Skip to content
TrackPodcasts
religionJan 2, 2026

Jan 2,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

About this episode

Jan 2,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Get every episode summarized

Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.

Email me new episodes

Free for 3 shows. No card needed.

Transcript ready

710 searchable segments. Every word is indexed and playable.

Jan 2,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

0:00
0:00

Full transcript

Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu SandhyaJan 2,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.

آپ برمگان کی محیمہ سمجھی طب آپ کو پتہ چلے گا کے میں کیا کروں جوب کروں کے جوب چھوڑوں میں کیا کروں ساکشات کر کروں کے جوب کروں آپ کو پتہئی نہیں ہے محیمہی پتانی ہے نوکری کروں, نوکرانی بنوں, نوکرانی بنی رہوں کے ساکشات کر کروں فلال کرتے رہوں, نوکری نوکری جب بود دکھولے گئی طب پتہ چلے گا ساکشات کر کیا ہوتا ہے اور نوکرانی بنا کیا ہوتا ہے, نوکر بنا کیا ہوتا پتھارا ہوں نا رائنا ہری, نا رائنا ہری پتہئی نہیں کہ اتنساک شاکشات کر کر کیا ہوتا ہے

کچھ اچھی گائی بھی دکھاوے کے لیدان کرنے لگے تو نچی کے تانام کا پوتر نے پوچھا کے پتادي ہے آپ تو بلتے تھے ساروہ سودان کرنا ہے تو مجھے آپ کیس کو دیں گے آرے چھوپ رہے نہ نہیں ساروہ سودان کے گوشنا کی ہے تو مجھے آپ کیس کو دان میں دیں گے کس کے لیے گائی بچا کر کریں کس دی کراما کہا ہے نا ipsa رب سودان کرنے تو میرے کو دان کریں میرے کو گھیس کو دان دیگے تو بسے گوسے میں کہا تو ایام کو دان دوں گے مُنُنُتُی کو دان کروں گے ملے ستوچھا ستوچھا نکے تھی بمُنُتِو لکن چالے گے ایک دن Mahadu Sradsn, qualify tithi dhin ke baad ne Yamraj Se milanu wa, Yamraj

ne kaaj ne cnormat Hiti kwet Look again hear is ko tithi dhin tikk swollen manipulate mi ribi baad Dek thinon ke barrehe ke meis ko thino auairdand un 그 phhaela tithu twmeare ko baad rek hnye ke palme. N baada d rek thin increasing my ego. coercayar ay tithi bark thaandath tithu iq wad nanகள elsne ke patak BH پتاکہ میری پرتی جو ناراج کی ہے اور جیم کو دنگات تو ان کا ستسن کلپ کرکہ میں ایدر آیا مون کو پھر یاد نہ رہے دوسریوات میں ہمارا پتاپ پتراکہ جب کوئی جو کچھ اس بیس ہو گیا جو بھی انہوں نے کچھ ماغا مجھے پورا ہوں تیسرے وردان میں آپ سے برمگان چاہتا ہوں یہ مراج کہتے ہیں دیکھوں تمے چاہیے تمے ساپرتیگہ بھی شال چکرورتی راجتوں میں دے دو لیکن برمگان کو چھوڑوں

اولے ماراج راجتوں گے تو چکرورتی راجتوں گے راجابан گیا اور رانی نہیں ملی تو روتہ رہوں گے پولے رانی مل گئی بچہ نہیں ہوا تو بھی روتہ رہوں گے مچا ہوں اور بچہ لوگ ہو گیا تو بھی روتہ رہوں گے رہوں چھوڑے کہ شاہدے نہیں ہوں ایچی گیا گا پر بہو ہرام جا دیا گیا لچیا گیا گیا گیا گیا گیا گیا تو بھی دو کرے گا اس لے مجھے تو راجو مطدیجے مجھے تو برمگان دیجے únEEEEEEEEEEE.. zwrA AKI can came , institut seas después крA ndey하지 qu dya dy cry darle mer aur biom jur mur id mur vir r sa rel br n r tro جتنی جندگی چی اتنی تم جی ہو گئے. 100,25% vs. Chiranjivی تم کو بنا دو.

Hule maharaj 50% سالکی امر بھوگتے اور پھر مرتے ہیں تو آسکتی کے کارر دونہ پتا ہے. جب Chiranjivی ہو کر بھی تو مریں گے تو جادہ آسکتی سے جادہ دوکھ ہوگا. بھوگنے تم پر کوئی یدد بھی ہاوی نہیں ہوگا. یہ بھی وردان دیتا ہوں. Hule maharaj 50% سالکہ سکو بھوگنے کے بعد بھی مریں گے تو مریں گے تو مریں گے تو مریں گے تو مریں گے تو مریں گے تو مریں گے. بھوگنے تم پر کوئی یدد بھی ہاوی نہیں ہوگا یہ بھی وردان دیتا ہوں. ھا لی مارات گھر بھی عجار ورش کا سکھ بھوگھنے کے بعدی مریں گے نا تو سکھ گیا سکتیت نہیں پچیس پتہ سال کے سکھ بھوگ سے آدمی دو کرور ورص بٹکتای چورا سے لہکیونی میں تو میں ہجار ورش چکھر ورٹی راجھ بھوگنگہ تو میرا کی آہل ہوگا راجھہ آجھے مرنے کے بعد سام پھو گیا خراجہ

درگ ملنے کے بعد کھر کی تو گیا تو میں ہجار ورش بھوگنگہ تو میری کیا کیا دور بہتی ہوگئے پھنسلی آپ تو سارو کرمو کے بندن کو قاتنے والا میں برم گیا نہیں دیجے مجھے لنبی آیوشہ نہیں چایے چکھر ورٹی راجھ نہیں چایے جیش کنٹک راجھ نہیں چایے کیونکی بعد میں تو اتنی بہری دوکھ مجھے تو اتنی راجھے میں پروگیش کرا دیجے مولی نچی کہتای یہ برم گیاں بڑا بلکشان ہے آجھے دیش روطا اس کو سنڈے والا آجھے رکھا ہے کشنوں سے وقتا ہے اس کا ورنان کرنے والا بھی کشن ہے وقتا اور اس کی مانگ والا آجھ روطا بلی آجھے رہے ہیں بلے مہر آجھے شوطا تو میں آپ کے چرنوں میں اور آپ سے بڑھ کر کشل سیم پری گے دیتا

سے بڑھ کر کشل کن میں لے گا کر پاکھا دیے نبکہ کئی نچی کہتا کو برم گیاں ملا ہے یہ ایسی چیجے مگوٹ پر آبتی کا او دیشہ جون جو ہوتا جیگا پر دگا بیمانی چھوٹتا جائیں گا مگوہن ستا ہے چیطنیا ہے آنند ہے یان سروپ ہے پرانی ماترا کے سوھر دا ہے مگوہن ستا ہے سارے سدگنوں بھگوہن میں سیس پوری توتے اور سارے درگن آہام روپی شیطان میں سے پیدا ہوتے تو بھگوٹ پر آبتی کا او دیشہ بندیا تو سدگنوں بیکشی توتے

مگوہن ستا ہے مگوہن memories مگوہن مگوہن مگوہن ایک پہر امکار کاغنجن ایک پہر شاستر بیچار پہر مانتین گنتے ایک پہر ستگروں کے سانیدھے میں شاسترکا گیا

ویدان بیچارا اور ایک پہر محاک ارشکیز سے وہ ایمان داریسے جوٹ کا پت چوردے ام سادن تو بلے تھوڑا کم بھی کریں ایسا دن نگو سدے جوٹ کا پت بیمانی مکار گانا ایسا ایسا دنے ستگ سمان تپنے ہی جوٹ سمان نہیں پاپ جس کے ایدے ستے اس کے ایدے آب دھان وجن تو سب لوگ کرتے ہیں لیکن ایک دن پھلاری جوٹ بھول دے گیا درگر بات میں جوٹ بھول دے گیا ایونتی کے مندر مارے چھے پہدا دودنا دویل ایل ایسے گاش مارے چھے تجوٹ بھولتا ہو ایونتی انا ایسا مارے چھے تو جوٹ بھولتی ایونتی جوٹ تھا لوگ کو جاہا ہوا ایتا جوٹ بھولینے ساتیا مارے سیا ہوا ایسا دیم میں براپ بلے ایک سال کے اندر تو ایک سال تو بہت ہو گیا

او دار آتمان نرے اندر جمھ زیوے کنم نے ایمانے تھے تبی کی باتے کوئی بھی گھر سے گوجر تا گریب گر باتوں ان کا دکھا در بھی دو جاتے کچھنا کچھ دے داہلتے جو بھی میں لے اٹھا کر دے دے دے دے دے ایک سبے سبے کو کوئی آیا او تو کچھ دینے کو نہیں تھا تپنے قبر اوطار کے دے دے مانے کا اب ترے کو قبر او کہ آدمگی چل کمرے میں بند کر دے دیا او پر کے کمرے میں بند کر دیا

جاہو نرے نرے باقی جاہو دا تا کنگہ گئے او پر کے کمرے سے دیکھا کے کوئی جاروت مند ہے ایدر او داری دار او در نجر گمائے مان کی سندوک پڑی اور تالا دینہ مول گئے سندوک میں سے ساڑی باڑی او ٹھاکے کو مسکم پڑے دیا جاہو او دا تا کی جاہو لینے والا مل گیا پاترور دینے والا بھی مل گیا بہوان دن بکھمگے نے جاہو جاہو کہ آدمان نے دیکھا کہ اس کی میری ویتنی کیمتی ساڑی اس کیات میں کیسے بلکھا سلیا او لو پر سے دیا انگے گئی اوگر سے کہ تو پار نہیں لیکن نرندھ رکھو دیکھا کہ مانے گا نہیں یہاں بھی تو نے ہوئی کیا تو تو سب گھر لٹائگا سادو کو نگا سادو ایک تو ستے بولنا بوس رادو سرے کا دوکھ میں تانا ایک کرمی ہوگا

ستے وچن آدھی نتا فرشتری ملت سمان اتنا و کرتے ہری نام لے تو تلسی داس جمان ایک بار یدیش کا نئے سری کرشتن سے پوچھا کہے مادا آپ ایک ہر ایک ہر دیش کا مہت ربتا کرشتنے کہاں بغوان ویدو اصدی بیٹھیں تو میں کہاں کو بتاوں انی سے پوچھا راستی جیسے ویدوان پروش ہمارے بیچ میں ہے راستی کو براتنا کہاں کیا یدیش ترنے تو راستی نے ایک آدشی ورت کا مہت تو بتایا تو بھیم چکنہ ہو کر سننے لگے کہ ایک آدشی کے ورت سے اتنا انتا کنشو دو تایا بغوان کی بابتی میں تی ہے یہ بھائدے ہوتے لیکن میں

ایک آدشی کا ورت سے نہیں رکسکتا میری شریع میں ورتنام کی آگنی ہے رکنام کی آگنی برتنام کی آگنی برکنام کی آگنی ہے میں بوجن کر کے پر اپواس کروں نتو بھی نہیں رکسکتا تو راستی نے کہاں کی بیم اگر تو جے پر سو نہیں ہونا ہے نیچ یونیوں میں نہیں جانا ہے تو پر اتنا پروک ورت رکھوں ارجن رکھتے ہیں یدیش ترنے آراج رکھتے ہیں مرد یہ شاہدے اور ناک کل بھی رکھتے ہیں میری ما کنتہ مرانی بھی ایک آدشی کا وقواز کرتے ہیں میں ہوں جو مجھے کھانے کوتے ہیں یہ رکھنام کی آگنی ہے نہیں کھانوں تو شریف میں آگ آگ ہو جاتی پتھ بڑ جاتا ہے موکھا مریسے

بھلے کچھ بھی کر وضرڈنی سے کر وضرڈنی سے اگر اکشا کرتے ہیں اگر نیچ یونیوں سے بچنا ہے تو برت رکھوں بیم نے پروک برتنا کی اور سکالوں گے ہیں اگر اکتے کو لے کیا ہے کہ ماراہ جی داروب بتارام کرشن پر امنس لیکہ داروب چھولے گولے با با بوڑن چھولتتا اب پانی چھولتتا اب لیکن داروب نہیں چھولتتا بلے چھا داروب بھی نہ لیکن باکوان کو بوگلگا کر بلے یہ چھیگا ہے و سو بھی سو بھی اٹھے تو چھلے بڑی بوطل لے جاں وہ captivityیی جاتے جاتے دیکھا کہ ابھی کہی ہوگی

کیا گے دارو کا وہگ لگا ہیں تو لوگ کیا بہلیں گے, لوگ کیا بہلیں گے, کیا بہلیں گے, سے میں تو پٹ بن ہو گے, پھر شام کو ٹین مجھے, کھا کھڑی کا پٹھ کھڑے, پھر وہ چلے کے وہگ لگانے کو پر اتنا کیا تو لوگوں کہانا جانا چالو رہا نہ روٹھ نہیں پیا باکی دوپانی پیلیا, کھانا کھا لیا, ایک دن بیتا, دو دن بیتا, تان تنڈیوہ سویتے گیا, یہ ٹیبیی اتون دارونوں, گھے وہ لباوہی تم نے کیا کر دیا ٹین ٹین دین ہو گئے, ایک گھوڑ بھی نہیں پر پیا, بھلپانی پیے, پھلپانی تو پیے, دوڑ بی پیے, لبسی بھی دو پر پپیے, کو جن مجن تو کیا لیکن وہ جس کے بنا میں نہیں رہے سکتا تھا, وہ داروہ اپنے ٹین ٹین دین نوعا کچھ بائے تو باتا ہوں, کامی یہ لوگ نہیں آئیں گے, تو میں ٹھا کھڑی کو بھگلگا کہ,

جیرہ ایک دو پیہلی تو پیہ کروں, ملے بھی نہ پیہلی کے ٹین دین تون رہے کے لئے, بھگلے ہوں, بھگلگا ہے بھی نہ تم نے نہیں پیہاولے نہیں, ستے مولٹے ہوگے, کے ماراج سنت سے جوٹ ہوگے, تو اگر گنا باہب لگتا ہے, لیکن وہ شرابی, ان سے تو شرابی بھلا, شراغ چھوڑ نہیں کی, تاکت نہیں ہے, لیکن سنت سے جوٹ ہوگلگی بھی تو تاکت نہیں, ایسے لوگ, شرٹ سوڑ رہیں ستسانگتی پاولی, کھلے نہ سوڑ رہیں, شرابی تو سوڑ رساکتے, لیکن جوٹھے کپٹی نہیں سوڑ رساکتے, دو کے بعد لوگ نہیں سوڑ رساکتے, شرٹ سوڑ رہیں ستسانگتی پاولی, دو کے بعد جوٹھے کھلوں, شرٹ سوڑ رہیں ستسانگتی پاولی, کھلوں میں پریورت نہیں ہوتا ہے, گندیادہ تو ایسے لوگ کپٹی رساکی,

کھلوں کو نہیں سوڑ رہیں, شرٹ سوڑ رہیں ستسانگتے ہیں, تو بنا کھل پنا چھوڑ رہیں کھل بھی آسا دہ نہیں, تو بگری جنم آنے کر کی سوڑ رہے آب اور آجوں, تلسی ہوئی رام کو رام بجتجی کو سبان, بغوان کا ہو کر بغوان کا بجن کرو, بغوان کا ہو کر سوڑ کرو, کسی کو دوانے کے لیسے وامت کرو اتھو, مجالے نے کے لیسے وامت کرو, آنکار پوشنے کے لیسے وامت کرنہ چاہی ہے, آنکار میٹانے کے لیسے وامت, واستنہ میٹانے کے لیسے وامت ویشور پر آبتی کا مہتو سمجو, منوشجیوان کا مہتو سمجو, تم سنسار میں پچھ مرھے پھے دوستی نیچونی میں

جانے کے لیے نہیں پہدا ہوئے ہو. اُدھر اژسن کلپ کرو تم مہان سے مہانو ایشور کے امرت بُترا ہو. تمہرہ اُدیش ایشور پر آبتی ہے, تمہرہ اُدیش اصوخ دکھ میں سمتا ہے, تمہرہ اُدیش نیتی نوین بغوات راص بغوات گیان ہے, تمہرہ اُدیش دے اُدھان سے بھی اُنچا پتھ برمو پتھ ہے, آپ درڑنیش چی سے چلوں, اُسو کروں گرمارہ وام روں, ساقشات کا نیتڈا رہو جگا ہو. اُسا مرپی تھای جو عام تھای جو تیم تھای جو اور سمرپی دوے بھی نہ اور کو اوپائبی نہیں ایشور کو سمرپی دو کر ست کرم کروں. جب کرو دھان کرو لیکن بدلے میں ایشور پر آبتی بس, اے گروکراپا تو میرا ردے چھوڑ کر کبھی کہینا جانا گیانے شوہزی بونتے.

گروکراپا ہی کے علم شیشے سے پر امگلم, شبری نے کتنا کچھ ساہ لیکن گروکی چھایا بن کر سے وقتتے تھے. رہی داس, کہ سمرکنا نے سے میرا کو کتنے مہنے ملے, کتنا لو کچھ کا کچھ بونتے تھے, دوسکہ جیٹھ بونتے تھا, کہ میراں ایک دو بچے ہو جائیں, پھر جاؤ تو ٹھیکھا بھی لو کیا بونتے, اپنا پتی چھور کر پر کروکس سے باتے کر تی سکری گلی میں. بدنامی ہو رہی ہے. میراں نے سنادی اپنے جیٹھ رادیا, کو رانا جی, مانے یا بدنامی لگے میٹی. یہ بدنامی مجھے میٹھی لگتے, کوئی نندو, کوئی نندو, کوئی نندا کرو کوئی چند, میراں کے پتھ سمکہ سارانہ کروں. یہ سب سپنا ہے. کوئی نندو, کوئی نندو میں, تو چل ہوں گی, چال آننتی.

سکری گلی میں, ستگوروں ملیا, کیوں کر پھروں, اپوتی, آپ بلتے بیٹھا کر لولیکن, سکری گلی میں, ستگوروں ملے, اب میں, اپوتی کا ہوں, یا کئی گھا جارو جارو, میرے پتھر ہے, ماتا جی, ماتا جی کرنے والے ہو جائیں گے. ستگوروں جی سم باتا کرتا, دورجن لوگوں نے دیچھ, دورجنوں نے دیکھیا, میرے کو ستگوروں سے ماتے کرتے ہوئے. اور دورجن سوچھیں کہ ستگوروں سے آژا سبندہ ہے. دورجن کی دورجن ماتی ہوتے ہیں. میراں گوروں سے کیا سبندہ ہے, میں جانتے ہیں, گوروں سے جانتے ہیں. میں سپائی کیا دوں, لیکن دورجنوں نے دیکھا, اس لیوں کرتے ہیں, اسی باتے ہیں. ستگوروں جی سم باتا کرتا, دورجن لوگوں نے دیچھ, میراں کے پر بھگرناگہ, دورجن جلو جائے انگیچھ, سگریمہ جن بڑی مرو دورجن لوگ, مارے شوچھے, لوگوں کو آونا کے, یہ ناماٹے مارے, بگوان اور استو چھوڑی دیوانوں,

پرام کرسٹر میں کہتے کو, تم نے, تین دین بینا شراب کے گزار لے, تو تین دین اور بھی گزار سبندہ, حهم و لئ� تو تین دین اور بھی ولے, حما telesے کو تین دین اور بھی ولے, دائن Groels� اسے بھی پہلے وشکتا اس پرمات پہ کے جیسے پانی بھی پچھتا ہے وہ جنبھی پچھتا ہے اسے کے وشکتا ہے کہاں شرابی اور کہاں اُن چی نجریا اور اُن چی سمجھ چاہی ساو سو جو دیکھا ہے تمہا شاگ اُس کے دیکھیں گے جوٹھ نہیں چھوڑیں گے کپٹ نہیں چھوڑیں گے بک بک نہیں چھوڑیں گے سمجھے برواد کرنا نہیں چھوڑیں گے تو سوہمی ہی برواد ہوتے چلے جا رہے

مانیمان چین تن کرتے جا اور کنت سے گنجان ہو تو ہوں نے دو میرے گرگ پاہن ہو رئے امانند صروب بیشور میں سانتھو دے جا ہے ایشور برابطی کے اُن دیشہ سے ہم جب رہے گا گا گا اس اُمگار کی مہیمہ کوجنے والے بگوان نہ رہیں ریشی امونے پر نام کرتے

اس اُمگار منتر کے دیو تا ہے انتریامی پر بھو پر مات مات صوائم جو ستروبہ ہے جیتا نروبہ ہے آنندروبہ ہے پرانی ماتر کے ہی دیشی گوڑے کپٹی بیمان لوگوں کا بھی جو منگل چاتیں سانتھو رہی بک وانت سوائمان كومتور مرہدکہ دران اور ساس Sobdhar کہ جمان كبہ جا ہے سرہ مدخلgem سرہ میں دیشی سارہ ستگونوہ کی خان میں مطلو کیamaz پر محمد کے نام میں ایک ہرار ہو کر بسن ہو را

جو تھے کپٹی آدمی بھی چار کرے کہ میں بہخوان کاؤں اور ستبون ہوں گا تو بہخوان پد پتھے جو تھے کپٹیوں کو بھی سیکار کرنے میں مدت کریں گھاٹم جیسا چور ویکتی داکو ویکتی جب سنت کے پاس جاتا ہے تو مہرادنے کا بیٹھ نہیں بولنا بلے چوری کر داکا کر کچھ بھی کر بیٹھ مطبول مہراد کو بچنگی اور بیٹھ نہیں بولا تو گھاٹم داکو مان سنت بڑ گیا

مہرادنے کا بیٹھر پرسن ہو دے جو شان تو دے جو تو سنت جید سویا سو بگ دی بری بیٹھ ایشتتت آنند شندی مادریا آنند شندی مادریا

آنند شندی مادریا آنند شندی مادریا آنند شندی مادریا سمیرام کے پاس درشن کرنے گئے، جن کا دیرہ دون میں سنسٹھ رہے گئی۔ وہ میرے سامنے بیٹھے چھے تھوڑا کی اتن کرتے کرتے دیان میں۔ اب میرام تر، سمیرام کے باشوں میں بولو، میرے سامنے منا آشانام کے سامنے نہیں، سمیرام کرتے۔ کانپور میں چھے بڑھے سے چھے کلومیٹھر کی دوری پر کیتن کرتے کرتے ہیں ناو بڑے تک کیتن میں دھان میں۔

گوپینات، مگر رہے اپنے چار میٹھروں کے ساتھ۔ کانپور شاکھا ریزر بینک آف اینڈیا کے او شدیکاری۔ ناو بڑے گوپینات، دنگر ہے کی ناو بڑے۔ ساتھ بجے تو ساتھ دی چھی دور گہنے گاٹھے جو کنیا کو پہرانے تھے میرے پاس چھے جوڑی کی چاہ بھی۔ بھتیجی کی ساتھ بجے اور میں ناو بڑے تھا کہ ہمیں دھانا۔ چلو بھاگو دھان کرتے تمارے ناو بڑے تو چنتا کیوں کرتے ہو۔

ساتھ دی کا کام بگوان سمالیں گے۔ چاہ بھی میرے پاس دی گہنے میرے پاس۔ چار میٹھروں کے ساتھ گئے، مروالوں کو بولا کیا ہوا؟ بولے ساتھ دی ہو گئے، براتکھانا کھارے۔ تو پھر ہو گہنے بہنے، بولے گہنے کیا؟ آپ کا دمات توتے گئے؟ آپ نے توتیجی اور میں سے کھول کے دیئے؟ آپ نے کہاہ میرے ساتھ میں ہی لو؟ میں تو وہاں رہے گیا تھا۔ کی طنگارتے نے ہن مو گیا تھا ناو بڑے تھا۔ بولے یہ بود چاہ بھلانے سے بھلانے سے سبنے کا آپ نے تو گئے نے دیئے۔ چاہ بھی میرے پاس میں وہاں تھا۔ اسے پوچھون سے پوچھون سے پوچھون۔ ابھی ریزر بینکے کہشر۔

کیا دوسرا بھی کوئی ہے؟ گوپینات دوسرا بھی کوئی ہے گیا۔ سوبے بینک میں گیا پوچھنے گیا کہ گوپینات میں ہوں۔ دوسرا بھی کوئی گوپینات ہے گیا۔ تان ایشور کی ادبود شکتیان سمی کے اندر چھوبی پڑے ہے۔ یہاں پر اپنا جو بار کو تم دھیرا پھر دے ہو۔ اپنا ریانی چھے۔ لپائی کے سیوا کرتے تھے منگھن ملکا کا کا سوچھےز۔

پوڑ سے بھی ہائٹے کا دن چجالا تھے۔ چھے پوچھانی چھڑھے۔ اس کو جانا تھا اور منیمان سوچھ راتا کہ پہنچ بجی تو ہوں پوچھنے ہارا بھی تو پہنچ در بجرے ہیں۔ پہنچ بجی گیا اور سید ہوا ہاں گیا۔ سالو بہیں گیا۔ ساتھ بجی ہا سینکلہ آٹھ ہوں جا پہنے آٹھ ہوں جا۔ پوگر دن سنگ کے مدرہ ساتھ میں تھے۔

بلے محاف کرنا میں ہاں نہیں شکہ سویں گے پوہیں گے ستھ سنگ میں بیٹھا تھا اور سوچھتا تھا کہ سا کروں کیا کروں۔ بلے تمہا رہ دمات تو تھی گیا۔ تم دو آئے تھے۔ پہنچ بجی رہے کی پہلے آئے تھے اور سب کو اچھا ساوک دیہتوں نے۔ بلے تم پاظگل تو نہیں ہو۔ بھو بلے آپ کا دمات تو تھی گیا۔ بھو بلے کیا آپ میرے سے مداکہ کریں گیا۔ آکر وہاں کی لوگ یہ ہاں والے سے پوچھیں یہ ہاں کی لوگ وہاں والے سے پوچھیں۔ پیس رہا سے کو سنگ والے کئی لوگ کس میں سے میدھا۔ یہ کہیسی ایشور کی ستھا ہے کہ جب آپ ایشور میں رہتے تو آپ کی روک میں ایشور نرسی میں کر روک دارن کر کے کام کر لے تھا ہے۔ منگر منگر روک دارن کر کے کام کر لے تھا ہے۔

وہ پینات کر روک دارن کر کے کام کر لے تھا ہے۔ ایشور میں آپ کو جاتے ہیں تو پھر جمیدار ایشور کی ہو جاتے۔ بگتا کے کارگ آپ صواری رام مراج۔ یہ تو دو چار داشتادت بارے ہمارے ساملے آئے۔ ریکن سچ پچھو تو آپ ایشور میں لگ جاؤں۔ تو آپ سوچ میں نہیں سکتے کہ ایسا۔ ایتنا تو پر اتنا کر تیتو بھی بڑیا کام نہیں ہو سندہ تھا ہے۔ کیسے ہو گیا۔ بود دکایس بڑا اور آپ ایش کرنے والوں نے بھی باہے چڑا ہے۔ جو میں ایش کریں تو ہی بھی پھل ہو جائے۔

بود دبیتے تھے دہاں مگنے کچھ بکسوں کو کس۔ بودیس دے دے دے سامتوں گے تھے۔ میرے دیوں نے کہاہوں کی قدرت نے کہاہوں گوپر سے چتان لڑکتی آ رئی۔ مکشک توٹ کے بھاک گے لیکن بود دبیتے لے دہاں مگنے۔ مکشک توٹ کے بھاکے وہ چکتان لڑکتی ہم تو باک ہے۔

لیکن سیدی آپ پر لڑکائی گئی تھے۔ او دوٹکڑے کس نے کیے کہیسے کیے۔ او جس چکتان سے تک رہے تو اس کو چور کر چور کر دے۔ ایسی چکتان نے آکیں دوٹکڑے کس ہوں گے۔ او اس میں سے کنکلی آپ کے پیر کیاہوں اٹھے کو لگی جرہ سر اکتا مکلا۔ آپ مال بچ گئی کیا رہا سے؟ مل میں ایسھر میں تھا۔ ایسھر شبدو ردنے کہا ہوگا۔ میں دہاں میں تھا۔ لیکن دہاں کی تھوڑی کمی رہی ہوگی۔ اسی یہ یہ تھوڑا سلگا ہے۔ آپ سان تو تھی تو ایسھر میں ہے کہ شانتی میں ہے جو بحشاب لگا ہو۔ لیکن بھکڑتی کی کچھ ایسی رہا سے مئیسھر کی ایسی رہا سے مئی لیا ہے۔

کہ کئی رہا سے ان جانے رہا جاتے وہا گتی نہیں ہوتے۔ وہ جہاں چالکتا ہے۔ جو گیشھر جی کو کہا کہ میں دون کو تو بیمار نہیں کروں گی۔ لیکن میں یہ گومتی اور کیشی کو بیمار کرتے ہیں۔ اور جو آس پاس کہ تھیں لوگوں کو تو اس نے بیمار کیا۔ جو گیشھر جی کو نہیں کیا ہے بعد بھی سہی نکلیں۔ تو جو مر جاتے اور جس بہا میں مر جاتے اسی بہا میں اسی جگا میں گھومتے ہیں۔

تو تم میں کیا بیشیش تاکہ تا جاتی ہے گیا۔ بولی بیشیش تاکہ تو نہیں۔ لیکن پرچھویتا تو نہیں ہوتا۔ پرچھویتا تو نہیں ہوتا تو پھر وہ جب سنکل پ کریں تو پیسی کو دیکھیں سنکل پ کریں تو اندر بھی گروس سے ہر بہار بھی کریں رہے تو پتا نہیں چلتا۔ لیکن یو گیشھر جیسےیا اور لوگ جب دھن کرتے تو اس میں ان کی دال بھی نہیں گلتے۔ منوش میں اتنی ساری ہوگیتا ہے کہ اس کا لاکھ ہمہ ایسا مشکل سے بکسیت وابا کی سب اچھو تھی رہے گی۔

شد کرام کر کیانتا کر شد کرتا تھا بھی اس کا ستے سنکل پسا مرتے او جاغر ہو جاتا ہے حریوم کاؤ جان کرتے ویشان تو تھا تھا بھی اس کا ستے سنکل پسا مرتے اور بنا کریا کے یہ ہوئی بھی کئی پر نام لانیوالی شکتے ویکسی تھو جاتے۔ اور اتما پرمتما کے ویشہ میں بیچار کرے تتگان پائے تو جو بھگوان برمہ ویسن ورمہیش اپنے میں کو شد روک سے جانتے او اس کو جان سکتا ہے پونہ گروکیر پاملی پون گروکہ گیان ہو اس ملتے مانو تو جی میں ہی آد ہے تو برمہ کائی وان شج ہے

جو سرشتی چیوت پتیستیتی پر لے کرتا او اس کا تو وان شج ہے جو وطورک شہ ہے وہ ہی ایک بیج میں چھپا ہے ایسے جو انمتبر ماندوں کا آدشتغن ہے وہ تمہر آپ نہ ہو کر تمہرے میں کی روک میں بیٹھا ہے میں جانسی اٹھتا وہی وہ بیٹھا ہے بیٹھا تو خلیشاب دے وہی وہا ہے جیسے ہر ترنگ پانی کے بیناس پوریت نہیں ہوتا ہے ایسے ہر سنگ کل پر پورنا تمہرے او صچ داند پرمت ما کی ساتھا کے بینا نہیں جلتا تم جیسے سوجتے ہو ایسے بن جاتے ہو تمہتا شبتی کے آنند کے شانتی کے پروکار کے پنج ہو

لیکن میں لاجار ہوں موتاج ہوں دوکی ہوں تو پھر وہی اُدھر کو بھی جلتا ہے آپ کے منمیت نہیں شکتی کے تنگ کو سوستمی بن آسکتے بھی مار بھی بن آسکتے اور تو کیا یہ تنیحا پرارے اور آپ نجانی کتنگ کتنگ کتنگ کام کر سکتے لیکن ایسی اپاسنا پندتی آپ اپنے من کو بھی جئی کر لے وہ کر لے وہ کر لے وہ کر کے رو چیز وہ پر نام آپ کے سامنے لاکھ رکھتے ایسی بھی ایک پندتی ایسی اپاسنا و اس کو اپنے اپنے اپنے آسکتے تو پر نیسی اپنے ضرط </ آپ آکتتوulations ایک پ ہو کچھ شکتے کیтировے کیے آپ کسیں چاز counter hug & words

آپ کو take the saat و معاکتے ہوں آپ کو جگا کر اپنے لیے دوسروں کے لیے اور اشفر کے لیے آپ سپچھ کا سکتے آپ میں اتھا بلوہ رہا ہے ایک بیج میں کتنے و رکس چھو پے ہوئے شارے گانی توے تھا ملکر نہیں بتا سکتے برمہ جبی نہیں بتا سکتے بیج بودیا ہوں گا تو رکس کا کتنے بیج ہو گیا پھر ہو بودیا پھر کتنے ہوئے پھر ہو بودو پھر کتنے ہوئے باتا دیں گے برمہ جی نہیں بتا سکتے بہگوان آننتے تو بہگوان کا یہ کنوں کنوں بھی آننت شکتے رکھ رہا ہے

کیا کہا ہے؟ پھر ہم جیسا بندہ ہے تو جو پانہ ہے اس کے رنوروں کا تھوڑا نیم پالیچے اور بندہ ہے پانہ ہے تو بند کر پا کر پھر وہی چلے گے لیکن جو ہے آپ اس کو جھر لیا تو پھر پتن نہیں ہوتا آپ امرات ما ہے چھے پتنگیات ما ہے اس کو جھر لیا تو پھر پتن نہیں ہوتا لنکے شمن گے تو بھی پتنو ہوا لنکے شکہ یہ لنکے شپوگہ بھی ہوا ایک لرکا بھی ہوا لیکن شبری نے بطنگر شیگے ہوتے سے اپنے اپنے کو یادخ پتن سے پار ہوئے

درو نے پہل آج نے اپنے اپنے سواہوں کو جانا پتن سے پار ہو گئے نانم جنے کبھی جنے لیلہ سپر ہو جنے درن میں بیٹ گئے تیجوری کیسے کھولی اس کا روب کیسے بنا شاندی کے سے ہوئی باراتی بوجن کر کیا میں کو پینا اتھنو سابی کوئی کو پیناتے جن کو جگت توس لکتا ہے وہ ایسی باتوں پر چکی تو جاتے وائڈے ہو جاتے لیکن جس کو باگوان کا سامور تھے چید گھان گھنوانا گھنیوٹی توس ایسے توس بار پورے ہو پر میشر گھنوی تو اگنی گھو ستا ہے

اس پر مات مبی اور کچھ گھو سنی ستا ہے کیونکہ چید گھنے جیار گھنے نہیں باگو چید تن کرتے کرتے باگوت سو باہوں میں شاند ہو جا ہے باگوت آنم میں پھر مدیدر ہوتر جا ہے پھر لنم باہو چارن کرو پھر مد جائگا پھر لنم باہو چارن کرو باہی معاہ

باہی آشاند ہو رمتی ہرنہ باہی میں ہرکونا

وہ הדہتوں کی ہوگلے ہم نے سامنے بلادے. جیب کی نوع قدناتوں کے مول میں لگا دیں, اوپر اتوانیچے. اور سا سو سا س میں ہری جاب کرتے کرتے ہری میں شان توتے جائے. جو دکھ دریدتا رو بشوک کو ہرلے اور اکھمہ مدو میں سواہا بھرلے بھو ہری ہمانا آتمدے ہوئے. بطوں کا بھر وانو کرتا گتوتا ہے. جو کیوں کا اپنا ہو کر, مشنانتی دیتا ہے. شہیوں کا سیو ہو جاتا ہے. اللہ وادیو کا اللہ ہے گوڑ وادیو کا گوڑ ہے اور سب کا مدرات مدیو ہے.

گوڑ نت緒گو ب pelei year HER گوڑ نت緒گو شهریوںrika الجو دیسک بگی Hadis அگوان کو مانتے, اُس کو پریٹی بھولا کہا دو کے بھگوان. اَسْتُ مَا سَدْگَ مَا عَاااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااا. تم سوما جو ترگا بیا, اندقار سے بچا کر لکاروں سے, برنتا سے راگ دویسے, ترگ یان ترکاش کے ترب ترے برینز ووح کے ترب لی جا.

تم سوما جو ترگا بیا, مردتور مام امرتم گا بیا, مرندر ماشریر میں, میری انتام ممتامیتا کر, پجھا انتر آتما دے میں میری پریٹی جگا دے مغارا والوڑا, تیو دی دے کار والا, ایو دی او گار, مولا وی ہومار, نتارا مدوبار. جو گجونہ بندنائنہ, کائیتو سو جاد والا, ایو دی دے کار والا, کتو می سمشان ملے جا اس کے پہلے پر بھوتو, اپنے آپ ملے چل مارا والوڑا, اپنے گٹنے درد کرنے لگ جا اس کے پہلے ترسن تو فکیروں اور تیری پریجنوں کی آترا کروالے,

کان بہلے ہو جا اس کے پہلے تیرا, ویدک جان باروالے. آنکوں کا روشنی کم ہو جائے, اس کے پہلے اندر کے چکشو جاگرچی کا ہو, پڑے اشتے لادے پرا ہو جی پیارے جی. دنیا میں خوب کمائا کیا ہی ریک کیا موتی لیکنیاروں, کیا کرے کفن میں جیب نہیں ہوتی, بدویں ہم پڑی رہی سے, اپنے کرم ساتھ میں چلیں گے, کرنی ہاپو اپنی کے نیڑے کے دور, کرم کرنے میں ساؤ دھانڈا ہو. کرم پر دھانا ویشو کر راکھا جو سے سکاری تیسا فلچاکھا. ویش لی کرم کر تیسا میں ساؤ دھانڈا ہے. بلے حب بلہ کم نہ کریں تو کوئی ہر کتنی بورہی رہی تو جائے,

کسی کا بورانا سوچی ہے. کسی کا بورانا کریں کسی کا بورانا چاہی ہے. کسی کو بورہا نہ مانی کیوں کی بورہی بکاروں کی دین ہے. اس کی گہرائی میں تو ہی تمہرہی پرمیشر ہے. اللہ کا ہو, God کا ہو, اس شرکہ ہو. اپنے ردے جتنا جتنا اس گہرائی پرمیشر کی گہرائی کے طرف ہوگا ہوت نہیں. پرمیشر کی ستاپ کی رکشک پوشک پوشتی دائے ہوگی. اوم نمو بھگوتے واشو دےو آیا. بھاشو دےو آیا, پریطی دےو آیا, پر بھو دےو آیا. بس بھگوان کو پریطی پوروک سمرن کرتے کرتے اس میں شان توتے جائے

یہ باکی کا کام بھگوان آپ کو کرتے کراتے جائیں گے. تسیہ ہم سولہ بھم پارتہ نتے یک تسی ہوگی نہ. جو نتے یک تیوجی ہے ان کے لئے میں سولہ بہو جاتا. ابھی بتایا تھا نا. یہ سوامی رام کے چرنوں میں. میں سنا ہے. یہ سنا تھا. سوامی رام کے چرنوں میں. کان طور میں. سوامی رام تر تھو گے ہوالا گے دوسرے سوامی رام. کان پور سے چھے کلومیٹر کی دوری پر ایک سنت رہتے تھے وہاں. جو پینات نام کے کان پور میں. شاکھا ریزر بنک. اور پیندیا کے کوشانی کاری.

درشن کو بیٹ. شام کو پہچھ بجے گئے اور بگن نام چندتم کرتے کرتے دخن مگن ہو گئے. اور نو بجے آک ہوگی. تو گوپینات سنگ. کان لگی آر آرانا کی طرمار تھا گیا. میری بطیجی کی شاادی تھے اور گینے گا تھے. تیجوڑی میں تھے چا بھی میری جب میں. ساتھ بجی شاادی تھے. نو یہ بجے گئے. نو درشن کرنے کو آئے تھے پانچھ بجیچھے وہ جے پونچنا تھا ساڑے پانچھ بجی گئے. یا نو کیسے بجے گئے. مارادنے کا تمہ گوان کے چین تم نے تنلین ہو گئے. تو اب وہ شاادی میں گہینے پونچھے نہ پونچھے وہ اس کی جمیداری ہے. آپ کی جمیداری. میں آپ اس لی جمیدہ لئے ایک لوکیک جمیداری ہوگئے. اور ایک واستریک جی واتما کی پرماتما میں شانتونے کی جمیداری ہوگئے. تم نے واستریک میں جمیداری نبادی ہے تو لوکیک جمیداری.

وہ کیوں تمہاری. چھوڑ دے گا. وہ گھار گا ہے تو گھاروالوں کو بولی کیا ہوا. پتنے کا سمچھے گا ہے. شادی ہو گئے. برات بوجن کریں. بلے گھنے گا ہے تو تیجوری میں دے چابی تو ایک ہے. میری پاستی پھر شادی کیسے ہوگئے. بلے آپ کیا کہے رہے ہیں. سمینود نہ کریں. آپ نے تو آکے دیا تھا. بلے میری سا چار ساتی ہو رہے. میری پاستی پھر شادی ہوگئے. اور وہ بہوان چنطنے دیاں نے ہم لوک بگنے تھے. بلے آپ. دیکھ رہی کیا بلے. لوکوں نے بل آپ تھے. آپ نے دو کہنے دی. اور دلہن بیٹھے. دلہا بیٹھے. گھنے چمچم چمکھ رہے. گھنے ہاتھ تاجوب کرتے ہیں. چیادی کری تھے. کلاس ونوفی سبتے ہیں.

تو کیا گھوپیناتھ. میں گھوپیناتھوں کے دوسرای کوئی گھوپیناتھ. کل دوسرے دن میک میں گھنے گھنے ساتھیں. سے پڑھتے کے دوسرا کوئی گھوپیناتھے. کیا میکھ میں ہے. بیجوں کو اچھے گھنے گھوپیناتھ. ایسا چاکھا لگیا. دوسرا کوئی گھوپیناتھے. کیا کیا کیا. اونے پتانی کی جدا جدا جگہ پہ. کام کرنے والی کوئی ادبوت مہن. ستا شکتی ہے جو. سرسٹی کے اٹھپت تیستیتی اور پھولنے کا کہا رہے ہیں.

More episodes

More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya

View all episodes →