Jan 2,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Transcript ready
1,475 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Jan 2,2026 Friday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
آپ کے اور ہمارے پاس تو اس جمانے میں جو ہے وہ تو پوروکال میں جو تھا کچھ بھی نہیں سری مد بھاگوت کے اندر ایک ادھا ہاتے کہ ویدور جی ستیڑتھی آترا کر کے لوتے اور یو دیستر محراج نے ان سے پوچھا کہ کہ آپ یا ترا کر کے لوتے آپ تو تیرتھوں میں نانے کا نیمت بنائے تھے آپی تو آپ جیسے لوگ تو تیرتھوں کو پگیدر کر دے والے ہوتے آپ نے جو جو دیکھا ہوا صندر سوحامنا وہ ہمیں بتائے ہیں ویدور جی نے تیرتھے آترا کا تو ورنان کیا لیکن سری کرشتے نے اپنی لیلہ سمیٹ لی ہے اس بات کا ورنان نہیں کیا ویدور جی سمجھ گئی تھے کہ وہ تو دیر سبھر جانہی لیں گے دوکھ کی بات میں جلدی کیوں باتا ہوں جیت نے دیر دیر سے دوکی ہوتنا چاہیں اگر دوکھ کی بات کسی کو باتانا بھی چاہوں تو ایسے دھگ سے باتا ہوں کہ اس کو جادہ دکنا ہو
اور دکھ جہلنے کی شکتی آئے یہ بھی ایک آپ کا یگ گیا کرنا ہے منوں کیسی کے بیٹے کا ایک سیڈن دھ ہو گیا اور آپ کو باتانا پڑتا ہے تو اس کو آپ حوم سے یا کہ سے بھی ابات کرتے تو آپ اس کو کہ دوکہ بھی ایک بات باتارہ ہوں آپ کو باتا ہی اس آپ کیا ہے بلے کبھی تو ہوای جا سے لوگ کرتے ہیں و دیھ پسلی پیچان میں نے آتے کبھی تو ہاتھ سے ہوتے لوگ اسی سمیں مر جاتے ہیں سنسار تو ایسا ہے شریع تو مرتے ہیں یا تو ایک سیڈن میں آتوں کیسے بھی جو مر نے والی کہا ہے تو مرتی دیر سے بھی رو جو امر آتما ہے تو امر ہے آپ کو بات بات بتاتا ہوں لیکن آپ ہیمت کریں گے تو بتاتا ہوں نہیں تو نہیں بتاتا بلے بتا ہے باتا ہے آپ ہیمت رکھیں گے تو میں بتاتا ہوں ہا کہ ہوں بتا ہے آپ کے تو دو بیٹے ہیں کیوں کا تو ایک لوگتا بیٹا ہوں ٹا ہے اور اندس پڑھا مر جا پڑھا ہے ایک سیڈن میں تو کیا بات ہے
کچھ ہے گیا بلے نہیں نی دیکھو آپ دروںت آپ کے تو دو بیٹے ہیں ایک تو ٹکتا ہے دوسری بیٹے کو جراسا آپ اون کے دونوں ٹک ہے مطابی ٹک ہے آکھیں بھی ٹک ہے پیٹ بھی ٹک ہے کیڑنیہ بھی ٹک ہے کے والدہ ہے پیر میں جراسا پیکچر ہو گیا ہے آپ دیرے سے اس کا علاج کریں گے تو مجھے آنند ہوگا آپ دوکھ کریں گے تو مجھے دوکھیں دونا پڑھے گا آپ نے اس کو دوکھیں بات تو بتا دی لیکن آپ نے ایک محاہ یک گی کر لیا اس کو دوکھ جلنے کی شکتی بھی آپ نے دے دالی یہ ہے یہ سامرت ہے یہ ہے آتمک بھیا جتنا جتنا تم آتما پر ماتما اس اقال پر اس کے نکت جاتے ہو اتنا اتنا تمہرہ ویشال ردائے ہوگا بچے تھے چھوٹے تھے کھلٹے تھے اپنے کھلوں نے اپنے چیزوں میں جب بڑے ہوئے سادی ہوئے پھر اکلے نہیں
کھاتے پتنی کو بھی بھران پوشان اوروں کو گہنے گاٹے دیکھر خوشوتے ہو بچے کچھوں کو بھی کچھ دیدھا کہ آپ خوشوتے ہو اُسے بھی آگے بڑھتے تو بہو آتی ہے ساسم بہو رہتا ہے یہ ہوتا ہے تو جون جوں آپ کے سمار یہ گیتاؤں کا ویسطار ہوتا ہے کیوں آپ کی ویاباکتا بنتی ہو جون جوں ویاباکتا بنتی کیوں آپ آتما کے نکت ہے اپنی جاتی اپنے ویگتی گتدائرے سے کتم کا دائرے بڑا کتم کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں کیوں
کیوں यशाँछती स्वी बछदी है आपके आतनो अचाछती ही ही? आपन साँमरत है. एक तो जछाने के गे आपनो नबनुची जनुहा है. आपन साँबईले हो थो, आपन सुगक कने हो बनुची भी भी भी भी भी भी भी, پھر بھی پیٹھ دے بیٹھے ہیں آپ اسے دور نہیں ہو سکھے پھر بھی دور بیٹھے ہیں کرنی آپ کو اپنی کے نےڈے کے دور کیوں کہ اس کا جان آپ کو نہیں ہے جاہ سے آپ رات کو تھاکان میں تاتے ہو وہ سامر تلاتے ہو جاہ سے تمہری بھڑھی کو شکتی سمرتی ملتی ہے جاہ سے تمہری من کو سپندن ملتا ہے جاہ سے تمہری آخ دیکھنے کی سامر تلاتی ہے اسی کو آپ بھول بیٹھے ہو تو ان جانے میں نپی تو لیوں گیتاہ ملتی ہے اور آپ جگت کا نشر کام پورا کر کے جندگی پورا کر لے تو ادر اس کو جانے کے رستے چلنا ہے
تو جیسے یودیش ترمہ رہاچ کو بیدھر جیو پڑےش دے تھے بیدھر جی نے اپنے بھائی کو بھی پڑےش دیا بیدھر جی نے یودیش ترکہ بتایا باد میں وہ مہل کے خند میں گئے جاندر تراشتا بیٹھے تھے بیدھر جیدر تراشتا کو کہتے ہیں کہ بھائی جن کی بہوک کو جن کی پتنی کو تم نے بھر سبہ میں نگنہ کرانے میں تمہرہ مہنیمت تھا جن کو تم نے بھارہ بھارہ سال بن بھجوانے میں چھپی سادلی تھے جن کو لقشا گرامے جلہ ہے جانے کا شڑیان ترکر آیا تو محرے سپوتھنے اسی بھیم کے ٹکڑے کھا کر اس شریع سے تم اور کیا سکھلے نہ چاہتے ہو اور کیا ساہر لے نہ چاہتے ہو
موت نکت ہے شریع آکر گال آکر گلہ دبوچ لے اس کے پہلے اس آکال پر اس کا آسرے کیوں نہیں لیتے ہیں دوسروں کو دک دیتے دیتے دکی ہوتے ہوتے ہوتے مرے تو کیا مرے جیوان جینے کی ایک آرٹ ہے جو ٹک سے جیوان جیا ہے اس کو مرنے کی بھی آرٹ سکھلے نہ چاہتے جو ٹک سے جیا ہے اس کا جیوان سپل ہے اور جو ٹک سے مرا ہے اس کا مرنہ سپل ہے جیس کا مرنہ سپل ہوتا ہے اسے دبارہ نہیں مرنہ پڑھتا ہے آپ مرنے کی آت سکھلے مرو مرو سب کو کہیں مرنان جانے کوئی ایک بار ایسا مرو کے پھر مرنان آہوی دوسروں کو رولا ترولا تھی مرے تو کیا مرے رو تھی رو تھی مرے تو کیا مرے
بہی یہاں مہل میں رہ کر تم کیا سکھ بوگوں گئے جیس سے کتے کو روٹی کا ٹکڑہ دال دیا جاتا ہے ایسے بھیم کا رسویا تمہرے یہاں تالی دے جاتا ہے جن کے ساتھ جیوان بھر تم نے چلکہ پت کیا اونے کے در کے ٹکڑے کھا کر تم ابھی کیا வیشش کچھ رس لینہ چاہتے ہو رس لینہ ہوتو اس آت مدے میں ہے چب کے سے رہتو رات چلے چلوں گنگ رہ کی نارے جہاں کوئی پریچھے نہ ہو آئیسے اگگیات جگہ کے چلوں جس سے سارہ گیات ہوتا ہے اس پر میں شرکہ سمران کروں اسی کا دیان کروں بھی دور کی سچی باتیں درتراشتر کے رہے تک پہنچ گئے گھندھاری درتراشتر اور ویدر راتورات چل دیئے
جیدشتر مہراج کا دنچریہ کا ورنان آتا ہے کہ وہ سبے رہتے بیستر پر بیٹے آج کا دن میں یہ یہ شب کروں کروں گا آجیتنی گاغوں کا دان کروں گا اتنا ست کروں کروں گا اور سو کو دکھ میں سمرہ ہوں گا بگوان کا سمران کر کے جو نتھونہ سے سواز چلتا تھا وہی ہاتھ مون کو گما کر درتی پر پہر رکھتے ہیں جس سے مناوان چتکہرے میں سپلتا ملتے ہیں بلکل فیت بات ہے اب ہی بھی اس کا پر بہو ہے سوبے اٹھے سمے کسی ویلاسی ویقتی کا درشن کروں تو دن بھر بلاس تاکی کی چڑ میں گرنے کا بروبھا گے ہوتا ہے ایکن سوبے اٹھے سمے سنیم اور سدہ چار کا آدشتان سرو پر ماتما کا چنطن کروں تو تمام وگنور بعد ہوں پر پیر رکھر اپنے سنیشچت کاری میں آدمی سپھل بھی ہوتا ہے
کبھی کبار بھی پھل ہوا تو بھی گیرتا نہیں بیش آدمی سوبے کی پہلی دو مینٹھ آپ نے سمارلی تو بہت کچھ سمارلیا نید کھل جائے لیکن آکھنا کھلے کھلے تو پھر بند ہو جائے پڑے رہو اس میں آلارام گھنٹی بیجا سکتا ہے لیکن کمبل نہیں ہٹا سکتا ہے پتی پتی کمبل ہٹا سکتی لیکن تمہیں جگہ نہیں سکتے جگہتا تو وہی ہے جو تمہرے دل میں دھڑ کرنے دے رہا ہوں ہی تو میں جگہ رہا ہے نید کھل جائے آکھنا کھلے کھل جائے تو پھر بند کر دو آلیٹی لیٹی میں شان دسرو پر میں شر میں رہت در آرام پایا تھا اسی میں اب میں جاگرت میں بھی آرام پانے کا ہی کام کروں گا ہے میرے پر بھو پھر چایا اس کا نام تم رام رکھ دو ہمیں آنند ہے تم اللہ کہے دو تم رب کہے دو
ہمیں آنند ہے جس روک میں اسے مانتے ہو لیٹی لیٹے دو مینٹ اس میں خو جاؤ بعد میں آپ بھیستر پر بیٹھ ہو لیٹی لیٹے دو مینٹ خو گئے پھر شریر کو کھی جو اچھی طرح سے دو تھی مینٹ جیبن شکتی ویشے شائعگی تو مہرے شریر گنسٹュ مینجو سادن ہیں جن میں تھا کان ہو جن میں کچھ کمی ہو اس کمی کی پورتی کے لی اور جا کو لاؤ شریر کو کھو گئے چو دو مینٹ مڑھا پے میں تو یہ کام جرور کرنا چاہئے نین میں سے اٹھو دو براپر کھئے چو رگرگ کی جھرتی لیلو ایسا کھئے چو داکٹر انجیکشن کھئے جتا ہے لڑھ کا پیچکاری کرنگ کھئے جتا ہے ایسے آپ آتمک اور جا کو گئے چو شریر کو براپر کھئے بلی اور کتے کو ٹائم سر کھانا پینا نہیں ملتا
پھر بھی بے جاہدہ ایک ٹیو ہوتے ہیں کم سے کم بیمار پڑھے کیوں کہ وہ جب بھی نین میں سے اورتے تو اپنے شریر کو کھو گئی چتے ہیں بلی کتاؤ کو تو ہم نے ستسنگ نہیں سنایا پھر بھی پرا کرتک نیم کیا نوصار شکتی لیرے اور آپ کو ہم سنا رہے پھر آپ کیوں نہیں شکتی لیں گے آپ تو لے ایک ورد آیا بگرو جی کے پاس کے باواجی تمام ٹونی کے کھانے پر بھی میری کمجوری نہیں گئی لیکن یہ کیچنے کی جو پڑھتی بتائیں دن میں دو چار بھار کرتا ہوں آپ تو میرے کو سپورتی ہے بھڑھاپے میں بھی جوانوں جیس سپورتی آگئے تو آپ کے لیگی ٹونیک ہے شریر کو کھی چو دو دو منات رہیم لت پھر دو دہیم لتشریر کو دھیلہ چھو تو جہا بھی کمیگ کی ہوگی وہاں وہ قر جا جائے گی پھر آخری دو مینٹ بیٹ چاہوں گھر میں کس کارن کلا ہے شریر میں کس کارن بھی ماری ہے
اتما سنگر شورہ ہے تو اس کو کئی سے میٹایا جائے دوشمن ستارہ ہے یا میٹر حدکی ہو رہے تو اس کا کیا کارن ہے اور اپائے کیا ہے یہ سوبے سوبے من میں سنگ کلپ کر کے پھر تو ریشان تو جا اور ردہی سے جو آو آ جائے گی وہ بلکل سائی ہو گی جیرام نکے جو ابھی گجرات میں مکھمانتری بنا ہے 15 دن پہلے میں نے ہمارے آدمیوں کو کہتیا کہ یہ یہی مکھمانتری بنایں گے جیتے گے اور جو مکھمانتری پت سے چلے گے تھے ان کو پہلے میں نے بولا ہے تھا کہ آپ کا گراہ کلا ہے مجھے اچھا نہیں لگتا آگے چل کے خطراپ کا آپ تین حبتا کے لئے امریکہ جا رہے یہ ٹھیک نہیں ہے اور آپ ہات کا خال کرنا یہ تینوں باتے ایک کس دن میں ان کو دیکھنی بڑی تو ردہی کی جو آواج ہوتے ہو ردہیشور کا پرکاش ہوتا ہے آپ ردہیشور کا پرکاش نہیں جئے
کبھی آپ جو نرنے کرتے ہیں سماج کچھ کہتا ہے آپ کا من کچھ کہتا بود دی کچھ ترک لڑھا تیلے کن آپ کسی کی مطمانوں سبے اٹھ کر اس رب میں گوتتاماروں آپ کا ردہے جو ہے ایشور کے نکت ہے اور ایشور جان سروپر تمارہ پر امحیتشی ہے تو میں سد پر نا دے گا آپ لن بھی لن بھی چوٹوں سے بچ جائیں گے اور جیو انگیاترا آسان چلے گی بلکل پک کی بات میں نے جو سدسنگ اتنے سارے ہوتے اور سب نربيگنا سماج تو تین پسی کا ہاتھ ہے جیرام دیکھ میں تب تک ہانے بولتوں جب تک وہ ہانے ہی بولتا ہے جیرام دیکھ سمیدی والے کتھ نہیں چکر لگاتے ہیں ہم یہ بنائیں گے یہ کریں گے باپو جی ہے لیکن بہی سماج کی کمی بھی ہے پھر بھی تم کو نانے بولتوں پھر کبھی دیکھیں گے پھر کبھی دیکھیں گے جب آئے اور پھر کبھی دیکھیں گے کرتے کرتے جب
بات بات میں بہیں گوتتاماروں وہاں بولتہ یہاں کرد میں بولتوں بلکولہ اور کامتنا تنہتا ہے پھر کچھ نہیں پھر کچھ نہیں لوگ تی تھی دیکھتے ہیں مورت دیکھتے ہیں نہ جانے کیا کیا سیکی روٹی کیا آپ وہ دیکھتے دنیا بھرکا پھر بھی کھیں گے کہیں گڑ بڑا ہوتی رہتے ہیں میں تو کچھ نہیں دیکھتا کھالی دیکھنے والے کو دیکھتے سے پوچھ لیکھتا ہے کام بنگیاتا پر آپا پھر آپا میں اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ بھی بھائی داؤ ہوں جیرام جبولہ پڑے گا لیکے لڑکی کی سادی بیا ہوں مقان چنج کرنا ہوں پارٹی چنج کرنا ہوں جیرام جی کی جو کچھ بڑھا نہیں رنا ہوں تو بڑھے میں بڑھا جو پر مات مہے اس میں تھوڑا ساتھ بہتہ بہتہ بہتہ بہتہ بہتہ بہتہ گیا جہے
نہ رائے نہ ہری ہندو ہندو تو ٹھیک لیکن گروکھے ہندو ہونے سے کام نہیں چلتا ہے رسوی لے ہندو بن جاؤ تو پھر رسوی کی رس ہے آنمتی آنمت ہے نہ رائے نہ ہری نہ رائے نہ ہری شاسترکتے رسو اپسو کونتے پر بہتہ اسمی ششوریہوں وہ ہگوان رسو روپ ہے میں آپ کو پراتھنا کرتا ہوں کی رو جسوبے دو منات اس میں گوتا ہماروں کی میں دیرات you میرا آپ کے باب کا جاتا ہے تھارا باپروں کریں جائے باستہ میں تموسی کے ہو مقان تمہرہ نہیں ہے خدا کی قسم آپیس اور قرصی تمہری نہیں ہے وہ تو دینے والا اس طریقے سے دیتا ہے کہ لینے والا بندہ بیچارہ برم میں پڑ جاتا ہے وہ دینے والا ایسا دیننا ہے کہ لینے والا بیچارہ بھس جدا ہے
کو سمجھا میرا ہے اور تادہ کچھ نہیں پر آ تو تیرا شریعی بیترہ نہیں ہے تو یہ میرا دسکلے جمین ہے میرا دو مقان ہے میرا یہ کورسی ہے تیرا شریعی بیترہ نہیں تیرا شریع کرتے رہو تھا تو تیری آگ گیا میرا ہے تو نہیں چاہتا ہے کی چھپرا سفید ہو جائے ہو جند ہے تو نہیں چاہتا ہے کی جوریہ تو نہیں چاہتا ہے بیمار ہو جند ہے تو نہیں چاہتا ہے کی مر جائے لیکن ایک ہو کھا تو مر جند ہے پھر بیترہ رب امر ہے تو اس کا ہے اور وہ دیرا ہے آد ستو جگات ستو ہے بھی ستو نانکہ ہو سے بھی ستو جسی کا تو بندہ اسی کا سوارہ دنیا کی لالت سے سائب بھی سارہ نکینی ایبادت نراکہ ایمان نکینی بندگی پکھارے زہان شرمیدان ہو کچھ ہونے کی کمائی
نالت کا جامہ تو پہرے نجائی گفلت کرے گا تو کھائے گا مار بیٹی اور بیٹا لہے گا نسار دنیا کا دیوانا کہ ہے ملک میرا آئی موت صرف پر نہ تیرا نہ میرا موت آ کر گلہ دپوچھلے کچھ لوگ تو ایسے باؤں رہے ہوتا کہ میں بھگوان بھگوان کو نہیں مانتا جرہ سب باترم بند ہو جاتی تو داکٹر کی ہم ناک ردن نہیں جاتا ہے بھگوان کیوں کیوں کیوں نہیں مانتا داکٹر کو تو مانتا ہے جرہسٹر در دو جاتا جرہسا بند ہو جاتی چکر قدنے لگ جاتا بھگوان کو نہیں مانتا بڑا ہو گیا تو نہیں مانے پھر بھی وہ تو جیتنا دیرا ہے کتنا اُدار ہے کئی لڑکی ہوتے بھل میں ماباب کو نہیں مانتا پھر بھی مابول کی بیٹا کوئی بات نہیں مان لیکن یہ کاتھ لے میں رہل ہوتا ہے مان کے ردے سے بھی ہزار گنا گوست ردے شور کا
ردے دیالو ہے سبہ اُٹ کر اس کو کہ دو کی میری نہ سنجی کا کوئی انت نہیں اور تیری اُدارتا کا کوئی انت نہیں چھورا ہے کو پاتر ہو سکتا ہے لیکن مانتا کوئی انت نہیں ہوتا میں تیری اُدارتو میرا جو تد بہ بھی سو بلی کا جو تجیت چالگے وہی میری لی بل آگے بس ایس ایتنا سا کہے کہ آپ بس تر چھورے ہو سکے تو ایک آت تاکہ مارکے حسی کا ایک آت من ادھا سلے دلڑ سرکلیشن اچھا پھرے گا کھون ٹی کرے گا سواز ٹی ٹی کرے گا ایک آت من ادھا بیتے کام کیا پھر ایک من اٹریشٹ لی اور پھر اس میں گو تامارو آپ کا جیوان بہت سمدر ہو جائے گا یو دیش تر بھاراج سوبے ست کرم کرتے
سادو برامنوں کا درسن کرنے جاتے اندان کرتے گو دان کرتے بعد میں قدن کے بودھے بجرگوں کو پرنام کرنے آتے تھے جو بیڈور جی اور بھرت راشتر کے خند میں گئے تو دیکھا کے درت راشتر نہیں گاناری نہیں یی دیش ترکائی کے کہا گئے شاید میں رہ کچھ گلت بہوار سے میں محاکم ناراج ہو کر چلے گئے کیا بھی نہ بھولے حائرے میں کہیسا راج جسک میں بندھا میں درت راشتر کی سیوہ میں کی کمی لگائیں کمی لادی ہوگئے اورے وہ کہا گئے سنجہ کو پوچھا سنجہ بولٹے بے مہت مہام کو دھگھر کینا تو رہ چلے گئے یی دیشتر شوک کر رہے ہیں کی حائر ہے
کہیں گنگہ میں تو نہیں قد گئے ہوگئے بیس بردہ بسلامے انگہ تو کوئی نہیں تھا وہ بچا رہے ہیں رہج مل میں رہتے تھے روٹی کا ٹکڑا کھا دے دے وہ بھی میں ان کو ٹیگ سے نہیں دے سکا ہوں گا اسے لے شاید وہ اتبہت کیا کرنے گا گا گا میں کھو دکے ہوگئے حائب ہگوان وہ تو بڑے دکی ہو گئے ہوں گئے پتھروں کا دکھ لوگوں کے مہنوں کا دکھ اور مجھ جہسے صورتی آدمی کے ساتھ رہے یی دیشتر سجن ہے اپنا دوش ہو جہے ہے دورجن دوشھے کا دوش ہو جہے ہے دوسری پر توپتا ہے جی دیشتر بلاب کر ہے اتنے میں نارج جہے نارجنگہ کہا لو اپنا دکھ تو مٹائنے ہو ان کے دکھلی رو رہے ہو کیا تماری بھروں سے ہو جن میں اور تماری بھروں سے جیے ہیں ہے جی دیشتر سبکا وہ داتا ہے وہ تو چلے گئیں گنگہ کی نارے
اپنا جیوان سفل کرنے کو اب تمارے دین راجے وی بھوں میں کتنے بیتکہ تم کو پتا نہیں سوخ کی زندگی پتاک سے گوجر جاتی ابھی سمیہ بڑا کرہ با رہے کال کروٹ لے رہے آپ کی آئیش بھی تو بہت کچھ ہو بیت چکی ہے تم دوسری کے دوخ کی چنتا کرتے کہ وہ کھان دیں ان کا کیا ہوگ اب تم اپنا بھی تو سوچھ ہو اپنا تو دوخ مٹائیں نہیں اپنے کو تو کال چکر سے بار کیا نہیں اپنے کو تو جنم مرن سے بار کیا نہیں اور دوسوں کی چنتا کریں گوتے کھارے ہو وہ تمہت مہت مہ گنگہ کی نارے گئے مکھ میں پتھر دال کر موم دیں گے بگوان کا چنتن کریں گے شریر متیا ہے اور یہ پران بھی سواص و سواص چلتے بھی پنج بھوتیک ہے من چنچل ہے پر کرتیک ہے وہ دھی بدلنے والی ہے یہ سب کو دیکھنے والا ابادل آتما میں
ہوں سو ہوں ایشور کنم پیٹھ دے سکتے ہیں نہ ایشور سے پڑے جاز سکتے کewال اس کو بھل بیٹھتے اسی لی وہ جنم مرن ہو رہا ہے اس کی سمورتی کر کے وہ اسی میں سما جائیں گے اور تن بھی اس کی سمورتی کی راستے چلو کال آ کر گلہ دبوچے اس کے پہلے تم اپنے دل بر سے لگا ہو ایو دیشٹر یہ ہے نارج جی کا اب دیشٹن کا درم رہج یو دیشٹر نے تحسلہ کر لیا اپنے باؤترا پڑیگشت کو رہج تیگلکیا اور دیشٹر نے رہج اوچت جو بھی ہرے جواہرات مکوٹادی تھے ہوں کا چاپ کیا سادے سودے کاپڑے پہرے اور بال بکھے دیئے یو دیشٹر نے جو یاگ کے یاگ کر مکان کرتے اُن کر مکا بھی انتران سمعویش کر لیا
اب باہر کے یاگ میں آہوتی دینے کی بجا ویشوانر کوئی آہوتی دے کر بھو جن کر یو دیشٹر نے راج لکسمی کو ہاتھ جوڑے کے ہے بھوگ لکسمی راج لکسمی میں نے تو جی تو نہیں بھوگا میں نے ہوں کو نہیں بھوگا بھوگوں نے میری آیوس سبھوگ لی جس سرید سے میں نے راج ویبھو کیا راج بھوگ ہوگا وہ سرید تو مر جائے گا میرا سمع بھی میں نے مار دیا اب ناراج جی کے اوگ دیش سے میں ساوضان وہوں میں اپنے ستے سورو پوس پر مات مات کی شرن جاتا یو دیشٹر اپنے بھائیوں کو لے کر امالے کی طرف چل پڑے ایک ایک بھائی کر کے اپنے پلے ہو گئے یو دیشٹر چلتے چلتے اس پر مپد کی ہترامے اژیپتا سے چلتے رہے ایک لے آئے ایک لہ جانہے تو کبھی کبھر
ایک لے بیٹھ کر پیچھار کرو کی آکی لے قبتک پتا قبتک پتک پتک مقان قبتک گاڈی قبتک اور یہ ہمارے حلتے چلتے ہاتھ قبتک وہ گاڈیا آئے گی کے سری سمشان کی آتھ پیپڑا رہے گا سری سمشان کی آگ میں ببوب ببوب کر کے ختم ہو جائے اُس کے پہلے جان کی اگنی سے ہمارے اگجان جل جائے ہے سا اپائ کرنا چاہے بلات آکر ہمے کال انات مناگے اُس کے پہلے ناتھ کی پرہتی کر لینے چاہے ناتھ کے ساتھ کا اپنا سبند جوگلے نا چاہے آپ جو اس واس لیتے ہیں وہ بارا انگلتک بار جاتا ہے اگر تھوڑا سا اب بہس کر اس واس کو گننے گا تو بارا انگل کافورس گیارہ انگلتک رک جائے گا آپ کے سو بھاہوں میں آنند ہو بھرے گا آپ کے
بود دھی میں نرنے سئے آئیں گے آپ کو دک کے سمی اتنی چوٹ نہیں لگے گی اور سک کے سمی اتنی آساکتی نہیں ہوگی آپ کچھ کچھ اپنے میں سپل ہو جاؤ گی جیسا امرت تیسی بیسا ہاتی جیسا مانت تیسا اپمانا حرش شوک جاکے نہیں ویری میت سمان کہانان کا سنڈے مانا مکت تاہی تھی چان ہات پکر کر کوئی دیو دیو تا تو میں سورگ میں نہیں لے گا اور ہات پکر کر کوئی دیو تا تو میں نرک میں ہوتی ہے شود پرنا ملتے اور آپ کے لیس وارگ گیسوک کے דور کھوں تھی تم جگ عشود کر مکتیں تو عشود پرنا تمہڈی بھڑھے کو تو باہتی ہے و آپ بغیشہ میں گالا پر تیسٹیپ لایتے ہو کرتے ہو
کچھ چیج ملکہ ہوں کچھ amor کچھ چیج ملکہ اور آپ لیکن آمکہ آمکہ آمکہ بوڑا اصبے لگا ہوا تو شام کو آم نہیں لکتے سمے پاکہ رام لکتے ایسی کبھی کبھی ایسے کر میںے کے ہاتھ واتھ پل دے جیسے آگ میں ہاتھ دالوں پو جلتے تو آدمی آگ میں ہاتھ نہیں دالتے ان پاپ کرم کرتا اُس سمے اُس کو کچھ نہیں ہوتا رب آدمیں پھل ملتا ایسلے سمتا ہے کہ پاپ کچھ بھی نہیں ہلاپرا ہو کر پاپ کرتا ہے اور لپرا ہو کر پنچے سے بیں مکھ ہو جاتا ہے اگر ددھی ہے تو پر اتنگر کے پاپ سے بچے اور پر اتنگر کے پننے کرے تو بھایش شوجرا ہوگا اور ورطمان میں بھی صدپریناwelے گی اور صدپریناکہ بڑھا ہیں کہ لیے صدپیسرہ پرمات مقانام جپوس крепیگیوں سے سریشٹ گیمانا گیا மن کو Еکہ گر کر نے کی ایک Тیکنک بنwaک் கphere்டால்
Дہاں میں کو மن کو Еکہ گرہ کو نہیں نہگ் گیاگی و پோfootpping نہ کروں آکہ پر وزن نہ پڑے بو جان نہ پڑے اس میں آکہ کی پதلی ایک جگہ پر روکDO نہ דاہیں نہ بائِ نہ اپر نہ نیچی بس خلیروکی رہیں جیسے باگوان کو گروکوں சنٹ گمانٹے یہاں سنٹھ کھ نہیں ہوں, اسے پرانہ ہوں, پرانہ کی ریدھاں تعالباد ہوگی اتوہ آک ہول کر ناک کے اگر بھاک میں نجر رک جمع ہو Swasandhar Gaya, Shanti, Bahraaya, Ek, Swasandhar Gaya, Anand, Bahraaya, Do, Swasandhar Gaya, Arugitra, Bahraaya, Teem, Ish prakar ki paachas ginti karlu, taptak baethe rungu, chai aapis mein chai dhar mein chai puja rungu mein.
Thodad din abhashkaru aap ki manmanin sadhana, pandra baas saal ki dhaas saal ki ek tarum, aap ki dhaas bhi sgant ki hoja ki aap bhaotun chayon ko chhusa ko mein. Jhap Swas ki dhidham, gyarahongal sebhachkar, bharahongal sebhachkar, gyarape chalni lage, to aap ki radhe mein nish kanta aik, aap ki buddhe mein sadhvik bala aik, aap ki manne prasanta aik aap saabhao, milan saar saabhao ne lagekhaa, aap ki aap ne toapne hojainghe parai bhi aapne ho ne lagekhaa, keval ek ungal swas ka niyantran kut samay mein ko jai ka. Agar do ungal tak niyantran mein aap saaphalohte ho, to aap ko atnik anand ki lharia kabhi kabhi mein. Jyot tumhare ko vikaru mein gyarahara tha man abho baarbar tumhe anandar baarne ko akarshid karega.
Man mein ek bharahbhari sadkuna hai ki do bata ek saat nein esakhti, jai saamay mein duki hai usamay suki nahi hai, aur jai saamay mein mein suk hai usamay duk nahi hai. Kitna bhi bharahbhari dukhaa ho, usamay mein. It's a suhas ki uppasna atva bhao naakaroke vhagwan nanda nanda nanda nanda nanda hai. Atva mariyada purshotam raam hai. Atva mere guru jaananda saru hai, brain saru hai jaan saru hai, suhkuswaru hai, usko pahar kaw. Aise kar te karte jai saa bhi bhao anukulkbali, bhaanukul bhao bhao bana kar aaprade mein, Jyohi thoda sa ek minat ke liye bhi, agra ap prasan ho jata hai, khos ho jata hai to ek minat ke liye dhuk se aap bajta hai. Jai bhaa ek minat ke liye dhuk se bajta hai ho, to do minat ke liya rdas minat ke liye bhaa bajta hai ho, bhaar karano se dhukhaa, lekin aap ko dhuk na chodhe e aap ki beseshta hui.
Bhaar se sukhaa, lekin sukhe me aap bulam nahi hui e aap ki beseshta hui, vei beseshta brma gahan ke dwar khol degi, Jai saa amrata taise bhi sakhati, Jai saa man taise haap mana, Harsha shokha jake nahi, Vairi mita saa man, Kahnaane kasunare mana, mukta hai te chaan, mukti ke rasde kaa, i preaas hai. Aagar aap abdhyaas kar te karte, tteen ungal saas ko niendrit kar te ho, to kavit tua shakti ubrei ki. Kavi kaalidas, aur tul saidas, o si aap saa me aay aur kavitai lekhi, aap saakun ki kavitai, shastra bankar, llokko ka maarg dashan karayi. Aagar is kavit tua shakti par aap nahi rukte ho, aur aap ki saadna aur chalde hai saas ki aap, hai saas ki aagar ta ki, to aap ka saas, chaar ungal takan niendrit ho, aagar.
Pranayam ke dohara bhi mandru ka jataar, man ke dohara pran hukhe jataar. Pranayam ki vidhi se, man niendrit ho, aagar, man ki niendritta se pran ki niendritta ho, aagar, niendritta ho, aagar, jude bhai je saa hai. Pranayam ka prawshatkar jaja hain. Pranayam ka prawshatkar taa tu mane ka agra ho jaja hain. Aagar, chaar ungal, saas niendritta ho, aadugal, بھڑھے بھڑھوں کے پاس ہم لوگ متھا جو ٹیکھتے ہیں تو ان کا شریبு سنکل پھڑھے سبھر ہمارے جیوان میں سکھ لاتا ہے شانتی لاتا ہے اس لی متھا ٹیکھنے کی پرم پر آ ہے کیوں کہ جہا ہمارے چھندوں کی چھوٹی ہوتی ہے وہ ہمارہ وہ مستک ہے
جو سوچ نہ ہے پری نہ ہے بھاظ نہ ہے اور مستک کا آگے کہیسا پری نہ ہے سوچ نہ ہے اور بھاظ نہ ہے دیتا ہے تو جہا ہم بھڑھے بھڑھوں کے پاس جاتے تو ان کی نیگہ ہوں سے شریبு سنکل پر شریب ہوئے ہیں سملے اور ہمیں شریب بھاظ نہ ہے ملے اس لی متھا ٹیکھنے کی پرم پر آ بڑی بے گیانک دن کی ہے جیرام جیسے رام گروکوں متھا ٹیکھتے تھے پرہتکل پرہتکال اٹھ گناتھا مات پیتا گرناوی ماتھا بچے ماباپ کو پیرے پڑھے وہ دوارے میں ماتھا ٹیکھ کیا تھے کنہلے آتے پر بڑے بھڑے بھڑے بھڑے پڑھے پڑھے پڑھا بہت چٹھ ہے بہت چٹھ ہے بہت شابہ سوڑے ودھیں شابہ سوڑے پھلام یہ شریب بسنکل پر کام کرتے ہیں اور اُن ہی کے شریب بسنکل پر جادہ پھلتے ہیں جن کے سواز کی گتی جانے انجانے آتوہ جن کی مان کی گتی جانے انجانے ساتوی کوئی ہے اُدار ہوئی ہے جادہ براض ہوئی ہے
اُن کے سنکل پھن کو بڑی مددتے ہیں اگر پہچھ اُنگل سواز کی گتی اپنی انترت کر چکے تو دور درشن دور دیش میں چیج پڑی بیوے کا ننم امریکہ میں ہے اور جمشے دتاٹہ اور بیوے کا ننم ایروپ میں ہے جمشے دتاٹہ کہتیں کہ مجھے کارکھنا کولنا ہے کونسی بھومی پر یہ چیجیں اپلاب دھوں گے دھانست ہو گئے اور کہا کے سنی جلا بھی آر ندی کے کی نارے وہ چیجیں وہ گھرب میں کوب ہے اور آپ کا وہاں کارکھنا پھلے گا بھولے گا یورپ میں بیٹھ بیٹھ بیٹھایا یہ سواز کی پہچھ اُنگل نینترت ہوتی ہے دھان کے وستہ میں تو بھی یہ باتے بتائی جا سٹی اور سپھل ہوتی اگر چھے اُنگل سواز کی گتی نینترت ہو گئے تو آکاش گمان کی سدی جیسے حنمانجی کے پاس تھی ساتھ اُنگل نینترت ہو گئے تو شگر گمان آدی کا سامر کیا تھا ہے جیسے سویم پر بھانے
حنمان کو طرنت ہی دریا کی نارے بیڈیا شگر بےگ میں آتوا تو آج سے بارا سال پہلے مستر بھی لی آیا تھا حلن سے دارت کے یوگیوں کا سامر تھے کتابوں میں پڑھ کر یوگیوں کو خوجنے آیا یوگی کے نام پر کئی ویش داری مل گئے علابان ہوں بلابان ہوں بھتبان ہوں پریتبان ہوں کنیا منیا کرتو عسندہ چلاسی دادے گر سلپھا در تو چاہتر چاہ مر شریر کا طاوے حومی دے وی تدپی من کا مائلان جائے ایسے لوگ میں مستر بھی لی حیران ہو گیا کہ یہ کیا انگن یوگی وہ اوب گیا جتنا پڑھا تھا بھارت کے سنتوں کے لئے اتنا ہی سنتوں سے نفرت اس کے دل میں پیدا ہو بھیلان کا مستر بھی لی بھٹتے
بھٹتے کسی سادو سے پوچھا کہ انگن یوگی بھارت کے یوگی بھولے بھولے ایدر رشی کےش میں حردوار میں نہیں ہے دکانداری در ہے تو تم جرا حما چل پردش کے طرف چلے جاہوں وہ حما چل پردش کے طرف چلے گیا لیکن اس کی شردہ تو ٹو چکی تھے کنہڈی کے کنہڈے ایک دو پھر کے سمع بیٹھا تھا اکاش میں اس کی نگہیں ٹی چی لگنگہ تھا دیکھ رہا تھا اور ایسے سوچ رہا اتنے میں ایک بودہ یوگی نگڈی کنہڈے آیا اور اولٹے بھاہوں کوئی چیز کو یوگی خیچ رہا پانی یوم رہا ہے اور وہ یوگی خیچ رہا ہے دیکھا کے کیا کرتا بودہ پاگل ملک پیر کن پیچھے چوب کر دیکھنے لگا دیکھا کے اولٹے بھاہوں سے وہ کوئی نوجوان کا مردہ بھا کے آر آیا مردہ بود طولٹے بھاہا سکتی ایکنے مردہ کیسے اولٹے بھاہا رہا ہے پانی جاہ رہا ہے دکھشن کیا اور مردہ آرہا ہے اطر کیا اور
اس مردہ جوک کو کنج لیپانی میں سے بھڑھے جوگی نے اور کچھ ہوت چلہ ہے اور کچھ ہاتھ کا ایشارہ کر کے بھڑہ سو گیا اور بھڑہ سدا کی لئے سو گیا اور وہ مردہ اٹھ کرا گا چھپاہا بھلی دور کر آیا اور مردہ بھلی نے پیر پکڑے ایپھونڈ پے گریٹ جوگی میں نے بڑھا بھارت کا جوگی پاہلیا جوگی نے پوچھا تم what you want کیا چاہتے؟ جلدی کرو مجھے جانا ہے مولہ یہ بھڑھا سرید آپی تھے اور اس جوان کے سرید میں آپ نے پر بیش پائز aim right reya right لیکن اب تم کیا چاہتے ہو مولہ میں حالن سے نکلہ ہوں بہت سمہ ہو گیا میری میسس کیا کرتی ہوگی میں وہ جر آپ بتا دھوں وہ لگو بتا کیا دے اس کا میں تمہ خط دے دے تھوڑی دے ربہ تو میرکہ پھر
اپنے کرمنڈول اسے ایک چکھتے نکال کے دے دیا میسٹر بھیلی پڑھا حیران ہوا میسٹ کہتے کہ میں ابھی گھر سے فلانی جگارہ جا رہے تھی بیچ کی فلانیستیشن پر کوئی تیجسری پروشہ ہے میں آپ کے لیٹر مگر ہے میں جلد باجی سے لیٹر لیکر ہے ایک چکھتے مہ آپ کو مزتے جہے آپ کو مزتے جہے تمہاں آپ جلدیا ہوں بھیلی دیکھتا کہ اسٹریشن بھی ہمارے ہیں حالین کا اور پتنی کے حسناکشر بھیلی کو پک کا ہوا کے ان کے پاس یوگ سامرتے کا قاہیاں ہے شگر ہوئے گھر سنجھل ماتر سے پہنچانے کی شکھ اب بھیلی کو حصیوگی نے پوچھا کہ اب کیا چاہئے میں جاتہتا اس murk ne ye ney mangha ki moge mantradikshade do abje siddh pursh mantradenghe mera kalyan ho ga moge dhan ki vidhi bata do ye murk ne ney mangha moge parmaatma me priti hoja he sa kuch bata do ye ney mangha ho sain bata hai ki myri misis ke pas moge jaldi bhai to
Nyugur hai haadmi skathar hain ki taadmi ka ye haal ho ta chakravarti samarat mili hoos ko bolta ki chawani ki dharamum pali amgadho mas ek kaap chai piladho sir me aap kabhra havari raunghe aarhe prime minister raji ho gaar tum bholta ki ek kaap chai piladho haad kardi tum ney jai ramsi ki aisei jogi milayar tum bholte jara sa ye te de jara sa veilok bill kul ghatte me rejati jo mere dhvahan nivas kyaathe babaji me rengli me jara dharadhe aarhe maha murk tu kya maagra hai babaji peet me dharadhe aarhe haad kardi mahavaji me rena bheeta johan hoos ko bhukhar haga haarhe kyaatho sir kapar haga ye to aarhe ke nidhi ke tabmi aur aarhe wadi ke dhvahane udar kuchakar tu to kabhi milta hai muskil sae tu ye pochakar ke bhaagwan me man lagi abhi ye katha me sunli haaphe pochange bhaagwan me man lagi tu ye ati vi shal ho gaar jai ramsi ki imandari se aisei koi chi chi chi chi chi chi
maagdi se bu bharkat wali chi chi chi haa bhaagye dhani me bharkat ajahat aur paat pashimotan asan karni se ependix mit diata hai meramit kaya paa ependix ki bhimari ho to operashan nahi karana ajahe yog asan tostakne paat pashimotan asan ka chitra bhi hai aur kya kya fahida upi li chi ye chhoti mati chi chi chi chi to haam jo jaan te wo kitabu me kath dhi hai abh bhai hi
haam jo dhe na chate wo chi chi chi chi chi chi chi chi chi mishtar bhi li kata ki moje meri misis ke paas haam chaat vol acha tom aak ban karo me chut ki vajanoga tinn tinn chut ki puri ho jai ki to tom aapni misis ke haus mei hoge aar bhi li ne aak holi aak band ki hima chal pradesh aar tinn chut ki ke baad aak holi tom misis ke haus mei ye shigra veg samar tibhrap tuja tha hai agar swa swaas ki gati saatongal ki nyan trit ho jai tu ye bhi li ki baad tu ishi yukki hai raamain me aak tha hai ki hanuman jaamant aur angat ko soyem prabhane aak he bhandkaro aur fir kholo todharya kekinarhe pong cha dhi aak tha raamain me aak tha hai aur serial me bhi tu mne dekhao ka tan de sakala sindhu ke tira whelke nbarat ke yoge façon ko sayen a
hai ki ar ddi sindhu mebi aapru kunaath ya tinn chut ki me Hida politics ra waag ke sithi bii aapru ka hin continua bli gharna waut hai نہیں رہے گا اور اس میں ٹکڑے گا تو پھر جنم مرا نہیں ہو گa. ٹین مناٹ کے لیے بھی اس اکال کرش آتما میں نیسانکل پڑے شاہ میں روک گئے دو بھارا جنم نہیں ہوتا. ٹین مناٹ کے لیو اس آتما کا ٹیک سے بود ہو گیا گیاں ہو گیاں پھر مو آپ کو ٹگ نہیں سکتا ہے. پتک آ رہے باوہ جی میں جنگل سے آ رہوں آپ بھی اس گنگل سے آ رہے میرے کدر جانہ ہے. پیاس لگی بابانے کا بیٹہ آدہمیل آگی جائے گا ایک بڑھا سروہ ہے لیکن دھکا ہوا ہے ہرے ہرے اس کمل پتوں سے
کمل پتے ہٹا کے پانے پیلے نہ. بڑھا ست چھپانی ہے بڑھا ساہ بصدھا ہے. پتیگ آدہمیل گیاں دیکھا کچھ دیکھتا تو نہیں اور پھر آگے پیچھے گیاں. پھر یادا ہے کہ ہرے پتوں سے دھکا ہے شایدی ہے ہوں, دھیرے سے ہٹا ہے تو پتے اور پر جو ہوں, کائی جم گئی اس کو ہٹایا, امرتے سے پانی پیا دیکھ دیکھتے پھر وہ دھک گیاں لیکن ایک بار پانی پیلیا آپ وہ دھکا رہے پھر بھی اس پتھیک سے دھکا نہیں ہے. ایسے ہی وہ پر بھم پر مہتما کا امرت دھکا ہے سند پر سبتاتے کے بیٹہ ایسا دہانا دیان کرکے جا اروہ امرت کے گھنٹ بارلے ایک بار اس اتن امرت کا اکال پر اس کا گھنٹ بارلیا پھر دھکا ساہے گا پھر بھی آپ کے لیے دھکا نہیں رہے گا حجرہ حجور رہے گا سو ساہی بسد سدا حجورے اندھا جانتتتاک کو دورے
درت راشتنا ایک ہنت میں چلے گا یکیم جس کا پکھ کرس کو پھائدہ پکھا ہوتا ہے, ایک مسلمان تھے دوسرے ہندو دونوں دوستے تھے. ہندو نے کہا کہ میں تو جاؤں گا یا سندہ ہوگے میں تو رام بڑاں جپوں, مولہ رام بڑا نہیں ہمارہ اللہ بڑا ہے. ہندو نے کہ چھوڑ یہ بندل بڑی رام بڑا ہے, جو روم روم میں بس رہے وہ رام بڑا ہے. ہرے بولے اللہ بڑا ہے, دونوں کی لگ گئے گئے, بھیڑ گئے ہیں. ہندو بولتے رام بڑا ہے, مسلمان میٹра بولتے اللہ بڑا ہے. بولے اب ہم دونوں آپس میں کیوں لڑ مرے ہیں. یہ پیڑ ہے, پیڑ کے اوپر سے جو جمب مارے, اور جس کا رب بڑا ہوگا اللہ بڑا ہوگا, رام بڑا ہوگا, ابچ جائے گا دوسرے کو لگے گا. ہندو بڑا ہوتسا ہی تھا, دیان بجن کر کے درانیس سے والا ہو گیا تھا. اس نے وہاں, میرا رام تو بہوس آگر سے طار دیتا ہے, میرا رام تو بڑے بڑے گھائوں سے بڑا لیتا تھیج پیڑ سے قدنے میں گیا ہے.
تو پیڑ پیڑ گیا, جہس ری رام کر کے حنمان کی نہیں, جمب مارہ ہوں, اس کو تو کچھ لگا وگا نہیں. مسلمان کو بول آپتو چڑ, گا ہوں, اس نے دیکھا کہیاстиfta، کیا کرے constituency коی تو مرک Comeska شبیش کریں گی Taxi iyorsunٹھ مرک سے تو گیا تو اس میں اس کی چھионٹھumping اللہ کے انگے گیا, குத்தே, Ram Kudaiya, Ram Kudadu No Kanna, Ram Kudaiya Kanna, owing Naraahi na Hari, Naraahi Na Hari, Naraahi na Hari.
Mantra Me four Bati Hote hai, Ektto Jbhak ki Yogi Tha ke ANUSAR Mantra ho, دوسری بات, جاپک کی شردہ ہو, رام کھو دیا جسی نہیں, رام ملے جسی. تیسری جاپک کی ایکہ گرٹا ہو, اور چھوٹھا جاپک کا سائیم ہو. بہت سی گرچمتکار. جیسے دہناموں گھمتار قرچہ بنتی, ایسے بھار بھار منتر جاو سے, ادھہت میکور چاہ بنتی ہے. جو لوگ بولت پھلانی دیوی دیوٹا کی مہنوٹی مانی پھلانی دیو کے لئے میں ایک کیا اور یہ کام میرا ہو گیا, وہ گلت نہیں کہتے ہیں. کم پھر بھی یہ بات پونہ نہیں ہے. کیا وہ دیوی دیوٹا اتنے چھوٹے آدمی ہے کہ سوارپے کی مٹھائی یا پچارپے کا نارے لیا پہچھرپے کی مٹھائی کے لئے انتجار کر رہے. جون تم نے منوٹی مانی اور وہ تمہارا کام کرنے لگے,
تو یہ تو چپرا سے سے بھی گئے بھی تھے. تو یہ تمہارے دیوی دیوٹا کیا, اتنے گئے بھی تھے. دلکول ایسے, نیپٹنی را لے بیٹھیں گی کوئی گرا گا جہے. منوٹی مان نے پہنچھرپے کی بس اس کا کام کرنے میں لگ جہوں. یہ تو بھتکنا. یہ اس بات کا اندھا پاکشہ ہے. اُجلہ پاکشہ بھی ہے. کہ جب تم دیوی دیوٹا کی منوٹی مانتے ہو. تو کوچھ جپ کرتے یا کچھ آستہ رکھتے تو آپ کا جپ اور آستہ آپ کے سوشک تو وہ کندر اپن کرتا ہے. اور پھر آپ کی بھاونا کے انوصار اس دیوٹا کی اس گروکی اُر جا اس کے ساتھ ملٹی اور بھتنا گات جاتی ہے. یہ بات بھی سچی ہے. اور وہ آپ کی کتھ نے روپائگی چیج دیتے ہو. اُدھر نہیں دیکھتے آپ کا بھاو کیسا ہے. کہیبار روپائے دینے سے وہ کام نہیں ہوتا ہے. جتنا پریمی کا پریمی. ایک دوسرے کا سنی ہی کام کر لیتے ہیں.
آپ پچھے سوزار پہ دو کسی مینشترکوں. سابی میرا کام کروہ دو بھلے گا چورو. میں ان کر بکٹے. لیکن کوئی میٹر جہے کہ سابی کام کر دو بھلے. یہ کہ ایسے اور جادہ کروہ لے. تو جہاں سنے ہوتا ہے. ماروپائی پیسے گاون ہو جاتے ہیں. آپ کا دیوی کے پرٹی دیوٹا کے پرٹی بھگوان کے پرٹی سنے ہوتا ہے. اور سنے سے جب آپ منوٹی مان لیتے ہو. شدھا کر لیتے ہو. تو وہتا ورنے ان کا ساہیو بھی مل جاتا. اور آپ کا کام بن جاتا ہے. یہ باد بھی سچی ہے. نہ رہی نہ ہری نہ رہی نہ ہری نہ رہی نہ ہری نہ اگبر اگبر بہت جہری مسیبت میں پھس گیا. بھل ہی میں وہ یمنا کی نہ رہی آتماہت کیا کرنے کی نوبتک آہترا. بھر بل نے کہا جہا پنا.
آتمات کیا کرنے کوئی آیا ہے. چھوڑوں. چھوڑوں. ہا سو کو بھا سو. اگبر بکھلا گیا. ہات کی انگوٹی اوطار کا اگبر نے یمنا میں پھیکھا. کی مجھے بول تکھو بھا سو. یہ انگوٹی پھیکٹھا. میں پھیکنے والہ نہیں. تمہتاکھ نہ. یہ انگوٹی پھیکٹھا. آتگن کے اندر اگر انگوٹی میرے انگوٹی میں نہیں لگی تو تمہرہ صرح درطی پہ ہوگا. بیر بل خوب ہنس رہا. بولے موت کی سجاسون کرنس رہا ہے. بولے زیلے تو انس رہا ہے. دک میں خوب سو کی ہونا چاہی. دک میں پرسن ہونا چاہی. دکھروپی کتھا بھوں کے تو آپ مدھیا بھی کر بھا گے. تو میسس کوتھا اور بیبی بویز کوتھا بھی تمہرہ پیچھا کرے گا. اسلے دکھروپی کتھا گر بھاکتا تو آپ کھڑ ہو جائع کر. یان کا ندہ لے کرتا ہے. ساہس کا پتھر اٹھا کر کر ہو جائیں. تو بھاکتے وہ کتھے کی پونچھ دب جائے گی. بھاکتے وہ کتھے کوتھے کر رہا ہے پگر بھا گے.
تو کتھا تو تمہرہ پیچھا کرے گا. میسس کوتھا اور کتھے کے بیبی اور بویز بھی تمہرہ پیچھا کرے گے. اسلے آپ دوب کے سمئے. اسلے کشت کے سمئے. ادھیک پرسن ہوئے. روپ کے سمئے. اکبر آگیا. اکبر نے اعلان کرادے کے کبھی اچھوڑ جائے چلو. اچھے کام کرو جس کی کوئی سبجی نہیں بکتی وہ گریب گروبے. شان کو سورے دھل نے پر. اپنی پالک میں تھی سبجی کوئی بھی سبجی ہو. راجکے گدام میں دے جائیں گے. اور کمیٹی والے ان کو یا تھا یوگے پیمد کر دیں گے. تیسے دین کی شام کو بڑا مچ دین بھر. راستے پر اکھا بکانیں. مچھ آ گیا. اتنا بڑا بھاری مچھ پہلی بڑایا. وہ اکبر کے پاس لیا گر مچھ کاتہ تو مچھ کے پیٹھ سے وہ انگوٹھ کے نکلی. بیربل یہ کیا تاجو بہیں. وہ لے جو کشھ رہتا ہے. اس کو پر کرتیس ساتھ دیتی اور پر مات مبیسا ہیو کرتا ہے.
God helps those who help themselves. بھگوان اسی کو مدت کرتا ہے. جو اپنے آپ کو مدت کرتا ہے. آپ اپنے آپ کو مدت کی جے. کہ کسی بھی پرستیتے میں آپ کو دوگی نمت ہو جائے. آپ کھنمت ہو جائے. آپ اشانت مدھ ہو جائے. گم کے انہری رات میں دل کو نبے کرار کر. سبہ جرور آئے گی. سبہ کا انت جاہر کر کیلی جو جائے گی. تلسی داستی کہتے. تلسی ساتی بھی پتکے. تلسی ساتی بھی پتکے. ویدیا بھی نائے بھی گویدیا بھی نائے. ساہس سو کرتو ساتی برتت. ساہس سو کرتو ساتی برتت. رامو بھارو سوے کر. رامو بھارو سوے کر.
اگر بھی پتی آجا ہے مصیبت آجا ہے تو. اُم مصیبت کے وقت تمہارے ساتھ ہوں کو گوڑلو. ایک ساتھ ہے بھی دیا آپ مگیدیا. کی بھی پتی بھی قبتک. جیبان میں جب بھی بھی پتی آتی دو آہو بڑی بھارے. دو گھنٹے کے بعد اتنا بو جانے ہوتا. دو دن کے بعد اتنی بھاری نہیں ہوتی. پتنی کا پتی بھر کے آہو. اس پہلی شان تو درتی پیرونطلے نکل گئی. حائرے میرا کیا ہوگا. ایکن کئی ایسی دیویا جو پتی مرتا ہے. اس سمیں تو بہت دکیوتے ہیں. دو دن کے بعد اتنا دکھنے اور دو سال کے بعد تو. وہ بیٹے کی ما دولے کی ما بنکر گھانا بجانا بھی سنتی ہے گاتی ہے. اور دک بھول جاتی. جیرانگی کی تو دو سال کے بعد دکھو چھو ہو جائے گا تو ابھی سے چھو ہونے والی چیز سے تو کائے کو چھو ہو رہے ہیں. گم کی اندھی رات میں دل کو نبے کرار کر سبہ جرور آئے گا سبہ کا انتہ جار کر.
دکھ میں ادوے کنے اور سکھ میں آسکتنے تو آپ کا من نرلے پھنے پھنے لگے گا دھان میں سپل تاملے گی اور دھان میں لگوں گے تو دکھ سکھ میں سنتاملے گی دونوں ایک دوسرے کے پوشا کریں گے جیوان جنے کی کلہ ساتھ سنگ سے ملتے ہے بھیا. تلسی ساتی ویپت کے ویڈیا ویڈیا ویپت کے سمے اکڑوں مد بنوں. بھی نہیں بن جاؤ. نمر بن جاؤ. تلسی ساتی ویپت کے ویڈیا ویڈیا ویڈیک ویڈے سے نلیں گے. ساہص سکرت ایک تو ساہصی بنوں دوسرہ ست کر مقروبی پتکے سامے پوپنے بھی آپ کو سپوٹ کرے گا. ساہص سکرت ساتھ رأتہ رام بھرو سو ایک تو آپ ہمی پتکے صرف رکھر اپنی جندگی آگے بڑھانے میں سپل ہو جا ہو گی. ی Gentleman Yoga थpellखिழ कےـना हिरformation कह gefallen ln theرج
एक वरलगऍ लिहगर सइवारगभि रराँ रिहकत शिबारगव अली envol लिहक वरलगऍ � carrही भीव नह है किनेlr कद diagnose कादह टीखे में और सशिबसी लाँजसन ले सबंडवन है جو அندுலن پیدا ہوتے, اس پرکھا رہا بجب کرتے تو آپ کی سوی ہی اور جا میں وہ اندுலن پیدا ہوتے, وہ سوی ہی اور جا آپ کی جاکتی ہے. وہ پہلا کندра میں جو سوی ہی اور جا ہے وہ جاکتی ہے, تو آپ کو اینیمہ ترکالدرشیتا اور ست کے سنقل پسرامر تھے کچھ انش میں پر آبت ہوتا ہے. آپ کی نس ناریوں کو شود کرنے کے لئے وہ پرانشتی آپ کے شرید میں ایکشن پیدا کرے گے. آپ بیٹھیں دیان میں, لیکن آپ کے شرید میں ایسے کچھ ایکشن ہونے لنگے گے, جیسے نس ناریوں کی شودی ہو. کبھی آپ کو ایک ایک ایسی ہنسی آئے گی کہ آپ کلپنا نہیں کر سکتے. کبھی ایسا روضن آئے گا کہ آپ سوچ نہیں سکتے,
لیکن وہ روضن دکھا نہیں ہوگا. میرا کبھی روٹی ہے, کبھی ہنسی ہے. صریمہ دبھا گوت میں بھگوان کرشنہ نے اوڑھا کو گاہا. واغ گدگدہ درافتے یسے چیطم, حصتی کچی تروضتی بھیکشنم, اوڑ گائیانتی بھی لجے نرتینتے جا مدبھاکتی یک تو بھوانم پناتی. ہے اوڑھا کبھی وہ وانی گدگد ہو جاتی ہے. کبھی ناچتا ہے, کبھی ہستا ہے, کبھی روطا ہے, کبھی لجا چھور کر ہوںچے صور سے گاتا ہے, گنگناتا ہے. ایسا جو میرا بھگتا ہے, بھوٹری بھوان کو پاوان کرتا ہے. یہ بات سومی رامترث نے اپنے دھنگ سے کہی. جنگل میں جوگی بستا ہے, گاہ روطا ہے گاہستا ہے. دل اس کا کہی نہیں پستا ہے, تنمن میں چین برستا ہے. وہ گاتا مولا مطوالا جب دیکھو بھولا بھالا ہے,
منمن کا اس کی مالا ہے, تن اس کا ایک شیوالا ہے, جنگل میں جوگی بستا ہے, گاہ روطا ہے گاہستا ہے, دل اس کا کہی نہیں پستا ہے, تنمن میں چین برستا ہے. وہ دھان لگنے پر تنمن میں چین ہوتا ہے, کبھی ویرا کے کارن دودن آتا ہے, لیکن سنساری دودن میں جو دوکھ ہے, ایسا دوکھ اس میں نہیں ہوتا. دھان جو کشبیر میں کئی لوگ ہستے ہیں, کئی لوگ روطے ہیں, میں ایک شوال کروں گا, آپ سے ہے. کی کسی کے گھر دیت ہو جائے, مرتی ہو جار لوگ روکھر, جس کے پتی پتنی کوئی مرگا, وہ روکھر ابھی چکھو, اور آپ کچھ ہو جی رونے میں مجھایا, تو کیا وہ لے گا, کیا سلھا گا, رونے گا, مجھایا, کوئی روکھر اٹھا ہو, اور آپ جا کر کچھ ہو جائے, رونے میں مجھایا, تو آپ کو آکھی دیتھایا,
گا نادیا تو دن دا دیتھایا, دیران دیتھے. این جب آپ دھان جو کشبیر میں اتھو مانتردی چاہلے کر پو جا کروں میں, ہوتی اور آپ کو خوب روضنایا, اور ستسنگ میں آپ خوب روضے, اور بعد میں آپ کو تھے کوئی پوچھے کہتا, آہیہ رہا ہے تو بہت مجھایا, آہیہ رہا ہے, کیا, آکھورو کی بات نہیں باپون ہے, باپون خود بھی بھی آسوگر سانے جو رہے, آہتو بہت مجھایا, بھگوان کی بھگتی میں رونے میں جو مزاعتہ ہے, سنساریوں کو وہ حصنے میں بھی مزاعتہ ہے, تو رونے کا اتنا مزاعتہ, تو حصنے کا کتنا, اور چوبہ بیٹنے کا کتنا مجھا ہوگا. یہ مرضوں کی محفل ہے, یہاں جو بھی آیا, صرفے کفھن باند کر آیا, صرفے کفھن مطلب آہم کو چھوڑ کر جو آتا ہے, اس محفل میں, وہ نیحال ہو جاتا ہے, کھوش حال ہو جاتا ہے, تو مولادہر کندر جاغنے پر کبھی کچھ ایکشن ہوتے,
کبھی کچھ ہوتے ہیں اور دھان میں کچھ درشدکتے ہیں, کبھی کبھر آیسا درشن ہوتا ہے, کہ آپ کھلپنانی کر سپتے کی یہ بھی کچھ ہوتا ہوگا
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya