Feb 13,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Hosts & guests
Transcript ready
337 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 13,2026 Friday : Noon : Sandhya Satsang - Noon. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
प्शम अொrukturजब़есяशेत म Euh slightestrefereint साजगो मनसीक ज़प मिouterगतािन मन हिमन तुनद है। मुुुुुुुुुुुुुुुुुुु? बानत है। तुन हरी उचुर पावन हूरे यहरी तड़ावन हुरे यह क एभोछ सुद को बुझ़ेगता है?
تو βینا کا آہاہ سنکہ تمہرہ مندی بھگوان کی مستی میں دول لگ جائے کہ بھجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں
کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں مندی بھگیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں
کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں کہ رجیوں மہدوری ہے
ہم کس کا ناملے رہے ہیں وہ انترات مپرگو جانتے ہیں ہم کس میں شانتو رہے گروج جانتے ہیں ہم کس میں آنندی تو رہے وہ آنند داتا جانتے ہیں میرا بہی پریمدیوانی گینگروباند میرا ناچی رہے مرکھلوک میرا کو پاگل ہلتے تھے میرا کبھی ہستی ہے کبھی کبھی دھیان دھیان میں ہستی ہے کبھی روٹی ہے کبھی چب چا بیٹھی رہتی تو کبھی پر بھوکے گنگان کرتی بھگوت میں آتا ہے واقع گدگدہ دروتے ریسے چتھم وانی گدگد ہو جائچت درویت ہو جاتا ہے
ہستی کچت رودتی بکشنم کبھی ہسی کبھی بکشن رودت اُد گائیانتی بھی نرتینتی چا مد بھاکتی یک تو بھونام پناتی بھگوان کہتے ہو دو میرے جو پریمی بھاگتے ہیں اُن کی وانی گدگد ہو جاتی کبھی ہستنے لگ جاتے کبھی بھایان کر رودن اوہر آتا ہے لیکن او دکھکہ نہیں ہوتا ہے دکھا ہاری ہری کی براکہ رودن ہوتا ہے کبھی نتی ہونے لگتا ہے تو کبھی سوان سور علاپ نے لکتے کبھی بھاو بھگی نہیں ہونے لکتے ہیں تو کبھی شرینے کم پنو نے لکتا ہے کبھی سرکت الگلک کریاں میں سدی میں لکتا ہے
تو کبھی نہ بھی کینڈرکی چوپی ہوئی آتمکشک کیا جاگرتودی اور جک کے لکتے کبھی رومان چوتا ہے تو کبھی مدور شانتی میں کھنا ہوتا ہے ادھا ایسا میرا دیو باکتے ہیں اوتری بھون کو پاوان کرنے والا ہوتا ہے بھو نم پناتی واگ گدگہ دا ہے بھاگت میں آتا ہے درایتی یاسشجتم رودتی بکشنم حاصتی کچت ادھ گائیانتی بھی لجن رتیانتی جا مد باکتی یکتا منام پناتی میری باکتی سے یکت ردے والا تری بھون کو پاوان کرنے والا ہوتا ہے
مدور شانتی میں مدور سمورتی میں بگوترس میں کھونے والے پر لاج ایسے ہی تھے ایک بار پر لاج جیسے انڈراکہ نندنمن ایسے ہی نہ کشبوگہ سندر سورمی راجیوان نیحار نے کو گئے کهی چھوٹے شروع کمل کے بھلکھنے تو کهی بڑے بڑے سوار شروع اور ان میں بطکے ویار کرنے کهی سوری مکھی کھلے تو کهی جمپاکی کهی گولاپ کے تو کهی مگرار موتیوں کی سواز اور بھمری مندارے پر لاج راج جو ادیان کی شوبا لکتے دیکھتے
اس پر میشور کی یاد میں بھاوی بھورا گیا بھوروں کو بھنگارنے کی ساتھa اور گولاپ کو مہکنے کی ساتھa موتیوں کو مہکنے کی ساتھa اور پکشوں کو کی لول کرنے کی ساتھa دینے والے حریقہ یہ کئی ساوائی بھو ہے ہی پر میشور ہی دیویشور پر آپ بیکت آنند بھی ہے اور انتراتمہ میں آویقت بھی ہے تو ساکار بھی ہے نیراکار بھی تو جادمے بھی ہے چی تنمی اس پرکات پر لاج کہی بیٹھ کر اپنے اس ویباوشہ کے ساکشی ویباو کے ادگمستان
اور ویباو کے درستان ادگسن بھی سوے، درستا بھی سوے منب وگیا بھی سوے Highway AUMUND tsunami سوے درستو بھی سوے جایسے سوپنے میں ب entrada بوجیا 插نیمانانown chaîne ghi smuthi me pralaj pavanchit to rath maa kayaadhu ne dhikha mitha akhelik humra hai aur kahi warta labkar raha hai maan naji kaha kar bethe mitha pralaj kishe baatikar raha maa me oos prahu ke vai bho ko nyaar raha ko kaya saa hel di na bhandu
baksio me ki lol karneech ki chetna ne tha fullo ko gni kharne ki aur sugand par sani aur hamaare radae me hamaare aakho ko dhikne ki saktadhe raha maa prutvi me bhi jo ko utpankarne ka saamar tha baarne ko usme samaya aur jal ne ushe ka saad saktadhe maa wasar aur yapak paap taap ko harne wale prabhu ka nam hari sabke radae me basra hai isle u se naraan ni kati aur sabke rum rum ne ushe ki chetna isle u se ram kati maa ushari ki us naraan ki us ram ki ki e kaisi ne lahi loka henge ki rajaodh jaanne raja kaodh jaanne leke nraja me bhi rajao ka raja ka parmatma nahi huta
to raja ki suhaskaise chaltima bita esanna ko tere pita sunege to na rajaun pita na rainbha guan kunei maan te hutaun ka virodh karte hai huta putra pita eska virodh karte hain huta putra ho ski bhakti neikar hai maa pita eski ki oivarodh kareinhe bolit to maare kaka ko bhagwanne maar deyana isle tavse ho naaraja hai to maare pita bhagwannisnu se bhagwanadi se vairkarte hai to to to me bhi beta bhagwanne ka naam nahi nahi chai bolit maa bhagwanne keumarinhe jeru hamaare kaka se kui apraadho gao gao toon ka ye syarir chhinkar dhusre syarir mein ko jeanne ma dheinhe
aur jeewatma to bhagwanne ka sanatan saka hai kai syarir paita huta jai se sagar keumarega tarangoku piri bhi tarang paita huta ke sagar milin huta piri sagar se paita huta maa marna aur jeena sabaisei khe lai bhagwanne naarain maarte hai aesha sa majke vairkarte to ye maa aesha hoa ki sagar se dhusre tarangu vairkarte nai lagjai ke sagar nai hamaare dhusre tarangoku maa daala to khod bhi to asi milin huta aapher usi seodpanohi aesha vairkarte nai ki ki aajurathe beta tiri baathe to badi yaan yuta hai lekin huta hai lekin nahi to haha hoan
aandhaar hain مانندھا رہے, شنتی آ رہے ہیں, مادھرے میں مستے ہیں, اب میں جد کروں گی تو بہلک ماتی ہے جو منا کریں گے تو جادہ کرے گا, اسی لے بہلک کو دوسری باتوں میں لے گا نہ چے ہیں بیٹھا پہل آج, چھولو یہ چھولو یہ باتے دیرے پیتاکی اور نہ رہے ہیں کی جو بیرودیو یہ سب چھولو بیٹھا کلے ور کرلو, ناستا کرلو چلے اب بگی چاگوم لیا نہ بیٹھا, چلو اب ناستا کرلو مان, ناستا تو شریر کو کرنا ہوتا ہے اور شریر کی بھوک اور پیاس اور بھوک پیاس میں تی پھر بھوک پیاس لیکن ابھی تو یہ شریر کی بھوک پیاس کا تو ناستار بھو جن اور پانی ہوتا رہے تھا لیکن جیواتما کی بھوک ہے اس کو سچھا سک ملے اسے سچھا گیان ملے سچھا آنان ملے اور سدا کے لئے نردک ہو جائے
تمہ شریر کی بھوک پیاس کی ابھی چنتہ نہیں ہے میں اپنی پیاس بجارا ہوں حری کا وائی بھو دیکھ رہوں حری کے بکشوں کا کی لول سن رہوں اور حری کے سدتا سے چلتی وائیو سپرش کرتی ہی مند سگندیت ہوا کہ جون کے دیکھ ما ما دیکھ مگور مورنی ما ہوتے ایک تو تک ایسے کی لول کر رہے ما ہم وہ بول بول کا کی لول دیکھ لیکن ما ان کی آکروتی علاگہ لگا ہے نام دی علاگہ لگا لیکن سمکے ردے میں وہی میرا پر میں شر کہ سائے وہی ما ترے ردے میں میرا ردے میں نارا نارا بیٹا پہل آج لوگ تو جے پاگل بولے گے ما ہا لوگ کچھ بھی بولے لوگ اپنی متیگاتی سے دیتے لیکن دل بر پر مات بات بات بات بات بات بات بات بات بات بات بات بات بات کسی کسی کسی کی ناسی میں ہوتا ہے ما بیٹا ترے بیٹا جی دیکھ لیں
تو میرے کو ترے کو بہت دند دیں گے بیٹا بھی نامت لیں بلے ما ہاتھوں جنطانا کر میں پیٹا جی کو سمجھا دنگے بلے تو کیا سمجھے گا ہوتا ہے ترے کو بھی مہرے گے بھی ما سچا پیٹا تو بھی پر مات مائے جو جیو کو آنادی کال سے رکشت کرتا ہے شریع کے پیٹا تو ملتے ہیں پھر پیٹا چھور کے چاہلے جاتے ہیں پھر وہ بیٹے بھی چاہے مر جاتے بیٹے بھی باپوتے رو بھی اپنے بیٹروں کو چھوڑ جاتے کبھی بیٹے باپ کو چھوڑ جاتے لیکن بیٹوں کا رو باپوں کا جو انتراطمہ پیدا ہے وہی ہی سب کے ساتھ سدا ہے تینیمہ بیٹا پہلاج تری بہتے میرے کو سمجھ میں نہیں ہاتے اِتنا دیویگان سکشمگان تو کہاں سے آیا لیکن پھر لاجتے رہے کو دیکھنے سے دیکھتے بالگ بھی خوشوتے
دیکھتے پتنیا بھی خوشوتے دیکھتے بھی خوشوتے سبھی لو خوشوتے اُمے نے تو یہ سنائیں کہ دیوطالوگ بھی ویش بادل کر پر لائت تمہرے درشن کر جاتے مہا باگوان آنند سروپ ہے چایتنیا سروپ ہے سوکھ سروپ ہے سب کا سوحرد ہے سب کا میتر ہے اور جو اس پرکاروس کا چنطن کرتے تو ان کا ردے پاوان ہوتا ہے ان کی بضدی پاوان ہوتے اُن کے ربت کے کن پاوان ہوتے اُن کی درستی بھی پاگوان کے چنطن سے پاوان ہوتا ہے اس لدو سے لو خوشوتے درشن کرے تو بہگوان کی مہمائمة اس میں میرا کیا ہے بیٹا تو نیرابیمان ہے اس کا تو لئے آنند لیکن ابھی باگوان کی بات منط کر مہی چوری کا مال نہیں کی نہیں کرے کوئی لوٹ جائے گھا اور جو بھی لوت جائے گا وہ بھی نہیں حال ہو جائے گا اور اپنا کوئی گاتا نہیں پڑے گا معا
تم بھی کر ہوں نہ رہے نہ نہ رہے ہوں یہ تھا وہ بھی نہیں بیٹا بھی چل ہوں ناستا کر دیکھوں پہلاچ کی مہ پہلاچ کو ناستا کے لئے یا دلاتی لیکن پہلاچ جیب کا گلام نہیں تھا پہلاچ تو رہ دائشفر کے عمرت سے طرف تھا تھا ناستا کا پر لو بندے کر مہ پہلاچ کی بگوطرس چین ناستا کی بگوط چنتن سے ہٹاناستا کی کیسی ہے پہلاچ کی سوج بوچ کیسا ہے پہلاچ کا پر بوپریم کیسا ہے پہلاچ کا پر بوگیاگت اور کیسا ہے پہلاچ کا پر بوڑیاگت بڑی بڑی آکھے سندر سوحانہ کا پول سوحانی اُنگلیا اور چتا بڑے آکھا شک وہی بھو کے دنی تھے کیوں نہ ہوگا کیوں کے ساری ویشبہ کو وہی بھو دینے والے بھگوان کے جو بھگتتھے رے
گھر میں بھگوان کے جو سمورتی تھے پہلاچ کو اس لئے پہلاچ بڑے پر بھاو کے سوکھ کے جان کے دنی ہو گئے جو ایک آدشی کو پولنی ماکو ابہ واسیا کو پہلاچ شریتر سنتے سناتے کہتے کہلاتے ان کے پہاپ ایسے نشتو جاتے جیسے سوریو دے ہونے سے انڈکار نشتو جاتے آپ انے بھگوترس ایسے ملتا ہے جیسے ساوان کے مہنے میں میگ راجا کی بوندے سہج ملتی ہے ایسے ان کے ردے میں بھگوت بھگت بھگوت آنند بھگوت مادھوری لیرانے لکتا ہے
بھگوت بھگوت بھگوت
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya