Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 9, 2026

Jan 9,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 9,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

1,172 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 9,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 9,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

نرسی نے جب مات کیا, پرہلاج کا راج دیلکھ ہوا, تو دائتی لوکوں میں کنہ بھوسی ہونے لگی اور شکرہ چاری نے ایک دن بہلاج کو کہا, کہ دائتے پول کا تو ریواج ہے, کہ اپنے پتھ پیدا کو جیس نے مارا ہے, وہ اپنا شترو ہے اور شترو کو مات کے بینا راجک کرنا یا کھنا پینا تو ہرام برابر مانا جاتا ہے. تو تمہرے پیدا کو ماردیا نہ رہنے, اس کا جب تک تم مضلا نہیں لیتے تو کھل پر عم برامے تو تم کرتگنہ پتھ رہے ایسے پتھ رکہ تو ماردیا نہ آچھا ہے, تم تو راجک کر رہے ہو, ویشنوں کو جب تک تک نہیں کیا اور مضلا نہیں دیا لیا کی تم کے مارن کا تک تمہرہ دارتی پر رہنا کیسکام کا, پیلاج کہتا ہے کہ ویشنوں, بھگوان کم کیسے مار سکتے وہ تو, بھگوان ہے اور جیبوں کے بھلائے کے لئے کرتے

وہ لے کیا بھگوان بھگوان کرتا ہے کیا جیبوں کے بھلائے بھلائے کرتا ہے اپنے پیدا کو ماردیا ہوں کیا بھلائوں گا سنسکار دال دیے, پھر کچھ دن کے بعد پھر سنسکار دالے کیا بھی تک تمہے کیا سوچا اپنے پیدا کا شتر ہو, اور اس کو تم چھوڑھ رہے تو دیکھا ہے تمہرے بہوبال پر دیکھا ہے تمہرے سائنے پر, دیکھا ہے تمہرے راجے ستطا پر دیری دیری سنسکار بھر دیے اب اپنے پہلاج کہتا ہے کہ gourus ایசی کوئی بات نہیں ہے آپ اپنے چاہو تو میں ویشنوں سے بھی یود کر سکتا ہوں اب جس ویشنوں کی بھاگتی میں لگا پہلاج پیدا نے پر وقت سے گیرایا پھر بھاگتی نہیں چھوڑے پھر بھی بھکتی نہیں چھوڑیں, جللا دو سے پیٹو آیا پھر بھی بھکتی نہیں چھوڑیں, پانی میں پھیکو آیا پھر بھی بھکتی نہیں چھوڑیں, آیسا پہل آج,

کسنگ ملتا ہے, کسنسکار ملتا ہے تو پیلتا ہے کہ آبگر چاہوں, تو میں ویشنوں کو تھیک کر سکتا ہوں. ورنو بات دبا جوادی ہے, سینگی قتھا کر دیا, اور بھگوان بیشنوں کو آوہن کرو, کیا سمجھتا بیشنوں کو بچہ, اُس کے ساتھ اب ہم یود کریں گے, بھگوان نا رہن کو پتہ چلا ہے کہ بھکت میرا سبودھی ٹیاک کر, بھگوان نا رہن کو پتہ چلا ہے کہ بھکت میرا سبودھی ٹیاک کر, سنی سنائی انڈریگت گیان کے چکر میں آ رہا ہے, دیا لوپر بھونے براممن کا بیش دہریں کیا, براممن بی بھڑھا, اسی سالگا, تال کے بال بھی سفہ چتھ ہو گئیتے, تھوڑے تھوڑے رہیں ہوں گے سپیت بیچھا پیچھے, اور راتھ میں لکری, بھگوڑھے کا جیسے شریل کامتا ہے سی ہوں نہ رہیں,

آئے, داربانی بھولتا ہے رہمن دو رٹو, وہ لہم نے سنائی کے پرالات تو بڑھتے, سادھوں رہمن کا تو آدر کرتا ہے, تم بھولتے دو رٹو, بھولے وہ دن گئے, وہ دن گئے, وہ پرالات بھولا, بھولا تھا, پرالات ہوں شار ہو آئے, اور ایسی ہوں شاری آج کل بیش پہ بھر میں ویاپ رہی ہے, اس کو بھولتا بھولتا گھیان, بھولتا گھیان کو بھی وہ شاری آنتے لو, ٹائی پین پین کے رتکہ, پر وہاں کو رکنا, بھی ماریو کا شکار ہونے کنی میتھ ہونہ, گرم دیش میں, اس کو بھولتے ٹائی والے ہم سوڑھے ہوئے, اور مالہ والے بھگتڑے یہ کیا جانے دنیا کو, ہاد دو ہو گئے, ابھی بھی کہانی بھولتے منتر جاب کا کتنا پر بھاو پڑھتا ہے, قلبتایا تھا نے, ویگیان نے ریسر چکیا, اور دیشوں میں بھی ریسر چورا ہے,

آمنتر کا کیسا سومدر پر بھاو پڑھتا رمنتر کے پیچھے بھی نہ پوسطا کا دھارے نہیں کا, کیسے پھٹو پر گٹھ ہو گیا, راگ سے پڑھے پر کیسے طارے, اور پھر بھانکی ٹھنگی, آکروتیا, کبھی بھیروں تو کبھی اور کوئی, جیسا جیسا راگ, آگیسے سے چترہوں نے, دیکھیں, مان نے کوتو, جلدی مان نے والے نہیں تھے, لینٹن جیسے گے, تتتو یانی اور ان کے بڑے بڑے ساتھیں, سجد اجھے کمرے میں ہوڑرشہ دیکھتے گے, ساہدان ہارمونیوں پر, جب گیت گای جاتے, منتر اچھار طالبت کیا جاتا ہے, تو پڑھے پر کوچھا کرتے ہیں, دیکھتی, آک کے باک کے سے رہے گے, آسچری کے سمجھر میں گوٹے کھادتے رہے گے, اور چب بگیانی نے کہا, کہ انویشی کا نے, ورشوں پہلے یہ تھوڑا درشہ دیکھتا اور کر اسی دھنی اور آکروتی کے,

جگت میں اس نے ریسرچ کیا روشی کا پرنامہم سامنے دیکھ رہے, سامبید کی ریچا گائی, تو دھرتی پر ایک آکروتی ابس ہی اور اس کو فٹولیا, اور وہ فٹو تھا بھی نہ پوستکہ دہرینی کا, تم اپنے ہاتھ میں کہاگہ سے لو اس پر تھوڑا بالوں رکھ دو, ریتی کے دانے, اور نیچے رامنام کا دھنی کر ریتی کے دانے اسی صندر سورک آکروتی میں, آپ کو سکشمنوں سے چینگے میں لیں, تم صری کرشنگہ پویٹر نہ موچارن کروں, بالوں کے کان ریتی کے دانے, اسی پویٹر آکروتی میں بدلے ہوئے میں لیں, تم اللہ اللہ کروتا بھی بھی پویٹر آکروتی بنے گیر تم گالی باکو تو بھی بیٹس آکروتی بنے گی, تو شبد کے پیچھے ہے, اس کا ارث اور اس کا رس چھوپا ہے, رس ویرس قتا ہے, قدوہ سب چھوپا ہے, آم کہتے ہی,

وہ آم کا مادھوری آم کی آکروتی آم کا رس آم کی گول, آپ کے چتھ کو آپ کے موں کو آکرشت کر دے, اور کری کا آچار بولتے ہی, آپ کے موں میں کس پر کر کا, کچھ ایسا سونے لکتا ہے, اور گندی وستو کا نام لوگ ملمت رادی کا تو, چتھ میں آرانکوں کی آگے وہی گندہ بھاؤ, آ جاتا ہے, جب شبد تمہرے چتھ پر آسر کرتے, اس سے بھی جادہ تمہرے رکت کے کنپر, تمہرے من پر آسر کرتے, تمہرے چہرے پر آسر کرتے, اس سے پہلے تمہرے من پر آسر کرتے, تو بھاغوان کے پویترا نام کا, چنتن بھاغوان کے پویترا نام کا او چانن, اور بھاغوان کے پویترا نام کا سامو ہی کی تن کرنے سے, تم لوگوں کے سب کے من ایک ساتھ پویترا ہوتے, تمہل دھونی پرگت ہوتا ہے, اور تمہل دھونی کے رنج میں کوئی پہر پاپوں کا پہر لیا ہوا,

محاپاتھ کی محاپ رادي, محاپاپی دیگتی بھی, اگر اس تمہل دھونی کے تن کے واتا ہوں میں آجاتا ہے, تو وہ بھی دھونے لکتا ہر اس کو بھی اتنا ہی پویترا نام کا, پویترا نام کا ردے پویترا ہونے لکتا ہے. لاکھا دمی کے بیچ, ایک ادمی کے وال ستھ پوگن سمپن ہے, ایک ادمی کے وال ستھ پوگن سمپن ہے, تو کی تن کے واتا ہوں سے, لاکھ کے لاکھ آدمی کو ساتھ پکتا, کہ سنکرامک آندولن ملیں گے, اسلے نانق جنے کہا, بھائے ناشانا دورمتی ہرنا, کلی میں ہری کو نام, بھائے کا ناش ہوتا ہے دورمتی دور ہوتی, جو بھی دکھ ہیں, دکھ کامول ہے دورمتی. دورمتی ہوگی تو منکھنچ جائے گا, اس کو رسومتی ہوگی تو منکھکھنچ کے چلے گی. بھائے مناشانا دورمتی ہرنا, کلی میں ہری کو نام, نشنی نانق جو جپے سپل ہو ہوا ہی سب کام.

تلشی داس کہتے بھگو نام کا خجانا ہے, اساس شہیج میں ملتا ہے, پھر بھی آسٹریہ کے لوگ, تیجوری والوں کے پیچھے چکر کرتے ہیں. یہ بھو دھی کے گیان کا آنادر ہے, واسطبی گیان کا آنادر ہے. گھر سے جاغھا کے تو بہر ملا ہے, پکھا کے اور بھر سے جاغھو, بھکھے تو بہر ملے دکھے, ایسے اپنے آتما میں اگر ٹرپت ہے, سنتوشتے تو بہر بھی تم سپھل ہو جاتے ہو. اور اپنے آپ میں تم ٹرپت نہیں, سنتوشت نہیں ہے, تو بہر دین ہون ہوتے تو دتکارے جاتے ہو. کوئی دلی کے چکر کرتے تو کوئی بوم بے کے چکر کرتے تو کوئی گھاندین کر کے چکر کرتے ہیں. چو راسی کے چکر سے چھڑانے والے واسطبی گیان کے لی جو چکر کرتے ہیں, اس کے سارے چکر کر جاتے ہیں. جو اینڈریگت گیان کے چکر میں ہے, ہو اس کے لیے تو دوکھ سکھ بڑی آن دھی توفان ہے, وہ تو ٹین کے کینہیں دوکھ سکھ میں بٹکتا رہتا ہے,

بہمدل میں گیرتا رہتا ہے. جیسے ٹینکھ ہوتتا ہے, بہمدل میں آئیسے اینڈریگت گیان والا گیتی دکھ میں دکی ہو جاتا ہے, اور نندہ میں نندہ کا شکار بن جاتا ہے, وہوہ میں وہوائی کا شکار بن جاتا ہے, اپنا اُس کاستینڈ نہیں رہتا ہے, کیوں کہ اینڈریگت گیان میں گیتا ہے, جو بھدیگت گیان میں گیتا ہے وہ کبھی ایدھر کبھی گودہ اور جو بھدیگت گیان سے گروکرپا سے چھلاگ مارکے واسطبیگ گیان میں آ جاتا ہے, وہ سدہ ہر ہروز خوشی, ہر دم خوشی, ہر حال خوشی, جب آشک مسط فکیر ہوا, تو پھر کیا دلگیری بابا ہے. پورے ہیں بے مرض جو ہر حال میں خوش ہیں, ملا اگر مال تو اسمال میں خوش ہیں, ہو گئے بے حال تو اسی حال میں خوش ہیں, کبھی اُدھے تاٹ تو کبھی بات میں خوش ہیں. جیسا عمرتتایسی بھی شکھاٹی, جیسا عمرتتایسا عفمانا, ہرششوک جاکے نہیں, وائری میتسمان,

کہانانکہ سنرے منا مقدتاہیتے جان, وہ مقدتاتما ہے, جیتے جیوہ مقدتا ہے, جیتے جیوہ مقدتا ہے, مرنے کے بعد مقدتی نہیں, اُس کو اُترینڈ مارگت و دکشنا ہے, مارگتا بہیں نہیں رہتا ہے, وہ تو جیتے جی مقدتا ہے, بھگوان نارہیں, برامن کا ویش لے کر آئے ہیں, ہاتھ کم پر ہیں, ہاتھ میں کلپڑی چھڑی ہے, جانے دو مجھے پہلاج سے ملنا ہے, بولے پہلاج پہلے جسا نہیں, اب تو سمجھ دار ہو گیا ہے, پہلے سادو سندو کر بھگوان کو مانتا تھا, بگت تھا, اب بھگدی مان ہو گیا ہے, تو لسی دا سای سے لو کو پھتکارتے ہیں, ایسی بھگوان سے گروس سے سندو سے دور لو جا ہے, لے جا ہے, بھگو دینیں دور بھگدی ہے, چترائی چھولہ پڑی, ایسی چترائی تمہاری چھولہ میں پڑی, اشانتی کی آگ میں لے جائے گی وہ بھگدی,

پھر ہے وائن تو مجھے سوکھ دے, ہے دیس کو تو مجھے سوکھ دے, ہے لے دی کے ہاد مازن, ملما جاکہ سری تو مجھے سوکھ دے, ہے وائن کا عالکول تو مجھے سوکھ دے, ہے تمہا کگا نیکوٹن تو مجھے سوکھ دے, وہ کم بگتا کی آسوکھ دے ہیں, نیکوٹن, اس کو چتر بھگو دی بھولتے, سودرے ہوئے لوگ, پرگتیشیل, پرگتیشیل واسطب میں تو وہ ہے, ہے کہ سوکھ سپنا دوکھ بول بولا, سوکھ دوکھ سر پر پہر رکھ کر, اپنے اتما میں پاستہ اس نے پرگتی کی, منکی بران کی نای جو آیا, وہ کھا لیا, جو آیا, وہ مومے دال دیا, جو آیا, ناچ لیا سوکھ لیا, بھٹھگ بھٹھ کے جیوان پورا کر دیا, پھر بھی اشانتی, یہ کیا پرگتی, آگلگی ایسی پرگتی پے, ہر دید مینٹ میں نبیسے کن میں ایک آدمی کنسر کی بیماری سے مر رہا ہے

یوروپ میں, ایسا میں نے سونا آیا, ہر اٹھ ہیس مینٹ میں ایک آدمی پاکل ہو جاتا ہے, سودرے ہوئے دیشوں میں, ہر اٹھ ہر اٹھ ہر اٹھ ہر مینٹ میں ایک آدمی سوست کر دے تھا ہے, یہ رمجی کی, میں نے توپنے ہاں اگو给 رہاں, میں نے سے مینٹ میں دیست کر رہاے, وہczę انچ حراضровے کہcopeتا ہے, یہ ہلے ہیک تھا, یہی sickle, کر نی copinsa να НА், یہ نہیں یہ نہیں, horas کا میں شخص کر, یہاںaukeeان میں faisben, یہاں ہی ہے, ہے کہ نہیں, אہicha ہیں, یہاں ہی کسی ہیں closely, یہاں ہی یہی, یوروپ کوข empty machen یہاں ہی کسی ہیں تھا تو کہی لڑے لڑی ایسے بڑھ بڑھا تیریتے اشانتی کہی نا رہی نا رہی میں قتھا آپ کو پرہلاج کی باتاوں گا

لیکن میرا سوا بہوے کہ پرہلاج کی قتھا پورانوں کی قتھا بگوان کی قتھا ہے تو میں باتا تھاوں لیکن ساتھ میں تو ماری بھی قتھا جوڑ دیتاوں کہ تمہی دیرے دیرے ساوڑان ہو جائے گا نا رہی نا رہی نا رہی نا رہی نا رہی نا رہی نا رہی نا دوار پال جانے نہیں جہا رہی لید جاتا ہے جانے نہیں دیتا پرہلاج کے پاس برامل بولتا کر نہیں جانے دے گا تو میں تو یہیں انسان میں کر کے باتاوں اب رامل مرے گا تو تو جہی براما چا لگے گی دوار پال بولتا پٹے والا بولے مارا جبی میں ریڈوٹی چین جو نے والی ہے دوسر آئے گا اُس کے بیچ میں تم کی سک جانا میں جراب دو پہاچ مران جل دی نکل جہا ہوں گا وہ آئے گا اُس کے پہلے اب بیچ میں گیب کے سمیں چل لئے جانا ابا کی گا آپ سماہل ہے نا بولے تو چنتامت کا

بگوان کی مائیہ سے چپراسی کی بود ہی بگوان کیا نکل ہو گئیں اُمو کا باکے بگوان تو چل لئے گا اُس کے پراسی کو نبکا نہیں ملے اب رہمان کو دیکھر پلاج گلھیں بہمان تکھا سیا ہے بولے اُس میں نے جو سنا تو سادو برامانوں کو مانتا ہے ام تم سے بیچھا ہر بھی ماش کرنے کو آئے بولے وہ دن گئے ہم نے مانتے ایسانے اور ایس سمیں برامان کانا اب شکن مانا جاتا ہے ام یود کی تیاری کر رہے ہو سادو برامانا ہے تو سمجھو اب شکن ہے

بولے وہ تو ساربت رہے ہیں وہ سب میں رہتا واسم کرو دی وہ حصو ہو تو سب میں بس رہے بیچھنوں ہر اسی کی ستتا سے مان بودی چت آنکار یہ چتوش تانتا کنے اسی لئے وہ سبیچھنوں مان کو چتر بودی کہتے اب رہمان بولتا ہے کہ جیسا میں مرکھوں ایسا تو مرکھے جیسا پتا ہی نہیں تو یود کی سے کرے گا جب ساربت رہے تو یود کی سے کرے گا یود تو اسی سے ہوتا ہے کہ جگا ہو اب یہ ساربت رہے تو یود کی سے کرے گا بولے پھر بھی وینکٹھ حدی پتی ہو نہیں تو میرے بھگوان میرے پیتا کمارا امیں وینکٹھ حدی پتی کا آوہن کرتا ہوں وینکٹھ کیا جو اکن ٹھیت متیگ وہ تو وینکٹھ ہے اگن مان لو وینکٹھ لوگ اور اس کو بلکر تم یود کرنا چاہتے تو اس کے ساتھ تمہرے پاس بل ہونہ چاہی بھیڈنے کا نہیں تو پھجے تھا ہوگا

اپنے سے تھوڑا چھٹھا ہو یا اپنے برا بری کہا ہو تو یود کر اپنے سے بہو تو یود کی سے چھلے گا ہا تو بول ہمارے میں کیا کمی ہے ہم جرا بالک تھے نہیں ساما چاہتے تو ویسنو ویسنو کرتے تھے ابھی تو شکرچھا رہے ہیں ام کو بہت گیان دے دیا ایسا تم کو بھی کوئی شکرچھا رہے مل سکتا ہے بھن جے نہ رہے ہیں نہ رہے ہیں کبیر نے تو کہا کبیرہ نندک نہ ملو پاپی ملو حجا ایک نندک کے ماتھے پر لاک پاپین کو بھار تلشداس نے کہ ہری گورو نندہ سنہی جا کانا ہو گای پاپا گاو گھاتا سمانا ہری گورو نندکہ داہدورہ ہو گای جنمہ ساسترنا رپاوہیں سوی تو تو ویشنوں سے یود کرے گا تو بتا ترے میں شکتی میں یہ چھڑی خورتا ہوں دھرٹی میں اس چھڑی کو تنکال کے بتائے گا تو میں سمجھوں کا کی گر

کچھ در تو ویشنوں کے سنہ کے سامنے نارہینی سنہ کے سامنے ٹیک سکے گا ایسا کر کے براما ویش داری بھگوان نے اپنی چھڑی دھرٹی میں گاڑی آت سے دبائیں پر اللہ سوتا ہے براما نپا گل ہو گیا کہ میرے کو اتنا کم جور سمجھتے کہ چھڑی میں نے نکال سکتا ہوں جب ہوں آیا تو سمجھ لوگ فکت وہ پہلا جوت رہ و سو چاکہ یہ ابھی میرے سامنے جو چھڑی گاڑی ہے چھڑی کو خیچ کے پھیک جاتا ہوں اٹھھا کر نکال جاتا ہوں جو چھڑی کو چھوتا ہوں جو رمارتتت نہیں کنکلیں پورا جوگ لگا ایک آت کا دوسرا ہات جوڑا اب تو شرمن نہ ہو گیا امرہ بر جوگ کے چھڑی کو نکالتا ہوں پورا جوکہ دیرہی در اُدھر قصرت ہوئی رہانا پانکی گتیسا موہی سوشنوں ہوں ہوں میں پرانکہ پرویشوہ بگوانکے آت دیہتنک سنگ کب کا بل وہ دی میں تھوڑا پرکاشوہ واسطبی کی گانکا یعرے یہ دیکھتے دیکھتے

رہمن نے چھڑی گاڑی اور میں نہیں نکال سکتا ہوں یہ رہمن کوئی سالارہ نہیں ہے رہمن کے پرچوے بتاو گودے واسطبی کھاپ کون ہے کرپا کروں تو واسطبی کون ہوں میٹا پہلے بجن کیا ہوئے بھجن بیرت نہیں جاتا اگلے جنم کا دھان تو اس جنم میں کام نہیں آتا اگلے جنم کے میٹرپریوار اس جنم میں نہیں ملتے لیکن اگلے جنم کا کیا وہ بھجن جب اس جنم میں مل سکتا ہے تو ابھی کا کیا وہ اُتراین کا کیا وہ جنگی تو اس جنم میں رگلے جنم میں مل سکتا ہے امار آگلے جنم کا کچھ کیا ہوا تھا تو ہم بتاک ماتا کے گھر جنم میں اس کے پہلے کوئی سوڑا گر بڑھا جھولا دے گیا کیوں دے گیا سب کے گھر کیوں نہیں آتا سیڈی تو بات ہے ماراینہ ہری ماراینہ ہری تو کرم کا

تو پھل ملتا ہے پاپ چوب کے کرتے اور اس کا پھل نہیں چاہتے پھر بھی دھون کے مل جاتا ہے جب پہپ کا پھل دوکھ نہیں چاہتے پھر بھی وہ ہمارے کو پہپ کا پھل دھون نکالتا ہے تو پھنی کا پھل کیوں نہیں نون لے گا ہم کو اوہش رہ میں وہ بھکتی تم کرتا مکرم شو بہا شو بھم اوہش رہ میں وہ بھگنے پرتے ہیں شو بہا شو بھگ کرم کا پھل لیکن ان سنجیاسیوں پھل کی چاہتے سنجیاس کردیا کرم دو کرتا ہے چھے لیکن پھل نہیں بھگنہ چاہتے اسھ ورپن اس کو کرم کا پھل نہیں بھگنہ پھڑتے ہیں وہ لیشورہ پھل کیوں اشوب کرموں پھل بھی اسھ ورپن کر دیں گے انام تو اسھ ورپن ہو سکتا ہے انام گورمنٹ دے اور گورمنٹ کی ارپن ہو سکتا ہے θہلی دے دے اور پھر θہلی سمحاج کے ارپن ہو سکتے

சب کے سب שب کرم ایشورہ پن کرتا تو اشب میں روچی نہیں ہو گیاں ان جانے میں کہی ہو گیاں تو پھر بھگوان سویم شما کر دے تو یہ بعد بھی سٹھی ہے۔ جب ارپن کرنے کی عדد ہو جاتی ہے تو بھگنے کیاہ میچھا کر موجاتی۔ بھگنے کی چھانہ ہوتے پھر شب اشب کرم کا پھل نہیں شب اشب کرم کا پھر میں کا پھل دے نیوالا پھل کا داتا ہی گیان سوروپ میں پر گٹ ہو جاتا ہے پر ماکھیں مارہ جو رہتی تنیکل نہیں رہی آکھیں اس برامن کے پر چھوے مارہ جا پھوں نے بتائیں مارہج نے بتا دیا تھے رب آپ کو نہیں دیکھ ایپر بھو آپ مجھے شما کر رو پھو بھولتے پہلا ہے تو شما کرو میرے کو مارنے کے لیتنا بڑا سائنے کو کتھا کیا اب تم مجھے مارپ کرو بھائیں انتراہی بڑای مت کرنا گئی باہتی ہے تو تو دائی کل کا اتنا بڑا آدمی ام تو دیکھ بھو دے براما

تم او ایک را ماکھیں پر آج کہتا ہے پر اب ہوں آپ کسا مار کریں رجوگوں چت میں آتا ہے تو آدمی بڑے بڑے نورت کر لیتا ہے رجوگوں آنے پر آلتو بھالتو بہت گس جاتی اور سچی لکتے اور ست تو گنہ ہوتا ہے تبادمی بھاکاہ سے بچتا ہے وقت رجوگوں میں آیا آدمی قب اندروں کے بھاکاوں میں آجا ہے قبنی دا کو کے بھاکاوں میں آجا ہے قب اپنے بیو کفھی کے بھاکاوں میں آجا ہے کہیں نہ مسکل ہے اھی کہ ہے ہت لو جونو مانہ سات لو جونو پر رجوگوں ایگو تو جونو سکر نے اور شکر ہیں اتنا جونا بھگت ہر امرام کرتا ہر آ گیا بھاکاوں میں היی , جیت نہ جونہ کہ آپ را لاج کیت نہ جونہ تھا اس پہلاج کی میجبوٹی کیا آگے تمہرے آج کل کی کیا کی مجبوٹی کیا ہے آج کل کی بارٹوں کی کیا مجھل ہہ ایسا پہلاج بھی جب بہکہ میں آς سکتا ہے تو پھر İnduguagat Ghaan اورگwedی Gata Ghaan Tyak میں جو جی رہے وہ کب بہکہ میں آجائے

کوئی پتانے کب ہمارہ جمعہیں بھیمان ہو جائے کوئی پتانے اس لیے ستت بھگوان کا سمران کرنا چھے اور بھار بھگوان کے پیارے سنتوں کا سانی دلے نہ چھے تاکی ہمہ راچیت اننات رہے پویٹر رہے دوک دریدر تاکی کا کشہ ہے سکشانتی کا پراکتے ہیں اگیان اندگار کا کشہ ہے گیان اور مادوری کا پراکتے ہیں اسی کا نام دیکشہ ہے دیکشہ سے پا پتا پت دک دریدر تا دوروٹی ہیں سپلتا سے دیسوک شانتی اور آنند کے راستے آدمی بڑھتا ہے ہیوہگوان آپ مجھے دیکشا لی جی پروھو بس تو ہم آپ کو کئی سے جیتے ہیں بولے سینی سے تو تو ہم کو نہیں جیت سکتے ہو لیکن ہم آپ نے آپ تم کو اپائی باتا ہے ہم کو جیتنے کا جو ہم آرہ چینتن کرتا ہے

ہم ممائے ہو جاتا ہے وہ ہم کو جیت لیتا ہے اس کے آگیت ہم چچین میری چاچ پر ناچنے کو تیار ہو جاتے تو پر آپ کا چینتن آپ ممائے ہم ہوں ایسی ہی دیکشا دیجے جب ساکشات نارہ ان دیکشا دے اور آئیسات درڈنیش سے پرہلاج دیکشا لے تو دیر کیا ہوتی ہے دیوامبوط وادیوامیجت دیوطا ہو کہ دیوطا کو پوجن کرو بشنو ہو کہ بشنو کا پوجن کرو بھونا کرو کہ جیو بھگوان آدینارہ ان سے لڑنا نہیں اون سے ملنا ہے آدینارہ ان میں رہے میں اون کا ہوں میں آدینارہ ان کا ہوں آدینارہ ان میں رہے چتر بوجیس رب کے آ کرتکہ دھن کرو ایک آگر چتت سے دھن کیا تو چتر بوجی آ کرتی ہوئے پرہلاج کی پر آنوں میں قتھا جب راتری کے سوپنے میں جیسا تم چنتن کرتے ہو ایسا رہل گاڑی بنہا سکتے ہو ایسے ہوای جاج بن جاتا ہے سوپنے میں

تمہرے چنتن کہی تو ہوای جاج ہوتا ہے سوپنے میں ایروژرم مال ہوای جاج تمہر اگروم میں گوسے تو تمہرہ کمرہ پہنگا کہیں پہنگ جائے گا حلی پیڑ بھی تمہرے کمرے میں گوسے تو کمرہ نہیں تکے گا تو رات کو تم چنتن کے بلسے ہوای جاج بنالے ایروژرم مالات ویلگڑیہ مالات ویلگڑی гораздо بہلے تو سوپنے میں اب گنگہ اگر آجuin کمرے میں تو کی ہوا ہوا ات 78 cn جاہ تو کی ہوا ہوای جانتے پھر بھی چنتن کے بلسے بن جاتا ہے نا سوپنے میں گا گاہ حمنا ہوا ایسےی شو دمان میں چنتن کے بلسے چتر بھج روح ہو گیا پر آلاج کا دے اعتہا لو کو نے دیکھا ہے کیا γαاں نے تس کو بہاقعہ اور بیشنوں سے لہنے کا لگे۔ لیکن یہ تو خود வישنوں ہو گیا آگ کی آگ گیا پہلاج یا آپ کیسے ہو گیا۔ وہ لئے آپ بھی چنتنکر ہو łگوان کی دخشان ملیتے پہلاج کی پہ Cowithrata shai

deseو Ika dhrat��나 کی درٹا تھے و دیٹے لوگ ہوتے تو دوسٹے لیکن AXے بھی tnani이즈 جیدھر کو لکھ تھے لگتے Van get traffic ھو کی ہوتے ہیں جو جادہ پاپی لیں پாமوں نہ تھے kavagar murtayathu werda teheejit siya dhyatmiko sati. ículos chi'n tákwi ke ba gest haика Dashi چتر بوجی ہو گیاں, پہلاجنے, سب کو چتر بوجی کر لیاں.

اب کیا ہو گا دے ہو کوئی ہو پائے, بھگوان پھر آئے. وہ لے پہلاج بتا ہوگ کیا تھے? وہ لے بھگوان آپ کے باس طویق سروب کا گیاں. یہ تو آپ چتر بوجی ہوتے, کبھی برامن بھی بن جاتے ہیں. لیکن باس تو میں آپ کون ہو. اور کس کی شکتی سے آپ دوی بوجی بن جاتے اور چتر بوجی بن جاتے. کس کی شکتی سے آپ یہاں پدھا جاتے اور وہاں چلے جاتے. کس کی شکتی سے آپ باردام دیتے اور وہ سپھل ہو جاتا ہے. مجھے اسی کا پرساد دو. وہ لے اسی کا پرساد تو دینے کے لئے, مجھے گروب پدھ کا آئے میں لینے پڑے گا. وہ تو گروب, گروب پرساد ہے. جب پااد, گروب پرساد, جب پااد, ستجوگا. یوگوں سے جو ست ہے. ابھی بھی جو ست ہے. وہ ستجو ستر بوجی بھی گیاں کے طرفانا پڑے گا. تو یہ چنتن کرو. یہ چھار بھجا بھی ہے. میا میں اور دو گھجا بھی ہے.

میا میں. یہ میا کہا ہے. اس اتنا حری کے سامنے جگت کچھ بھی نہیں. جگت کی آکورتیا کچھ بھی نہیں. اور سدہ نہیں ٹکے گی. سدہ نہیں ٹکنے والا سرے اور سدہ ٹکنے والا بھی جاں سے میا تھا وہ چیتنے. اس چیتنے سروپ کا چنتن کرو. اپنے ساکشی سروپ کا چنتن کرو. اپنے چھیتنے و ساکشی سروپ کا چنتن کرو. یہ ناران کا چنتن مل گئے. میں چھتر بھجی ہوں چھتر بھجی ہوں چنتن چھوڑ دیا. تو پہلا جیسے تھے بے سے ہو گئے. دیتی جیسے تھے بے سے ہو گئے. اور وگوان. وگوان کے لوگ میں گئے اور دیوتا ہونے جیجے کار منایا. کہ پر بھو تمہری لیلہ آننت ہے. حری آننتہ حری کا تھا. آننتہ حری لیلہ آننتہ حری جان آننتہ. ہمارا منحی بندھن کا کارن ہے اور ہمارا منحی مبتی کا کارن ہے. منحی با منو شانام کارنم بندھم اوکشہ ہو.

اُس آتما کا سطالے کر بھدھی اور بھدھی کی سطالے کر من اور من کی سطالے کر اندریا. جب کام میں کروض میں لوگ میں مول میں ماد میں مادسری میں بیچھرن کرتی تو ابندھن کا کارن بنا لیتی. اور اندریا دریا دریا انتر مخوکر من کے طرف من بودی کے طرف اور بودی اس پر ماتما کے طرف جب ضبتی ہے. تو مبتی کا کارن ہو جاتا ہے. تین پرکار کے گیان مانے گئے ہیں اندریا گتگان بودی گتگان اور باستبیگ گیان باستبیگ گیان وہ آتما پر ماتما جو من کے بدالنے کو بودی کے بدالنے کو اندریا کے بدالنے کو جانتا ہے وہ ساکشی باستبیگ گیان سروپ ہے. وہی چیتگنے سروپ ہے وہی کو آکال کروش کا ہے

وہیونیوں میں نہیں آتا اس کو دیویا گیان بھی کہتے ادبرت گیان بھی کہتے جو بھی کہتے وہاستبیگ گیان بھی کہتے دوسرا ہوتا ہے بودیگت گیان بودیگت گیان پرنام کا بیچار کرتا ہے میں گھر سے چلہ راستے میں چاٹ دیکھی لیکے کھا دی تو یہ بودی کا اپیوگ نہیں کیا کہ کھانے سے کیا ہوگا بھی دود پیادوں گھنٹے ہوئے چاٹ کھیا تو شریر میں کوڑ کے داک پیدا ہو جائیں گے بودیگت گیان کا گر میں آدر کروں گا تو راستے میں دیکھا چاہانا بھیلے سے لوں کی نہ لوں حچہ لے بھی لے نہ جروریے تو لے لے لے لے لیکن ابھی نہیں کھانا پہلے کا کھیا پیہ پچھ جائے بعد میں شد کر کے پویتر بھاو سے پویتر جاکا پیکھا ہوں تو یہ میں بودیگت گیان کا آدر کیا میرے پڑو اس میں کوئی لڑکی ہے اور میں کالج پڑ رہا ہوں اور ہمارہ اس لڑکی کے ساتھ من لگ گیا

لڑکی کا میرے ساتھ لگ گیا تو بودیگت گیان کا آدر کریں گے تو میں اپنے پیدا کو کہوں گو اپنے مطا کو پیدا کو کہیں ہم دون دھیراج رکھیں سائیم رکھیں اپنے مطا پیدا کو ریجھیں کل دھرم کے نوصہ شادی کریں اور سائیم سے سنسار میں رہیں تو یہ بودیگت گیان کا آدر ہوا پر نام کا بیچار کریں لیکن میرا اُس پر مندھولا اُس پر مندھولا اُس پر مندھولا یا تو میں اُس کوئی کے بھاگ گیا یا تو وہ میرے کوئی کے بھاگ گئیں اپکار لیا لڑکی اور بعد میں جگرتے جگرتے پھے دائوٹس بھی دے دیا یہ بودیگت گیان کا آنادر ہے انڈریگت گیان کی لو لکتا ہے تو انڈریگت گیان آخروب دکھا دے گی ناکسوگند دکھاس سنگا دے گا کان شبد سنگا دے گا جی بسواد دکھا دے گی پچھا ٹھنڈا اور گرم مہیسوس کرا دے گی ایک گیم اس میں بودیگت گیان کا آدر ہو گا

تو اگر سمپتیوان ہے دھنوان ہے تو مجھے ٹھنڈ لکتی تو اوروں کو بھی ٹھنڈ لکتی میری سمپتی کا میری اپکلکہ اوروں کی ٹھنڈنی وارنے کے لئے اوروں کی بھک میں ٹانے کے لئے اوروں کے دکھ دور کرنے کے لئے میری او گیتاکہ میں ٹھنڈ پیو کروں گا اگر میں گریب ہوں کنگہل ہوں تو مجھے دکھ اسوں کو سہنے کی آدت بڑھانی چاہی ویدھور جی کہتے ان دو گیگتیوں کو پتھر بان کے دوب مرنا چاہی یا تو ان کو دوبا دہنا چاہی جو دھنوان ہے اور پھر بھی ستھ کرم نہیں کرتا دوسروں کے آنسوں نہیں پہنچتا اس کو بھی پتھر بان کر دوب مرنا چاہی اور جو نردھان ہے اور دوکھ سہنے کی آدت نہیں دالتا اس کو بھی پتھر بان کے دوب مرنا چاہی نردھان کو سہشون ٹھونے میں سہجتا ہو جائے گی

اور دھنوان کو دوسروں کے آسو پہنچنے میں سویدا ہو گی جس کے پاس دھن ہے یو گیتا ہے وہ دوسروں کے دوکھ دور کرنے کے کاریے کے دوارہ اپنا قلیان کا سکتا ہے اور جس کے پاس دھن اور یو گیتا نہیں وہ دوکھ سہت کر تپسیا میں بدال کر اپنا قلیان کر سکتا ہے جن انڈریوں کے آکر شنمن نردھان بھی بھا جاتا ہے دھنوان بھی بھا جاتا ہے تو آتما کی آدھوگتی ہو جاتی جن گدھی گتگان کا آدر کرتا ہے تو انڈریوں کو ٹھیک مارگ سے چلاتا ہے حالتو کھا تھا نہیں حالتو دیکھتا نہیں حالتو سنو ٹھا نہیں حالتو سمئے گا원이assung نہیں ہے وہ جن تو کرتا ہے لیکن ہوشت کی نہیں وہ ویپا حالتو کرتا ہے يیکن جرور ہے باکی کا سمئے وہ بچالے تھا ہے ایسا بودھی Μان منوسو ایسی جانم میں کو سبرمہ پرمาتما کے گیان کوشبرمان کر لے تھا ہے

ایسا بودھی Μان منوسو ایسی جانم میں اسبرمہ پرمہ پر مادمہ کے سوکھ کے راستے قدم رکھلے تھا۔ پیسے اتی لو بھی آدمی دھن کا دوش نہیں جانتا۔ ایسے ہی اتی سوارتی اتی لو بھی اور نگور آدمی۔ دھرمادہ کے دھن میں کتنا دوش ہے وہ نہیں جانتا۔ کسی کی ساتھ پیڈی بارباد کرنا ہوتو اس کو دھرمادہ کا دھن ہڑپ کرنے کی آدت سکھا دو۔ ساتھ پیڈی کنگال ہو جائے گی۔ ساتھ ساتھ پیڈی کنگی نہیں ساتھ ساتھ پیڈی۔ اور کسی کی ساتھ پیڈی چمکانہ ہو۔ تو دھرمادہ کے وستوں کا ساتھ پیو کر کے اپنے بودی کا ساتھ پیو کر کے آہ پر دوسروں کو ستھ پیش کر میں پریتی کروانہ سے کھادو۔ اس کی ساتھ ساتھ پیڈی کر گیا گی۔ اس کا بھلا ہو جائے گا، منگل ہو جائے گا۔

اس کے دوارہ دوسروں کا بھی منگل ہوگا۔ ہری سمہ جگہ کا چھو بس تنہیں, پریم پن تھا سمہ پن تھا, ستگورو سمہ ستجنہنہیں گیتا سمہنہیں گرند. بھگوان کے سمان اس نشور جگت اور بھگوں کی کیا کی مدھ ہے? بھگوت یہ سکھا کے آگے, بھگوت یہ جان کے آگے, بھگوت یہ آنند کے آگے. اور بھگوان کے باستبک بیابق سورو کے آگے, اس جگت کی اکلہ بیزوں کی تو کوئی کی مدھ نہیں ہے. کتنا بھی پالیا تھا لیا یہ کewelman میں ہوتا کے اتنا میرا اتنا میرا. نہیں تھا تب بھی تم تھے, اور یہ سب ایک دن نہیں ہو جائے گا تب بھی تم رہے ہو گئے, تو تمہرے میں تو کوئی بڑھوٹی گٹھوٹی نہیں ہوئی. کewel кالپنا میں ہوئی کی اتنا میری پاس سمپتی آئی, اور پھر кالپنا ہوئی کی اتنا سارا میرا دھن چلا گیا. تو تم دھنوان بھی کالپنا کے دنیا میں ہوتے, اور نر弹 بھی کالپنا کے دنیا میں ہوتے.

تم نے کرسی پالی بڑے نے تا ہو گئے, بڑے نے تا ہو نے کے پہلے بھی تم جو تھے اور کرسی چلے جانے کے بعد بھی تم رہ ہو گئے, تو یہ بیچ میں کالپنا آگے میں بڑھا نے تا ہو. بڑادھنوان ہوں, بڑادھ دکیوں, بڑادھ سکیوں, یہ سکی اور دکی اندریع گتگیان کو ستبد دیتے. Indriya katt gyan mein sattepana aajata hai, hese liye kalpit sukhdukh oure koddabhojde tha hai, to Indriya katt gyan aur buddhi katt gyan ke bhi chmimman hai, jhuk ke khat tha hai, kabhi to Indriya ki haam hai hakar ke buddhi se signe char kara le tha hai. aur fird chhat pata tha hai, aur bhi tarshe fird nirin hai ho ta hai ki galti ki hai, akha naitha halekin yaar ki aakare galti ho gayi. Ae sa ae kbhar nahi aur ae kivyati nahi, haan pad nahi, padha nahi kha nahi bhal bhale se uta reta hai. Jhuk ke indriya katt gyan ke aakarshan mein bhat tha hai man,

buddhi kop khusla le tha hai, jhuk kem jor buddhi hoti to khusli liye jati. Ise liye buddhi kop balwan bananne ke liye bhagwan surye uttran ki aur chal rai, aajse liye sankal karo, ke he buddhi ke adi shtata adi ho, tumbhari saurye sakti, tumbhari rog prathigharak sakti, mire tan ko pust aur tandrastakare aur tumbhari hi. Aajdhyatmi ki sakti, mire mati kodratade tha ki man ke chakkar mein aaye, man ko bhi indriya sainyam karke, chakkaron se pahar karne ke liye pahar brum mafarmat mati yaatraata hai. Pagwan krasnone yudhishthara ko kaha, ki manu se ko mani maala adidharan karna chahi, kise ka sukra prabalo tha hai, kise ka sani kise ka kai, kai par problem to jhu mani vani paita hai, to ske shari par man par hugrahun ka,

vi prita sarjoho tha hai, aur pahar nahi sakti hai, to bhi bhi me sain mati.

Narayi nahari nahari nahari. Tami dharodar ki cintaphi karna karo, tum parmaatma ka ji kar karo, vastavigyan ka ji karo, vastavigyan ka shaman karo, vastavigyan ka adar karo, vastavigyan ka manan karo, tupir uske prabhao se tumara aaye ki sabkarae sabkhao hojaaayegaa. Bade me bodhi saffalta konesi ki, aap jo chahe wo hojaayegaa, i bade me bodhi saffalta hai, naha, bade me bodhi saffalta hai hai, ki aap ki chaha mitthi jai, aap ki i chahe waasta hai mitthi jai, aur aap jo chahe wo ho, tabi bhi aap ko jada haarsh naho, aur aap jo chahe wo nao ho, to aap ko shok naho, yaisafald裝 ke baap ka bhi bok, aap hai, aap jo chouhe, vauggrahodar hai gaayegaa aap,

aap hai vasjaha, aur chaha pårei karne ze chaha mitte nai, کیوں کے சنگر میں سمہ پورہ ہو جگہ اور ان்ட میں تو ہستو چھوٹ جائے گی سپھلتا کی اپلت دیا ساری ایک من کی قلپنا ہے میرے کو گாڑی مل گئی میرے کو مٹر مل گئی میرے کو لڑی مل گئی میرے کو چار چھوکر ہے پھلا نہ ہے لیکن تو میں آئے تھے تباکہ لے جاؤگے تباکہ لے بیچ میں قلپنا بھڑے کھپری میں گئیتنا ایتنا ہے نیرا دکھا ہے اور گیا ہے اسی کا نام آیا ہے دوکھے کا دوسرا نام آیا ہے بدوسار اوچھے اپنی کرپاچھے گرنو گرچھے وادیچھے گاڑیچھے لڑیچھے موجھے لیلا لہرچھے

لیلا لہر پر نورتیونوں جد کو کم ٹیکسنوں نوٹیس کیاڑے سوکا بھی نہ کے کئے گیا ہے نہیں لیلا لہر تو اس کو ہے جس نے لہر کی پروانا کی دکھ کو سوپنا سوپنا و Dorothy lors Heartney iği人 screw up the edge and then rolled up against the wall ché்கिட்டிட்டாலின் கuthழி நின்றிடுவில்ats பார்க்காfillhi பண்டாயிருங்க தானகிழ்ணை பன்னாயிருங்க தானகன naprawdę பிண்டா பணilippakhaira பண தார்கவின் என்றால், பண தாருங்க P Dienst Pastel potentially a hole-on each leaf

but these are پیلہ ہو رہیداز چمار ہو یا اور کوئی گریب گر باک۔ ایک ان جس کے ردے میں بھگتی پریم آنند ہے وہ تو محراج بڑے میں بڑا جو پر ماتما ہے اس کے باستہ بھی گیان کی طرف جا رہا ہے اس لی اس کا بڑا پند تو اچھا ہے کیوں کہ بڑے میں بڑا جو پر بو ہے اس کے ساتھ اس کا طال میں ل ہو رہا ہے یہاں چھے ماسہ اُتراین اور چھے ماسہ دکش رائن کے یہ ماس ورشم بڑا لتے ہیں اس میں بیچ میں جو پھڑے دنوں کی گیب پڑھتی ہے بیچ میں 3 سال میں ادھیک ماسہ آتا ہے اور کبھی کا بھی کچھ ورشمیک شہی ماسہ آتا ہے شہی ماس میں شبکر من جنے یو شادی بھی وہا آدی نہیں کیے جاتے آدیک ماس میں جاتپ آدیک کیے جاتند SECRET ایک ہیں ب Associendiplantnak شہی ماس میں بھی Лیا جا چاہگا

اور آدیک ماس میں بھی لیا جاتا ہے اور دوسرے ماسر میں بھی لیا جاتا ہے یہ بھی گஹان سے دا ایک KLM inici astronauti اور بھی گஹان کا چنط ourselves کے شہی کھاج Mtl ஒچھتے ج Official of Wastav journalist, ξی nationale internationals first grateful people, Ve District of India, Ve District of India who knew that point, Ve District of India was the same to me. Despite the fact that around 28 a.m., Ve District of India, many people called theDCLG a wedded signature to continue society. Ve District of flowerlike style was the main reason for Shri Kane beginning to be proud of the exclusive Kえ Farbha. Ve District of まだ is잡a, isacious person who keeps on جب سے もنسائیں تو تا ہے منکر جو تم گنفشیں ہوتا ہے جب سے شاہنتی جب سے آنند جب سے باکتی جب سے سائیں ام جب سے صدیرا تھا پرمتما کا بھی انگو ہوتا ہے

جوبر مویتا ہے بے کیسی سے چیزا ہے fs جوبر ماewet aai verifyhi si se dwehs Niethe, leche si se rag, Undhe Jyote, Why Buodsyan sarke suphabhakti Kaalmāsh ego pi, puzhaka aur marak, Ki pelatibe, Undhagal mein, Radha dhaal P learn Ge, Ni mupik, پلتی بھی انتھا کر میں راگ دمیش نہیں رکھتے وہ اتن کوٹی کے سادھاکھ ہے بس ٹو یکتی آدی کی آشہ بیو اتمان نہیں داگ دیتے ہیں وہ دو اتن پر ماتنہ کو پانے کی آشہ سے ہی بھارے ہوئے دل ہے انی لوکوں کے سادھوک سندھا کے لئے نبرت ہو جاتے

جو بہار کی بھوگ کی آشہ چھور کر اتمسک میں لگے ہیں جیوان میں یہ تین جیجے بہت جاروگی ہے سوست تھے سنمانی تجیوان سوست شریف سنمانی تجیوان اور سوک شانتی سنمپنی تجیوان سائیم سے سوستھے کے نیاموں سے شریف سوستھے کر لے اور دوسرے کو ماندے نے کی آدت سے اور دوسروں کی بلائی کرنے گا اور دکھاکتر تا کی آدت سے جیوان سنمانی تھونہ لگے گا ایمانداری سے دوسر کے دکھا کی نورتی میں جیتنا لگیں گے اتنہی اپنہ انتاکن سکی ہو لگے گا اور سنمانی تجیوان کے دوار کھلے گے جو سیوہ کرتا ہے ادوسرے کی سیواتوں کیا کرتا اس کے انتاکن کی سیوہ ہو جاتی گریب گرباتوں تماری بہار کی چیچ کا پائیدہ لیتا لیکن تم تو سیوہ کر کے

اندر کی سوک کے پائیدے کی دکاری ہو جاتی ہو نیوے کانا نبولتے تھے کہ جن گریب گربان کی سیوہ کرتا وہاں سو پاستے ہو تو تم بڑے اپنے کو داتا مطمانوں اور ان کو دینین مطمانوں ان کی قربہ سمجھو اس ور کی قربہ سمجھو کی اس ورے سی روپ میں آخر تمارے سیوہاس میں کار کرتا ہے ایسی سیواتوں کو سانتی سوکھ دے گی اور آنکار سے بچائے گے دکشنا بھیگو کے دی جاتی ہے اتفتلیا اقشت ملاکے دی جاتی ہے سوجھ کو بھی اقشت ملاکے ارغدےنے کی بھی پر امپرا اردت تمارا کیا وہاں کرمکے وال کشہ ہونے والے آنکار کو اتفاوہ وائی کو نہ دے تمارا کیا وہاں ست کرم اقشت ملاکے اقشت ملاکے دکشنا بھی گا کے دی دیں کہ وال روپے پیسے نہیں

اس میں اپنے بھاو بھی ملاکے دی دے بھاو سے کیا وہاں ست کرمہ اندگنا پنی داہی ہو جاتا ہے قائدیسر اگر ٹیکس بھرنا پڑھتا ہے اتفا سا جاکھ مل جاتی ہے دو آجار دند بھرنے کا دند پڑھتا ہے اسے کوئی پنے نہیں ہوتا ہے ایکن بھاو سے اگر دو آجار کر چلیتے دو ردے میں سانتی اسی سمیاتی ردے کو سنتوش کا سکھا بھی ملنے لکتا ہے بھاو ہی بھی دیتے دے وہ چہیتل کے دولہ دو دو کسی گریب گربے کو اتفا میترا کتمیک چہیدو مندو لیکن اس میں اپنے بھاو تو دسمان ملاک رکھو بھاو ہی بھی دیتے دے وہ بھکوت بھاو ملاک کر دو کھنے والا بھگوان دینے والا بھگوان میری ہم کا کیا ہے کام یہ اُتتم دان اور اُتتم درستی ہے

اتتی تھی ستکار اور شرناگت سیوہ دن کے تین ہی دیکاری ہوتے مرنے کے بعد پتنی پتر اور شرناگت وقتی دن کا دکاری ہوتا ہے سیوہک جا تو جس نے سیوہ کی آئئے وہی دن کا دکاری بچادن کا دکاری پتنی دن کا دکار دن کے تو دکاری پتنی پتر اور سیوہ ہوتے But bhakti ki adhikari, tu sabhihi ho jata hai. Bhagwan ko pane ka dhikari tu sabhihi ho sakti hai. Mahar ka dhan tu tomahre tine vakti adhikari ho gayi. But bhakti dhanur bhakti ka dhan tu sabhadi kari hai. And tu maharavadhan, jitna barti ho knee barta hai khutta nahi. Ekat bhatar samadle hai ki hapne jeevan mein koi na koi na knee amlelo. Koi na koi saara nae amlelo. Bata hai tha ho saikal ki baat saikal bhaakti huya raif si painin visal mara.

Hai saikal ko roko roko naam likhonga. Ho bhol tha hai khaki kapre wale hatt jao hatt jao phagironga. Bhola keum kerega. Bhola saikal mein bati nahi asi baat nahi break bhi nahi hai. Tum hatt jao. Tum kya tumhare jeevan ki saikal mein sainam ki break hai ki nahi. Agar nahi hai to aaj se hi lago halu break. Kaum se kaum itna ganta moong dhaoonga. Kaum se kaum itni malar hojja punga. Kaum se kaum aayka itna hi sa satkar mein lagaonga. Kaum se kaum itne panne sat shastra ka punga. Kaum se kaum meinne mein itne din ekant mein rahaonga. Atwa meinne mein aaj hai meinne mein itne din ekant mein rahaonga. Ithne ganta ekant mein rahaonga hapta mein. Aesha ko inniyam manala hooshniyam ko laga rao. Tum hvrati na dikshaam maapnoti. Tum kuch hvratar lehti hoto dhaksatati hai. Dhaksatase tumh ko apne haap mein shraddhao huge. Shastra prasraddhao huge. Bhaagwan peshraddhao huge. Aar hoosh hraddhai tumh ko sattya sarhopeeshwar punga la deke.

Ithne lejeevan mein koi na koi na koi hvratar le na chai. Koi na koi na koi na koi na koi na koi na koi na chai. 10 min. bat ke yeh asan karunga. Padmasan te 10 min. bat keh. Girge pranova ka jbka reh. Hari ke nam ko mila kar. Bhaagwan peshraddhao huge. Bhaagwan peshraddhai hoto maapnoti aur hvratar lehti hoto. Mansi kee bhi hho tha hai. Bhaagwan peshraddhao huge. Bhaagwan peshraddhai hoto. Mansi kee bhi hho tha hai. داؤந்தை மெளி ہے gentleman li hatt juthe mele oske pass ki tna poem Chuid artifactap di ho忠 microbes enfy Totatge Tech facuk 一 dar Chest na rain ho sku timong Tous ke chal kha chal khat dmd Pradou iskaal mein bo benpradou iskaal mein ¯ pro shoud si Pradou iskaal mein kin Pradou schaaal mein miatht thinly چہے گری بھی کے کپڑے وہ ساپ سوترے ہوں پہنے ہوئے,

یہ جو پڑ پٹی کے لوگ بچہ رہے, آدہ تو نہ دانی کے کارنی دکی ہو رہے ہیں. میں نہ تکھوں کرتے مصدوری دکھوں کرتے لیکن یہ درم کے رہسے, سکھیوں نے کے رہسے کا گیاں نہیں اسے لے بچہ رہے جادہ دکی ہے, کتنا سر کار کر چا کرے, کتنا اپنی سمیتیا کر چا کرتی ہے, کتنا ٹرست کر چا کرتے لیکن یہ تو وہیں کہ وہیں پائے جاتے. ان کو بھی خدتنا چاہی اس سمجھ کا ساہرہ لے نہ چاہیے, اسی لیا پن لوگ ان کو ست سنگ سنا کر بعد میں آنات دیتے. رہسن کارد ہے کئی گاؤں میں ہاشن کے طرف سے پری رہسن بٹتا ہے, ایکن رہسن کے ساتھ ست سے ویداریوں کو ست سنگ سناتے, کیرطن کرتے اور بھی لوگ نہھنے دھونے لگا ہے. وہ رہسن تو دیتے ہیں ان کو سبجیہ رہسن وہسن کا پڑا دیتے, ایکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بھیک مگنے ہو جائے پراشفت نہ ہو جائے. اپنے پیر پے کھڑے رہسلے ان کو ساہاں سے سائیم پر شاہر اور پویٹ رتا کے گون بھی دینہ ہم لوگوں کا کرتا بھی ہے,

ان کو پر اٹھانا ہمارا کرتا بھی ہے. آپ کے پاس جو بھی ہے یو گتا اس کو بہو جن ہیتا ہے, بہو جن سوکھا ہے, کرچ کر یہ یہی انتی کا مارگ ہے, یہ یو گتا کا ستو پیوگ ہے اور یو گتا کو بڑھانے کی ماشتر کی ہے, آپ کی جتنی بھی جو بھی یو گتا ہے, اس کو اس ور کی پر سنتا کے لئے, سمعج روپی اس ور کی سیوہ میں لگا دے, پھر دیکھ مجا, آپ بھی سوکھی آپ کے سمپرک میں آنے والے بھی سوکھی, جو یو گتا ہے وہ اپنے سریر کو مجا دلہنے کے لے لگا ہے, تو آپ بھی ٹنشن میں آپ بھی دوکھی اور بھی دوکھی. آپ کے پاس جو بہر کی چیج ملی ہوئی چیج ہے وہ سمعج کے ہیت کے لئے, لگا ترے شریبی ملا ہوئا ہے, سمعج کے ہیت کے لئے, سمعج روپی اس ور کی سیوہ کے لئے, تو آپ کر ردے کا اس ورطت تو پر گت ہوگا, نے تو بہر کی چیجیں آپ تھام,

تھوبتے جائیں گے, تھامتے جائیں گے تھامے گی تو نہیں, کے والوں کا چنتن تھامے گا, انت میں چھوڑ کےی مارنہ پڑے گا, اس لے ان کا چنتن تھامے, چنتن پر مات مقاروں کا اوپیوگ, وستن کا اوپیوگر چنتن بھگوان کا, وہ آپ کو بگوان سے ملا دے گا, ہےیسا کون ہے جو دک کے سمعج دکھی نہیں ہوتا, ہےیسا کون ہے کہ اشانتی کے سمعجان اشانتی نہیں, ہےیسا کون ہے جو امرتیوں کے سمعجوں کو امرتیوں نہیں چھوٹا ہے, ہےیسا کون ہے جو تمارہ پر مدر ہے, ہےیسا کون ہے کہ موت کے بعدگی جو تمارہ صاتھ نہیں چھوٹا ہے, ہےیسا کون ہے کہ پرم سندر ہے, سارے سندریوں سے اتپن ہوتے ہیں, ہےیسا کون ہے جو پرمbeer ہے, سارے viro کو وہی دیتا ہے, سبbeer اس کی کرпа کے بھی خارے, ہےیسا کون ہے جو پرمbeedwan, ہے سارے vydwanوں کی بیدیا, اسی گر ہے مطس آتی ہے, ہےیسا کون ہے کہ ایک سب سندروں کا سندر ہیں,

ھسا رہ سندھری اسی سے نہیں کرتا ہے ھئی سا کون ہے کہ برمہ کو سرشٹی کرنے کا حبشنوں کو پالن کرنے کا روض کو سنگھارنٹ کرنے کا سامر تھے دیتے ہوئے بھی اس کے سامر تھے میردی بھر کی کمی نہیں ہوتی ھئی سا کون ہے کہ جاگرت میں تمہرے ساتھ رہتے ہیں سوپنے میں بھی تمہرے ساتھ رہتے ہیں سوشپتی میں بھی تمہرے ساتھ رہتے ہیں اس کو خوجو اور وہ ہے واسطری کے گیاں آتما وہی آتما وہیاں پرہنسلے پر ماتما گڑے کا حقاش محقاش ایک ای ہے ایسا جن کو شروعن کرنے کو مل گیا تھوڑا مانن کرنے کو مل گیا ایسے لوگ جب پرانت دیکھتے تو ترانے کے رستے سے دن کا دشتا تھا دیوتا ہوں کو سکلپاکش کے دشتا تھا

ایک نوش کا برمہجے کا ایک نوش کا پر bénدین شروع ہوا اور وہ بھی آدھا پر آو پھر بھی پھر چاص برمہجے کے تو اپنے درتی کے تو کرڈو اب جو اوبرش ہو جائیں گے وہاں تک وہ برم مصکھ روبتہ برم لوکتا بعد میں برمہجے کا تھوڑا ستطتو گیاں کا اوگجیش پاکر جس میں برمہجی لین ہوگئے اسی میں وہلین ہو جائیں گا کہاں تو سرشتی کرتا اور کہاں یہ سادہران چاہ اٹھا دال دھنیا جٹانے والا جیب ستسن کے بلیاری کیوں اس کی برابری کرا دیتا ہے گور کی بانی بانی گور بانی پیچھ عمرت سارہ اسی لئے و سیش جی کہتے کہ رامجی گیانوان کی بھلی پرکار سیوہ کرو ایمان داری سے وپھا داری سے گت داری سے نہیں دیکھا وڈی سے نہیں گیانوان کی بھلی پرکار سیوہ کرو اس کا بڑھا اپکار ہے قتھا وڑی اپنے شد میں آتا ہے یام یام اچتی منسا

جس جس لوگ کی منس سے اچھا کرتا ہے اس اس لوگ میں اپنے ششک کو اپنے بکتک وہ گیانی گیت سکتا ہے جیسے راسترپتیت فا پر ایمینیسٹر جس جس راجج میں چاہی اس اس راجج میں اپنے پہچان والے آئیس آفیسر کو کلیکٹر بنا سکتا ہے لیکن وہ چاپراسی کو کلیکٹر نہیں بنا سکتا ہے یہ بیتنا سکت ہے اگر چاپراسی کو کلیکٹر کرنا چاہتا ہے کوئی راسترپتی تو سیدھا کلیکٹر کی پوچھ میں نہیں سکتا پر ایک شاہوں سے پسار کا وائے گا آئیسے گروگ اگر برملوک تک پوچھاتا ہے تو کئی رتن سے دھان سے سیواز سے بھجان سے ہم لوکوں کو پسار کر کے برملوک تک بھی سکتا ہے جو انکر تک بھی سکتا ہے جو انکر تک بھی سکتا ہے جو انکر تک بھی سکتا ہے

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →