Feb 10,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Hosts & guests
Transcript ready
648 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 10,2026 Tuesday : Morning : Sandhya Satsang - Morning. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
வیدانت درشن کا بیچار ساگر نام کا ایک بہت سندھر کسک ہے اس کو اچھی طرح سے جو لوگ ساکشات کرنا چاہتے وہ اچھی طرح سے کر سمجھ لیتے ہیں تو نے بیدانت کی باشہ یا بیدانت کا تطوگیان جلدی پچھ جاتا ہے بیچار ساگر گزت کو اس میں لکھا ہے جو سکھنیتیا پرکاشا بیبھو جو سکھنیتیا ہے پرکاش سروپ ہے بیبھو مانا بیابق ہے نام روپ آدھار مطینہ لکھے جو مطی لکھے سو میں شدھاپا نام اور روپ جس کے آدار سے ٹکتے ہیں مطینہی دیکھ سکتی لیکن جو مطی کو دیکھتا ہے تو بیڈا پار ہو گیا تو سنکا دی ریشیوں نے برمھا جی کو پرشن پوچھا
اور ہنسا ہوتار میں بھگوان نے آکھر برمو بیدیا کا اپت دیش دیا اُس سے ہن سے گیتا کا پر آگت کے ہو تو آج کا ایش لوگ کہتا ہے جیسے سوپنم بودی دوارا کلپیت ہونے سے واستویک نہیں ہے میٹھیا ہے ویسے شوک موح سوکھ دوکھتا سنسار بھی میا سے بودی دوارا کلپیت ہونے سے واستویک نہیں ہے میٹھیا ہے شوکہ موحو سوکھ دوکھم دے ہا پتیشچھا میایا سوپنو یتاہت مانا ہو چاہتی سنسرتی نا تو واستو واستویک یہ واستویک نہیں ہے سنسار مثیا ہے تو دے بھی مثیا ہے اور تمہاری بودی بھی میا سے سپوری ہے تو بودی میں جو شوکہ دا ہے دوکھا دا ہے چنتا ہے تو چنتا کو
دوکھو شوکھ کو اپنے میں جو لوگہ دیتے وہ دوکھی ہو گا دیتے جائے چنتا کو شوکھ کو پرے سانی کو جو لوگ اپنے میں مان لیتے وہ پرے سان دیتے لیکن جب چنتا ہے شوکھ آیا ہر شاہی تو سمجھ لینا چاہی کہ آنے جانے والی چیز ہے لائیف میں ویدانت تو ہنا چاہی لیکن ویدانت کو سکار کرنے کے لئے تیاری بھی تو ہونی چاہی ہے دنیا کے سب لوگ میٹر ہو جائیں لیکن جب تک تمہارا بیچار ویدانتی نہیں ہوا تک تمہارے دوکھ دور نہیں ہو گے سب جیرام جیک اور دنیا کے سب لوگ شتر ہو جائیں تو ہر آویدانت نشتاپ میں منتک ہے تو آپ کو سب لوگ ملکہ بھی دوکھی نہیں کر سکتے کوئی شو لی چڑا سکتے ہیں تھپڑ مار سکتے ہیں دو اپشاب دکائے سکتے ہیں لیکن جب ویدانت کے ویچار سے آپ اپنے آپ میں آ گئے تو سب دو بھی آپ کے سرید تک پونچیں گے آپ کے من تک پونچیں گے
آپ کے بودی تک پونچیں گے آپ تک تو سنسار کا کوئی دوکھ پونچی نہیں سکتے اس سمجھ تم اتنے پویتر ہو کسنسار کا کوئی دوکھ پونچ نہیں سکتے ہیں یہ سنجو بم بنے نے ایک بم نہیں ایک کروڑ بم اربو بم ابھی جو بنے ہوئے اسے ہزار کو نے اور بھی بنجا ہے پھر بھی تمہارے واسطابیق سواروب کا تو یہ بمو کے باب کچھ نہیں بھی گار سکتے تم ایسی چی جو لیکن جب تم دے ہی کو میں مانا تو یہ بم نہیں گئتے تبھی بھی چاروں کا کسی کا چھٹا سب بم بھی تمہارے چتے ہیں بھی تمہارے چتے میں بڑاکے پیدا کر دے گا ایسا دکھ نرک میں بھی نہیں ہے جتسا دکھ اگگیانی بنالیتا ہے اور ایسا سوکھ اس ورگ میں بھی نہیں ہے جیسا سوکھ گیانوان کے سانی دھیماترا سے پر آتوتا ہے پلسی داسی نے کہا گیانو مانا جہا ایک او نہ ہی دیکھت برم مسمان سبما ہی
ایک بار گنگا کے نارے جاڑیوں میں کچھ ویرکت لوگ شام کے ٹیم چار چا کر رہے تھے کہ انترنگ سادنگ کیس کو کہا جاہتا ہے اور بہیرنگ سادنگ کیس کو کہا جاہتا ہے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا ہے جاہڑیوں میں سے ایکان تواز کرتے ہوئے اچھے ویرکت جواب دار ویدانتی انو بھو بھی مہا پرشا ہے سبوٹ خڑے ہوئے ان کا بڑا آدر کی ہے جن کا آدر بھگوان کرتے رام کرتے ان کا آدر اور لوگوں نے کیا تکیا بڑی باتے لیکن ایسے پرشون کو آدر آدر کا کوئی آدر ملنے سے ان کو انکار نہیں ہوتا لیکن آدر کرنے والا
ان کا پنی اور ان کی کرپا پاہ لے تھا ہے اور آدر کرنے والا پر کرتی کا کوئی پاہ لے تھا تو جو بھرموے پرتی آدر کرتا اُس کو ہوم دیلیوری آنند اور سکھ ملتا ہے اور جو بھرمگیانیو کے پرتی آدر کا بھاو اندر میں بھی آجا ہے تو پھر مہرات پر کرتی ایک دم ہوم دیلیوری بنا چارج اُس کے ردا میں ہوم دیلیوری کر دے کی بیچے نہیں کی آشانتی کی کسی کو آشانت کرنا ہے تو کوئی بھرمگیانی کے ویشے اُس کے لئے اندر سے کوئی بڑاد اُس کو اپنے آپ آشانت ہو جائے گا اور کسی کو سکھی کرنا ہے آنندیت کرنا ہے تو کسی نے کسی گیانوان کے پرتی اُس کشرت دھا پیدا ہو ایسا باتا وان کر دو جس سمائے ہم بھرمو بیتاوں کے پرتی بھرمو پرما اپنے ردے میں تھوڑا بھی کووی چار کرتے ہیں یا ہی اوی چار کرتے اُس سمائے بیچے نہیں چالو ہو جاتی اور جس سمائے اُن میں شنقائن دیکھتی ایسا بیسا ہوتا ہے ہماری بیچے نہیں اور
بھدی بیل مار جاتی اور جس سمائے بھرمگیانیو کے پرتی ردے میں پریمو مرتا ہے اُن کے وچنوں کے پرتی آدر ہوتا ہے اُس سی باتی اور باتا اور ایسا بیسا ہوتا ہے لیکن برمو بیتاوں کے پر تک تک آدر ہوتا ہے تو ہمارے ردے میں شانتی اور آنان چا لکتا ہے پیپر بای چا لکتی اُو برمو بیتا سنتا ہے سب نے اُٹھ کر آدر کیا ہاتھ جو رکا پر آتنا کی کہ بابا جی ہم چاچا کر رے ہیں انترنگ سادن کیا اور بہیرنگ سادن کیا اس جوگ میں جلدی سے جلدی پر ماتمہ میں بیشرانتی کیا سپائیں مابا نے کہا بہی سادن دوب رکارکے ہوتے تک تو مسئی آدی محاوہ کیوں کا بیچار کرکے یہ آتمک ہاتی جہین درم نے کہی بہت درم نے کہی بیدانت نے اسی کو درستی سرستی بات کہا لیکن جو آتمگہنگ
کہا تک تو مسئیادِreuکوں تو انکہ بیچار کر تıma کر تک تو弓 پریگرنا کرنا, جوٹنا, بولنا, اتی آہارنا کرنا, اتی ندرانا کرنا, اتی بولنا, نہیں, اتی گھومنا نہیں اور سمعی بچا کر اپنا جپو, تپو, ہومو, حوانو, سوج سے واپو جا کرتے انتر مخھونہ, یہ باہی سادن ہے وہ باہی سادن نہیں کر سکے تو اُس سے جادا باہی سادن ہے گای تیرتھ میں, دیوالہ ہوں میں, ادر گای, ادر گای
نشکام طرق ہی, وہ بھی در سبر اتما ملیا سکامتا سنسار کو دینے والی ہے اور نشکام بہو سے کیوے کرم آدمی کو اندر لی جاتے باہر سے لگتا کہ سکامی کو فائدہ و اکھانے والے کو لینے والے کو دینے والے کو تو گہتا پڑا لیکن بھیتر سے دینے والے کو جگتنیے تھا ایسا دیتا کہ اپنے آپ کو دے دیرالتا ہے قبيرة آپ اتھگاییو اورنتھگیوں کوئی آپ اتھگے سکاوب جے اورنتھگے دوخا ہوئی نشکام کرموالہ دوسروں کو نہیں تھگے گا اپنائی بل اپنی بودی اپنا اکل اپنی دن اپنی بس تو دوسرے کے کام آ جائیں اس کا مطلب نہیں کہ اپنا روپے آپ ایسا دوسر آ جا کہ فیل ام دے کہ اپنے کو بود بنا کے دوسرہ اُس کا اپیو کر دے نہیں ایشوہ کے راستے جانے والوں کے کام میں اپنا بودی اپنا کل اپنی بس تو آ جائیں
ایسا نشکام کرم کرنے والے لو سوتے بودی شود دواتی ہے اور شود بودی پربرم مپرورمات مامے تھی ہے گیتا کے دوسرے دہائے میں چاہد میں دہائے میں گیانی کے لکشن بٹائے ستی پرگسے کام آ شاہ سما دیستا شکے شوہا وہ ستی پرگجن کی پرگیا سے راگ دویش مہو نکل گیا ہے آج کا شلوک ہے شوک مہو شوک دکھم دیھا پتیش چمائے آہ یہ جو شوک دکتا ہے دکھ لکتا ہے شوک لکتا ہے یہ سب دےھے کے کارن لکتا ہے جیسے سوپنہ بودی دوارا کلپیت ہونے سے واستبک نہیں ہے میٹھیای سے ہی شوک مہو شوک دکھتا سنسار بھی میا سے بودی دوارا کلپیت ہونے سے واستبک نہیں ہے میٹھیا ہے تو یہ شرید جیسے میٹھیا ہے ایسے بودی میں آنے والا شوک مہو بھائے چنتابی میٹھیا ہے
اس کو میٹھیا ماننے سے اپنر دکھ ہو جاتے آپ کے بودی میں بھائیا شوک آیا چنتایا تو آپ یہ بیچار کرنا کے بودی اتماکھ ہاتی بودی بضلتی رہتے ہیں جو بضلنے والی بای ہے اس میں رہنے آنے والا دکھ سک اب بضل کیسے ہو سکتا ہے وہ بھی بضلنے والا ہے جب سرید بضلتا ہے بودی بضلتی ہے من بضلتا ہے تو دکھ سکتا تھا تھوڑے رہے گا پیلیشان جو گتنا گتی اور دکھ لگتا ہے دو گنٹے کے بعد مئیسا نہیں ہوتا اور وہ گتنا کو آپ سوکرتی نہیں دیتے اتنا دکھ جو ارمارتا ہے کوئی مہلا کا پتیس پر گواز ہو گیا ہے آپ وہ سوکرتی دے دے ویدوہ ہونے کو کیوں کہ پتی تو چلا گیا ہے چلو آپ ویدوہ کے جیوانجی لیں گے بچوں کو پڑھا لیں گے کچھ کر لیں گے تو اس کا دکھ کام ہو جائے گا اور اب میرے پتی تووں کا ہے رہے چھوروں کا کائیں ہو گا رہے پکٹ پکٹ پکٹ پکٹ
دھم پچھا دا کریں اسے پتی تو آپ پس آئے گا نہیں لیکن اپنی پکٹ کے کارن بھدی میں شو کم ہو گڑھ جائے گا لوگ کیا پہیں گے اس پرکار کا بھدی میں ممتا دالتے رہے تو لوگوں کے تمکٹ پتلیا ہو گیا لیکن اپنی اور سے ہم تھیک کر رہے لوگوں کی جیسی بھدی ہو گیا ایسا کہیں گے عریومتتتت اور سبگت سب ایسا کر کے جیوان جینے قدھنگا آگیا آگیا تو لوگوں کے آپ کھلونے نہیں بنیں گے ہم لوگوں کے کھلونے کیوں بنتے ہیں کہ بھدی بھرتی میں جیسا جیسا سنسکار پڑھ جاتا ہے ویسے ویسے ہم اپنے کو مان لے اسی لی ہموں کلپناوں کے شکار بن جاتے اور ایسا کوئی منوشنے ہیں جو سنسار کو ستے مان کر بھدی بھرتی میں جو کلپنا آئی اس کو سچی مان کر سنسار میں جیہو اور سکی ہوا ہو
اسم بہو ہے پھر چاہے بھگوان کروشنہ ساتھ میں ہوا ارجن کے لیکن ارجن کے بھدی میں جو کلپنا ہے پکڑھا کی ارجنے تو ارجن پورا سکی نہیں ہو رہا ہے او داو نے جو کلپنا ہے پکڑھا کی اور سری کروشنہ ساتھ میں بھی ہے پھر بھی او داو پورا نشچنت نہیں ہوئے سنسار کو میٹانا نہیں اتو بھگوان کو پانا نہیں لیکن بھدی سے بیوکو فی میٹانا ہے اور بھدی کو پرماتمامے پر تیشت کرنا جائے جائے پرماتمام تم سے دور نہیں تم پرماتمام سے دور نہیں سکھ سدا رہی نہیں سکتا دکھ سدا رہی نہیں سکتا بھگوان کا بھی ہٹر نہیں سکتا لیکن دیکھو تو سدا سکھتو کو دیکھتا اور بھگوان دیکھتا نہیں یہ بھدی کا دوش ہے چار باتوں سے بھگوان بہت سنتوش توتے ہیں وہ تمہرے انتریامی پرماتمام
چار بکتیوں پر گیشش پر سنوتے ہیں جو ویر ہو کر بھی وی چاروان ہو بھلوان ہو کر بھی وی چاروان ہو نے تو اندھا بل ہوتا اور کچھ کا کچھ کر دالتے ہیں بھلوان ہو اور وی چار ساتھ میں رکھتا اُس پر بھگوان ویشش پر سوتے دھنوان ہے اور دینتا رکھتا ہے اُس پر بھگوان ویشش پر سوتے ہیں اور کچھ نہ ہوتے وہ بھی کچھ نہ کچھ دینے کی بہانا رکھتا اور کچھ دے دالتا ہے مطلب کنگال ہوتے ہو او او او دان کر دے سے اور محراج تیغی ہوتے ہو بھی تیغی ہنے کا ابھی мехنے نہیں کرتا ہے اُس پر بھگوان ویشش پر سوتے کیونکہ کیاگ بھی بھڑھی بھڑھی کا کام ہے.
نان بھی بھڑھی بھڑھی کا کام ہے. بھڑھتا بھی بھڑھی کا کام ہے. تو یہ سب ہوتے ہوئے بھی جو ان کو بھڑھی بھڑھی کا کھیل سمائیتے وہ اپنے میں آرو پیٹھ نہیں کرتا کر مو کو. وہ آتماگیان کو جلتی پالے تھے. آج کی قتاگر آپ بار بھڑھی چارے ہیں تو ہزاروں ہزاروں قتھانکہ پھل اسی قتھا سے مل جائے گا. یہ ویدانت ویچار کی قتھا ہے سیے کے محراج تھا کتار دے جنم جنم گا. تو شوک مو ہو سکھم دکھم دے ہپتیش چم آیا شوک مو ہو دکھ اور سکھ یہ دے اور انڈریہ مان کے ساتھ جو مل کر جو بھی کچھ ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا یہ دے اور انڈریہ مان کے ساتھ جو مل کر جو بھی کچھ ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا ہوتا
سنکาڑی رشی کو رمہا جی کہتے اورانسا ہوتار بhank ॆ तर भकान केते है? कि आसे थे कपियीesomeीनी तीसे तभा, चलम, दवा, नने, यढा, सुवायं, एनेक वरतन बतनते है. आनेक क केते है. एक परकार के सुगने से अने अक पहनते है. ایک کی جل سے ان ایک پرکار کی برف کی دیزائنے اور کھلوں نے بن جاتے ہیں. ایک کی شکر سے ان ایک پرکار کے کھلوں نے بن جاتے ہیں. ایسے ایک کی پرکار کے اس صچدہ آنند چہیتن یا پرمات مامے تمہاری بودی ان ایک کلپنا کر لیتی ہے. تو آدمی کو پترکوں پیارا ہے. پترکہ مترکوں پیارا ہے. کی پترکے نہتے پترکہ مترکہ مترکہ آ رہے ہیں. پترکہ مترکہ مترکہ پتر پیارا ہے. اور پترے顆 بھی اپنے سریر پیارا ہے. اور شریر سے بھی اپنی اسٹرار پیارے ہے. اور اپنی بہر اسٹرار پیارے ہیں.
جتنا آپ کے نجیک جو چیزے ہیں وہ اتنھی جادہ ا پیارے ہے. پترکہ منترکہ پتر ر Ninig Hoon. اور پترکہ تهنا نجیک Hoon. اور ده bubblingہ تھنا نجیک Hoon. اور Indriyaosetumhaare yantra indriya najiq hai. اور اس لیے تو تمہرے صرف کوئی چیٹ کرتا ہے تو تم ترنت ہاتھ کی بلی دے دے دے تو لیکن صرف کو بچا دے دے وہ کیونکے منہوں پر تیبھ دیگر تھی ہی دے دے تو ان سے بھی پران پہرے ہیں لیکن اس پیارے کے ملاکات میں کر پران بھی ساتھ نہیں دے دے تو رایدمی بےچیں ہوتایا اشان ہوتا ہے تو پرانوں کو بھی چاگ دیتا آپ گھات کر لیتا لیکن پیار کا آپ گھات نہیں کرتا. سکھ کا آپ گھات نہیں کرتا ہے. دیکھا آپ گھات کر لیتا ہے. لیکن اپنے سکھ سوروپ کا آپ گھات نہیں کر سکھتا ہے. کیوں, اپنے اتما سبھ کو پیارا ہے. اپنے آپا پیارا ہے. لیکن بیوکپی کے کارن لوگ آپ گھات کر لیتے ہیں.
آپ گھات کرنے سے سکھی ہونا چاہتے ہیں. آپ گہت کرنے سے سکھنے ہوتا ہوتا تو پریتوں کے بٹکھنے اہم گہت کرنا چاہیے, اہم میں پکھڑے ہیں تو جس میں تمہاری آسکتی ہوتی ہے وہ تمہرے سے ہتا دیا جائے اور جو تمہیں نہیں چاہیے وہ ملے تو سمجھ لنا کے بھگوان کی اور گروکی کرپا ہو رئے اُڑیا باہا کے پاس شششہ ساعدنا کرتے تھے ایک ششکہ دہان لگ جاتا تھے آنک مکے بیٹھے تھے لات مارکے جگا دیہ بیکوف کہیں کا آنک بند کر کے بیٹھے تھے رہا بگوان بھا جاتا ہے ایک حلنے سے آنک حلنے کل اٹھ پے کام کر آسرم میں سیوہ کر حل چلا آدوسرا حل چلا رہتا اُس کو داٹا کہ جب حلی ہی چلا رہنا تھا تو گھرمے کیا بورہ تھا اپنی خیطی چھوڑ کے ایضر آکے آسرم کے ایرزگر داکے پر پنچ بڑا دیا حل چھوڑ حل بل جگے بیٹھ دیان کر اب اُ دیان والا دیان کرتا تو من لکتا نہیں اور ہر والا ہر چلا تھا تو من لکتا نہیں کسی سنتوں نے کہ کے باب جی اُس کا تو دیان کا ویشے تھا اُس کا حل کا ویشے تھا
دونوں ٹھیک جگا پے تھے اپنے گڑبڑی کیوں کریں مولے جس ویشے میں جس کو مجا آتا ہے تو سمجو آتما کے مجا سے رنچت رہ جائے گا اُس لی میں اُن کو وہاں سے آتایاں مجا حل چلوانا نہیں دھیان کروانا نہیں اُس کو ٹیاغنے کا سنکلپ کیا جاتا ہے تم نے جے بہو والو ہوں نے اِتا میں چھوڑوں کہ میں نے تو بہو والو تو کے لادوچھے کی بس لادوکھا نہیں با دھا لے لے میں نے بہو والو سپورچنگ کے سپورچنگھا ہوں نے میں نے بہو والو پھلا ہوںچھے بیڈیوچھے کے چھوڑوں جس میں جادہ روچی ہے اُس چیج کا ٹیاغز بتایا جاتا ہے تیرتھوں میں تو جو روچی ہے وہ بھت دی کو بہار لیاتی اسی لیے بھدی کی بہیر مقطاقوں طورنے کے لیے یہ تیرتھے اتراپے اتواء گروکے دوار پر اتواء اپنے ساتھنا کی جگا پر نہیںم کے لیاتے بھجانتے مام درڈھو براتا ہے جس کے جوان میں کوئی درڈھو برات نہیں ہے
اُس کو مان دوکھا دے دے گا اسی لے کوئی نے کوئی برات دالدو کے بسی میں رانیم ہے جس کے جوان میں کوئی پکھر نہیں ہے وہ تو جات تو آتما گیانی ہے fryer, veukuffe. bertamızrobi gucken जाहरहन कि. oughtі battu pouroco pakka'nite hoti convolutional 眠oughtibo dag skal otta kỌ strategy tampok � Donkey harge jabthode karte karte padhe تو ایس پرکار کے نیم سے سادھاک کے چتھ میں سادھاکہ پر بھاؤ, سادھاکہ آنندھا بھڑھی کی یوگتہ بھٹی. بھڑھی جب ایشہوں کے طرح بھاکتے ہیں, بہیر موکھ ہوتی ہے. تو آدمی پرادھیں ہوتا ہے جیو ہوتا ہے.
اور بھڑھی اگر انتر موکھ ہوتی ہے تو وہی چیتھنے ایشور ہوتا ہے. حکی قت میں بندھن بھی کلپیت ہے اور مکتی بھی کلپیت ہے. جب بھڑھی میں بندھن ہے بھڑھی میں مکتی ہے. بھڑھی جب بیشے آسر تو ہوتی ہے تو بندھن میں جاتی ہے. اور نیری بیشے ہوتی ہے تو مکتی کا ایشاہ سکارتی ہے. حکی قت میں جیو کا واصطویک سوروب کبھی بندھن میں آیا نہیں. ایکن جانتا نہیں تو بھاگہ دے جاتا ہے. اور جان لیا تو مہر آتا ہے. جو اس رکرش نقاطمہ وہ تمہر آتا ہے. جو رام کا اتا ہے وہ تمہر آتا ہے. جو بھڑھا اتا ہے وہ تمہر آتا ہے. تم اتنے مہان ہو کہ تمہرہ ورنن کرنے کے لئے سرسوٹی جی بیٹھیں تو تک جائیں گی. ایسا تمہر آتا ہے. لیکن آتا ہے دوروٹی کے لئے تم کتنے پر ایشان. جراسا کسی کا دو عبشابدت پر ایشان کر دے تھے. جراسا چنتا کا تھوڑا سا پر سنگ آتا ہے تو بیچن ہو جاتے ہیں. جراسا انسلٹ بھی شریل کو بیچن کر دے تھے. کیوں کہ ہم اس شو کا موحو سکھ دوکھا مدے ہی پاتیش چمائے آیا.
اس شروک کو ہم نہیں سمجھ پاتے ہیں. تو سری کرشتنا بھاگوت کے گیارمے سکند کے گیارمے آتا ہے کہ دوسری شروک میں گیتے ہیں. شروک کو موحو سکھم دوکھا مدے ہی پا دے ہا پاتیش چمائے آیا. سپنو یہتات مانا ہے. کیا تی ہی سنسوتی نم. جیسے سکھنا بھڑ دیدوارا کلپیت ہونے سے وستبک نہیں ہے. میٹ کیا ہے. ویسے شروک کو موحو سکھ دوکھتا سنسار بھی. مائیا سے بھڑ دیدوارا کلپیت ہونے سے وستبک نہیں ہے. میٹ کیا ہے. بھڑ دی کے دوارا یہ سنسار کلپیت ہے. وستبک نہیں ہے. کلپیت چیج میٹ کیا ہوتی ہے. اور کلپیت چیج بضلتی ہے. وستبک گیان جاگرت کا گیان سچہ نہیں. اگر سچہ ہونہ تو ہوتا تو ہر آدمی کو ادک گیان پانے کی اچھہ نہیں ہوتی ہے. وستبک گیان سنسار کا جی جاگرت کا گیان سچہ ہوتا تو سب کو جگت ایک پرکارکہ لکتا.
وستبک میں دیکھا جائے تو جاگرت کا گیان ست کے نہیں. سوکنے کا گیان ست کے نہیں. سوشوبتی آوستہ ست کے نہیں. لیکن یہ تینوں آوستہ ہا. دیتی رکھ ہو جاتی ہے. تینوں آوستہ میں جو موجود ہے. وہ ست کے سروب پر مات ما ہی وستبک میں ست کے نہیں. اور اس کا کبھی کچھ بھی گٹھتا نہیں. ایک سمرات کی سواری جا رہی تھے. لڑکہ نے ماء کو کہا کہ مام مجھے اس راجہ سے بات کرنی ہے. دیکھو کتھنا او اس کی جائے گوش ہو رہی ہے. کتنے اونچھے آسن پر بھی راجنا ہے. او اس کے ایرے جوہارات رتنوں سے مڑیت. مقود کتھنا شو بھائی مانے. راجہ کا کتھنا سندر سوحانہ پر بھاورے. مام مجھے اسے بات کرنے. مانے کا بیٹھا آپ پن لوگ گریب ہے. تجھے پتا نہیں تو ویدھا بائی کا پتر ہے. ایسامرات سے بات کرنے کے لئے تو کافی دن چاہے, کافی پہچان چاہے تو ایک گریبات ہو سکتی.
بیٹھے کو سمجھا کے گھر لے گے لیکن بیٹھے نے ہٹھ لی کے مجھے سمرات سے بات کرنے. مام مجھ دیمان تھی ستسنگی تھے. مانے کا سمرات سے بات کرنے ہیں تو سمرات کا مقان بن رہے. وہاں جا کر کام کر. اور بڑے اوٹسا سے پرسندچت ہو کر کام کر. اور کام کرنے کے بعد شام کو جب مصدوری ملے تو بولنا مجھے مصدوری نہیں چاہی میں تو ایسی پریم سے کرتا ہوں. سمرات, میرا سمرات ہیں. اسی لے کرتا ہوں. لڑ کے نے مصدوری کی ایک دن دو دن, جن چاردن بیٹے, پاندن بیٹے, حقر محراج وہاں کا مینجمن کرنے والے کے کان بات گئے کہ یہت مجھوری لیتا نہیں. اور بڑا اوٹسا سے کام کرتا ہے. اور اوٹسا سے کام کرنے سے آدمی کی یوگیتا کھیلتی ہے. اور مانق مجھوری نہ راکے تو کیا راکے گورام.
اس کا پر بھاو پہنے لگا جو نشکام بھاو سے کرتا ہے. اس کی یوگیتا بھی کھیلتی ہے اور پر بھاو بھی پڑتا ہے. حراج درے درے وہ راج دربار میں بات محوچی وجیر تک, کہ ایک لرکا ہے بڑا اوٹسا سے کام کرتا لیکن مہنو بھاو گئے. مجھوری نہیں لیتا. ہر تین دن میں مجھوری چوکاتی اور ہر تین دن میں اس کو پوسٹے ہیں. لیکن بولتا ہے مجھے, میری مانے مانا کیا ہے. بضلال یہ بنا کام کیا جا, ایسا میری ماک اوپ دیش. راجا کے کان باتا ہے, راجا نے بولا کے پوچھارے, بچے, کام کرتا ہے, پیسے کیوں نہیں لیتا, بولی میری مانے مانا کیا ہے. کی سوارت, تیاغ کر کے ہی کام کرنا, ایپرمتما سے ملا دیتا ہے, راجا سے ملا دیتا تو راجن, ایک مہنے کے اندری آپ سے تو سے ملا دیا ہے.
راجا نے دیکھا, ایسے لڑکے کو مزدوری کرنے رکھنا یہ اوچیت نہیں ہے. تو میری انگت سیوہ کرے گا, بولی جارور, میرا ہو بھا گئے, انگت سیوہ کرتے کرتے, کبھی کوئی پرشنے ہوتا, کبھی اتر ہوتا, ایسے کرتے کرتے اس بچے کی تھوڑی, وہ دیکھا بھی بکاس ہوا, بڑوں کے ساتھ رہتے رہتے, بڑپن بھی آنے لگا بھیتر, رہنی کی آگر آجہ نے بکھان کی, کہ لڑکہ مہنوں کے مہنے ہو گئے, اکبھی کھنے نہیں ہوا, کھنے نہیں رہا, کبھی پریاد نہیں کی, جو منزل چلتے ہیں, وہ شکوان نہیں کیا کرتے, اور جو شکوان کیا کرتے ہیں, ابھا گے پہنچہ نہیں کرتے ہیں. وہ محراج, رہنی کو کہا کہ وہ پویٹر ردے بچے کو, اگر تم چاہو تو انتا پر میں رکھو, انتا پر میں بچے کو رہنے کو ملا. آرانی کردے تو ماتری وط تھا, نرکہ بڑے اتساست سے وقت کر دے تھا,
اور مہنہ بیتا, انڈرادن بیتے, مہنہ بیتا, دو مہنہ بیتا لیکن لینے کے بعد نہیں, تو دھرے دھرے تیجوریہ کے چاہویہان کو دے, دیوشواص ہو گئے, جتی آگی ہے, وہ اس کو تیجوریہ کے چاہویہ نے, وہ اس کو تیجوریہ کے چاہویہ نے, وہ اس کو سنتان نہیں تھا, پتی پتنے نے بات کرا کہ, ایسا, بودیمان, اور کوئی بھوگ واسنا آتوہا ہنکار, کی گندنی آتی, ایسا پویتر لرکا ملا ہے, اس کو کیوں نے دتتک لے, دونوں نے ملکر بچے سے پوچھا کہ, تو ہمارا بیٹا ہو جائے گا, وہ لے آپی کا بیٹا ہوں, میں جے کوئی ناراج نہیں ہے, میں تو اپنا بھاگے سمجھوں گا, آراد لرکے کو اپنا دتتک بیٹا سویکار کر گیا, اتساؤ کی آگیا, راج میں سواری نکلی تو راجہ کے ساتھ راج کمار حکر نکلا, آراد راج کمار نے حکر نکلا تو,
جہاں بھیٹ کرتیوی درشن کرنے کے لئے تو, اس کی مابی کھڑی تھی, اور لڑکا راجہ کو بلتا ہے کہ, پیتا جی, ایسا دی جی میری, اصلی ماکے چرانوں میں پرنام کر کیا ہو, دتتک ماء کو تو میرا پرنام ہے جس نے دتتک لیا ہے, لیکن جس نے, آپ جسے پیتا اور دتتک ماء جسے ماء دلائیں, ایسی ماء کے چرانوں میں پرنام کر کیا ہو, راجہ خوشوا ماء کے چرانوں میں جاکہ پرنام کیا, بلے بیٹا ہے اس راجہ کے ساتھ دو مینٹ بات نہیں کر سکتا تھا, اب اس کی گادی پے بیٹھا ہے اس کی برابری میں کیا باتھ, بلے ماء بات کیا ہے یہ تیرا ہی کیمیا آجمائے ہے, کہ بینا سوارت کے کام کرنا تو راجہ کے ساتھ مل گیا ہے. مانے کا بیٹھا یہ تو میں نے, نیسوارت کام کرنے سے راجہ کے ساتھ ملائے, لیکن راجہوں کو بھی پل بھر میں اٹھا اور بیٹھا دے, ایسے راجہوں کا راجہ جو پربرم پرمات میں اس کے ساتھ بھی یہ نشکامتا ملادے,
تو سچا سکھ کام ہے اس کا پتا نہیں, اور ساتھن گلت ہے اسلی آدمی دکی رہتا ہے, نی تو جو آدمی جاں ہیں, بہاں اگر اُساسے, اپنا کرتا یہ کرم کرے, اور بدلا تج شبادلانا چاہے, آجیوی کا جو ملتیتیک ہے, یاش بڑائی وہوائینا چاہے, اور سیوہ کرتا جائے, تو اس کا انتا کنشو دو کر, اُن راجہوں کے ساتھ بیٹھنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے, لیکن اُن راجہوں پر میٹھی نگا دالدو تو راجہوں بھی نیحال ہو جائے, ایسے پر ماتما کے ساتھ بیٹھنے کا ادیقار مانوماترکا ہے,
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya GurubhaktiYog
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sand...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 13,2026 Sunday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 12,2026 Saturday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya