٹھیک رہے گنای. اissanceٹruktur گیا تو کرناے ہوتے ہوتے ہوتے Object ٹھیک رہے گنایview ایک ماہا داری ما ٹھیک دےہ Maps تگتما ہے. ٹھیک رہے گنایتے میں fickپپپپپپپپپپپ پپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپwelیکھ کے اور رہے گنایتے میں rägeี่ اب تم مہیمہ کر than USA sur weitere wines ex , pay packet conomic , Treasury , qualified , Mr ,

Kr . ایسے کرتے کرتے دیکھا کہ یا نہری رات میں دیے کیلا ہو جل رہی ہے جرود کوئی وہا ہے نکھا تو ساتھ ہو ہے ارے پیر تو کام مڑ جائے ساتھ ہوئے تو کچھ کچھ کچھ کھنے پینے کو دیکھا نہیں دیکھا تو مارمور کے بھی لے گے اور کیا کریں گے شکاری ویریہ بھیل شکاری ویریہ بھیل وہ ابھی اس کے ردے میں بھتی نہیں آئے ساتھوں کے پاس پہنچا ہو ساتھوں تو شیورات ریتے تھے آو اگن شمب آی جمعیو بای جمعیش کر آی جیشن کر آی جنم آہا آو بم بم بم ای بم بم شبج سوالاک جب کرے تو جو رو کر دار دچھو جاتا ہے شیورات ری کی رات کو جب کرے سیدی پھر آپ تاوتی سوالاک جب انتا کر کی شدی منو بل کی شدی رو کی سیدی پر آپ تاوتی خلی بم بم بم بم بم بم سوالاک شیورات ری کی رات تو بابا جکر رہیں

ابیا با جیابی اٹھے گا بم بم بم بال بب بہ اٹھے گا ببہ بہ اٹھے گا اب بم بم کر رہے دکر رہے بم بم کریں اٹھو بہ ویا دکرہ دکرہ کو کچھ کچھ کچھ سنا آتا لیکن دکرہ کو ایسا بہی سا نہیں تھا دکرہ تھا تھا مجھبو دیلکا ہبر بھات تک کی شیوری کی پو جا کر دیا چہروں پیرکا ہو صویریہ بھیلсی کاری کا جاگرن ہو گیا चाल भvor making چھமڑے سوکتے تھے پیشوں کا رکھتا بہتا تھا مہاص بکتا تھا گنتجیวن تھا لیکنے کراتری سادو کے چرنوں میں اور شیودی کی سمورتی میں انجانے بیٹی وہ

ویریہ بھیل مرکھر دوسریجنم میرا جا ویرسین بہا دور بند گیا دریدرا ہوتے ہوئے بھی بھگوان کی بکتی جو ملگ گئی بکتی لینے نے گیا جبران ملگ گئی بلاث ملگ گئی لینے توروٹی کتو کڑا گیا تھا گیا لیکن سادو کا سنگ ویریہ بھیل پر یہ کرپا ہوئی تو اگلے جنم کے جنماک شروع سے اور کچھ سمورتی سے لگا کی ایک بار سادو کے سنگ میں بمبم بمبالے دوکرا کے سنگ میں شیودی کا تھورا نماشوائے بولا اسے جم میں ویرسین سمرات بند گیا ہوں تو میرے بھولے با با کتنے اوضح دانی اوضار دانی ہے کہ اور اس نے تو اپنے پورے رات جک کے جو مندر تھے جنو دھار کا اوضح دے دیا اور جہنگورے سگر لگ تھے ان پر کہ پو جا پاٹ کا پر بھا پڑھا پڑھا سی بے وستا کر دی رہا ویرسین بڑا بھگوان شن کر کا بھاپت بند گیا

کہاں تو ویریہ بھیلے کے ایران کے ایک کرگوش کے ماز کے لی بٹ کے ایک مرگہ کو مارنے کے لی بٹ کے اوضح جمانے میں تمارے جیسے رہنجر نہیں تھے کہ کرگوش مارنے کا پاچھا جو رپے دند کر دے ایسا قتر ناک رہنجر نہیں تھے جہر ہم جی کی ہیرنی مارنے کا ایتنا دند پھلانا دند ہو نہیں تھا ویشی چلتا تھا یہ سرکار کو بہت پیسے کم آکے دیتا ہے رہنجر کوئی کرگوش ماردے اس کی رہنج میں تو بس اس کی ہو گئے چلو پر آنیوں کے لئے چاہے دیا رکھا دیا رکھا ویریا بھیل ویر سے انڈا جا ویر سے انڈا جا بھگوان شو جی کا بھکت بند گیا سادو سندو کا بھکت بند گیا بھکت ہو چایا بھکت بای مارنے والا شریر تو مرتایا شریر کی مرتی ہو ہی نہیں کہن بھکت کی مرتی ہوتی تو اس کا جیو آتما آپ نے ایشٹ لوگ کے ترب جاتا ہے ہر بھگی کا بھگ میں جاتا

پاپی کنرکوں میں جاتا ہے درمتما کا سورگ میں جاتا برمویتا کا اتما پر برمو پرمتما کا چاہتے کو جاتا ہے ملبل فینڈے جا چاہا ہواہ رہا رہا رہا ویرسن کی مرتی ہو گئی اور ویرسن کا شریر تو ہا رہا جو اٹھت سے اس کا انتشتی کی گئی چندن آدی گھت آدی سے اس کی بدای دیگ دیگ گئی اگنی کو بھیٹ کر دیا گیا لیکن ویرسن کا جو جیو اتما تھا بگوان شیو کے لوگ میں گیا اور شیو کا گنوں کر رہا رہا دکشپرا جاپتی بڑے چتور تھے ویوار میں دن نے دکشپرا جاپتی لوگ پالتے کئی رہاںوں کے آگوے تھے ہم یہ کہتا چکرورتی تھے سمرات ویوار میں تو بڑے دکشتے دکش کی نیتی ہے گرستی کو نوع کام یہ کرنے چاہی حلا نے نوع کام نہیں کرنے چاہی گرستی کو رہاں سے کی باتے رہاں سے میں رکھنی چاہی گرستی کو سماج کی سمپتی کا سرکشا کرنا چاہی

اُس کو اپنے اوپیوگ میں نہیں لانا چاہی نہیں تو فلا نے نرق کی پراپتی ہوتی سماج سامو ہیک چی جوں کا گرستی کو اپنے لئے اپنے واہوائی کے لیوپیوگ نہیں کرنا چاہی نہیں تو یہ پاپ لگتا ایسی سمرتی اُنوں نے راچی ایسی دکش بھگوانشیو کی ساسور تو اپنے کو کچھ مانتے تھے تو دکش جب سبہ میں آئے تو کچھ لوگ تو اُٹھے لیکن بھگوانشیو نہیں اُٹھے وہ لی برمہ جی نہیں اُٹھے تو میرے پیدا ہے بیشنوں تو پالانہ رہی یہ تو میرا جمع چھوگرا ہے اور چھوگرا ہوگے بھی نہیں اُٹھے کیا سمجھتا ہے تو گوہر میں کہ شیوگی کا اپنان کروں گا اس کو خبر پڑے گئے دکش نے یقگے کا آئے جن کیا اور یقگے میں سبی دے اُٹھا ہوں کو بھولا ہے لیکن شیوگی کو آمانترا نہیں دیا پاروتی آئی پاروتی نے دیکھا کہ جس یقگے میں میرے پیدا یقگے کیا اور میرے شیوگی اس کا عوم νمہ شوائے کہنے سے

پاپتا آپ نورتوٹے و آدمی کی کی سدگتی ہوتی ہے, ایسے شیو جی سے ویر لینے والے پیدا کی پوتری میں ستی کیسے کیلہ ہوں, یو گگنی سے اپنے شریر کانت کر دیا, ستی نے, گھومتے گھامتے نارت جی گھے شیو جی نے پوچھا کہو نارت کیا سماچھا رہے, نارت جی والتے دھے کے پر وہ ستی نہیں دیکھتی ہیں, بولے وہ اپنے پیدا کے یگ گی میں گئی ہے, گئیتی کہ ہو, بولے نہیں, ابھی وہیں ہیں, بولے نہیں, انہوں نے تو ایسے اپنا ستیت نے شریر کانت کر دیا, سیو جی نے دیکھا کہ میری ستی کو اتنی میری پرتی آستہ اور شدہ اور ستی کا من دکھانے والے دکشکی اب خبر لینی چاہیے, سیو جی نے اپنے جتا میں سے گبال نوچہ اور ویریہ بھیل میں سے ویرسن اور ویرسن میں سے ابھی جو اپنا پارشت ویرسن دا جانے ویر بھڑھ رہا جاو جرہ دکشکے جگی کا جرہ کر دو, ویر بھڑھ رہے

سے شکاری تھا, پھر رہا کے لڑائی کا بھی تو ابیاستہ اب بگوان کا, گن ہو کر جاتا ہے مانو پر لے کال کا جد لے کر جا رہے دکش جائے سے لوکپال کے سامنے وہ ویریہ بھیل جد کرتا ہے اور وگوان شن کر کے ساصرے کو عرادے تھا اس کا صرکات کر یک گی میں دالے تھا. دیوطالوں کا آجی نہیں جاری کرتے تو شیو جی نے پھر بکرے کا صر دکشکے صر پر رکھا تھا کہ لوکوں کو پتا چلے کہ وہ ہر میں کتنے بھی دکشوں کتنے بھی چاتھوں رو لیکن آدمشانتی نہیں تو پشو کا آجی وانے ہم بچے تھے نے تو شیو مندر میں جاتی تو برامان پو جا کر کے پھر بلتے بھیلے میں میں تو ہم آستے تھے آپ از میں مجا کرتے بھیلے میں میں یہ کیا کرتے ہیں پھر پتا چلا کہ بیوہر میں تم کتنے بھی دکشوں کتنے بھی چاتھوں رو لیکن اندر سے مانوی ہے سمبید نہ ہے نہیں ہے

کتنے بھی کچھ سلو لیکن جیسے پشو اپنا پیٹ پال تھا بچے پال تھے سی تو کر رہا ہم اس لی ہم بھی اسی کے جاتی کیا ہے ہم اس کے باز چار پہ رہا ہم our پاس بری پاد ہے دی پاد پشو جیس کے رہے میں بگو تو جان ہے بگو تو جان ہے بگو تو جان ہے بگو تو شانتی ہے تو کتنا درید رہا کتنا بھی درید رہا پھر بھی اسریچ اسریچت سے بھی اسریچتے دکشک کتنا ہونچا تھا ار بھی ویر بادر کے آگی وہ نننہ ہو گیا کہاں تو ویریا ابھی ایک کرگو اس کے ممن اس سے میں تو دوانے میں بکتا ہوگا کرگو اس ایک کرگو اس کے لئے تین تین ننبت کے ایسا درید رہا لیکن بگوان کا نام ان جانے میں مل گیا اور ویر بادر بگوان ہو کے پو جا جا رہا ابھی آپ کو ویر بادر بگوان کا مندر دیکھنا ہو تو میں آپ کو ادرس بات آتا دکشکا یک گیا دنس کر کے جا بگوان ویر بادر لوٹے تو دکشکا مندر ہے دکشکا یک گیا ہوا تھا کنکھل میں اردوار میں اور ان کو قیلاش جانا تھا تو

ریشکے شودے ہوئے روٹ جاتا ہے تو راستے میریشکے شاہر اردوار کے بیچ میں ویر بادر بگوان نے جا بشرام کیا تھا وہ ابھی مندر ہے کہاں تو ویریا بھیل اور کہاں ویر بادر بگوان

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →