Jan 5,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
780 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 5,2026 Monday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
پریم اور آنندھ کا پر تیبیم سمجھ چیتن کا پر تیبیم سمجھ ستھیر تاڑھ کر. ستھ کا سناتن درم کا ویشش دھانڈک. تو ستھ ہے. اور ستھ شرید مرا ہے. تو چیتن ہے جر شرید بھی لہو رہ ہے. تو اتما بم ہے. تم نا بھی پیچانوں لیکن میں تمیں پیچانتا. تمہ مراتما ہو میرے سناتن پترا. تم بھی سیسری سے ننکلو لیکن میں تمیں نکالے بھی نہ نہیں ہو. lerini بتاع 까ڑیں گا ہے. تمہ این ہی ایٹushingا گلی،
تمہ ایٹ вкус پیچانوں تھا گل کر جلے گر، تمہ این clinicianThis is Bこと, تمہ ایٹ showsนی بیچانوں dalsr. اور جو ستسنگی ہیں, پروپ کاری ہیں بھگوٹ دہان بھجان میں امرنے کے بعد بھی تو امر ہے. ہے امرت پترة تم ارتان نہیں ایسا جس نے جان سما ہے وہ دھن بھگی ہے. اسکڑکہ ساکشی تجھیں تنیا ہے اس جان میں جس کی پریتی گتیوری وہ دھن بھگی ہے وہ امر ہے. امکارکہ جب کرے دھن کرے محپورشوں کا سنگر سیوامے تت پر ہے وہ جیتے جی مبتاق مہیمارنے کے بعد بھی امرتت کو پہلے تھا ہے.
دھنیا ماتا پیتا دھنیا مگوٹرم دھنیا مکلوڑ بھگا. دھنیا چاوہ سدھا دیوی اترسیات گروبتتا ہے. جو پاکھن دیادمی ہے وہ جیتے جی مرا ہوہ ہے جودتا دمی جود تھا. جو گروب گیا گے جود بولنے کے ہمت کرتے ہیں ان سے بڑا باکہ کو پاکھن جود تھا. اتی کامی نہ مواسیہ دیکھیں نہ پونوں دیکھیں. جن مستمین دیکھیں نہ شیوراتری دیکھیں نہ حولی نہ دیوالی کام بکار میں جو پھسلتا رہتا وہ جیتے جی مرا ہے را گا ہے.
دھنو تے ہوئے بھی جو ست کرم دام پونے نہیں کرتا کنجوشی کے کارن دھن مستمع کر کر کے مر جاتا ہے. وہ تو جیتے جی مرا سمجھا. جس کو اچسی بات سوجتی نہیں. اچسی جگا پر بہتنے میں روچی نہیں. مود ہے. او جیتے جی مرا ہے. جو بھاؤنا سے دریدر ہے. کرم سے دریدر ہے. باکتی سے دریدر ہے. پیسے سے دریدر ہے. وہ جیتا جی مرا ہو گا ہے. جس کا کہیں اپیوگ نہیں. یا شنین دوسوں پر بو جا ہے. وہ جیتے جی مرا ہے. جو کسی کے کامی آتا ریشہ سے پریم نہیں کرتا. وہ جیتے جی مرا ہو گا ہے. جو اتی ورد ہے. اور ده کو میں مانتا ہے. سنسار کو ستی مانتا رمجے کوئی بچائے کوئی بھلا کر دے.
روطہ ریکھتا رہتا ہے. وہ جیتے جی مرا ہو گا ہے. جو سدہ روگی ہے. مان سے تن سے وہ جیتے جی مرا ہے. جو اتی کرو دی ہے. وہ جیتے جی مرا ہے. جو ایشور سے شاستر سے سدگرو سے ومکھ ہے. وہ ابہا گا جیتے جی مروتیوں کے کائی میں گل میں گیا ہے. گیار مواگ اقتی جو سروتی سنت کا بچن طال دیتا ہے. رو دھی ہے. وہی د شاسترگیتا اوکنی شت کا رو دھی ہے. وہ جیتے جی مرا ہے. گو ماصر مدر آجس کو پری ہے. وہ جیتے جی مرا ہے. جو نندق ہے. جسکیسی کی نندق کرے گا اور
سنت کی نندق کرنے میں بھی دیر نہیں کرے گا وہ آبا گا جیتے جی مرا ہے. کبیرا نندق نامیلو پاپی ملو حجار ایک نندق کے ماتے پر لاق پاپین کو بار جو کےول اپنے شرید کو پوشنے میں لگا ہے. دوسرے کا خیال نہیں رکتا رمانے کے بعد کی اترا کا بھی چار نہیں رکتا وہ جیتے جی مرا ہے. اور جو اتی پاپی ہے. اس کا تو کہنا کیا. وہ جیتے جی مرا ہے. ایسے جو اتی پنیا مہے مرنے کے بعد بھی امر ہے. اسے چھو دا بھی پرید باتے جو رو دو تو مرنے کے بعد بھی امر ہے.
اتی پاپی سے اتی پنیاتما مرنے کے بعد بھی اپنی ایسے جیویت ہے. جس کے جیوان میں پاکھند نہیں سچاہی ہو مرنے کے بعد بھی امر ہے. جو کام کا گولام نہیں ہے. رام کے رس میں تربت ہے وہ مرنے کے بعد بھی امر ہے. جو دانی ہے اُدار ہے وہ جینے کے مرنے کے بعد بھی امر ہے. جو شاستر سنتے ہو بدای ستسن سے مدتا چکاہ مرنے کے بعد بھی امر ہے. جس کے جیوان میں ستسن کا دھانے جا پر دھان کا دھان ہے. سیوہ کا دھان ہے وہ مرنے کے بعد بھی امر ہے. جو بھگوت جیس سے سو سمپن ہے وہ مرنے کے بعد بھی امر ہے.
جو کروض کا درشتا کروض کا ساکشی ہے اور انوشاس نہیں شکتی کا اوپیو کرتا کروض دیکھنے مرکہ ہے. وہ آکروضی مہا پروش شرین مرنے کے بعد بھی امر پد کا دانی. جو اشور کے سنموک ہے وہ شرین نہ ہوتے ہو بھی امر ہے. جو شوطی اور سنت کے رس میں رسوان ہے وہ مرنے کے بعد بھی امر ہے. جو شوطی سنت بگوت جنوں کا ستسنیوں کا ہیت چاہتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی امر ہے. جو کےول اپنا شرین نہیں پوستا شب کا شرین اپنا روک جانتا ہے وہ مہا پروش شرین نہ ہونے کے بعد بھی امر ہے. آنے کو شریروں میں اپنا او جتےج برسایا ہوا امر آتما.
جو اتی پنی آتما ہے پنی پروں کو دھان بجن کرتا ہے کرواتا ہے. دیہ چتا جنی دشاہ برتے دی ہاتی دتے گیانی نہ چرن مہو وندن ارگنی تھا. ارنا جینہ شرین کا کل ہے. دو کی سکی من کا کل ہے. چنتی تھا. نیش چنت چتکا ہے.
میں پروکہ پروکہ پروکہ میں رائی سے کرتے ہیں. اندر آنندی دالا دی تو تجاو. پوڑ جیوان تو جیوان ہے. لیکن موت بھی تو مارے پرام جیوان کی سواصدے گی. نہ ہونے کے بعد بھی. امر برمم کے ساتھیں گے. تنسے تلنا کینا جائے تھے. برمگانی کی مطقون بخانے نان قبر مگانی کی گستبر مگانی جا. برمگانی.
سکل اصشت کرتا. برمگانی سد جیواتن نہیں مرتا. برمگانی جس نے پالیا و سداجی تا ہے کبھی مرتا نہیں. دیکھی مرتیواتن نہیں. سمجھ کی مرتیو شانتی کی مرتیو باکتی کی مرتیو ست کرم کی مرتیوی. جندو کو ماربے کیم. اور سدبنوں کی سمجھ مرتاکوں کو بھی امرتا پر دان کر دیں. شبری گتی را. رامتیلت گتی ہو. بلانب جی گتیاری یا. مرنسر گتی اللہ.
ومقار کے درگوں چارر میں سنکل پیکل پنی ہےی تو امر حتما کی خدا. اور مرک گیج دوسرا کو سپندنی نہیں. امرتا دور نہیں دور لب نہیں طرح نہیں طرح ہے. شوا سندر گیا. சندھر گیا ہوا, بھا رہے تو گینتی, تین گنتی روچ جو جب کرتا ہوا, عمر فد کو سہج میں پانے تھا. حسی وہ کلی وہ دھری وہ دیا, اہار نشکتی وہ برم گیا. سندھر کا سمئے تھا, اُجھین کے برحمل نے دیکھا کہ کوئی سادو بیٹھا ہے, گوڑ سے دیکھا کہ یہ سادو کے روپ میں بیٹھ ہوئی ہمارے,
اُجھین کے بھت پورو سمرات برطری. رہا دیر آج مہرہ, اُجھین نگری کے سمرہ اور رہا ہوا, مرنتی کی جائے ہو جائے ہو. کیسے برحمل بلی ہاہے تھے, ہر دو آڑیشی کے شماعے آتا, دیشن کروا. آپ رہت پاٹ چودی نے سندھتا ہے, چھوی سامڑی تو پنگتے رہے, مرہت سویٹلے مندن کروچھوں. کیسے واقعری برحمل, بلے جیسا بھی آپ کو, برحمل کو میجای داکشینا, اُجھار برطری نے چتھ لکھ دیا مندریوں پر. بھت دیمان مندریوں نے دیکھا کہ راجہ راجہ پاٹ چھورکر, سندھ بن گے, اب یہ سندھ کی چتھے, سران کو لگای برحمل سو بھی آنا,
ساتھ کھجانے کھول کر رکھیں گے, جس کھجانے کا تم کو جو دھن, اٹھ اٹھا سکھوں لے جانا. چانڈی کے روپےوں کا بھند آر دیکھا, سونے کی گیمیا دیکھے, لال دیکھے, موتی دیکھے, مانک دیکھے, ہی رے دیکھے, جو آر دیکھے, ایک سیکھے, سندھ کا در سندھ بیرتھ نہیں جاتا ہے. بولی اس بندار میں سے میں جتنی گتشی, اٹھا پہنگا اٹھنے میں رہا رہے گا, پیکنی ساتھ بندار تھے چھور کر گئے ہیں. اب دو چھوڑی نے ہے, حسی, سیار نہیں ہو, سول حجار کروڑ کے سولہ کروڑ نہیں آکھو راجے, اب جو خب جو, چھور کر جو چیج پانے کو گئے ہیں, وہ چھی جون چھی ہونی چھائے ہیں.
چھیک تھی واپس لییاں, پھر اٹھ جن کا برہمان گیاں, ریشکےش کے نلکنٹھے شاہر, نلکنٹھ کی گاہتی ہونے, ریشکےش سے اپر نلکنٹھ رستا دیا تھا, بھی تو بس دی ہو گئے, ہم گئے تھے تک پیدل کا رستا تھا, شانتواتا ہونٹھ تھا آج سے 30-40 سالبے, تو سے کرو ورش پہلے تو اور سلناتا شانتیتے, پر اپکنٹھ تھا مسئیں گاڑیاں سرکے نہیں تھے, کبھی کبار کوئی آدمی دیکھنے کو ملے. رہاہ بھرتری ویٹھ ہیں کانتھ, مہر آجی چھی چھی آپ کی, بڑا آدر کیا تھا منتریوں نے ساتھ خجانے کھولکھ رکھے اور میرے کو دکھائیں, مجھے کنہ اٹھا سک کو لے جاؤں, لیکن جو چھوڑ کر آپ آیاں ہو, جو چیج پانے کو مجھے اسی میں سے پر سادیچھ,
آبادو چھوڑی نے آپ آبیا چھو نے جنا ماتے, جی تم نے پر آپ تھا چھے ماتی چھوڑوں کا پونے, آپ یہ سب کیوں چھوڑ کیا ہے, یہ بات مجھے سمجھا ہو, اور جس کے لئے چھوڑ کیا ہے, اس میں سے آپ کو جو ملائے, تھوڑا سمجھے تھوڑے, بڑڑی مان راجام, پراتری نے کھو سام نے گاؤں ہے, پاہڑی سام نے دکتی لیکن چلتے چلتے شام ہو جاتے, ماما گھر کے لئے دی وہ بڑھیک لے, 10 مارا کلومت رو دور والام, پاہڑی اندری تو دکتا ہے, مال داری آئے تھے, گائے ہو بہیں سو بکھرے والے, تھوڑے گھر, لوگ دکھ رہے تھے,
جا اُدھر سے دہی لے کیا ہے, کچھ سیوہ کرو تو میوہ ملیں, سنت کی سیوہ بھاکشہ لی کو ملکتے, سنت کی سیوہ اور سنت کی آگیا پانلے سے بھاگے کی رکھا ہے ملکتے, میں تتکتی نکو انکہ بھالے کے بھاگے کے کو انک ملتے, برامننگا کے دہی مانگایا ہے مہرار میں, وہ لے ابھی دہی جمادیا ہے, تم تھوڑا, تو پڑا کھالوں, پانی پیوں, سامنے گوپا ہے, بیٹھوں, نارام کرو, دہان کرو, بہی جمے گا تو تم لے جانا. گوپا کسی پوروکال میں, سنت کی دہان کے وائبریشنوالی گوپا دی, بیٹھے اور, یہ وانی اور دہان کی پراوانے, اس بات میں آپ سندے نہیں کرنا, میری گوپا میں نے کسی
تار بابوں کو کہا, تم بیٹھوں بعد میں بات کرتے ہیں, سوبی آیا تھا سوریوں دیکھے سمیں, وہ بیٹھا تو بیٹھا ہے سے بیٹھا کہ ہم بار بار دیکھیں دوٹھتا نہیں, تو میں کئے کو اس کوٹھوں, شام کے پاچھ بڑے گے, پھر میں نے اس کو گولایا, منو ہار, منو ہار, وندہ کہتا تھا, داروں پیٹھا تھا, اس کو مقان کی جو روطی کرائے, پھر مقان مییا, و آشی وانلے نے آیا تھا, وہ نے گھاڑی دیکھیں, دیکھیں, دیکھا, سمیں کے پاچھ بڑے یہ کیا ہو, اب اب اب تمہٹھے رہ میں, کیسے جرہوں, اب اب اب اب بپھا کی بات ہے, اس تھا اندھا رہوں تھا ہے, یا آپ جتنا شانتی سے بیٹھوں, رچہ لگرہ ہے, اُتنا آپ, اپنے پلٹ میں, دہنہ سط نہیں ہو سکتے ہیں, امریکہ کہ ہو اس میں, ایسا پیس نہیں ہو سکتے ہیں, ایبریشن سنساری ہوتے ہیں, سنتکی درشتی اور سنتکی,
چاران اور سنتکہ واتاوان, کچھ اپنے آپ میں مات تو پونا ہوتا ہے, ایک دو دن تین دن بیٹھ گئے ہیں, برامانوں کھا تو دیکھا تو کوئی مالداری ہے نہیں, سنسان, وہ لے گاں کھاں سے لگیاں, ابھی تو ہم بیٹھاں, دہان میں پتائی نہیں کی کچھ نے دن بیٹھ گئے ہیں, بارتری کے پاس آئے وہ لے وہ کیا ہے, میں نے تو دیکھاں ہوں, ابھی دہی دیں گے, آقبند کریاں, کھولی تو سکھنا ہے, وہ لے ایسا یہ سنسار سکھنا ہے, بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں, кب acrednut behestn, وہ لے یہ سکھا ہوں, بچھ فر سکھ نہ, جوا inhabit leurs notions". بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں, بچھا ہوں,
بچھا ہوں, بچھ ہوں!" بچھا ہوں, ب trouble, وہ لے کہاں, بچھ خود ہے نہ, بچھا ہوں,' بچھا ہوں," و آج چکھانے کو ٹھوں کو بھی جاتا. بولہ دوسری چیتھ لکتے ہیں ٹھوں اور آپ بیٹھا جیتنا بڑا تگھانا لے جہا بولہ نہیں نہیں مہر آج اب میں یہ ہی پہنگا. شفیشانچھے. مارے ایسینا 100 دین 18 دیویتا. 500 دین 18 دیویتا. جیکلوچھے بروبرچھے. کیا کریے کیا جوڑیے تھوڑے جیوانکا جی چھوڑی چھوڑی سب جاتا ہے دے گے دھن راج سب چھوٹھنے والا ہے. اچھوٹا اتما کا وی بہوچھے. اچھوٹا اتما کی شانتی. اچھوٹا اتما کا گیاں. اچھوٹا اتما کا آنند. پر بھوتے اتنا مانگے ناو کو ٹی سک سمائے میں بھی بوکھانا رہوں.
سادو بھی بوکھانا جہے. امریک بوکھانا رہوںesso. سادو سا Thingni Seowim mã بجعة timeframe. ای کوئی پنسارہ کم مٹے چھٹے نہیں تو ہے نہ کم. جیتے جی مرنا کیوں, مرنے کے بعد بھی امر رہنا یہ ہمارات لکشوں نا چاہی. مرٹیوں میں بارا فایدے ہیں, اس کا فایدہ لینا چاہی. اور جیتے جی مرہ ہوا چاہوڑے دوروں نے ان سے بچ نہ چاہی. اور یہ سندھر ہو پاہی ہو. سنقل پڑی کل پچن چلتا ہر لے گا. اپنی دیویتا بار لے گا.
یہ ترفو جاس نانو پوجنتے جہا پوجنی ویکٹیوں کا انادر ہوتا ہے. وہاں بھی پتا بائی شوگ رباہوں ہنتا اور مرٹیوں تانڈا کرتے ہیں. جیسے افغانستان میں سنتبت دھا گوان کی مرٹیان مندر توڑے گا ہے. پوجنی ویکٹیوں کا انادر ہوا. وہاں اکال مرٹیوں کلہا اور بھی دھونس نے تانڈو کر کے دیکھایا. لادن کا جیسے کار شروع ہو گیا. بھت دھا کی مرٹیان توٹنے لگی. کرم دکھا رہے کے بابی شوج والہے کے اندکار میں جب سنتوں کو ستایا جاتا ہے. ست سمیوں کو
گندا کہا جاتا ہے. ایسے ویکٹیوں کا بابی شو بہت مندہ ہوا جاتا ہے. کبھی دوچور میں بھی سادو دیکھتے تھے. لیکنیا سادو ست سمیر بچارے جو دوسے. ہے ان کو بھی. نہ جانے کہیسے کیسے گندی شبنوں سے سمبودیت کرنے والے اخبار والرکی بھی حالت کرا ہے. ام تو چاہتے ہیں کہ کیوں اپنا کوئی خندان بربات کرتے ہیں. ایسے لوگوں کے کوئی خندان پورنا ہو جاتے ہیں. آگے کوئی پرمپری نہیں چلتے ہیں. جو سنتوں اور ست سنیوں کو ستاتے ہیں. ان کو بہت کچھ چکانہ پڑتا ہے. اور سنتوں اور ست سنیوں کی جو سیوہ کا پتے ہیں. پر سنتوں کو بہت کچھ براکرتک تو پھمی ایتے ہیں. پرمات میک تو پھمی ایتے ہیں. ان کو چاہتے ہیں. سب کوئیشور کی کرپا کے تو پھمی ایتے ہیں. تم چور بن جاہوں.
جس اسری کرشتن چور ہے. ہری کا نام ایک چور ہے. کو مارے دو کھارلے تا ہے. آگ یان ہارلے تا ہے. یان بارلے تا ہے. چوری چوری. آئی سے چینن والے چینن والے عبدر شکون کے جیبن میں چوری چوری میں سد곤 بھارلون. چوری چوری میں چینта ہرلو کی نے در شکون کی. ان کی چینта ہرلو کیleyeہ, ان کا دوک چورالو کی، ان کا اگ یان چورالو, ان کے گھروں کے کالا ہے, چورالو چینن والے چور بن جاہوں پک کے. سنی کروشن تو پیار کریں گے, ہری بھی پیار کریں گے اور تمہرے در شکگ بھی تمیں پیار کریں گے ενہرے پرو جٹھوں کاphy גیزےГہ. آنے والوں کاphy ம Inga Zhu haeh예 , Multay ant nayay hoe yaan nahay hoe ya bhagwan ki srish Fibs überosing aider xi Didn follow the preached research chaldig, ты onion thasow sab dhou rau hai Bodheettes
نہ raay na haribhavan sabka manghal kare hai prabhu anandadata ghaa na hamukho diji hai tere swarubka ghande tere santi ka ghande, hai dwar kaadis tu sattbhdaya santasatayi, tinojayi, tejbalur, vansh, aisei, kaii, deklora, vankauro, aisei, konsh, satsangyo, kiseva, bhakshali, koo bilti. Bishmajiz, manu kiseya, perksohe hai, aur jho, milne gati, hunka, sattkar, karthi, hapya, baidhi, hapdain, aur viraji, hapbahi aur viraji. 5 Pandavu ko kaitain ki hapke to salakarsi krasdhna hai, kunta maharani, sattivaratadhari, jeshtaputra hai,
Yudhishthara ghandyudhanushadhari, firbi deo ki lila jani ne jati, hapko bhi sansar kastde tha hai, Keshau hai, hapke lieladbhutra hai, hapko me kaabethain, hapko me repalko me bhi rajmano bhi, hapko me re netra me bhai ti saamne diki hai, hapko pithambar parthakata rahi, anajar me re aur rakna, me karnyadhan karna chaathain, hapbal brahmachari karnyaknaa se lahi, mule mere buddhi rupi karnyad ne tumko arpankarthain, indriyaman me lagaonga, amman buddhi me lagaonga, ar buddhi tumme lagaonga, me tumni ka hojaonga, me ne apne karam rupe deo ta ki dwara aapke puja ki ethi, hapke komal komal haathumme ne tikshan baan maar kar aapke puja ki te apne karta me ne bhai aata keshau,
ek kaisak karnyogi hai, bhi sma pithambar, bhi sma astmi ko genu ne utrahen ke baad bhi sma astmi aati de teagathain, deyasa bhi mithya huy jagatuhwa ni saar hua atma se tabi apna saak chaathain. Bhagavad Gita ke baar mea dhaya ka atma shlok se lekar, gyaar mei shlok ta ki, chaar shlok juhain, samar pan yog ke, jiv ka suma hai kisi na kisi ka ash se lebi na nahi raidhain. Jiv aas se le nahi hai tu, hin aas se nahi lije, jiv se kai kai ka ahin aas se dasratku rula de te hai,
watwa tu mandra ka ahin aas se kai kai ko, chisla de tha hai, leke ni shabri ka matangrishi ke charnu ne aas se juhain, hu unnat kar dee tha hai, raavan soni ki langka ka dhani hai, leke ni hin aas se le tha hai, vishai vikaar hu ka hu se ruunapar tha hai, hin aas se puh suna ki langka, mon suna ka ahin puur banane me safal hai, leke ni sharid ka, mon buddhika tu, chaka ash trai lekar, apne ko sarvupari sarvastraishth goshit karne me, markha jaga tha hai na ka shapuhin aas se ke kaar, aas se le tha mon buddhika aankar ka ash trai lene ke baje,
bhagavan ke satt sabhao ka chid sabhao ka, anand sabhao ka ash trai lekar aham brah maasmi vaasudeva sarvamithi, tu hin aakar shapuhin, bhagva tatu liya sanmani tota puja jaa tha, ki hin aakar shapuhin tapasya aeshi thi, ke jahan drashti daalta to san kalp se vas tuin pahida kar le tha, sattha gaar waris tapasya ka balta oos ke paas, aur vardhano ki lambhi chadi thi oos ke paas, nau parmaru na ni ce maru na baar maru naandar maru, na deo se maru na dhano se maru na mano se maru tufir, narsi hao tar naaya banana pada bhagavan ko, oos ke tapasya aeshi thi, ke brah maa ji ko fardan dey nahi, baade aur eshi tapasya tha, sanmundra tatu purkhara ho ajata to sanmundra ushhal ushhal khara,
hung muthi de tha hao aur bhi khagane ushhal tha, hei seib pahad aur aur aur, parva tu ke tar updrashti daalta to hune khani jaa, chandhi adyur drava deyeti, کتھ پرڑرستی دالتا تو کھیتھ بینا بھوی بینا جوٹی کھیتھتھ پنو جاتے بس لیلو بھل. لیلو انہوں سدے. اتنی اس میں تپسچاتی. پھر بھی کوئی نے کوئی آش سے تو لینا ہی پرا. کہے کاش سے لیا, میں کاش سے لیا, مرنے والے شرید کم میں میں جوٹ دیا. میں ہی باکوانوں. ہرے میں باکوانوں تو دوسراکوں ہیں. لے میں باکوانوں. سب میری آگین نے سب میراھوں کو مانے. تو یہی ناش سے ہو گیا. اور سب میرا سروپ ہے یہ محاناش سے ہو گیا.
تو صری کرشتنا محاناش سے کتری کا باتانے میں بڑے نپن رہے یو گے شروپا گوان کرشتنا. گیتا کے بار میں دیا ہے کے آٹھ سے گیارا شلو. گیار میں شلو تک چار. چار شلو جو ہیں. باکوان نے سد نہ بتایای اپنے برم مپادکو پانے. سمر پانی ہوگا. سمر پانی ہوگ جہاں سے سدشتیوت پن ہوتی ہے. سدی تو تیے جس میں بلے ہو جاتی ہے. جس کی ستتا سے ماء کے شرید میں ہمار لیدود بنا. جس نے سورے بنایا, چندہ بنایا, پر ٹری. چکرکات تیری دی ہے. نقشتر گرچ جس کی انشا سن میں چلتے رہتے آئیسے پر برم مپرمات ماکوم. اپنے کرموں کا فل. ارپیتگر کے اپنی ربہر ہو جا اور نیرو آسنک ہو جا.
اور وہاں بہگوان اس تدتو کے ساتھ اپنی اکا کرتا بھی تو محرے میں جگانا چاہتے ہیں سلیے. ایک دم سپشت آپ اپنے شدبت دوسچیدانن دسوروک کو پر آپ تو کرنے میں سرلتا کا ایساست کر سکتے ہیں. بہگوان کہتے نیوہ شششی مئیوہ آتا اور دھومنا سنشایا ہا. مجھ سے من کو لگا اور مجھ میں ہی بھتی کو لگا اور اس کے اپرامت تو مجھے ہی مجھ میں ہی نواز کرے گا. اس میں کچھ بھی سنشای نہیں ہے لو. مجھ میں ہی نواز کرے گا. مجھ میں مانا دو ہاتھ پیر والے آچار ہاتھ پیر والے میر جنگوس جائے گا ایسا مجھنا.
بہگوان کہا جو آسطبیک سو بہاو ہے برامت سو بہاو اسی میں آپ استیت ہو جائیں ایساست سپشت بول لے والے. انو بھاو کی مہاں جاجت مورتی گھاگوان کے سوائر کون بول سکتا ہے. مہیوہ منا مادسطن میبود دی نوویشے ہیں. نویشہ سی میں واہا آتا اور دھوم نہ سنشاہا مجھ میں ہی مان کو لگا اور مجھ میں ہی بود دی کو لگا. امبود دی چیج وستو میں لگاتیں اور پھر مان میں کوئی نا کوئی وستو یکتی کا مہا تو سمستے. بود دی لگائی کام دندیں میں اور مان لگا پتنی کے پاس جانے میں بچوں کی پڑائگ میں سہیوگ دینے میں اس میں اس میں.
یہ اپنے دنگ سے ہوتا رہے گا وستو میں ہم جس میں لگ جائیں مان بود دی بھی اس میں لگ جائیں تو ایک دنگ کئی لے کئی. مہا ترکی کرنا بڑا سگم ہو جاتا ہے. ترکیان تو میٹی لیکن مہا ترکی اگ بار ہوتی تو پھر کبھی آدمی چت نہیں ہوتا. مہا ترکی ارطات اچتت پد کو پالے نا جو اپنے پد سے اپنے مہسے برمان جی بھی اپنے برم مپد سے چھتو جاتے. انڈر بھی انڈر پد سے چھتو جاتے لیکن آتنو پد سے کبھی کوئی چھت نہیں ہوتا. ایسا اپنے آتنو پد کو پالے. ایک بار آتنو پد یوگی یوگ برست ہو جاتا ہے. دھنی دھنو برست ہو جاتا ہے. ستدی ستا برست ہو جاتا ہے. انڈر پد بھی سے برست ہو جاتا ہے. لیکن جہاں کبھی پتن کی گنجائش نہیں ہے.
مہنکوٹ والا مہنکوٹ سے گر جاتا ہے جہا ہے بھی جہے جیسے. سورگوالا سورگ سے گر جاتا ہے. یادگتوانی ورطنتے تدامو پر مممو جا جانے سے پھر پنراغمہ نہیں ہوتا. وہ میرا پرم دامے جا سے میں سپوری توتا ہے. دھور نہیں دھور لب نہیں پر نہیں پر آئی نہیں. تو یہ آج کے یہ چارجوز ہوبائے بھاگوان بطار ہے. یا تو سمرپن یوگ سکھلو. اتما تو ابھا سیوگا یکتے نہ چیت ساہنانی گا مینا. آپ منب دی باگوان میں نہیں لگا سکتے اپنے مائے کو باگوان میں سمرپیت نہیں کر سکتے. مہلاؤ کے لئے سمرپن یوگ بڑا سرال ہے. بایو کے لئے جرا کرتے ہو سکتا ہے.
جیسے میرا نے سمرپن یوگ میں. سفلتا پالی شبری نے سمرپن یوگ میں سفلتا پالی. اتما تو کسی کسی بھاکت نے میرا کا شپو سمرپن یوگ میں نہیں چل سکتے. تو ابھا سکارتی شرکو پانے کر نہیں چل پائے. ابھا س یوگ نہیں کر سکتے ہیں تو بھاگوت ارتھ کرم وہ بھی نہیں کر پائے. اور صرف کرم کا فلتیاگ وہ بھی نہیں کر پائے. تو ساتھ ہجار برستپس شہر درشٹی دالے تو کھید کلی ان اوشد دینے لگے. اتنا سپانے کے بعد بھی بوری طرح ہار کی قگار میں جا بھی راوان اور ہینا کشہ. اگر ان چاروں میں سے ایک بھی سادھن کوئی کرے تو ہینا کشہ پوتھ و راوان
جسی اوچائی پانے کی جو روطی ہی نہیں ہے. اُس سے بھی بڑی اوچائی ملے تو کبھی نہیں چائی کا مون نہیں دیکھنا پڑے. بہت دہان سے سنا یہ کھا سادھکوں کے لئے آج کا ستسنگوں پڑے شہی ہے. ایک تو سمرپن یوگ ہے دوسرا ہے اب بہا سیگوگ. اتنا چتتم سمادہ تم نشکنوشی مئیس تھی رم. اب بہا سیگوگے نہ تو مامچن تو دھنن جیا. تو میرے میں سمرپت نہیں ہو سکتا ہے. تو میری پر آبتگلے تو اب بہا سیگوگر. اب بہا سیگوگیا سے ایک آ کرتا کرتے ہیں یا کچھ بھی کرتے ہیں. تو کچھ بھنے کے لئے نہیں تو مجھے پانے کے لئے کر لوں. راوان لنکا دیکھتی بھنے کے لئے بہا سکتا ہے.
لنکا شپو ہیرن پورھا مالک بھنے کے لئے بہا سکتا ہے. دونوں بوری طرح پتشل کے مارک ہے. یا دی تو سمرپت شھونے میں شفل نہیں ہوتا ہے سمرث نہیں ہے. تو یا دی تو میرے میں اچل تاپن کر لئے سمرث نہیں ہے. تو هي ارجن اب بہا سیگوگیا کے دوارہ مجھ کو پر آبتگلی تو ایک چہ کر. اگر تمہ بیاس کرتے ہو جب پہ دہان کا اور اُدھ دیشہ بھگوان کو پانے کا رکھتے ہو تبھی بھی آپ کو لنکیش اور ہینا کا شبہ سے اُن چیستیتی کے دنی ہو سکتے. اگر یہ دوسرا سادنمی بھگوان بوجے آپ نہیں کر سکتے تو آہ ہم تمہی تیسری سیڈی دیتے ہیں جو اچھی طرح سے آپ
جس کے پائیدان بڑے آسان ہے تو میں چچے تو اس پری چل پڑو اتو اچھو اتا ہم رہیم پبھی بات آتے ہیں اس رہیم پسے بھی تمہوں پر اٹھ جاو ابھا سے اپی اسمار تھو سی۔ مط کرم پر موب ہواہا۔ مدار تھا پی کرمانی کروان سے دی۔ ابھا پیسی۔ یہ دی تو اپر یک تو بیس سے بھی اصامت ہے تو قیول میری لی کرم کر کے میری پر آن ہو جا۔ اس پرکار میری نمیت کرموں کو کرتا ہوا بھی میری پر آبتی روپ صدی کو ہی پر آبت ہوگا۔
چاروں کا فل ایک ہے یا تو شرنا گتی یوج یا تو بیاس یوج اتھوات بھگوتت ارث کرم یوج یہ تین یوج اگر تینوں میں سے جو تو جی انو کل پڑتا ہے تی رہی بڑی حالکتا تو اس میں لگ جا۔ کوئی ملا کرو دیش مجھے پانے کرا۔ شاشت کو پانے کر رکھا۔ نشور کو نہیں۔ اپنے پریے کو اور کیا کہیں گے؟ سار باہتی تو کہیں گے۔ اگر ان تین سادنوں میں تیری کہیں روچی گتی نہیں ہے تو لے اب سن اور چاہتھا سرن سادن دیتا ہوں۔ سار مق کرم فلحت کیا گا۔ اتھے تد اپی اشک تو اسی ان تین سادنوں میں تیری کہیں روچی نہیں ہے
یہ کرنے میں تیری کہیں روچی نہیں ہے اتھے تد اپی اشک تو اسی ہے۔ چاہتھا سادھا۔ اتھے تد اپی اشک تو اسی کرتن مدوگ ماکشتا ہا۔ سار باہ کرم فلحت کیا گم تتکورو۔ یت آتماوان۔ یہ دیتو میری پر آبتی روپ جوگ کے آسرت ہو کر اپر یک تو سادن کو کرنے میں بھی آسا مرتہ ہے ان تین سادنوں میں تو منبدی آدی پر لجے پر آبت کرنے والا ہو کر سب کر مو کے فلحت کیا گ کر دے تیاجات شانتی نرنترم
کرم تو کرتت پر تا سے لیکن کسی کو نیچا دکھانے کے لئے تو ایک کوئی فلپانے کے لئے نہیں تیاجات شانتی نرنترم نشکام کرم ہستے کھیلتے کھاتے پیتے نصمادی لگانی ہے نصاب تیاج کر جانا ہے نبوگی بن کر پر باد ہنا ہے نتیاجی بن کر تدیکش ہنا ہے کے وال کرم کے فلکی اچھا تیاج کر کے تو مجھ چیتنی کو ایسے پہلے گا جیسے ایک سرور اور دوسرے سرور کے بیچ کا جو پال ٹڑ جاتی تو دونوں ایک ایک میں جل ہو جاتے ایسے جیو برم ہو جائے گا برم مجیو ایک اتو ہو جائے گا شلوکات سے گیارہ یہ آروحن کرم ہے
اور شلوک بارہ سادنوں کا آروحن کرم ہے تو یہ سادن نہیں تو یہ یہ سادن نہیں تو یہ اتواتو ایسے سادن سے چلکے اسم ایسے چلکے اسم ایسے چلکے پہلے نشکام کرم کر لے پھر بھگوطار تھکار لے پھر بھیاست کر لے اور پھر سر شرنا گتی کر لے بہوان کی شر بہت سندر طریقے سے بھگوان مطاتے اور بہتوں چا سادہ میں اور کرنے میں سگم مبی ہے کہوال اندریوں پر تھوڑا سیں گیم کہوال ایسے سادن کی اس اپلابدی کی محان تصف مجھ جائیں بس اور تمارا ایک امریکہ کا راست
تو کیا سارے دارتی کے راست اور انڈر کا پد بھی بہوت چھٹہ ہو جائے گا ایسا تمارا وہ آتموائی بہو جاگر تھوگا کسی پر تمارے کسی ندر پڑے گی تو نیحال ہو جائیں گے تمارا درشن دیوتا کر کے خوشحال ہو جائیں گے ایسے آتمجان کی محیمہ کو کوئی پورا ورنن کر ہی نہیں سکتا مد کرو ورنن ہر بے انت ہے بھگوان انت ہے تو بھگوان کو پائوے محہ پورش کی کرپا اور محہ پورش کی وجہی بھی انت ہے برمگانی کی مرت کون بھخانے جیس نے اپنے آتمو برمگاستopic اگیان پا لیا ہے اس کا مطیئی اس کو کوئی ٹون نہیں سکتا
برمگانی کی مرت کون بقانے برمگانی کی گتی برمگانی برمگانی کو خوشِ محیش دہتہ برمگیانی پورن پر شوی دہتہ آپ ایسیوں چاہی کو چھویں گے ایسی برمگیانی تھے جڑ بھرت۔ اجناب خند کا ایک چتر سمرات بھرت۔
اُس نے سندر ویوستاکی تو اجناب خند کا نام پڑا بارت۔ مارت کے نام سے پڑا بارت۔ وہ راج کا اج کے پچھے میں جندگی پوری ہو رہی ہے مجھے پر برم پر مطمکہ ساکشات کر کرنا چھے یہ برمگیان پانہ چھے۔ اجناب خند میں سے بہارت نام پڑا جس کے پر بھاو سے وہ بارت رات چھوڑ کے چلا گیا۔ میں جوب چھوڑوں کے نہیں یہ جو پوچھ رہے تو ان کو بولنا پر تاکیا بھی نہیں بعد میں دیکھو دیکھو دیکھو ایسی جوب نہیں ملے گی۔ ایسی بلامی نہیں ملے گی۔ تیسلاک کی جوبہ بیسلاک کی جوبہ ہے اُس کیاگ بہارت کی او ساکتورا بہارت کا ایک چتر سمرات اُس کیاگے تمہاری جوبوں کی ایسی تیسی ہو جاتی ہے را جا بھارتری کے راج کے تیاک کیاگے تمہارہ سیے کی جوب کی ایسی تیسی ہو جاتی ہے
میں کیا کروں کیا کروں کیا کروں آپ اس چیز کا مات کو نہیں جانتے ہیں کم ایک دن میں 10 پندراتولہ سونا کھڑ کے راکھ لے تھے کتنی کا مائی ہوتے اُس کو توکر مار کے گروکے دوار پڑھے رہا تو سینیر لوکہ مجھے جنیر سامتے بھاگانے میں ہی لگے تھے لیکن ہم اس چیز کی مہکتا تھوڑیس جراسی جانتے تھے اِتنا ایپت بڑائے مجھے بھی پتا نہیں تھا جب ملاتب پتا چلاکے اِتنا بڑے پتکی تو میں کلپنا بھی نہیں کر سکتا ہوں لگتا کہ گروجی باگوان کے درسن کا را دے گیا باگ میں پتا چلاک باگوان جسے باگوان نے وہ تو میرا اپنا آپا ہے باگوان کے درسن کروں پر باگوان کے لیروں باگوان چلے گیا پر بہیں کے بہیں ہوں نہیں نہیں
برمویتا برمویت باہوتی برمویتا برمو میں ہو جاتا تاکی ونانی وید وہ جو بولتا ہے وید وچن ہو جاتا ہے باگس آتو آسنس کوت کرت برمو چید شاستی شلوک ہو آتو آو جسی بی باگسا جانتا گیتا کہ چکتی آتا ہے میں آتا ہے برموگیان کا محاتب راک کو مونی راک کو مونی جانشوط رایا برا دھرمات ماتا راجمیں کسی کو تقلیف نہ پڑے میں کرمی کر کے بہگوان کو پر سند کروں بہگوان کو پاؤں
شاستی شلوک آتا ہے جانشوط رایا یہاں تک کے پر جاکہ تو پالن کانتا لیکن پر سو پکسیوں کا بھی سرمک حالدتا را دانا چکنے کو دالتا نوکر چاکر کرتے لیکن سویم بھی کر بھی آکر پکسیوں کو دانا دیتا ہے کنا بڑا رایا جانشوط پکسیوں میں کہ ہنس تو موتی چکتے تو موتی منگا ہو سمندر سے یہ موتیوں کی ملا ہے نا ہے کوئی لے گیا تھا تک پتشاما کو تھی ہے آج کل تو بے دیاروں میں تو یہ پلاشتی کی موتی بنتے ہیں یہ دریحا کے موتی نکلے ہوئے پتشاما کو تھی لنس موتی چکتے
را جانے سوپنا دیکھا کہ میں ہنسوں کو موتی دیرام روج دیتے تو رات کو سوپنا آیا اس میں دو ہنس ہے موتی کا تیا کر کے اران بھرتے تو جانشوط کو بای کیا آواتے ہنسوں کا پریے وہ جان موتی سب جکہ تو ملے نہیں تو وہ بولتے کہ تم تو موتیوں کا تیا کر کے اوپر آیا ہوں کہیں را جانشوط کا کوپ تو میں جلانہ دے وہ لے را جانشوط کا یہاں نہیں پوچھے کا پر باہو ہم ریک کو مونی کے پر باہو میں اران بار ہے ریک کو مونی کیسی تلتا کی آگے جانشوط کی نارازی کیا کر لے گی جانشوط کا راجی کیا مانا رکھتا ہے جانشوط کیتا میدھر مات مائلیکن
ریک کو مونی کے آگیر اس کی کیا کی مات ہے آیسا اس کو سوپنا آیا اور سوبے منتریوں کو عولا کے جاو چارو طرب جانچ کرو ریک کو مونی کو مونی کون ہے میرے راجی میں سا کون پروشہ جس کے شتلتا میں راگا کا کوپ اور دند کوئی مانا رکھتا جانش کیا تو ایک بیلگاڈی چلانے والا دن میں تو بیلگاڈی چلاتا ہے آجیوی کا قتی کرتا راتری کو بیلگاڈی کے نیچھے اس شام کرتا شادی ویدی نہیں کیا یو اکھا ہے پتا چلا کہ وہ راک کو مونی اپنے گروب پرکاز پر شادی سے ہے آپ بیاس یوگ سے برمو پر ماتن کا ساکشاک کر کیا ہوا ہے
بیلگاڈی چل رہے سے ہی قبر بانی میں کموچی کا درشن میں کرنے ہیں چھپل سی رہے اور بریمو پر ماتن کا ساکشاک شاد کر نو اس کا چھپل پر پٹپات پیچھپل سی رہے نموچی آیسے موچی کے بаستھہ کے بیٹھا بات چت کیا رو اس کے انکھوپی چھمہ کرانوں بھیڈی اور پرسنتا دیکھے تو میں لگا کھیں کو esse ستبرشے موچی کی روپ میں یہ آیسا ااست مگانہ ہے کہ موچی کو بھی ہو سٹر موچی بھی آدر قوچ نہیں ہو بھی ہو سٹر. عشارام باپوچی اس موچی کے پاس جا کے بائٹھ ہے اور سٹسنگس اسے میں تو آپ کیا سمجھتے بات ہوگا نے موچی کے پاس بھی کوئی کھ جانا. جان سوتر آجا بھی اس ریکھ کو مونی کے پاس گئے چھیسو گائے لے کر.
ایک ہار اور وطھ لے گئے. مہراج مجھ پر قرپا ہو کی جئے مجھے اتمگان کا اپنگان میں میری گتی کر ہے. کنگال کھیں کا بلگاری چلانے والا کہتا ہے راجا جان شوت کو. کنگال کھیں کا چھسو گائے لے کر. اور ایک سونے کا ہار اس میں برمگان لے لے کر. جان سوتر آجا اخسامت گئے کہ میری گلتی ہو بھی چھے سو گائے اور ایک ہار دے کر.
آج قل کے لوگ تو بضلہ لے نے کو تھالیں گے. ایکنی چھوٹی متی کی ہو بے بچارے. جان سوتر آجا اخسامت گئے کہ میری گلتی ہو بھی چھے سو گائے اور ایک ہار دے کر. مضلے میں برمگہ پرمت مکہ ساک شاتھ کر. میں نے گلتی کی. کچھ سمائے کے بعد ایک ہاجار گائے. ایک ہار اور رتھ. اور جانچ کرتے کرتے و نے پتا چلا کی منیشور کو بھی وہا کرنے کی چھائے توپنی یوتی کنیا لے. مہراج میں ایک کنیا آپ کے سیوامی آپ کے گرسن سار جانانے کے لئے ہر پن کرنا چاہتا. تو کنیا دیکھر پتر لیے جاتی تو پتر تو پیتا کا بہلا چاہے گا ہے.
ایسے جمای بھی ہے تو برمگویتا جمای ہے. کوئی صادہ رن تو نہیں ہے. برمگویتا کو جمای بناوں گا تو پھر مجھے برمگو پر آبتیک آسان ہو جائے گی. ایسگا اور اس کے ساتھ کنیا کے ساتھ جو دہیج میں ہے وہ میں اتنے گاں آپ کو ارپن کرتا. تو کنیا بھی ارپن کیا رہجا ارگا ارپن کیا اور دہیج میں گاں ارپن کیا اور ماراج کو پرسن کر کے رادہ جان شوط برمگان لے رہے. آپ برمگان کی محیمہ سمجھے تو آپ کو پتا چلے گا کے میں کیا کروں. جوب کروں کے جوب چھوڑوں میں کیا کروں. ساکشات کر کروں کے جوب کروں. آپ کو پتای نہیں ہے محیمہی پتا نہیں ہے.
میں نوکری کروں, نوکرانی بنوں, نوکرانی بنی رہوں کے ساکشات کر کروں. فلال کرتے رہوں, نوکری, نوکری جب بود دکھولے گی تب پتا چلے گا ساکشات کر کیا ہوتا ہے. اور نوکرانی بنا کیا ہوتا ہے, نوکر بنا کیا ہوتا ہے. اور آوخوں, نارائنا حری, نارائنا حری, پتا نہیں کی اتنساک شاکشات کر کر کیا محطور ہے.
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya