Skip to content
TrackPodcasts
religionFeb 13, 2026

Feb 13,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

About this episode

Feb 13,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Hosts & guests

Transcript ready

567 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Feb 13,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaFeb 13,2026 Friday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

ستسن کا مجھالے نہ آنند لے نہ یہ سامانی شروعات والے سادھا کے لکشہ ہے لیکن ستسن کے تدتوں میں تک نہ یہ اوچی سمجھ کے دنی کے انتہ کڑ میں ہوتا ہے ستسن میں آنندہ گیا چیواتے لیکن آنندہ سادھا نہیں رہتا دوکھ بھی سادھا نہیں رہتا سوکھ بھی سادھا نہیں رہتا بڑی بڑی اونچی سادھنا والے سادھا کوں کو یہاں بھرامگوس چاہتا ہے کہ ام ستسن میں ہوتے تو بہت اونچی ستی ہوتی ہے پھر سنسہر میں جاتے تو ہماری ستیتی دامہ دولو جاتی دہن سمجھ دی لگاتے تو اچی ستیتی ہوتی اور دہن سمجھ نہیں لگی تو بستیتی ہماری

دامہ دول ہو جاتی ہے تو ستیتی ہوتی ہے اور پھر بڑھلتے لیکن اچتت جو کا تیو ہے یہ اُدھر نجر بھیانا چاہی ہے ستیتی چوت تو جاتی لیکن اچتت جو ہے نے وہ چتنے ہوتا انتا کر میں راجسیورتی آئی دامسی آئی ستیکائی تو براہ اچھا لگا اننایا راجسی آئی تو پرورتی پھر جرہ کو سنگہ ملا تو تامسی ہوئی کو سنگ سے تو بچنا چاہی ہے پککیوات ہے اتی پرورتی شوارت پونہ یہ بھی گیراتی پککیوات ہے ریکن سدہ ستیتی رہ گئے یہ آگر کرنے سے سدہ کی پر یاد بنی رہتے

یہ انتا کر کی وستہ بنلتے ہیں ستیکتا آئی راجستا آئی تامستا آئی لیکن ایک ایسا تدتو ہے جو ایک کراس ہے اچھتا آپ اسی کے سناتہ ننشے اسی میں جاکچا ہے اسی میں ساوضان ہے ہوں ہوں اچھتا ہے تو کتنیمی گیری وستیتی جادہ دیر گیر نہیں رہے گی ہوں پیسے بیستیتی میں اتار چڑا ہوں میں بیک شیب نہیں ہوگا سادہوں کے جیوان میں کئی ایسے اچھ پرکار کے انوبہ بھی ہوتے ہیں اور پھر بھی پھریات تو بنی رہتے ہیں

کیوں کہ اچھتا میں ایستی دیرہی ہوئی تبتک کچھ نہ کچھ آپ آدہ پی ہوتی رہتے ملے سدسنگ میں ہمارہ مننی لکتا اگر سدسنگ میں مننی لکتا ہوتا تو دوارہ سدسنگ میں ملے سدfast میں ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ستسن کا ماتھا سووں میں تک جائیں تو پھر نہیں جائے گا.

سلی ستسن کو آدر سے سو نے. اور سو نے وہ ستسن کو بار بار بھی چار کریں. اور وہ ستسن کی باتوں کو سو میں لیا ہے. ستسن کی کو بھی کبھی ایسیوں کی بات آتی ہے کہ بار آسال تب کرنے سے بھی. وہاں آدمی نہیں جا سکتا جو بارہ مناٹوں میں ستسن کی طارہ پونچ چاہتے ہیں. اسلے کبھی ایسی نے کہا ستسن کا کی آدی گا دی. سمران ورش پچاس ورشا ورشے ایک گا دی ارت پھرے باروں گا. کبھی ایسی نے کہا سمران سے سکو ہوتا ہے سمران سے دکھ جا ہے. اور یہ بھی کہاں سمران ایسا کی جی کریں نشانے چوت. من اشور میں لین ہو حلن جیوہوت.

تو شروع شروع میں جیوہوت حلاتے ہیں. حرس و جاب کرتے پاپ ناشنی ہو جا بنتی. پھر در گو چارن کرتے تو کارے سافہلی ہو جا بنتی. اور اس کے بعد پلو تو چارن کرتے ہیں. تو حلن جیوہوت کے ستی بنتی. لیکن وہ ستی تھی بنتی ہے. پھر ستی تھی ہے نو بنی. اب یہاں کاظ سجگتا جائے. ستی تھی بنی. لیکن ستی تطور ستی تھی بنتی والا انتا کن میں بھی دیاں پتا جگتا ہے. یہاں کہتے گروک رپا ای کے علم. ششش شش پر مامگلام.

تلسی داشنے کہا. تنسوکا ہے پینجر کی ہو. درے رہن دیندہان. تلسی میٹے نوازنہ بھی نہ بھی جارے گیاں. سمر ترام داشنے دہس مد ملکہ. کیاگر موکس چاہیوں. اونچی دہتنی کن نتی چاہیے. تو ادویت گیان کا آسرے لینا چاہیے. ادویت منا انے کنگ دکتے ہوئے بھی. ایک تتوں میں جکنا چاہیے. جیسے آقنے انےک دیکھا. لیکن گیان سوروب دیوتا ہے ایک ہے. شاہترنگ دیکھے دنیا کی انگ چیز دیکھی لیکن گیان ستتتتتتتتتتتتتتوروب سے پر میشور حتم دیوتا ہے.

جیب نے انگ رسچکے لیکن گیان ویکا ہوئی. اور دijkھنے میں آئا جس نے ستتتتتی بھی چکھنے می دکتا ہے ویس سنڈ cherish جی لیکن گیان ایک. ایسے من کے سوج ویچار اینک۔ اللیکنوں choosingwellто کے بات گیان سوروب دیکھنے پر میشور حام کی ہے. புத்திக்கென்னிரனே, அணிக்க, நிரினே, பதل்கே, پிர்விஷான், நிவாலாமிராப் பருமே, சர்துவே, காய், கவாலுவிட்டா. ஏோதி, தேக்காட வாலா, ஏோதி, உக்காட, புலாவி, ہுமாருனே, தாரமாடுபாட. ஏ சரிரமே, ہும் سنிக்காய் ஓ司் பிர்விpir்பாட'

சந்தார்கய் வ tehd் சபன்பேர், ஏ ர Elite Amitur Pacji, துஐெசர் சந்தார்க்' ஓ司் பிர்வில்லை. அலவே துஜா பிர்வு பிர்வில்லை. ஆனால் பிர்வில்லை. ஏமா, ர காய், ரா காய்第二 பார்வில்லை. ஏயோதி, ரைந்தின் ஆமாடு தேக்காட Jag் கொள். اگر سریر کو میں مانتے ہیں تو یہ سریر کو دو ساتھ سال میں پورے کے پورے کنمدل لاتے ہدیابی بلل لاتی تو یہ میں کیسے ہوا کوئی جانیے سدنے کر سکتا کہ آپ جو یہ شریع جو ہے آپی ہے اور کوئی درشن شاستر بھی سدنے کر سکتا کہ یہ جو دیکھنے والا شریع رہا ہے آپ جان سرو اچتھ کے سنہتن سپوت ہے تو مددی کے نرنے بدل گئے اس کو جان نرنےوں کی سمجھ دینے والا گیان سرو اپنا رات مدے ہوئی ہے

ہاں ٹکنا ہے شریع کی آوستائے بدل گئے اس کو جان نے والا گیان دیوتا پر میشور جو ستھ ہے وہ چتھ ہے وہ آنندسورو پہ یان سورو پہ اور سبی کا انتر آدمہ کر ویٹھا تو دو وقوان کو پریٹی بروگ بچتے ہیں ان کی بود دی میں بہگوانی یہ جوگ دیتے جان یوگ داقت کی باقتی سپالوی باقتی یوگ کرمی کا کرم سپالوہ کرمی یوگ کرمیوگی چاہے دیکھے گا کہ کرم پر کرتی میں ہو رہے شریع پر کرتی کا سنسار پر کرتی کا پر کرتی کا کرتی کا نرنوطان اوطاننے کے لئے پر کرتی کے سیاکے

میں پر کرتی سے پارے پر مادمہ میں یہ کرمیوگ کا پر بھگتی ہوگی کہگا کہ ساب بغبت گیان سوروب چیتنگی کا ہی بلاسے سیا ہرام میں سبجگ جانی کری پر نامجور جوگ بانی ایک اتوا گیا ارگان یوگ میں کیورتیہ انیک روپنے کرراگنے کچھ انتا کرنکی دشائے لیکن پر کاشاک ست سروب منتو جو تی سروب اپنا مول بچان جہی باکتی اوگ سے جاؤں یعن یوگ سے جاؤں کرم یوگ سے جاؤں لیکن ہاوجی وہاں ہی اس ست سروب میں چیتن سروب میں آنندس کچھ استیتی بنہی رکھنے کی کوشیش نفس کرتے ہیں

تو اور گڑ بڑی ہوتی ہے تو جیسا ہوئی ایسا ہونے دے شاسترم ریادہ کی انو سارتوں لگامتوں لگانا ہے گلت راستے کو لیکن لگام لگانے کیوں چلکود کریں گے اس کو مہتو نہ دو مرے بچار آئے تو سے بھڑوںمت اتھون سے جونوںمت اچھے بچار اور اچھستی تیئے تو بھی اس کے عدشتان کا گیان سمرتی و اچھستی تک کو لما کرے گی حرستی تک بضلی تو بھی پر امستی تکے پر بھاو سے اوستی تکے بھی پر وانے گی لیسے ہمیں کانت میں رہتے دیان مجن کرتے دا گوبہ میں رہتے تھے

اُس سمے کیستی تیئے بھی لینے دینے میں ہوں داٹرونی ہوں لیکن کوئی فرقنی پر تھا اس کا بیاس ستسن کا بیاس آدر پوروک شادن کا بیاس آدر و سیشٹری جی مہراج کہتیں گے رانجی ایک تنکھا میٹانا ہوتا ہے تبی بھی پر ایک مکنہ پتا ہے تو کئی جنموں کے جیوبہوں کے سنس کا انتقن سے جوڑنے کے سنس کا لگے جگت کی ستتتہ ایتری لوگ کی میٹانی در لوگی یہ ستتتہ میٹانی ستے ہو سے کہتے جو تینوں قال میں ایک جیسا رہے اصدر اس کو بولتے جو تینوں قال میں نہ تو یہ جگتنوں آسا پینوں ستے ہو کہ بدال بدال کے مائا کرکھیل ابدال پر ماتما کی قبر دینے والا ہے

لیکن جو بدال نے والے جگت کو ستچا مان کرو اس میں سوکیوں نے کے لئے اپنے کو پھکتا ہے اس کی دیسا ایسی ہو جاتی ہے جیسے پتنگی رات کی گاریہ چلتی ہے اہیوے پر رکھیں بسیں گارے تو جالا دیکھ کرو پتنگی کتھ کلیوں میں سے بھاکتے ہوئے آتے ہیں مجھالے نہیں کے لئے اور مجھا مجھا میں چھت پتاتے رہتے تو رہا مجھا ملا گی رہے پھر ٹھیک ہوئے پھر مجھالیا گی رہے پھر میں ایسے کرتے کرتے کرتے آکھر سبا ہوتے ہوتے مر جاتے اور کوئی بچاتے بھی ہو شیالتے میں پھر قاوی اور بھکسی سوبے چکلے تھے آئیسے ہی جو شانی کے سوک کے پیچھے پڑھتے ہیں آکھو کے دوارہ پیکچر دیکھیں مجھا ہو گیا کان کے دوارہ سگن لیم مجھا ہو گیا جیب کے دوارہ چھگن جن کھیا مجھا ہو گیا

کان کے دوارہ وائی سنی مجھا ہو گیا پتی پتنگہ سمکان بکا کا سمبو کی مجھا ہو گیا تو مجھا آگیا آگیا آگیا آگیا آگیا اس میں کشین ہو گیا مجھا جا سے ترنگی تو آ اس مول میں پہنچنے کے لئے کہ ہے تو سنیم سے دیکھیں تو جاروری سونے تو ہلتوں میں آنکار بڑھانے والیوہ ہوای کیا سونے اور اس کو سچا کیا مجھا اس میں ساہدھا جو ہل کے سوکھ میکشنگ سوکھ میں لگ جاتے وہ پرم سک سے منچنے کے لئے تو دیکھ ساہلے نے سے بیمار کو بھی پہدا ہوتا ہے تو بھی دیارتے ہو بھی پہدا ہوتا ہے بگت کو بھی پہدا ہوتا ہے تو آباکتا ہے اور سنشار کی کورسی پورسی چاہیتوں کو بھی پہدا ہوتا ہے

اس سے ان پہدوں سے بھی ایک پرم پہدا ہے اس کو بولتے ماکش کسی پر ایستیٹ کا پر بھاو جس پر نہیں پریں اس اپنے آت مسو بھاو کو جاننا جیسے شیو جنے جان لیا میرے پر عوولی لہسا باپو جنے جان لیا ان کی قرب آسے پرساد سے ہم کو بھی تھوڑا ہے ھاں کرہ سائج سروپ سمھا رہا ہلاگی سمانی اکند اپا رہا پہتوں چیستی تھی اس کو بلتے برحمیستی تھی برحمیستی تھی پر حبت کر کاری رہی نہ سیش موحق بھی نہ ٹگسکے ایچھا نہیں لہولیش بھائی جرہ پیکچر دیکھے مجالوں یہ چھانی ہوگے جرہ سوگ کے مجالوں جرہ کھا کے مجالوں جرہ کر کے مجالوں

میں اُس کی ایسی اُتتم مجاز سے اُترپت رہتا ہے کی باہر کی کئی مجھائے کچھ کی اُس کے چرنوں میں آجاتی ہے اور دیا کرپا کر کے تھوڑہ لے بھی لیا کسی کا پراراب دویک سے اپنایا لکوں کا پریچھا پراراب دے ایک ان اُس مجاؤ میں اُس کی ستبت دی نہیں رہتے ارجن کو ایسے اُن چے گرورون چا گیاں کا دھن نہیں ملا ہے وہ ان مجاؤ میں ستبت دی کرتے اتو کچھ استیتی میں ستبت دی کرتے بود دی میں اجن پڑھا ہے وہی مدتا ہے جگت نہیں مدتا سبند نہیں بار کے مدتے تھا سری نہیں مد جاتا کہ والبود دی میں جو محو پڑا ہے محو نیشا سبسو و نحا را دیکھیں سوپنے آنی کا براکار تو سادن کرنے کے بعد بھی من بود دی کا آسرے بنا رہتا ہے

ایک ایسے وستاتی ہے کہ من بود دی کا آسرے چھور کر من بود دی کو جہا سے ستتا ستور دی اور آسرے ملتا ہے کس میں اپنا سواتوں کو جان جاتا ہے مورواجی میں جب بو جان میں بیٹھ دی ہوں تو کبھی کبھی لکتا ہے کہ میرا شرر اپر اٹھ رہا ہے اور چھوٹا ہو گیا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ایسا کیوں نہ ہو ایس آدن میں انیمان گریمان لگیمان آدی صدیو کے انش بی بھی جو پہے روب پرتیار سے دو تا ہے تو کئی دیو دیو تاوں کے درشنوں تھے گند پرتیار سے دو تا ہے تو کئی سوگنیا ہوتی اور ایسا کیوں گی کے شوچ سے بھی ایسی سوگن آتی کے

او دیکھت کے ایسے کا سطوری کن دالبہ سے مرگا دون دیمان مائی تو یہ سب ہنمان جی چھوٹے ہو جاتے تھے تو یہ آنشک روب میں وہی بیج تک تو اپنے اندر بھی پڑا ہے تو کبھی کبھی دیکھیں امرچ چھوٹے ہو گئے بہت بڑے ہو گئیت واکھاش میں ہوت رہے تو اس میں کوئی اپتی نہیں ہے اتواؤڑ نے کہاگر بھی نہیں کرنا ہے اپنے کو تو تک تو میں چلا جانا ہے جا ہنمان جی اتنی صدیافانے کے بعد بھی جانمان جی گئے اپنسی داوں ہی کا نشانہ رکھتے وہ چھوٹی جوٹی گلیارے یہ وہ چھوٹے مٹا ہے وہ گھومگوم کے جائے سے سی دا پکٹھتے ہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے ہوتا ہے یہ اپنے بھی جی رکھ میں سنسکار پڑے ہو جاگر تو تیشی ہوتا ہے پو جا کرنے کے بعد جب میں اٹتیوں تو مجھے

سوجتا نہیں ہے کی میا کیا کر رہے ہیں تو جب چت سے پارد اشا میں انجام نے میں چھلے جاتے جیاری نین میں کچھ نہیں سوجتا ہے ایسے دیان کی کوئی سنسان طوستا ہے تو انتا کر کو نہیں سوجتا ہے لیکن ناسوجنے کا بھی تم کو سوجتا ہے کچھ نہیں سوجتا ہے اس کو جو جانتا ہے وہی تم کو وہاں اگر بشرانتے ہو لائے کچھ نہیں سوجتا ہے تو چنتانا کرو کچھ نہیں سوجنے میں پھڑ رو سوجنے انتا کرنے اندریوں کا کلے سوجنے کا آہادہار جو ہے اس میں کا کار ہو گے راتری کو سب نین داتی تو کچھ نہیں سمجھ میں آتا ہے

تو درنے کی جو روط نہیں شرید بوستو تا ہے ایسے جاغرت میں کچھ سمجھ میں اور سوجنے نہیں ہے تو درنے کی جو روط نہیں ہے وہ سے سوکیستیتی پوشٹوتی الامتما میں ستیتی پوشٹوتی تو بہت انچی باہتے ساہدن بجن کرتے ہیں تو جنمجن مانتر کے انتا کرنے جو سنسکار ہے ان کی پرٹے ہٹی تو جو موال پڑا ہے اوچھل کٹ کرتے ہیں تو ہم آگر قتے کہ نہیں ہونا چاہیے, تو ویکشے پوٹھا ہے. اگر پسہر ہو جہیں, ویکشے پوٹھا ہے تو ہوں نے دو جو ہوتا ہے ہوں نے دو. اتھو ویکشے پنا ہو, اور ماتما کو پرافنا کر کے پریاں دیاں کریں. تو نیچے کے کندروں کے جو سنسکاریں چھون ہو, آپ نے کوئے ہم پوچھا ہے.

تو ہی بچھے ہیں. دوسرایسہ ویکشے پوٹھا ہے, کہ جو سادن کرتے ہیں اور خودلگا کے کرتے ہیں. تو آپ کے شریع کے جو انگہنے, بے بیشش مجبوت اور نیروگ اور کاریشمتان کی بڑیاتی ہے. کاریشمتہ بڑیاتی ہے تو جو بھگت ہے, کام سے بچے ہے. ایسی لوکوں کو اندر میں بھی کام بھی کار ہوتتن ہو جا ہے. تو ایسا کیوں ہوتا ہے, کبھی جی بھی ہوں نے کلتے ہیں. یہوں کیوں ہوتا ہے, کبھی گول گول گنتی یہ صفرے ہوںتا ہے. کبھی ہاستے ہوتا ہے. تو ہمارے سنسار کا سار سری رہے ہیں. شریع کا سار اندریا ہے. اندروں کا سار منے. من کا سار بھگ دی ہے.

بھگ دی کا سار جو اتما ہے. جو اتما کا سار ہو چی داوالی ہے. اس میں سنسکار بھڑے تھے. تو جاگر تو تھی تو گیانے شریع گی تاکے چکتے ہیں, دائے کے دست میں شروع میں. اس دہانیو کی مہما ہے, جو اپن کرتے ہیں سے کاتے. اسی یوگی پہلے چھوٹر موتے راستوں سے چلتے ہیں, جا بھی راجمارگ ملتے ہیں تو یوگی پھر اگی پہلے تو اس کو بہیں بھیت کر دیتے ہوتے, چتشکتی جاگراتی ہے. میک شیب کر دیتے ہیں. ویلک سنتاک کو چھوٹے ہیں. اور اس کے شریع کا مجھا میتھر کو چات جاتی ہے. روگوں کے ساتھ شریع کے مجھا اور چھر بھی کو بھی چاٹ جاتی ہے. پہر اس کے شریع میں ایسے سے یہ ہوتا ہے. یہ آوستا ہے, ہاکے چلی جائے گی.

تو راجسی آوستا, ساتھ بھی کوستا, تامسی آوستا ہے, انتا کنر شریع کے ساتھ تکرتی کے ساتھ لگی رہتے. ان اس میں سندر اپاہ جو میرے کو اسمیں نہیں ملا تھا, آپ کے لئے ملا ہے بھی. تو میرے کو جو ویک شیب کا سامنہ کرنا پڑھایا مقطن انسامی کو ابھی آپ کو نہیں کرنا پڑھے گا. کیوں کہ آپ این آوستانوں سے, اپنا شبند ویچشد مانلوں. حیشے وستا رہے, نا رہے, لیکن پھر بھی جو رہتا ہے, اُس کے طرف سجان گو جا. تو نام مستیتی پر آپ تکر کاری رہے, نا شے. میرے دھان لگا رہے, مجھا شروعات دو, میرے ایسستیتی بانی رہے. نہیں, نہیں, اس سے بھی آگے گا. ایسستیتی بانی رہے, ایسا ہو جائے,

ایسا نہ ہو, ایچھو رہے. جو ہو کے بدلتا ہے, اُس کو مہتو ندو اور جو کبھی نہیں بدلتا, اُس کو چھو رہے. تو بہت ساری سادناؤ کی گلیارے اور سڑ کے کی آترا کے بینائی آپ اُدھان بھر کے اُدھر تطور پوچے. جیسے مانکوں, گے اُلانا, آتاپیسنا, یہ کنانا, رسول بنا نار, بیٹے کو تیار, وہ جنکھانا. ایسے آپ کو تتیار مالدتا ہے. ام نے جو پاپ پڑوے لے, ہمارے گروجی نے جو پاپ پڑوے لے, اُس ساری مینت کا بھائدہ آپ لوگ کو کے لئے تیار مالد. میکشے پرہید سرکشت راستے سے مابکو لے جنگے. پہلے قد اپتی ابھی کام ہو گئی, تو سنسار کی ستبود دیاولوں, کے سمپرک میں کھانپان میں, دس پرکار کی,

بہی وسطوں کا عصر پڑھتا ہے, بھلایا بھرہ. استان کا بوستب کا جو سہیتے پڑھتے ہیں, جو سوں کا سنگ کرتے ہیں. اس پرکار, ترب بڑھانے والے واتا اور کیوں کیوں کرنے سے ترب بڑھتے ہیں. اور ترب جن کو نہیں ہے, ایسے لوگوں سے ہاتھ ملانا, ایسے لوگوں گئے, ہم نے ہاملانا, ایسے لوگوں گئے, ساتھ اٹھنا بیٹنا کھنا. تو پھر وہ بھاہان کی بکتی کارہ صورت ترب دوبرے لگتے ہیں. تو جن کو ترب نہیں اور جگت کی ستے تھا میں گو سے ایسے باتان میں تو پورانے سنسکار ہے. بیے کھانا مولتے تھے. کہ بول کر بھی ان راستے مجھانا, ابھی تمہا رہ گھاو کی روچ نہیں آئی اور روانا, کو جلا ہو گئے تو پھر گھاو, پھنہ ہوتے گا. ایسے, جن کو ترف نہیں ہے اور جن کو ایشفر سے لنا دینہ نہیں,

ایسے لوگوں کے باتان سے سادھا کپنے کو بچاتا رہے. یو دیشتر محراج کو نارجنے کاما آورت میں. کہ ورش میں کچھ میں نے گرکت باگوان کی رنگ میراگنے ہوئے ستھ پرشوں کا سنگ کرتے رہنا چاہے. جیو ماترا جو کرم کرتا ہے. اُس کا پھلوں سے بوگنا پڑتا ہے کسی منوشہ, دنجیوان برپاپ کرم کیا لیکن مرتے سمئے. ہری کا نام لییا اور ویشنوں کے دان میں چلا گیا تو اس کے پاپ کا پھل کون اور کئی سے بھو پے گا. جیو ان برپاپ کیا تو انت سمئے باگوان کا نام

لی نہیں پائے گا. اُر جیو ان برپاپ کیا ہے اب پاپ کرتے سمئے بھی اندریک βیویک ہوتا ہے. بھرش بھرے آدمیک ہوتا ہے. یا چھا نہیں, یا چھا نہیں ہوتا ہے. اور چھا بنے کی جو اس کی بماغ ہے وہ کبھی گہری ہوگر مرتے سمئے باگوان کا نام لییا. تو نام جپت سندو سکھا ہے. اگر میرا نام اور میری شرن لینے والے کو بھی میں مدد نہیں کروں تو میری باپتی اور میرا نام کون لے گا. اس لی دوسری آدمی یا نہیں سوتنا کیا پنجیو ان برپاپ کرے اور مرتے سمئے باگوان کا نام لیگے. ایسا دوکھے میں نے پڑنا اب کسی نے کیا ہے جیو ان برپاپ اور مرتے سمئے باگوان کا نام لیا رباگوان کے دام میں پہنچ گیا ہے. تو جیو ان برپاپہ

اور چھی پوروک میں کیا ہے. اور مرتے سمئے اس نے مگوان کا نام ارت باہبس لیا ہے جیو سے باگوت میں قطاعتی اجامیل برامت تو جو جیس باہو کو رکھ کر کر مکر تائدیر سبے رو گیا نسرو پیشورو پر اشتیدی نا دیتے ہیں. تو کوئی جیو ان برپاپ کیا اور پھر نارہن جبتے ہوئے موقس ہو گیا ہے اور سدگتی پر آپ دوگی کہ اس کے پاپوں کا گیا ہو گیا اس چنتانی تم نہ پرو اور پاپ کرتے سمئے اس کی تنی روچی نہیں ہے ہم کو دیکھتا ہے لیکن اس کا فر کوئی پرارت ده لینا دینا ہے یہ وہ ہے. مائع جال کہی سے توڑے مائع کا کوئی جال ہی نہیں. اور بگتنا پتیسی یس سے سامایا

مائع جو ہوں نہیں اور دیکھی اور پھساڑیس کو بلتے مائع. تو جو ہوں نہیں اور دیکھی اور پھساڑے ہو کے بدلے اس کو بلتے مائع. دیی پر بھو یہ نا آت تماری مائع سے میری رکشا کریں. یہ ری یہ برپوچے. کرسنا نے کہا میری مائع دوستہ رہے لیکن جو میری شرن آتا ہے. وہ اس مائع سے تریاتا ہے. بگوان کی سمرتی ماربار یہ برپوچے یہ نا رہا ہے. یہ اچھتے ہیں یہ شو. بگوان کا نام کا شرے ستسن کا شرے. مائع جل توڑوں نے مائع جل میری لے میری لیتو بگوانی ہے. بگوان کی سمرتی بگوان کی حسطی اور بگوان کا تک بہی چتے ہیں. یہ تو ہوں کے بدلے والا ہے.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →