Feb 17,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
About this episode
Get every episode summarized
Each time Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya publishes, we email you a written briefing from the transcript — the topics, who appeared, and any specific claims, with the ad reads skipped.
Email me new episodesFree for 3 shows. No card needed.
Hosts & guests
Transcript ready
1,028 searchable segments. Every word is indexed and playable.
Full transcript
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya — Feb 17,2026 Tuesday : Evening : Sandhya Satsang - Evening. Machine-transcribed; use the interactive transcript above to jump the player to any line.
और शेवाध कने आज केाँवर यपे गराभाॉण के इसाť है तो और मorp decentralized ओ ज चीवा Daha, कैसे � intéressूं यपादत اليधा हो। अठगवाभ़राभा Minne पन लोग internationally mas establishing पटत है।। ज़न पन्टं लेम पे ज़ना पन्टा के ल Medien है इसावा। ًٰٰٰٯ٨٨٨٤٤٦ٿ٤٨٨ٯٯٰٯ٨ٶ٤٨٨ٱ٨٤ٯٸٰ٨ٳ٨٤٤ٯ٬٨ٯٟ٤٣ٳٹ٠٩٦ٰ٨٨٤٤٨٨٨٠٠ٸ٬٨٠ٹ٠٠٠٨٠٨٨٨٠ٯ٨٤٤٨٨٨ٰ٨٠٨٠٨٤٨٨٠٨٠٨٧ٯ٠٨٨٤٤٨٠٨٨٨٠٨٠٠ٳ٨٨٨� تو مس'а میں نے سوتے کے بجلے بھی کھیا, پوری کھیا, پیسا کر کھا کرے,
پہر میں کے لے, بھا کر لے, نرین در کولڑے دیچ کب ملیں گے شر, رامکر ہوں لے ملیں گے آخر دے کھا بہت ہو گے تو وہ لے چلوگنگا جی میں آر گھا درگی بوچی پکر کے کرگا میں دبوج رکھا جیتنی دیر سے سکھتے دی اتما دبوچا پھر چھوڑا وہ رکھای سا کیایا دایا, کچھ کھانے کا پینے کا کسی سے ملیں کا دپلگانے کا بھیڑھانے کا کچھ شاہا دایا, وہ لے نہیں, بہر نے کلے, دوسری باروں سے کچھ سے کنجا دا دبوچا, تیسری باروں سے بھی دا دا وہ لے تینوں بار میں کیا کیا بھی چار بھی ہے, وہ لے کچھ نہیں بہر نے کلوں بہر نے کلوں بہر, وہ لے آئی سے یہ جنم مرن سے دکھ دائی سنسات سے بہار نے کلیں کی آئی سکتی رہتا ہوگی اسی دنیشور پر آتو دائیں گے, ہمانوشتان کرتے تو رات کا کبھی بارا ایک بچہ اپنانیم پورا کرتے,
کبھی کبھی تو رات کو بیچ بیچ رات میں جابتے, کہ سے ملے شور کیا ہے, ایسا تڑپتے تھے, کیوں نے سچنتہی ایسا نستکتے, روڈ سواسو سواس میں رو جے کے ایک دن ناصور ہے, بیسا گیا تو آ سکتا ہے سواس دے گیا تو سکتا ہے لیکن بیتا ہمانسا میں گیا تو پے رہا پز نہیں آئے گے, اسی لیشور پر اپٹی کے ایشور کے سیوائے کہیں بھی من لگیا تو انت میں رونا ہی پڑے گا, آرام پری نہیں تھا وانوں کو, جوانی میں آرام پری رہے گا, ہوگا تو جلدی بودہ بنگا, جرہ جرابات میں بھی مارو جائے گا, ہم جوانی میں آرام پری نہیں تھے تو ابھی ہم بھی مار بھی نہیں ہوتے, سونا کیا باپوڑی بھی مارو ہوگے, ایک باہارو پھالسی میں لیریا, وہ بھی مچھروں نے اپنان,
کالا ہندی میں گریبوں کے ہم بیچ میں رہے, مچھر کارٹے, بندنا را کیا تھا, اس سمیا ہوا بس, اس کے آگے بیچھے کبھی سونا کیا باپوڑی بھی مارو ہوگے, نہیں, آرام پرییش لی بھی مارو دیمار بار, پریشنگر, کنگھا, آرام پریتا چھوڑے, بھی مارو ہنا بھی دیوکوپی گا پھالے, کیا تو پاپ کا پھالے, آگلی جنم کایا تو بھی دیوکوپی گا پھالے, بھی مار ہنا چھے, بھی ماری آئے تو کھانے پیمی میں تھوڑا سینے ہیں, کیوں بھی مارو ہوں, تو شریع سے بھی مارو, تعیق کو یادمی من سے بھی مارو, تعیق کوئی بھڑی سے بھی مارو ہنا, بھڑی سے بھی مارو ہنا تو بڑی تبائی, گالتنے رہے کرنای بھڑیگ بھی ماری, گالتنگھا یہ مان سے گھڑی مار,
اور گارتنگ پان کرنا یہ شاری رہی ماری, یہ میں پڑکہ نہیں بھولھا ہوں, دیکھلو کہیسا کہیسا آتا, بلکن پھٹ ہے, آپ اتما شاکشات کر لو پھر پوتھیں, پڑکر آپ گیان نہیں لاؤ گے, آپ کا گیان سوروب سے ہی گیان چلکے گا, تو نگ لیکر آپ سواستے نہیں لاؤ گے, آپ کی اپنی اتما شنتی سے سواستے کے کنوبارتے رہے, اور روک اور پوپ کر کے ستیاناست کر کے گھوشے نہیں لگے, آپ نے آپ میں تم ترپت رہے گے, جاہیش شنت سوکھوں, جاہیرش اولاست دینود کا سوکھوں, جاہی گیان کا سوکھوں, جاہی بھگتی کا سوکھوں, جاہیو کا سوکھوں لیکن آپ کی اپنی اپنی آتما کہی ہی اینے گروپ کا سوکھائے گے, ستب تو بھوتی, وقت ترپت رہتا ہے, سا عمر تو بھوتی, آندی تو پان کرنے والے تھاک جائیں, آپ کو دکی نہیں کر سکتے,
دکی کرنے والے دکی ہوں گے, اچی طرح سے, آپ دکی نہیں ہو سکتے, آپ کو ستانے والے ایک ستائیں جائیں گے پر کرتی گے دارا, لیکن آپ نے ستانے, کیوں کہ آپ نے آپ نے اپنا نرنے اچھا کیا ہے, آپ نے اپنے گروپ سے واپادارے کیے, آپ نے درم سے واپادارے کیے, آپ نے ایشور سے واپادارے کی, آپ کو درنے کی جانتے, آپ کو درنے کی جانتے, جا مرنے تھے جاگہ درے, موریمان آنند قب مریے قب ملیے, پائے پورر پر مانند قبیل جی کہتے, جیس موت سے تاری دنیا کو کھو, اس موت سے بھی میں نیڑا, پیچلے دوہ دار ورش سے, ہندو سادو سندھوں کی نندہ کا پرمپرہ چلیا آری, نانق جی قبیر جیئے ہو, جب سناتن درم کے بعد دوسرے درم بنے نا, پھنوں نے پھر ہندو میں سے تو دوسر ہو گسے تھا,
پھر بھی اب ہندو درم کا اتنا محطوہ ہے, اتنی سادنا کی سچای ہے کہ, دن تو برچو بیٹھ ہو شانتے میں, ہے سدوسری جگہ بتاؤ ہیں, نہیں ملتا ہے, میں نے تو نہیں دے کھ دنیا میں, دیس وڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑ, میں نے دے کھا اتنا شانتے کا درم نا, اور اتنا مُن چاہت تک ساتھ تک ساتھ تک ساتھ تک ساتھ تک, ہے رامجی جو آتمگان کا ساتھ تک دیتے, وہ گیانوان کا بلی پرکار ہو بکار مانا, نا چھے پوچن کر نا چھے آدر کر نا چھے, ان کا بڑا اپکار ہے, اور جو موپت میں ساتھ سنگ سنتے لائد, ان کے سویدھا لئے تکڑا کھاتے, اور پھر اگر تھوڑا بھی اننیس بھی سوٹھے ان کو بڑا بھاری پاپ لگے گا, ان کو تو یو گوسیشت میں کوتے والی قتھا اور لے نہیں چاہیں,
آتوہ کالی کم لیوالے باہا, کی قتھا, یا گیا اگتا پوڑا تو بیڑک کرنے سے بھی ستھ سنگ کی مون چاہی کی بڑا بڑے نہیں کرنے, اور ستھ سنگ کے ستھان سے جانے کا بیچار ہوتا ہے تو آپ کے کرم, ہین کرم ہے, دوسٹ کرم ہے, دوسٹ پر آدم دوسٹ چنطن دوسٹ کرم ہے, یہ تو راجے مہراجے, وہ موککل پر کے بابا جیوان مکت تھے, اور وہ ہونہ کا راجہ ہونی سوبیالیس کی گتنا ہے, اکھنا نمجی کے ساہیت میں پڑھلے گا, وہ ستھ سنگ کے بیچ بابا بیٹھے تھے اور راجہ نے پوچھا کے مہراج, آتمگیانی گروب کا کیا پہے چانے, پھولوں پروش کی کیا پہے چانے, Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey ! Hey !
Hey ! Hey ! Hey ! COMENSE ویٹنیدان کے بعد دی نکال دیا اور راجا تھے , گئے نہیں, در بھاؤ نہیں آیا و گھرو کا دوار چھור کر بھاؤ نہیں آیا تو آپ کے کرموں کی ہین تھا ہے چھائیں بھی دیکھیں چھائیں گے کچھوں کچھ دوش்ட کر میں, دوش்ட چேன் தனே.
மண்டா, சூ, மண்டா, மண்டா, மண்டா, வாயா, ہوں, پத்திர்tha. செய்வா, செய்கு, கற்றாய, அடிாத் தமிட்டா, செய்கு, கற்றாய,
மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, மண்டா, ம تو تم نے گھلی دی تو تم اے میں کہان گھرابوے تمہ ریجیم گھرابوے میرا منگھرابوے تو لہاں منگھرابوے لیکن تط تو دونوں کا جوگا دیورا ہیں ہیں کوس نے گலی دی
میری کان خرابوے اس کی ひ برمان خرابوے لیکن اس کا تطور میرہتتتے ہو گھراب نہیں ہو آئی صباعت گیا اس کا مائپنا جو اے سدوبئی سے کنای سے ہے Hesagyanv Mixi kya ki? Guhgari Chalaaya, her accident is broken, his leg is broken, she has only recovered. And then the payment was given to her. But her condition is facing to come, while her condition is not getting cured. Yes, her condition is broken and her condition is getting worse. اس کا تطبی ویسے کامے سانا کچھ بڑھانی. اتما دیو ایسا ہے. تس سے تلنا کے نجائے تھے. ایسے اتماگان کی نجی کی مئا کر پھر جائے, در ادھر تطوائی ہے تطوائی ہے.
دوش درشن کا پاپ بھڑی میں گوسطا ہے, تو گڑوڑوار پہ رہنے نہیں جتا. دوش درشن اگر دیکھ دائیں پھڑی میں کسی کے پھر تھی دوش درشن آگا ہے گڑوڑوار پہ رہنے چکے گا جادے. پاپ لے بھا گے گا تونکہ. نستے جو گا تا دی, دوش درشن مارا نستے جو گا گا گا. پھر ہائے پھیلم سیڑی تو سکڑے, ہائے نندہ تو سکڑے, ہائے گا پسپ تو سکڑے. کسی آ بہا دی لوگ, گب سب سے سکڑوں دے, نندہ سے سکڑوں دے, پھلم کی سیڑی سے سکڑوں دے. بہار کا چٹورے پن سے سکڑوں دتکتنے کنگ لے ہو میں. وہ کنگ لائے جو بہار سے سکڑوں دربہ, تھا وہ شنشہ جو انڈر سے
اور مات بسک سے بہار کے واتان کو مدر کرتا ہے. امیرا آمیر ہے, شبری آمیر ہے, رہی داست آمیر ہے, جنک آمیر ہے, سدنا آمیر ہے, اور بھی کئی آمیر آیدہ ہے. یعطت میں پس, اسی میں. ابھی تو میں کتنہ پنگہ رہے, کتنہ گیان بڑھ رہے, کتنہ جیوانوں نہ تو رہے, اس کا پھلو رہے, اس کو کوئی طول نے والی طرح جو سنسار میں پیدا نہیں ہوئی اور برمہجی بھی طرح جو بنائیں گے, تو طرح جو توٹ جائیں گے, اتنا لا بورای تتگان کی شانتی سے سلنے سے. ہاتم لا بہت پرم لا بہم نووید دیتے ہے, ہاتم لا بہت سے بڑھ کر کو لاب نہیں, ہاتم گیانہت پرم گیانہم نووید دیتے ہے, ہاتم گیان سے بڑھ کر کوئی گیان نہیں ہے. ہاتم سوکھات پرم سوکھم نووید دیتے, ہاتم سوکھ شانتی کے سوکھ کیا گے دوسرے سوکھ کچھ بھی نہیں,
یہ کیتنا پنیا ہو رہے, کیتنا ببیش اُنسان ہو رہے, فیکن دوستر شنندا ہے, ہے ایسا کرتے ہو ایسا آباگے, اُچیل کیتنا بھی اُنچی ہوتی گید, لیکن اُس کو مراوہ جناواری دکتا, کیتنا بھی اُنچی جگا پے دیہرہے, اب آگے دو, لیکن اُن کوئی ایسا ہے, وہ ایسا ہے, جہو مراوہ, پاپ کا پھل بھو, دوسر شن کا پھل بھو, وہ, دوسر شن کا پھل بھو, وہ, دوسر شن کا رہا, وہ, دوسر شن کا پھل بھاکتوں کو لے بھاگے, چندی رہا مہاہت ہوا, دنیا ہے اُس کا جیوان, چندی رہا مکی تو پرکشا ہے, ہے سیگلی کی بھم لوگ ہوگی کسی کی نہیں ہے, خاصلی پرکشا میں کھرے ہوں, دری چندی رہا, مان دری چندی رہا, یا تو پوروہ جیوان کیتنا نیشا تھا اور اس بہت دور نے, میں نے پوچھا نہیں دیکھیں,
اس نے کچھ سپایا نہیں, پوروہ جیوانوں کا ایتنا گرہ ہوا, آتا ایتنا گندہ, تھا کہ ہم سوچ نہیں سکتے, وہ نہیں بتایا, میں ایسا نہیں بھولتا, اس نے بتایا, وہ نہیں میں, یہ했다 تو� ہوا ولی گاہاں ہی, energy آپ میں کسے کرisé ہو intervene, یہیں بس کو کہاہاں دیکھا یہ ہے, گاہاں ہاں ہوں کہاہاں ہاں ہوا وہیں اSDادہ کے διαہاں ہوا اور Namenہ ایسا ہے کہ آپ کہ پوروہ ہو, میں کے لوگ ہوا harvested peppers in a Κ abundance آvensے ہیں, وہیں جنھے پیچھے ہیں, وہیں جاہاں ہوا bauenے ہیں, وہیں جاہاں ہاں ہوا تھا!! یہ ہو Toyا 커�vensے ہیں؟ یہ کہے ہاں ہوں گاہاں ہوا சکھٹ soc שیشہ کا کچھوں اور لے ہم نے کیا لیا اور بھی لوتا کے دیریہ اس کو. اُس کے پریوار میں آج تک ساتھ پیڈیوں میں اتنا کوئی پر سید نہیں ہو آوگہ اتنا کوئی مہاں نہیں ہو آوگہ جتنا چندی رہوں ہو گیا. میں چلن سے کہتا ہوں. اگر پریوار میں دم ہے تو میری بات کو چلن کر کے دیکھا ہے.
کرن کی ساتھ پیڈی میں اتنی مجھائے والا کوئی ان کے کاندان میں پیدای نہیں ہو آوگہ. ساتھ پیڈی ہمیں. بتاؤیں تیاسی. اور چندی رہوں کا پروجی بن کہی ساتھا کہ ایک دن بھی پتنی کے سیوان نہیں رہیسا کیوں رہو لے میں پالن پرو اسپیٹر میں ادمیٹ ہو گیا تھا. پتنی کے ساتھ رہنے کے لئے. کام بھی کھا رہیسا تھا میں رہوں. نظمتایا دیچارے. دوسری پتنی بھی اسی میں گیا. تیسری پتنی سولہ سال کی. ہمیں پچھا سپچ پرن کا. پیچھے دیکھے خریت کے لئے تھا دلالی اور اس کی ماماکوں. اور حاصل بادلے میں گیا تھا کہ یہ تیسری پتنی کے ساتھ. جنگی چلیں. تو لیلہ سبہ پوکہ ہیں یہ پوچھ نے آیا تو مپنے کاکھے میں تیری سادی اسے کرہوں. میرا مرمد بذل گیا. میں آسا میں آ گیا. وہ بچے چھوٹے چھوٹے ہیں وہ نہیں ہے. تو وہی سمہلے گیا.
جب کبھی کسی سے ملتے ہیں. تو ملنے کا گیا ہن ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے. انوکل ملنے سے سوک ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے. انوکل بچھرھنے سے دکھ ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے. تو دکھ کا بیان سکھ کا بیان. گیا نہیں تو ہے سوکھہ کا رطی ہوئی, سوکھا کہا رطی ہوئی, ملنا کہا رطی ہوئی, بچھرھنا کہا رطی ہوئی, او صبرتی کا گیان ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے تو گیان سروپ ایشور ہے شیطن سروپ ایشور ہے
آنند سروپ ایشور ہے اور سداز سدامت لف ایک سے کن کا ساما بھاگ بھی ہن سے دور نہیں ہو سکتا دور ہوگا تو وہ سروپ ایپک نہیں ہے ابھی نہیں ہے بعد میں میں لگا تو وہ سداز نہیں ہے تو ایشور سروپ ایپکھا یہ پک کا سمجھل ایشور سداز ہے یہ پک کا مرد ایشور پرام ہی دیشی ہے پرام سوھر دے ہے اگر وہ مراہیت نہیں چاہتے اور امارے سوھر دنی ہوتے تو ہم کو اس پرکار کا اونچہ گیان اونچی سادنار انتر اتما کی پریٹی اور مکتی کی
مدورتا نہیں ملتی ہم نے کوئی ایسا کرام کیا ہے چاہیں گورو جنو کی سیوہ ہو چاہیں مارو آپ کی سیوہ ہو چاہیں کی سیکی نیسوارت سیوہ ہو پریٹی پوروک سمران ہو یا ست سنگ سنگ سنگ کا پنیا ہو اُس سے بھگوان سنتسٹو ہے تبھی ہم کو اتنی اونچہ کا جاندے دیلاتے ہیں یہ میں آپ کو پڑ کر نہیں کہی رہا لبیکنگ گرگر لنو بود گlings کوئی ایساہ hiring کوئی ایک بیٹی ، کوئی اٹنی خالج İns کوئی اٹنی خالج پریٹے بروسطا aquesta انطارنم کج Wood کجно دیلین بج بقograf بروتے دیل億
वपित्रषाद िutt ि़गठे। नमसी बुदिश़ारापी कपाँ अप़्े। बदूए बीुए बौदे๊ पूए को पाट पाट पाट को पूए पन्यमाशते शू़ि हुग थावग लहन था भपदश वभवते तूड़े ही घंह से पुग दूफ़े جندگی چاہر دنگی, ایتامسی, مادا پیتا درمی کیوں کی مجا کھڑ آئے گی, درمیگ لوگوں کی کلی ہو رہے گی تامسی بطی. راجسی والے کھپے کھپے کھپے کھمے کھڑ میں دھن میں, دگلہ کرتے جائیں گے بڑاتے جائے گی. لوگ, یہاں اور وہاں سکی, یہ نام نامانا. ستویک پودی, سنیام کو مہتو دےگی, ستسن کو مہتو دےگی, پنیدان کو مہتو دےگی, مویشہ میں بھی سکی رہن سوردادی میں,
یہ ستویک بطی. اور بھگوط پرساد جا بودی بھگوان کو اپنا مانے گی, اپنے کو بھگوان کا مانے گی اور پریتی پوروک ستویک آہر وہاں. اور کچھ لے گیا دے گا تو, خلیں گے تو بھگوان کی پرسادی سمجھ کے لیں گے اور دیں گے تو بھگوان کی چیچ سمجھ کے دیں گے, اپنا آہاں, مہتو پرنا نہیں ہے, کیوں کی آہاں مقلبنا ہے. میرا نام آئے, فوتو آئے, خبار میں آئے, ایسا نہیں ہوگا, بھگوط پرساد جا بودی کو. اپنے چل رہے ہیں, انکشتر بھی ہار میں. کتنی جگا پے چل رہے, ابھی میرے کو پورا پتا نہیں. پھلانی جگا, پھلانی جگا, پھلانی جگا, پھلانی جگا چل رہے میں, پھلانی جگا چل رہے ہیں.
سے واہتو کریں گے, لیکن سے واہ میں کرترے تو وہاں, کی گندھنا نہیں آئے, کرتا پناں, کرم کا کرتا بنے گے تو وہتا بھی ہو گے, تو سکھ دک بھی ہوگا, پھنی پاپ بھی ہو گا جی نمبرڑ بھی ہوگا, کرم تو کرے لیکن مہگوط أربان, گرم کے پھل کو اپنے طرح پھلے آیں گے تو بکھ سے پھوں گا. آنکہ ہر پوسٹ ہوگا. راگ دنے اس پوسٹ ہوگا. شتروں میں τربہ ہوں پوسٹ ہوگا. کوئی بھلے شتروں تھا کر کی اپنا کو پر چارے, اپنے کو دوکھ دے لیکن اپنے ردے میں شتروں تھا نہ ہونے سے اپنے کو دوکھ نہیں ہوتا. پر کرتی پھے اول داوار اُنی کو کر دے دے. پھل میں جل میں θل میں واسودےوں کے آستیتوں کو کوئی میٹانی سکھا. پریورتن پر کرتی کی لیلہ ہے. واسودےوں کی سکھتا سے پریورتن ہوتا ہے.
جیسے پانی میں اُتھل پا تھل جاگ بلبھلے یہ اُتھ سب بھی پانی ہے. اور گہرے میں شانت بیٹھا ہے پانی تب بھی پانی ہے. ایسے ہماری انڈریہ دیکھتی ہے کان سنتے ہیں. ہم نے بورہ دیکھا. بورہ سنا. تو ہمارہ ہمان بگرہ ہمارے کان بگرے ہیں. ہماری انڈریہ بگرے. لیکن ہمارہ چے پانیو ایسے کا ویسا. ابھی گرہ اتھم دیو ساکشی جو کہتے ہو. ہم نے اچھا دیکھا اچھا ہونہ. اچھا سوچھا تو ہمارہ ہمان بودی بہو اچھا ہونہ. لیکن ساکشی چاہی تنی تو ایسے کا ویسا. اچھے کو بھی جانے بورے کو بھی جانے. اچھا آیا گیا بورہ آیا گیا. لیکن رہا کون میرے پر بوجی آپی رہے. میں مر جاہا تو جی بے. میرہ مر جا ہے تو جی ہے.
ترنگ مرے اور ساگر جی ہے. بندو مرے اور سندو جی ہے تو بندو مرے کا کس میں سندو میں. ایسے اپنے کو واصدے ہمیں ماننا شروع گرو. آپ واصدے ہمیں مل جاؤ گے. ما کے گر بھوں میں کیوں آنا. کیوں بٹکنا. اپنے کو پاپی پنیاتما سکی دکی برام مانشتری. پھلانان دینرا مان مان کر کیوں مرنا. ہم واصدے ہو کے واصدے ہو ہمارے. ہم و پر بھونا, پر بھونا. ہمارا پر بھونا, پر بھونا. پر بھونا, ستیاсورو, پر بھونا, چایتنگی سورو پر بھونا, آنا نہیںسورو, आ नSPD elemento. भ्र भो Comb豚when शहान त होभ partout Including
दो semua तू PW dark industrial तू नया इम சराढ ये पर लटो ये बे शत से नही अप्ते ये गल सनएखा。 چیت چیتن روپ ہے تدپی بیشیندیں نرنت رہیں بیشہ حسنت کو آسنت کرنت ہے سنت سوابہ ہوئے پوڑ بیشہے بھی کارمہ جو من لگیورے چیتے تو پچی بھی کاری دیں گے تم چیتن یا کھا سمران کریں گیان سوابہوں میں آنند سوابہوں میں سمرانہ ایسا کی جیے کھرے نشانے چوٹ من ایشور میں لینو حلینا جیموہ ہوت پہلے بھائی سمران کرو ہرسو پھر دیرگا پھر قلوط پھر آجی سے قلوط کو بھی لما کے کروائے ہیں کتنہ اچھا لگ رہے ہیں شانتی میں رہے ہیں تجتم پریورتن
دور دن میں تو کیان سوبہ دو پر شانتی میں میں سو سوگا کیان نہ دورے نہ دور لبھا وہ پر مطنہ دور نہیں ہے دور لب نہیں ہے سو سائبہ سد سدہ حجورے اندہ جانت تاکو دورے اور رہاگ سے دوش سے پریری تو کارم بگوان سے دور ہو جاتی اور بڑھی بنا کر مرے شترو ستا کر دوکھ دیتا ہے شترو طپا تھا ہے اور میٹر ممتا سے دوکھ دیتا ہے میٹر بھی مار ہو جائے تو دوکھ دیتا ہے میٹر کا ایکسیژن دوگھ دیتا ہے سگا والام ایکسیژن ٹا ہے تو دوکھ دیتا ہے شترو ستا کے دوکھ دیتا ہے
اور میٹر اور میٹاiveness کی چinteconomت طپا کر دوکھ دیتا ہے میر م cure دیتا ہے میطر رoot دیتا ہے تو دوکھ دیتا ہے میٹر بھی مار ہو جائے تو دوکھ دیتا ہے ہر میٹра دکھ میں آجا ہے, بیم کنگال ہوگا ہے تو دکھ دیکھتے تھا ہے, نہیں دے گا, ہر میٹра امیر ہو جا ہے, ہر ہمارے سامنے نہیں دیکھیں تو بھی دکھ دیکھیں گا, ہر ہم سکھنے رہیں گے, میٹра ہگے بڑھ جا ہے, ہمیں ایسے کے لے سے رہے تو بھی سکھران نہیں گا, تو میٹра بھی کچھ رہے تھا ہے, شاتھ رو بھی کچھ رہے تھا ہے, وگوانی اپنا مادوری دیتے, اپنا گیان دیتے, اپنی سانتن اور سکھ دیتے بگوان اور وگوان کے پیارے, ہم کو مقدت مابناتے, محمت مابناتے,
پر محمت مابناتے, سوطن ترسکھ کے دریا میں تراتے اُتراتے, اسیلے ستسن کی برابے ہیں, دنیا کا کوئی کرمہ, کوئی سمپدا کوئی دھن, برم گیانی گروکے ستسن کی برابری نہیں کر سکھتے, چاری پروٹھگا راجہ مل جا ہے, تو بھی ستسن کی برابری نہیں ہوتے, ارے اندرا کا پد مل جا ہے, تو بھی ستسن کی برابری نہیں ہوتے, مانوشی تراجیو تو ستسن کی بھنیا کو نہیں تو لسکتے لیکن برابری محجی کی تراجیو بھی برابری آن کے ستسن کی بھنیا کو نہیں تو لسکتے, اگر برابری محجی تراجیو بنائیں گی تو ٹھوٹھ جائے گی, بھی فلو جائے گیو, لیکھتی یدیگری تو آشار دا سرو کالم, تدھا پیت وگوانانا میشپارا نہیں آتے, سمدر کی شائی کردے اور جو دارتی پر پیڑ ہیں ان کی کل میں منا لے,
Birbhi Bhagwat Svabhavka, Bhagwat Tattva, Bhagwat Mahima, Bhagwat Prasad Jagam, Pura Varna Nehwata. Ajabharaz hai, ye Mahobatke Phasane ka, Jisko jitnaath hai gahe chaladyaath hai, Parve chaladyaath hai. Puran Mahima, kisee ne nahi gahe. Varna Nehwata. Çünkü Bhagwan Anant hai, Agar aapne Puranagai tu Bhagwan Anantwal hai hoge na. Hesiliya Bhagwan ko jaanna nahi hota hai. Bhagwan ko manna hota hai. Mante mante hapna mahimit jathar, Ubuddh dikh tik jathi tu Bhagwan krapakar ke Anumogaradhe. Ho ko si si kiya Bhagwan kai se hai, kisee hai, kisee hai, ho ko si si karni wala rahe gaa. Prvisyaar hai gauge hapne ko shabda jaal me phasadhe gaa.
Hathwa ko i kalpna me phasadhe gaa, Ishur ko nighbaaya. Ishur ko janna cha tha, Ushur ko nighjaan saktha hai. Ajayshur ko nighjaan na cha tha, Ube nejaan saktha hai. Tu bhula athat o bhrma jidge ha saa, Bhagwan ko janna Ki je ge ha saakko, इसी तूक हब गरे पर ल भखाशे गनाहीं गनाहीं इस फाशे 1000 मार र juntos आ्वानत कि हैं इसी बुने कि ईपीद्भाना बबंेाणिरते हमाणठी यर उनहीवानाण योानुके 7 सय раздел कर शकते लेतीता हैं एक मोके अवी फाओ्जग कामारत करnesday बार�opard करा 3000 پرکہ تو جعلتا. Primpoori Maharaj's Ashra mainvambhai main, Ho Lakbak's saurashdhaka Sant, Vampire, Grosti jeepan saurashdhaka thaw, Sanjyashi bane, Gahatak moja pak, Sunahibane. Ishar ki khoj mein Gahe, Gahe, Gahe, Gahe,
To Kiddarnath ki karim coi rahe ni lage. அلقنندہ کے کنارے بیٹھے رہے ایک ایسے میں لیں گے ایسے ورےسے تو جب طرف کھو بڑھتی ہے تو ایسے ورنا جانے کبھ کس روپ میں آ کر رپنے کر پاہ برس آتے تو ایک بای آئی کے دارنات کے رستے جو அلقنندہ جو بھی سڑیتا ہوگے ادیکار پوروکہ کہ تم مگتی چاہتے ہو رہم پوری تم مگتی چاہتے ہو تو نے کھا کہ بای ادیکار پوروک نام لے کر بولے وہ لے ہاں ماتی شری وہ لے تم کس سے بندے ہو دن سے بندے ہو دن کتنا آیا چلا گیا کتوم سے بندے ہو تو صادو ہو
کس سے بندے ہو مگتی چاہتے ہو تو تم کس سے بندے ہو کھو جا کس سے بندے ہو کھو جا ضرورت پڑی تو میں ہوں گی و ایک دن پڑی پک پک پپھل و جلسا ہواکہ جوکہ لگے در دیتے کھو جا کہ امکی سے بندے شریع شمع پاکر چلا جائے گا یہ بھی چلے گا یہ بھی چلے گا واستوں میں ہم مگتی چاہتے تو مگتی چاہنے والے کو مگتی کس سے کھتے کھتے کھتے کھتے کھ بہت قبہ ہو گئے کھتے کھتے میں کھ گیا جس کو کھتتا تو ہی ہو گیا پر امپری مہر آج آنان دیت رہتے رہتا دیرے دیرے باکت بڑے ابھی بھی ان کا پر امپری مہر آج کے نام کا
بھم بھی میں کئی آج شمعے میں نے دیکھا نہیں سنا ہے اور میں نے سنا ہے وہ سچا ہے حکھنا ننجی مہر آج ہوتر گئے آئے ان کے ساہیتے سے میں نے جانا ہے اور میں ست سنگ کرواتے رہتے تھے کبھی کوئی سنت کبھی کوئی سنت ممبی میں پر امپری آج شمعے تو کوئی اچھے چے بھگت بھی بڑے بڑے کروڑ پھڑی لوگ بھی ان کے چرنا میں آتے ست سنگ سنت تو کسی بھگت کے ساتھ کار میں بہتے تھے بارش کے دین تھے اور گاڑی جلی تو سامنے والے گاڑی چیٹے بھڑا ہے دڑاک سے تو گاڑی کا کچھ کلا تھا تو پیچھر کے چیٹے ان دڑا گئے سیٹ چھڑے گئے پر امپری مہرہت تو وہ حسودے و سر لنگے گتنا تو بہی کی وہی لیکن سمجھ
حلکھ رہی سیٹھ اور درائیور تو دکی ہو گئے مہراج کہتے کائے کو دکی ہوگئے ہو تو گاڑی پاشت آئی چلی گئے حبیوں کہتے ماندے ماندے کہ وہی بنراوان میں تو جاتے تو یہ تھاکولجی کا چرنامہ نک ملتا ہے حبی بھی تھاکولجی ہی کی کرپا برشی اور کار کے پہیں گے دوارہ جرنامہ نک چکے گئے تھاکولجی کی مرچی موج کرو کائے کو دکی ہوگئے کہسان نجریہ سند پروشوٹا ہے اب اس کا پیچھا کرکے اس کو داتے تبی بھی دکھنے مدتا ہر بار بار چنطن کرے تو دی دکھنے مدتا لیکن یہاں برم مصروب کاکولجی کو لیا ہے آسو دیا ساروہ میں دی ارسو عبسو کون دے ہے پانی میرا صروب میرا صبا ہے فیگیانی سب ملکر پیور پانی نہیں بناصرٹے
Hydrogen Oxygen ایٹڑڑڑڑا کیوںilia رسو عبسو کون دےیا رسو سروب برماثمکش AIDS سوریر چندہ sake حوشدی پوشٹ کرنی کی ستتہ بھگوان کی سوریہ میں جیو نہیں شکتی برسانے کی شکتی بھگوان کی مامے وات سلیہ بھگو بھارنے کی اور دود بناک نہیں کی ستتہ بھگوان کی تو وہ لنی یہ تو آٹومیٹک ہے میں چاگر میں آئے گا اور یہ سوین سوین یہ سا ہوتا دود بنے گا
تو تم روبت بناتے ہیں کہ روبتی بنا ہو اور اس کو گھر بطارن کرا ہو اور روبتی دود بناکے دیکھا دے تو میں تمہارا چیلہ ہو جا ہوں لو چیلن چھے مونس نہیں روبتی بنا ہے روبتی بنا ہو اور پیروبتی کے پگارب سے بیٹہ پیدا ہو اور دود بنا ہے تو میں تمہارا چیلہ ہو جا ہوں اور میرے چیلے بھی آپ کو سمرپیٹ کر دیا آپ باپو کے بیگور اور باپو کے باکتوں کے بھی ہری آننتا ہری قتا آننتا ہری سامورت یا آننتا ہری پرساد آننتا میں کئی پڑکر آج تم کو پر ہچن سنانا ہے ایسا نہیں آپ ایشور میں رہو تو آپ کی بود دی میں ایشور کا گیا نہ ہے آپ کے شریر کے کندروں میں آروگی کے کن ایشوری ستا سے عبرے
جان کے لئے آپ کو پوتھے نہیں رکھنے بڑھے اور سوازتے کے لئے آپ کو ٹونک نہیں کھنے بڑھے اور پرسنتا کے لئے روک اور پوپ میزگ کی آپ کو جروت نہیں پڑھے گی پرسنتا آپ کے اندر سے عبرے گی اور آپ کے نگاہوں سے واتان میں شانتیر پرسنتا لئے گی کیسا ہے بگوان کا پریدے کیسا ہے بگوان کا گیاں کیسا ہے بگوان کا چندتت کیسا ہے بگوط پر ساہد جا مہول اور دھوگی کھن امدابات اور دنگر کام دندر گھر باگن اور اب بی بیٹھے تو نے میں شارے نے میں جیسے ریشی شانت بیٹھے ایسی شانتی ابھی دیکھ رہے ایک آپ بگوط پرساہد جامتی کا فل نہیں ہے یہ ستسن کی مہنطا کا درشن نہیں ہے ستسرو پیشور کی مہنطا کا درشن نہیں ہے
ہیشور کی ستتتا کا چتنتا کا مہدوری کا درشن نہیں ہے کہ ہے رے بن کوجنے جائیں سرمن نوازی سدہ آلپا تیرے سنگ ساہد فل بن کے بیگر گئے لیکن آستیتو وہی کا ہوئی لہر بن کے بیگر گئی پانی وہی کا ہوئی مقان بیگر کے بن کے بیگر گئے آکاش مہی کا ہوئی سرشتیہ بن کے بیگر گئی میری پرہوط بایکے ہوئی اجار ہو جنمہ مارے بن کے بیگر گئے ابھی بیگے بایکے ہوئی مارے میں سا opposite drabут مبیگے ہوئی اجار اوراظی آئے اور گئے اُس کو جن میں والا بیگا ہوئی اجار ہو دہugs provocative دیں اب مارے میں ستلروب ای میں shades camel دیں آپ کو 𝘣�로 کوار İn Bournu اcrosstalk photon
کسار mijn ٹو DX کھbinw fulfill your desires. Amerika orja orja orja m Artist.. MOST OFداOR SSM DRAMG AKB AKB ASL SLOD GRÜD vana, 13th 19th 18th 19th 19th 21nd 21th 21th 23rd 21th 31rd 31th 23rd
وArin数 کویک் பார்த்ரESAis airas iy exhale ala 碐 Raysa ались گپوری کو گپوری و سیراز. آئی سی میندکو کلوز رینیندکو و سیراز. سیمد دیش میں بڑی پرسید مسلمان پرکی تھا بے کہ ہندوثی بھگوان جانے. بطایا نامتا شہدیم دویگوں گے. بطایا فکیر. وہ اپنے ماکے سمپرک میں بھی رہتے تھے. فکر فکیر بنگے لیکن ماکی بریتی صدادی سے ہم بھی تو جگن برمہ ماری ماہ آتی تو ان کے ساتی تو رہے
تو ان کی مانے کہا کی بیٹا جر آگوں آپ جلانی ہے پہلے ماچی ستنے ویک ستنے ہوئے تھے ایسا لکتا ہے تو کسی کے نار سے آگے لیا کے پوک دے تھے تو وہ دایا گیا وہ لے ما سب نے بھگن بھگن بھگن بنا کی آگ سنگ حگنی تو نہیں ہے وہ لے بھی تم تو پہچی وہ فکیر ہو جا اور نارک سے اگنی لیا ہوں وہ دایا ہوں سے کہ ہمہ نارک میں اگنی ہوتے کوئی نہیں دو جک میں اگنی کوئی نہیں تو وہ لے میں نے سنا ہے کہ دو جک میں پاپیلوں کگنی میں جلتے رہتے تو تھوڑی لیا ہوں تم پہچی وہ فکیر ہو وہ لے وہ پاپیلوں کی آہی دویش کر کے اپنے ردے کو جلاتے رہتے اور جہاں کرتے ہوتے ماک بن جاتی یہ ایسا ہے یہ ایسا ہے پاپی پڑیادی ہوتے ہندو شروپن دو شروپن دو شاروپن کرتے تبتے رہتے کنہ ہوتے رہتے اور ایسے لوگ جاں کرتے ہوتے
وہ لے وہ نارک ہو جاتا اور پنیات میں جاں کرتے ہوتے ہے سسوارت کو ستسن ہو جاتا وہ انکٹ سے بھی ہوں چا ہوتے ہرام پروانا بے جیا آوچت قبیرا رو ایک کیا کرو ہماری وینکٹ کو جہا ساہد سندت نہیں ہوئے ہے پر وہ انکٹ میں محادہ ہے لیکن ستسنگ نہیں ہے تو وہ انکٹ میں بھی جائے بھی جائے رہاگ دوش میں آئے اور ہیرناک شیرناکہ سگوں بنے رہاں اور کم بکرن بنے ششوپاہل اور دنٹ وکر بنے اور تمہر آج سے مرنا پڑھا ہم کو وہ انکٹ نہیں چے یہ تاکور جیہ میں تو ستسنگ رہے رہے ہیں کبیرا مانگے مانگرہ پروضی جو مہے دوئے ہماری جو لی میں دو چی دینہ ہمارہ ٹاکور جیہ ہماری جو لیمہ بے وستنگ رہے سنتسام آگہ مہاری کا تھا تو لسیز نہیں
میری پولارے کبیرا مانگے مانگرہ پروضی جو مہے دوئے سنتسام آگہ مہاری کا تھا موگھر نشدینہ بھوے میری گھر میں روج سنتسام آگہ مہاری کا تھا اب گھر میں روج کا تھا کئی سے ہو آج کل تو پستکے کئی سے تو کے دعارہ گھر میں روج کا تھا سنتسام آگہ مجھا سنتسام آگہ مہاری کا تھا சندسमہگم نہیں ہوگا تو, சندسमہگم ہوگا. ہری کا تھا نہیں ہوگی تو رہگر دویش کی چرچہ ہوگی. یہی سہ ہے یہی سہ ہے وہی سہ ہے. یا تو رہگ سے بندگی یا تو میٹر سے پھر سے گے یا تو شتر سے تپیں گے اور گیہ ہوگے گے. بھگوٹ کا تھا کچھ سیگہے کوئی بھی چرچہ کر ہوگے تو یا تو شتر سے تپیں گے یا تو میٹر سے
دکی ہوں گے چنتی تھوں گے پھسیں گے یا میٹر تھا میں پھسیں گے یا تو شتر تھا میں جلیں گے. تیس رہ کوئی پائی نہیں ہے. اگر بھگوٹ کا تھا بھگوٹ چندن بھگوٹ نمیت کریں نہیں ہوتے تو رہگ میں کریں گے یا تو دویش سے کریں گے. تو دویش کی تپائے گا اور رہگ بھی پھسیں گے. لیسی لے کوئی بھی کام کرو تو راگ کی پردھانتا نہیں دویش کی پردھانتا نہیں بھگوٹ پردھانتا. دھرم کی پردھانتا. سد بہاو کی پردھانتا. پندیت نہروں کے پیتا کر نام تھا مطلال نہروں. مطلال نہروں اور مدن محن مالیجی کی خوب آپس میں بنتیتے. اگن ایک دن مطلال نہروں نے کہا کہ مالیجی آپ مجھے ساوگہ لیان دے دو.
میں آپ کو کچھ نہیں کھوں گا. دوکی نہیں ہوں گا. میی سان شکتی کا پرکشہ لے. مالیجی نے بہتوں چاوتر دیا. مالی آپ کو ساوگہ لی دو. آپ کو دوک ہوئی نہ ہوئی. آپ کی سان شکتی. میں آپ پار ہو جایا نہ. لیکن میں ساوگہ لی دوگا تو اپنی جی اور اپنے انتتر اور اپنے گیانتنتوں میرے خلاب کروں گا. ایسا گاہتے کا سودا ہم نہیں کرتے. گاہتے کا شگت میں نے ملا ہے. وستجی بہلے ہی رامجی. ایسا سوک صورگ طتھا اور کسیستان میں نہیں ہے. جیسا سوک اتما میں ایستت ہو کر پایا جاتا ہے. ہی رامجی. اتما سوک میں بشرانتی پانی کے نمیدت. منیشور دیوطا. سد اور محرشی. دریش درشن کا سممن دتیاگ کر ایستت ہوتے ہیں.
ایسے سے. دیکھو. اتما سوک اتما سامر تھے. اتما راس. اتما بشرانتی. وہ بہت انچی چیجے. وہ اس کو پانے کے لئے دریشہ اور درشن کا آکرشن چھوڑ کر بڑے بڑے بڑھ دیمان. راجے مہاراجے جتی جوجی. اتما سوکھے کے لئے جتنا کرتے اور پالے تھے. وہ سوکھے ساہبولے ستم جانم. انتم رمہ. وہ ستیا سروپ ہے. جان سروپ ہے. انتم رمہ. وہ ستیا سروپ ہے. انتم رمہ. انتم رمہ. وہ ستیا سروپ ہے. جان سروپ ہے. انتم. جس کا انت نہ ہو. وہ انت برمہ سروپ ہے. برم مستیتی پر آبت کر.
تو برمہ سوکھ کے آگے برمہ جان کے آگے برمہ بشرانتی کی آگے سورگ کا وائبہ بھی بہنہ ہو جاتا ہے. تو انڈریوں کے دوارہ جو آدمی سنسار میں باکتا کرتا ہے یہ تبتق بھتقنا ہوتا ہے. چورا سلاک یونیوں کی سجاب اگنی ہوتی ہے. جب تک آتم سوکھ نہیں ملا. یہ جروری نہیں کہ مناک سے مجالیں گے تو ہی جییں گے. جیب سے مجالیں گے تو ہی جییں گے. کامندری سے مجا بوکہ تو تبائی ہوتی ہے. یہ مجا تو پر سے دکتیا ہے سجا. جیسے کتھ کلی کے پتنگیوں کو مجا دکتے اور لائٹ کے نجیگ جاتیں. ہوا کے جو کے اور ٹراپکھ کے دا کوں سے گیر جاتے اور چھت پتاکے مرتے تھے. ایسے انڈروں کے جو بھی سوکھ ہے وہ بکاری سوکھ جیو کو
کئی جنموتا کہیسے چھت پتاک میں بٹکاتا رہتا ہے. تو اتم سوکھ رب بہت مججی جی ہے. اتم جان بہت مججی جی ہے. اتم رس بہت سار سروب ہے. اور وہ سہج میں ہے. رات کو تم کچھ دیکھتے نہیں. کچھ سنگتے نہیں. کچھ چکھتے نہیں. کچھ سپارس نہیں کرتے. حگہری نین میں چلے گئے. اور سوڑے تاج ہو کراتے. دکھ مرتا ہے. سوکھ بھی مرتا ہے. روگ بھی مرتا ہے. روگی مرتا ہے. لیکن تمہرہ اتم امر ہے. بورا دیکھنے. بورا کرنے سے بورا سوچنے سے مان. انڈریہ.
کرم بورے ہوتے لیکن تمہرہ اتم اورہ نہیں ہوتا. وہتم. اس وہ جس کو کوئی بورای نہیں چھوے. کوئی اچھائی جس کیا گئی مانا نہیں رکھے. وہ پیسہ پرم نردوش نہ رہن. نرنجن دیو کا سوک گیان اور امرتا ہے. کتنا بھی گرادمی ہویا بھلادمی ہو رہت کو گہرنین میں ایک ہو رہتے. ایک یو اک سادو مان بے تھے گومتگامتے. کسی ماندی کے برامدے میں رہت کو آسن لرائیا. سام نے راجع کا مهل تھا اور یورا تھا وہ بھی. ہپنی پتنی سے بات کرتے کرتے ہو سادو کی مقول راکے کتھا مسکری کر رہے تھا. کی دیکھو بھی جا رہی وقت سادو ہی نہیں سادو بن گیا کیا اس کی جندگی ہے.
ہم لوگ تو کہیسے موج سے جیر ہے. کیسی زندگیے شادی کی اور کتھم مجھے سے جیر ہے. کیوں رہا جی ہے. جو کچھ مو مدو تا ہے. کام کروض لوگ مدو. اسے اپنے کو کچھ مان میں تھی ہے. اپنے حسلت کو جانتے نہیں ہے. ان چیجوں سے اپنے کو بڑا ماندے ہیں. یہ چیجے جس کیوں سریر بھی نہیں رہے گا تو چیجے کبت کریں گے. لیکن مدو رہتا ہے تو آدمی کو سی نہیں دیکھتا ہے. تطا مسکری وینگ کا تاکس کرتے ہو سو گئے. سوبا واتو وہ سادو تو اتکر جنگل کی طرف چل دیا. دیگے کنار اپنان آیا دویاں دوڑا بیٹھا دیاں. وہ یوراج گورے پر سیر کر نیا ہے وہسی سادو کو پے چھان لیا. لیکن مدر کے برامد میں رات بھر پڑے تھے تو وہی ہون ہے.
مراد نے کہاں ملکول, تمہرے مهل کے سامنے. وہی ہونے تو وہی ہونے. لیکن سادو کے چہرے پر کوئی چھمک تھے. نربيک تھا تھے. یوراج کو دیکھ رہا ہے. سادو کو دیاں رہی اس کی شیلی پر اس کی جندہ کی پر. نی ہوں, انڈریہ میں, نی ہوں, بھڑھی میں, نی ہوں, ان سب کا دشتان، سبتجت آنند آتما میں ہوں.
اس گیان سے سمپنتے اور اسے گیان کے دوارہ وشنطی پاتے تھے. تو اپنے رس میں جیورن کو جان چکے تھے. رسو بایسا وایشوان رو, وغاگوان رسو ضروب ہے. جگت میں جو بھی تھوڑے تھوڑے رسے ہیں اس کے مول تو وہی بگوانی ہے جیسے ہم نے پھول لیا ہے سوں گے میں جایا رسے ہے تو مول میں چیتھنے توڑے رسے ہے اس کی اُت پتی میں بھی چیتھن کا سائی ہوگے سو گند میں اسی کا سائی ہوگے توڑے رسے ہے تو جہاں بھی رسے ہے اس کا مول کو کو جو تو بھگوان کای ہوگے لیکن یہ انڈرےوں کا ایسلے جیو بٹک دیاتا اور مول بگوان کا رس جیو کا بیڑا پار ہو جاتا تو مول رات کے سی بیٹی مارات مارات نے کہا رہت کے سی بیٹی کچھ تو تمہرے دیسی اور کچھ تو بہو تو ہوں چی رہت بیٹی
مول میں رے دیسی میں مہل میں سویتا آپ کلے برامدے میں لاوارس جڑا پر سویت میرے جیسی رات تماری مول راجن راج چلاچے تو بھڑی بھی ہوگی بھڑی ہے سنگا بھڑی بھی ہوگی مارات نے بھی کس لی خمان گیرین میں درٹی بیٹ سویہوں یا میں راج مل میں سویہوں یہ یاد نہیں رہے گا جب یاد رہتے تک تک کنید کا سوکنے ملتا آپ رگہ دنید سے سوکھ بھی ملتا ہے سوستے بھی ملتا ہے اس کو ابھی دیا بھولتے و آستے بھیک میں تو سپور نہ ہوتا ہے وہ ابھی دیا ہے یہ تو سدہ بھی دیمان تک تو میں گیرین میں تم بھی گئے ہم بھی گئے دونوں ایک دیسا سوک شانتی بوجے تھے اور تم کبھی کبھی جگتے تھے
تو اپنی پتنی کے ہادماز کی آ سپنی میں چھمڑے چاکتے تھے اور میں جگتا تھا تو شود دسوک میں آنندو ہم چیتنیوں بگوت سروب کا رسلے تھے اور تم کام کے قدے میں گیرتے تھے مورامت ماننا تمہی نے پوچھا ہے کہ رات کہسی بیٹے تو میں سچ گیتا ہوں کچھ تو تمہری جیسی بیرین میں تم اور ہم دونوں ایک سچ دانند میں بشانتی باتے وہ مہل میں رہا ہوا اور تردتی پس ہویا ہوا بار سے ہلک دیکھتا ہے لیکن گیرینند میں سچ دانندہ آتمدے میں وہی ایک رستہ چندتی چندتوں کی آئے کرہتے لے تھا ہے ویکاری ویکاروں کے قدے میں گیرتا ہے بودہ بھی ماریوں کے آئے لے تھا کر رہے کر رہتے ہیں میں بیمار بھی نہیں ہوں میں چندتیت بھی نہیں ہوں
اور میرا سک پرہدین نہیں ہے پرہدین اس اپنے سکھن آئے پتنی کے شریع سے سکھلے واوائی سے سکھلے کان پان سے سکھلے یہ پرہدین سکھ ہے ہم ہے اپنے آپ ہر پر اشتیتے کے باب سک سروپ ہوں میں سک سروپ ہوں ہوں میں چاہی تنی سروپ ہوں ہوں میں پر بوکہ ہوں گروکہ ہوں گروکہ ہوں اور پر ہوں میں رہے ہیں ہوں ہوں تو میں سودسک سبہوں میں ہا بیس تو ہوں تو میں نید کھلی اور چوب بیٹھا یہ تو تم کو کہ کہ سنائیت ہو رہا ابھی ایسا کہنا بھی نہیں پڑھتا ہے اُٹھتت بیٹھت ہوئی اُٹھانے کات کا بھی رہاں موسیتے کھال نا سے من مدیس پوری توتے ہوسی میں ہم شان تو نہ جانتے ہوسی رہس سروپ
میں گیان سروپ میں چیتن سروپ میں آنند سروپے جس میں بھاگوان نہ رہے ہیں چار چار مہاص ویش رانتی پاتے شیو جی ورشو تکس سمانیس تویش رانتی پاتے ہوسی میں رہت کو ہم جکتے ہیں تو تھو رہا پھر ہوسی میں چا لگیانتے
More episodes
More from Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Sandhya Satsang - Morning
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 7,2026 Monday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Evening : Sandhya Satsang - Evening
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya
Sep 6,2026 Sunday : Morning : Shri YogVashistha MahaRamayan Morning Paath ,Sandh...
Audio Sandhya - Sant Shri Asharamji Bapu Sandhya